Baaghi TV

Category: راولپنڈی

  • بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    بلدیہ گوجرخان سفید ہاتھی، ٹیکسوں کی بھرمار مگر پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترستے شہری

    سی او بلدیہ کی ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور جھوٹے دلاسے بے نقاب نئے ٹیوب ویلز کا خواب چکنا چور، عوام کو مضرِ صحت زہریلا پانی پلایا جانے لگا
    ریٹائرڈ کرپٹ انجینئر کا بلدیہ پر بدستور قبضہ عوامی حلقوں کا وزیرِ اعلیٰ مریم نواز سے سیاہ و سفید کے مالک مافیا کے خلاف فوری ایکشن کا مطالبہ۔
    گوجرخان (قمر شہزاد) بلدیہ گوجرخان شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے، جہاں بھاری بھرکم ٹیکس وصول کرنے کے باوجود عوام پینے کے صاف پانی کے لیے دربدر ہو رہے ہیں۔ گرمی کی لہر ابھی شباب پر بھی نہیں آئی لیکن میونسپل کمیٹی کی مجرمانہ غفلت نے ابھی سے پیاس کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔سی او بلدیہ کی کارکردگی صرف باتوں اور لفاظی تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ عملی میدان میں کام صفر ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے نئے ٹیوب ویل اور موٹروں کی تنصیب کا جھوٹا لولی پاپ دیا جا رہا ہے، ٹینڈر ہونے کے باوجود ٹھیکیدار نے تاحال کام شروع نہیں کیا جو انتظامیہ کی رٹ پر سوالیہ نشان ہے۔

    عوامی سماجی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سی او نے نااہلی کے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ افسر شاہی صرف دلاسوں سے بہلا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جن علاقوں میں تھوڑا بہت پانی فراہم کیا جا رہا ہے وہ اس قدر بدبودار اور مضرِ صحت ہے کہ جیسے اس میں کوئی مردار گرا ہو۔ یہ پانی شہریوں میں ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریاں بانٹ رہا ہے۔ سب سے تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ ایک سابق کرپٹ انجینئر، جو ریٹائر ہو چکا ہے، آج بھی بلدیہ کے معاملات کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔ شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا پورے پنجاب میں کوئی اور انجینئر نہیں جو اس ریٹائرڈ شخص کو اب بھی نوازا جا رہا ہے؟ اسی شخص کی سابقہ کرپشن اور ناقص منصوبہ بندی کا خمیازہ آج پورا شہر بھگت رہا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ گوجرخان بلدیہ کو اس عذاب سے نجات دلائی جائے، کرپٹ گٹھ جوڑ کا خاتمہ کر کے فرض شناس افسران تعینات کیے جائیں اور پانی کی فراہمی کو ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے ورنہ شدید گرمی میں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال بدستور قائم رہی تو اہلیان گوجرخان بلدیہ دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

  • 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کرزیادتی، ،ملزمان ویڈیو بھی بناتے رہے

    تھانہ چکلالہ کے علاقے میں 13 سالہ بچی سے گھر میں گھس کر لڑکے نے مبینہ زیادتی کر ڈالی جبکہ لڑکے کے دو ساتھی زیادتی کے دوران نازیبا ویڈیو بھی بناتے تھے۔

    تفصیلات کے مطابق ویڈیو بنانے کے بعد تین ملزمان لڑکی کو دھمکیاں دیکر بلیک میل کرکے اغواء کرکے ساتھ بھی لے گئے،نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں گاڑی روک کر اتارا تو ایک شخص نے پریشان دیکھ کر انھیں کہا کہ لڑکی کو کیوں پریشان کر رہے ہو جس پر ملزمان فرار ہوگئے،پولیس نے لڑکی کی والدہ کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا۔

    مدعیہ مقدمہ کے مطابق ڈھوک چوہدریاں اسکیم تھری میں رہائش ہے، بیٹی کو گھر چھوڑ کر خاوند کے ساتھ کام پر چلی گئی تھی، بیٹی گھر میں اکیلی تھی جس کی وجہ سے گھر کو باہر سے تالا لگا کر گئی واپس آئے تو دروازہ کھلا تھا، سامان بکھرا پڑا تھا اور بیٹی گھر میں موجود نہیں تھی، خاوند کے ساتھ تلاش شروع کی تو بیٹی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سفاری ون میں پریشان کھڑی ملی۔

    والدہ نے بیٹی سے پوچھا جس پر بتایا کہ گھر میں موجود تھی کہ رومان، ریحان ظہیر اور ریحان شوکت گھر میں گھس آئے شور کرنے پر رومان نے میرے منہ پر کپڑا باندھ کر زبردستی زیادتی کی جبکہ ریحان ظہیر اور ریحان شوکت نازیبا ویڈیو بناتے رہے متاثرہ بچی نے بتایا کہ زیادتی کے بعد رومان نے دھمکیاں دیں کہ ساتھ نہ گئی تو ویڈیو وائرل کر دیں گے، ڈر کر ان کے ساتھ گئی تو گلی میں سفید گاڑی میں ایک ڈرائیور اور دو افراد موجود تھے، مجھے گاڑی میں بٹھایا اور نجی ہاؤسنگ سو سائٹی لے گئے، وہاں گاڑی سے اتارا تو پریشان دیکھ کر ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ لڑکی کو کیوں تنگ کر رہے ہو تو وہ سب بھاگ گئے۔

    پولیس کے مطابق لڑکی کا میڈیکل کروا کر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • گوجرخان، الٹی میٹم سے پہلے ہی 300 سے زائد کھوکھے رضاکارانہ طور پر مسمار

    گوجرخان، الٹی میٹم سے پہلے ہی 300 سے زائد کھوکھے رضاکارانہ طور پر مسمار

    ترقی کی راہ میں غریب کی بڑی قربانی مزاحمت کے بجائے خود ہی روزگار اجاڑ دیا، انتظامیہ اور NHA کی مشینری دیکھتی رہ گئی
    ہوشربا مہنگائی میں سینکڑوں خاندان بے روزگار عوامی حلقوں کا وزیر اعلیٰ پنجاب سے متاثرہ دکانداروں کے لیے متبادل جگہ کا مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان میں جی ٹی روڈ پر انڈر پاسز کی تعمیر کے سلسلے میں ایک ایسی بے مثال صورتحال دیکھنے میں آئی جس نے روایت توڑ دی۔ انتظامیہ کی جانب سے دیے گئے الٹی میٹم کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہی کھوکھا بازار کے تاجروں نے قانون کی پاسداری اور شہر کی ترقی کے لیے اپنے ہاتھوں سے اپنے روزگار کو مسمار کر کے سب کو حیران کر دیا۔

    جبکہ دوسری جانب عوامی سماجی حلقوں نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ آپریشن میں بلاتفریق کارروائی کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اسے برقرار رہنا چاہیے۔ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کا کھوکھا تو گرا دیا جائے لیکن بااثر پلازہ مالکان کو رعایت دے دی جائے۔عوام پرامید ہیں کہ جن بڑی عمارتوں اور پلازوں کی نشاندہی ہو چکی ہے، ان کے خلاف بھی اسی آہنی ہاتھ سے کارروائی ہوگی تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔

    تفصیلات کے مطابق، انڈر پاس پروجیکٹ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وکلاء چیمبرز، خدمت مرکز، بلدیہ آفس، ایس ڈی پی او آفس، تھانہ اور چرچ کی بیرونی دیواروں سمیت متعدد سرکاری و نجی املاک کو پہلے ہی مسمار کیا جا چکا تھا۔ تاہم، کھوکھا بازار کے تاجروں کو 23 اپریل تک کی مہلت دی گئی تھی۔ گزشتہ رات گئے تک دکانداروں نے کسی بھی بدمزگی یا مزاحمت سے بچنے کے لیے اپنی مدد آپ کے تحت 300 سے زائد کھوکھے خالی کر کے مسمار کر دیے۔ 24 اپریل جب مقامی و ضلعی انتظامیہ اور این ایچ اے کی ٹیمیں بھاری مشینری کے ہمراہ موقع پر پہنچیں تو 99 فیصد جگہ پہلے ہی صاف ہو چکی تھی۔ عموماً ایسے آپریشنز میں تصادم اور گرفتاریوں کا خدشہ رہتا ہے، لیکن گوجرخان کے متوسط اور محنت کش طبقے نے پُرامن طریقے سے جگہ خالی کر کے ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ عوامی اور سماجی حلقوں نے جہاں اس اقدام کو سراہا، وہیں سینکڑوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے ہونے پر شدید تشویش اور دکھ کا اظہار بھی کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس ہوشربا مہنگائی میں ان دیہاڑی دار طبقوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان متاثرین کو ترجیحی بنیادوں پر متبادل جگہ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

  • گوجر خان،  نالے کی صفائی کے نام پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی

    گوجر خان، نالے کی صفائی کے نام پر ڈنگ ٹپاؤ پالیسی

    فوٹو سیشن اور سب اچھا کی جعلی رپورٹس کا ڈراپ سین نالہ گہرائی کے بجائے اوپر سے صاف، عوامی غیظ و غضب
    حکام بالا خوابِ خرگوش میں مست ٹھیکیدار کی چاندی برسات میں شہر ڈوبنے کا خطرہ علاقہ مکینوں کا احتجاجی وارننگ
    گوجرخان (قمر شہزاد) گوجرخان شہر ڈھوک شاہ زمان کے مرکزی نالے کی صفائی کے نام پر سرکاری فنڈز کی بندر بانٹ اور ٹھیکیدار کی مبینہ غفلت نے ذمہ داران کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ عوامی خزانے سے جاری ہونے والے خون پسینے کی کمائی کے فنڈز نالے کی صفائی پر لگنے کے بجائے مبینہ طور پر ٹھیکیدار کی جیبوں میں منتقل ہونے لگے۔ صفائی کے نام پر صرف آئی واش اور فوٹو سیشن تک محدود کارروائی نے شہریوں کو سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق شہر کے مرکزی نالے کی گہرائی سے صفائی کرنے کے بجائے ٹھیکیدار نے صرف اوپری سطح سے کچرا ہٹا کر سب اچھا ہے کی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کر دی ہے۔ منظرِ عام پر آنے والی ویڈیو نے ٹھیکیدار کے دعووں کی دھجیاں اڑا دیں، جس میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ نالے کی تہہ میں گندگی کے ڈھیر جوں کے توں موجود ہیں۔علاقہ مکینوں نے دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نالے کی مکمل اور گہرائی تک صفائی نہ کی گئی تو آنے والے برسات کے موسم میں نالہ بپھر جائے گا، جس سے پانی گھروں میں داخل ہو کر قیمتی سامان کی بربادی کا سبب بنے گا۔ شہریوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نالے کی صفائی نہیں بلکہ قومی خزانے کی صفائی ہو رہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور اے سی گوجرخان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس میگا کرپشن اور ناقص کارکردگی کا فوری نوٹس لیا جائے اور کسی فرض شناس افسر کی نگرانی میں ازسرِ نو صفائی کا کام شروع کرایا جائے۔ انہوں نے وارننگ دی کہ اگر لوٹ مار کا یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو شدید احتجاج کیا جائے گا۔

  • پاک فوج میں شمولیت کے لیے   گوجرخان کے غیور نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا

    پاک فوج میں شمولیت کے لیے گوجرخان کے غیور نوجوانوں کا سمندر امڈ آیا

    وطن کے دفاع کے لیے جنون اور جذبے کی انتہا گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی میلہ سج گیا
    میرٹ پر بھرتی، شفاف عمل اور نوجوانوں کا جوش اسسٹنٹ کمشنر اور پاک آرمی کی نگرانی میں بھرتی کا کامیاب عمل
    گوجرخان (قمر شہزاد) شہیدوں اور غازیوں کی زرخیز مٹی، تحصیل گوجرخان ایک بار پھر وطنِ عزیز کی محبت سے گونج اٹھی۔ پاک فوج میں شمولیت کے لیے گورنمنٹ بوائز ایسوسی ایٹ کالج دولتالہ میں بھرتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں جذبہ حب الوطنی سے سرشار نوجوانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع دیکھنے میں آیا۔ بھرتی کا یہ تمام عمل اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان، کالج پرنسپل اور پاکستان آرمی کے ماہر بھرتی عملے کی سخت نگرانی میں مکمل شفافیت اور سو فیصد میرٹ پر مکمل ہوا۔ اس موقع پر انتظامی افسران نے تمام انتظامات کو اپنی نگرانی میں رکھا تاکہ نوجوانوں کو کسی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان فوج کا حصہ بننے کے لیے آئے ہوئے نوجوانوں میں غیر معمولی جوش و خروش دیدنی تھا۔

    دور دراز سے آئے سینکڑوں امیدواروں نے کڑی دھوپ اور سخت مراحل کے باوجود اپنے عزم سے ثابت کر دیا کہ تحصیل گوجرخان کی نئی نسل اپنی دھرتی ماں کی حفاظت اور دفاعِ وطن کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ بھرتی کیمپ میں موجود نظم و ضبط اور نوجوانوں کے حوصلوں نے یہ پیغام واضح کر دیا ہے کہ یہ سرزمین آج بھی دفاعِ وطن کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

  • میگا پراجیکٹس کی راہ میں حائل سینکڑوں کھوکھوں کی مسماری کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع

    میگا پراجیکٹس کی راہ میں حائل سینکڑوں کھوکھوں کی مسماری کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع

    لاہور سول کورٹ سے حکم امتناعی کی درخواست خارج، این ایچ اے نے تجاوزات فوری ہٹانے کے حتمی نوٹس آویزاں کر دیے
    ترقیاتی منصوبے یا سینکڑوں خاندانوں کا معاشی قتل؟ متبادل جگہ کے تعین کے بغیر کھوکھا جات گرانے کے فیصلے سے بے چینی پھیل گئی
    گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان شہر کی تاریخ کے اہم ترین ترقیاتی منصوبے دو انڈر پاسز کی تعمیر کے سلسلے میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی اراضی پر قائم 300 سے زائد کھوکھوں کی مسماری کا حتمی مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔ گوجرخان انتظامیہ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے قریب ہے، جبکہ کھوکھا یونین کو قانونی محاذ پر بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق، العباس ٹریڈرز کی جانب سے لاہور سول کورٹ میں مسماری کے خلاف دائر کردہ حکم امتناعی کی درخواست خارج کر دی گئی ہے، جس کے بعد این ایچ اے حکام نے ایکشن لیتے ہوئے شہر بھر میں وارننگ نوٹسز آویزاں کر دیے ہیں۔نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ عدالت سے ریلیف ختم ہونے کے بعد اب تمام قابضین فی الفور این ایچ اے کے رائٹ آف وے میں قائم کھوکھے خود ہٹا لیں تاکہ میگا پراجیکٹ کا کام بلا تاخیر شروع کیا جا سکے۔ مقررہ وقت میں جگہ خالی نہ کرنے کی صورت میں گرینڈ آپریشن کے ذریعے تجاوزات مسمار کر دی جائیں گی اور مزاحمت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ دوسری جانب اس فیصلے نے سینکڑوں دکانداروں اور ان سے وابستہ خاندانوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ متاثرہ دکانداروں کا موقف ہے کہ ان کھوکھوں سے ہزاروں افراد کا چولہا جل رہا ہے، یہ بے دخلی انہیں فاقہ کشی پر مجبور کر دے گی۔ اگرچہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے متاثرین کو کاروبار کے لیے متبادل جگہ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، تاہم تاحال کسی مخصوص مقام کا اعلان نہ ہونے کے باعث کھوکھا مالکان تذبذب کا شکار ہیں۔ شہر کے سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت اپنی جگہ، مگر انتظامیہ مسماری سے قبل متبادل جگہ کا پلان واضح کرے تاکہ غریب طبقے کا معاشی استحکام برقرار رہ سک

  • موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کا ذمہ دارانہ کردار قابل تحسین ہے،شہزاد قریشی

    موجودہ عالمی حالات میں پاکستان نے جس ذمہ داری، دانشمندی اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین اور ناقابلِ فراموش ہے

    ممتاز تجزیہ شہزاد قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکہ سے لے کر یورپ، مڈل ایسٹ اور دیگر عالمی خطوں تک پاکستان کا مثبت امیج بہتر بنانے میں ہماری عسکری قیادت، بالخصوص آرمی چیف، اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ سویلین حکومت، وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ نے نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔پاکستان نے ہمیشہ امن، استحکام اور مذاکرات کو ترجیح دی ہے، اور حالیہ حالات میں بھی یہی پالیسی دنیا کے سامنے واضح طور پر سامنے آئی ہے۔ اگر آج دنیا ایک بڑے تصادم سے محفوظ ہے اور کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے تو اس میں پاکستان کی سفارتی کوششوں اور ذمہ دارانہ کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    شہزاد قریشی کا مزید کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے، جو دراصل اس کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا ثبوت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی برادری اب پاکستان کے امن پسند کردار کو تسلیم کر رہی ہے، اور بے بنیاد الزامات کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہی۔ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ حقیقت کو تسلیم کرے، خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کرے اور پاکستان کے خلاف منفی مہم بند کرے۔ پاکستان ایک ذمہ دار، پرامن اور باوقار ریاست ہے، اور اس کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عزت اور مقام اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے مفادات کا محافظ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

  • ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان کے سرجن کا شرمناک کارنامہ غریب مریض کو ٹرخا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کے ہیلتھ ویژن کی دھجیاں اڑ گئیں سرجری یہاں نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو یا میرے نجی کلینک 45 ہزار کا پیکج بھی بتا دیا
    بھاری تنخواہیں لینے والے ڈاکٹرز لٹیرے بن گئے وزیر اعلی، سیکرٹری ہیلتھ سے مسیحائی کے روپ میں چھپے قصاب کے خلاف فوری کارروائی کا عوامی مطالبہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان کے کمرہ نمبر 64 میں تعینات سرجن ڈاکٹر نے اخلاقیات اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے غریب مریض کی مجبوری کا سودا کر ڈالا۔ شرقی علاقے کے رہائشی ظہیر نامی شہری، جو جسم پر موجود ایک تکلیف دہ انفیکشن زدہ گلٹی کے علاج کے لیے ہسپتال پہنچا تھا، اسے ڈاکٹر نے یہ کہہ کر فارغ کر دیا کہ یہاں یہ سرجری نہیں ہو سکتی راولپنڈی چلے جاو جبکہ ساتھ ہی اسے اپنے نجی کلینک آیان ہسپتال آنے کی دعوت دے دی جہاں اسی سرجری کے لیے 45 ہزار روپے کا پیکج بھی بتا دیا،

    متاثرہ شہری ظہیر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ شدید تکلیف کے باعث جمعہ کے روز ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان پہنچا تھا۔ پرچی کاؤنٹر نے اسے 64 نمبر کمرہ کے سرجن کے پاس بھیجا، لیکن سرجن نے محض ایک پین کلر لکھ کر دی اور ڈراتے ہوئے کہا کہ آج ہی سرجری کروانا بھی ضروری ہے مگر یہ سرجری ٹی ایچ کیو میں نہیں ہو سکتی راولپنڈی سرکاری ہسپتال چلے جاو یا میرے پاس پرائیویٹ ہسپتال آ جاو، میرے استفسار پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر سودے بازی کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو پرائیویٹ 65 ہزار خرچہ ہے لیکن آپ سے 45 ہزار لے لوں گا۔ غریب مریض رقم نہ ہونے کے باعث مایوس ہو کر گھر لوٹ گیا، جہاں ایک مقامی سماجی شخصیت نے اس کی حالت زار دیکھ کر چندہ جمع کیا اور ایک دوسرے نجی ہسپتال میں 30 ہزار روپے میں اس کی معمولی سرجری کروائی۔

    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب ایک عام نجی ہسپتال میں وہ سرجری ہو سکتی ہے تو کروڑوں روپے کے بجٹ سے چلنے والے ٹی ایچ کیو میں کیوں نہیں؟ کیا سرجن ڈاکٹر صرف نجی کلینک بھرنے اور سرکاری تنخواہ ہضم کرنے کے لیے بھرتی کیے گئے ہیں؟ شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ کمرہ نمبر 64 کے اس تاجر ڈاکٹر کے خلاف فوری انکوائری کی جائے اور سی او ہیلتھ راولپنڈی و انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت پر ان کا محاسبہ کیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری ہسپتال میں معمولی سرجری کی سہولت بھی میسر نہیں تو انتظامیہ کو چاہیے کہ ہسپتال کو تالا لگا کر چابیاں محکمہ صحت کے حوالے کر دے۔

  • ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    ٹی ایچ کیو گوجرخان عملے کی وزیر اعلیٰ کے خلاف بدزبانی کی ویڈیو وائرل

    فری ادویات کا اعلان وہ تو سارا دن کہتی رہتی ہیں وزیر اعلیٰ پنجاب کے فری میڈیسن ویژن کا ٹی ایچ کیو میں تمسخر
    آپریشن تھیٹر کے باہر مریض خوار، فارمیسی سے سامان غائب مریضوں کو لوٹنے کا بازار گرم شہریوں کا محکمہ صحت کی غفلت پر شدید احتجاج
    گوجرخان(قمرشہزاد) گوجرخان کے تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صحت سہولت پروگرام کے بلند و بانگ دعووں کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ ہسپتال انتظامیہ اور عملے نے نہ صرف حکومتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھا بلکہ وزیر اعلیٰ کی ذات کے حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ اور توہین آمیز رویہ اپنا کر حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک وائرل ویڈیو جس میں آپریشن کے لیے آئی ایک غریب مریضہ کو ہسپتال عملے نے سرجری کا سامان باہر سے خریدنے کا حکم دیا۔ جب مریضہ کے لواحقین نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس اعلان کا حوالہ دیا کہ ہسپتالوں میں تمام ادویات اور سامان مفت ملے گا، تو وہاں موجود عملے نے مبینہ طور پر انتہائی شرمناک جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ مریم نواز تو سارا دن یہی کہتی رہتی ہیں۔ یہ الفاظ نہ صرف ایک منتخب وزیر اعلیٰ کی توہین ہیں بلکہ اس کرپٹ مافیا کی عکاسی کرتے ہیں جو غریب مریضوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ مریضہ کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو نے ہسپتال انتظامیہ کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا ہے۔ فارمیسی سے ادویات کی عدم فراہمی اور ڈاکٹر کی جانب سے طلب کردہ دو جوڑے گلوز تک نہ ملنا اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ یہاں سرکاری ادویات یا تو غائب کی جا رہی ہیں یا پھر جان بوجھ کر مریضوں کو ذلیل و خوار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف مریم نواز پنجاب کے ہسپتالوں کی کایا پلٹنے کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کا یہ ہسپتال ان کے ویژن کے لیے شرمناک دھبہ بن چکا ہے۔


    عوامی حلقوں نے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف بیانات تک محدود نہ رہا جائے، بلکہ گوجرخان ہسپتال کے اس باغی اور بدتمیز عملے کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر وزیر اعلیٰ کے احکامات کی اہمیت ان کے اپنے ملازمین کی نظر میں سارا دن کی باتوں سے زیادہ نہیں، تو پھر ایسے ہسپتالوں کو بند کر دینا ہی بہتر ہے۔

  • گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجر خان،اویس ملنگی کے والد کے الزامات حقائق کے منافی ہیں، پولیس ذرائع

    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ گوجرخان پولیس پر ملزم اویس عرف ملنگی کی مبینہ گرفتاری اور بعد ازاں لاش ملنے کے الزامات کی وائرل ویڈیو کا معاملہ ۔ پولیس ذرائع نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو حقائق مسخ کرنے کی ناکام کوشش قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق اویس عرف ملنگی کوئی عام شہری نہیں بلکہ ایک ضلعی ہسٹری شیٹر تھا، جس کے خلاف 2009 سے 2026 تک تھانہ گوجرخان، مندرہ، کلر سیداں، تھانہ ریس کورس، تھانہ سول لائن، تھانہ ایئرپورٹ، تھانہ رتا امرال، تھانہ نیو ٹاؤن، اور راولپنڈی کے دیگر تھانوں میں سنگین نوعیت کے درجنوں مقدمات درج ہیں۔ ملزم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں بیواؤں کی امدادی رقوم لوٹنے کی حالیہ واردات میں گوجرخان پولیس کو مطلوب تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار ہمراہی ملزم حیدر جو فی الوقت اڈیالہ جیل میں ہے اس نے بھی دورانِ تفتیش اویس ملنگی کے اس واردات میں ملوث ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے ہوشربا انکشافات کیے تھے۔ پولیس ذرائع نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گوجرخان پولیس نے ملزم کو نہ تو گرفتار کیا اور نہ ہی اس کے ٹھکانے پر کوئی ریڈ کیا، الزامات کا مقصد محض پولیس پر دباؤ ڈالنا اور سنگین کیس کا رخ تبدیل کرنا ہے ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے پولیس کا مورال ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔ جبکہ دوسری طرف دلچسپ امر یہ ہے کہ ملزم اویس ملنگی کی اپنی سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی منظرِ عام پر آئی ہیں جن میں وہ نہ صرف شہریوں کے نام لے کر انہیں ہراساں کر رہا ہے بلکہ فخریہ طور پر اعتراف کر رہا ہے کہ اس پر اقدامِ قتل، اغوا اور مخالفین کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ تشدد کرنے کے متعدد پرچے درج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ یافتہ مجرم کی لاش دوسرے ضلع سے ملنے کے واقعے کو پولیس کے کھاتے میں ڈالنا قانون سے بچنے کی ایک ناکام کوشش ہے معاملے کی شفاف تحقیقات جاری ہیں۔