Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان چھتوں پر نصب سولر توانائی کو سوارم گرڈز میں بدل سکتا ہے: تحقیق

    پاکستان چھتوں پر نصب سولر توانائی کو سوارم گرڈز میں بدل سکتا ہے: تحقیق

    پاکستان چھتوں پر نصب سولر سسٹمز سے پیدا ہونے والی توانائی کو مرکزیت سے آزاد اور کمیونٹی کی شراکت سے قائم کیے جانے والے سوارم گرڈز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لا سکتا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر اس نظام کے نفاذ کے لیے تکنیکی امکانات اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو پُر کرنا ہوگا، جس کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات کو ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔

    پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ (پی آر آئی ای ڈی) کی جانب سے سوارم بجلی کے نظام کا تکنیکی اور معاشی جائزہ پیش کیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹرز، توانائی کے ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی سولر توانائی اور اسے ایک مربوط مقامی بجلی کے نظام میں تبدیل کرنے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

    سوارم گرڈز بنیادی طور پر مرکزیت سے آزاد چھوٹے بجلی کے نظام ہیں، جنہیں گھروں میں نصب سولر سسٹمز یا توانائی کے چھوٹے قابلِ تجدید یونٹس کو آپس میں منسلک کرکے قائم کیا جاتا ہے۔ ان نظاموں کے لیے کسی ایک مرکزی کنٹرولر کی ضرورت نہیں ہوتی، جبکہ مختلف صارفین اپنی ضرورت کے مطابق توانائی پیدا، ذخیرہ، استعمال اور ایک دوسرے کو فروخت کرسکتے ہیں۔

    تحقیق میں دو مطالعات شامل ہیں۔ ’پاکستان کے سولر انقلاب سے استفادہ: سوارم بجلی کا تکنیکی و معاشی جائزہ‘ میں شہری اور دیہی علاقوں میں سوارم گرڈز کے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے، جبکہ ’سوارم گرڈز: سولر بوم کے اگلے مرحلے‘ میں اس نظام کی جانب منتقلی کے لیے حکمت عملی اور عملی نفاذ کا روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔

    مطالعے کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کا فروغ بڑی حد تک حکومت کی پالیسی کے بجائے قابلِ اعتماد اور سستی بجلی کے حصول کے لیے گھریلو صارفین، کسانوں اور کاروباری اداروں کی اپنی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ملک میں سولر نظام کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تنصیب اس رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔

    تحقیق کے مطابق پاکستان میں تقریباً 41 گیگاواٹ کی مجموعی نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کے مقابلے میں 50 گیگاواٹ سے زائد سولر پینلز درآمد کیے جاچکے ہیں۔ تاہم تقسیم شدہ سولر نظام میں تیزی سے اضافے کے باوجود کئی علاقوں میں بجلی کی بندش، کم وولٹیج اور طویل لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

    مطالعے کے مطابق موجودہ صورتحال میں بنیادی مسئلہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت سے زیادہ نظام میں رابطہ کاری کا ہے۔ لاکھوں چھتوں پر نصب سولر سسٹمز ایک مربوط بجلی کے وسائل کے طور پر کام کرنے کے بجائے الگ الگ نظام کی صورت میں موجود ہیں، جس کے باعث ان سے حاصل ہونے والی مجموعی صلاحیت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی گنجائش محدود ہے۔

    پی آر آئی ای ڈی کے مطابق سوارم گرڈ ایک ڈیجیٹل نظام کے تحت چلنے والا مرکزیت سے آزاد مقامی بجلی کا نیٹ ورک ہوگا، جس میں گھرانے اور کاروبار اپنی پیدا کردہ سولر بجلی استعمال کرنے، توانائی ذخیرہ کرنے، اضافی بجلی پڑوسیوں کو فروخت کرنے اور قریبی پروڈیوسر صارفین سے بجلی خریدنے کے قابل ہوں گے۔ اس نظام میں قومی گرڈ کو بنیادی طور پر متبادل ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔

    روایتی مائیکرو گرڈز کے برعکس، جو عموماً مخصوص اور مقررہ حدود میں کام کرتے ہیں، سوارم گرڈز میں گھرانوں اور مختلف گروپس کو ضرورت کے مطابق نظام میں شامل ہونے، اس سے نکلنے اور بجلی کی خرید و فروخت کرنے کی سہولت حاصل ہوسکتی ہے۔ اس طرح مقامی سطح پر بجلی پیدا کرنے اور استعمال کرنے والے صارفین ایک باہمی منسلک نظام کا حصہ بن سکیں گے۔

    محققین نے سوارم گرڈز کے تصور کو دو مختلف ماحول میں آزمایا۔ شہری مثال کے طور پر اسلام آباد کا انتخاب کیا گیا، جہاں مستحکم گرڈ پر بجلی کی طلب نسبتاً زیادہ اور متنوع ہے، جبکہ دیہی مثال کے طور پر سندھ کے تھرپارکر کو منتخب کیا گیا، جہاں آبادی منتشر ہے اور لوگوں کا روزگار موسمی زرعی و مال مویشی کی سرگرمیوں سے وابستہ ہے۔

    جائزے میں گھریلو سروے، سولر وسائل کے اعداد و شمار اور فی گھنٹہ بجلی کی ترسیل کے ماڈل کو استعمال کرتے ہوئے سوارم گرڈز کی تکنیکی، معاشی اور ادارہ جاتی افادیت کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی کمیونٹیز کی اس نظام میں شمولیت کے لیے آمادگی کو بھی جانچا گیا۔

    مطالعے کے مطابق سوارم گرڈز شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں تکنیکی طور پر قابلِ عمل ہیں، تاہم دونوں ماحول کے لیے معاشی ماڈل مختلف ہوں گے۔ شہری علاقوں میں سوارم گرڈز تجارتی بنیادوں پر نجی سرمایہ کاری کے ذریعے قابلِ عمل کاروبار بن سکتے ہیں، جبکہ دیہی منصوبوں کے لیے ابتدائی سرمایہ کاری اور کمیونٹی کی استعداد کار بڑھانے کے لیے خصوصی اقدامات درکار ہوں گے۔ اس کی وجہ دیہی علاقوں میں ابتدائی اخراجات کا زیادہ ہونا اور توانائی کی طلب کا کم ارتکاز ہے۔

    تحقیق میں ضابطہ جاتی فریم ورک کو سوارم گرڈز کے فروغ میں سب سے اہم مشترکہ رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت کسی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے دائرہ اختیار میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت اور تیسرے فریق کو بجلی فروخت کرنے پر پابندی ہے۔

    مطالعے کے مطابق سوارم گرڈز کے بڑے پیمانے پر نفاذ کے لیے نئے ضوابط درکار ہوں گے تاکہ یہ واضح کیا جاسکے کہ بجلی کون فروخت کرسکتا ہے، کس قیمت پر فروخت کی جائے گی اور اس کی ادائیگی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ان تبدیلیوں کے بغیر سوارم گرڈز کو قابلِ عملیت کے مطالعات سے نکال کر بڑے پیمانے پر تجارتی بنیادوں پر چلانا مشکل ہوگا۔

    دوسری تحقیق میں ریگولیٹرز، جن میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) اور انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) شامل ہیں، ڈسٹری بیوشن کمپنیوں، صوبائی حکومتوں اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے قلیل، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔

    سفارشات میں صارفین کے درمیان براہِ راست بجلی کی خرید و فروخت کے لیے ضوابط متعارف کرانا، ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس سے منسلک سولر آلات کے معیارات یکساں بنانا، مسابقتی دوطرفہ معاہدہ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے تحت بجلی کی ریٹیل مارکیٹ کھولنا اور شہری و دیہی علاقوں میں سوارم گرڈز کے پائلٹ منصوبے شروع کرنا شامل ہیں۔

    منتقلی کے منصوبے میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے کے لیے بھی مختلف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سولر اثاثوں کی رجسٹریشن بطورِ ڈیفالٹ میاں یا بیوی میں سے کسی ایک کے نام پر کرنے، سولر نظام کی تنصیب اور حوالگی کے مراحل میں خواتین کی شمولیت یقینی بنانے اور خواتین کی قیادت میں آپریشنز اور مرمت کی ٹیموں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔

    تحقیق کے مطابق پاکستان میں سولر توانائی کے تیزی سے پھیلتے ہوئے نظام کو سوارم گرڈز کے ذریعے ایک مربوط مقامی بجلی کے نظام میں تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اس کے لیے واضح ضابطہ جاتی فریم ورک، مناسب معاشی ماڈلز، پائلٹ منصوبوں، نجی سرمایہ کاری، کمیونٹی کی استعداد کار اور خواتین کی مؤثر شمولیت سمیت متعدد اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

  • گلگت بلتستان میں 5G کا کامیاب تجربہ، ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہ ہموار

    گلگت بلتستان میں 5G کا کامیاب تجربہ، ڈیجیٹل ترقی کی نئی راہ ہموار

    اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے گلگت بلتستان میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ کرلیا ہے، جس کے بعد خطے میں تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

    ایس سی او کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گلگت بلتستان میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ ہفتے کے روز کیا گیا۔ اس پیش رفت کو خطے میں جدید اور تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دستیابی کی جانب اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق 5G سروس کے آغاز سے گلگت بلتستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای کامرس، آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن، سیاحت اور ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ سمیت مختلف شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    ایس سی او کے مطابق اس پیش رفت سے بالخصوص خطے کی نوجوان آبادی کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے، جہاں تیز رفتار انٹرنیٹ کی دستیابی ڈیجیٹل شعبے سے وابستہ سرگرمیوں کے لیے نئے امکانات پیدا کرے گی۔

    گلگت بلتستان میں 5G سروس کی آزمائش کو خطے میں ڈیجیٹل رابطوں کی ترقی کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔ اس سے جدید تیز رفتار انٹرنیٹ ٹیکنالوجی تک رسائی کے حوالے سے خطے میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

    گلگت بلتستان میں 5G سروس کی یہ پیش رفت اس مطالبے کے بعد سامنے آئی ہے جو رواں سال ملک بھر میں 5G سروس کے آغاز کے دوران زور پکڑ گیا تھا۔

    ملک میں 5G ٹیکنالوجی کے رول آؤٹ کے وقت گلگت بلتستان کو نئی ٹیکنالوجی میں شامل کیے جانے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اب ایس سی او کی جانب سے گلگت میں 5G سروس کا کامیاب تجربہ خطے میں جدید موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دستیابی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔

    ایس سی او کے اعلامیے میں خاص طور پر خطے کے نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے نئے مواقع کو اجاگر کیا گیا ہے۔

    5G سروس کی دستیابی سے آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل انٹرپرینیورشپ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کام کرنے والوں کو تیز رفتار انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میسر آسکے گی۔

    اسی طرح ای کامرس، ٹیلی میڈیسن اور سیاحت کے شعبوں میں بھی جدید انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

  • انڈونیشیا میں 25 ہزار سال پرانے انسانی فوسلز سے منشیات کے استعمال کے قدیم ترین شواہد دریافت

    انڈونیشیا میں 25 ہزار سال پرانے انسانی فوسلز سے منشیات کے استعمال کے قدیم ترین شواہد دریافت

    انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایسے انسانی فوسلز دریافت کیے ہیں جن کے دانتوں میں 16 ہزار سے 25 ہزار سال پرانے سپاری کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت انسان کی جانب سے کسی نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے کے استعمال کا اب تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت ہے۔

    تحقیق کے مطابق دو قدیم انسانی باقیات سولاویسی کے جنوبی علاقے میں دو مختلف مقامات سے دریافت ہوئیں۔ ان میں سے ایک کی عمر 16 ہزار سے 25 ہزار سال کے درمیان بتائی گئی ہے، جو انسانی منشیات کے استعمال کے سابقہ معلوم شواہد سے کم از کم 3 ہزار سال پرانی ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق دونوں افراد شکاری اور خوراک جمع کرنے والے قدیم انسان تھے اور دونوں کی عمریں 35 سال سے زیادہ تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر تقریباً 6,300 سے 7,600 سال بتائی گئی ہے۔ دونوں افراد سولاویسی میں زراعت کے آغاز سے بھی پہلے کے دور سے تعلق رکھتے تھے۔

    تحقیق کے دوران ماہرین کو دونوں افراد کے دانتوں پر گہرے اور غیر معمولی نشانات ملے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 10 ہزار سال کے فرق سے تعلق رکھنے والی ان دونوں انسانی باقیات میں دانتوں پر ایک جیسے مخصوص نشانات پائے گئے، جن کی ابتدائی طور پر کوئی واضح وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

    دانتوں کے نشانات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ کسی ایک سے دو سینٹی میٹر کے گول جسم کو بار بار منہ میں رکھ کر چوسنے کے نتیجے میں بنے تھے۔ تحقیق کے سربراہ اور گریفتھ یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثارِ قدیمہ ایڈم برم کے مطابق انہیں فوری طور پر خیال آیا کہ یہ سپاری چوسنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نشانات ہوسکتے ہیں۔

    سپاری، جسے اریکا نٹ بھی کہا جاتا ہے، جنوب مشرقی ایشیا کے ایک پام کے درخت کے پھل کا بیج ہے اور آج بھی دنیا میں استعمال ہونے والے عام نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں میں شامل ہے۔ موجودہ دور میں عام طور پر سپاری کو پیس کر چونے سمیت دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر چبایا جاتا ہے تاکہ اس کے نفسیاتی اثرات کو بڑھایا جاسکے۔

    محققین نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ سپاری چبانے کی موجودہ روایت سے پہلے انسان اسے صرف چوسنے کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔ اس مفروضے کو جانچنے کے لیے ماہرین نے ایک تجربہ کیا، جس میں سپاری کو مصنوعی لعاب میں بھگو کر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

    اس کے بعد اس لعاب کو ایسے مینڈک کے انڈوں پر آزمایا گیا جن میں انسانی دماغ کے ریسیپٹرز پیدا کرنے کے لیے جینیاتی تبدیلی کی گئی تھی۔ تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ سپاری چوسنے سے انسانی دماغ کے خلیات متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم اس کا اثر موجودہ دور میں چونے کے ساتھ سپاری چبانے کے مقابلے میں کم ہوگا۔

    محققین نے قدیم دانتوں پر موجود باقیات کا بھی تجزیہ کیا، جس کے دوران ’ایریکولین‘ نامی مادے کے آثار ملے۔ ایریکولین سپاری میں موجود بنیادی نفسیاتی اثر رکھنے والا جزو ہے اور اس کے اثرات کسی حد تک نکوٹین سے مشابہ ہیں۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثارِ قدیمہ صوفیہ سیمپر کارو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں، نے بھی اس نتیجے سے اتفاق کیا کہ دانتوں پر موجود نشانات سپاری چوسنے کی وجہ سے بنے ہوں گے۔ ان کے مطابق منشیات کے استعمال سے متعلق یہ ابتدائی شواہد پہلے سے معلوم شواہد سے ہزاروں سال قدیم ہیں۔

    اس سے قبل انسانی جانب سے کسی نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے کے استعمال کا قدیم ترین معلوم ثبوت تقریباً 13 ہزار سال پرانی اسرائیل میں بیئر بنانے کی روایت کو سمجھا جاتا تھا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ قدیم انسان سپاری کو ممکنہ طور پر منہ کے درد اور تکلیف کم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اسے چوسنے سے منہ میں سن ہونے جیسا اثر پیدا ہوتا ہے۔ تاہم سپاری کے مسلسل استعمال سے دانتوں کو نقصان بھی پہنچتا تھا اور گہرے نشانات بعض اوقات دانت کے اندر موجود گودے تک پہنچ جاتے تھے، جس سے دانتوں میں شدید درد پیدا ہوسکتا تھا۔

    تحقیق کے سربراہ ایڈم برم کے مطابق یہ صورت حال ایک ’شیطانی چکر‘ کی شکل اختیار کرسکتی تھی، کیونکہ درد کم کرنے کے لیے جتنی زیادہ سپاری چوسی جاتی، دانتوں کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچتا اور پھر اس نقصان سے پیدا ہونے والے درد کے علاج کے لیے سپاری کا استعمال مزید بڑھ جاتا۔

    ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں بھی سپاری کے استعمال کے منہ اور دانتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا تعلق منہ کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سولاویسی سے ملنے والی یہ دریافت نہ صرف ہزاروں سال قبل انسانوں میں قدرتی نفسیاتی مادوں کے استعمال کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی امکان ظاہر کرتی ہے کہ انسان درد، انفیکشن اور دیگر تکالیف کے علاج کے لیے قدرتی پودوں اور مرکبات کا استعمال اس سے بھی بہت پہلے شروع کرچکے تھے۔

    محققین کے مطابق انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی شکل میں منشیات یا نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں کے استعمال کی روایت بہت قدیم ہے، تاہم اس کے ابتدائی دور سے متعلق شواہد انتہائی کم دستیاب ہیں۔ سولاویسی سے ملنے والے 25 ہزار سال پرانے دانتوں کے یہ شواہد انسانی تاریخ میں ایسی روایات کی قدامت پر نئی روشنی ڈالتے ہیں۔

  • ایپل نے پہلی بار فولڈ ایبل آئی فون لانچ کردیا

    ایپل نے پہلی بار فولڈ ایبل آئی فون لانچ کردیا

    امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے پہلی بار تہہ ہونے والا آئی فون مارکیٹ میں متعارف کرا دیا، جسے کمپنی کی تاریخ کا ایک اہم اور نمایاں نیا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ سام سنگ سمیت کئی دیگر کمپنیوں کے فولڈ ایبل فون پہلے ہی مارکیٹ میں موجود ہیں، تاہم ایپل نے پہلی مرتبہ اس شعبے میں قدم رکھا ہے۔

    ایپل کے نئے فولڈ ایبل آئی فون کا نام ’ڈیو‘ بتایا گیا ہے، جس کا ڈیزائن اور حجم کسی حد تک پاسپورٹ سے مشابہ ہے۔ فون میں گول کناروں کے ساتھ 19 سینٹی میٹر کی اسکرین دی گئی ہے، جسے صارف افقی اور عمودی دونوں انداز میں استعمال کرسکتا ہے۔

    فون کو تہہ شدہ حالت میں استعمال کرنے کے لیے ایک چھوٹی اسکرین بھی فراہم کی گئی ہے، جبکہ فون کھولنے کے بعد بڑی اسکرین دستیاب ہوتی ہے۔ ایپل کے مطابق کھلی حالت میں یہ کمپنی کا اب تک کا سب سے پتلا آئی فون ہے، جسے ڈیزائن اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے جدید انداز میں تیار کیا گیا ہے۔

    فولڈ ایبل آئی فون ’ڈیو‘ کو ایپل کا اب تک کا مہنگا ترین آئی فون بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بہترین ورژن کی قیمت 3 ہزار 199 ڈالر مقرر کی گئی ہے، جس کے باعث یہ پریمیم اسمارٹ فون مارکیٹ میں ایک انتہائی مہنگے آپشن کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    ایپل کے نئے سربراہ جان ٹرنس نے ایک رنگا رنگ تقریب کے دوران نئے فولڈ ایبل آئی فون کی رونمائی کی۔ اس موقع پر فون کے ڈیزائن، اسکرین اور دیگر نمایاں خصوصیات پیش کی گئیں۔

    ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق فولڈ ایبل فونز کی مارکیٹ میں پہلے ہی سخت مقابلہ موجود ہے، اس لیے ایپل کے لیے نئے آئی فون کی کامیابی ایک اہم امتحان ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہنگے ترین آئی فون کو صارفین میں مقبول بنانا ایپل کے نئے سربراہ جان ٹرنس کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔

  • ایکواڈور میں مینڈک کی نئی نسل دریافت، ایک صدی تک سائنس کی نظروں سے اوجھل رہی

    ایکواڈور میں مینڈک کی نئی نسل دریافت، ایک صدی تک سائنس کی نظروں سے اوجھل رہی

    ایکواڈور میں سائنس دانوں نے مینڈک کی ایک نئی نسل دریافت کی ہے، جو تقریباً ایک صدی تک سائنسی دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔ حیران کن طور پر اس نایاب مینڈک کے نمونے تقریباً 100 سال سے میوزیم کے قدرتی مسکن کے ذخیرے میں موجود تھے، تاہم اسے دوسری معلوم اقسام کا حصہ سمجھا جاتا رہا۔

    اس نئی نسل کی باضابطہ تفصیل بین الاقوامی سائنسی جریدے زوکیز (ZooKeys) میں شائع کی گئی ہے۔ ماہرینِ حیاتیات اور ٹیکسانومی کے ماہرین پر مشتمل ٹیم نے تفصیلی تحقیق کے بعد اسے ایک الگ اور نئی نسل کے طور پر شناخت کیا۔

    تحقیق کے دوران سائنس دانوں نے کئی دہائیاں قبل جمع کیے گئے میوزیم کے نمونوں کا دوبارہ جائزہ لیا۔ اس کے ساتھ جدید جینیاتی سیکوینسنگ اور جسمانی ساخت کا باریک بینی سے تجزیہ کیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ یہ مینڈک خطے میں پہلے سے شناخت شدہ انواع سے جینیاتی اور جسمانی اعتبار سے مختلف ہے۔

    ’ملپے روبَر فراگ‘

    نئی شناخت شدہ نسل کو ملپے روبَر فراگ (Pristimantis milpei) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مینڈک زیادہ تر رات کے اوقات میں سرگرم رہتا ہے۔ اس کے نر عموماً جنگل میں زمین سے کئی میٹر بلند جھاڑیوں، پتوں اور برومیلیڈ پودوں پر بیٹھ کر آوازیں نکالتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق اس مینڈک کی آواز خاصی بلند اور منفرد ہوتی ہے، جو کسی حد تک کلک جیسی محسوس ہوتی ہے اور اسے دیگر قریبی اقسام سے شناخت کرنے میں بھی مدد دیتی ہے۔

    نر اور مادہ میں نمایاں فرق

    اس مینڈک کے نر اور مادہ میں ظاہری شکل و صورت کے اعتبار سے بھی نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ مادہ مینڈک کی رانوں اور جسم کے نچلے حصے کے قریب نمایاں رنگت دیکھی جاتی ہے، جہاں سیاہ دھبوں کے ساتھ نارنجی یا ہلکے نیلے رنگ کے نشانات موجود ہوسکتے ہیں، جبکہ نر کی رنگت نسبتاً یکساں ہوتی ہے۔

    ملپے روبَر فراگ ایکواڈور اور کولمبیا کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ یہ خطہ دنیا کے اہم حیاتیاتی تنوع رکھنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہاں اب بھی ایسی کئی انواع موجود ہوسکتی ہیں جن کی سائنسی طور پر شناخت نہیں ہو سکی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ بعد میں کیے گئے فیلڈ سروے کے دوران سائنس دانوں نے اس مینڈک کی زندہ آبادیوں کی بھی تصدیق کرلی۔ اس طرح یہ واضح ہوا کہ یہ نسل محض پرانے میوزیم نمونوں تک محدود نہیں بلکہ طویل عرصے سے اپنے قدرتی ماحول میں موجود ہے۔

    ماہرینِ تحفظِ ماحولیات کے مطابق اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے ان خطوں میں بھی حیاتیاتی تنوع کی متعدد اقسام موجود ہوسکتی ہیں جہاں طویل عرصے سے سائنسی تحقیق جاری ہے۔ کسی جاندار کو درست طور پر الگ نوع کے طور پر شناخت کرنا اس کے تحفظ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے، کیونکہ سائنسی شناخت کے بغیر کسی مخصوص نسل کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور اس کی آبادی کی درست نگرانی مشکل ہو جاتی ہے۔

  • بالغ ٹی ریکس کے پہلے قدموں کے نشانات دریافت

    بالغ ٹی ریکس کے پہلے قدموں کے نشانات دریافت

    امریکا کی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں 66.5 ملین سال پرانے چار بڑے ڈائنوسار کے قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں، جنہیں ماہرین ممکنہ طور پر بالغ ٹائرانوسارس ریکس (T. rex) کے قدموں کے نشانات قرار دے رہے ہیں۔ اگر اس شناخت کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ دنیا میں بالغ ٹی ریکس کے قدموں کے نشانات پر مشتمل پہلا مکمل ٹریک وے ہوگا۔

    یہ حیران کن دریافت ہیل کریک فارمیشن کے علاقے میں ہوئی، جہاں چار بڑے قدموں کے نشانات تقریباً سات میٹر (23 فٹ) کے حصے پر موجود ہیں۔ ہر نشان تقریباً ایک میٹر لمبا ہے اور ان میں تین انگلیوں جیسی نمایاں ساخت دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قدموں کے نشانات کا حجم، شکل اور تین انگلیوں کی ساخت بالغ ٹی ریکس کے پاؤں سے مطابقت رکھتی ہے، جبکہ اردگرد کے علاقے میں ٹی ریکس کے فوسلز کی بھی بڑی تعداد دریافت ہو چکی ہے۔

    دنیا بھر میں اس سے قبل بالغ ٹی ریکس کے صرف دو الگ الگ قدموں کے نشانات دریافت ہوئے تھے، جن میں سے ایک مونٹانا اور دوسرا نیو میکسیکو میں ملا تھا۔ تاہم، انفرادی نشان کے بجائے مسلسل کئی قدموں پر مشتمل ٹریک وے پہلی مرتبہ سامنے آیا ہے، جس سے اس دریافت کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

    یہ ٹریک وے 2025 میں نارتھ ڈکوٹا کے علاقے مارمارتھ میں وفاقی زمین پر نارتھ گلین ہائی اسکول کے استاد کینٹ ایم ہپس نے دریافت کیا تھا۔ ایک سال بعد وہ اس دریافت کی تفصیل بیان کرنے والے تحقیقی مقالے کے شریک مصنف بھی بن گئے۔

    کینٹ ہپس نے کہا کہ وہ اپنے طلبہ کو ہمیشہ بتاتے ہیں کہ سائنس کا آغاز تجسس، جذبے اور محتاط مشاہدے سے ہوتا ہے، تاہم انہوں نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ یہی چیز انہیں ایسی غیر معمولی دریافت تک پہنچا دے گی۔

    ماہرین کے مطابق ڈائنوسار کی ہڈیوں سے ان کی جسامت اور جسمانی ساخت کے بارے میں بہت سی معلومات حاصل ہوتی ہیں، لیکن قدموں کے نشانات ان کے رویے اور حرکت کے بارے میں بھی اہم اشارے فراہم کرتے ہیں۔ ڈینور میوزیم آف نیچر اینڈ سائنس کے ماہر اور تحقیقی مقالے کے شریک مصنف ٹائلر لائسن کا کہنا ہے کہ ٹریک وے کی مدد سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جانور کسی علاقے میں کس طرح حرکت کر رہا تھا، جبکہ ٹی ریکس کے معاملے میں اس نوعیت کے شواہد انتہائی نایاب ہیں۔

    ہائی ریزولوشن تھری ڈی سطحی اسکیننگ کے ذریعے کیے گئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ چاروں نشانات میں دو بائیں اور دو دائیں پاؤں کے نشانات شامل ہیں۔ مخصوص نوعیت کی ریتلے پتھروں پر مشتمل چٹانوں نے بھی ان نشانات کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ان میں معدنیات کے کرسٹل بننے اور جمع ہونے کے باعث قدموں کے نشانات طویل عرصے تک محفوظ رہے۔

    نشانات سے اندازہ لگایا گیا ہے کہ ٹی ریکس کے کولہے زمین سے تقریباً چار میٹر (13 فٹ) بلند تھے، جبکہ اس کے ایک قدم سے دوسرے قدم کے درمیان فاصلہ بھی تقریباً چار میٹر تھا۔ ماہرین کے حساب کے مطابق یہ دیوہیکل جانور اس وقت تقریباً 1.5 سے 2 میٹر فی سیکنڈ، یعنی تقریباً 3.5 سے 4.5 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا تھا، یا ممکنہ طور پر اس سے بھی آہستہ۔

    محققین کا کہنا ہے کہ موجودہ شواہد سے ابھی یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ دریافت ٹی ریکس کے پنجوں کے اگلے حصے پر چلنے یا ’’ٹِپی ٹوز‘‘ کے تصور کے بارے میں مزید کیا معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

    اس دریافت سے قبل دنیا کا سب سے طویل ڈائنوسار ٹریک وے موجودہ کولوراڈو میں دریافت کیا گیا تھا، جو 96.3 میٹر (316 فٹ) تک پھیلا ہوا ہے اور اس میں آخری جراسک دور سے تعلق رکھنے والے 134 مسلسل ڈائنوسار قدموں کے نشانات شامل ہیں۔

    بالغ ٹی ریکس کے اس ممکنہ پہلے مکمل ٹریک وے پر تحقیق جرنل آف ورٹی بریٹ پیلیونٹولوجی میں شائع کی گئی ہے۔

  • الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کے تحت 17 ہزار 118 درخواستیں منظور

    الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کے تحت 17 ہزار 118 درخواستیں منظور

    ایکسس ٹو فنانس اسٹیئرنگ کمیٹی نے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کے پروگرام کے تحت 17 ہزار 118 درخواستیں منظور کرلیں، جبکہ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے منظور شدہ قرضوں کے عملی اجرا کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ایکسس ٹو فنانس پروگرام اسٹیئرنگ کمیٹی کا چوتھا اجلاس ہوا، جس میں پروگرام پر پیش رفت، الیکٹرک گاڑیوں کے لیے قرضوں کی فراہمی اور مالیاتی آگاہی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

    وزارت خزانہ کے مطابق پروگرام کے تحت اب تک ایک ہزار 860 الیکٹرک بائیکس فراہم کی جاچکی ہیں، جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی خریداری کے لیے 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد کے قرضے منظور کیے گئے ہیں۔ ان منظور شدہ قرضوں میں سے 80 کروڑ روپے سے زائد کی رقم عملی طور پر جاری بھی کی جاچکی ہے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں مالیاتی آگاہی کے مجموعی طور پر 508 پروگرامز منعقد کیے جانے ہیں، جن میں سے تقریباً 100 پروگرام پہلے ہی مکمل کیے جاچکے ہیں۔ وزیر خزانہ نے مالیاتی آگاہی پروگرامز کے نتائج اور ان کے حقیقی اثرات کا جائزہ لینے پر زور دیا۔

    محمد اورنگزیب نے کہا کہ کاروباری افراد اور نجی شعبے کے لیے رسمی مالیاتی نظام تک رسائی آسان بنانا ضروری ہے۔ پائیدار معاشی ترقی کے لیے نجی شعبے کو فنانسنگ کی فراہمی میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جاسکے اور معیشت میں سرمایہ کاری بڑھے۔

    وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ صرف قرضوں کی منظوری تک محدود رہنے کے بجائے ان کے عملی اجرا پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فنانسنگ کی منظوری کو حقیقی قرض، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمی میں تبدیل کرنا ہوگا، تاکہ ایکسس ٹو فنانس پروگرام کے مطلوبہ معاشی نتائج حاصل کیے جاسکیں۔

  • پرانے اینڈرائیڈ فونز پر واٹس ایپ سروس ختم، 9 ستمبر سے رسائی ممکن نہیں ہوگی

    پرانے اینڈرائیڈ فونز پر واٹس ایپ سروس ختم، 9 ستمبر سے رسائی ممکن نہیں ہوگی

    اگر آپ 10 یا 11 سال پرانا اینڈرائیڈ فون استعمال کر رہے ہیں تو واٹس ایپ بند ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ میٹا نے پرانے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹمز پر واٹس ایپ کی سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اینڈرائیڈ 5 اور 5.1 سمیت اینڈرائیڈ 6 سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر چلنے والے فونز پر 9 ستمبر 2026 سے واٹس ایپ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ میٹا کی جانب سے پرانے آپریٹنگ سسٹمز کے لیے ایپ کی سپورٹ ختم کیے جانے کے بعد ایسے فونز کے صارفین واٹس ایپ کی نئی سہولیات سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کے لیے وقتاً فوقتاً نئے فیچرز، بہتر یوزر انٹرفیس اور پرائیویسی سے متعلق نئی سیٹنگز متعارف کرائی جاتی ہیں، جن کے مؤثر اور محفوظ استعمال کے لیے جدید آپریٹنگ سسٹمز کے ساتھ مطابقت ضروری ہوتی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ میٹا 8 ستمبر 2026 سے اینڈرائیڈ 6 سے پہلے کے آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرنے والے فونز کے لیے واٹس ایپ سپورٹ ختم کرنے جا رہا ہے، جبکہ 9 ستمبر سے ایسے ڈیوائسز پر واٹس ایپ کے استعمال میں مسئلہ پیش آسکتا ہے۔

    میٹا کے اس اقدام کا بنیادی مقصد صارفین کی سکیورٹی اور پرائیویسی کو مزید بہتر بنانا اور ایپ کی کارکردگی کو مستحکم رکھنا ہے۔ پرانے آپریٹنگ سسٹمز میں جدید سکیورٹی فیچرز اور تکنیکی تقاضوں کے لیے مطلوبہ سپورٹ موجود نہ ہونے کے باعث انہیں واٹس ایپ کے لیے موزوں نہیں سمجھا جا رہا۔

    ایسے صارفین جن کے فون پر اینڈرائیڈ کا پرانا ورژن موجود ہے، انہیں اپنے ڈیوائس کا آپریٹنگ سسٹم چیک کرنے اور اگر ممکن ہو تو اسے جدید ورژن پر اپ ڈیٹ کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

  • ایک چارج میں 400 کلومیٹر سفر، پاکستان میں نئی الیکٹرک گاڑی متعارف

    ایک چارج میں 400 کلومیٹر سفر، پاکستان میں نئی الیکٹرک گاڑی متعارف

    چیری ماسٹر پاکستان نے پاکستان آٹو شو 2026 کے موقع پر مکمل الیکٹرک گاڑی ’چیری کیو‘ متعارف کرانے کا اعلان کردیا ہے، جسے شہری سفر اور روزمرہ آمدورفت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کی قیمت کا اعلان 18 ستمبر کو پاکستان آٹو شو کے دوران کیا جائے گا، جبکہ اسی روز اس کی بکنگ بھی شروع کردی جائے گی۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ چیری کیو کی پاکستان میں آمد سے اس کے الیکٹرک گاڑیوں کے پورٹ فولیو میں مزید وسعت آئے گی، جبکہ یہ پیش رفت ملک میں نئی انرجی وہیکلز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔

    کمپنی کے مطابق پاکستان میں نئی انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اس شعبے میں 392 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی انرجی وہیکلز کا مجموعی آٹوموبائل مارکیٹ میں حصہ تقریباً 15 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔

    چیری کیو میں 42.7 کلو واٹ آور کی بیٹری نصب کی گئی ہے، جو این ای ڈی سی سائیکل کے مطابق ایک مرتبہ مکمل چارج ہونے پر 400 کلومیٹر تک سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق گاڑی کی توانائی کی کارکردگی 9.4 کلومیٹر فی یونٹ تک ہے۔

    الیکٹرک گاڑی میں لیول ٹو ایڈوانسڈ ڈرائیور اسسٹنس سسٹمز بھی شامل کیے گئے ہیں، جن میں 21 معاون فیچرز، آٹومیٹک پارکنگ اسسٹ، 15.6 انچ کی 2.5K ڈسپلے، موبائل کنیکٹیویٹی اور وہیکل ٹو لوڈ کی سہولت شامل ہے۔

    کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ سالانہ 20 ہزار کلومیٹر سفر کرنے والی روایتی پیٹرول گاڑی پر تقریباً 4 لاکھ 88 ہزار روپے کا ایندھن خرچ ہوتا ہے، جبکہ اضافی شمسی بجلی سے چارج کی جانے والی چیری کیو کے سالانہ توانائی اخراجات تقریباً 30 ہزار روپے تک رہ سکتے ہیں۔

    کمپنی کے مطابق پاکستان نے 2024 میں تقریباً 17 گیگا واٹ شمسی فوٹو وولٹک صلاحیت درآمد کی، جس کے باعث ملک میں گھروں کی چھتوں پر سولر سسٹمز کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گھرانے اضافی پیدا ہونے والی شمسی بجلی کو گرڈ میں واپس بھیجنے کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کی چارجنگ کے لیے استعمال کرکے توانائی کے اخراجات میں نمایاں کمی لاسکتے ہیں۔

  • زمین اور چاند کے درمیان خلا میں مستقبل کی جنگ کا انکشاف

    زمین اور چاند کے درمیان خلا میں مستقبل کی جنگ کا انکشاف

    چینی ایرو اسپیس محققین نے زمین اور چاند کے درمیان موجود خلائی خطے میں مستقبل میں ممکنہ تنازعات کے منظرناموں کا جائزہ پیش کردیا ہے، جس میں خلائی جہازوں کے درمیان تعاقب، راستے میں رکاوٹ اور دفاعی نظام سے بچنے جیسے امکانات شامل ہیں۔

    جرنل آف کمانڈ اینڈ کنٹرول میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے ایسے ممکنہ حالات کا تصور پیش کیا ہے جن میں مستقبل کے حریف خلائی جہاز ایک دوسرے کا تعاقب کرسکتے ہیں، ایک دوسرے سے بچنے کی کوشش کرسکتے ہیں، دفاعی نظاموں کو چکمہ دے سکتے ہیں اور اہم خلائی راستوں کو روکنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق چاند کے گرد موجود پیچیدہ کششِ ثقل کے ماحول کو استعمال کرتے ہوئے خلائی جہاز بعض مخصوص مقامات پر طویل عرصے تک اپنی پوزیشن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ایسے مقامات سے انہیں زمین کے قریب موجود ممکنہ اہداف کے خلاف اچانک کارروائی کے لیے موزوں پوزیشن حاصل ہوسکتی ہے۔

    چینی محققین نے تحقیق میں ’’چوک پوائنٹس‘‘ کی بھی نشاندہی کی ہے۔ یہ ایسے اہم مقامات ہیں جہاں خلائی راستے، بالخصوص کم ایندھن استعمال کرنے والے راستے، ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ کسی ملک کی جانب سے ان مقامات پر اپنی موجودگی قائم کرنا حریف کے خلائی راستے میں رکاوٹ ڈالنے، اسے راستہ تبدیل کرنے یا اس کے مشن میں تاخیر کا سبب بننے کا ذریعہ بن سکتا ہے، حتیٰ کہ براہِ راست تصادم کے بغیر بھی۔

    تحقیق میں اس امر کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مستقبل میں زمین اور چاند کے درمیان موجود خلائی خطے کی اہمیت صرف مخصوص خلائی جہازوں یا انفرادی راستوں کے کنٹرول تک محدود نہیں رہے گی۔

    محققین کے مطابق آنے والے برسوں میں خلا تک رسائی اور اہم خلائی راستوں پر مجموعی کنٹرول ایک اہم تزویراتی معاملہ بن سکتا ہے، جس کے باعث زمین اور چاند کے درمیان خلائی خطہ مستقبل کے ممکنہ خلائی مقابلے اور تنازعات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔