Baaghi TV

Category: سکھر

  • سکھر میں  ایک ہی گھر کے کئی چراغ بجھ گئے

    سکھر میں ایک ہی گھر کے کئی چراغ بجھ گئے

    سکھر ایک ہی گھر کے کئی چراغ بجھ گئے

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سردی کے موسم ایک اور مصیب آن پڑی ایک ہی خاندان کے کئی چراغ بجھ گئے.سکھر کے علاقے نیو پنڈ میں مکان کی چھت گرنے سے 3بچے جاں بحق ہوگئے، ملبے تلے دب کر باپ اور 12 سال کا بچہ زخمی ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق نیوپنڈ بھوسہ لائن میں مکان کی بوسیدہ چھت گر گئی، جس کے ملبے تلے دبنے سے ایک ہی خاندان کے 3 بچے13 سالہ ناہید،9 سالہ بےنظیر اور 6 سالہ وسیم موقع پرجاں بحق ہوگئے۔واقعے میں بچوں کے والد ندیم شر اور اس کا 12سالہ بیٹا علی رضا زخمی ہوئے ہیں، جنہیں سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔واضح رہے کہ بوسیدہ مکان کی چھت گرنے کا واقعہ رات گئے پیش آیا ہے.اس سلسے میں صوبائی حکومت کی جانب سے متاثرین کو کسی قسم کی کوئی امداد دینے کی خبر نہیں آئی ہے.

  • سندھ میں تبدیلی آ گئی، قوم پرست جماعتوں کے کارکنان نے کیا بڑا اعلان

    قوم پرست جماعتوں کے لیڈر و کارکنان قومی دھارے میں شامل،پاکستان سے وفاداری کا حلف

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے مختلف شہروں سے قوم پرست جماعتوں کے کارکن قومی دھارے میں شامل ہو گئے،سندھ کے شہروں سکھر، خیرپور اور نوشہرو فیروز اضلاع سے تعلق رکھنے والے مختلف قوم پرست جماعتوں کے کارکنوں و رہنماؤں کی بڑی تعداد نے قوم پرست جماعتوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا کر اور دل دل پاکستان جان جان پاکستان، پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے نعرے لگاتے ہوئے قومی دھارے میں شمولیت کا اعلان کیا ہے،

    سکھر کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قوم پرست کارکنوں و رہنماؤں جئے سندھ متحدہ محاذ ضلع خیرپور کے سابق صدر شاکر حسین،جسقم کے سیکرٹری جنرل صابر راجپر،جسقم کے جوائنٹ سیکرٹری ناظم الدین لاکھو، جسقم کے ورکر امتیاز چانگ، محمد الیاس بلوچ، محمد حسین، محبوب علی، حامد علی، عبداللہ، ماجد حسین، علی عباس، مقصود حسین، نجیب علی، شعیب علی خاصخیلی ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے جسقم کے کارکنان ممتاز علی چنوں، قاسم، وحید بروھی، عالم، معشوق علی ڈاھری، راحب کیریو، مبارک میمن، سردار شاہ، نجم علی، محمد جمن ودیگر نے کہا کہ وہ اب پاکستان سے وفادار رہیں گے آج سے ان کا کسی قوم پرست جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ان قوم پرست تنظیموں نے ان کو ملک کے خلاف استعمال کیا لیکن اب وہ اپنی جانیں تک ملک وقوم کے لیے قربان کرنے کو تیار ہیں اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

    سندھ کے شہر کندھکوٹ میں 70 سے زائد فراریوں نے رینجرز، پولیس اور سول حکام کی موجودگی میں ہتھیار ڈال دیئے,

    کندھکوٹ کے 82 ونگ شہباز رینجرز کے ہیڈ کوارٹرز میں منعقدہ تقریب کے دوران علاقے کے تیغانی، جاگیرانی، چولیانی، میرانی، سبزوئی، جتوئی، سرکی، نندوانی و دیگر قبائل سے تعلق رکھنے والے 70 سے زائد فراریوں نے غیر قانونی اور مجرمانہ فعل ترک کرتے ہوئے قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔

    تقریب میں فراریوں نے اپنا اسلحہ و گولیاں سیکٹر کمانڈر شہباز رینجرز کرنل محمد ساجد کے حوالے کیا۔اس موقع پر ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ، ڈپٹی کمشنر کشمور منور علی مٹھیانی اور ایس ایس پی کشمور اسد رضا شاہ بھی موجود تھے۔قومی دھارے میں شامل ہونے والوں نے آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں اور مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث نہ ہونے کے عزم کا اظہار کیا اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے لیے سندھ رینجرز کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

    کندھ کوٹ سے حکام کا کہنا ہے کہ سیکٹر کمانڈر شہباز رینجرز کرنل محمد ساجد، ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ، ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی اور ایس ایس پی اسد رضا شاہ نے قومی دھارے میں شامل ہونے والوں کو قومی پرچم اور دیگر تحائف پیش کیے اور ان کے قومی دھارے میں شامل ہونے کے جذبے کو بھی سراہا۔

  • مسافر کوچ کو حادثہ، 2 افراد جاں بحق، دو بچوں سمیت 8  زخمی

    مسافر کوچ کو حادثہ، 2 افراد جاں بحق، دو بچوں سمیت 8 زخمی

    مسافر کوچ کو حادثہ، 2 افراد جاں بحق، دو بچوں سمیت 8 زخمی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے ڈھرکی قومی شاہراہ نارو واہ پل کے مقام پر مسافر کوچ گنے کے کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ دو بچوں اور خواتین سمیت آٹھ افراد زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حادثے کے بعد ڈرائیور اور کلینر دونوں فرار ہو گئے، 2 افراد مشتاق احمد اور محمد نعیم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ھو گئے، ان کا تعلق لیاقت پور سے ہے۔ زخمی ہونے والے افراد کا تعلق رحیم یار خان، لیاقت پور، صادق آباد سے بتایا جا رہا ہے۔

    ٹریفک پولیس کے مطابق حادثہ ٹرک ڈرائیور اور کوچ ڈرائیور کی غلطی سے پیش آیا، مسافر بس کراچی سے صادق آباد جا رہی تھی، تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،جن کا علاج جاری ہے،. پولیس نے بس ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے تلاش شروع کر دی ہے،پولیس نے بس کو تحویل میں‌ لے لیا ہے.

  • نیب ریفرنس دائر ہوا تو خورشید شاہ کو مفاہمت یاد آ گئی

    نیب ریفرنس دائر ہوا تو خورشید شاہ کو مفاہمت یاد آ گئی

    نیب ریفرنس دائر ہوا تو خورشید شاہ کو مفاہمت یاد آ گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں خورشید شاہ احتساب عدالت سکھرمیں پیش ہوئے ، خورشید شاہ کو ایمبولینس کےذریعے این آئی سی وی ڈی اسپتال سے احتساب عدالت لایا گیا،احتساب عدالت نے دائر کردہ ریفرنس کی مکمل دستاویزات پیش کرنےکا حکم دے دیا،احتساب عدالت سکھرنے سماعت 7جنوری تک ملتوی کردی.

    عدالت پیشی کے موقع پر خورشید شاہ نے غیر رسمی طور پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب پارلیمنٹ کمزور ہو جائے تو دشمن طاقتور ہوجاتا ہے ،پارلیمنٹ عوام کی نمائندگی کرتی ہے، آج پارلیمنٹ کی نمائندگی نہیں ہورہی ہے،مگر یہاں تو پارلیمنٹ کو ہی کمزور کیا جارہا ہے اسے چلانے کی کوشش تک نہیں کی جارہی ہے جو بہت فکر انگیز بات ہے ایسے حالات میں مفاہمت کی ضرورت ہوتی ہے، سیاست دانوں کو مل کر بیٹھ کر سوچنا چاہیے،ملک جس طریقے سے چل رہا ہے بہت خطرناک ہے، ہماری بات آج تک کوئی نہیں سن رہا،ہمارا دشمن ملک جس طرح سےایکٹ کر رہا ہے وہ بہت خطرناک ہے.

    پیپلزپارٹی خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک معطل کر دیا گیا،سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں خورشیدشاہ کی رہائی کےخلاف دائرنیب کی درخواست پرسماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ سکھربینچ نےوکلا کےمختصر دلائل کے بعد سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی

    عدالت نے استفسار کیا کہ خورشید شاہ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ جس پرخورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے کہا کہ خورشید شاہ کو نوٹس نہیں ملا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے خورشید شاہ کے گھر پر نوٹس دے دیا تھا،جس پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ جیل کسٹڈی میں ہیں،نوٹس جیل حکام کو دینا چاہیے تھا،خورشید شاہ کی رہائی کے لیے کوئی مچلکے نہیں لے رہا،

    عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل رہے گا،

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس، عدالت میں کون کون پیش ہو گیا؟ اہم خبر

    خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس، عدالت میں کون کون پیش ہو گیا؟ اہم خبر

    خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس، عدالت میں کون کون پیش ہو گیا؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ احتساب عدالت پیش ہو گئے ہیں، خورشید شاہ جوڈیشل ریمانڈپراسپتال میں زیرعلاج ہیں ،نیب نے خورشید شاہ کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کر رکھا ہے، خورشیدشاہ کیخلاف ریفرنس میں مزید 17 افرادبھی نامزدہیں، خورشیدشاہ کی اہلیہ،دونوں بیٹےاورداماد بھی عدالت پیش ہوئے ہیں، اویس قادر شاہ،ایم پی اے فرخ شاہ ودیگراحتساب عدالت پیش ہوئے ہیں. سکھر:ملزمان پرایک ارب 23 کروڑ روپے کرپشن کاالزام ہے.

    پیپلزپارٹی خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک معطل کر دیا گیا،سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں خورشیدشاہ کی رہائی کےخلاف دائرنیب کی درخواست پرسماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ سکھربینچ نےوکلا کےمختصر دلائل کے بعد سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی

    عدالت نے استفسار کیا کہ خورشید شاہ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ جس پرخورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے کہا کہ خورشید شاہ کو نوٹس نہیں ملا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے خورشید شاہ کے گھر پر نوٹس دے دیا تھا،جس پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ جیل کسٹڈی میں ہیں،نوٹس جیل حکام کو دینا چاہیے تھا،خورشید شاہ کی رہائی کے لیے کوئی مچلکے نہیں لے رہا،

    عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل رہے گا،

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • پی پی رہنما خورشید شاہ کو ملا عدالت سے پھر بڑا جھٹکا

    پی پی رہنما خورشید شاہ کو ملا عدالت سے پھر بڑا جھٹکا

    پی پی رہنما خورشید شاہ کو ملا عدالت سے پھر بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رہنما پیپلزپارٹی خورشید شاہ کی رہائی کا حکم 16 جنوری تک معطل کر دیا گیا،سندھ ہائیکورٹ سکھر بینچ میں خورشیدشاہ کی رہائی کےخلاف دائرنیب کی درخواست پرسماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ سکھربینچ نےوکلا کےمختصر دلائل کے بعد سماعت 16 جنوری تک ملتوی کردی

    عدالت نے استفسار کیا کہ خورشید شاہ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ جس پرخورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار نے کہا کہ خورشید شاہ کو نوٹس نہیں ملا،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم نے خورشید شاہ کے گھر پر نوٹس دے دیا تھا،جس پر خورشید شاہ کے وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ جیل کسٹڈی میں ہیں،نوٹس جیل حکام کو دینا چاہیے تھا،خورشید شاہ کی رہائی کے لیے کوئی مچلکے نہیں لے رہا،

    عدالت نے کہا کہ آئندہ سماعت تک احتساب عدالت کا فیصلہ معطل رہے گا،

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس میں کس کس کے نام شامل، پیپلز پارٹی پریشان

    خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس میں کس کس کے نام شامل، پیپلز پارٹی پریشان

    خورشید شاہ کے خلاف نیب ریفرنس میں کس کس کے نام شامل، پیپلز پارٹی پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نے خورشید شاہ کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کا ریفرنس دائر کیا ہے، ریفرنس میں خورشید شاہ کیساتھ انکی بیگمات ناز بی بی اور طلعت بی بی بھی شامل ہیں۔ ان کے بیٹے ایم پی اے فرخ شاہ، زیرک شاہ، بھتیجے صوبائی وزیر اویس شاہ کے نام بھی ریفرنس میں شامل ہیں۔

    نیب ریفرنس میں خورشید شاہ کے بھتیجے جنید قادر شاہ بھی شامل ہیں، ریفرنس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما کی چھ سو ایکڑ زرعی زمین، پلاٹس، بنگلے اور بینک بیلنس ظاہر کیا گیا ہے، ریفرنس میں خورشید شاہ کے دوست نثار پٹھان، بیٹے زوہیب میر، ثاقب رضا اور محمد شعیب پٹھان شامل ہیں۔ خورشید شاہ کیخلاف ریفرنس میں رحیم بخش اعوان انکے بیٹے محمد ثاقب اعوان، دوست ٹھیکیدار اکرم خان کا نام بھی شامل ہے،جیکب آباد سے گرفتار عبدالرزاق بہرانی اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیّد خالد حسین بھی ریفرنس میں شامل ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کے وکیل مکیش کارڑا کا کہنا ہے کہ ریفرنس میں زرعی زمینوں، بنگلے اور پلاٹس کی قیمت کا غلط تعین کیا گیا ہے، پندرہ، بیس سال پہلے خریدی جانے والی زمینوں کی قیمت آج کے حساب سے لگائی گئی ہے۔ نیب ریفرنس میں خورشید شاہ کے بنگلے کی قیمت بہت زیادہ دکھائی گئی ہے، پندرہ سال قبل خریدے گئے زیورات انکم ٹیکس میں ظاہر کئے گئے ہیں، زیورات کی قیمت آج کے حساب سے لگائی جارہی ہے۔

    مکیش کارڑا کا مزید کہنا تھا کہ خورشید شاہ نے زمین، جائیداد، طلائی زیورات سب کچھ انکم ٹیکس میں ظاہر کیا ہے، نیب ریفرنس میں اعداد شمار غلط بیان کئے جارہے ہیں، احتساب عدالت میں ریفرنس کے خلاف بھرپور جواب دیں گے۔

    ریفرنس سکھر کی احتساب عدالت نے سماعت کیلئے منطور کرلیا۔ سماعت کیلئے احتساب عدالت کے جج امیر علی مھیسر نے 24 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی،  عدالت میں نیب پراسیکیوٹر زبیر ملک اور رباط گھمرو نے ریفرنس پیش کیا۔

    دوسری جانب خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار کارڑا نے بھی احتساب عدالت میں پیش ہو کر خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کیلئے پچاس لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کر دیئے،

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • خورشید شاہ کے خلاف دائر ریفرنس کی کب ہو گی سماعت؟ اہم خبر

    خورشید شاہ کے خلاف دائر ریفرنس کی کب ہو گی سماعت؟ اہم خبر

    خورشید شاہ کے خلاف دائر ریفرنس کی کب ہو گی سماعت؟ اہم خبر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رکن قومی اسمبلی خورشید شاہ کیخلاف ایک ارب چوبیس کروڑ روپے کی کرپشن کا ریفرنس احتساب عدالت میں پیش کر دیا، جج نے نیب ریفرنس سماعت کیلئے منظور کرلیا۔

    نیب کی جانب سے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ، انکے دو بیٹوں، دو بیگمات اور صوبائی وزیر اویس قادر شاہ سمیت اٹھارہ ملزمان کے ایک ارب چوبیس کروڑ سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں تیار کیا گیا ریفرنس سکھر کی احتساب عدالت نے سماعت کیلئے منطور کرلیا۔ سماعت کیلئے احتساب عدالت کے جج امیر علی مھیسر نے 24 دسمبر کی تاریخ مقرر کر دی، آج عدالت میں نیب پراسیکیوٹر زبیر ملک اور رباط گھمرو نے ریفرنس پیش کیا۔

    دوسری جانب خورشید شاہ کے وکیل مکیش کمار کارڑا نے بھی احتساب عدالت میں پیش ہو کر خورشید شاہ کی ضمانت پر رہائی کیلئے پچاس لاکھ روپے کے مچلکے بھی جمع کر دیئے،

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • رہائی کے فیصلے کے بعد بھی نیب کا خورشید شاہ کے خلاف بڑا اقدام،پی پی پریشان

    رہائی کے فیصلے کے بعد بھی نیب کا خورشید شاہ کے خلاف بڑا اقدام،پی پی پریشان

    رہائی کے فیصلے کے بعد بھی نیب کا خورشید شاہ کے خلاف بڑا اقدام،پی پی پریشان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کی مچلکے جمع کرانے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے پی پی رہنما کو احتساب عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو بتایا کہ خورشید شاہ کی ضمانت کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ عدالت نے کہا خورشید شاہ مچلکے جمع کرانے کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کریں۔

    قبل ازیں نیب نے خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ خورشید شاہ کو رہا کرنے کا فیصلہ خلاف قانون ہے، خورشید شاہ کی رہائی سے متعلق نیب سکھر عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    گرفتاری کے بعد بیماری سیاسی رہنماؤں کا معمول،خورشید شاہ بھی

    خورشید شاہ کی گرفتاری، دونوں بیگمات نے بڑا قدم اٹھا لیا، عدالت پہنچ گئیں

    واضح رہے کہ احتساب عدالت سکھر نے پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے آمدن سے زائد اثاثہ بنانے کے معاملے پر منگل کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔احتساب عدالت سکھر نے خورشید شاہ کو50لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا.

    قبل ازیں خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی سمیت تمام اداروں سے تعاون کرتارہوں گا،ملک میں انصاف ہوتارہاتو ملک کوترقی ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا،32سالہ سیاسی زندگی متاثر ہوئی اب چاہتاہوں دودھ کادودھ اورپانی کاپانی ہوجائے۔

  • سندھ کے بڑے شہر میں سکول جانے والے بچوں پر حملہ ،ایمرجنسی نافذ

    سندھ کے بڑے شہر میں سکول جانے والے بچوں پر حملہ ،ایمرجنسی نافذ

    سندھ کے بڑے شہر میں سکول جانے والے بچوں پر حملہ ،ایمرجنسی نافذ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے علاقے سکھر میں کندھرا کے قریب اسکول جانیوالے بچوں پرآوارہ کتوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 6 بچے زخمی ہو گئے، زخمی بچوں کو طبی امداد کے لئے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،اطلاع پر بچوں کے والدین ہسپتال پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کر دی، بچوں‌ کے والدین نے کتوں کے خلاف آپریشن کا مطالبہ کیا.

    سندھ کے بعد پنجاب میں کتے کاٹنے لگے،دس سالہ بچے کو پنجاب کے کس بڑے ہسپتال میں ویکسین نہ ملی؟

    واضح رہے اس سے قبل کراچی میں بھی شہری آوارہ کتوں کا شکار بن گئے تھے، کتے کے کاٹنے کی بیماری ریبیز سےایک 45 سالہ شخص سلیم چل بسا۔نیو کراچی کا رہائشی، 6 بچوں کا باپ، محمد سلیم جو چند روز قبل اپنی چار سالہ بیٹی کو پا گل کتے سے بچاتے ہوئے ریبیزجیسی لاعلاج بیماری کا شکار ہو گیا تھا، جناح اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں دم تو ڑ گیا تھا۔

    سندھ میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں مسلسل اضافے کے بعد بھی سائیں حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔

    محکمہ صحت سندھ نے اگست تک ڈاگ بائٹ واقعات کےاعداد وشمارجاری کردیئے ،رواں سال سندھ کے مختلف اضلاع میں ایک لاکھ 22 ہزار 566 افراد ڈاگ بائٹ کاشکار ہوئے ہیں،قمبرمیں رواں سال 11 ہزار 935 افراد ڈاگ بائٹ کا شکارہوئے ،دادو میں 11 ہزار 330 جبکہ نوشہروفیروز میں 10 ہزار 847 افراد کو کتوں نے کاٹا

    آوارہ کتے اب بیرون ملک سیر کریں گے

    رپورٹ کے مطابق خیرپور میں 8 ہزار 958 افراد کتوں کے کاٹنے کا شکار ہوئے ،جناح اسپتال میں متاثرہ افراد کی تعداد 8 ہزار سے تجاوز کر گئی ،ستمبر تک7ہزار 741 افراد کو جناح اسپتال لایا گیا تھا .

    یہ کراچی ہے جہاں سول ہسپتال میں کتے کاٹنے کی ویکسین نہیں ملتی مریض پریشان

    شہریوں کا کہنا ہے کہ آوراہ کتے گلیوں میں پھر رہے ہوتے ہیں آج ہونے والے واقعہ کے بعد بچوں کو گھروں سے نکالنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا، سندھ حکومت کو چاہئے کہ کراچی میں کچرے سے پہلے ان کتوں کے خلاف آپریشن کرے تا کہ شہری سکون کا سانس لے سکیں.