Baaghi TV

Category: شیخوپورہ

  • معروف تاجر پر چند دنوں میں دوسرا قاتلانہ حملہ

    معروف تاجر پر چند دنوں میں دوسرا قاتلانہ حملہ

    شیخوپورہ(محمد فہیم شاکر سے ) تھانہ ماڈل سٹی بی ڈویژن کی حدود لاہور روڈ پر عارف رامے کے ڈیرے پر رات ساڑھے گیارہ بجے کے قریب مسلح افراد کی اندھا دھند فائرنگ چارگولیاں لگنے سے تاجر عارف رامے شدید زخمی ہوگیا جس کو مضروبی حالت میں ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپورہ کے ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا جہاں پرا سکو طبی امدا د کے بعد لاہور کے میوہسپتال منتقل کردیا یاد رہے کہ تاجر عارف رامے پر پانچ روز میں یہ دوسراقاتلانہ حملہ تھا جس میں وہ شدیدزخمی ہوئے
    بتایا گیا ہے کہ عارف رامے کی تیمار داری کرنے کے لیے رات لاہور روڈ پر واقعہ انکے ڈیرئے میں چند افراد بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہی مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی گولیاں لگنے سے عارف رامے شدید زخمی ہوگیا جبکہ دیگر بیٹھے ہوئے افراد معجزانہ طور پر محفوظ رہے ملزمان فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے زخمی تاجر کو ڈی ایچ کیوہسپتال شیخوپرہ کے ایمرجنسی میں منتقل کیا گیا جہاں پر چار گولیاں لگنے کی ڈیوٹی ڈاکٹر نے تصدیق کرتے ہوئے عارف رامے کو لاہور کے میوہسپتال میں ریفر کردیا گیا
    بی ڈویژن پولیس کے مطابق تاجر عارف رامے یا ان کے ورثا کی جانب سے دی جانے والی تحریری درخواست کی روشنی میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے گا۔

  • جرائم بے قابو، پولیس بےخبر

    جرائم بے قابو، پولیس بےخبر

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے)تھانہ سٹی اے ڈویژن کے علاقہ کھوکھر ٹاؤن میں تین ڈاکوؤں نے ایک شہری محمد وقاص کے گھر داخل ہوکر اسکے اہل خانہ کو گن پوائنٹ پر باتھ روم میں بند کرکے گھر سے نقدی، موبائل فون اور طلائی زیورات لوٹ لئے، اسی تھانہ کے علاقہ جمیل ٹاؤن میں تین ڈاکو ایک میڈیکل سٹور پر گاہک بن کر آئے اور گن پوائنٹ پر پونے چار لاکھ روپے نقدی چھین کر فرار ہوگئے
    تھانہ سٹی اے ڈویژن کے علاقہ محلہ چوڑی گراں میں بھی دو ڈاکوؤں نے ایک شہری طیب الحسن کے گھر داخل ہو کر اسکی کمسن بیٹی کو گن پوائنٹ پر یرغمال بنانے کے بعد گھر سے لاکھوں روپے مالیت کے طلائی زیورات، موبائل فون اور نقدی لوٹ کر فرارہوگئے، محلہ سلطان پورہ میں بھی دو ڈاکوؤں نے دودھ دہی فروش محمد وقاص سے گن پوائنٹ پر پونے تین لاکھ روپے کی رقم چھین لی اور فرار ہوگئے، اسی تھانہ کے علاقہ سالار ٹاؤن میں بھی دو ڈاکوؤں نے ایک شہری احسان اللہ کے گھر میں داخل ہوکر گن پوائنٹ پر دو لاکھ روپے چھین لئے اور فرار ہوگئے
    اسی تھانہ کے علاقہ صدیقیہ کالونی میں بھی چار ڈاکوؤں نے ایک شہری محمد اسحاق کے گھر داخل ہو کر اہلخانہ کو اسلحہ کی نوک پر یرغمال بنالیا اور گھر کی تلاشی شروع کردی، مزاحمت پر فائر کرکے ایک نوجوان کو زخمی کردیا اور گھر سے چار لاکھ روپے نقدی اور طلائی زیورات لوٹ کرفرار ہوگئے، پولیس مصروف تفتیش ہے۔

  • بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ

    بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈ شیڈنگ

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر )شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں بجلی کی غیر اعلانیہ طویل دورانیہ لوڈ شیڈنگ کا شدید ترین سلسلہ شروع ہے جسکی وجہ سے شہری شدید گرمی میں پریشانی کا شکار ہو کر رہ گئے جبکہ متعدد شہریوں کی بے ہوش ہونے اور حالت غیر ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جبکہ دوسری طرف لیسکو واپڈا کے افسران حکومت کی طرف سے ملنے والے سرکاری موبائل فون پر شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لیے فون سننا بھی پسند نہیں کرتے حالانکہ بجلی کے بل پر شکایات نمبر درج ہیں مگر ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ شہریوں کی طرف سے فون کرنے کے باوجود ایس ڈی او کسی شہری کا فون نہیں سنتے اور ان کی بجلی کے متعلق شکایات کا ازالہ نہیں ہورہا دفتر میں بجلی بندش کی شکایت کے باوجود تمام سب ڈوثیرن کا عملہ اپنی مرضی سے جاتا ہے اس صورتحال پر شہری سراپا احتجاج بن گئے انہوں نے وزیر اعظم اور چیئرمین واپڈا سے صورتحال کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے،بتایا گیا ہے کہ گرمی کی شدت میں اضافہ کے ساتھ ہی بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل دورانیہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ہر 2گھنٹے کے بعد مسلسل 2،3گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو بے حال کر دیا،بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران متعد د شہری اور بزرگ بے ہوش کر ہسپتال پہنچ گئے،جبکہ دوسری طرف لیسکو واپڈا کے افسران شہریوں کی شکایات کے ازالہ میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں اور سرکاری موبائل فون پر شہریوں کی شکایات نہیں سن رہے متعدد با ر فون کرنے پر بھی ایس ڈی او صاحبان شہریوں کی بات سننے سے عاری ہیں۔

  • سوئی گیس کی پائپ لائن پھٹنے کا خدشہ

    سوئی گیس کی پائپ لائن پھٹنے کا خدشہ

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے) ضلع شیخوپورہ میں 3 مقامات گاؤں وزیرا ورکاں محلہ نذر آباد مریدکے اور شیخوپورہ گوجرانوالہ روڈ پر محکمہ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ اور محکمہ پبلک ہیلتھ اینڈ انجینئرنگ کے فیلڈ سٹاف ٹھیکیداروں کی غفلت اور با اثر زمینداروں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سوئی گیس کی ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے پھٹنے اور علاقہ میں خوف ناک دھماکے ہونے کے ساتھ آزاد جموں و کشمیر تک سوئی گیس کی فراہمی معطل ہونے کے خدشات لاحق ہوگئے ہیں اس بارے میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن کے سینئر انجینئر رفاقت علی نے محکمہ پولیس اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ علاقوں میں سوئی ناردرن گیس کے ہائی ٹرانسمیشن سپلائی پائپ گذرتے ہیں جہاں پر ہمیں آگاہ کیئے بغیر ہی مذکورہ محکموں کے افسروں ٹھیکیداروں کے علاوہ گاؤں وزیراورکاں کے زمیندار نے کھدائی شروع کروا دی ہے جس سے سوئی گیس کی سپلائی لائنیں پھٹنے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے سوئی ناردرن گیس کے حکام نے محکمہ پولیس کو بھیجے جانے والی رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی سپلائی لائنوں پر غیر قانونی طور پر تعمیرات کرنے والے افراد کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے

  • رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا عملہ غائب، مریض خوار

    رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا عملہ غائب، مریض خوار

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر )شیخوپورہ کے نواحی علاقہ کھاریانوالہ کے ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج رورل ہیلتھ سنٹر کھاریانوالہ کا پورا عملہ ہسپتال سے غائب رہنے لگا،ہسپتال سے ڈاکٹر سمیت غائب عملے گزشتہ رات مریض بیماری سے تڑپ رہا ہے اور ہسپتال میں کوئی بھی موجود نہیں،ہسپتال میں آنے والے مریض تکلیف کے باعث ڈاکٹر کے انتظار میں تڑپنے لگے،ڈاکٹر اور عملہ حاضریاں لگا کر گھروں کو چلا جاتا ہے جب بھی رات کے ٹائم ہسپتال میں آتے ہیں عملہ نا ہونے کے باعث ڈی ایچ کیو جانا پڑتا ہے اگر کبھی ڈاکٹر موجود ہوں بھی تو مریض کو چیک کرنے کی بجائے ریفر کر دیا جاتا ہے،ہسپتال میں بچوں کے ختنے کروانے کے لیے 5 سو روپے وصول کیئے جاتے ہیں، ڈیوٹی سے غائب رہنے والے ڈاکٹر اور عملے کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے شہری،شہریوں کا سیکرٹری ہیلتھ اور ڈپٹی کمشنر سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔

  • قادیانیوں کی بڑھتی سرگرمیاں، باعث تشویش

    قادیانیوں کی بڑھتی سرگرمیاں، باعث تشویش

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے )قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر مسلمانوں تشویس ہے پھائیکے میں اسلحہ کے زور پرمسلمانوں کے قبرستان میں تدفین قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے قادینوں کو قانون و آئین پاکستان کے پابند کرنا حکومت وقت کی زمہ داری ہے
    قادیانی سرعام پاکستان کے آئین سے روگردانی کرتے ہیں حکومت کروائی سے کیوں قاصر ہے؟پولیس کی جانب سے ملزمان پر درج مقدمات کا خیر مقدم کرتے ہیں پولیس فوری طور پر تمام شرپسند عناصر کے خلاف کاروائی کرکے قرار واقعی سزا دے ان خیالات کا پاکستان سنی تحریک ڈوثزنل صدرسردار طاہر ڈوگر،محمد وسیم نقشبندی، مفتی شہباز علی سیال،پیر اصغر علی سفی،علامہ غلام رسول رضوی،علامہ میاں خلیل احمد جامی،علامہ ضیاء المرتضی،حافظ ابرار حسین،علامہ فیاض حسین چشتی،حاجی اشرف الٰہی،میاں اویس قادری، عدنان حسینی،علی رضا قادری، عابد علی سیفی سمیت دیگر زمہ داران نے ہنگامی اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے کیا
    سنی تحریک کے رہنماوں نے کہاکہ آئین پاکستان کے مطابق قادیانی فرقہ نہیں بلکہ گروہ ہے لہذا ایف آئی آر میں فرقہ لکھنا مناسب نہیں ہے اس واقع سے قبل بھی قادیانی گرو کے لوگوں کی جانب سے علاقہ مکینوں کو زدوکوب کرنے کے واقعات رنما ہو چکے ہیں آئین، قانون اور عدالتی فیصلوں کے باوجود قادیانی تقریر و تحریر، جلسہ و جلوس، لٹریچر کی تقسیم اور اپنے اجتماعات منعقد کر کے اسلامی اصطلاحات کو استعمال کرتے اور شعائر اسلامی کی توہین کرتے رہتے ہیں اس سلسلہ میں انہیں انتظامیہ کی مکمل سرپرستی حاصل رہتی ہے
    بہت کم افسران ایسے ہیں جو تعزیرات پاکستان میں موجود قادیانیوں کی خلاف اسلام سرگرمیوں پر پابندی کی دفعہ 298/C اور اس کی عدالتی تاریخ سے واقف ہوں یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے کہ پورے پاکستان میں شاید ایک بھی افسر ایسا نہیں جس نے قادیانیوں کی طرف سے توہین رسالت کے اجتماعی اور مسلسل ارتکاب پر سپریم کورٹ کے اس مذکورہ تاریخی فیصلہ کے مطالعہ کی زحمت گوارہ کی ہو جو پاکستان میں امن و امان قائم کرنے میں ایک سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے یہ فیصلہ اس وقت قانون کی بھاری کتابوں میں تو موجود ہے مگر آج تک اس کے کسی ایک جز پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا اس سے بھر کر قانون کے ساتھ اور کیا شرمناک مذاق ہو سکتا ہے؟ حکومت اگر پارلیمنٹ اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے تو وہ قادیانیوں کو آئین قانون اور عدالتی فیصلوں کا پابند کرے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

  • ڈپٹی کمشنر کا دورہ خانقاہ ڈوگراں

    ڈپٹی کمشنر کا دورہ خانقاہ ڈوگراں

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے)ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ محمد اصغر جوئیہ نے آج گورنمنٹ ڈگری کالج خانقاہ ڈوگراں میں کورونا ایس او پیز سمیت طلباء کو فراہم کی جانیوالی سہولیات کا جائزہ لیا اور شدید گرمی میں تعلیم کے حصول کے لیے آنیوالے طلباء کو ٹھنڈے پانی کی فراہمی اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ رورل ہیلتھ سنٹر خانقاہ ڈوگراں بھی گئے، ادویات کی فراہمی سمیت علاج معالجے کی سہولیات کا جائزہ لیا اور عملے کو ڈیوٹی ایمانداری سے ادا کرنے کی ہدایت کی بعد ازاں وہ اچانک نقشہ برانچ اور ٹی ایم اے دفتر پہنچ گئے اور عملے کی حاضری اور ٹی ایم اے کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر محمد اصغر جوئیہ کا کہنا تھا کہ شہر کے ساتھ دیہاتوں میں مقیم افراد کو بہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سرپرائز وزٹ جاری رہیں گے۔

  • گرمی جوبن پر لیکن سکول کھلے ہیں

    گرمی جوبن پر لیکن سکول کھلے ہیں

    شیخوپورہ( محمد فہیم شاکر سے)
    ملک بھر کی طرح شیخوپورہ میں بھی گرمی کی شدت برقرا،درجہ حرارت 43 سے بھی زیادہ،سخت گرمی میں زیادہ تر والدین کا بچوں کو سکول نا بھیجنے کا فیصلہ

    تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح شیخوپورہ میں بھی گرمی کی شدت برقرار ہے آج دن چڑھتے ہی شیخوپورہ کا کم سے کم درجہ حرارت 31 درجہ سینٹی گریڈ رہا جو کہ دوپہر کو 44 درجہ سینٹی گریڈ تک ہو گیا ہے
    جبکہ بار بار لوڈشینگ بھی کی جا رہی ہے
    سخت گرمی کے باعث ملک بھر میں سکول کے بچوں کے بے ہوش ہونے و نکسیر پھوٹنے کے باعث شیخوپورہ و گردونواح کے بیشتر والدین نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے سے انکار کیا ہے
    والدین کا کہنا ہے کہ سخت گرمی میں سرکاری سکولوں میں بچوں کے کمروں میں ہوا کا انتظام درست نہیں لہذا گورنمنٹ بڑھتی گرمی کے پیش نظر سکول سے چھٹیاں کروائے تاکہ معصوم جانوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق نا ہو جبکہ یہی حال پرائیویٹ سکولز میں بھی ہے

  • بجلی کی سولہ گھنٹے بندش سے لوگ بلبلا اٹھے

    بجلی کی سولہ گھنٹے بندش سے لوگ بلبلا اٹھے

    شیخوپورہ (محمد فہیم شاکر سے) گرمی نے زور پکڑا تو واپڈا والوں نے بھی بجلی کی بندش کو معمول بنا لیا تفصیلات کے مطابق ہاؤسنگ کالونی اور نواح میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے دن اور رات کے اوقات میں بغیر اطلاع بجلی بند رہنا معمول ہو گیا
    گاؤں برج والا میں گذشتہ سولہ گھنٹے سے بجلی بند ہے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے
    معصوم بچے گرمی سے پریشان ہیں تو بوڑھے نڈھال
    بجلی تو بند تھی ہی لیکن ہوا بند ہونے سے لوگوں کا سانس بند ہونے لگا
    بجلی کے بلوں پر دئے گئے امدادی رابطہ نمبرز مسلسل مصروف رہنے لگے اور عوام کی طرف سے رابطہ کرنے پر کال کو مصروف کر دیا جاتا ہے اگر کال سن ہی کی جائے تو یہ کہہ کر ٹرخا دیا جاتا ہے کہ صبر رکھیں بجلی جائے گی، لیکن بجلی بند ہوئی کیوں اس کا جواب کسی کے پاس نہیں،لوگ بجلی کی بندش سے ستائے ہوئے تو تھے ہی لیکن محکمہ واپڈا کے اہلکاروں کی بد تمیزی سے مزید تنگ ہو رہے ہیں
    علاقے میں موجود تعلیمی اداروں کے معصوم بچے بند بجلی میں جس کرب سے گزرتے ہیں اس کا احساس نہ تو متعلقہ محکمے کو ہے نہ ہی انتظامیہ کو
    محکمہ تعلیم کو تعلیمی ادارے کھولنے پر اصرار تھا لیکن سہولیات کی فراہمی کی طرف کوئی توجہ نہیں کیونکہ ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے کہ جب تک نقصان نہ ہو جائے مسئلے کے ازالے کی طرف توجہ نہیں دیتے
    خانقاہ ڈوگراں نہر میاں علی میں کار گرنے سے گیارہ افراد کی ہلاکت کے بعد وہاں تنبیہی علامات اور پل پر حفاظتی دیواروں کی تعمیر کی گئی
    کیا تعلیمی اداروں میں چند معصوم طلبہ کے مرنے کے بعد حکام بالا کو خیال آئے گا ؟
    آخر کیا وجہ ہے کہ ہمیشہ عوام ہی کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے
    بجلی بندش سے طلبہ و طالبات ، معصوم نوزائیدہ بچے،گھریلو خواتین بوڑھے سبھی تنگ ہین لیکن محکمہ واپڈا کو بجلی بند رکھنے پر ہی اصرار ہے
    انتظامی محکموں میں سے کوئی ہے جو محکمہ واپڈا سے سوال کرے ، یقینا کوئی نہیں ہے کیونکہ سب تصویری سیشن میں مصروف ہیں تاکہ اپنی ریٹنگ بڑھائی جا سکے
    اصل عوامی مسائل کی طرف کسی کی توجہ ہے ہی نہیں ، ورنہ محکمہ واپڈا نہ صرف بجلی بندش کا شیڈول جاری کرتا بلکہ طویل دورانیے کی بجلی بند کرنے سے قبل عوام کو بذریعہ ایس ایم ایس اطلاع کرتا تاکہ عوام اپنے گزارے کے لئے ضروری اقدامات اٹھا سکتی
    لیکن واپڈا ایسا کیوں کرے گا
    وہ تو چاہتا ہے کہ گرمی کی ستائی عوام بجلی کی مسلسل بندش اور ٹرپنگ سے مزید ذلیل ہو ، جی ہاں وہی عوام کو سرکار کو ٹیکس دیتی ہے اور واپڈا کو بجلی استعمال کرنے کا بل، اگر یہ بل بروقت ادا نہ کیا جائے تو میٹر کاٹ دیا جاتا ہے لیکن عوام کے اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ ٹیکس اور بل بروقت ادا کرنے والی عوام کو بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی کیوں نہیں بنایا جاتا
    اہل علاقہ نے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ افسران سے اس سلسلے میں مناسب اقدامات کا تقاضا کیا ہے تاکہ عوام کو اس ضلالت سے بچایا جا سکے

  • قادیانیوں کی مذموم حرکت کے خلاف اہل علاقہ سراپا

    قادیانیوں کی مذموم حرکت کے خلاف اہل علاقہ سراپا

    شیخوپورہ(محمد فہیم شاکر سے)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ کا غلّہ منڈی صفدرآباد میں اہم اِجلاس
    قادیانیوں نے گزشتہ روز گن پوائنٹ پر مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی مردہ کودفن کرکے قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو ڈنڈوں سوٹوں کے ساتھ زدو کوب کرتے رہے اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کو مزید خوف زدہ کرنے کے لئے رائفلوں سے ہوائی فائر نگ کر کے قانون کے رکھوالوں کا مذ اق بھی اُڑاتے رہے
    قاری وقار کے بیان کے مطابق سابقہ روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اطلاع ہونے کے باوجود پولیس کی نفری اُس وقت پہنچی جب قادیانی اپنا مردار دفن کر کے درجنوں غریب مسلمانوں کو زخمی کر چکے تھے۔تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپوہ کا اجلاس بلا تفریق مسالک جماعتی امیرقاری ابو بکر کی سربراہی میں جامع مسجد مدنی غلہ منڈی صفدرآباد میں ہوا جس میں کثیر تعداد میں علماء وکارکنان،دیگر جماعتوں کے ذمہ داران اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے درجنوں حضرات نے شرکت کی

    اجلاس میں اس بات کو اِتفاق رائے سے پاس کیا گیا کہ اسلامی اور ریاستی آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے یہ اجلاس حکام بالا سے مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کی دن بدن بڑھتی ہوئی غیرقانونی سرگرمیوں اورہٹ دھرمیوں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔غریب دیہاتی مسلمانوں کو پیٹنے کے باوجود انتظامیہ کی طرف سے ایک معمولی جھگڑا قرار دے کر اورسادے کاغذ پرایک نام نہاد مصالحت نامہ ترتیب دے کرسادہ لوح مسلمانوں سے پریشرائزکرکے دستخط لے گئے ہیں۔اورقادیانیت نوازی کاجوکردار اداکیا گیاہے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس کو مکمل طور پرمسترد کرتی ہے،اور حکام بالا سے مطالبہ کرتی ہے کہ آئینی و شرعی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے قادیانی مردار کو نکلوا کر چناب نگر یا پھر مرزائیوں کی ذاتی زمین میں دفن کراکر مضروب مسلمانوں کے زخمی دِلوں پر بھی مرہم لگائیں اور اَسلحہ نمائی اور ہوائی فائرنگ کرکے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کرنے والے نام زد قادیانیوں کے خلاف ایف آئی آردرج کر کے فوری طور پرقانونی کاروائی عمل میں لائی جائے،اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کو قبرستان کی مد میں جبکہ اُن کے لئے ایک کنال ہی کافی ہے از خودتین کلّے (مربع نمبر47 کا کیلہ نمبر21،22،اور23/1 سرکارRی زمین سے نوازنے والے،مزکورہ علاقہ کے ڈی ایس پی،ایس ایچ او، اور پٹواری کی انکوائری کر کے وضاحت کی جائے کہ اِن کو یہ اِختیار کس نے دیا ہے۔