Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی بائی پاس ، گنے سے لوڈ کھڑی ٹرالیوں کی وجہ سے بند، شدید ٹریفک جام معمول بن گیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جبکہ بعض مریض راستے میں ہی دم توڑ گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس اسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

  • سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔

    سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر رینج ناصر آفتاب نے رونتی کچہ اور ماچکہ کچہ کے انتہائی حساس علاقوں کا ہنگامی اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کچہ کے دشوار گزار اور مشکوک مقامات کا فضائی معائنہ کیا گیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے موقع پر موجود پولیس افسران کو ہدایت کی کہ کچہ کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ کچہ کے علاقوں میں امن و امان کی بحالی، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ڈی آئی جی سکھر نے جوانوں کے حوصلے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکھر رینج پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور جرائم کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی مقابلے میں نثار سمیجو کے قتل کے خلاف مقتول کے ورثاء نے ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔

    احتجاج کرنے والے ورثاء کا کہنا تھا کہ نثار سمیجو کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں جان بوجھ کر جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ اس پر کسی بھی سنگین الزام کو ثابت نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان کے مطابق یہ مقابلہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور حقیقت چھپانے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا۔

    ورثاء نے گاؤں بیلو میرپور کے پولیس تھانے کے ایس ایچ او قابل بھائی اور دیگر پولیس اہلکاروں پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ایک بے گناہ نوجوان کی جان لی۔

    احتجاج کنندگان نے ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور مقتول کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ ورثاء نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بلائنڈ مرڈر کا معمہ حل کر لیا۔ تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں قتل ہونے والے شخص ابرار احمد ولد محمد مراد کولاچی کے کیس میں مقتول کی بیوی کو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی یو ٹی اور ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 جنوری 2026 کو پولیس کو اطلاع ملی کہ کوثر کالونی، تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

    واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور محرکات جاننے کے لیے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو محمد یونس، ڈی ایس پی یو ٹی سھیل احمد سومرو اور ایس ایچ او بدر دین برڑو کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    تشکیل شدہ ٹیم نے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ مخفی اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی بیوی آسیہ بنت علی مراد کولاچی، مقتول کے سالے محمد شعیب ولد علی مراد کولاچی اور ملزمہ کے بھانجے کاشف علی ولد صفیر احمد کولاچی کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ اور دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ آسیہ نے اپنے شوہر کو قتل کرانے کے لیے 15 لاکھ روپے کا سودا طے کیا تھا، جس میں سے 11 لاکھ روپے نقد اپنے بھائی محمد شعیب کے ذریعے ملزمان کو ادا کیے گئے۔ یہ رقم مقتول کے گھر میں چاولوں کے فضل کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے اپنے شوہر کی جائیداد اور ملکیت اپنے بھائیوں اور دیگر رشتے داروں کو منتقل کروانے کی غرض سے قتل کی سازش رچائی۔

    پولیس نے گرفتار ملزمہ آسیہ، محمد شعیب کولاچی، کاشف علی کولاچی، سلیم کولاچی، ضمیر کولاچی اور روشن کولاچی کے خلاف کرائم نمبر 18/2026 کے تحت دفعات 302، 120-B، 109، 34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے پولیس ٹیم کی شاندار اور اہم کارروائی پر شاباش کا پیغام دیا۔

  • میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں ابرار کولاچی کے قتل کے خلاف لواحقین اور قریبی رشتہ داروں نے ایس ایس پی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شفاف و منصفانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرے کے دوران ابرار کولاچی کے ایک قریبی رشتہ دار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصل قاتل بھاءُ کوڑا کولاچی کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں اور پولیس کی جانب سے بے گناہ افراد کو غلط طور پر ملوث کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    مظاہرین نے قرآنِ پاک ہاتھ میں اٹھا کر نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ پولیس اور عدالتی ادارے غیرجانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حقائق سامنے نہ لائے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

    احتجاج میں خواتین بھی شریک تھیں، جنہوں نے جذباتی انداز میں انصاف کی اپیل کی اور کیس میں جانبداری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی شہریوں نے بھی زور دیا کہ اصل ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور بے گناہوں کی گرفتاری کا عمل فوری طور پر روکا جائے۔

  • میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے گاؤں شیر محمد خان کولچی میں واقع سرکاری پرائمری سکول گزشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد معصوم بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ سکول کی طویل بندش کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی حکومتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کی واضح مثال بن چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول زنگی خان کولچی گزشتہ ایک سال سے ویران اور لاوارث پڑا ہے۔ اسکول کی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کی حالت اس قدر خراب ہے کہ وہ بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مقامی مکینوں کے مطابق یہ اسکول مسلسل 20 سال تک باقاعدگی سے فعال رہا، جہاں دو اساتذہ تعینات تھے اور سینکڑوں بچوں نے یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تاہم گزشتہ ایک سال سے نہ اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی سرگرمیاں، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔

    احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا کر علامتی احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ بند اسکول کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور عمارت کی مرمت کروا کر تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

    دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع گھوٹکی کے منتخب عوامی نمائندے اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے بھی تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایک پوری نسل جہالت کی نذر ہو جائے گی، جس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ محکموں اور حکومتی نمائندوں پر عائد ہو گی۔

  • گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے کچہ ایریا میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری بڑے اور فیصلہ کن ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران سکھر رینج پولیس، وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی اور سندھ رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کوش گینگ کے دو انتہائی خطرناک اور بدنام زمانہ ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا، جبکہ 12 سے زائد جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن کے دوران 8 سے 10 ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ آپریشن ڈی آئی جی لاڑکانہ/سکھر ناصر آفتاب، ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، ایس ایس پی خیرپور ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل کی براہِ راست قیادت میں کیا گیا، جس میں سکھر رینج پولیس اور سندھ رینجرز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت اہم کامیابی حاصل کی۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت ملاؤ ولد جوت علی کوش اور محمد مراد عرف ڈاڈو ولد جوت علی کوش کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں ڈاکو کچہ ایریا میں طویل عرصے سے سرگرم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ ہلاک ڈاکو ملاؤ کوش کے خلاف سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 40 سے زائد جبکہ محمد مراد عرف ڈاڈو کوش کے خلاف 16 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے، جن میں اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور سہولت کاری جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دونوں ڈاکو موٹر وے پر حملوں، اغوا کی وارداتوں اور پولیس افسران کو براہِ راست دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہے، جس کے باعث کچہ ایریا اور ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی۔

    آپریشن کے دوران مشترکہ فورسز نے کوش گینگ کے متعدد ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی، جہاں سے اسلحہ، سہولت کاری کے شواہد اور دیگر مشتبہ مواد برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں جرائم پیشہ عناصر کے زیرِ استعمال ٹھکانوں کو نذرِ آتش کر کے مسمار کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں انہیں دوبارہ جرائم کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    ترجمان گھوٹکی پولیس کے مطابق کچہ ایریا میں ٹارگیٹڈ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ یا ان کا غیر مشروط سرنڈر ممکن نہیں ہو جاتا۔ پولیس اور رینجرز نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    علاقہ مکینوں اور سول سوسائٹی حلقوں نے سکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان مسلسل آپریشنز کے نتیجے میں کچہ ایریا ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے گا۔

  • جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں  کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد میں پولیس کے مبینہ طور پر انسانیت سوز اقدام کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں پر ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    جیونیوز کے مطابق متاثرہ بچی کی دادی نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او، ہیڈ محرر اور دیگر پانچ پولیس اہلکاروں نے اس کی پوتی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ایس ایس پی جیکب آباد سے واقعے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو الزامات کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    گہوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو کے مرید شاخ میں گنے سے بھری ایک ٹرالی الٹنے کے باعث مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے شہر بھر میں آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹرالی کو سڑک سے نہیں ہٹایا جا سکا، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، مزدور بے روزگار اور مریض، خواتین، بزرگ اور سکول جانے والے بچے سڑکوں پر پھنس گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اوباڑو میں چار شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود گنے کی بھاری ٹرالیاں متبادل راستے استعمال نہیں کر رہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شہریوں نے الزام لگایا کہ شہر لاوارث بن چکا ہے، نہ ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے اور نہ انتظامیہ کی کوئی کارروائی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور شوگر مل مالکان سے فوری طور پر ٹرالی ہٹا کر ٹریفک بحال کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علیحدہ راستوں کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔