محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ساہیوال ریجن میں ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان المعروف فتنہ الخوارج کے مبینہ کارندے کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر پاکپتن کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں کی گئی، جہاں دہشت گرد کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی شناخت آغا محمد کے نام سے ہوئی ہے جو جنوبی وزیرستان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار شخص کالعدم تنظیم کی تشہیر میں ملوث تھا اور مختلف ذرائع سے لوگوں کو تنظیم میں شمولیت کی ترغیب دے رہا تھا۔حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد، کالعدم تنظیم سے متعلق کتابیں، نقدی رقم اور اے ٹی ایم کارڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ برآمد شدہ مواد کو قبضے میں لے کر فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے تاکہ ممکنہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں سے متعلق شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل آلات کا بھی فرانزک تجزیہ کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا وہ کسی منظم نیٹ ورک کا حصہ تھا یا انفرادی طور پر سرگرم تھا۔حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تحقیقات کر رہی ہے جن میں فنڈنگ کے ذرائع، رابطوں کا دائرہ کار اور ممکنہ سہولت کاروں کی نشاندہی شامل ہے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں کالعدم تنظیموں اور شدت پسند عناصر کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے اور کسی کو بھی ریاست مخالف سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔








