پلانٹ مالکان نے حکومتی رٹ ہوا میں اڑا دی 3643 والا سلنڈر 58سو سے 6 ہزار میں دھڑلے سے فروخت، غریبوں کی جیبوں پر سرعام ڈاکہ
وزیراعظم اور چیئرمین اوگرا کی خاموشی پر سوالیہ نشان ضلعی انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لوٹنے لگی شہری سراپا احتجاج
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل گوجرخان اور گردونواح میں ایل پی جی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، جہاں سرکاری نرخنامے محض کاغذ کے ٹکڑے ثابت ہو رہے ہیں۔ ماہ جون کے لیے اوگرا کی جانب سے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3643 روپے مقرر کیے جانے کے باوجود، پلانٹ مالکان اور ڈسٹری بیوٹرز نے ملی بھگت سے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق، گیس پلانٹس سے ایجنسی ہولڈرز کو سلنڈر 5400 روپے میں فراہم کیا جا رہا ہے، جو کہ خود سرکاری قیمت سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ یہی سلنڈر عام صارف تک پہنچتے پہنچتے 5800 سے 6000 روپے کی ریکارڈ سطح کو چھو رہا ہے۔ غریب اور متوسط دیہاڑی دار طبقہ، جو پہلے ہی کمر توڑ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے، اب لکڑیاں جلانے یا بھوکا سونے پر مجبور ہو گیا ہے۔ شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اوگرا اپنے ہی جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عملدرآمد کروانے کی سکت نہیں رکھتا، تو ایسے ردی کے ٹکڑوں کو پبلش کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ریاست کی رٹ پلانٹ مالکان کے سامنے ختم ہو چکی ہے جو وہ سرکاری احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں؟ گوجرخان کے شہریوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان پلانٹس و ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن کریں جو کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی نہ بنائی گئی تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے میں حق بجانب ہوں گے۔
Category: راولپنڈی
-

گوجرخان،ایل پی جی مافیا بے لگام، اوگرا کے نرخ ردی کا ڈھیر ،سلنڈر غریب کی پہنچ سے دور
-

راولپنڈی،گیس لیکج سے گھر میں دھماکا،سات افراد زخمی
راولپنڈی: آفندی کالونی میں گھر کے اندر گیس لیکیج کے باعث ہونے والے دھماکے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے علاقے آفندی کالونی میں ایک رہائشی مکان میں گیس جمع ہونے کے باعث اچانک دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود 7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا۔ زخمیوں کا علاج اسپتال کے برن یونٹ میں جاری ہے۔زخمی ہونے والوں میں 7 سالہ مناہل، 14 سالہ حسنین، 12 سالہ بلال، 45 سالہ فریال، 32 سالہ مصطفیٰ، 36 سالہ عثمان اور 10 سالہ مریم شامل ہیں۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق بعض زخمیوں کے جسم کے مختلف حصے جھلسے ہیں جبکہ تمام متاثرین کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دھماکا گھر میں گیس لیکیج کے باعث پیش آیا، تاہم واقعے کی حتمی وجوہات جاننے کے لیے متعلقہ اداروں نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی تنصیبات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گیس لیکیج کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور شہریوں میں آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ ایسے افسوسناک حادثات سے بچا جا سکے۔
-

پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا،تمام بڑے اعزازات پاکستان کے نام
پاک فوج نے برطانیہ میں انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج نے عالمی سطح پر ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے برطانیہ میں منعقدہ باوقار انٹرنیشنل پیس اسٹکنگ مقابلہ 2026 جیت لیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی سینڈ ہرسٹ میں ہونے والے مقابلے میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر پہلی پوزیشن حاصل کی، پاکستانی ٹیم نے نہ صرف مقابلہ جیتا بلکہ تمام بڑے اعزازات بھی اپنے نام کر لیے مقابلے میں بہترین پیس اسٹکر اور بہترین ڈرلر کے ایوارڈز بھی پاکستانی ٹیم نے حاصل کیے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق میجر حیدر گلزار کی قیادت میں 9 رکنی پاکستانی دستہ اس بین الاقوامی مقابلے میں شریک ہوا مقابلے میں مختلف ممالک کی 16 فوجی ٹیموں نے حصہ لیا، یہ کامیابی پاک فوج کی اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیت، نظم و ضبط اور غیر معمولی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
-

راولپنڈی جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی، مقدمہ درج
راولپنڈی کے نیو جوڈیشنل کمپلیکس میں مبینہ ڈانس پارٹی کے معاملے پر تھانہ سول لائن پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ سیشن کورٹ کے چوکیدار تنویر حسین کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو دیکھی جو نیو جوڈیشنل کمپلیکس کی تھی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ویڈیو میں مرد و خواتین کو نازیبا حرکات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور ان کی شکلیں واضح طور پر پہچانی جا سکتی ہیں۔ مدعی نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کو تلاش کرکے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ وائرل ویڈیو کی چھان بین کا عمل جاری ہے اور اس میں شامل افراد کی شناخت کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
-

اڈیالہ جیل کا سزا یافتہ قیدی ہسپتال سے فرار
راولپنڈی: اڈیالہ جیل سے علاج کے لیے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا ایک سزا یافتہ قیدی اسپتال سے فرار ہوگیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق فرار ہونے والا قیدی جمیل منشیات کے مقدمے میں گرفتار اور عدالت سے سزا یافتہ تھا۔ اسے علاج کی غرض سے اڈیالہ جیل سے بینظیر بھٹو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔پولیس نے واقعے کا مقدمہ تھانہ وارث خان میں درج کر لیا ہے۔ مقدمے میں ڈیوٹی پر تعینات اے ایس آئی عمران احمد اور کانسٹیبل قمر علی کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔مقدمے کے متن کے مطابق قیدی جمیل کو اس کا بیٹا عدنان اور ایک نامعلوم شخص وہیل چیئر پر وارڈ سے باہر لے گئے، جہاں سے اسے ایک گاڑی میں بٹھا کر فرار کروا دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے مجرم کو منشیات اسمگلنگ کا جرم ثابت ہونے پر عدالت نے 9 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
-

اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل
جی ٹی روڈ پر سسکتی زندگیوں کو ٹراما سینٹر نہیں، ہسپتال میں عملہ اور مشینری چاہیے نمائندگان خواب غفلت سے جاگیں
ریفر کا ڈیتھ وارنٹ ختم کریں سی ایم پنجاب سے امیدِ سحر ہسپتال کی اپ گریڈیشن سیاسی وعدہ نہیں زندگی اور موت کا مسلہ بن گیا
گوجرخان (قمرشہزاد)تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا حصول ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر حکومتی فائلوں میں گم ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں علاج کے نام پر مریضوں کو صرف ریفرل سلپ تھما دینا ڈاکٹرز کی مجبوری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ کے محتاج ٹراما سینٹر کے فنکسنل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے، اگر موجودہ ہسپتال کو ہی اپ گریڈ کر دیا جائے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان کا کہنا ہے کہ ٹراما سینٹر کو فعال کرنے کے لیے جس خطیر رقم اور طویل وقت کی ضرورت ہے، وہ شاید موجودہ معاشی حالات میں ممکن نہیں۔ لیکن اگر حکومت موجودہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ، ایکسرے ٹیکنیشن اور نیورو سرجن کی خالی آسامیاں پر کر دے، اور ساتھ آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور بچوں کی نرسری جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں، تو ٹراما سینٹر کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ 2010 کے بعد سے لیبارٹری کے عملے میں ایک بھی اہلکار کا اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ کام کا بوجھ کئی سو گنا بڑھ چکا ہے۔ ہسپتال کے پاس وسیع و عریض رقبہ موجود ہے، جہاں نئی عمارتوں کی گنجائش بھی ہے، مگر ضرورت صرف منتخب عوامی نمائندوں کے اخلاص اور مخلصانہ کوششوں کی ہے۔ اگر ہمارے نمائندے ایوانوں میں آواز اٹھائیں تو ریفرل کے چکر میں راستے میں دم توڑنے والے مریضوں کے لواحقین کی بددعاؤں سے بچا جا سکتا ہے۔ گوجرخان کے باشعور شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کو ضلع بنانے یا ٹراما سینٹر کے بڑے بجٹ جیسے طویل منصوبوں کے بجائے، فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز جاری کریں۔ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور لیب کی جدید کاری سے نہ صرف جی ٹی روڈ کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد ملے گی، بلکہ زچہ و بچہ کو بھی راولپنڈی کے ہسپتالوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ اب گیند حکومت اور مقامی سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے۔ کیا وہ محض سیاسی نعروں سے عوام کو بہلاتے رہیں گے یا واقعی ہسپتال کی اپ گریڈیشن کر کے گوجرخان کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گوجرخان کا ہر شہری ڈھونڈ رہا ہے۔ -

پانی بحران ختم کرنا اولین ترجیح غفلت برتنے والے اہلکار گھر جائیں گے،غلام قمر وڑائچ
ٹیوب ویلز کی مانیٹرنگ اور وال مینوں کی حاضری یقینی بنانے کے لیے سرپرائز چیکنگ کا فیصلہ، ڈیوٹی سے غائب ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ
شہریوں کو شدید گرمی میں پانی کی بلاتعطل فراہمی کے لیے خود فیلڈ میں رہوں گا سرکاری وسائل کا ضیاع برداشت نہیں کیا جائے گا، غلام قمر وڑائچ
گوجرخان (قمر شہزاد) نو تعینات چیف آفیسر بلدیہ گوجرخان غلام قمر وڑائچ نے چارج سنبھالتے ہی شہر میں پانی کے سنگین بحران اور فنی خرابیوں کا نوٹس لیتے ہوئے ہنگامی اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنا ان کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ سی او بلدیہ نے انکشاف کیا کہ شہر میں اکثر موٹریں جلنے کی بڑی وجہ متعلقہ عملے کی لاپرواہی ہے اہلکار موٹر چلا کر یا وال کھول کر غائب ہو جاتے ہیں جس سے نہ صرف سرکاری مشینری کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب تمام ٹیوب ویلز کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے گی اور وال مینوں کی ڈیوٹی کے اوقات میں موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے وہ خود کسی بھی وقت سرپرائز چیکنگ کریں گے۔ غلام قمر وڑائچ کا مزید کہنا تھا کہ مجھے چارج لیے ابھی تھوڑا وقت ہوا ہے لیکن میں نے عوامی مسائل کا ادراک کر لیا ہے۔ شدید گرمی کے اس موسم میں تمام وارڈز میں مساوی اور بلاتعطل پانی پہنچانا میرا مشن ہے۔ انہوں نے شہریوں کو یقین دلایا کہ پانی کی فراہمی کے نظام کو مرحلہ وار بہتر بنایا جا رہا ہے اور جو بھی سرکاری ملازم اپنی ڈیوٹی سے غیر حاضر پایا گیا، اس کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ جلد ہی شہر کو پانی کے بحران سے نکال کر عوام کو ریلیف فراہم کریں گے۔ -

مجرمانہ خاموشی یا اثر و رسوخ کی چھتری؟ دوہرا قتل کیس سرد خانے کی نذر
گوجرخان خون کی ہولی دوہرے قتل کو دو ہفتے بیت گئے، پولیس اور سی سی ڈی کی پراسرار خاموشی نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
سفید پوشی کا جنازہ نام نہاد سماجی تنظیمیں اور سیاسی پیشوا مصلحت کا شکار، حافظ آباد کے بااثر پٹواری کے سامنے قانون بے بس؟
انصاف کا تقاضا یا بااثر کی لونڈی؟ مقتولین کے ورثاء کی دہائی، کیا گوجرخان میں قانون کی رٹ صرف غریب کے لیے ہے؟ وزیر اعلی سے نوٹس کی اپیلگوجرخان(قمرشہزاد)گوجرخان کے قلب ریلوے روڈ پر دن دیہاڑے دو تاجر بھائیوں کے بہیمانہ قتل کی لرزہ خیز واردات خون کی ہولی کھیلے ہوئے 14 دن گزرنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بڑی پیش رفت میں ناکام نظر آتے ہیں۔ مقتول کے کمسن بیٹے نے سرِعام نصیر پٹواری کے بیٹوں معظم اور احسن کو اپنے والد اور چچا کا قاتل نامزد کیا، ایف آئی آر درج ہوئی، لیکن پولیس اور سی سی ڈی حکام کی جانب سے تاحال ملزمان کی گرفتاری کے حوالے سے کوئی آفیشل بیان سامنے نہ آنا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ گوجرخان شہر، جو کہنے کو تو سماجی تنظیموں، صدور اور نام نہاد عوامی نمائندوں سے بھرا پڑا ہے، اس وقت ایک مجرمانہ خاموشی کی لپیٹ میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمان کے والد نصیر پٹواری کے سیاسی و انتظامی حلقوں میں گہرے مراسم انصاف کی راہ میں سب سے بڑی دیوار بن چکے ہیں۔ ہر گلی محلے میں مصلحت کی چادر اوڑھ کر بیٹھنے والے سیاسی نمائندے اور سماج سیوک مقتولین کے لہو پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جس سے یہ تاثر قوی ہو رہا ہے کہ حافظ آباد کے یہ ملزمان قانون سے بالاتر ہیں۔
عوامی حلقوں میں یہ سوال شدت سے گردش کر رہا ہے کہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں سنگین وارداتوں کے ملزمان چند ہی دنوں میں اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں، تو کیا گوجرخان کیس کے ملزمان کو کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے؟ کیا سی سی ڈی اور مقامی پولیس اس کیس کو سرد خانے کی نذر کرنے کے لیے فائل پر مٹی ڈالنے کی منتظر ہے؟ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس گوجرخان پولیس اور بالخصوص سی سی ڈی کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کہ آیا وہ اپنی پیشہ ورانہ ساکھ بحال کرتے ہیں یا قانون ایک بار پھر بااثر طبقات کے گھر کی لونڈی ثابت ہوگا۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر ملزمان کو نشانِ عبرت بنایا جائے، ورنہ یہ خاموشی کسی بڑے عوامی لاوے کے پھٹنے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
-

کسی کا متبادل نہیں بننا چاہتا، اپنی الگ شناخت بنانا چاہتا ہوں،عرفات منہاس
عرفات منہاس کا کہنا ہےکہ میں کسی کا متبادل نہیں بننا چاہتا، اپنی الگ شناخت بنانا چاہتا ہوں-
پاکستانی نوجوان باؤلر عرفات منہاس ڈیبیو میچ میں پانچ وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر بن گئےراولپنڈی اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عرفات منہاس کا کہنا تھا کہ ڈیبیو میچ میں ٹیم کو جیت دلانے کی خوشی ہے،گرمی کافی تھی اور پچ خشک ہونے کی وجہ سے اسپنرز کو مدد ملی،کنڈیشنز اسپنرز کے لیے سازگار تھیں اسی وجہ سے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا گیا-
عرفات منہاس نے کہا کہ ڈیبیو پر دباؤ ضرور ہوتا ہے لیکن مجھے بالکل بھی پریشر محسوس نہیں ہوامیرے والدین نے بہت سپورٹ کیا، انہوں نے کہا کہ پی ایس ایل ہو یا انڈر19 میں ہر سطح پر اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے کوشاں رہا ہوں، میں کسی کا متبادل نہیں بننا چاہتا، اپنی الگ شناخت بنانا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں ٹیم کا مستقل رکن بننے کا خواہش مند ہوں۔
-

عرفات منہاس نے پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا 42 سالہ ریکارڈ توڑ دیا
آسٹریلیا اور پاکستان کے درمیان تین ون ڈے میچز پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ میں ڈیبیو کرنے والے نوجوان آل راؤنڈر عرفات منہاس پانچ وکٹیں لینے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں۔
ون ڈے انٹرنیشنل کی تاریخ میں اب تک صرف 17 کھلاڑیوں نے اپنے ڈیبیو میچ پر 5 یا اس سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ عرفات منہاس اس فہرست کا حصہ بننے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی ہیں راولپنڈی اسٹیڈیم میں آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے میچ میں بائیں ہاتھ سے اسپن بولنگ کرنے والے عرفات منہاس نے شاندار بالنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو چکرا کر رکھ دیا اور پانچ کھلاڑیوں کو پویلین روانہ کیا۔
وہ پاکستان کی ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں یہ منفرد اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی بولر بن گئے ہیں،پاکستان کی جانب سے ون ڈے ڈیبیو پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی ذاکر خان تھے، یہ ریکارڈ 42 سال تک ان کے پاس رہا ذاکر خان نے 1984 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے ڈیبیو میں چار وکٹیں حاصل کی تھیں، تاہم آج عرفات منہاس نے یہ ریکارڈ توڑ دیا ہے۔