Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اب واٹس ایپ پر  انٹرنیٹ کے بغیر بھی  فائل شیئر کی جا سکیں گی

    اب واٹس ایپ پر انٹرنیٹ کے بغیر بھی فائل شیئر کی جا سکیں گی

    میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے ایک ایسے فیچر پر کام شروع کیا ہے جس سے انٹرنیٹ کے بغیر بھی فائل شیئر کی جا سکیں گی، یہ فیچر تصاویر، ویڈیوز اور دیگر دستاویزات کو شیئر کرنے کا طریقہ بدل کر رکھ دے گا۔

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹWABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ کے اس نئے فیچر کے ذریعے قریب موجود افراد سے فائلز شیئر کرنا بہت آسان ہو جائے گا،اگر آپ اینڈرائیڈ فونز میں نیئر بائی شیئر نامی فیچر استعمال کر چکے ہیں تو واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر ضرور پسند آئے گا۔

    یہ نیا فائل شیئرنگ فیچر اس وقت اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں دستیاب ہےاس فیچر کے بارے میں پہلی بار جنوری 2024 میں بتایا گیا تھا مگر اب مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں یہ فیچر اسی وقت کام کرے گا جب دیگر افراد کی جانب سے شیئر کی درخواست کو منظوری دی جائے گی،اس فیچر کے تحت صرف ان افراد سے فائلز شیئر کرنا ممکن ہوگی جو صارف کی کانٹیکٹ لسٹ میں موجود ہوں گے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہر طرح کی فائلز کو انٹرنیٹ کنکشن کے بغیر شیئر کرنا ممکن ہوگا تمام شیئر فائلز کو انکرپشن کا تحفظ حاصل ہوگا تاکہ کسی تیسرے کی ان تک رسائی نہ ہوسکے یہ نیا فیچر عوامی مقامات پر کسی فرد کے ساتھ فوٹوز یا ویڈیوز شیئرنگ کے لیے کارآمد ثابت ہوگاابھی اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے تو ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کب تک اسے تمام افراد کے لیے متعارف کرایا جائے گا۔

  • شہد کی مکھیوں  کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں کا حیران کن انکشاف

    شہد کی مکھیوں کے حوالے سےسائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیاں پانی کے اندر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ دریافت سائنسدانوں نے اس وقت کی جب انہوں نے حادثاتی طورپر شہد کی مکھیوں کو ڈبو دیا ، 2022 میں کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کے ماہرین ایک تحقیق پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیڑے مار ادویات سے زیرزمین خوابیدہ شہد کی مکھیوں کی ملکہ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    یہ تحقیق شہد کے مکھیوں کی ایک قسم بمبل بی پر کی جا رہی تھی اور اس دوران فریج میں خرابی سے زیرزمین جگہ پانی میں ڈوب گئی پانی کے اندر شہد کی مکھیاں موجود تھیں اور سائنسدان یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ یہ غلطی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی بلکہ متعدد مکھیاں زندہ بچ گئیں، اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر اس بارے میں تحقیق کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ زیرآب شہد کی مکھیاں بچ سکتی ہیں یا نہیں۔

    اس کے لیے 147 مکھیوں کو استعمال کیا گیا اور انہیں مٹی سے بھری شیشے کی بوتلوں میں ڈال دیا گیا، بوتلوں پر ہوا کی گزرگاہ کے لیے سوراخ کیے گئے تھے اور بوتلوں کو تاریک اور ٹھندی جگہ پر رکھ کر زیرزمین ماحول کی نقل کی گئی،17 مکھیوں کو خشک بوتلوں میں رکھا گیا جبکہ ایک گروپ مکھیوں کو کو بوتلوں میں 20 ملی لیٹر پانی میں تیرنے دیا گیا جبکہ تیسرے گروپ کی مکھیوں کو پانی میں ڈبو دیا گیا۔

    تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کے اندر موجود 90 فیصد مکھیاں زندہ بچ گئیں، ان میں 17 ایسی مکھیاں بھی تھیں جن کو پانی کے اندر 7 دنوں تک رکھا گیا،ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مکھیاں زیرآب کیسے بچ جاتی ہیں مگر ماہرین کے خیال میں ایسا ممکنہ طور پر مکھیوں کے سانس لینے کے طریقے سے ہوتا ہے۔

  • اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    اسرائیل معاہدے کیخلاف احتجاج کرنے پر گوگل کے درجنوں ملازمین برطرف

    نیویارک: گوگل نے اسرائیلی حکومت کے ساتھ کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدے کے خلاف دھرنوں میں شرکت کرنے والے 28 ملازمین کو برطرف کردیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق گوگل کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان 28 ملازمین نے دیگر ملازمین کے کاموں میں رکاوٹ ڈالا اور سہولیات تک رسائی سے روکا جو ہماری پالیسیوں کی واضح خلاف ورزی ہےوہ منگل کو ہونے والے ان مظاہروں کی تحقیقات جاری رکھے گا ان ملازمین نے سنی ویل میں گوگل کلاؤڈ کے چیف ایگزیکٹو تھامس کورین کے دفتر پر قبضہ کرلیا تھا۔

    اسرائیل کے خلاف دھرنوں کو منظم کرنے والے گروپ سے وابستہ گوگل کے ملازمین نے No Tech For Apartheid نے بیان میں کہا کہ ملازمتوں سے برطرفی جوابی کارروائی کی ایک واضح مثال ہے گوگل کی پالیسی اور اصول و ضوابط ملازمین کو پُرامن احتجاج کا حق دیتا ہے، چند ایسے ملازمین کو بھی برطرف کیا گیا جو احتجاج میں شریک نہیں تھے گوگل ورکرز کو ہماری مزدوری کی شرائط و ضوابط کے بارے میں پرامن احتجاج کرنے کا حق ہے گوگل کے جن ملازمین کو برطرف کیا گیا ان میں سے کچھ نے دھرنوں میں حصہ نہیں لیا تھا۔

    متحدہ عرب امارات میں ہونے والی بارش کلاؤڈ سیڈنگ کا نتیجہ تھی؟

    واضح رہے کہ 2021 میں Nimbus معاہدہ کیا گیا جس کے تحت گوگل کو اسرائیل کی مختلف وزارتوں کے لیے کلاؤڈ سافٹ ویئر فراہم کرنا تھا تاہم گوگل کے ملازمین کی جانب سے نسل کشی میں ملوث اسرائیلی فوج کو اس ٹیکنالوجی کی فراہمی پر 16 اپریل کو معاہدے کے خلاف مظاہرے، احتجاج اور دھرنا نیویارک سٹی، سیئٹل اور سنی ویل، کیلیفورنیا، نیویارک میں گوگل کے دفاتر میں ہوئے جو 10 گھنٹے تک جاری رہا مظاہرین نے گوگل سے اسرائیل کے ساتھ ہوئے والے معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

    3 حالتیں جب دانتوں میں برش نہیں کرنا چاہیے

    یاد رہے کہ اس سے قبل غزہ میں صہیونی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (مصنوعی ذہانت) کا سہارا لیے جانے کا انکشاف ہوا تھا،اسرائیل چہرے کی شناخت کا اعلیٰ ترین سافٹ ویئر استعمال کررہا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی انسان کے جزبات اور احساسات کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔

    ‏عالمی ادارہ صحت کا پاکستان پر سفری پابندیوں کا فیصلہ برقرار

    قبل ازیں 9 مارچ 2024 کو گوگل نے امریکا کے شہر نیویارک میں کمپنی کے زیر اہتمام ہونے والے اسرائیلی ٹیک ایونٹ کے دوران فلسطین کے حق میں نعرہ لگانے والے ایک سافٹ ویئر انجینئر کو برطرف کر دیا تھا۔

    واضح رہے کہ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 33 ہزار 899 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں اور 76 ہزار 664 زخمی ہوچکے ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ شہید اور زخمیوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوسکتی ہے۔

  • واٹس ایپ  میں اے آئی  فیچر کا اضافہ

    واٹس ایپ میں اے آئی فیچر کا اضافہ

    میٹا نے اپنی ایپ ”واٹس ایپ“ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فیچر کا اضافہ کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : میٹا نے حال ہی میں واٹس ایپ صارفین کے لیے اپنے جنریٹیو اے آئی فیچر“Meta AI“ کے رول آؤٹ کا آغاز کیا ChatGPT یا Copilot جیسی تخلیقی خصوصیات کی طرح، واٹس میں بھی اب صارفین اشارے کی بنیاد پر متن یا تصاویر بنا سکتے ہیں-

    میٹا اے آئی میں صارفین سوالات پوچھ سکتے ہیں ، لطیفوں کی درخواست کر سکتے ہیں ، یا تصاویر بناسکتے ہیں جبکہ صارفین میٹا اے آئی کے ساتھ وقف شدہ چیٹ بوٹ میں یا ذاتی اور گروپ چیٹس میں بھی بات چیت کرسکتے ہیں، فی الحال، یہ فیچر محدود تعداد میں صارفین کے لیے دستیاب ہے اور صرف انگریزی زبان میں ہے۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف سے آذربائیجان اور ترکی کے سفیر کی ملاقات

    میٹا اے آئی اب GIFs بنانے کے لیے ان تصاویر کو متحرک بھی کر سکتا ہے اس لیے اب، صرف ایک تصویر حاصل کرنے کے بجائے، صارفین میٹا اے آئی کے ذریعے تخلیق کردہ اپنی کسی بھی تصویر کو GIF میں تبدیل کر سکتے ہیں تاکہ مزید تفریحی اور پرکشش واٹس ایپ گفتگو ہو سکے۔

    اس کے لئے سب سے پہلے میٹا اے آئی کھولیں، پھر چیٹ انٹرفیس کے اوپری حصے میں ظاہر ہونے والے نیلے دائرے کے آئیکن پر کلک کریں، چیٹ میں میٹا اے آئی کو طلب کریں ذاتی یا گروپ چیٹ میں، میسج فیلڈ میں اپنے پرامپٹ کے اندر @MetaAI کو ٹیگ کریں اور بھیجیں۔

    شہر اقبال کے باسیوں کو محفوظ خوراک کی یقینی فراہمی کیلئے پنجاب فوڈ اتھارٹی متحرک …

    تصویر کی درخواست کریں: پرامپٹ میں، اے آئی سے اپنی مطلوبہ تصویر بنانے کے لیے کہیں، امیج کو اینیمیٹ کریں: ایک بار امیج تیار ہونے کے بعد، اسی تصویر کا جواب دیں اور میٹا اے آئی سے اسے اینیمیٹ کرنے کو کہیں، اس پرامپٹ کے بعد، میٹا اے آئی تیار کردہ امیج کا GIF بنائے گا۔

    آپ خاص طور پر براہ راست میٹا اے آئی سے GIF بنانے کے لیے نہیں کہہ سکتے اس کے بجائے، آپ کو پہلے کسی تصویر کے لیے ایک پرامپٹ فراہم کرنا ہوگا اور پھر، تصویر تیار ہونے کے بعد، پرامپٹ کے ساتھ اس کا جواب دیں۔

    نواز شریف کی این اے 130 سے کامیابی،یاسمین راشد نے چیلنج کر دی

  • آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت

    آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت

    پرتھ: سائنس دانوں نے آسٹریلیا میں ایک پُراسرار قسم کی چیونٹی دریافت کر لی۔

    باغی ٹی وی : یورنیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ڈاکٹر مارک وونگ اور بینیلونگیا انوائرنمنٹل کنسلٹنٹ کی جین مک رائی نے اس نئی قسم کے متعلق تفصیلات جرنل زُو کیز میں شائع ہونے والے ایک مقالے میں پیش کیں،جس کے مطابق شمال مشرقی آسٹریلیا کے پِلبارا خطے میں محققین نے مدھم پیلے رنگ کی پتلی اور لمبی ٹانگوں والی چیونٹی دریافت کی ہے جو تیز دھار جبڑے رکھتی ہے جبکہ زیر زمین ماحول اس کا مسکن ہےماہرین نے چیونٹی کی اس قسم کا نام ہیری پورٹر سیریز کے کردار لارڈ وولڈمورٹ پر ’لیپٹینیلا وولڈمورٹ‘ رکھا ہے۔

    محققین کو اس قسم کی دریافت آسٹریلیا کے خشک پِلبارا خطے میں زیر زمین جانوروں پر کی جانے والی تحقیق کے دوران ہوئی محققین نے موقع پر اس قسم کی صرف دو چیونٹیوں کا مشاہدہ کیا،ایل وولڈمورٹ اپنے انتہائی پتلے جسم اور لمبی اور باریک ٹنگوں اور اینٹینا کی وجہ سے چیونٹیوں کی دیگر اقسام سے بالکل مختلف ہے،محققین کو اس چیونٹی کی دریافت زمین سے 25 میٹر کی گہرائی میں ہوئی۔

    جماعت اسلامی کا لبیک یا اقصی احتجاج کا اعلان،نو منتخب امیر کریںگے خطاب

    ڈسکہ :ایک ہی روز میں 3 خواتین اجتماعی زیادتی کا شکار ،مقدمات درج،ملزمان فرار

    سیالکوٹ: علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ ہسپتال کی ری ویمپنگ 15جون تک مکمل کی جائے۔ …

  • چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے بغیرکسی نیٹ ورک کے چلنے والااسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    چین نے موبائل فون کی دنیا میں ایک اور کارنامہ سرانجام دے دیا ہے، ZTE Axon 60 Ultra موبائل فون کے ذریعے صارفین اب ڈوئل سیٹلائٹ کنیکٹیوٹی کو استعمال کر سکتے ہیں۔

    حال ہی میں چینی کمپنی کی ایکژون کی جانب سے ZTE Axon 60 Ultra لانچ کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین آن لائن آڈیو کالز اور ٹیکسٹ میسجز کر سکتے ہیں۔

    اس کے لیے چینی ٹیانٹونگ سیٹلائٹ سسٹم کو استعمال کیا گیا ہے، جس کے ذریعے اب صارفین باآسانی ایک دوسرے سے بات چیت کر سکتے ہیں۔

    اگرچہ اس اسمارٹ فون کی قیمت اور دستیابی کے حوالے سے فلحال خبر سامنے نہیں آئی ہے، تاہم اس فون کی خصوصیات ضرور صارفین کی توجہ سمیٹ رہی ہیں۔

    ZTE Axon 60 Ultra کی 6 اعشاریہ 78 انچ او ایل ای ڈی اسکرین ڈسپلے ہے جبکہ اس ریزولیوشن 1.5K ہے ، دوسری جانب 120 ہرٹز ری فریش ریٹ ہے۔

    ڈمنگ کی بات کی جائے تو اس میں 22160 ہرٹز پی ڈبلیو ایم ڈمنگ موجود ہے، دلچسپ بات یہ ہے اوکٹا کور اسنیپ ڈریگن 8 جین 2 ایس او سی کے ساتھ ایل پی ڈی ڈی آر 5 ایکس ریم اور یو ایف ایس 4 اسٹوریج موجود ہے۔

    جبکہ اس موبائل کی دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس کے لیے کسی بھی قسم کے نیٹ ورک کی ضرورت نہیں ہوگی، اس میں موجود ڈوئل سیٹلائٹ کنیکٹویٹی صارفین کو لائیو آڈیو کالز اور دو طرفہ میسجز کی روانی کے حوالے سے سہولت فراہم کرتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ موبایل فون چین کے ٹیانٹونگ سیٹلائٹ سے جڑا ہے۔

    جبکہ رئیر کیمرہ 50 میگا پکسل مین سینسر کے ساتھ موجود ہے، جس میں او آئی ایس سپورٹ موجود ہے۔ جبکہ 50 میگاپکسل سیکنڈری سینسر بھی موجود ہے۔

    ویڈیو کال اور سیلفیز کے لیے 32میگا پکسل فرنٹ سینسر موجود ہے، دوسری جانب 5 جی کی سہولت کے ساتھ ساتھ یو ایس بی ٹائپ سی پورٹ بھی ہے۔

    دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس موبائل فون میں 6 ہزار ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے، جبکہ 80 واٹ چارجنگ سپورٹ بھی موجود ہے۔

  • “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    “ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصویر جاری کردی

    واشنگٹن: امریکی خلائی ایجنسی“ناسا“ نے چاند کے گرد چکر لگانے والی پراسرار چیز کی تصاویر جاری کی ہیں-

    باغی ٹی وی: یہ تصاویر ناسا کے Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO) نے لی ہیں جن میں مارول کے معروف تخیلاتی کردار ”سلور سرفر“ کے بورڈ سے مشابہت رکھتی پتلی افقی لکیر دکھائی دے رہی ہےسلور سرفر دراصل مارول کامکس کا ایک کردار ہے جو مکمل طور پر سلور رنگ کا ہوتا ہے اور اپنے سرف بورڈ پر خلا میں گھومتا ہے اور اپنے مالک کیلئے خوراک کا انتظام کرتا ہے، جو پورے پورے سیارے نگل جاتا ہے۔

    خلائی ایجنسی نے کہا کہ یہ پراسرار شے کوئی کامک بک کیریکٹر، سپر ہیرو فلموں یا خلائی مخلوق کا جہاز نہیں، بلکہ ناسا کے ایل آر او نے دراصل وہاں سے گزرتے جنوبی کوریائی سیٹلائٹ کو اس وقت کیمرے میں قید کیا جب دونوں مدار میں ایک دوسرے کے قریب سے گزر رہے تھے۔

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    ناسا کے مطابق ، ایل آر او نے کوریا ایرو اسپیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھیجے گئے ”دانوری لونر آربیٹر“ کی متعدد تصاویر اس وقت حاصل کیں، جب دونوں 5 اور 6 مارچ کے درمیان متوازی لیکن مخالف سمتوں میں ایک دوسرے کے پاس سے گزر رہے تھے،دانوری جو 2022 سے چاند کے گرد چکر لگا رہا ہے، اس کے اور ایل آر او کے درمیان انتہائی تیز رفتار کی وجہ سے تصویر مسخ ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    رواں سال کراچی میں 425 مقابلوں میں 55 ڈاکو مارے گئے، سندھ پولیس

    دانوری چاند پر جنوبی کوریا کا پہلا خلائی جہاز ہے اور دسمبر 2022 سے چاند کے مدار میں ہے ایل آر او کو 2009 میں شروع کیا گیا تھا تب سے، اس نے اپنے سات طاقتور آلات کے ساتھ اہم ڈیٹا اکٹھا کیا ہے، یہ چاند کے مطالعہ میں ایک انمول شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    شرجیل میمن کی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیوں کا سیکرٹری انفارمیشن کو آگاہ کرنے …

  • واٹس ایپ  ویب ورژن کا نیا یوزر انٹرفیس متعارف کرانے کیلئے تیار

    واٹس ایپ ویب ورژن کا نیا یوزر انٹرفیس متعارف کرانے کیلئے تیار

    واٹس ایپ کے ویب ورژن کے لیے نیا یوزر انٹرفیس متعارف کرایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی: میٹا کی جانب سے مارچ 2024 میں اینڈرائیڈ صارفین کے لیے واٹس ایپ کے ڈیزائن کو نمایاں حد تک تبدیل کیا گیا تھا تاہم اب ایسا واٹس ایپ کے ویب ورژن کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے،اس تبدیلی کے بعد ویب ورژن میں واٹس ایپ کا ڈیزائن نمایاں حد تک تبدیل ہو جائے گا،اس نئے ڈیزائن میں اوپر موجود چیٹس، کمیونٹیز، اسٹیٹس اور دیگر تمام ٹیب سائیڈ میں منتقل کر دئیے جائیں گے جو کافی زیادہ بہتر محسوس ہوتے ہیں۔

    یہ نیا فیچر ابھی ویب ورژن میں بیٹا (beta) صارفین کو دستیاب ہے ویب ورژن کے اس فیچر پر کافی عرصے سے کام کیا جا رہا تھا اور اب جاکر اسے بیٹا صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔

    کافی عرصے بعد واٹس ایپ کے ویب ورژن کے ڈیزائن کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یوزر انٹرفیس کے ساتھ ساتھ ویب ورژن کے لیے ڈارک تھیم کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے،اس میں پس منظر کے رنگوں کو ڈارک تھیم کے ساتھ زیادہ بہتر طریقے سے ملایا جائے گا جس سے یوزر انٹرفیس زیادہ خوبصورت محسوس ہوگا اور اسکرین کو دیکھنے سے آنکھوں پر پڑنے والا تناؤ بھی گھٹ جائے گا ،چونکہ ابھی نئے یوزر انٹر فیس کی آزمائش بیٹا ورژن میں کی جا رہی ہے تو تمام صارفین کے لیے اسے متعارف کرانے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

  • سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ  تجربہ

    سائنسدانوں کا زمین کی حدت کو بڑھنے سے روکنے کیلئے خفیہ تجربہ

    واشنگٹن: سائنسدانوں نے زمین کو بڑھتی ہوئی عالمی حدت کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر ایک خفیہ پروجیکٹ کیا گیا-

    باغی ٹی وی:”نیو یارک پوسٹ“ کے مطابق امریکہ میں سائنس دانوں نے زمین کو بڑھتی ہوئی عالمی حدت کو بڑھنے سے روکنے کی کوشش کے طور پر ایک خفیہ منصوبے کے تحت سورج کی کچھ شعاعوں کو واپس خلا میں واپس اچھالنے کی کوشش کی، اس کیلئے کلاؤڈ برائٹننگ کا استعمال کیا، جو کہ ایک ایسی تکنیک ہے جو بادلوں کو روشن بناتی ہے تاکہ وہ آنے والی سورج کی روشنی کے ایک چھوٹے سے حصے کو منعکس کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں، کسی علاقے کے درجہ حرارت کو کم کرتے ہیں۔

    اس ٹیکنالوجی کا مقصد سمندروں کے اوپر آسمان کی طرف رخ کرکے کئی ڈیوائسز لگانا ہے جو سمندر کے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو نیچے لائیں گی،2 اپریل کو، واشنگٹن یونیورسٹی کے محققین نے سان فرانسسکو میں ایک ناکارہ طیارہ بردار بحری جہاز کے اوپر رکھی برف کی مشین نما ایک آلے سے نمک کے ذرات کو تیز رفتاری سے آسمان میں چھوڑا، یہ تجربہ Coastal Atmospheric Aerosol Research and Engagement (CAARE ) کے نام سے ایک خفیہ پروجیکٹ کے تحت کیا گیا خیال یہ تھا کہ بادلوں کو آئینے کے طور پر استعمال کیا جائے جو آنے والی سورج کی روشنی منعکس کریں گے۔

    شادی کے بعد خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    اس تصور کی وضاحت برطانوی ماہر طبیعیات جان لیتھم نے 1990 میں کی تھی انہوں نے 1,000 بحری جہازوں کا ایک بیڑا بنانے کی تجویز پیش کی جو شمسی حدت کو ختم کرنے کے لیے ہوا میں سمندری پانی کی بوندوں کو چھڑکتے ہوئے پوری دنیا میں سفر کریں گے۔

    اس ٹیکنالوجی کے پیچھے سائنس کا سادہ نظریہ استعمال کیا گیا ہے کہ چھوٹی چھوٹی بوندوں کی ایک بڑی تعداد بڑی بوندوں کی چھوٹی تعداد سے زیادہ سورج کی روشنی کی عکاسی کرتی ہے، لہٰذا ہوا میں ایروسول کھارے پانی کا چھڑکاؤ سورج کی روشنی کو واپس اچھالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن قطروں کا سائز اور مقدار درست کرنا انتہائی ضروری ہے، اگر قطرے بہت چھوٹے ہوں تو وہ منعکس نہیں ہوں گے اور بہت بڑا قطرہ بادلوں کو اور بھی کم عکاس بنا دے گا، اس ٹیسٹ کے لیے سائنسدانوں کو ایسے قطروں کی ضرورت ہے جو انسانی بالوں کی موٹائی کے 1/700ویں حصے کے ہوں اور ہر سیکنڈ میں اس طرح کے کواڈریلین قطرات چھڑکیں۔

    پوری دنیا میں زیر زمین میٹھے پانی کے قدرتی ذخائر سُکڑ رہے ہیں،تحقیق

  • شادی کے بعد  خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    شادی کے بعد خواتین کے گھریلو کام کاج میں کتنا اضافہ ہوتا ہے؟

    محققین کا کہنا ہے کہ جدید دنیا میں میاں بیوی کے برابر گھریلو کام کاج کرنے کا تصور پایا جاتا ہے مگر حقیقت میں اب بھی گھر میں خواتین ہی کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے-

    باغی ٹی وی: ویب سائٹ ’secretlifeofmom.com‘ کے مطابق یونیورسٹی آف مشی گن کے ماہرین کی ٹیم نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ زندگی میں شوہر کے آنے سے کسی بھی خاتون کے گھریلو کام کاج میں اوسطاً 4گھنٹے فی ہفتہ کام کا اضافہ ہوتا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ اور ماہر معاشیات فرینک سٹافرڈ کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں میاں بیوی کے برابر گھریلو کام کاج کرنے کا تصور پایا جاتا ہے مگر حقیقت میں اب بھی گھر میں خواتین ہی کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، امریکی خواتین 20ویں صدی کے وسط میں ایک ہفتے میں 26گھنٹے کام کرتی تھیں، اب ان کے کام کی شرح میں کمی واقع ہو چکی ہے اور وہ ہفتے میں اوسطاً 17گھنٹے کام کرتی ہیں۔

    فرینک سٹافرڈ کا کہنا تھا کہ اس عرصے میں مردوں کے کام میں لگ بھگ دو گنا اضافہ ہوا ہے، 20ویں صدی کے وسط میں مرد ہفتے میں اوسطاً 6 گھنٹے کام کرتے تھے اور آج 13 گھنٹے کر رہے ہیں خواتین کے گھریلو کام کاج پر شادی کے اثرات کے حوالے سے فرینک سٹافرڈ اور ان کی ٹیم نے بتایا کہ 1976 میں شادی کرنے کے بعد خواتین کو ہفتے میں اوسطاً 9 گھنٹے اضافی کام کرنا پڑتا تھا، اس میں بھی بتدریج کمی ہوئی ہے اور 2005 کے بعد سے شادی کے بعد خواتین کو 4گھنٹے اضافی کام کرنا پڑ رہا ہے، اسی طرح اس عرصے میں بھی شادی کے بعد مردوں کے کام میں اضافہ ہوا ہے اور 2005 کے بعد سے شادی کے بعد وہ ہفتہ وار 5گھنٹے اضافی کام کر رہے ہیں۔