Baaghi TV

Category: سکھر

  • گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    میرپورماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی کے زیرِ اہتمام اوباڑو شہر میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن اور منظم ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی و انسانی ہمدردی کا اظہار اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب عوامی توجہ مبذول کرانا تھا۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے ضلعی و مقامی رہنماؤں، کارکنان، سماجی شخصیات، تاجر برادری، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حق میں نعرے اور مطالبات درج تھے، جبکہ فضا ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’یکجہتیٔ کشمیر‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی مولانا حزب اللہ جکھرو، ڈپٹی جنرل سیکریٹری جماعتِ اسلامی صوبہ سندھ، نے کہا کہ وادیٔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جس کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے بھارتی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر امیر جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی تشکیل احمد صدیقی، نائب امیر مولانا مفتی محمد یوسف مزاری اور صدر جماعتِ اسلامی یوتھ ضلع گھوٹکی علی حسن منصوری نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھلم کھلا نسل کشی کی جا رہی ہے، جبکہ 57 اسلامی ممالک اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔

    مقررین نے پاکستانی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیور عوام اب اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم مزید برداشت نہیں کریں گی۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے علاوہ پرلس پبلک سیکنڈری اسکول اوباڑو اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی مظاہرے کیے گئے۔ ریلی کے اختتام پر ملک و قوم اور کشمیری عوام کی آزادی، سلامتی اور کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

  • ڈہرکی: جماعت اسلامی کی مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    ڈہرکی: جماعت اسلامی کی مظلوم کشمیریوں سے اظہارِ یکجہتی ریلی

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)جماعت اسلامی ضلع گھوٹکی کی جانب سے بروز منگل 4 فروری 2026 کو ڈہرکی شہر میں مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے کشمیر بنے گا پاکستان اور کشمیری عوام کے حق میں بھرپور نعرے لگائے، جس سے شہر کی فضا گونج اٹھی۔

    ریلی کا آغاز ڈہرکی شہر کے مین روڈ پر واقع الخدمت کلینک کے سامنے سے ہوا، جس میں جماعت اسلامی، اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔

    ریلی کی صدارت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ ڈہرکی مدثر حسین ابڑو نے کی، جبکہ اس موقع پر معتمد اسلامی جمعیت طلبہ ڈہرکی برادر اسد علی آرائیں بھی موجود تھے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

    مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دلانے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ ریلی پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی۔

  • خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    خانپور مہر: BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی و فائرنگ کے خلاف احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) خانپور مہر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف آل سندھ مہر فاؤنڈیشن اور سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن (سگا) کے تحت احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔

    احتجاجی مظاہرہ آل سندھ مہر فاؤنڈیشن کے رہنماؤں ایڈووکیٹ عرض آزاد مہر، ایاز مہر، ریاض احمد مہر، عبدالقیوم مہر اور دیگر کی قیادت میں تحصیل اسپتال کے سامنے بائی پاس روڈ پر کیا گیا، جہاں مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے پولیس کی مبینہ غفلت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا۔

    مظاہرین کے مطابق تقریباً ایک ہفتہ قبل گھوٹکی اے سیکشن تھانے کی حدود مسو کلوڑ کے قریب مسلح ملزمان نے BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے 38 لاکھ روپے لوٹ لیے اور مزاحمت کرنے پر انہیں گولیاں مار کر شدید زخمی کر دیا۔ رہنماؤں نے بتایا کہ زخمی BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر تاحال تشویشناک حالت میں سکھر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

    احتجاج کرنے والے رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کو کئی دن گزر جانے کے باوجود اے سیکشن گھوٹکی پولیس نہ تو BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر پر قاتلانہ حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر سکی ہے اور نہ ہی لوٹی گئی رقم برآمد کی جا سکی ہے، جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

    مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ BISP ڈیوائس ہولڈر اعجاز مہر سے ڈکیتی اور فائرنگ میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لوٹی گئی رقم واپس دلائی جائے اور زخمی کو انصاف فراہم کیا جائے، بصورتِ دیگر احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • گھوٹکی: 7 سکولوں میں فرنیچر اور الماریاں تقسیم، طلبہ کی سہولیات میں اضافہ

    گھوٹکی: 7 سکولوں میں فرنیچر اور الماریاں تقسیم، طلبہ کی سہولیات میں اضافہ

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈپٹی کمشنر گھوٹکی، منظور احمد کنرانی نے ضلع کے 7 اسکولوں میں ضروری فرنیچر اور الماریاں تقسیم کیں تاکہ طلبہ کی تعلیمی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔

    تقریب گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول اوباڑو میں سی ایس آر فنڈ (ماڑی انرجیز) کے تحت منعقد ہوئی، جس میں ڈپٹی کمشنر کے ساتھ ڈپٹی منیجر سی ایس آر کرنل فاروق اعظم، ڈی ای او پرائمری ذکریا دھاندھو اور متعلقہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹرز بھی موجود تھے۔

    ڈپٹی کمشنر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبے کو ترجیح دی جا رہی ہے، اور ضلع کے اسکولوں میں فرنیچر کی کمی کو دور کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ہیڈ ماسٹرز کو ہدایت کی کہ فرنیچر کی دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے تاکہ طلبہ کو اس سے مکمل فائدہ حاصل ہو سکے۔

    اس موقع پر گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکول جنگ کالونی ڈہرکی، گورنمنٹ بوائز ایلیمنٹری اسکول خانپور مہر، گورنمنٹ ہائی اسکول غلام حیدر ڈہرکی، گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول قاضی بادل، جی بی پی ایس بمبلی، جی بی پی ایس خانپور مہر اور جی بی پی ایس موٹن مہر کو مجموعی طور پر 229 ڈبل ڈیسکیں، 26 کرسیاں، 18 میزیں اور 7 الماریاں فراہم کی گئیں۔

  • گھوٹکی: صحافی محمد بچل گھنیوں قتل کیس، دو مرکزی ملزمان گرفتار

    گھوٹکی: صحافی محمد بچل گھنیوں قتل کیس، دو مرکزی ملزمان گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر لاڑکانہ رینج ناصر آفتاب کی کمانڈ میں ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سکھر رینج پولیس، سندھ رینجرز اور وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی کی مشترکہ کارروائی میں نجی ٹی وی کے صحافی محمد بچل گھنیوں کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان نے پولیس پریشر کے باعث خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔

    ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ڈی ایس پی آفس اوباڑو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل بے دردی سے قتل کیے گئے صحافی محمد بچل گھنیوں کے کیس میں مرکزی ملزمان غلام حسین ولد جام گھنیوں اور قدیر ولد خان محمد گھنیوں نے جاری آپریشن کے دباؤ پر گرفتاری پیش کی۔

    ایس ایس پی کے مطابق اس سے قبل بھی دو ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ قتل کیس میں مجموعی طور پر سات ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے چار کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور باقی ملزمان کو بھی جلد قانون کی گرفت میں لے لیا جائے گا۔

    محمد انور کھیتران نے کہا کہ پولیس صحافیوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور صحافیوں کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتے۔

    ایس ایس پی گھوٹکی نے مزید کہا کہ ڈاکوؤں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام ملزمان گرفتار یا سرنڈر نہیں کر لیتے۔

  • گھوٹکی بائی پاس ، گنے سے لوڈ کھڑی ٹرالیوں کی وجہ سے بند، شدید ٹریفک جام معمول بن گیا

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی بائی پاس پر گنے سے بھری ٹرالیاں کھڑی کیے جانے کے باعث سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں شدید ٹریفک جام پیدا ہو گیا۔ ٹریفک کی طویل بندش کے باعث متعدد ایمرجنسی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے، جبکہ بعض مریض راستے میں ہی دم توڑ گئے، جس پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

    عینی شاہدین کے مطابق بائی پاس پر ٹرالیاں کھڑی ہونے کے بعد دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، ایمبولینسز بھی ٹریفک میں پھنس کر رہ گئیں، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہریوں نے الزام عائد کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور موٹر وے پولیس کی جانب سے بروقت کوئی کارروائی نہیں کی گئی، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گھوٹکی بائی پاس ضلع کا سب سے زیادہ مصروف اور حساس ایمرجنسی روٹ تصور کیا جاتا ہے، جہاں لطیف میڈیکل سینٹر، انڈس اسپتال، سٹی میڈیکل سینٹر اور عمران میڈیکل سینٹر سمیت متعدد اہم طبی ادارے قائم ہیں۔ یہ بائی پاس شہر کا مرکزی داخلی راستہ بھی ہے، جہاں سے روزانہ ہزاروں شہریوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔

    واقعے کے بعد ضلع گھوٹکی کے عوام نے انتظامیہ سے فوری نوٹس لینے اور بائی پاس کھلوانے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید قیمتی انسانی جانیں ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ مجبوری کے تحت شہریوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وقتی طور پر متبادل راستے اختیار کریں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بائی پاس کھلوانا ضلعی انتظامیہ کے دائرہ اختیار سے باہر دکھائی دے رہا ہے، جو ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے۔

  • سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔

    سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر رینج ناصر آفتاب نے رونتی کچہ اور ماچکہ کچہ کے انتہائی حساس علاقوں کا ہنگامی اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کچہ کے دشوار گزار اور مشکوک مقامات کا فضائی معائنہ کیا گیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے موقع پر موجود پولیس افسران کو ہدایت کی کہ کچہ کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ کچہ کے علاقوں میں امن و امان کی بحالی، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ڈی آئی جی سکھر نے جوانوں کے حوصلے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکھر رینج پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور جرائم کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی مقابلے میں نثار سمیجو کے قتل کے خلاف مقتول کے ورثاء نے ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔

    احتجاج کرنے والے ورثاء کا کہنا تھا کہ نثار سمیجو کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں جان بوجھ کر جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ اس پر کسی بھی سنگین الزام کو ثابت نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان کے مطابق یہ مقابلہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور حقیقت چھپانے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا۔

    ورثاء نے گاؤں بیلو میرپور کے پولیس تھانے کے ایس ایچ او قابل بھائی اور دیگر پولیس اہلکاروں پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ایک بے گناہ نوجوان کی جان لی۔

    احتجاج کنندگان نے ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور مقتول کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ ورثاء نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بلائنڈ مرڈر کا معمہ حل کر لیا۔ تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں قتل ہونے والے شخص ابرار احمد ولد محمد مراد کولاچی کے کیس میں مقتول کی بیوی کو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی یو ٹی اور ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 جنوری 2026 کو پولیس کو اطلاع ملی کہ کوثر کالونی، تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

    واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور محرکات جاننے کے لیے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو محمد یونس، ڈی ایس پی یو ٹی سھیل احمد سومرو اور ایس ایچ او بدر دین برڑو کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    تشکیل شدہ ٹیم نے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ مخفی اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی بیوی آسیہ بنت علی مراد کولاچی، مقتول کے سالے محمد شعیب ولد علی مراد کولاچی اور ملزمہ کے بھانجے کاشف علی ولد صفیر احمد کولاچی کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ اور دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ آسیہ نے اپنے شوہر کو قتل کرانے کے لیے 15 لاکھ روپے کا سودا طے کیا تھا، جس میں سے 11 لاکھ روپے نقد اپنے بھائی محمد شعیب کے ذریعے ملزمان کو ادا کیے گئے۔ یہ رقم مقتول کے گھر میں چاولوں کے فضل کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے اپنے شوہر کی جائیداد اور ملکیت اپنے بھائیوں اور دیگر رشتے داروں کو منتقل کروانے کی غرض سے قتل کی سازش رچائی۔

    پولیس نے گرفتار ملزمہ آسیہ، محمد شعیب کولاچی، کاشف علی کولاچی، سلیم کولاچی، ضمیر کولاچی اور روشن کولاچی کے خلاف کرائم نمبر 18/2026 کے تحت دفعات 302، 120-B، 109، 34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے پولیس ٹیم کی شاندار اور اہم کارروائی پر شاباش کا پیغام دیا۔