Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • کونتریلہ میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین کے قیام کی منظوری، نوٹیفیکیشن جاری

    کونتریلہ میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین کے قیام کی منظوری، نوٹیفیکیشن جاری

    سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کی ذاتی دلچسپی اور انتھک کاوشیں رنگ لے آئیں، کونتریلہ کی ہزاروں طالبات کا بڑا مسئلہ حل
    لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے عملی اقدامات سے دھرتی ماں اور علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیمی سفیر کا حق ادا کر دیا، والدین میں خوشی کی لہر۔
    گوجرخان (قمرشہزاد) حکومت پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے گوجرخان کی اہم ترین یونین کونسل کونتریلہ میں گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین کے قیام کی حتمی منظوری دیتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ کالج تعلیمی سیشن 2026-27 سے باقاعدہ کام شروع کر دے گا، جس سے علاقے میں خواتین کی اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ ذرائع کے مطابق کونتریلہ اور اس کے گردونواح کے درجنوں دیہاتوں کی طالبات کے لیے ہائر سیکنڈری اور گریجویشن کی تعلیم کا حصول ایک انتہائی کٹھن مرحلہ تھا۔ بچیوں کو روزانہ طویل اور دشوار گزار سفر طے کر کے گوجرخان شہر جانا پڑتا تھا، جس کے باعث سفری اخراجات اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے متعدد غریب والدین اپنی بچیوں کو میٹرک کے بعد تعلیم چھڑوانے پر مجبور تھے۔ علاقے کے اس سنگین اور دیرینہ ترین مسئلے کو حل کرنے میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم نے کلیدی اور تاریخی کردار ادا کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جنرل ندیم احمد انجم کی ذاتی دلچسپی، انتھک محنت اور خصوصی کاوشوں کی بدولت ہی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے حکومتی سطح پر اس منصوبے کی فائل کو آگے بڑھایا اور کونتریلہ کی بیٹیوں کے لیے اس عظیم تعلیمی ادارے کی منظوری کو یقینی بنایا۔ کالج کی منظوری کی خبر پھیلتے ہی کونتریلہ اور مضافاتی دیہاتوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    والدین اور عوامی و سماجی حلقوں نے لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے علاقے کی بچیوں کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنا کر دھرتی ماں سے سچی محبت کا ناقابلِ فراموش ثبوت دیا ہے۔ اس کالج کے قیام سے نہ صرف والدین کا ایک بڑا اور دیرینہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو گیا ہے بلکہ اب غریب ترین گھرانے کی بچی بھی اپنے گھر کی دہلیز پر اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکے گی۔

  • پولیس میں   تقرروتبادلے

    پولیس میں تقرروتبادلے

    راولپنڈی پولیس میں بڑے پیمانے پر انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے متعدد ڈی ایس پیز کے تقرر و تبادلوں کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ڈی ایس پی وارث خان رانا نعیم یاسین کو تبدیل کرتے ہوئے ڈی ایس پی سٹی راولپنڈی تعینات کر دیا گیا ہے، جبکہ عابد محمود کو ایس ڈی پی او وارث خان راولپنڈی کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں،اسی طرح ڈی ایس پی خان شبیر کو ایس ڈی پی او فتح جنگ، ضلع اٹک تعینات کر دیا گیا ہے-

    دوسری جانب ڈی ایس پی سید اظہر حسین کو عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی (آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی) بنا دیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں انہیں مزید ہدایات کے لیے سی پی او راولپنڈی کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہےاسی طرح ڈی ایس پی محمد اسلم کو بھی او ایس ڈی مقرر کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر سی پی او راولپنڈی کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق یہ تقرر و تبادلے محکمہ پولیس کی انتظامی ضروریات اور کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے سلسلے میں کیے گئے ہیں، جبکہ نئی تعیناتیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی،ان تبادلوں کا مقصد انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانا اور پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔

  • راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا ،تھانہ چکلالہ نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی پکڑ لی گئی

    راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا ،تھانہ چکلالہ نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی پکڑ لی گئی

    راولپنڈی بڑی تباہی سے بچ گیا ،تھانہ چکلالہ نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی پکڑ لی –

    موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے راولپنڈی کے علاقے چکلالہ سے بارود سے بھری گاڑی کو تحویل میں لے کر ایک بڑی تباہی کے منصوبے کو ناکام بنا دیا،تھانہ ایئرپورٹ نے بارود سے بھری کوئی گاڑی جس میں 25 کلو بارود پانچ بنڈل بارودی تاریں اور ڈیٹینیٹر تھے پکڑ لی،راولپنڈی تھانہ چکلالہ کی کاروائی کی خبر بریک ہوتی تمام ادارے متحرک ہو گئے-

    حکام کے مطابق مشکوک گاڑی کے اندر بھاری مقدار میں بارودی مواد، ڈیٹونیٹرز اور دھماکہ خیز تاریں موجود تھیں،بروقت کارروائی کرتے ہوئے بم ڈسپوزل اسکواڈ اور پولیس کی ٹیموں نے گاڑی کو اپنے قبضے میں لیا تاکہ شہر کو کسی بھی بڑے جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکے،اس وقت علاقے میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اس نیٹ ورک کے پیچھے چھپے دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے

  • تنخواہیں تو نہ ملیں مگر ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر کی موت

    تنخواہیں تو نہ ملیں مگر ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر کی موت

    تنخواہیں تو نہ ملیں مگر ایک ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر کی موت نے پنجاب کے ٹھیکیداری نظام کا ضمیر جھنجھوڑ دیا
    جواں سالہ بیوی بیوہ، معصوم بچے یتیم، بوڑھے والدین بڑھاپے کے سہارے سے محروم؛ کب تک محنت کش اپنے حق کی تنخواہ کے لیے ذلیل ہوتے رہیں گے؟
    گوجرخان (قمرشہزاد) بعض سانحات صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوتے، وہ پورے نظام کے چہرے پر ایک ایسا سوال ثبت کر جاتے ہیں جسے لاکھ کوشش کے باوجود مٹایا نہیں جا سکتا۔ ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے صفائی ورکر اسماعیل کی المناک موت نے بھی ایسا ہی سوال کھڑا کر دیا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ ابھی آنا باقی ہے، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اگر ایک محنت کش کئی کئی ماہ اپنی جائز تنخواہ سے محروم رہے، قرضوں میں ڈوب جائے، ذہنی اذیت کا شکار ہو اور اس کا خاندان فاقوں اور پریشانی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو، تو یہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق مرحوم کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی، قرضوں اور مالی دباؤ کا شکار تھا۔ وہ دن کو ہسپتال میں صفائی کرتا، مستقبل سنوارنے کے لیے فارمیسی کی تعلیم حاصل کرتا، اپنے بچوں کے بہتر کل کے خواب دیکھتا اور بوڑھے والدین کا سہارا بنا ہوا تھا۔ آج وہ خواب بھی دفن ہو گئے۔ ایک نوجوان خاتون بیوہ ہو گئی، معصوم بچے یتیم ہو گئے اور بوڑھے ماں باپ اپنے بڑھاپے کے واحد سہارے سے محروم ہو گئے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ان خاندانوں کا قصور کیا ہے؟ اگر حکومت متعلقہ کمپنیوں کو ادائیگیاں کر رہی ہے تو محنت کشوں کی تنخواہیں آخر کس کے پاس رکی رہتی ہیں؟ کیوں ہر چند ماہ بعد یہی چیخیں سنائی دیتی ہیں کہ دو، تین اور چار ماہ سے مزدور تنخواہ کے منتظر ہیں؟ آخر یہ خاموش استحصال کب تک جاری رہے گا؟ یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں اکثر کسی بڑے سانحے کے بعد چند دن شور مچتا ہے، بیانات آتے ہیں، نوٹس لیے جاتے ہیں، انکوائریوں کا اعلان ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ فائلیں بند الماریوں میں دفن ہو جاتی ہیں اور متاثرہ خاندان انصاف کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں۔ اگر اس بار بھی ایسا ہی ہوا تو یہ صرف ایک کیس دبنے کا معاملہ نہیں ہوگا بلکہ محنت کش طبقے کے ریاست پر اعتماد کو مزید مجروح کرے گا۔ پنجاب حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں کے لیے یہ محض ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی امتحان بھی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، تمام ٹھیکیدار کمپنیوں کا مالی اور انتظامی آڈٹ کیا جائے، تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو قانونی ضمانت دی جائے اور اگر کسی سطح پر غفلت یا بے ضابطگی ثابت ہو تو کسی رعایت کے بغیر ذمہ داروں کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔ کیونکہ اگر ایک محنت کش اپنی محنت کی کمائی کے انتظار میں زندگی ہار جائے، تو یہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی کی گواہی بن جاتا ہے۔

  • گوجرخان میں رہائشی آبادی کے اندر مبینہ مضر صحت مکھن بنانے کا یونٹ بے نقاب

    گوجرخان میں رہائشی آبادی کے اندر مبینہ مضر صحت مکھن بنانے کا یونٹ بے نقاب

    خفیہ اطلاع پر چھاپہ، 400 کلو مکھن، شاہ تاج اور گولڈن سن گھی کے 48 ٹین ضبط، 4 فریزر سیل نمونے لیبارٹری بھجوا دیے رپورٹ آنے پر مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ
    پروفیسر رفیق والی گلی میں قائم یونٹ پر فوڈ سیفٹی ایس او پیز کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آگئیں مقامی و ضلعی انتظامیہ کو رپورٹ ارسال کی جائے گی
    گوجرخان (قمرشہزاد) پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی نے خفیہ اطلاع پر تھانہ گوجرخان کے عقب وارڈ نمبر 1، پروفیسر رفیق والی گلی میں واقع ایک رہائشی مکان پر کارروائی کرتے ہوئے مبینہ طور پر مضر صحت مکھن تیار کرنے والے یونٹ کا سراغ لگا لیا۔ کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی ارشد کی سربراہی میں پولیس تھانہ گوجرخان کی نفری کے ہمراہ کی گئی، جہاں سے بھاری مقدار میں مبینہ مضر صحت مکھن، گھی، مشینری اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا گیا۔ فوڈ اتھارٹی کے مطابق مکان کی بالائی منزل رہائش کے لیے استعمال ہو رہی تھی جبکہ گراؤنڈ فلور پر مبینہ طور پر مکھن تیار کیا جا رہا تھا۔ کارروائی کے دوران 400 کلوگرام مبینہ مضر صحت مکھن، شاہ تاج اور گولڈن سن برانڈ گھی کے 48 ٹین، پیکنگ میٹریل، خام مال اور ایک مشین برآمد کی گئی، جہاں مبینہ طور پر برف، گھی اور دیگر اجزاء ملا کر مکھن تیار کیا جاتا تھا۔ مکان میں موجود چار فریزر بھی سیل کر دیے گئے، جن میں سے ایک میں برف جبکہ دیگر میں مبینہ طور پر تیار مکھن رکھا ہوا تھا۔ تمام ضبط شدہ مکھن، گھی کے ٹین، پیکنگ میٹیریل سرکاری تحویل میں لے کر منتقل کر دیا گیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران فوڈ سیفٹی کے ایس او پیز اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی متعدد خلاف ورزیاں بھی سامنے آئیں، جس کے باعث یونٹ کو سیل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کی تفصیلی رپورٹ ضلعی انتظامیہ، لوکل گورنمنٹ اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو بھی ارسال کی جائے گی تاکہ رہائشی آبادی میں اس نوعیت کی سرگرمیوں کے حوالے سے متعلقہ ادارے بھی قانونی اور انتظامی کارروائی عمل میں لا سکیں۔ فوڈ اتھارٹی نے موقع سے مکھن کے سیمپلز حاصل کرکے لیبارٹری تجزیے کے لیے بھجوا دیے ہیں۔ حکام کے مطابق حتمی لیبارٹری رپورٹ آنے کے بعد اگر مکھن مضر صحت یا غیر معیاری ثابت ہوا تو تھانہ گوجرخان میں متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائے گا اور قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق مبینہ طور پر یہ یونٹ کافی عرصے سے سرگرم تھا، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ یہاں تیار ہونے والی مصنوعات کہاں کہاں سپلائی کی جا رہی تھیں۔ اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور لیبارٹری رپورٹ سمیت دیگر شواہد کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی ارشد نے کہا کہ شہریوں کی صحت سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی خوراک کی تیاری یا فروخت ثابت ہونے پر کسی سے رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ ایسی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جائے۔

  • کرپشن کیس میں  5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا

    کرپشن کیس میں 5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا

    کرپشن کیس میں عدالت نے 5 ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنادی۔

    راولپنڈی کی اسپیشل کورٹ (سینٹرل) نے ایف آئی اے کرپشن کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے کرپشن کیس کے 5 ملزمان کو مختلف دفعات کے تحت قید کی سزائیں سنا دیں،اسپیشل جج (سینٹرل)ر اولپنڈی عبدالرحمن محمد عارف نے تمام مجرموں کو فوری طور پر سینٹرل جیل راولپنڈی منتقل کرنے کے وار نٹ جاری کر دیے،یہ مقدمہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا تھا،سزا پانے والوں میں ذیشان علی اکبر، نظر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر شامل ہیں۔

    انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت تمام ملزمان کو 10، 10 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے دفعہ 161 پی پی سی کے تحت ہر ملزم کو 3، 3 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی دفعہ 162 پی پی سی کے تحت بھی ہر ملزم کو 3، 3 سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی گئی اور دفعہ 163 پی پی سی کے تحت ہر ملزم کو ایک، ایک سال قیدِ با مشقت کی سزا سنائی ہے۔

    عدالت نے تمام سزائیں بیک وقت (Concurrent) چلانے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دے دیا گیا، عدالت نے ملزمان سے برآمد ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم بھی دیا ضبط شدہ رقم پانچوں مجرموں سے برآمد کی گئی تھی۔

  • آپریشن شعبان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 4 خوارج ہلاک

    آپریشن شعبان:سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں مزید 4 خوارج ہلاک

    پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کا فتنۃ الہندوستان کے خلاف آپریشن شعبان جاری ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو ہوائی اور زمینی کارروائیوں میں نشانہ بنایا جارہا ہے-

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق فورسز نے آپریشن کے دوران مزید 4 خوارج کو ہلاک کردیا ہے، جس کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 71 ہوگئی ہے جبکہ 5 جولائی سے اب تک 109 خوارج مارے جا چکے ہیں ،سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ہلاک دہشت گردوں کے قبضےسے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا، برآمد اسلحے میں ایم فور رائفل، ایس ایم جیز، راکٹ لانچر، موبائل فونز اور دیگر سامان بھی شامل ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن شعبان جاری رہے گا جب کہ سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھیں گی۔

    واضح رہے کہ یہ کارروائی جولائی 2026 کے بالکل آغاز میں بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کے بعد شروع کی گئی تھی وہاں واقع مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشت گردوں نے ایک بڑا حملہ کیا تھا، جس میں 9 بہادر پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے، اس حملے کے فوراً بعد حکو مت اور سیکیورٹی اداروں نے امن دشمنوں کے پورے نیٹ ورک اور ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا اسی فیصلے کے تحت پاک فوج، ایف سی اور بلوچستان پولیس نے مل کر یہ مشترکہ محاذ سنبھالا ہے، جس کا بنیادی مقصد علاقے میں کالعدم تنظیموں اور عسکریت پسندوں کا مکمل صفایا کر کے عوام کی جان و مال کو محفوظ بنانا اور امن قائم کرنا ہے۔

    دوسری جانب زیارت میں دہشت گردی کے واقعات میں شہید پولیس اہل کاروں کے لواحقین کا دھرنے کوئٹہ اور زیارت میں جاری ہیں حکومتی وفد کے ساتھ مذاکرات کے دو دور ہونے کے باوجود ڈیڈ لاک برقرار ہے، مظاہرین کی جانب سے زیارت واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا گیا لیکن حکومتی وفد کی یقین دہانی کے باوجود مظاہرین نے دھرنا ختم نہیں کیا دھرنے کے قریب کنٹینر میں 8 پولیس اہلکاروں کی میتیں رکھی ہو ئی ہیں، دیگر پولیس اہلکاروں کی تدفین زیارت اور سنجاوی کے علاقوں میں کر دی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ 7 جولائی کو زیارت کے علاقے مانگی میں دہشت گرد حملے میں 30 پولیس اہلکار شہید ہوگئے تھے۔

  • اے سی کی غیر موجودگی میں ایم پی اے شوکت بھٹی کی سرکاری دفتر میں کھلی کچہری

    اے سی کی غیر موجودگی میں ایم پی اے شوکت بھٹی کی سرکاری دفتر میں کھلی کچہری

    اراضی ریکارڈ سنٹر، رجسٹری برانچ اور پٹواریوں کے خلاف شکایات کے انبار عوامی مسائل وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچاؤں گا راجہ شوکت عزیز بھٹی
    عوامی حلقے منقسم حامیوں نے اقدام کو خوش آئند قرار دیدیا، ناقدین بولے 4 سال بعد ہوش آیا ڈیرے کے بعد سرکاری دفتر پر قبضہ کیوں؟
    گوجرخان (قمرشہزاد) اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان کی عدم موجودگی میں مسلم لیگ ن کے مقامی رکن صوبائی اسمبلی ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی کی جانب سے اے سی آفس کے اندر کھلی کچہری کے انعقاد نے جہاں عوامی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، وہی اس اقدام پر شدید آئینی و سیاسی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ کھلی کچہری کے دوران شہریوں کی بڑی تعداد نے پٹواریوں، گرداوروں، تحصیلدار، اراضی ریکارڈ سنٹر اور رجسٹری برانچ کے عملے کے خلاف رشوت ستانی، تاخیری حربوں اور بدعنوانی کی شکایات کے انبار لگا دیے۔ اس موقع پر بلدیہ گوجرخان اور واٹر سپلائی سے متعلق بھی شکایات سامنے آئیں، تاہم ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی نے واضح کیا کہ اس کچہری میں فی الحال صرف ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے متعلقہ شکایات ہی سنی جا رہی ہیں اور ان تمام مسائل کو براہِ راست وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچایا جائے گا۔ دوسری جانب، اس کھلی کچہری نے گوجرخان کے سیاسی اور سماجی حلقوں کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ایک دھڑے نے اسے عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک خوش آئند اور جرات مندانہ قدم قرار دیا ہے، جبکہ دوسرے مقتدر حلقوں اور ناقدین کی طرف سے اس پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ناقدین نے یہ قانونی سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی بھی منتخب عوامی نمائندے کو یہ آئینی اور قانونی حق حاصل ہے کہ وہ کسی سرکاری مقتدر بیوروکریٹ اسسٹنٹ کمشنر کی غیر موجودگی میں اس کے سرکاری دفتر کے اندر کچہری لگائے؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کو قائم ہوئے لگ بھگ چار سال ہونے والے ہیں، لیکن گوجرخان میں پٹواری کلچر اور اراضی ریکارڈ سنٹر کا عملہ دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہا ہے، جس پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ میں کرپشن کا بازار اچانک گرم نہیں ہوا بلکہ یہ طویل عرصے سے جاری ہے، لہٰذا اتنی طویل تاخیر کے بعد سرکاری دفتر میں کھلی کچہری لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ واضح رہے کہ راجہ شوکت عزیز بھٹی اس سے قبل ہر ہفتے اپنے ذاتی ڈیرے پر بھی کھلی کچہری لگاتے آئے ہیں، لیکن عوامی حلقوں کا شکوہ ہے کہ ان روایتی کچہریوں کے باوجود گوجرخان کے بنیادی مسائل کم ہونے کے بجائے روز بہ روز بڑھتے جا رہے ہیں، جس کے لیے عملی اور ٹھوس انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

  • آپریشن شعبان: فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    آپریشن شعبان: فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

    بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس کا مشترکہ آپریشن ”شعبان“ کامیابی سے جاری ہے فضائی اور زمینی کارروائیوں میں مزید 7 خارجی دہشت گرد مارے گئے، جس کے بعد آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 64 ہو گئی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان میں جاری مشترکہ آپریشن شعبان کے دوران پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مختلف علاقوں میں فضائی اور زمینی کارروائیاں کیں تازہ آپریشن میں مزید 7 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 64 خارجی دہشت گرد مارے جا چکے ہیں 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران اب تک مجموعی طور پر 102 خارجی دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشنز مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے جائیں گے۔

  • آپریشن شعبان:سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری، مزید  7  خارجی دہشتگرد ہلاک

    آپریشن شعبان:سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری، مزید 7 خارجی دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان اور پولیس کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف مشترکہ ’آپریشن شعبان‘ بھرپور انداز میں جاری ہے، تازہ کارروائیوں کے دوران مزید 7 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ہے جب کہ آج کیے جانے والے 3 آپریشنز میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 21 ہوگئی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہاڑوں میں چھپے ہوئے ان دہشت گردوں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے زمین پر موجود دستوں کے ساتھ ساتھ ہوا سے بھی کارروائی کی گئی ہے، یعنی ہیلی کاپٹرز اور فضائیہ کی مدد سے ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور بلوچستان پولیس نے مل کر صوبے کے مشکل اور دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں امن دشمن عناصر کے خلاف ایک بہت بڑا اور مربوط مشترکہ آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کا نام ’آپریشن شعبان‘ رکھا گیا ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، آج کی جانے والی 3 کارروائیوں کے دوران مزید 21 دہشت گر مارے گئے پہلی کارروائی کے دوران 9، دوسری کارروائی کے دوران 5 جب کہ تیسری کارروائی کے دوران 7 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن شعبان کے آغاز سے اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 64 ہوچکی ہے جب کہ 5 جولائی سے اب تک آپریشن شعبان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 104 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔

    سیکیورٹی ذرائع نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ جب تک بلوچستان کی دھرتی سے آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا، تب تک یہ آپریشن شعبان اسی طرح پوری طاقت سے جاری رہے گا۔