Baaghi TV

Category: شیخوپورہ

  • نارنگ منڈی:سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    نارنگ منڈی:سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    نارنگ منڈی (نامہ نگار محمد وقاص قمر کی رپورٹ)سرکاری اساتذہ کے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں، ایک تشویشناک صورتحال

    تفصیل کے مطابق حکومتی احکامات کی پابندی کے باوجود سرکاری اساتذہ نے اپنے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں کھول رکھی ہیں۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اس کی وجہ سے سرکاری تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی توجہ کم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے نجی اداروں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔

    حال ہی میں میٹرک کے نتائج میں ناقص کارکردگی کے بعد سی او ایجوکیشن نے گورنمنٹ ہائی سکول گھڑیال کلاں، گورنمنٹ ہائی سکول نارنگ، گورنمنٹ ہائی سکول رفیق آباد اور جنڈیالہ کلساں سمیت 6 سرکاری سکولوں کے ہیڈ ماسٹرز سے جواب طلبی کی تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب سرکاری اساتذہ سرکاری سکولوں کی بجائے اپنے پرائیویٹ نجی تعلیمی اداروں پر توجہ دیں گے تو امتحانی نتائج ایسے ہی ملیں گے۔

    وزارت تعلیم کی سخت پابندیوں کے باوجود سرکاری اساتذہ کا اپنے پرائیویٹ سکول اور اکیڈمیاں چلانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں نے صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے اس معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • نارنگ منڈی: سٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے شام ہوتے ہی شہر میں اندھیر ا،ہرطرف خوف کے سائے

    نارنگ منڈی: سٹریٹ لائٹس نہ ہونے سے شام ہوتے ہی شہر میں اندھیر ا،ہرطرف خوف کے سائے

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی شہر میں سٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام ڈھلتے ہی پورا شہر، بشمول شرقی و غربی آبادیاں، ریلوے اسٹیشن اور اہم شاہراہیں گہرے اندھیرے میں ڈوب جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف وارداتوں اور جرائم میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ شہری خوف وہراس کا شکار ہیں۔

    اندھیرے کی وجہ سے راہگیروں کو ٹھوکریں لگنے اور زخمی ہونے کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ مساجد میں نماز ادا کرنے جانے والے نمازیوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    شہریوں نے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین، رکن قومی اسمبلی رانا احمد عتیق انور اور رکن صوبائی اسمبلی چوہدری حسان ریاض سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں سٹریٹ لائٹس نصب کروائی جائیں تاکہ اہل علاقہ کی مشکلات کم ہو سکیں اور انہیں تحفظ کا احساس ہو۔

  • نارنگ منڈی: سودی کاروبار عروج پر، سادہ لوح عوام کا معاشی استحصال، پولیس و ادارے خاموش

    نارنگ منڈی: سودی کاروبار عروج پر، سادہ لوح عوام کا معاشی استحصال، پولیس و ادارے خاموش

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی،نامہ نگار محمد وقاص قمر) نارنگ منڈی اور گردونواح میں سودی کاروبار کھلے عام جاری ہے، جبکہ پولیس اور سیکیورٹی ادارے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ قرآن و حدیث میں سود کی سخت ترین وعید کے باوجود گلی محلوں میں یہ مکروہ دھندہ پوری ڈھٹائی سے جاری ہے، جہاں سادہ لوح، غربت سے پریشان شہریوں کو سبز باغ دکھا کر پہلے قرضہ دیا جاتا ہے اور پھر سود کی بھاری قسطوں کی صورت میں ان کا جینا دوبھر کر دیا جاتا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ کئی خاندان سود کی دلدل میں اس قدر پھنس چکے ہیں کہ اپنے گھر بار تک فروخت کر بیٹھے، لیکن پھر بھی سود سے نجات نہیں مل سکی۔ اللہ تعالیٰ نے سودی کاروبار کرنے والے کو اپنے مدمقابل قرار دیا ہے، مگر اس کے باوجود علاقے میں جگہ جگہ نجی اداروں اور ذاتی ڈیرے قائم کر کے یہ غلیظ کاروبار جاری ہے، جو دین، انسانیت اور ملکی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    مقامی لوگوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ سود خور مافیاز مہذب لباس، میٹھی زبان اور جعلی ہمدردی کے ذریعے غربت زدہ خاندانوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتے ہیں اور پھر ان کی پوری زندگی کا چین چھین لیتے ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان سرگرمیوں سے باخبر ہونے کے باوجود آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، جس سے سود خوروں کو مزید شہہ مل رہی ہے۔

    اہل علاقہ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیخوپورہ بلال ظفر شیخ، مذہبی و سماجی جماعتوں اور حکومت پنجاب سے اپیل کی ہے کہ فوری نوٹس لیا جائے، سودی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے، اور غریب عوام کو اس معاشی ظلم سے نجات دلائی جائے۔

  • نارنگ منڈی: شہر و نواح میں جعلی مشروبات کی فروخت عروج پر، فوڈ اتھارٹی اور انتظامیہ خاموش

    نارنگ منڈی: شہر و نواح میں جعلی مشروبات کی فروخت عروج پر، فوڈ اتھارٹی اور انتظامیہ خاموش

    نارنگ منڈی (نامہ نگار باغی ٹی وی محمد وقاص قمر) نارنگ شہر اور اس کے گردونواح میں ناقص، غیر معیاری اور مضر صحت جعلی مشروبات کی کھلے عام فروخت جاری ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ ادارے مکمل طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہر کی عام دکانوں پر غیر رجسٹرڈ، نامعلوم کمپنیوں کے کولڈ ڈرنکس اور جوسز بلا روک ٹوک فروخت ہو رہے ہیں جن کے استعمال سے متعدد شہریوں کے بیمار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    اہل علاقہ نے بتایا کہ یہ جعلی مشروبات نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرناک ہیں بلکہ بچوں میں پیٹ، جگر اور دیگر بیماریوں کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ ان مشروبات کی فروخت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس سے مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے کوئی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں، ان کا عملہ دفتروں تک محدود ہے اور موقع پر کارروائی نہ ہونے کے برابر ہے۔

    اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری فوڈ اور ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے فوری نوٹس لینے اور جعلی مشروبات کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کی صحت کو لاحق خطرات کا سدباب کیا جا سکے۔

  • شیخوہ پورہ:گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث 8 رکنی گروہ  گرفتار

    شیخوہ پورہ:گردوں کی غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث 8 رکنی گروہ گرفتار

    لاہور:پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (ہوٹا) سمیت دیگر اداروں نے مشترکہ کارروائی کے دوران گردوں کی،غیر قانونی پیوندکاری میں ملوث 8 رکنی گروہ کو گرفتار کر لیا ہے۔

    پنجاب ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی نے شیخوہ پورہ کی نجی ہسپتال میں چھاپہ مارا، جہاں غیرقانونی پیوندکاری میں ملوث منظم گروہ مقامی رہائشی کا گردہ نکال کر افریقی شہری کو لگا رہا تھا، ملزمان نے افریقی شہری سے پیوندکاری کی مد میں 70 لاکھ روپے وصول کر لیے تھے تاہم گردہ دینے والے ڈونرکو رقم ادا نہیں کی گئی،کارروائی کے دوران ڈاکٹر وقاص مصطفیٰ سمیت 2 خواتین، آپریشن تھیٹر ٹیکنیشنز اور ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا ہے، گروہ انسانی اعضاءکی خرید و فروخت اور غیر قانونی ٹرانسپلانٹیشن میں ملوث تھا، جب کہ ملزم جعلی ڈاکٹر نسیم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    بیٹے احتجاج کے لیے پاکستان آئیں گےیانہیں،عمران خان نے واضح کردیا

    پولیو ورکرز کے بھیس میں خواتین ڈکیتوں نے گھر کا صفایا کردیا

    ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کاشیڈول فائنل

  • نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی: ہوٹل پر ڈکیتی، مالک پر بہیمانہ تشدد،85ہزار چھین کر فرار

    نارنگ منڈی (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد وقاص)نارنگ منڈی کے نواحی گاؤں لدھیکے سٹاپ پر واقع ایک ہوٹل پر خوفناک ڈکیتی کی واردات پیش آئی، جہاں چھ نامعلوم ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر ہوٹل سے 85 ہزار روپے نقدی لوٹ لی اور فرار ہونے سے قبل ہوٹل مالک پر انسانیت سوز تشدد کیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو واردات کے دوران نہایت سنگدلی سے پیش آئے۔ ہوٹل مالک کو شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس کے نازک حصے میں زہریلا مواد ڈال دیا گیا، جس سے اس کی حالت نازک ہو گئی۔ متاثرہ شخص کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں اہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں میں واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ عوام نے پولیس کی ناکامی پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ نواحی دیہات میں جرائم پیشہ عناصر بے خوف ہو چکے ہیں اور پولیس کی رٹ مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس انسانیت سوز واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور علاقے میں سیکیورٹی کے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ہو سکے۔

  • واپڈا آفس میں خاتون کے ساتھ انسانیت سوز سلوک،سیکورٹی گارڈ پر مقدمہ درج

    واپڈا آفس میں خاتون کے ساتھ انسانیت سوز سلوک،سیکورٹی گارڈ پر مقدمہ درج

    شیخوپورہ شہر کے معروف علاقے ریگل چوک میں واقع واپڈا دفتر میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک سکیورٹی گارڈ نے نہ صرف ایک ضعیف العمر خاتون کے ساتھ بدتمیزی کی بلکہ اسے زبردستی دفتر سے دھکے دے کر باہر نکالا۔ شہری کی درخواست پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مدعی خاور شہزاد ولد نصراللہ سکنہ بدروم ادے، شیخوپورہ، نے پولیس تھانہ بی ڈویژن میں رپورٹ درج کروائی کہ وہ یکم جولائی 2025 کو شام 8 بجے کے قریب کسی ضروری کام سے ریگل چوک واپڈا دفتر آیا ہوا تھا۔ اس دوران اس نے ایک افسوسناک منظر دیکھا جس میں رب نواز ولد محمد خان، جو کہ واپڈا آفس میں بطور سکیورٹی گارڈ تعینات ہے، ایک ضعیف خاتون کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے دفتر سے باہر نکال رہا تھا۔ سکیورٹی گارڈ نہ صرف خاتون کو دھکے دے رہا تھا بلکہ اسے سنگین نتائج اور قتل کی دھمکیاں بھی دے رہا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق، رب نواز نے با آواز بلند کہا کہ "مجھے میرے افسران نے کہا ہے کہ اس عورت کو دفتر سے باہر نکالو، چاہے گھسیٹنا پڑے”۔ اس واقعے کو کئی دیگر شہریوں نے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ یہ واقعہ نامعلوم افسران کی ہدایت پر کیا گیا، جس سے نہ صرف خاتون کی تذلیل ہوئی بلکہ عوام کے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی۔

    مدعی کی تحریری درخواست پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زیر دفعات 354 (خاتون سے بدتمیزی)، 506 (دھمکیاں دینا)، اور 509 (عزت نفس مجروح کرنا) کے تحت مقدمہ نمبر 2305/25 درج کر لیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی رپورٹ نمبر SKP-CBD-016163 کے مطابق، وقوعہ تھانہ بی ڈویژن سے مشرق کی جانب تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر پیش آیا۔

    تفتیشی افسر اے ایس آئی محمد خالد بیگ کے مطابق، اصل درخواست اور ایف آئی آر کی نقول تفتیش کے لیے اعجاز احمد 819/C کے ذریعے متعلقہ افسران کو ارسال کر دی گئی ہیں، جب کہ SHO تھانہ بی ڈویژن کو بھی اس مقدمہ کی اطلاع دی گئی ہے۔ واقعہ کی مکمل تفتیش جاری ہے، اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

    ریگل چوک اور گرد و نواح کے شہریوں نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے عناصر کو سخت ترین سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو ایسی جرأت نہ ہو۔ سوشل میڈیا پر بھی واقعے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

  • سرحدوں پر پہرا دینے والے فوجی جوان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں،گورنر پنجاب

    سرحدوں پر پہرا دینے والے فوجی جوان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں،گورنر پنجاب

    لاہور:گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کا کہنا ہے کہ سرحدوں پر پہرا دینے والے فوجی جوان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے-

    سردار سلیم حیدر خان نے شیخوپورہ میں ٹریکٹر بنانے والی کمپنی کے دورہ کے موقع پر کہا کہ پاک فوج کی بدولت امن وامان کی صورتحال تسلی بخش ہے، پہلگام واقعہ ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں، پاکستان بھارت کی ہر مہم جوئی کا جواب دینے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے، بھارت پہلگام حملے کا ٹھوس ثبوت دے۔

    انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر پہرا دینے والے فوجی جوان اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، پاک فوج کے سپہ سالارنڈر شخصیت کے مالک ہیں پاکستان میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں کی صنعت تیزی سے ترقی کررہی ہے، موجود حکومت برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہےصنعت و حرفت کی ترقی ملکی استحکام کے لئے ناگزیر ہے، نوجوان نسل جدید ٹیکنالوجی سمیت ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا رہی ہے، پیپلز پارٹی ہمیشہ غریب اور محنت کش طبقے کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔

    بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی حکومت کا نارمل صورتحال کا دعویٰ کھوکھلا نکلا

    راولپنڈی میں پھر واٹر ایمرجنسی نافذ

    امریکی سرزمین پر بھارتی مسلمانوں نے مودی کا پول کھول دیا

  • امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر

    امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر

    امیر حمزہ بابا شینواری کی عالمی اور ملکی سیاست پر گہری نظر(امیر حمزہ بابا شینواری نےتحریکِ پاکستان میں بھی مکمل طور پر حصہ لیا)
    تحریر:نصیب شاہ شنواری
    لنڈی کوتل تحصیل کے مشہور اور ممتاز پشتو شاعر اور ادیب امیر حمزہ بابا شینواری کو "پشتو غزل کے بابا” کا لقب دیا گیا ہے اور لوگ انہیں پشتو زبان کے شاعر اور ادیب کے طور پر جانتے ہیں تو دوسری طرف وہ عالمی اور ملکی سیاست پر بھی گہری سوچ، فکر اور نظر رکھتے تھے۔

    امیر حمزہ بابا کے اردو میں خطوط پر مشتمل کتاب "خطوطِ حمزہ بابا” کا میں نے مطالعہ کیا۔ اس کتاب میں تقریباً 304 خطوط شامل ہیں جو انہوں نے اردو زبان میں اپنے دوست سید انیس شاہ جیلانی کو لکھے تھے۔

    ان خطوط میں سے ایک خط 1972 میں جون مہینے کی 26 تاریخ کو "مجذوب” (یہ نام حمزہ بابا نے انیس شاہ جیلانی کے لیے استعمال کیا) کوبھیجا گیا تھا۔ اس خط میں امیر حمزہ بابا نے اپنے دوست کے لیے کئی اہم باتیں لکھی ہیں خاص طور پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے حوالے سے ایک اہم موضوع پر بات کی ہے۔

    امیر حمزہ بابا اپنے دوست کو لکھتے ہیں کہ "میں نے تحریکِ پاکستان میں مکمل طور پر حصہ لیا تھا لیکن پاکستان تو اسلام کے نام پر بنا تھا، مگر اس ملک میں وہی انگریزوں کے سپورٹرز اقتدار میں آ گئے۔”

    حمزہ بابا مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت کرے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ انہیں اس ملک کے کمزور ہونے پر شدید رنج و غم محسوس ہوتا ہے اور اگر پاکستان محفوظ نہ رہا تو افغانستان بھی بھارت کے پنجوں سے نہیں بچ سکے گا۔

    اگر حمزہ بابا کی اس بات پر غور کیا جائے، تو یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ افغانستان کے لیے پاکستان کا وجود انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ دو مسلمان ہمسایہ ممالک ہیں اور ان کے درمیان مضبوط سیاسی اور اقتصادی تعلقات ہونے چاہئیں۔

    حمزہ بابا کے اس خط سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ وہ افغانستان اور پشتونوں سے محبت کرتے تھے اسی طرح وہ پاکستان سے بھی محبت کرتے تھے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ خود کہتے ہیں کہ انہوں نے تحریکِ پاکستان میں مکمل طور پر حصہ لیا تھا۔

    آج جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں 5 مارچ 2025 ہے اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحد بند ہے، جس کی وجہ سے دونوں طرف عام عوام اور مسافر شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    سرحد کی بندش کے سبب پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت بھی معطل ہے، جس سے دونوں ممالک کی معیشت کو بڑا نقصان پہنچ رہا ہے۔

    طورخم میں کسٹم ڈپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے میڈیا کو بتایا کہ طورخم سرحد کے ذریعے روزانہ تقریباً 3 ملین ڈالر کی دو طرفہ تجارت ہوتی ہے۔ اس حساب سے بارڈر کی بندش کے باعث پاکستان کو اب تک 36 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور اگر سرحد مزید دنوں تک بند رہی، تو یہ نقصان مزید بڑھ جائے گا۔

    پاکستانی حکام کے مطابق 21 فروری جمعہ کے دن افغان سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک متنازعہ چیک پوسٹ پر تعمیراتی کام شروع کیا، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا اور فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس کے نتیجے میں سرحد کو آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند کر دیا گیا اور آج بارہواں دن بھی طورخم کراسنگ پوائنٹ بند ہے۔

    اگر ہم حمزہ بابا کے پاکستان اور افغانستان کے وجود اور ان کے باہمی تعلقات پر کیے گئے تبصرے پر غور کریں تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

    اگر پاکستان مضبوط ہوگا تو یہ افغانستان کے لیے بھی فائدہ مند ہوگا۔اسی طرح اگر افغانستان اقتصادی طور پر مستحکم ہوگا تو یہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور ملکی خوشحالی و امن کے لیے بھی بہتر ہوگا۔

    موجودہ وقت میں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ تنازعہ جاری ہے، تو دونوں حکومتوں اور سیکیورٹی حکام کو مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔

    اگر دونوں ممالک اس تنازعے کو حل نہ کر سکے اور آپس میں فائرنگ جاری رہی، تو خدا نہ کرے، یہ ایک بڑی جنگ میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ اور اگر جنگ چھڑ گئی تو سب سے زیادہ نقصان افغانستان کو ہوگا کیونکہ افغانستان گذشتہ چار دہائیوں سے جنگوں کا شکار رہا ہے، جس نے اس کے سیاسی، اقتصادی اور عام شہریوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

  • وزیر اعظم صاحب یکجہتی کے نام پر گناہوں کو دھونے کی کوشش نہ کریں ،تابش قیوم

    وزیر اعظم صاحب یکجہتی کے نام پر گناہوں کو دھونے کی کوشش نہ کریں ،تابش قیوم

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی تک پاکستان کی تکمیل نہیں ہو سکتی۔

    مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام شیخوپورہ میں یکجتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا، ریلی میں بڑی تعدا د میں شہری شریک ہوئے اور کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا، شرکا نے پلے کارڈ ز اور بینرز اٹھا رکھے تھے،ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم یکجہتی کشمیر ریلی میں پہنچے تو ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا، پھولوں کے ہار پہنائے گئے،یکجہتی کشمیر ریلی سے میاں حبیب الرحمن جنرل سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ شیخوپورہ ،عدیل عامر صدر مسلم یوتھ لیگ وسطی پنجاب ،چوہدری شہزاد علی ورک ،چوہدری طارق محمود گجر نائب صدر شیخوپورہ مرکزی مسلم لیگ ،حاجی محمد یعقوب چہل،حاجی وقار مرتضیٰ ،مرزا علی عابد ،امانت علی گجر ،شمعون بھٹہ،ملک اعظم طاہر ،مفتی عبدالرحمان مظہر ،حافظ شیر افگن ،ڈاکٹر عتیق الرحمن نے بھی خطاب کیا،شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کا کہنا تھا کہ دنیا کے حالات بدل چکے ہیں ،پچھلے چند سالوں و ماہ کے اندر بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، برہان وانی جیسے نوجوانوں سمیت کتنے ہی گمنام شہید قربانیاں پیش کرگئے ان کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی ، بھارت ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف مضحکہ خیز سازشیں کرتا رہا لیکن وہ ہمیشہ ناکام رہا ، بھارت نے ہر سطح پر پاکستان کو تقسیم کرنے کی کوشش کی ،سیاسی و لسانی و مسلکی بنیاد پر لڑوانے کی کوشش کی ،بھارت کو یہ اندیشہ تھا کہ اگر پاکستانی متحد ہوگئے تو یہ اپنی شہ رگ چھڑا کر لیجائیں گے ،دنیا میں فساد مچانے والا امریکہ آج اپنے ملک میں انڈوں کی بڑھتی قیمت پر پریشان ہے اور پاکستان آج تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ۔تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ کشمیریوں کو سہولیات دینے کے نام پر بھارت کشمیر میں اپنے فوجی اڈے مضبوط کررہا ہے ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم کشمیریوں کو ساتھ استقامت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں ، ہم وہ مرکزی مسلم لیگ ہیں جن کے ورثاء نے پاکستان بنایا ، ہم آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کے خطاب کا خیر مقدم کرتے ہیں ،انہوں نے پاکستانی 24 کڑور عوام سے ساتھ دینے کی اپیل کی ہم ان کے ساتھ متحد ہوکر کھڑے ہیں ،کشمیری قیادتیں سید علی گیلانی ،آسیہ اندرابی ،قاسم فکتو قید ہیں اور دوسری طرف کشمیر کے محسن پاکستان میں قید ہیں ، شیخوپورہ کے عوام اس بات کا عزم کریں گے ہم شہ رگ ہر صورت چھڑائیں گے ۔ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے ۔ آزاد کشمیر کے وزیر اعظم نے درست کہا غزہ اور کشمیر میں بنیادی فرق ہے یہ کہ غزہ کے پیچھے پاکستانی فوج نہیں تھی ۔ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یکجہتی کرنا عوام کا کام ہے وزیر اعظم صاحب یکجہتی کے نام پر گناہوں کو دھونے کی کوشش نہ کریں ،اسلام آباد اپنی خاموشی اور روایتی طریقوں سے نکلے اور کشمیر کی آزادی کا روڈ میپ واضح کرے.کشمیری ہیروز کو اور ان کی قربانیوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ کشمیری محض زبانی خرچ اور تقریروں سے مطمئن نہیں ہوں گے حکومت عملی اقدامات قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے واضح کرے.