Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    گھوٹکی ،رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر

    ( میرپورماتہیلو باغی ٹی وی نا مہ نگار مشتاق علی لغاری )ڈپٹی کمشنر گھوٹکی کی جانب سے رمضان المبارک کے پیش نظر اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر، ریٹ لسٹ جاری، خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا حکم.

    گھوٹکی ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے رمضان المبارک کے دوران مصنوعی مہنگائی کی روک تھام کے لیے ضلع بھر میں عام استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مقرر کرتے ہوئے باضابطہ ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ریٹ لسٹ پر ہر صورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ مقررہ نرخوں پر عمل نہ کرنے والے منافع خور دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں بھاری جرمانے اور کریک ڈاؤن شامل ہوگا۔ سبزی اور فروٹ کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے سبزی منڈیوں کا مسلسل معائنہ کیا جائے گا۔ بیورو آف سپلائز اینڈ پرائس کے افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا جائزہ لیں اور ہر دکان پر ریٹ لسٹ کی موجودگی کو یقینی بنائیں۔ کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    جاری کردہ ریٹ لسٹ کے مطابق دال چنا پنجاب 220 روپے فی کلو، دال چنا سندھ 210 روپے، دال مونگ دھلی اے 400 روپے، بی 300 روپے، دال مسور دھلی 210 روپے، دال ماش ثابت 410 روپے، دال مونگ ثابت 265 روپے، دال مٹر 170 روپے، چھولا 8 ایم ایم 260 روپے، 9 ایم ایم 300 روپے، 12 ایم ایم 380 روپے، چھولا ثابت برما 230 روپے، سفید لوبیا 260 روپے، ثابت مونگ 350 روپے، مونگ پشاوری 400 روپے، مٹھائی 170 روپے، گڑ 150 روپے، چاول کرنل پنجاب 280 روپے، کرنل سندھ 270 روپے، چاول 86 اے 190 روپے، 86 بی 170 روپے، چاول ٹوٹا پنجاب 160 روپے، ٹوٹا سندھ 140 روپے، چاول ایری 100 روپے، چاول کائنات کچا 300 روپے، کائنات سیلا 320 روپے، بیسن 230 روپے، سوجی 125 روپے، میدہ 125 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔اسی طرح بکرے کا گوشت 1850 روپے فی کلو، بچھڑے کا گوشت 1100 روپے فی کلو، مچھلی دنبھرو ایک کلو سے کم 400 اور ایک کلو سے زائد 600 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔ نان 20 روپے، روٹی 15 روپے اور چپاتی 10 روپے میں فروخت کی جائے گی۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ مرغی، چینی، سبزی اور فروٹ کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر مقرر کیے جاتے ہیں، اس لیے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ خریداری کے وقت دکانداروں کے پاس موجود مارکیٹ کمیٹی کی جاری کردہ ریٹ لسٹ اور تاریخ ضرور چیک کریں اور مقررہ نرخوں کے مطابق ہی ادائیگی کریں

  • میرپور ماتھیلو میں یورولوجی (امراضِ گردہ و مثانہ) کا شعبہ باقاعدہ طور پر فعال

    میرپور ماتھیلو میں یورولوجی (امراضِ گردہ و مثانہ) کا شعبہ باقاعدہ طور پر فعال

    میرپور ماتھیلو باغی ٹی وی نانگار مشتاق علی لغاری
    ضلع گھوٹکی کی تاریخ میں پہلی بار ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور ماتھیلو میں یورولوجی (امراضِ گردہ و مثانہ) کا شعبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے، جہاں جدید مشین یو آر ایس کے ذریعے مریضوں کا علاج کیا جائے گا۔

    خب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی کی خصوصی کاوشوں سے سندھ حکومت نے ڈی ایچ کیو اسپتال میرپور ماتھیلو کو جدید ترین یو آر ایس مشین فراہم کی ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے کیا۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع گھوٹکی کے شعبہ صحت میں بہتری کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، سندھ حکومت اسپتالوں کو جدید سہولیات فراہم کر رہی ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکیں۔ ڈی ایچ کیو اسپتال میں یورولوجی شعبہ فعال ہونے سے ضلع کے ہزاروں افراد کو فائدہ پہنچے گا جو پہلے علاج کے لیے دوسرے اضلاع کا رخ کرنے پر مجبور تھے۔

    میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سرفراز علی شاہ نے بتایا کہ ڈی ایچ کیو اسپتال میں پہلی بار یورولوجی کا شعبہ قائم کیا گیا ہے، جس کے تحت روزانہ کی بنیاد پر گردوں اور مثانے میں پتھری کے مریضوں کی جانچ کی جائے گی، جبکہ ابتدائی طور پر ہر ہفتے بدھ کے روز 3 سے 4 آپریشن کیے جائیں گے، بعد ازاں مرحلہ وار ان کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ملک کے نامور معالج ڈاکٹر ادیب رضوی کی سربراہی میں تربیت حاصل کرنے والے کنسلٹنٹ یورولوجسٹ اینڈ اینڈواسکوپی سرجن ڈاکٹر سید سرور نے بتایا کہ ضلع گھوٹکی میں پتھری کے مریضوں کی شرح بہت زیادہ ہے، جدید یو آر ایس مشین کے ذریعے بغیر کسی بڑے آپریشن کے لیزر کے ذریعے گردوں کی نالی میں موجود پتھری کو توڑ کر نکالا جائے گا۔اس موقع پر ڈی ایچ او ڈاکٹر راؤ آفتاب بھی موجود تھے۔

  • سکھر: سیپکو کی مبینہ کرپشن چھپانے کا انوکھا طریقہ، افسران و ملازمین کا دفتر چھوڑ کر احتجاج

    سکھر: سیپکو کی مبینہ کرپشن چھپانے کا انوکھا طریقہ، افسران و ملازمین کا دفتر چھوڑ کر احتجاج

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سکھر میں بجلی کی ترسیل کرنے والے ادارے Sukkur Electric Power Company (SEPCO) کے خلاف مبینہ کرپشن کی خبروں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک انوکھا اور متنازع اقدام سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی ای او سیپکو اعجاز چنہ کے حکم پر افسران اور ملازمین نے دفاتر اور فیلڈ ڈیوٹیاں چھوڑ کر احتجاج کیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    افسران اور فیلڈ ملازمین کی بڑی تعداد سکھر نیشنل پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرنے پہنچ گئی۔ مظاہرین نے سی ای او کے حق میں نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ ’’سیپکو چیف اعجاز چنہ کو بلیک میل کرنا بند کیا جائے‘‘ اور ’’ان کے خلاف کرپشن کی خبریں بند کی جائیں‘‘۔احتجاج میں چیف انجنیئر آپریشن عبدالغنی شیخ، ایگزیکٹو انجنیئر ارشاد بلوچ، ایس ای آپریشن شکارپور صابر بگٹی اور ایس ای آپریشن دادو مظفر کھاوڑ سمیت دیگر افسران کو بھی بلایا گیا۔ مزید برآں سیپکو یونین کے رہنماؤں عقیل جونیجو اور شجاع گھمرو سمیت دیگر ملازمین کو بھی مبینہ طور پر زبردستی احتجاج میں شامل کیا گیا۔

    احتجاج کے دوران ایک صحافی کے سوال پر بعض ملازمین نے اعتراف کیا کہ انہیں سی ای او کی جانب سے پیغام دے کر احتجاج میں شرکت کی ہدایت کی گئی۔ ایک افسر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ احتجاج کے باعث دفاتر اور فیلڈ میں کام متاثر ہوا اور لاکھوں روپے کا مالی نقصان ہوا۔

    ذرائع کے مطابق سی ای او اعجاز چنہ نے صحافی ملوک بلوچ کے خلاف کشمور، ٹھارو شاہ، گھوٹکی اور کندھرا میں مقدمات درج کروائے۔ ایک افسر نے سوال کے جواب میں مقدمات کے اندراج کا اعتراف کیا، تاہم جب عدالتی فیصلوں کے بارے میں پوچھا گیا تو جواب دیا گیا کہ عدالت نے مقدمات کو جھوٹا قرار دیا ہے یا نہیں، اس بارے میں انہیں علم نہیں۔

    سکھر نیشنل پریس کلب کے عہدیداران اور صحافی ملوک بلوچ نے سی ای او سیپکو کو کھلا مناظرہ کرنے کا چیلنج دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر سی ای او کرپشن میں ملوث نہیں اور انہوں نے جھوٹے مقدمات درج نہیں کروائے تو کھلے عام مناظرہ کریں، بصورت دیگر صحافت چھوڑنے کا اعلان کریں گے۔ایک افسر نے صحافیوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ پریس کلب کی جانب سے دیے گئے مناظرے کے چیلنج سے سی ای او کو آگاہ کر کے جواب دیں گے۔سکھر نیشنل پریس کلب نے وفاقی حکومت اور پاور ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدار انکوائری کرائی جائے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور اگر کسی قسم کی بدعنوانی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ادارے کے افسران اور ملازمین کا دفاتر اور فیلڈ چھوڑ کر احتجاج کرنا نہ صرف عوامی مفاد کے خلاف ہے بلکہ بجلی کی فراہمی جیسے حساس شعبے میں یہ اقدام سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہے اور آیا شفاف تحقیقات کا مطالبہ پورا کیا جاتا ہے یا نہیں۔

  • گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    میرپورماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی کے زیرِ اہتمام اوباڑو شہر میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن اور منظم ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی و انسانی ہمدردی کا اظہار اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب عوامی توجہ مبذول کرانا تھا۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے ضلعی و مقامی رہنماؤں، کارکنان، سماجی شخصیات، تاجر برادری، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حق میں نعرے اور مطالبات درج تھے، جبکہ فضا ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’یکجہتیٔ کشمیر‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی مولانا حزب اللہ جکھرو، ڈپٹی جنرل سیکریٹری جماعتِ اسلامی صوبہ سندھ، نے کہا کہ وادیٔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جس کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے بھارتی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر امیر جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی تشکیل احمد صدیقی، نائب امیر مولانا مفتی محمد یوسف مزاری اور صدر جماعتِ اسلامی یوتھ ضلع گھوٹکی علی حسن منصوری نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھلم کھلا نسل کشی کی جا رہی ہے، جبکہ 57 اسلامی ممالک اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔

    مقررین نے پاکستانی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیور عوام اب اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم مزید برداشت نہیں کریں گی۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے علاوہ پرلس پبلک سیکنڈری اسکول اوباڑو اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی مظاہرے کیے گئے۔ ریلی کے اختتام پر ملک و قوم اور کشمیری عوام کی آزادی، سلامتی اور کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

  • ڈہرکی: جماعت اسلامی کی مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    ڈہرکی: جماعت اسلامی کی مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی کی جانب سے بروز منگل 4 فروری 2026 کو ڈہرکی شہر میں مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیری عوام کے حق میں بھرپور نعرے لگائے، جس سے شہر کی فضا گونج اٹھی۔

    ریلی کا آغاز ڈہرکی شہر کے مین روڈ پر واقع الخدمت کلینک کے سامنے سے ہوا، جس میں جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

    ریلی کی صدارت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ڈہرکی مدثر حسین ابڑو نے کی، جبکہ اس موقع پر معتمد اسلامی جمعیت طلبہ ڈہرکی برادر اسد علی آرائیں بھی موجود تھے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

    مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ ریلی پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔

  • خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) خانپور مہر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف آل سندھ مہر فاؤنڈیشن اور سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔

    احتجاجی مظاہرہ آل سندھ مہر فاؤنڈیشن کے رہنماؤں ایڈووکیٹ عرض آزاد مہر، ایاز مہر، ریاض احمد مہر، عبدالقیوم مہر اور دیگر کی قیادت میں تحصیل اسپتال کے سامنے بائی پاس روڈ پر کیا گیا، جہاں مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    مظاہرین کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل گھوٹکی اے سیکشن تھانے کی حدود مسو کلوڑ کے قریب مسلح ملزمان نے BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے 38 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت کرنے پر انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ رہنماؤں نے بتایا کہ زخمی BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر تاحال تشویشناک حالت میں سکھر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود اے سیکشن گھوٹکی پولیس نہ تو BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی لوٹی گئی رقم برآمد کی جا سکی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے اور زخمی کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • گھوٹکی: 7 سکولوں میں فرنیچر اور الماریاں تقسیم، طلبہ کی سہولیات میں اضافہ

    گھوٹکی: 7 سکولوں میں فرنیچر اور الماریاں تقسیم، طلبہ کی سہولیات میں اضافہ

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، منظور احمد کنرانی نے ضلع کے 7 اسکولوں میں ضروری فرنیچر اور الماریاں تقسیم کیں تاکہ طلبہ کی تعلیمی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔

    تقریب گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اوباڑو میں سی ایس آر فنڈ (ماڑی انرجیز) کے تحت منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ڈپٹی منیجر سی ایس آر کرنل فاروق اعظم، ڈی ای او پرائمری ذکریا دھاندھو اور متعلقہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور ضلع کے اسکولوں میں فرنیچر کی کمی کو دور کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹرز کو ہدایت کی کہ فرنیچر کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو اس سے مکمل فائدہ حاصل ہو سکے۔

    اس موقع پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول جنگ کالونی ڈہرکی، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری اسکول خانپور مہر، گورنمنٹ ہائی اسکول غلام حیدر ڈہرکی، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول قاضی بادل، جی بی پی ایس بمبلی، جی بی پی ایس خانپور مہر اور جی بی پی ایس موٹن مہر کو مجموعی طور پر 229 ڈبل ڈیسکیں، 26 کرسیاں، 18 میزیں اور 7 الماریاں فراہم کی گئیں۔

  • گھوٹکی: صحافی محمد بچل گھنیوں قتل کیس، دو مرکزی ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: صحافی محمد بچل گھنیوں قتل کیس، دو مرکزی ملزمان گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر لاڑکانہ رینج ناصر آفتاب کی کمانڈ میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سکھر رینج پولیس، سندھ رینجرز اور وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ کارروائی میں نجی ٹی وی کے صحافی محمد بچل گھنیوں کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان نے پولیس پریشر کے باعث خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ڈی ایس پی آفس اوباڑو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل بے دردی سے قتل کیے گئے صحافی محمد بچل گھنیوں کے کیس میں مرکزی ملزمان غلام حسین ولد جام گھنیوں اور قدیر ولد خان محمد گھنیوں نے جاری آپریشن کے دباؤ پر گرفتاری پیش کی۔

    ایس ایس پی کے مطابق اس سے قبل بھی دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ قتل کیس میں مجموعی طور پر سات ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی ملزمان کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    محمد انور کھیتران نے کہا کہ پولیس صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور صحافیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی نے مزید کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام ملزمان گرفتار یا سرنڈر نہیں کر لیتے۔

  • گھوٹکی بائی پاس ، گنے سے لوڈ کھڑی ٹرالیوں کی وجہ سے بند، شدید ٹریفک جام معمول بن گیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جبکہ بعض مریض راستے میں ہی دم توڑ گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس اسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

  • سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔

    سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔