Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • معصوم آیان کی موت، گوجرخان کی سیاسی قیادت کی خاموشی پر تلخ سوالات

    معصوم آیان کی موت، گوجرخان کی سیاسی قیادت کی خاموشی پر تلخ سوالات

    شادی، ولیمہ اور تقریبات میں صفِ اول کے چہرے، بچے کے المناک سانحے پر زبانیں کیوں خاموش؟
    ووٹ عوام کا، دکھ بھی عوام کا، پھر دکھ کی گھڑی میں عوامی نمائندے کہاں ہیں؟ گوجرخان کے شہریوں کا سوال
    گوجرخان (قمرشہزاد) جیرور اتیال میں 8 سالہ یتیم محمد آیان کی لاش کنویں سے ملنے کا دلخراش سانحہ گزر گیا، جنازہ بھی ادا ہوگیا، ایک گھر اجڑ گیا اور ایک معصوم بچہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگیا، مگر گوجرخان کے شہریوں کے لیے اس سانحے کا ایک اور پہلو بھی ناقابلِ فہم ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق نعش ملنے کو تقریباً 24 گھنٹے سے زائد گزرنے اور جنازہ ہو جانے کے باوجود تحصیل گوجرخان سے تعلق رکھنے والے موجودہ و سابق منتخب عوامی نمائندوں، مختلف سیاسی جماعتوں کے مقامی رہنماؤں، سماجی و فلاحی شخصیات اور مختلف عوامی ایکشن کمیٹیوں و تنظیموں کی جانب سے کوئی نمایاں عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا عوامی نمائندگی صرف ووٹ لینے، انتخابی جلسوں، شادیوں، ولیموں، بااثر لوگوں کے جنازوں اور سیاسی تقریبات میں شرکت تک محدود ہے؟ جب کسی غریب معصوم یتیم بچے کا المناک انجام پورے علاقے کو سوگوار کردے تو عوام کی آواز ایوانوں اور سیاسی پلیٹ فارموں تک پہنچانا کس کی ذمہ داری ہے؟ شہریوں کا مزید سوال ہے کہ جو شخصیات معمولی سے معمولی تقریب میں بھی اپنی موجودگی یقینی بنا کر تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے نمایاں رہتی ہیں، ان کی آواز ایسے دلخراش واقعے پر کیوں سنائی نہیں دی؟ کیا محمد آیان کا دکھ اتنا بڑا نہیں کہ سیاسی و سماجی قیادت اسے اپنا مسئلہ سمجھے؟ گوجرخان کے شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ خاموشی بھی بعض اوقات ایک پیغام بن جاتی ہے، اور آج یہی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹیوں، فلاحی تنظیموں اور سماجی شخصیات سے بھی پوچھا جا رہا ہے کہ اگر ایک معصوم بچے کی موت پر بھی اجتماعی آواز بلند نہیں ہوگی، تو پھر عوام کے مسائل اور حقوق کے لیے بننے والی یہ تنظیمیں آخر کس موقع پر اپنا کردار ادا کریں گی؟

    شہریوں کا مطالبہ ہے کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر تمام مقامی نمائندے، سیاسی جماعتیں اور سماجی تنظیمیں نہ صرف متاثرہ خاندان سے اظہارِ یکجہتی کریں بلکہ واقعے کی شفاف تحقیقات، موت کے اصل محرکات کے تعین اور اگر کوئی مجرمانہ عنصر ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دلانے کے لیے واضح آواز اٹھائیں۔ محمد آیان واپس نہیں آسکتا، مگر اس کی موت کو خاموشی میں دفن نہیں ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے شہریوں کا سوال اب بھی وہی ہے: اگر عوام کے دکھ میں عوامی نمائندے، سماجی رہنما اور فلاحی تنظیمیں بھی خاموش رہیں تو پھر عوام آخر کس دروازے پر دستک دیں؟

  • گوجرخان 8 سالہ یتیم کی موت، بچوں کے تحفظ کا نظام کب جاگے گا؟

    گوجرخان 8 سالہ یتیم کی موت، بچوں کے تحفظ کا نظام کب جاگے گا؟

    لاپتا بچے کی بروقت تلاش، جدید فرانزک نظام اور پولیس کو فوری ڈیٹا رسائی کا مؤثر میکنزم ناگزیر
    قومی و پنجاب اسمبلی میں قانون سازی، سخت عملدرآمد اور سنگین جرائم میں ریاستی مدعیت یقینی بنانے کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان کے نواحی علاقے جیرورتیال میں دو روز سے لاپتہ 8 سالہ یتیم محمد آیان کی نعش گھر کے قریب کنویں سے برآمد ہوئی۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کی، جبکہ ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی ملک طارق محبوب نے جائے وقوعہ کا دورہ کرتے ہوئے اے ایس پی گوجرخان اور ایس ایچ او کو واقعے کے تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات اور کسی مجرمانہ عنصر کے شواہد ملنے پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی۔ بچے کی نماز جنازہ جمعرات کو ادا کردی گئی، علاقے کی فضا سوگوار رہی۔ موت کی حتمی وجہ پوسٹ مارٹم اور فرانزک رپورٹ سے سامنے آئے گی۔ محمد آیان کی موت ایک خاندان کا ناقابلِ تلافی صدمہ ہی نہیں بلکہ پورے نظامِ تحفظِ اطفال کے لیے ایک تلخ سوال بھی ہے۔ ملک میں بچوں، بچیوں اور خواتین کے خلاف مبینہ تشدد، اغوا، جنسی جرائم اور قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں، مگر ہر واقعے کے بعد محض مقدمہ، تفتیش اور تعزیتی بیانات کافی نہیں، ریاست کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ شہریوں، بالخصوص بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی نظام رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی میں بچوں اور خواتین کے تحفظ سے متعلق موجود قوانین کا ازسرنو جائزہ لے کر جہاں قانونی خلا موجود ہیں وہاں مؤثر قانون سازی کی جائے اور پہلے سے موجود قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔قومی اسمبلی کی انسانی حقوق سے متعلق قائمہ کمیٹی بھی حالیہ اجلاس میں سنگین جرائم کے مقدمات میں ناقص تفتیش، شواہد کے تحفظ میں ناکامی اور تاخیر پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مسلسل کیس مانیٹرنگ اور خصوصی میکنزم کی ضرورت پر زور دے چکی ہے۔ لاپتہ بچے یا خاتون کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو نادرا کے متعلقہ ڈیٹا تک قانونی دائرے میں فوری رسائی، جدید ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن معلومات کے بروقت حصول کا مربوط نظام فراہم کیا جائے، جبکہ ہر ضلع میں فرانزک سہولیات اور ماہرین کی استعداد بڑھائی جائے تاکہ قیمتی شواہد ضائع ہونے اور رپورٹوں میں غیرضروری تاخیر کا راستہ روکا جاسکے۔ قومی اسمبلی میں بچوں کے حقوق سے متعلق پارلیمانی فورم بھی مؤثر قانون سازی، بہتر ڈیٹا اور اداروں کے باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دے چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر سنگین جرائم کو محض فریقین کے درمیان صلح یا دباؤ کے ذریعے ختم ہونے سے روکنے کے لیے قانون کے دائرے میں مؤثر ریاستی نگرانی ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر المناک واقعے کے بعد چند دن کی تشویش کے بجائے ایسا مستقل نظام بنایا جائے جو بچے کے لاپتا ہوتے ہی حرکت میں آئے، شواہد محفوظ کرے، مجرم تک پہنچے اور مقدمے کے اندراج سے فیصلے تک ریاست خود ذمہ داری نبھائے۔ جیرورتیال کا واقعہ محض ایک خبر نہیں، نظامِ تحفظِ اطفال کے لیے ایک سنجیدہ وارننگ ہے۔

  • گوجرخان،کمپیوٹرائزڈ راضی ریکارڈ کے نام پر سادہ لوح عوام سے دھوکہ دہی

    گوجرخان،کمپیوٹرائزڈ راضی ریکارڈ کے نام پر سادہ لوح عوام سے دھوکہ دہی

    وزیراعلیٰ صوبائی محکمہ مال سے پٹواریوں کی اس کھلی ناانصافی من مانی کا سخت نوٹس لینے کا مطالبہ
    آدھی صدی سے زمینوں پر قابض شہریوں کو مالکانہ حقوق اور پکے انتقال دینے کے لیے فوری نئی قانون سازی کی جائے
    گوجرخان (قمرشہزاد) حکومتِ پنجاب کی طرف سے آراضی ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر کے عوام کو پٹوار خانوں سے نجات دلانے کے دعوے تحصیل گوجرخان کے دیہی علاقوں میں فیلڈ عملے کی شدید لاپرواہی اور مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے بری طرح ناکام ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے پٹواریوں کے اس من گھڑت بہانے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے کہ بڑی کھیوٹوں میں مالکان کے نام صرف شروع کے صفحات پر آتے ہیں اور آخری صفحات یا انفرادی فرد کے کالم نمبر 4 خانہ ملکیت کا خالی رہنا کمپیوٹر کا اپنا طریقہ ہے۔ شہریوں نے سیدھا سوال اٹھایا ہے کہ اگر کمپیوٹرائزڈ فرد کے اندر زمین کے مالک کا نام ہی غائب ہوگا، تو کل کو کوئی بھی بااثر قبضہ مافیا یا سرکاری اہلکار ان لاوارث خسرہ نمبروں پر قبضہ جما کر بیٹھ جائے گا، جو کہ قانونِ اراضی کے بنیادی اصولوں اور شہریوں کے جائیداد کے تحفظ کے حق پر کھلا حملہ ہے۔ متاثرہ عوام نے مستقبل کی نسلوں کے حوالے سے ایک انتہائی چونکا دینے والا نکتہ اٹھایا ہے کہ ماضی میں جن آباؤ اجداد نے زمینیں بیچی تھیں یا آپس میں تبادلے کیے تھے، اگر ان کا ملکیتی لنک کمپیوٹر میں یوں ہی کٹا رہا تو آنے والی نسلوں کو کبھی پتہ ہی نہیں چل سکے گا کہ ان کے بزرگوں نے یہ زمین کس متبادل کے عوض چھوڑی تھی۔ اس سنگین بگاڑ کی وجہ سے مستقبل میں دیہی علاقوں کے اندر خاندانی جنگ و جدل، خون خرابے اور زمینوں کے لامتناہی جھگڑوں کا ایسا طوفان کھڑا ہوگا جسے سنبھالنا کسی ادارے کے بس میں نہیں رہے گا۔عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ جو خاندان پچھلے پچاس ساٹھ سال سے باہمی تبادلوں کے تحت زمینوں پر گھر بنا کر بیٹھے ہیں اور پرانے سرکاری مینوئل ریکارڈ میں ان کا نام موجود ہے، ان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نئی قانون سازی کی جائے تاکہ انہیں پکے انتقال اور مالکانہ حقوق مل سکیں اور اداروں میں بیٹھے نااہل افسران شہریوں کو مزید ذلیل و خوار نہ کر سکیں۔

  • اڈیالہ جیل میں قیدی کی موت

    اڈیالہ جیل میں قیدی کی موت

    راولپنڈی کی سینٹرل جیل اڈیالہ میں ایک حوالاتی قیدی بیماری کے باعث جاں بحق ہوگیا۔

    جیل حکام کے مطابق 40 سالہ اویس احمد تھانہ جاتلی میں درج منشیات کے مقدمے میں اسیر تھا۔ اچانک طبیعت خراب ہونے پر جیل انتظامیہ نے اسے فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کیا، تاہم وہ اسپتال پہنچنے سے قبل ہی راستے میں دم توڑ گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق مزید کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

  • راولپنڈی:جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں وکیل ثنا اللہ ستی کے پراسرار قتل کا مقدمہ درج

    راولپنڈی:جوڈیشل کمپلیکس کی پارکنگ میں وکیل ثنا اللہ ستی کے پراسرار قتل کا مقدمہ درج

    راولپنڈی کے تھانہ سول لائنز کی حدود میں نیو جوڈیشل کمپلیکس لائرز کلب کی پارکنگ میں وکیل ثنااللہ ستی کے پراسرار قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔

    پولیس نے مقتول کے بھائی بیرسٹر سجاد احمد ستی کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 942/26 بجرم 302/34 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کردی ہےمقدمے کے متن کے مطابق مقتول ثنااللہ ستی پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور قریباً ایک سال سے اپنی بیٹی کے ہمراہ راولپنڈی میں رہائش پذیر تھے مدعی کےمطابق انہیں اطلاع ملی کہ انکےبھائی کی نعش ان کی استعمال شدہ سوزوکی سوئفٹ گاڑی نمبر BAX-687 کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہے۔

    اطلاع ملنے پر بیرسٹر سجاد احمد ستی راجا محمد عبداللہ ایڈووکیٹ اور شارق ستی ایڈووکیٹ کے ہمراہ موقع پر پہنچے، مقدمے کے مطابق ثنااللہ ستی کی نعش گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر موجود تھی، منہ سے سفید جھاگ اور خون نکل رہا تھا جبکہ جسم کے مختلف حصوں، بالخصوص دونوں کندھوں پر بظاہر زخموں کے نشانات موجود تھے۔

    واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی (پی ایف ایس اے) کی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور شواہد اکٹھے کیے، پولیس نے مقتول کے زیر استعمال 2 موبائل فونز اور جوڈیشل کمپلیکس میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کا ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا۔

    پولیس کے مطابق مقتول کے کلائنٹ حماد، جس کے موبائل نمبر سے مقتول سے رابطہ ہوا تھا، کے علاوہ کلرک اور منشی کو بھی شاملِ تفتیش کیا جارہا ہے نعش کے پوسٹ مارٹم اور فارنزک معائنے کے بعد واقعے کے اصل حقائق سامنے آئیں گے، مقدمے کی تفتیش انسپکٹر مرزا محمد عارف، ہیومن انویسٹی گیشن یونٹ (ایچ آئی یو) کے سپرد کردی گئی ہے۔

  • اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹرسائیکل کو ٹکر،9  سالہ بچی جاں بحق

    اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹرسائیکل کو ٹکر،9 سالہ بچی جاں بحق

    راولپنڈی کے اڈیالہ روڈ پر بس کی موٹر سائیکل کو ٹکر کے نتیجے میں والد کے ساتھ بیٹھی 9 سالہ کمسن بچی جاں بحق ہوگئی، جبکہ موٹر سائیکل سوار والد اور دوسری بچی محفوظ رہے۔

    پولیس کے مطابق افسوسناک حادثہ اڈیالہ روڈ پر منور کالونی کے قریب ایک نجی مارٹ کے سامنے پیش آیا، جہاں ایک بس نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر والد کے ساتھ بیٹھی 9 سالہ عائشہ شدید زخمی ہوئی اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگئی۔ بچی کا سر بس کے نیچے آکر کچلا گیا، جبکہ اس کا والد اور دوسری کمسن بچی محفوظ رہے۔

    حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور بس کے ڈرائیور کو مشتعل شہریوں سے اپنی تحویل میں لے لیا۔ کمسن بچی کی ہلاکت پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور اڈیالہ روڈ پر احتجاج شروع کردیا۔

    مشتعل افراد نے بس پر پتھراؤ کیا اور اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش بھی کی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بس کو آگ لگانے کی کوشش ناکام بنادی اور احتجاج میں ملوث 10 افراد کو حراست میں لے لیا۔

  • گوجرخان،اینٹی کرپشن کی کارروائی مبینہ رشوت لیتے یونین کونسل سیکرٹری گرفتار

    گوجرخان،اینٹی کرپشن کی کارروائی مبینہ رشوت لیتے یونین کونسل سیکرٹری گرفتار

    ٹریپ ریڈ میں نشان زدہ نوٹ برآمد، سیکرٹری پنجگراں کیخلاف مقدمہ درج، مزید تفتیش شروع
    جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں کارروائی، ملزم کیخلاف دفعہ 161 اور PCA کے تحت کیس
    گوجرخان (قمرشہزاد) اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ راولپنڈی ریجن نے گوجرخان میں کارروائی کرتے ہوئے یونین کونسل نمبر 67 پنج گراں کے سیکرٹری سید منور حسین شاہ کو مبینہ طور پر 20 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ اینٹی کرپشن حکام کے مطابق کارروائی ٹریپ ریڈ کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس دوران ملزم سے مبینہ رشوت کی رقم بھی برآمد کر لی گئی۔ حکام کے مطابق کارروائی جوڈیشل مجسٹریٹ سیکشن 30 تحصیل گوجرخان آفتاب احمد کی نگرانی میں اینٹی کرپشن ٹیم نے کی۔ واقعہ کے بعد ملزم کے خلاف مقدمہ نمبر 09/26 مورخہ 8 ستمبر 2026 کو تھانہ اینٹی کرپشن راولپنڈی میں دفعہ 161 تعزیراتِ پاکستان اور دفعہ 5(2)47 PCA کے تحت درج کر لیا گیا ہے۔ اینٹی کرپشن حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور کارروائی کے تمام قانونی مراحل مکمل کیے جا رہے ہیں۔

  • سرکاری نرخنامہ بے اثر اے سی گوجرخان منڈی میں اپنی نگرانی میں بولی کرائیں ،مطالبہ

    سرکاری نرخنامہ بے اثر اے سی گوجرخان منڈی میں اپنی نگرانی میں بولی کرائیں ،مطالبہ

    بلوں کے بعد جیب خالی، پھل سبزیاں خریدنا دشوار، مٹن بیف بھی سرکاری نرخ پر نایاب مزدور، متوسط طبقہ پس گیا
    منڈی سے پرچون تک نرخوں کا مکمل نظام شفاف بنایا جائے، بولی، تھوک و پرچون قیمتوں کی ذمہ داری طے ہو صرف ریڑھی بانوں کو جرمانے مسلے کا حل نہیں
    گوجرخان (قمرشہزاد) کمر توڑ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ بجلی، گیس اور دیگر بنیادی بل ادا کرنے کے بعد متوسط، مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے، پھل اور سبزیاں خریدنا مشکل جبکہ گوشت عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگیا ہے۔ شہریوں کے مطابق مٹن اور بیف بھی سرکاری نرخنامے پر دستیاب نہیں، جس کے باعث سرکاری نرخنامہ عملی طور پر بے اثر دکھائی دیتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب نہ ہونے کے باعث خریدار اور چھوٹے دکاندار، ریڑھی بان و چھابہ فروش آمنے سامنے ہیں۔ جبکہ سبزی پھل فروشوں کا مؤقف ہے کہ انہیں منڈی میں ہی مہنگے داموں مال ملتا ہے، اس لیے سرکاری نرخ پر فروخت ان کے لیے ممکن نہیں۔ عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سیدہ زینب حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روزانہ منڈی میں پھلوں اور سبزیوں کی بولی اپنی نگرانی میں خود کروائیں، منڈی سے پرچون تک قیمتوں کے تعین اور ذمہ داریوں کا واضح نظام بنائیں اور پرائس مجسٹریٹس اور پیرا فورس کو پورے سپلائی چین کی نگرانی کا پابند کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف کمزور ریڑھی بانوں، چھابہ فروشوں اور چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرکے کارروائی مکمل کرنا عوامی مسئلے کا حل نہیں؛ قیمت کہاں بنتی ہے اور منڈی سے بازار تک کہاں بڑھتی ہے، اس کا تعین کرکے اصل ذمہ داروں کا بھی محاسبہ ضروری ہے۔

  • اینٹی کرپشن کے چھاپوں کا خوف یا انتظامی وجوہات؟ گوجرخان میں لینڈ ریونیو دفاتر ویران

    اینٹی کرپشن کے چھاپوں کا خوف یا انتظامی وجوہات؟ گوجرخان میں لینڈ ریونیو دفاتر ویران

    دور دراز سے کرائے لگا کر آنے والے شہری خوار، پٹواری و افسران غائب، جائز کاموں کیلئے دربدر
    سہولیات ایک چھت تلے دینے کا وزیراعلیٰ کا ویژن کہاں؟ شہری کرائے اور وقت گنوا کر خوار، فوری نوٹس کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں لینڈ ریونیو کے مختلف دفاتر میں افسران و اہلکاروں کی مبینہ عدم موجودگی اور بعض دفاتر کو تالے لگے ہونے کے باعث شہریوں کی مشکلات نے سنگین صورت اختیار کر لی ہے۔ دور دراز علاقوں سے بھاری کرائے خرچ کرکے آنے والے سائلین اور خواتین کا بھی کہنا ہے کہ دفتر پہنچتے ہیں تو کہیں دروازے بند، کہیں متعلقہ پٹواری گرداور، نائب تحصیلدار غائب حتی کہ تحصیلدار سے بھی ملاقات نہیں ہو رہی۔ نتیجتاً شہری پیسہ اور پورا دن خرچ کرنے کے باوجود خالی ہاتھ واپس لوٹنے پر مجبور ہیں۔ اس تمام تر صورتحال پر شہریوں کا سوال ہے کہ آخر عوام جائیں تو جائیں کہاں، اپنے جائز کام کیلئے کس کے دروازے پر دستک دیں اور اس اذیت کا ذمہ دار کون ہے؟ رجسٹریوں اور زمین سے متعلق دیگر معاملات کی فیسیں اور سرکاری ریٹ بڑھتے جا رہے ہیں، مگر شہریوں کے مطابق اس کے مقابلے میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ جب سرکاری کام کی مد میں رقم وصول کی جاتی ہے تو پھر بروقت سروس فراہم کرنا بھی اداروں کی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ شہری حلقوں کے مطابق یہ صورتحال کسی ایک دن کا معاملہ نہیں، عرصہ سے سائلین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ حالیہ اینٹی کرپشن کارروائیوں کے بعد صورتحال مزید تشویش ناک دکھائی دے رہی ہے۔ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ افسران و اہلکار دفاتر میں موجود کیوں نہیں؟ کیا اس کی وجہ اینٹی کرپشن کے چھاپوں کا خوف ہے یا کوئی اور انتظامی سبب؟ اگر اہلکار فیلڈ ڈیوٹی یا کسی سرکاری ذمہ داری پر ہیں تو عوام کو واضح طور پر آگاہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ دوسری جانب آراضی ریکارڈ سینٹر میں بھی عملے کی کمی، طویل انتظار اور نمبر لگانے کے باوجود فہرست یا ترتیب تبدیل ہونے کی مبینہ شکایات نے سائلین کی پریشانی بڑھا دی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیسہ خرچ کرکے بھی اگر عوام کو اپنے جائز کام کیلئے خوار ہونا پڑے تو پھر سہولت اور نظام کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کمشنر راولپنڈی اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے، لینڈ ریونیو دفاتر میں افسران و اہلکاروں کی حاضری یقینی بنانے، سائلین کے زیرالتوا کام بلا تاخیر نمٹانے اور عوام کو درپیش مشکلات کا فوری ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ریونیو دفتر گوجرخان سائلین کے لیے اذیت گاہ بن گیا، عملہ مبینہ طور پر غائب، شہری خوار

    ریونیو دفتر گوجرخان سائلین کے لیے اذیت گاہ بن گیا، عملہ مبینہ طور پر غائب، شہری خوار

    مہنگائی میں بھاری کرائے دے کر آنے والے سائلین دفاتر کے چکر کاٹ کر خالی ہاتھ لوٹنے لگے
    نائب تحصیلدار کی مبینہ مسلسل غیرحاضری، پٹواریوں کی عدم دستیابی کی شکایات کمشنر و ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے کا مطالبہ
    گوجر خان (قمرشہزاد) وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے شہریوں کو بنیادی سہولیات ایک چھت تلے فراہم کرنے اور سرکاری اداروں میں عوام کو ریلیف دینے کے ویژن کے برعکس گوجر خان میں محکمہ ریونیو کی مبینہ ناقص کارکردگی نے سائلین کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ شہری حلقوں نے محکمہ ریونیو کے معاملات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہنگائی کے اس کمر توڑ دور میں غریب شہری بھاری کرائے خرچ کرکے اپنے جائز کاموں کے لیے سرکاری دفاتر کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں متعلقہ عملہ دستیاب نہ ہو تو سائلین کے لیے یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں بلکہ گھر کے محدود بجٹ پر ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ شہریوں کے مطابق سائلین صبح سویرے دور دراز علاقوں سے گوجر خان پہنچتے، گھنٹوں دفاتر کے باہر متعلقہ اہلکاروں کے انتظار میں بیٹھے رہتے ہیں اور پورا دن سرکاری دفتر کے چکر کاٹنے کے بعد بھی کام نہ ہونے پر مایوسی، خالی جیب اور ناامیدی کے ساتھ واپس گھروں کو لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک معمولی ریونیو کام کے لیے بار بار سفر کرنا اس مہنگائی میں عام آدمی کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ شہری حلقوں کا دعویٰ ہے کہ نائب تحصیلدار بھی مبینہ طور پر کئی روز سے دفتر میں دستیاب نہیں، جبکہ ذرائع کے مطابق متعدد پٹواریوں کی بھی اپنے متعلقہ دفاتر میں عدم موجودگی کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث ریونیو سے متعلقہ معاملات کے لیے آنے والے شہری دربدر ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر متعلقہ افسر یا اہلکار دستیاب نہیں تو سائلین کے جائز کام کون کرے گا اور ان کے بار بار لگنے والے کرایوں، ضائع ہونے والے وقت اور ذہنی اذیت کا ازالہ کون کرے گا؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی محکمہ ریونیو گوجر خان کی صورتحال کا فوری جائزہ لیں، دفاتر میں افسران و عملے کی حاضری یقینی بنائیں اور سائلین کے لیے مؤثر متبادل انتظام کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نائب تحصیلدار کسی وجہ سے دفتر میں فرائض انجام نہیں دے پا رہے تو کسی متبادل افسر کو فوری طور پر ذمہ داری سونپی جائے تاکہ ایک افسر کی عدم موجودگی کی سزا پوری تحصیل کے شہریوں کو نہ بھگتنا پڑے۔ شہری حلقوں نے واضح کیا کہ سرکاری دفتر عوام کی خدمت کے لیے ہوتا ہے، عوام کو دفتر کے چکر لگوانے، کرائے خرچ کروانے اور پورا دن انتظار کے بعد خالی ہاتھ واپس بھیجنے کے لیے نہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے عوامی سہولت کے ویژن کو عملی شکل دینے کے لیے گوجر خان کے ریونیو دفاتر میں فوری اصلاح اور جوابدہی ناگزیر ہے۔


    کمپیوٹرائز آراضی ریکارڈ میں خسرہ نمبروں کا بکھراؤ اور ڈیٹا میپنگ کا سنگین تضاد، شہری پریشان
    وزیراعلیٰ پنجاب کی عوام دوست ریونیو پالیسی کو فیلڈ پٹوار عملے کی مبینہ غفلت سے سبوتاژ کرنے کا انکشاف
    انفرادی فرد میں خانہ ملکیت غائب رکھنے اور بار بار فردِ بدر کے نام پر چکر لگوانے کے خلاف نوٹس کا مطالبہ

    گوجرخان (قمرشہزاد) وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے آراضی ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کے ذریعے شہریوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے دعووں کو فیلڈ پٹوار عملے کی مبینہ بدنیتی اور غفلت نے شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث انفرادی فرد کے پرنٹ آؤٹس میں خانہ ملکیت غائب ہونے اور خسرہ نمبروں کے شدید بکھراؤ سے شہریوں کی اربوں روپے کی جائیدادیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹوار عملہ مبینہ طور پر جان بوجھ کر کمپیوٹر ریکارڈ میں ایسی تکنیکی خامیاں اور ناموں کی غلطیاں چھوڑ دیتا ہے تاکہ شہری بار بار ‘فردِ بدر’ بنوانے کے لیے پٹوار خانوں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہوں۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب حکومت پورا نظام کمپیوٹرائزڈ کر رہی ہے تو ڈیٹا انٹری میں ریاضی کی ترتیب کے برعکس بڑے خسرہ نمبر پہلے صفحات پر کیوں آ جاتے ہیں، جبکہ موقع پر ایک ہی جگہ اکٹھے جڑے ہوئے نمبر اور دہائیوں پرانے تبادلے کے خسرہ نمبرات الگ الگ کھتونیوں میں بکھیر دیے گئے ہیں۔ اس تکنیکی غفلت کے باعث جب شہری اپنے مخصوص رقبے کی انفرادی فرد حاصل کرتے ہیں، تو کالم نمبر 4 خانہ ملکیت بالکل خالی پرنٹ ہوتا ہے اور حقیقی مالکان کا کوئی نام یا حوالہ ظاہر ہی نہیں ہوتا۔ دوسری جانب پٹوار عملے کی جانب سے یہ کہہ کر روایتی طور پر ٹال مٹول کیا جا رہا ہے کہ مفصل فرد کے پہلے صفحات پر مالکان کے نام آ چکے ہیں اس لیے اگلے صفحات پر خانہ ملکیت کا خالی آنا کوئی بڑی بات نہیں، جسے قانونی ماہرین نے مروجہ قوانین کے خلاف قرار دیا ہے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ سنگین تکنیکی غلطی دستورِ پاکستان کے آرٹیکل 24 تحفظِ جائیداد، لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے سیکشن 39 مکمل ریکارڈ کا اصول جس کی رو سے کوئی بھی زمین بغیر مالک کی لنکنگ کے لاوارث نہیں رہ سکتی، اور سیکشن 41 اے کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا کا مینوئل ریکارڈ کے عین مطابق ہونا کی کھلی خلاف ورزی ہے، لہذا حکامِ بالا اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کو پٹوار عملے کے ان من گھڑت بہانوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شہریوں کی داد رسی کرنی چاہیے اور اراضی ریکارڈ سنٹر کو ڈیٹا بیس کی فوری درستگی کے احکامات جاری کرنے چاہئیں تاکہ ریکارڈ کو موقع کے مطابق یکجا کر کے شہریوں کے بنیادی آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔