Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی  شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    ابراہم لنکن کے دور میں پیدا ہونیوالی شارک ساحل پر مردہ پائی گئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سائنسدانوں کو دنگ کر دیا

    آئرلینڈ کے مغربی ساحل پر پہلی مرتبہ ایک نایاب گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملنے کے بعد سائنسدانوں کو دنیا کے طویل ترین عرصے تک زندہ رہنے والے فقاری (ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے) جانور کے بارے میں نئی معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شارک تقریباً 150 سے 200 سال عمر کی تھی تاہم اس نسل کی شارک 400 سال یا اس سے بھی زیادہ عمر تک زندہ رہ سکتی ہے اپریل 2026 میں آئرلینڈ کے کاؤنٹی سلائگو کے ساحل پر تقریباً 3 میٹر (10 فٹ) لمبی گرین لینڈ شارک مردہ حالت میں ملی، یہ آئرلینڈ میں اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ شارک ہے جو ساحل پر آ لگی۔

    آئرش وہیل اینڈ ڈولفن گروپ سے تعلق رکھنے والی بحری حیاتیات کی ماہر ایملی ڈی لوس نے کہا کہ اس شارک کو دیکھ کر تمام محققین حیران رہ گئے، یہ سوچ کر ہی انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ جانور ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصہ زندہ رہا اور اس دوران دنیا میں کتنی بڑی تبدیلیاں دیکھ چکا ہوگا-

    ماہرین کے مطابق اس شارک کی جسامت سے اندازہ لگایا گیا کہ یہ کم از کم 150 سال پرانی تھی یعنی اس کی پیدائش اس زمانے میں ہوئی تھی جب برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ کی حکومت تھی، امریکا میں ابراہم لنکن صدر تھے، سمندروں میں بادبانی جہاز چلتے تھے اور گاڑی ابھی ایجاد بھی نہیں ہوئی تھی۔

    تاہم سائنسدانوں کے مطابق گرین لینڈ شارک کے معیار کے لحاظ سے یہ عمر زیادہ نہیں سمجھی جاتی کیونکہ یہ مچھلی تقریباً 150 سال کی عمر میں بالغ ہوتی ہے اور اسی کے بعد افزائش نسل شروع کرتی ہے گرین لینڈ شارک کو دنیا کا سب سے زیادہ عمر پانے والا فقاری (یا ورٹیبریٹس) جانور سمجھا جاتا ہے۔

    سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اس کی عمر 300 سے 500 سال کے درمیان ہو سکتی ہے، جبکہ زیادہ تر تحقیق تقریباً 400 سال کی اوسط عمر کی نشاندہی کرتی ہے اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آج سمندر میں تیرنے والی بعض گرین لینڈ شارکس کی پیدائش ولیم شیکسپیئر کے دور میں ہوئی ہو۔

    شارک کا وزن 200 کلوگرام سے زیادہ تھا جسے کرین کی مدد سے ویٹرنری لیبارٹری منتقل کیا گیا جہاں مختلف اداروں کے سائنسدانوں نے اس کا تفصیلی پوسٹ مارٹم (نی کروپسی) کیا،تحقیقی ٹیم نے خصوصی حفاظتی لباس، دستانے اور ماسک پہن کر شارک کے تمام اعضا کا معائنہ کیا کیونکہ اتنی پرانی مخلوق کے جسم میں ایسے جراثیم یا وائرس موجود ہونے کا امکان بھی خارج نہیں کیا جا سکتا جو کئی دہائیوں یا صدیوں سے محفوظ رہے ہوں۔

    سائنسدانوں نے شارک کے جسم پر مچھلی پکڑنے والے جال یا کسی چوٹ کے آثار تلاش کیے تاہم انہیں کوئی واضح زخم نہیں ملا ممکن ہے شارک کسی اندرو نی بیماری کا شکار ہوئی ہو تاہم اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے مختلف اعضا اور ٹشوز کے نمونوں کا لیبارٹری میں مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

    گرین لینڈ شارک شمالی بحر اوقیانوس اور قطب شمالی کے برفیلے پانیوں میں پائی جاتی ہے یہ بہت آہستہ تیرنے والی شارک ہے جو زیادہ تر مردہ جانوروں کو کھاتی ہے تاہم بعض اوقات زندہ شکار، خصوصاً سیل مچھلیوں کو بھی پکڑ لیتی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس کے جسم میں موجود مخصوص کیمیائی مادے قدرتی اینٹی فریز کا کام کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ شدید سرد پانی میں بھی زندہ رہتی ہے تاہم یہی مادے اس کے گوشت کو زہریلا بھی بنا دیتے ہیں۔

    سمندری حیاتیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شارک کے بارے میں آج بھی بنیادی معلومات موجود نہیں،ابھی تک سائنسدان یہ نہیں جان سکے کہ یہ شارک کہاں ملاپ کرتی ہے، کہاں بچوں کو جنم دیتی ہے، ایک بار میں کتنے بچے پیدا کرتی ہے یا کتنے عرصے بعد افزائش نسل کرتی ہے۔

    اسی وجہ سے دنیا میں موجود گرین لینڈ شارکس کی درست تعداد کا اندازہ لگانا بھی ممکن نہیں جس کے باعث ان کے تحفظ کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کرنا مشکل ہو جاتا ہے پوسٹ مارٹم کے دوران شارک کی آنکھیں بھی نکالی گئیں تاکہ ان کے عدسوں کے ذریعے ریڈیو کاربن ڈیٹنگ سے اس کی درست عمر معلوم کی جا سکے۔

    حال ہی میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق گرین لینڈ شارک کی بینائی پہلے سمجھی جانے والی کمزور نہیں بلکہ حیرت انگیز طور پر مؤثر ہوتی ہے ماہر ین کے مطابق اس کی آنکھیں انتہائی کم روشنی میں بھی کام کرنے کے لیے قدرتی طور پر ڈھلی ہوئی ہیں اور ایک صدی سےزیادہ عمر کےبعد بھی ان کے خلیات تقریباً مکمل طور پر فعال رہتے ہیں،34 کلوگرام کا دل بھی صدیوں تک کام کرتا رہتا ہےتحقیقی ٹیم نے شارک کا تقریباً 34 کلوگرام وزنی دل بھی نکالا جو انسانی دل کے مقابلے میں 100 گنا سے بھی زیادہ بڑا تھا۔

  • چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین کامیابی سے سیارچے کے قریب پہنچ گیا

    چین کا خلائی تحقیقاتی مشن تیان وین-2 تقریباً 400 روزہ اور ایک ارب کلومیٹر طویل سفر مکمل کرنے کے بعد کامیابی سے سیارچے 2016HO3 سے صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا ہے۔

    چین کی قومی خلائی انتظامیہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس پیشرفت کے ساتھ ہی مشن نے سائنسی تحقیق کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے،چین نے 29 مئی 2025 کو اپنے پہلے سیارچہ سیمپل ریٹرن مشن تیان وین 2 کا آغاز کیا تھا تقریباً 10 برس پر محیط اس مشن کا مقصد زمین کے قریب موجود سیارچے 2016HO3 سے نمونے حاصل کرنا اور بعد ازاں مریخ سے بھی زیادہ فاصلے پر واقع مرکزی سیارچہ پٹی کے دمدار ستارے 311P کا سائنسی جائزہ لینا ہے۔

    قومی خلائی انتظامیہ کے مطابق سیارچے کے قریب پہنچنے کے مرحلے کے دوران خلائی جہاز نے اس کی تصاویر حاصل کیں،مشن ٹیم نے قریبی فاصلے سے حاصل ہونے والے آپٹیکل نیویگیشن ڈیٹا کی مدد سے سیارچے کے مدار سے متعلق معلومات کو مزید درست بنایا۔

    جس کے نتیجے میں پہلے زمینی مشاہدات کی بنیاد پر سینکڑوں کلومیٹر پر محیط محلِ وقوع کی غیر یقینی کیفیت کم ہو کر صرف چند کلومیٹر تک محدود ہو گئی،سیارچے کی جانب سفر کے دوران تیان وین 2 نے گہرے خلا میں متعدد پروازی تبدیلیاں اور مدار کی درستی کے آپریشن بھی انجام دیے6 جون 2026 کو خلائی جہاز ، نے پہلی مرتبہ سیارچے کا سراغ لگایا، 7 جون کو 30 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر اس کے ساتھ ہم سطح مدار میں داخل ہوا، جبکہ 19جون کو یہ سیارچے سے صرف 2 ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ گیا۔

    قومی خلائی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں تیان وین 2 سیارچے کی ساخت، مادی ترکیب اور اندرونی ڈھانچے کے بارے میں مزید تفصیلی سائنسی مشاہدات کرے گا، تاکہ مستقبل میں وہاں سے نمونے جمع کرنے کے عمل کی تیاری مکمل کی جا سکے۔

  • روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    روس کا اسٹارلنک کے مقابلے میں ’راسویٹ‘ سیٹلائٹ نیٹ ورک کی توسیع کا منصوبہ

    ایلون مسک کے سیٹلائٹ اسپیس ایکس (SpaceX) کے اسٹارلنک کا مقابلہ کرنے کے لیے روس نے ’راسویت‘ (Rassvet) کے نام سے اپنا سیٹلائٹ انٹرنیٹ نیٹ ورک تیار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس منصوبے کو نجی کمپنی ‘بیورو 1440’ (Bureau 1440) اور روسی خلائی ایجنسی کی مدد سے تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، منصوبے کا مقصد ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنانا اور دور دراز علاقوں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا کہنا ہے کہ راسویٹ بعض شعبوں میں اسٹارلنک سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے یہ منصوبہ نجی روسی خلائی کمپنی بیورو 1440 تیار کر رہی ہے، جس نے 2023 میں آزمائشی سیٹلائٹس بھیجے تھے جبکہ رواں سال تجارتی بنیادوں پر سیٹلائٹس کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

    روسی حکومت کے مطابق 2026 کے اختتام تک 156 راسویٹ سیٹلائٹس مدار میں موجود ہوں گے، جبکہ 2035 تک ان کی تعداد بڑھا کر قریباً 900 کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، اس منصوبے پر مجموعی طور پر قریباً 7 ارب ڈالر لاگت آنے کا تخمینہ ہے،راسویٹ سیٹلائٹس قریباً 800 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں کام کریں گے اور 5جی ٹیکنالوجی، لیزر کمیونیکیشن اور ایک گیگا بٹ فی سیکنڈ تک ڈیٹا کی رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    روسی حکام کے مطابق یہ نظام آرکٹک، سائبیریا اور دیگر دور افتادہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور مواصلاتی خدما ت بہتر بنانے میں مدد دے گا، راسویٹ نیٹ ورک شہری استعمال کے ساتھ ساتھ ڈرونز کے سیٹلائٹ کنٹرول، فوجی مواصلات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کے لیے بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ روس کا مؤقف ہے کہ یہ منصوبہ مغربی سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر انحصار کم کرنے اور ملک کی ڈیجیٹل خودمختاری کو مزید مستحکم بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے-

  • اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر  چیٹ ممکن

    اب فون نمبر شیئر کیے بغیر بھی واٹس ایپ پر چیٹ ممکن

    مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران صارفین کو فون نمبر ظاہر کیے بغیر ایک دوسرے سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق اس نئے فیچر کے تحت صارفین منفرد یوزر نیم (Username) کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں گے، جس کے بعد چیٹ کے لیے فون نمبر شیئر کرنا ضروری نہیں رہے گا پیر سے صارفین ایپ کے ذریعے اپنا یوزر نیم محفوظ (Reserve) کر سکیں گے، تاہم یہ فیچر لازمی نہیں ہوگا، صارفین کسی بھی وقت اپنا یوزر نیم تبدیل یا حذف بھی کر سکیں گے یوزر نیم زیادہ سے زیادہ 35 حروف پر مشتمل ہوگا جبکہ چند معروف شخصیات، سرکاری عہدیداروں اور مشہور ناموں کو عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں کیا جائے گا تاکہ ان کی شناخت کا غلط استعمال نہ ہو۔

    واٹس ایپ کی ہیڈ آف پروڈکٹ ایلس نیوٹن ریکس نے کہا کہ بہت سے صارفین، خاص طور پر گروپ چیٹس میں، اپنا فون نمبر دوسروں کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہتے تھے، ان کے مطابق یہ فیچر صارفین کو اس بات پر زیادہ اختیار دے گا کہ وہ ایپ پر اپنی شناخت کس طرح ظاہر کرنا چاہتے ہیں یہ فیچر صارفین کی پرائیویسی کو بہتر بنانے کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے تاہم صارفین کے پاس بدستور ناپسندیدہ پیغامات بھیجنے والوں کو بلاک یا رپورٹ کرنے کا اختیار موجود ہوگا۔

    دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کی پروفیسر اور کتاب Privacy is Power کی مصنفہ کاریسا ویلز نے کہا کہ اگرچہ یہ فیچر پرائیویسی کے حوالے سے مفید ہے لیکن واٹس ایپ مجموعی طور پر مکمل طور پر پرائیویسی دوست پلیٹ فارم نہیں کیونکہ یہ اشتہارات کے لیے صارفین کا مختلف قسم کا میٹا ڈیٹا، جیسے وہ کس سے اور کب رابطہ کرتے ہیں استعمال کرتا ہے۔

    واٹس ایپ نے واضح کیا کہ وہ صارفین کی نجی گفتگو کا مواد اشتہارات کے لیے استعمال نہیں کرتا کیونکہ تمام ذاتی چیٹس اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن سے محفوظ ہوتی ہیں اور کمپنی ان کے مندر جات نہیں پڑھ سکتی فیچر کے مکمل طور پر نافذ ہونے کے بعد صارفین کے فون نمبر دیگر افراد کو نظر نہیں آئیں گے تاہم واٹس ایپ اکاؤنٹ بنانے کے لیے فون نمبر بدستور ضرور ی ہوگا ، یوزر نیمز کی کوئی عوامی ڈائریکٹری موجود نہیں ہوگی۔

  • میٹا کو بڑا دھچکا،گوگل نے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

    میٹا کو بڑا دھچکا،گوگل نے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال کی حد مقرر کردی

    امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے میٹا کی جانب سے زیادہ کمپیوٹنگ صلاحیت طلب کیے جانے کے بعد اپنے جیمینائی اے آئی ماڈلز کے استعمال پر حدود عائد کردی ہیں، کیونکہ حریف ٹیک گروپ مطلوبہ گنجائش فراہم نہیں کر سکا۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمزکے مطابق الفابیٹ کی ملکیت گوگل نے مارچ کے قریب میٹا کو بتایا کہ وہ جیمینائی کی وہ مکمل صلاحیت فراہم نہیں کر سکتا جو کمپنی خریدنا چاہتی تھی اس کمی کے باعث میٹا کے بعض اندرونی اے آئی منصوبے متاثر ہوئے اور ان میں تاخیر ہوئی، گوگل کے کئی دیگر کلائنٹس بھی متاثر ہوئے ہیں، تاہم ان پر اثر نسبتاً کم رہا، میٹا خاص طور پر متاثر ہوا کیونکہ گوگل کے ماڈلز کے لیے اس کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی۔

    رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اثر میٹا پر پڑا کیونکہ اس کی جانب سے اے آئی ماڈلز کے استعمال کی طلب غیر معمولی حد تک زیادہ تھی ان پابندیوں کے بعد میٹا نے اپنے ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اے آئی ٹوکنز کا زیادہ محتاط اور مؤثر استعمال کریں۔ اے آئی ٹوکنز وہ یونٹس ہوتے ہیں جن کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے استعمال کی مقدار ناپی جاتی ہے۔

    رائٹرز فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکا، جس میں معاملے سے آگاہ افراد کا حوالہ دیا گیا ہے گوگل اور میٹا نے کاروباری اوقات کے بعد تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

    رپورٹ کے مطابق ان پابندیوں کے باعث میٹا نے اپنے عملے کو اے آئی ٹوکنز، یعنی اے آئی استعمال کی پیمائش کرنے والی اکائیوں کے زیادہ مؤثر استعمال کی ترغیب دی ہے کمپنیاں چپس اور ڈیٹا سینٹرز پر اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں، اس کے باوجود وہ اے آئی سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کررہی ہیں۔

    مارچ میں ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے دوران گوگل کلاؤڈ کی آمدنی بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، تاہم سی ای او سندر پچائی نے کہاکہ کمپیوٹنگ پاور کی پابندیوں نے اس سے بھی زیادہ ترقی کو روک دیا اور کلاؤڈ یونٹ کے بیک لاگ میں سہ ماہی بنیاد پر قریباً دو گنا اضافے میں کردار ادا کیا۔

  • بھارتی فن ٹیک کمپنی کریڈ کے بانی واٹس ایپ کے نئے سربراہ مقرر

    بھارتی فن ٹیک کمپنی کریڈ کے بانی واٹس ایپ کے نئے سربراہ مقرر

    میٹا نے بتایا ہے کہ واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ (Will Cathcart) سات سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دینے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جائیں گے۔

    میٹا کے مطابق ول کیتھ کارٹ کی جگہ بھارتی فن ٹیک (Fintech) کمپنی کریڈ کے بانی کنال شاہ واٹس ایپ کی قیادت سنبھالیں گے میٹا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی ول کیتھ کارٹ کے ساتھ کام جاری رکھنے کے منتظر ہیں اور ول کیتھ کارٹ میٹا میں ہی اپنی ٖخدمات جاری رکھیں گے،کنال شاہ کی سوچ، کاروباری تجربہ اور عالمی وژن انہیں واٹس ایپ کی قیادت کے لیے موزوں بناتا ہے

    میٹا نے اعلان کیا ہے کہ وہ کریڈ میں 900 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا اوراس سرمایہ کاری کے بعد کریڈ کی مالیت 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے کہ میٹا نے 2014 میں واٹس ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ اس وقت واٹس ایپ کے ماہانہ فعال صارفین کی تعداد 3 ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    پودے سخت گرمی میں فوٹوسینتھسیز کا عمل کیسے محفوظ رکھتے ہیں،سعودی ماہرین کی نئی تحقیق

    سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAUST) کے سائنس دانوں نے پودوں کے اندر موجود ایک ایسے حفاظتی طریقہ کار کا پتا لگایا ہے جو انہیں شدید گرمی کے دوران سورج کی روشنی کو توانائی میں تبدیل کرنے کے عمل کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتا ہے، اس دریافت سے سائنس دانوں کو ایسے نئے زرعی فصلوں کے بیج تیار کرنے میں مدد ملے گی جو شدید گرم اور خشک موسم میں برداشت کی صلاحیت رکھتے ہیں-

    یہ تحقیق KAUST کی اسسٹنٹ پروفیسر مونیکا خوداشیوچز کی قیادت میں کی گئی، جس کے نتائج سائنسی جریدے ’Plant Physiology‘ میں شائع ہوئے ہیں تحقیق کے مطابق جب پودے سخت گرمی کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے خلیوں میں موجود ایک خاص پروٹین عارضی ڈھانچے بنا لیتا ہے، جو پودے کے اہم حصے کلوروپلاسٹ کو نقصان سے بچانے میں مدد دیتے ہیں، کلوروپلاسٹ وہ حصہ ہے جہاں فوٹوسنتھیسز کا عمل ہوتا ہے، یعنی پودا سورج کی روشنی کو اپنی نشوونما کے لیے توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق دریافت کیا گیا پروٹین، جسے ’پروٹوکلوروفیلائیڈ آکسیڈوریڈکٹیز‘ کہا جاتا ہے، گرمی کے دباؤ کے وقت اپنا مقام اور طریقہ کار تبدیل کر لیتا ہے اس طرح پودا نئے پروٹین بنانے کے انتظار کے بجائے پہلے سے موجود نظام کو استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر خود کو محفوظ بناتا ہے جن پودوں میں یہ پروٹین موجود نہیں تھا وہ زیادہ درجہ حرارت برداشت کرنے میں مشکلات کا شکار رہے، جبکہ اس پروٹین والے پودے گرمی کے بعد زیادہ تیزی سے بحال ہوگئے۔

    جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو کلوروفل پیدا کرنے والا پروٹین (protochlorophyllide oxidoreductase) چھوٹے، قابلِ ریورس (reversible) قطروں کی شکل اختیار کر لیتا ہے یہ گرینولز شدید گرمی کے دباؤ سے پودے کو بچاتے ہیں اور اس کی سورج کی روشنی کو کیمیائی توانائی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کو بحال رکھتے ہیں-

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ دریافت خاص طور پر سعودی عرب جیسے خشک اور گرم علاقوں کے لیے اہم ہوسکتی ہے، جہاں درجہ حرارت میں اضافہ، پانی کی کمی اور زمین کی خرا ب ہوتی کیفیت فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہی ہے ماہرین اب یہ جانچ رہے ہیں کہ کیا یہی حفاظتی نظام دیگر فصلوں میں بھی موجود ہے اور کیا اسے بہتر بنا کر ایسی فصلیں تیار کی جاسکتی ہیں جو سخت موسمی حالات میں بھی بہتر پیداوار دے سکیں،یہ تحقیق اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بڑھتا ہوا درجہ حرارت زرعی پیداوار کے لیے ایک بڑا خطرہ بنتا جا رہا ہےیہ پیش رفت مستقبل میں غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد دے سکتی ہے۔

  • 9 جون کی شام آسمان پر شاندار اور نایاب منظردیکھائی دے گا

    9 جون کی شام آسمان پر شاندار اور نایاب منظردیکھائی دے گا

    ماہرین فلکیات کے مطابق 9 جون کی شام ایک شاندار اور نایاب فلکیاتی منظر دیکھنے کو ملے گا، جب سیارہ زہرہ اور سیارہ مشتری مغربی افق پر ایک دوسرے کے بے حد قریب نظر آئیں گے۔

    ناسا کے مطابق اس مظہر کو "قران” (Conjunction) کہا جاتا ہے جس میں دو سیارے زمین سے دیکھنے پر بہت قریب دکھائی دیتے ہیں حالانکہ حقیقت میں ان کے درمیان کروڑوں کلومیٹر کا فاصلہ ہوتا ہے،یہ دلکش منظر 8 اور 9 جون کو اپنے عروج پر ہوگا، جب دونوں سیارے تقریباً 1.5 سے 2 ڈگری کے فاصلے پر نظر آئیں گے جو کہ دوربین کے بغیر بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق زہرہ، جو رات کے آسمان کا سب سے روشن سیارہ ہے، اور مشتری، جو دوسرے نمبر پر روشن ہے، صاف موسم کی صورت میں آسانی سے نظر آئیں گے یہ دونوں سیارے غروب آفتاب کے بعد تقریباً دو سے ڈھائی گھنٹے تک مغربی سمت میں دکھائی دیں گے یہ نظارہ شمالی نصف کرے میں 2028 تک زہرہ اور مشتری کا سب سے قریبی ملاپ ہوگا، جس کے باعث اسے خاص اہمیت حاصل ہے ، اسی دوران سیارہ عطارد بھی ان کے نیچے نظر آ سکتا ہے، جبکہ یہ منظر برج جوزا کے قریب وقوع پذیر ہوگا، جہاں پولکس اور کاسٹر ستارے بھی دیکھے جا سکتے ہیں،یہ ایک آسانی سے نظر آنے والا فلکیاتی مظہر ہے جس کے لیے کسی خاص آلات کی ضرورت نہیں۔

  • اسپین میں  121 سال کے بعد مکمل سورج گرہن

    اسپین میں 121 سال کے بعد مکمل سورج گرہن

    2026 کا مکمل سورج گرہن 12 اگست کو نظر آئے گا، اسپین میں 1905 کے بعد پہلی بار مکمل منظر دکھائی دے گا یورپ، گرین لینڈ اور آئس لینڈ سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں 12 اگست 2026 کو مکمل سورج گرہن دیکھا جائے گا-

    ماہرین فلکیات کے مطابق یہ حالیہ برسوں کے اہم ترین فلکیاتی واقعات میں شمار کیا جا رہا ہے اور اس کی براہِ راست نشریات بھی کی جائیں گی، گرہن کا راستہ تقریباً 5,157 میل طویل ہوگا جو آرکٹک ساحل سے شروع ہو کر شمالی قطب، گرین لینڈ، آئس لینڈ، پرتگال اور شمالی اسپین سے گزرے گا گرین لینڈ میں مکمل گرہن تقریباً دو منٹ تک برقرار رہے گا، جبکہ شمالی اسپین میں یہ دورانیہ 20 سیکنڈ سے بھی کم ہوگا، افریقہ، یورپ اور شمالی امریکا کے وسیع علاقوں میں جزوی سورج گرہن بھی دیکھا جا سکے گا۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے مطابق یورپی براعظم میں آخری مکمل سورج گرہن 2006 میں دیکھا گیا تھا، جبکہ اسپین میں اگست کے مہینے میں مکمل سورج گرہن کا یہ پہلا واقعہ ہوگا جو 1905 کے بعد پیش آئے گا 2028 تک تین بڑے سورج گرہن متوقع ہیں اور 2026 کا گرہن ان میں پہلا ہوگا ، اسپین کے جاوالامبر فلکیاتی رصدگاہ سے گرہن کی براہِ راست ویڈیو نشر کی جائے گی تاکہ دنیا بھر کے شائقین اس فلکیاتی منظر کو محفوظ انداز میں دیکھ سکیں۔

    ناسا نے ہدایت کی ہے کہ مکمل مرحلے کے علاوہ پورے گرہن کے دوران خصوصی ’ایکلپس گلاسز‘ یا سولر ویوور استعمال کرنا ضروری ہے، جبکہ عام دھوپ کے چشمے آنکھوں کو تحفظ فراہم نہیں کرتے۔ دوربین، کیمرہ یا بائنوکولر استعمال کرنے کی صورت میں ان پر منظور شدہ سولر فلٹر لگانا لازمی ہوگا۔

    سائنس دان اس موقع پر غباروں کے ذریعے چاند کے سائے کی تصاویر لینے کا بھی منصوبہ بنا رہے ہیں یہ تجربہ 1919 کے اس تاریخی سائنسی مشاہدے سے مشابہ ہوگا جس نے سورج کی کششِ ثقل کے باعث روشنی کے خم کھانے کے نظریے کو تقویت دی تھی۔