Baaghi TV

Category: سکھر

  • ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    ڈی آئی جی سکھر کا کچہ علاقوں کا ہنگامی دورہ، ڈرون سے نگرانی

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ڈی آئی جی سکھر رینج ناصر آفتاب نے رونتی کچہ اور ماچکہ کچہ کے انتہائی حساس علاقوں کا ہنگامی اور تفصیلی دورہ کیا۔ دورے کے دوران جدید ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے کچہ کے دشوار گزار اور مشکوک مقامات کا فضائی معائنہ کیا گیا تاکہ جرائم پیشہ عناصر کی نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    ڈی آئی جی ناصر آفتاب نے موقع پر موجود پولیس افسران کو ہدایت کی کہ کچہ کے علاقوں میں ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔

    انہوں نے کہا کہ کچہ کے علاقوں میں امن و امان کی بحالی، اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کا خاتمہ پولیس کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ڈی آئی جی سکھر نے جوانوں کے حوصلے اور کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ سکھر رینج پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی اور جرائم کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  • گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    گھوٹکی:جعلی مقابلے کا الزام، نثار سمیجو کے قتل پر ورثاء کا احتجاج

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی پولیس کی جانب سے مبینہ جعلی مقابلے میں نثار سمیجو کے قتل کے خلاف مقتول کے ورثاء نے ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے شدید احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔

    احتجاج کرنے والے ورثاء کا کہنا تھا کہ نثار سمیجو کو پہلے گرفتار کیا گیا اور بعد ازاں جان بوجھ کر جعلی مقابلے میں قتل کر دیا گیا، جبکہ اس پر کسی بھی سنگین الزام کو ثابت نہیں کیا جا سکا تھا۔ ان کے مطابق یہ مقابلہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا اور حقیقت چھپانے کے لیے ڈرامہ رچایا گیا۔

    ورثاء نے گاؤں بیلو میرپور کے پولیس تھانے کے ایس ایچ او قابل بھائی اور دیگر پولیس اہلکاروں پر قتل میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ایک بے گناہ نوجوان کی جان لی۔

    احتجاج کنندگان نے ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور مقتول کے اہلِ خانہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ ورثاء نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

  • میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    میرپورماتھیلو:ابرار کولاچی قتل کیس،مقتول کی بیوی سمیت تین گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بڑی کامیاب کارروائی کرتے ہوئے بلائنڈ مرڈر کا معمہ حل کر لیا۔ تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں قتل ہونے والے شخص ابرار احمد ولد محمد مراد کولاچی کے کیس میں مقتول کی بیوی کو مرکزی ملزمہ قرار دیتے ہوئے دو دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو، ڈی ایس پی یو ٹی اور ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 12 جنوری 2026 کو پولیس کو اطلاع ملی کہ کوثر کالونی، تھانہ میرپور ماتھیلو کی حدود میں ایک شخص کو قتل کر دیا گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور لاش کو تحویل میں لے کر قانونی کارروائی کا آغاز کیا۔

    واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے قتل میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور محرکات جاننے کے لیے ڈی ایس پی میرپور ماتھیلو محمد یونس، ڈی ایس پی یو ٹی سھیل احمد سومرو اور ایس ایچ او بدر دین برڑو کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی۔

    تشکیل شدہ ٹیم نے واقعے کے تمام پہلوؤں سے تفتیش کی اور ٹیکنیکل بنیادوں پر مختلف مقامات پر کارروائیاں کیں۔ مخفی اطلاع پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مقتول کی بیوی آسیہ بنت علی مراد کولاچی، مقتول کے سالے محمد شعیب ولد علی مراد کولاچی اور ملزمہ کے بھانجے کاشف علی ولد صفیر احمد کولاچی کو گرفتار کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق گرفتار ملزمہ اور دونوں ملزمان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزمہ آسیہ نے اپنے شوہر کو قتل کرانے کے لیے 15 لاکھ روپے کا سودا طے کیا تھا، جس میں سے 11 لاکھ روپے نقد اپنے بھائی محمد شعیب کے ذریعے ملزمان کو ادا کیے گئے۔ یہ رقم مقتول کے گھر میں چاولوں کے فضل کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے اپنے شوہر کی جائیداد اور ملکیت اپنے بھائیوں اور دیگر رشتے داروں کو منتقل کروانے کی غرض سے قتل کی سازش رچائی۔

    پولیس نے گرفتار ملزمہ آسیہ، محمد شعیب کولاچی، کاشف علی کولاچی، سلیم کولاچی، ضمیر کولاچی اور روشن کولاچی کے خلاف کرائم نمبر 18/2026 کے تحت دفعات 302، 120-B، 109، 34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس موقع پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے پولیس ٹیم کی شاندار اور اہم کارروائی پر شاباش کا پیغام دیا۔

  • میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو: ابرار کولاچی قتل کیس پر لواحقین کا احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار: مشتاق علی لغاری) میرپور ماتھیلو میں ابرار کولاچی کے قتل کے خلاف لواحقین اور قریبی رشتہ داروں نے ایس ایس پی آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور شفاف و منصفانہ انکوائری کا مطالبہ کیا۔

    مظاہرے کے دوران ابرار کولاچی کے ایک قریبی رشتہ دار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اصل قاتل بھاءُ کوڑا کولاچی کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں اور پولیس کی جانب سے بے گناہ افراد کو غلط طور پر ملوث کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

    مظاہرین نے قرآنِ پاک ہاتھ میں اٹھا کر نعرے بازی کی اور مطالبہ کیا کہ پولیس اور عدالتی ادارے غیرجانبدار تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حقائق سامنے نہ لائے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔

    احتجاج میں خواتین بھی شریک تھیں، جنہوں نے جذباتی انداز میں انصاف کی اپیل کی اور کیس میں جانبداری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی شہریوں نے بھی زور دیا کہ اصل ملزم کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور بے گناہوں کی گرفتاری کا عمل فوری طور پر روکا جائے۔

  • میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے گاؤں شیر محمد خان کولچی میں واقع سرکاری پرائمری سکول گزشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد معصوم بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ سکول کی طویل بندش کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی حکومتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کی واضح مثال بن چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول زنگی خان کولچی گزشتہ ایک سال سے ویران اور لاوارث پڑا ہے۔ اسکول کی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کی حالت اس قدر خراب ہے کہ وہ بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مقامی مکینوں کے مطابق یہ اسکول مسلسل 20 سال تک باقاعدگی سے فعال رہا، جہاں دو اساتذہ تعینات تھے اور سینکڑوں بچوں نے یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تاہم گزشتہ ایک سال سے نہ اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی سرگرمیاں، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔

    احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا کر علامتی احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ بند اسکول کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور عمارت کی مرمت کروا کر تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

    دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع گھوٹکی کے منتخب عوامی نمائندے اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے بھی تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایک پوری نسل جہالت کی نذر ہو جائے گی، جس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ محکموں اور حکومتی نمائندوں پر عائد ہو گی۔

  • گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے کچہ ایریا میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری بڑے اور فیصلہ کن ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران سکھر رینج پولیس، وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی اور سندھ رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کوش گینگ کے دو انتہائی خطرناک اور بدنام زمانہ ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا، جبکہ 12 سے زائد جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن کے دوران 8 سے 10 ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ آپریشن ڈی آئی جی لاڑکانہ/سکھر ناصر آفتاب، ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، ایس ایس پی خیرپور ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل کی براہِ راست قیادت میں کیا گیا، جس میں سکھر رینج پولیس اور سندھ رینجرز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت اہم کامیابی حاصل کی۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت ملاؤ ولد جوت علی کوش اور محمد مراد عرف ڈاڈو ولد جوت علی کوش کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں ڈاکو کچہ ایریا میں طویل عرصے سے سرگرم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ ہلاک ڈاکو ملاؤ کوش کے خلاف سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 40 سے زائد جبکہ محمد مراد عرف ڈاڈو کوش کے خلاف 16 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے، جن میں اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور سہولت کاری جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دونوں ڈاکو موٹر وے پر حملوں، اغوا کی وارداتوں اور پولیس افسران کو براہِ راست دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہے، جس کے باعث کچہ ایریا اور ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی۔

    آپریشن کے دوران مشترکہ فورسز نے کوش گینگ کے متعدد ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی، جہاں سے اسلحہ، سہولت کاری کے شواہد اور دیگر مشتبہ مواد برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں جرائم پیشہ عناصر کے زیرِ استعمال ٹھکانوں کو نذرِ آتش کر کے مسمار کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں انہیں دوبارہ جرائم کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    ترجمان گھوٹکی پولیس کے مطابق کچہ ایریا میں ٹارگیٹڈ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ یا ان کا غیر مشروط سرنڈر ممکن نہیں ہو جاتا۔ پولیس اور رینجرز نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    علاقہ مکینوں اور سول سوسائٹی حلقوں نے سکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان مسلسل آپریشنز کے نتیجے میں کچہ ایریا ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے گا۔

  • جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں  کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد ،ایس ایچ او سمیت 7 پولیس اہلکاروں کی کمسن بچی سے زیادتی

    جیکب آباد میں پولیس کے مبینہ طور پر انسانیت سوز اقدام کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او سمیت سات پولیس اہلکاروں پر ایک کمسن بچی سے مبینہ زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ واقعے نے علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

    جیونیوز کے مطابق متاثرہ بچی کی دادی نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ آر ڈی 52 کے ایس ایچ او، ہیڈ محرر اور دیگر پانچ پولیس اہلکاروں نے اس کی پوتی کو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔واقعے کے منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے فوری طور پر واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیر داخلہ نے ایس ایس پی جیکب آباد سے واقعے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کروائی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈی ایس پی ٹھل کی سربراہی میں ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو الزامات کا ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر الزامات ثابت ہوئے تو ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    گہوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو کے مرید شاخ میں گنے سے بھری ایک ٹرالی الٹنے کے باعث مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے شہر بھر میں آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹرالی کو سڑک سے نہیں ہٹایا جا سکا، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، مزدور بے روزگار اور مریض، خواتین، بزرگ اور سکول جانے والے بچے سڑکوں پر پھنس گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اوباڑو میں چار شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود گنے کی بھاری ٹرالیاں متبادل راستے استعمال نہیں کر رہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شہریوں نے الزام لگایا کہ شہر لاوارث بن چکا ہے، نہ ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے اور نہ انتظامیہ کی کوئی کارروائی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور شوگر مل مالکان سے فوری طور پر ٹرالی ہٹا کر ٹریفک بحال کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علیحدہ راستوں کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گھوٹکی:پولیس کے تین الگ الگ مقابلے، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد، متعدد ساتھی فرار

    گھوٹکی:پولیس کے تین الگ الگ مقابلے، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد، متعدد ساتھی فرار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)ضلع گھوٹکی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے تین مختلف مقامات پر الگ الگ مقابلوں کے دوران تین ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ ان کے متعدد ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پہلا مقابلہ تھانہ اوباوڑو کی حدود میں پیش آیا، جہاں پولیس کو اطلاع ملی کہ چار نامعلوم مسلح ملزمان لنک روڈ راجنپور پر واردات کے ارادے سے موجود ہیں۔ پولیس پارٹی موقع پر پہنچی تو مسلح ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ دورانِ مقابلہ ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جس کی شناخت بخت علی ولد مومن شر سکنہ دیہہ دب، تعلقہ اوباوڑو کے نام سے ہوئی۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے پسٹل برآمد کیا گیا، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم قتل، چوری، رہزنی، پولیس مقابلہ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم کے خلاف پہلے سے کرائم نمبر 50/2025 دفعہ 302 اور کرائم نمبر 55/2025 دفعہ 379، 435، 427 تعزیراتِ پاکستان تھانہ ماچھکہ میں درج ہیں۔

    دوسرا مقابلہ تھانہ اے سیکشن میرپورماتھیلو کی حدود میں حسین بیلی لنک روڈ پر پیش آیا، جہاں پولیس کو چھ نامعلوم مسلح ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ پولیس کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت گلاب ولد جنگو پتافی سکنہ سومر موری تعلقہ میرپورماتھیلو کے نام سے ہوئی، جبکہ اس کے پانچ ساتھی فرار ہو گئے۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے بھی پسٹل برآمد ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم چوری، رہزنی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ اس حوالے سے کرائم نمبر 12/2026 دفعہ 324، 353، 399، 402 تعزیراتِ پاکستان اور کرائم نمبر 13/2026 دفعہ 25 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

    تیسرا مقابلہ تھانہ بی سیکشن میرپورماتھیلو کی حدود میں کندھ کوٹ کشمور روڈ پر ہوا، جہاں چار نامعلوم مسلح ملزمان واردات کے ارادے سے موجود تھے۔ پولیس کے پہنچنے پر فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک ملزم اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جسے پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت گرفتار کر لیا۔ زخمی ملزم کی شناخت شاہ بخش ولد لیاقت علی پتافی سکنہ سومر موری تعلقہ میرپورماتھیلو کے نام سے ہوئی، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے پسٹل برآمد کیا گیا۔ مقدمہ کرائم نمبر 05/2026 دفعہ 324، 353، 398، 401 تعزیراتِ پاکستان اور کرائم نمبر 06/2026 دفعہ 25 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔

    تمام زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے کامیاب کارروائیوں پر پولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • شکارپور:میونسپل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت،کھلے گٹر نے ایک اور معصوم جان نگل لی

    شکارپور:میونسپل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت،کھلے گٹر نے ایک اور معصوم جان نگل لی

    شکارپور (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شکارپور میں میونسپل انتظامیہ کی خطرناک اور ناقابلِ معافی غفلت ایک اور معصوم جان نگل گئی۔ بھٹائی کالونی کا رہائشی کمسن بچہ عادل لاشاری کھیلتے ہوئے کھلے گٹر میں گر گیا اور ڈوب کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ دلخراش واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد بچے کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم گٹر میں پانی کی زیادتی کے باعث عادل کی جان نہ بچائی جا سکی۔ جاں بحق بچے کی والدہ غم کی شدت سے بار بار بے ہوش ہوئیں جبکہ اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ واقعے کے بعد علاقہ مکین شدید غم و غصے میں مبتلا نظر آئے۔

    شہریوں نے میونسپل انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ شکارپور شہر میں درجنوں گٹر بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں جو کسی بھی وقت مزید معصوم جانیں لے سکتے ہیں، مگر متعلقہ حکام مسلسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

    افسوسناک سانحے کے بعد عوامی غصہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں، سماجی حلقوں اور متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں موجود تمام کھلے گٹروں کو فوری طور پر بند کیا جائے، غفلت کے مرتکب میونسپل افسران اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کیے جائیں، واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری اور بھاری مالی معاوضہ دیا جائے۔

    شہریوں نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو شکارپور بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری میونسپل انتظامیہ اور ضلعی حکام پر عائد ہوگی۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ شکارپور کی میونسپل کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اگر اب بھی قاتل گٹروں کو بند نہ کیا گیا تو یہ شہر معصوم بچوں کے لیے مزید خطرناک بنتا چلا جائے گا۔