کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے المناک سانحہ گل پلازا پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت سندھ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور گل پلازا کی جگہ پر نئی سرکاری عمارت تعمیر کی جائے گی۔
وہ کورنگی کازوے پل کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازا کے واقعے پر وہ تفصیل سے بات کریں گے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن حکومت ہر ممکن حد تک متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثاء کو حکومت سندھ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کا مناسب وقت نہیں، ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ہے، بعض اوقات غیر سنجیدہ تنقید کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گل پلازا کے ہر دکاندار کو دو ماہ تک 5،5 لاکھ روپے دے گی تاکہ وہ اس عرصے میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں میں موجود سامان کے نقصانات کا ازالہ کراچی چیمبر آف کامرس کی مدد سے کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ مجموعی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے متاثرہ تاجروں کو اپنی عمارتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک گل پلازا کی نئی عمارت مکمل نہیں ہو جاتی، اس عرصے کے دوران دکانداروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی رہے گی۔ دو ماہ کے اندر اندر متاثرہ تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کر دی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی سہولت فراہم کی جائے گی اور نئی تعمیر میں جتنی دکانیں پہلے موجود تھیں، ان سے ایک انچ بھی زیادہ تعمیر نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ حکومتی سطح پر کوتاہیاں بھی رہی ہیں، جنہیں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سندھ میں تمام عمارتوں کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ عمارتیں جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر چیک کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے بعد عمارت مالکان کو بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے کے اندر کون سے حفاظتی اقدامات لازم ہیں، اور جو عمارتیں ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، انہیں سیل کر دیا جائے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے تاجر برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے، چاہے وہ ان کے خلاف ہو یا میئر کے خلاف، تو اسے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید سب کا حق ہے، سوال ضرور کریں لیکن ایسے بیانات نہ دیے جائیں جو حالات کو مزید خراب کریں۔انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس حساس موقع پر ایسے سوالات نہ کیے جائیں جن سے غیر ضروری تنازع کھڑا ہو، کیونکہ یہ وقت سیاسی یا الزامی بحث کا نہیں بلکہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہونے اور عملی اقدامات کرنے کا ہے۔
کورنگی کازوے پل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ کورنگی کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا، جس کے حل کے لیے تین سال قبل یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل پل پر کام شروع ہوا، تاہم ڈیزائن کے کچھ مسائل درپیش تھے۔ اس منصوبے پر 6 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے اور اس سے انڈس یونیورسٹی، ایس آئی یو ٹی سمیت مختلف جامعات کے طلباء اور شہریوں کو فائدہ پہنچے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ مسلسل کام کر رہی ہے اور عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک کھول دیا جائے گا، جو شہر کے ٹریفک مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔