Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • اجتماعی قومی عزم کے بغیر دہشتگردی جیسے خطرے سے نمٹنا ممکن نہیں،فیلڈ مارشل

    اجتماعی قومی عزم کے بغیر دہشتگردی جیسے خطرے سے نمٹنا ممکن نہیں،فیلڈ مارشل

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں شکست سے دوچار بھارت دہشتگرد گروہوں کے ذریعے ہائبرڈ جنگ کو بڑھا رہا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے 16 ویں سیشن کے شرکاء سے ملاقات کی، جس میں سول سرونٹس اور ماہرین تعلیم بھی شریک ہوئے۔

    جنرل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشتگرد عناصر کی سرپرستی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الہندوستان اورفتنہ الخوارج کا انجام وہی ہو گا جو معرکہ حق میں ان کے آقاؤں کا ہوا، دہشتگردی نہ مذہب دیکھتی ہے نہ فرقہ اور نہ ہی نسل، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر اجتماعی عزم اور یکجہتی ضروری ہے۔

    آرمی چیف نے بھارت کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی سرپرستی کو بلوچستان کے عوام کی حب الوطنی کو نشانہ بنانے کی ناکام کوشش قراردیتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش داخلی یا خارجی خطرات کی صورت میں قومی وقار اور عوام کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا، پاکستان علاقائی امن کیلئے پرعزم ہے مگر ہر خطرے کا بھرپور جواب دینے کو تیار ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی معاہدہ نہ ہونے پر بھارت کو دھمکی

    آرمی چیف نے بلوچستان کی سماجی و اقتصادی ترقی کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاک فوج دہشتگردی کی لعنت کے مکمل خاتمے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھارت کی جانب سے دہشتگرد گروہوں کی کھلی سرپرستی کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے محبِ وطن عوام، خاص طور پر بلوچ عوام کی حب الوطنی کو کمزور کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

    قصور دریائے ستلج میں سیلاب کے خدشے کے پیش نظر ہدایات جاری

    فیلڈ مارشل نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بین الاقوامی اداروں سے تعاون کو مزید بہتر بنانے اور صوبے کی ترقی کے لیے مشترکہ قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا،انہوں نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو بھی دہرایا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق نشست کا اختتام آرمی چیف اور شرکاء کے درمیان آزادانہ اور بھرپور سوال و جواب کی نشست پر ہوا۔

  • بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان  آئیں گےیانہیں،عمران خان نے واضح کردیا

    بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان آئیں گےیانہیں،عمران خان نے واضح کردیا

    راولپنڈی:بانی پی ٹی آئی عمران خان نے واضح کیا ہے کہ ان کے بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان نہیں آئیں گے۔

    ذرائع کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کی جانب سے والد کی رہائی کے لیے احتجاج کی غرض سے پاکستان آنے کی خبریں سامنے آرہی تھیں تاہم آج اڈیالہ جیل میں مقدمات کی سماعت تھی جس میں عمران خان اور ان کے دو وکلا بھی موجود تھے عمران خان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بیٹے امریکا سے واپس جاچکے ہیں اور پانچ تاریخ آپ کی تحریک کی تاریخ ہے کیا احتجاج میں آپ کے بیٹے شرکت کریں گے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نہیں وہ احتجاج کے لیے نہیں آئیں گے۔

    پی ٹی آئی کی مقامی قیادت اور عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کئی بات واضح طور پر کہا تھا کہ دونوں بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان آئیں گے تاہم آج احتجاج والی بات عمران خان نے خود ختم کردی لیکن اگر وہ والد سے ملنے کے لیے آئیں گے تو ایک الگ بات ہے اور عدالت انہیں ضرور ملنے دے گی۔

    بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان آئیں گےیانہیں،عمران خان نے واضح کردیا

    ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کاشیڈول فائنل

    ملک بھر کے کال سینٹرز کیلئے لائسنس لازمی قرار دینے کا فیصلہ

  • راولپنڈی :خاتون کی لاش منتقلی   کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد

    راولپنڈی :خاتون کی لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد

    راولپنڈی : پولیس نے جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی شادی شدہ خاتون کی لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ برآمد کرلیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لاش منتقلی کے دوران استعمال ہونے والا رکشہ گرفتار ملزم خیال محمد کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا ہے، ملزم نے لاش رکشے میں ڈال کر قبرستان منتقلی کا اعتراف کرلیا ہے، ملزم نے اپنے بیان میں بتایا کہ جرگہ سربراہ کی ہدایت پر لاش منتقلی کے لیے رکشہ منگوایا گیا تھا جسے خاتون کی لاش منتقلی کے بعد خفیہ مقام پر منتقل کردیا گیا تھا۔ پولیس نے برآمد ہونے والے رکشے کو تھانہ پیرودھائی منتقل کردیا جب کہ ڈرائیور خیال محمد جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے۔

    گزشتہ روز جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں گرفتار 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھاپولیس نے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے لہٰذا ان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا تھا،ملزمان کو سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ملزمان کو یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    شاہد حامد قتل کیس :عدالت نے 28 سال بعد فیصلہ سنادیا

    جبکہ،خاتون کی قبر کشائی مکمل کرلی گئی ہے، جس کے بعد فارنزک ٹیم کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں لڑکی کے سر، گردن اور چہرے پر شدید تشدد کے واضح نشانات پائے گئےپوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم نے خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کی تصدیق کی ہے لاش سے سیمپل بھی حاصل کرلیے گئے ہیں تاکہ مزید فرانزک تجزیہ کیا جا سکےقبر کشائی کی کارروائی مقتولہ کے سابق شوہر ضیاء الرحمان اور جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان کی نشاندہی پر کی گئی-

    نارووال:اتوار کو لاپتا ہونے والے کم عمر بہن بھائی،کالوہے کی سلاخوں اور پتھروں سےقتل

    واضح،رہےکہ،راولپنڈی میں جرگے کے حکم پر قتل کی جانے والی خاتون اور عثمان کا نکاح 12 جولائی کو مظفر آباد میں ہوا، مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر مرضی سے نکاح کا بیان بھی دیا تھا جب کہ مقتولہ نے یہ بھی بتایا تھا کہ پہلا شوہر اسے زبانی طلاق دے چکا ہےعثمان کے والد نے بتایا کہ نکاح کے 4 دن بعد مسلح افراد نے دھمکیاں دیں پھر کہاکہ نکاح ہوگیا ہے تو لڑکی واپس کر دو ، اسے باضابطہ رخصت کريں گے، وہ لوگ لڑکی کو لے گئے ، پھر پتا چلا کہ اسے قتل کر دیا گیا ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کا "متحد قوم،فاتح پاکستان”کے عنوان سے ہفتہ آزادی منانے کا اعلان

  • راولپنڈی: مقتولہ خاتون کے دوسرے شوہر کے والد اور ماموں گرفتار

    راولپنڈی: مقتولہ خاتون کے دوسرے شوہر کے والد اور ماموں گرفتار

    راولپنڈی کے علاقے پیرودھائی میں جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان کے والد اور ماموں کو گرفتار کر لیا گیا۔

    گزشتہ روز جرگے کے فیصلے پر شادی شدہ خاتون کے قتل کیس میں گرفتار 6 ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا تھاپولیس نے عدالت سے ملزمان کے 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرنا ہے لہٰذا ان کا 7 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے، عدالت نے ملزمان کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا تھا،ملزمان کو سول جج قمر عباس تارڑ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا، عدالت نے ملزمان کو یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

    جبکہ،خاتون کی قبر کشائی مکمل کرلی گئی ہے، جس کے بعد فارنزک ٹیم کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا، جس میں لڑکی کے سر، گردن اور چہرے پر شدید تشدد کے واضح نشانات پائے گئےپوسٹ مارٹم کرنے والی میڈیکل ٹیم نے خاتون کو گلا گھونٹ کر قتل کیے جانے کی تصدیق کی ہے لاش سے سیمپل بھی حاصل کرلیے گئے ہیں تاکہ مزید فرانزک تجزیہ کیا جا سکےقبر کشائی کی کارروائی مقتولہ کے سابق شوہر ضیاء الرحمان اور جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان کی نشاندہی پر کی گئی-

    ڈیلٹا ایئرلائنز کا کوپائلٹ بچوں سے جنسی زیادتی کے الزامات میں گرفتار

    ذرائع کے مطابق مقتولہ نے 12 جولائی کو مظفرآباد میں عثمان نامی شخص سے نکاح کیا تھا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو کر اپنے نکاح کی رضا مندی بھی ظاہر کی تھی۔ خاتون نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کا پہلا شوہر اسے زبانی طلاق دے چکا ہے۔

    عثمان کے والد محمد الیاس کے مطابق نکاح کے چار دن بعد مسلح افراد نے دھمکیاں دیں اور یہ کہہ کر لڑکی کو واپس لے گئے کہ ہم اسے باضابطہ رخصت کریں گے، چند روز بعد اطلاع ملی کہ لڑکی کو قتل کر کے دفنا دیا گیا ہے۔

    پاکستان کا اسرائیل کوتسلیم کرنےکا کوئی منصوبہ نہیں،اسحاق ڈار

    پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کے قتل کا فیصلہ جرگے کے سربراہ عصمت اللہ خان نے کیا تھا۔ خاتون کی نمازِ جنازہ بھی اسی نے اپنے گھر میں پڑھائی تھی۔ 11 سے 16 جولائی کے دوران ہونے والے جرگے میں عصمت اللہ پیش پیش رہا ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں عصمت اللہ کو بازار میں ہوائی فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہ اس وقت پولیس کی تحویل میں ہے۔

    واضح، رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب شادی شدہ خاتون کو قتل کر کے راتوں رات دفن کر دیا گیا تھا پولیس نے اب تک 8 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جبکہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے بھی خود کو پولیس کے حوالے کر دیا،تحقیقات جاری ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    روس کا یوکرین کی جیل پر فضائی حملہ، 16 افراد ہلاک، 35 زخمی

  • راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی: جرگے کے حکم پرخاتون کاقتل، کیس میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر نےاعتراف جرم کرلیا

    راولپنڈی میں قتل کے جرم میں گرفتار باپ، بھائی اور سابق شوہر کا عدالت نے چار روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا، ملزمان نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

    پنڈی میں سترہ سالہ لڑکی سدرہ کو غیرت کے نام پر قتل کرنے کے جرم میں گرفتار چھ ملزمان کو پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ کڑے پہرے میں سول جج قمرعباس تارڑ کی عدالت میں پیش کردیا گیا،ان ملزمان میں قتل کا حکم دینے والا جرگے کے سربراہ عصمت اللہ، مقتولہ کے والد عرب گل، بھائی ظفر گل، پہلے شوہر ضیاء الرحمان، مقتولہ کے چچا مانی سسر سلیم شامل ہیں،ملزمان کو دیکھنے کے لئے شہریوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر پہنچ گئی تاہم پولیس ان تمام ملزمان کے چہرے ڈھانپ کر لائی تھی۔

    پشاور ہائیکورٹ: علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری معطل

    تفتیشی آفیسر نے کہا کہ ابتدائی تفتیش میں سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں، تمام ملزمان نے قتل کا اعتراف کرلیا ہے، ملزمان سے گلا دبا کر مارنے والا تکیہ اور دیگر آلات برآمد کرنے ہیں سات دن کا ریمانڈ دیا جائے، ملزمان سے تفتیش کرنی ہے تفتیش میں تمام ملزمان سے ان کے تحریری بیانات لیے جائیں گے،عدالت نے تمام ملزمان کا 4 دن کا جسمانی ریمانڈ دے دیا اور تفتیش مکمل کرکے یکم اگست کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

    عمران خان کی ضمانت کی 8 اپیلیں کل سماعت کیلئے مقرر

  • راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل کیسں میں نئےانکشافات

    راولپنڈی: غیرت کے نام پر قتل کی جانے والی خاتون کے کیس میں،پولیس نے انکشافات کئے ہیں۔

    سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی نے کہا کہ راولپنڈی میں غیرت کے نام پر لڑکی سے متعلق اطلاع اسی دن مل گئی تھی کہ ایک لڑکی کی غیر فطری موت ہوئی ہے تاہم اہلخانہ نے پولیس کا دھیان ہٹانے کے لیے 3 دن بعد اغوا کی درخواست دی، خاتون کو گھر میں قتل کرکے اسی رات شدید بارش کے دوران اسے دفنایا گیا اور قبرکا نشان تک بھی مٹایا گیا تھا مگر پولیس نے قتل کا پتا لگایا، جب ملزمان کو تفتیش کا شک ہوا تو اس پر سے دھیان ہٹانے کے لیے پہلی شادی اور اغوا وغیرہ کی باتیں کی گئیں مگر یہ سیدھا سیدھا قتل کا کیس ہے۔

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: خاتون کی قبر کشائی آج ہوگی

    واضح رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب راولپنڈی کے پیر ودھائی تھانے کی حدود میں شادی شدہ خاتون کو گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا تھا اور پھر راتوں رات تدفین بھی کر دی گئی تھی،خاتون کے قتل کے معاملے میں اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جب کہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے گزشتہ رات خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

    پاکستان کا نیا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ 31 جولائی کو خلا میں روانہ کیا جائے گا

  • راولپنڈی: پوسٹمارٹم میں خاتون  کو گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق

    راولپنڈی: پوسٹمارٹم میں خاتون کو گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق

    راولپنڈی : جرگے کے فیصلے پر لڑکی کے مبینہ قتل اور قبر غائب کرنے کا معاملے پر عدالت نے قبر کشائی کے لئے آج کا دن مقرر کیا ، عدالتی حکم پر چھتی قبرستان پیرودھائی میں قبر کشائی کی گئی۔

    قبر کشائی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ایلیٹ فورس اہلکار قبرستان میں تعینات رہے جب کہ قبر کے اردگرد قناتیں اور شامیانے لگا ئے گئے تھےہولی فیملی اسپتال کی لیڈی ڈاکٹر مصباح کی سربراہی میں میڈیکل ٹیم موقع پر موجود رہی، عدالتی مجسٹریٹ کے معائنے کے بعد ٹی ایم اے کے عملے نے قبر کھودنے کا عمل شروع کیا اس موقع پر 2 ملزمان، گورکن راشد اور قبرستان کمیٹی کے سیکرٹری سیف الرحمٰن کو بھی نشاندہی کے لیے لایا گیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق لڑکی کی قبر کشائی کے لئے متعلقہ افراد کو آگاہ کر دیا گیا تھا، پولیس نے تین ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے، پولیس حکام کاکہنا تھا قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم مجسٹریٹ کی موجودگی میں ہوگا اور اس دوران ہولی فیملی ہسپتال کا میڈیکل بورڈ اور فرانزک ماہرین نمونے حاصل کریں گےپوسٹ مارٹم کے بعد سدرہ کی نعش دوبارہ وہیں دفن کردی جائے گی، پولیس کی جانب سے قبرستان کے اطراف میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، اور قبر کے ارد گرد حفاظتی حصار بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ کوئی غیر متعلقہ شخص قبر کے قریب نہ آسکے۔

    لڑکی کے پوسٹ مارٹم میں گلا دبا کر قتل کرنے کی تصدیق ہوگئی، پولیس نے جرگے کے سربراہ عصمت اللہ سمیت مزید 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔لڑکی کے سر اور چہرے پر تشدد کے نشانات تھے، منہ نیلا ہوچکا تھا،

    واضح رہے کہ راولپنڈی کی مقامی عدالت نے قبر کشائی کے لیے آج 28 جولائی کا دن مقرر کیا تھاپولیس ذرائع نے بتایا تھا کہ راولپنڈی پولیس نے گورکن، رکشہ ڈرائیور سمیت 8 افراد کو حراست میں لیا، جن سے تفتیش جاری ہے مقتولہ سدرہ کو 17جولائی کو جرگے کے حکم پر قتل کردیا گیا تھا۔

    پہلگام حملہ، سابق بھارتی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پاکستان کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا

    باغی ٹی وی،اپووا کے اشتراک سے یومِ آزادی کے موقع پر تحریری مقابلہ کا اعلان

    مقتولہ سدرہ کا دوسرا نکاح 14 جولائی کو مظفر آباد میں عثمان کے ساتھ ہوا تھا، مقتولہ کے سسر محمد الیاس کا ویڈیو بیان سامنے آیا تھا، جس کے مطابق اس کا بیٹا عثمان پیر ودھائی میں بطور مکینک کام کرتا تھا، بیٹا سدرہ کو اپنے ساتھ گھر لے آیا جس پر دونوں کا نکاح کروایا تھا۔

    مقتولہ کے سسر کے مطابق لڑکی نے بتایا وہ قرآن کی حافظہ ہے، اور اس کا والد فوت ہوگیا ہے جبکہ اس کی والدہ نے چچا سے شادی کرلی ہے، سسر کے مطابق سدرہ نے بتایا کہ چچا اس کی شادی بڑی عمر کے شخص سےکروانا چاہتا ہے، لڑکی نے اہل خانہ کی دھمکیوں سے متعلق آگاہ کیا تھا، نکاح کے 3 دن بعد 8 سے 10 مسلح افراد ہمارے گھر مظفر آباد آئے اور دھمکیاں دیں۔

    انہوں نے کہا کہ گھر آئے مسلح افراد سدرہ کو اپنے ساتھ زبردستی راولپنڈی لے آئے اور بعد میں قتل کر دیا تھا۔

    ننکانہ صاحب کے ہونہار طالب علم فیضان رضا ایک دن کے لیے اعزازی ڈپٹی کمشنر مقرر

  • راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: گرفتار گورکن نے تہلکہ خیز انکشافات

    راولپنڈی غیرت کے نام پر قتل: گرفتار گورکن نے تہلکہ خیز انکشافات

    راولپنڈی:پیرودہائی کے علاقہ میں 18سالہ خاتون کو جرگے کے فیصلہ پر غیرت کے نام پر قتل کرنے کے کیس میں گرفتار گورکن نے سنسنی خیز انکشافات،کئےہیں-

    چھتی قبرستان کے گرفتار گورکن نے پولیس کو بتایا ہے کہ لڑکی کو قتل کرنے کے بعد 17جولائی صبح ساڑھے 5 بجے دفن کیا گیا، قبرستان کمیٹی کے ممبر گل بادشاہ نے فون پر ایک گھنٹے میں قبر تیار کرنے کی ہدایت کی، شدید بارش اور صبح سویرے مزدوروں کے عدم دستیابی کے باعث قبر تیارنہ ہونے کا جواب دیا، پونے 6 بجے گل بادشاہ 25 افراد کے ساتھ قبرستان آیا جنہوں نے میرے ساتھ قبر کھود کر تیار کی۔

    پی آئی اے کا اربعین کے لیے خصوصی فلائٹ آپریشن چلانے کا اعلان

    گورکن کے مطابق مقتولہ کی لاش لوڈر رکشے پر لائی گئی جس پر سرخ رنگ کی ترپال پڑی ہوئی تھی جبکہ قبر تیار ہونے تک رکشہ قبرستان میں ہی کھڑا رہا اور قبر تیار ہونے پر تمام افراد نے لڑکی کی تدفین کی تمام افراد نے قبر کو ہموار کیا اور قبر کا نشان تک ختم کر دیا، گورکن کے مطابق اس نے قبر کی رسید نمبر 78 ممبر قبرستان گل بادشاہ کے بیٹے کو دی، جس پر گل بادشاہ نے لڑکی کا نام سدرہ دختر عرب گل تحریر کرایا، 18جولائی کو سیکریٹری قبرستان کمیٹی سیف الرحمن میرے پاس آیا اور رسید بک لے گیا، تھوڑی دیر بعد رسید بک واپس کی گئی جس میں 78 نمبر رسید کا ریکارڈ موجود نہیں تھا۔

    محکمہ بلدیات پنجاب میں 9 کروڑ 45 لاکھ روپے کاغبن

  • راولپنڈی:شادی شدہ خاتون  کے قتل کا فیصلہ کس نےسنایا؟

    راولپنڈی:شادی شدہ خاتون کے قتل کا فیصلہ کس نےسنایا؟

    راولپنڈی میں مبینہ طور پر جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر قتل ہونے والی شادی شدہ خاتون کے نکاح کی دستاویزات اور سسر کا بیان سامنے آگیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لڑکی کے قتل کا فیصلہ جرگہ سربراہ عصمت اللہ نے دیا تھا، خاتون کی نماز جنازہ بھی عصمت اللہ نے گھر پر پڑھائی تھی،11 سے 16 جولائی کے درمیان جرگے میں عصمت اللہ پیش پیش رہا، جرگے کے سربراہ عصمت اللہ کی بازار میں ہوائی فائرنگ کی وڈیو بھی سامنے آئی تھی، ویڈیو میں عصمت اللہ کو فائرنگ کرتے دیکھا گیا تھا، جرگے کا سربراہ عصمت اللہ خان گرفتارہے۔

    مقتولہ کے نکاح کی دستاویزات کے مطابق خاتون نے مظفر آباد میں 12 جولائی کو عثمان نامی لڑکے سے نکاح کر لیا تھامقتولہ خاتون کا خاوند عثمان چہلہ بانڈی مظفرآباد کا رہائشی ہے اور راولپنڈی میں ملازمت کرتا ہے، مقتولہ نے جوڈیشل مجسٹریٹ مظفرآباد کے روبرو اپنا بیان بھی جمع کرایا تھا اور عدالت سے تحفظ بھی مانگا تھا،مقتولہ نے عدالت میں عثمان کے ساتھ مرضی سے نکاح کرنے کا بیان جمع کرایا تھا اور اپنی جان کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

    پی سی بی میں 6 ارب روپے کی بدعنوانی، مالی بے ضابطگیاں ،سوالات اٹھ گئے

    مقتولہ نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ اس کا والد فوت ہو چکا ہے اور والدہ نے دوسری شادی کی ہے، مقتولہ نے اپنی والدہ کو بتایا تھا کہ اس کے پہلے شوہر نے اس کو زبانی طلاق دے دی ہے، جس کے بعد خاتون نے عثمان سے نکاح کیا۔

    مقتولہ کے سسر اور شوہر عثمان کے والد محمد الیاس نے اپنے بیان میں بتایا کہ میرا بیٹا عثمان پیرودھائی بس سٹینڈ ورکشاپ میں کام کرتا ہے، ہم لوگ مزدوری کرکے مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں، مقتولہ نے تحفظ مانگا تو 30،40 ہزار روپے کا بندوبست کرکے میں ان کو عدالت لے گیا، میں نے نکاح کرایا اور عدالت میں بیانات جمع کرائے، نکاح کے 4 دن بعد 10 لوگ ہمارے گھر اسلحے سمیت داخل ہوئے اور ہمیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں، مقتولہ کے گھر والوں نے کہا اب نکاح ہو گیا ہے ہم اس کو رخصت کریں گے۔

    محمد الیاس نے بتایا کہ ہم نے لڑکی کو اس کی فیملی کے حوالے کر دیا، 2 دن بعد معلوم ہوا لڑکی کا قتل ہوا ہے، لڑکی کے قتل کا سن کر ہم اور ڈر گئے، قتل کا الزام میرے بیٹے پر نہ آئے اس لیے میں نے اس کو خود پولیس کے حوالے کیا ، میری درخواست ہے ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

    عافیہ صدیقی کے معاملہ پر حکمران دوغلی پالیسی ترک،مؤقف واضح کریں،خالد مسعود سندھو

    واضح، رہے کہ 17 اور 18 جولائی کی درمیانی شب راولپنڈی کے پیر ودھائی تھانے کی حدود میں شادی شدہ خاتون کو گلہ دبا کر قتل کر دیا گیا تھا اور پھر راتوں رات تدفین بھی کر دی گئی تھی،خاتون کے قتل کے معاملے میں اب تک 8 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ مقتولہ کے دوسرے شوہر عثمان نے گزشتہ رات خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

  • نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنیوالی پاکستان کی پہلی شخصیت،کیپٹن سرور شہید کا77واں یومِ شہادت

    نشانِ حیدر حاصل کرنے والی پاکستان کی پہلی شخصیت، کیپٹن محمد سرور شہید کا آج 77 واں یومِ شہادت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے-

    گوجر خان میں کیپٹن محمد سرورشہید کے77 واں یوم شہادت کے موقع پر مزار پر پھول رکھنے اور فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد کی گئی،تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عاکف اقبال (ہلالِ امتیاز ملٹری) تھے، جنہوں نے مزار پر پھول چڑھائے اور شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ میں دشمن کے خلاف جامِ شہادت نوش کیا وہ پاک فوج کے پہلے سپوت ہیں جنہیں جرات و بہادری کے اعتراف میں نشانِ حیدر سے نوازا گیاافواجِ پاکستان اور پوری قوم نے عظیم ہیرو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جنہوں نے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے کر بہادری کی نئی تاریخ رقم کی۔

    غزہ میں بھوک اور تکلیف دل دہلا دینے والی ہے، امریکی سینیٹر

    صدر مملکت آصف زرداری نے کیپٹن محمد سرور شہید کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور شہید نے کشمیر کی پہلی جنگ میں مادرِ وطن کیلئے جان کا نذرانہ پیش کیا، قوم کو ان کی جرات، استقامت اور عظیم قربانی پر فخر ہے،آج کا محفوظ پاکستان ہمارے ہیروز کی عظیم قربانیوں کا نتیجہ ہے ، شہداء کی قربانیاں ملکی دفاع اور قومی استحکام کی بنیاد ہیں،قوم کیپٹن محمد سرور شہید کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ کیپٹن سرور نے جموں و کشمیر پر دشمن کے قبضے کو ناکام بنایا اور جام شہادت نوش کیا، قوم اپنے شہدا کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔

    کیپٹن محمد سرور شہید ضلع راولپنڈی کے ایک گاؤں سنگھوری میں 10 نومبر 1910 میں پیدا ہوئے محمد سرور شہید نے اپنی ابتدائی تعلیم فیصل آباد سے حاصل کی، 1929 میں انہوں نے فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی، 1944میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا،انہوں نے برطانیہ کی جانب سے دوسری عالمی جنگ میں حصہ لیا، شاندار فوجی خدمات کے پیشِ نظر 1946 میں انہیں مستقل طور پر کیپٹن کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

    قیام پاکستان کے بعد سرور شہید نے پاک فوج میں شمولیت اختیار کی۔ 1948ء میں جب وہ پنجاب رجمنٹ کے سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے، انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا27 اکتوبر 1959 کو انہیں نشانِ حیدر کے اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا گیا، انہیں پہلا نشانِ حیدر پانے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    شرح تبادلہ کے نرخوں پر غور : اسٹیٹ بینک نے بینکوں کا اجلاس کل طلب کرلیا