Baaghi TV

Category: کوئٹہ

  • آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے،اسوقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے،شاہد خاقان

    آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے،اسوقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے،شاہد خاقان

    مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ ہم سب ملکی سیاسی صورتحال کے ذمہ دار ہیں-

    باغی ٹی وی: کوئٹہ میں لشکری رئیسانی، مصطفیٰ نواز کھوکھر، مفتاح اسماعیل اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کل کوئٹہ میں قومی ڈائیلاگ منعقد ہوا تھا جس میں ہم سب نے غیر جماعتی بنیادوں پر ملکی مسائل سے متعلق گفتگو کی۔

    مریم نواز 28 جنوری کو وطن واپس پہنچیں گی،رانا ثناء اللہ

    شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ہم سب ملکی سیاسی صورتحال کے ذمہ دار ہیں اس وقت ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے، معیشت، سیاست اور دیگر مسائل کا حل آئین میں موجود ہے، جو خرابیاں 10 سے 20 سال میں پیدا ہوئیں وہ 8 ماہ میں ٹھیک نہیں ہو سکتیں، موجودہ مسائل کے ذمہ دار سیاستدان، فوجی، بیوروکریٹ، اور میڈیا سمیت ہم سب ہیں، عدلیہ بھی ان فیصلوں کو دیکھے جس کے اثرات ملک پر پڑے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم آئین کی بات کرتے ہیں لیکن آئین پر مکمل عمل نہیں کرتے، آج کی سیاست انتقام اور دشمنی کی سیاست بن گئی ہے، آج سیاست ایک دوسرے کو گالی دینے اور الزامات لگانے کا نام ہے، یہ سیاست ملک کے مسائل حل نہیں کر سکتی ان سب مسائل پر بات کرنے کے لیے ایک فورم رکھا جس کی ابتدا کوئٹہ سے ہوئی ہے، حقائق وہ نہیں جو ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں یا اخبارات میں بتائے جاتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ملک کے حقائق بہت تلخ ہیں، پاکستان کے پاس مسائل کو کوئی معجزاتی حل نہیں ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ملکی مسائل حل ہوں تو ہمیں سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملکی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئین کے مطابق تمام فیصلے کرنے ہوں گے۔

  • شہر قائد میں پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آج سے آغاز

    شہر قائد میں پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آج سے آغاز

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلز الیکٹرک بس سروس کے آپریشنز کا آغاز آج سے کیا جائے گا۔

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت سندھ کراچی کے شہریوں کے لئے پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس کا پہلا روٹ شروع کرنے جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت ہمیشہ کی ہمیشہ ترقی، اور خوشحالی پر مرکوز ہوتی ہے۔ پاکستان کی پہلی الیکٹرک بس سروس کا آغاز ٹینک چوک جناح ایونیو ملیر کنٹونمنٹ سے سی ویو براستہ کراچی ایئرپورٹ ، شارع فیصل ، ایف ٹی سی ، کورنگی روڈ ،خیابان اتحاد سے کلاک ٹاور تک کراچی کے عوام کو سروس فراہم کرے گی کراچي ايئرپورٹ جانے والے مسافر بھی الیکٹرک بس سروس سے فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ، پیپلز الیکٹرک بس سروس کا کرایہ 50 روپے تک ہوگا کراچی کے شہریوں کو جدید ، محفوظ اور آرام دہ سفری سہولیات کی فراہمی پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے ،یہ بسیں 20 منٹ میں چارج ہوکر 240 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یہ منصوبہ پیپلز بس سروس کے فیز ٹو کے تحت چلایا جارہا ہے۔

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

    سندھ کی جیلوں میں افغانی بچوں کی تصاویر، شرجیل میمن نے حقیقت بتا دی

    خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز بنانے والے اوباش ملزمان گرفتار

    ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ کراچی میں دنیا کی 2 سے 3 بڑی کمپنیاں پلانٹ لگائیں جس سے سندھ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں، یہ الیکٹرک بسیں، ہائبرڈ ڈیزل بسوں سے دگنا قیمت پر پاکستان آرہی ہیں کراچی میں پلانٹ لگنے سے ان کی درآمدی ڈیوٹی میں کمی آئے گی اور کم قیمت پر بسیں دستیاب ہوں گی۔

    پروجیکٹ ڈائریکٹر این آر ٹی سی صہیب شفیق نے بتایا کہ 12 میٹر بسوں میں 32 نشستیں عام شہریوں اور 2 نشستیں خصوصی افراد کے لیے ہیں اور 35 سے 40 افراد کھڑے ہو کر سفر کرسکتے ہیں، مجموعی گنجائش 70 سے 90 افراد کی ہے، یہ بسیں 20 منٹ میں چارج ہوجاتی ہیں اور ایک چارج میں 240 کلومیٹر فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، بسوں کو چارج کرنے کے لیے یو پی موڑ بس ڈپو پر چارجنگ سسٹم لگایا گیا ہے۔

  • بلوچستان میں عالمی معیار کی درسگاہوں کی تعمیر کے منصوبے میں اہم پیش رفت

    بلوچستان میں عالمی معیار کی درسگاہوں کی تعمیر کے منصوبے میں اہم پیش رفت

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف کے بلوچستان میں عالمی معیار کی درسگاہوں کی تعمیر کے منصوبے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    بلوچستان میں دانش سکول اور سینٹرآف ایکسیلینس کے قیام کے منصوبے پر عمل درآمد کے لئے ورکنگ پیپر تیار کر لیا گیا، بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے اس تاریخی منصوبے کے لئے صوبائی اسمبلی باضابطہ قانون سازی کرے گی ،بلوچستان میں دانش سکول اینڈ سینٹرز آف ایکسیلینس اتھارٹی قائم کی جائے گی دانش سکول اور سینٹرز آف ایکسیلینس کے ذریعے غریب ترین بچوں کو جدید تعلیمی سہولیات دی جائیں گی عالمی میعار کے سکول، بہترین نصاب، آئی ٹی اور ٹیکنالوجی سے آراستہ لیبارٹریز بھی قائم ہوں گی اتھارٹی کے سربراہ وزیراعلی بلوچستان ہوں گے چیف سیکریٹری، تعلیم وخزانہ کے صوبائی سیکریٹری اور ایم ڈی اتھارٹی دیگر ارکان میں شامل ہوں گے وفاقی حکومت کے نامزد کردہ کم ازکم تین نمائندے بھی اتھارٹی کے رکن ہوں گے اتھارٹی صوبے بھر میں دانش سکولوں اور سینٹرز آف ایکسیلینس کے قیام کے لئے کام کرے گی

    اتھارٹی تعلیمی کورسز کی تیاری، وظائف کی تقسیم، امتحانات ، نجی وسرکاری اور دیگرذرائع سے فنڈز کے حصول کی ذمہ دار ہوگی،اتھارٹی کے تحت گورننگ باڈی بنائی جائے گی جس کی مدت دو سال ہوگی ،گورننگ باڈی پانچ یا اس سے زائد ارکان پر مشتمل ہوگی ،گورننگ باڈی دانش سکولوں اور سینٹرز آف ایکسیلینس کے انتظامی ومالی امور چلائے گی ،گورننگ باڈی کے ذریعے سکولوں کے پرنسپل اور دیگر عملہ تعینات کیا جائے گا ،گورننگ باڈی کے ارکان رضاکارانہ بنیادوں پر کام کریںگے،کوئی مالی فائدہ نہیں لیں گے ،گورننگ باڈی شفاف انداز اور میرٹ پر داخلے یقینی بنائے گی ،20 فیصد نشستیں اُن طالب علموں کے لئے ہوں گی جو فیس اور دیگر اخراجات ادا کرسکیں ،دیگر تمام نشستوں پر داخلہ کم ازکم اجرت 25 ہزار ماہانہ سے کم آمدن والے گھرانوں کے بچوں کو دیاجائے گا ،دونوں والدین سے محروم یتیم بچے، بیواﺅں کے بچے مفت تعلیم حاصل کریں گے ،ناخواندہ والدین کے بچوں کو ان سکولوں اور تعلیمی مراکز میں داخلہ دیا جائے گا ،بچوں اور بچیوں دونوں کے لئے سکولوں میں جدید انفراسٹرکچر، فرنیچر، آئی ٹی لیب اور دیگر سہولیات مہیا کی جائیں گی ان سکولوں میں بہترین اساتذہ کا تقرر کیاجائے گا ، بورڈنگ کی سہولت بھی مہیا ہوگی بورڈنگ میں بچوں کی بہترین کردار سازی کے لئے جامع نظم تیار کیاجائے گا دانش سکولوں اور سینٹرز آف ایکسیلینس میں ماہر سائیکولوجسٹ اور کیرئیر کونسلنگ کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی کیرئیر کونسلنگ کے ذریعے بچوں کے تعلیمی معیار، مثبت رجحانات اور ترقی کے جذبے کو ابھارا جائے گا۔

    مبشر لقمان کی دہائی، ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔جنرل فیض بے نقاب،وائٹ پیپر،خطرے کی گھنٹیاں
    ایران میں خواتین کیلئے گاڑیوں میں سر پر اسکارف لازمی پہننے کی وارننگ دوبارہ جاری
    ملک بھرمیں گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران کورونا سے دو اموات رپورٹ
    متعدد ممالک کی چین سے آنیوالے مسافروں کیلئے شرط،چینی حکومت کا شدید ردعمل

  • گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال،کئی شہروں میں بندش میں توسیع

    گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال،کئی شہروں میں بندش میں توسیع

    چیف سیکریٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کی زیر صدارت اعلی سطحی اجلاس ہوا

    اجلاس میں وزیراعظم کے گزشتہ روز کے دورہ صحبت پور کے دوران دی گئی ہدایات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا،ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات اور دیگر متعلقہ محکموں کے سیکریٹری اجلاس میں شریک تھے ،چیف سیکریٹرینے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں ترقیاتی عمل جاری رکھنا وفاق کی اولین ترجیح ہے ۔وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی حکومت صوبے میں ترقیاتی عمل پر تیزی سے عملدرآمد کررہی ہے۔ وزیراعظم نے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کا وعدہ کیا ہے ۔پسماندہ علاقوں کی ترقی کیلئے عملی اقدامات کیۓ جارہے ہیں ۔صحبت پور سمیت سیلاب سے متاثرہ دیگر علاقوں کی بحالی میں وزیراعلئ میر عبدالقدوس بزنجو کی مکمل رہنمائی اور تعاون حاصل ہے وزیراعلئ بحالی کے اقدامات کی خود نگرانی کر رہے ہیں ۔وزیر اعظم نے بدھ کے روز سیلاب سے متاثرہ ضلع صحبت پور کا دورہ کیا ۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کے متاثرین اور ماڈل اسکول کی بحالی کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔وزیراعظم کی ہدایت پر کلی جیا خان ماڈل اسکول میں جنگی بنیادوں پر طلباء کے لئے ہاسٹل، گراؤنڈ اور میس بنائے جائیں ۔ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے 24 گھنٹے کام کرم جاری رکھا جائے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ پورے بلوچستان میں 12 دانش سکول قائم کئے جائیں گے ۔ وزیراعظم بلوچستان کو دیگر صوبوں کے ساتھ مساوی ترقی دینا چاہتے ہیں ۔۔سکولوں میں ڈیجیٹل لائبریری کا قیام، بس کی فراہمی یقینی بنائی جائے ،کیسکو متعلقہ ضلع میں لوڈ شیڈنگ کم سے کم کرے۔

    چیف سیکریٹری نے متعلقہ علاقے میں صحت کی بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کی بھی ہدایت کی، اور کہا کہ رواں برس اپریل میں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بلوچستان کی ترقی اولین ترجیح رہی ۔حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد وفاقی حکومت نے بلوچستان کی ترقی کے کئی منصوبوں کی منظوری بھی دی

    دوسری جانب ترجمان بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس بحال کر دی گئی ہے، گوادر میں صورتحال بہتر ہے شہری حکومت کے اقدامات سے مطمئن ہیں امن و امان کی صورتحال کی بہتری کے بعد دس روز کی بندش کے بعد گوادر شہر میں انٹر نیٹ سروس کی بحالی اور دیگر موثر اقدامات جاری ہیں ،صوبائی حکومت گوادر کے عوام کے مسائل کا ادراک رکھتے ہوئے ترجیحی اقدامات اٹھا رہی ہے ۔حکومت بلوچستان نے گوادر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے بعد تھری جی اور فور جی انٹر نیٹ سروسز بحال کر دیں۔ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے گوادر شہر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس عارضی طور پر بند کی تھیں ۔گوادر شہر میں کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہیں ۔گودار پورٹ بھی مکمل طور پر فعال ہے پورٹ پر گزشتہ ہفتے سامان سے لدے بحری جہاز لنگر انداز بھی ہوئے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے گوادر شہر میں انٹر نیٹ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔حکومت بلوچستان نے گوادر شہر میں موبائل سروس گزشتہ ہفتے ہی بحال کر دی تھی ۔ساحلی شہروں میں امان و امان کی مکمل بحالی تک انٹرنیٹ سروس کی بندش کو توسیع دی گئی حق دو تحریک کے مسلح مظاہرین کی جانب سے سرکاری دفاتر اور پولیس اہلکاروں پر حملوں کے باوجود حکومت اور پولیس فورس نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، اس امر کو مد نظر رکھا گیا کہ اپنے عوام اور ان کی مشکلات کا فوری ازالہ ممکن بنایا جائے ایسے اقدامات اٹھائے جائیں جس سے نہ تو امن و امان کی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہو اور نہ شہریوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچے۔ پولیس اور انتظامیہ نے مشتعل گروہ کو کنٹرول کرتے ہوئے گوادر شہر کو بے امنی اور افراتفری سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی اس دوران پولیس اہلکارنے اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کیا۔ حکومت اشتعال پھیلانے والی سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے گوادر کے عوام کے دیرنیہ مسائل کا نکال رہی ہے

    عمران خان کا جھوٹا بیانیہ سب نے دیکھ لیا،آڈیو کے بعد بھی یوٹرن لے سکتے ہیں،عظمیٰ بخاری

     عمران خان جھوٹے بیانیے پر سیاست کر رہے ہیں،

  • پاکستانی شہری کے ہاں 60 ویں بچے کی پیدائش

    پاکستانی شہری کے ہاں 60 ویں بچے کی پیدائش

    کوئٹہ سےتعلق رکھنےوالے کثیر الاولاد شخص جان محمد کے ہاں ایک اور بچے کی ولادت کے بعد بچوں کی تعداد 60 ہو گئی-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے مطابق پیشےکےاعتبارسےکوالیفائیڈ میڈیکل پریکٹیشنر اورجزوقتی بزنس مین جان محمد کوئٹہ کےنواحی علاقے ہزار گنجی میں اپنا کلینک چلاتے ہیں اور کوئٹہ کےعلاقے مشرقی بائی پاس کےقریب رہائش پذیر ہیں۔

    راولپنڈی: سال نو کا پہلا مقدمہ درج،سینکڑوں افراد کو نوکری کا جھانسہ دے کر لوٹنے والا ملزم گرفتار

    نئی ولادت کےبعد جان محمد کے ہاں بچوں کی مجموعی تعداد 60 تک پہنچ گئی ہے ان میں سے 55 بچے حیات ہیں جان محمد کے ہاں 60 بچوں کی ولادت تین بیویوں سےہوئی جبکہ ان میں سے جان محمد کے 5 بچے انتقال کرگئےتھے۔

    نجی خبررساں ادارے سے بات کرتے ہوئے جان محمد کا کہناتھا کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے انہیں کثیر بچوں سے نوازا ہے ان کےماشا اللہ تمام 55 بچے صحت مند ہیں ان کی پہلی شادی 1999میں ہوئی-

    پی آئی اے پر یورپ میں پروازوں کیلئےعائد پابندی ختم ہونے کے امکانات

    جان محمد کے مطابق پہلی بیوی سے 2000 میں بیٹی شگفتہ نسرین پیدا ہوئی جس کی عمر اب 22 سال ہے اور نئے سال کی آمد پرایک اور بچےکی ولادت سے وہ بہت خوش ہیں،اسی لیےانہوں نے اپنے بچے کا نام بھی حاجی خوشحال خان رکھا ہے، ان کی تینوں بیویاں اور بچے ایک ہی بڑے گھر میں رہائش پذیر ہیں۔

    جان محمد کایہ بھی کہنا ہے کہ اولاد اللہ کی دین ہےاور ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سنچری مکمل کرے اور اگر اللہ نے انھیں توفیق دی تو وہ چوتھی شادی بھی ضرور کریں گے اور اپنی نسل کو مزید آگے بڑھائیں گے۔

    عادل فاروق راجہ کے ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے بارے اہم انکشافات

  • کوئٹہ پولیس کی پرائیویٹ گن مینوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں

    کوئٹہ پولیس کی پرائیویٹ گن مینوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوئٹہ پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    کوئٹہ پولیس نے پرائیویٹ گن مینوں اور منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، ائیرپورٹ پولیس کوئٹہ نے کاروائی کی ایس ایس پی آپریشن عبدالحق عمرانی کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کوئٹہ پولیس پرائیویٹ گن مینوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے ،پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے پرائیویٹ گن مینوں کو گرفتار کیا جن سے اسلحہ اور کارتوس برآمد ہوئے ملزمان پر مقدمات درج کر لئے گئے، گرفتار ملزمان میں حاجی محمد ولد داد نور سکنہ پشتون آباد ،امان اللہ ولد اختر محمد سکنہ پشتون آباد ،سلطان زیب ولد عبد الستار سکنہ قلعہ عبداللہ ،عبید اللہ ولد حاجی عبدالکریم سکنہ کوئٹہ ،محمد آصف ولد محمد اشرف سکنہ سٹلایٹ ٹاون کوئٹہ ،عبدالعلی ولد عبد الغنی سکنہ مشرقی بائی پاس کوئٹہ،سید جان ولد رفیع سکنہ بائی پاس کوئٹہ شامل ہیں، ملزمان سے تفتیش جاری ہے کوئٹہ پولیس نے میڈیا کے ذریعے عوام کو آگاہ کیا تھا کہ وہ پرائیویٹ گن مین نہ رکھے

    علاوہ ازیں تھانہ نیو سریاب نے کاروائی کی اور منشیات (چرس) اور اسلحہ برآمد کر کے ملزمان گرفتار کر لئے، تھانہ نیو سریاب نے کاروائی کرتے ھوئے ملزم رحمت اللہ ولد سردار محمد کو گرفتار کیا جسکے قبضہ سے 1050 گرام چرس برآمد ہوئی مزید تفتیش کیلئے حوالے انوسٹی گیشن اسٹاف کیا گیا. جبکہ ایک اور کاروائی کر تے ہوئے ملزم محمد کامران عادل ولد نور احمد کو گرفتار کیا جس کے قبضہ سے ایک پسٹل 9mm برآمد ہوئی جس پر13/Dآرمز آرڈنینس کے تحت مقدمہ درج رجسٹر ہوا ایک عدد جعلی انٹیلی جنس ادارے کی سروس کارڈ بھی برآمد ہوا جس سے اپنے آپ کو سرکاری ملازم ظاہر کرتاتھا جسپر علیحدہ مقدمہ فرد نمبر 163/22بجرم 468-171 ت پ درج رجسٹر کیا گیا

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

  • کوئٹہ: بس اسٹاپ  پر دھماکہ  ایک شخص جاں بحق اور 20 افراد زخمی

    کوئٹہ: بس اسٹاپ پر دھماکہ ایک شخص جاں بحق اور 20 افراد زخمی

    کوئٹہ: بیلہ منی بس اسٹاپ میں دھماکے سے ایک شخص جاں بحق اور 20 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: کے مطابق ریسکیو ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دھماکہ گیس سلنڈر پٹھنے سے ہوا فائربریگیڈ کے عملے نے وقوعہ پر پہنچ کر آگ بجھائی جبکہ زخمیوں کو کراچی منتقل کیا جارہا ہے۔

    خضدار میں دھماکہ، آگ بھڑک اٹھی، 13 زخمی ہسپتال منتقل

    قبل ازیں بلوچستان کے شہر خضدار میں عمر فاروق چوک کےقریب زور دار دھماکے میں 13 افراد زخمی ہوگئے پولیس کےمطابق ڈبل روڈ پر دھماکا خیز مواد پھٹنے سے 13 افراد زخمی ہوگئے، زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال خضدار منتقل کردیا گیا جہاں 2 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

    پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے علاقےکو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردی ہیں اور دھماکےکی نوعیت معلوم کی جارہی ہے۔

    سی ٹی ڈی خیبر پختونخوا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا ،قومی اداروں کی رپورٹ

  • زیارت  اور وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے باعث سردی میں اضافہ

    زیارت اور وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برفباری کے باعث سردی میں اضافہ

    زیارت میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے باعث سردی بڑھ گئی-

    باغی ٹی وی : کوئٹہ میں بھی سردی میں اضافہ ہوگیا، گاڑیوں کے شیشوں پر پڑی اوس برف بن گئی اس کے علاوہ کشمیر کی وادی نیلم کے مختف علاقوں میں دو روز کے وقفے کے بعد دوبارہ بارش اور برف باری ہوئی –

    بچوں کی جھیل میں ڈوب کر ہلاکت کی خبرنے براہ راست نشریات کے دوران میزبان کو جذباتی…

    خیبر کی بالائی وادی تیراہ میں موسم سرما کی پہلی برف باری کے بعد سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا جس کی وجہ سے لوگ گھروں تک محدود ہوگئے ۔

    رپورٹس کے مطابق اسکردو اور قلات میں کم سے کم درجہ حرارت منفی چار ڈگری ریکارڈ کیا گیا ، راولاکوٹ میں منفی تین، کوئٹہ منفی دو اور کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 16 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت کے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے موسم سرما کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا جس کے مطابق اسلام آباد کے ماڈل کالجز اور اسکولوں میں موسم سرما کی چھٹیاں 26 دسمبر سے 31 دسمبر تک ہوں گی۔

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق 26 سے 31 دسمبر کے دوران ٹیچنگ و نان ٹیچنگ اسٹاف کو اسٹیشن چھوڑنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں ٹیچنگ ونان ٹیچنگ اسٹاف موجود رہیں گے۔

    اس سے قبل سندھ بھر کے اسکولوں اور کالجوں میں موسم سرما کی تعطیلات کیا جا چکا ہے اور محکمہ تعلیم سندھ نے تعلیمی اداروں میں 21 سے 31 دسمبر تک موسم سرما کی چھٹیوں کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چھٹیوں کی سمری کی منظوری دے دی۔

    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ

  • آج تک حکومت کی جانب سے ہمیں راشن اور ایک خیمہ تک نہیں ملا،سیلاب متاثرین کی دہائی

    آج تک حکومت کی جانب سے ہمیں راشن اور ایک خیمہ تک نہیں ملا،سیلاب متاثرین کی دہائی

    بارش سے متاثرہ مکان کے باعث ہماری زندگیاں خطرے میں ہیں

    آج تک حکومت کی جانب سے ہمیں راشن اور ایک خیمہ تک نہیں ملا

    صوبائی وزرا اور این جی اوز کے افسران ہم سے بھی زیادہ امداد کے مستحق لگتے ہیں

    سیلاب سے متاثرہ شخص سعد الله لہڑی کی میڈیا سے گفتگو
    ڈیرہ مراد جمالی ( محبوب علی مگسی)حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ شخص گوٹھ عبدالرحمن لہڑی موضع مانجوٹھی تحصیل ڈیرہ مراد جمالی کے رہائشی سعد الله لہڑی نے ڈپٹی کمشنر نصیر کے دفتر کے احاطے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ طوفانی بارشوں اور تباہ کن سیلاب کے باعث ہمارا سب کچھ بارش کے پانی اور سیلاب کی نذر ہو گیا ہم بے یار و مددگار ہو گئے ہمارے کچے مکانات میں دراڑیں پڑ گئی ہیں جو کہ کسی بھی وقت گر سکتے ہیں جس سے ہمارے خاندان کے تمام افراد کی زندگیاں شدید خطرے میں ہیں کیوں کہ ہمیں حکومت اور این جی اوز کی جانب سے آج تک اپنا سر چھپانے کیلئے ایک خیمہ تک نہیں ملا اور نہ ہمیں راشن دیا گیا ہے ہم سردیوں کی وجہ سے اپنے خطرناک مکان کے اندر سونے کے لیے مجبور ہیں

    سعد اللہ لہڑی نے کہا کہ نصیر آباد سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزرا کے پاس جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں بھی کچھ نہیں مل رہا ہے جبکہ این جی اوز کے افسران کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کو امدادی سامان کا ٹوکن دیں گے تو سامان کا نصف حصہ جبکہ نقدی میں 21 ہزار روپے سے فی کس 8 ہزار روپے آپ لیں گے بقیہ رقم ہماری ہوگی انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ صوبائی وزراء سمیت نصیر آباد کے تمام بڑے سیاستدان اور این جی اوز افسران ہم سے بھی زیادہ سیلاب متاثرین ہیں اس لیے وہ سے زیادہ امدادی سامان کے مستحق ہیں اللہ کے سوا نصیر آباد میں غریبوں کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے انہوں نے کمشنر نصیر آباد بشیر احمد بنگلزئی سے اپیل کی ہے کہ وہ ہم غریبوں کی داد رسی کے لے کچھ اقدامات کریں اس موقع پر میر احمد لہڑی بھی ان کے ساتھ موجود تھے

  • مولانا نے روٹھوں کو منا لیا، حافظ حسین احمد دوبارہ جے یو آئی میں شامل

    مولانا نے روٹھوں کو منا لیا، حافظ حسین احمد دوبارہ جے یو آئی میں شامل

    بلوچستان جے یوآئی کے منحرف اراکین نے جے یوآئی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے

    حافظ حسین احمدکی کوئٹہ میں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی ہے حافظ حسین احمد نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں جے یوآئی میں شمولیت کی یقین دھانی کرائی ،حافظ حسین احمد کو دو سال قبل جےیوآئی نے پارٹی پالیسی کے خلاف ورزی پر پارٹی سے نکال دیا تھا، حافظ حسین اھمد نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی تھی جس پر مولانا فضل الرحما ن نے انہیں پارٹی سے نکالا تھا، اب مولانا فضل الرحمان بلوچستان کے دورے پر ہیں اور انہوں نے حافظ حسین احمد سے ملاقات کی ہے، جس کے بعد انہوں نے دوبارہ جے یو آئی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے

    نوازشریف کے این آر او کے لیے فضل الرحمان نے کارکنوں اور علما کو خوار کیا،حافظ حسین احمد

    محمود خان اچکزئی پر تمام دیگر صوبوں میں مکمل پابندی لگادی جائے،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما کا مطالبہ

    وزیراعظم کو نا اہل قرار دینے سے متعلق پٹیشن دائر کرنے کا مشورہ پی ڈی ایم کو کس نے دے دیا؟

    چائے کی آفر مولانا کو ابھی، ہمیں کس چیز کی آفر ہوئی تھی؟ کیپٹن ر صفدر کا انکشاف

    پی ڈی ایم کو لاہورجلسہ الٹا پڑ گیا،مولانا ،بلاول اور نواز شریف کے واضح اشارے، اہم انکشافات مبشر لقمان کی زبانی

    حافظ حسین احمد نے مارچ 2021 میں جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ جے یو آئی کو موروثی جماعت بنانے کی کوشش کی گئی،حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتیں پارٹی میں انتخابات کی بات نہیں کرتیں،تمام سیاسی جماعتیں موروثی بنیاد پرچلتی رہیں،مولانا فضل الرحمان فوری طور پر جے یو آئی پاکستان کی طرف آئیں، تمام جماعتیں موروثیت کی راہ پر چل پڑی ہیں،2018 کے انتخابات کے بعد اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا گیا،جماعتی فیصلہ کے باوجود نواز شریف کے کہنے پر صدارتی انتخاب میں حصہ لیا آزادی مارچ کے حوالے سے بھی ہمارے خدشات تھے،پی ڈی ایم میں پہلے مریم اور بلاول نے ٹی 20 کھیلا،آصف زرادری نے نواز شریف کے ساتھ ون ڈے کھیلنا شروع کیا ہے،