Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ  نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    چیٹ جے پی ٹی کے سربراہ نے بڑی غلطی پر معافی مانگ لی

    اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین نے کینیڈا میں پیش آنے والے ایک ہولناک فائرنگ کے واقعے کے بعد اعتراف کیا ہے کہ ان کی کمپنی کو حملہ آور کی مشتبہ سرگرمیوں سے متعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کرنا چاہیے تھا۔

    رپورٹس کے مطابق 18 سالہ نوجوان جیسی وان نے 10 فروری کو ٹمبلر رڈج میں فائرنگ کر کے 8 افراد کو قتل کر دیا تھا، جن میں اس کی والدہ، سوتیلا بھائی اور ایک اسکول کے طلبہ بھی شامل تھے بعد ازاں حملہ آور نے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

    کمپنی کے مطابق حملہ آور کا چیٹ جی پی ٹی اکاؤنٹ گزشتہ سال جون میں مشتبہ سرگرمیوں کے باعث معطل کر دیا گیا تھا، کیونکہ اس کی سرگرمیوں کو پرتشدد مقاصد سے جوڑا جا رہا تھا تاہم اس وقت اوپن اے آئی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلع نہیں کیا کیونکہ کمپنی کے مطابق یہ سرگرمیاں فوری خطر ے کے معیار پر پوری نہیں اترتی تھیں۔

    اپنے ایک خط میں سیم آلٹمین نے کہا کہ ہمیں اس اکاؤنٹ کی معطلی کے بارے میں حکام کو اطلاع دینی چاہیے تھی، اور اس پر ہمیں گہرا افسوس ہے،انہوں نے متاثرہ کمیونٹی سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مستقبل میں مزید مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔

    برٹش کولمبیا کے وزیر اعلیٰ ڈیوڈ ای بے اور مقامی حکام نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا اور کمپنی سے وضاحت طلب کی تھی، جس کے بعد یہ معذرت سامنے آئی، ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری، صارفین کی نگرانی اور سیکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔

  • نظام شمسی میں ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ کی موجودگی  کا انکشاف

    نظام شمسی میں ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ کی موجودگی کا انکشاف

    سائنس دانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری کائنات کو چلانے والی چار معلوم قوتوں کے علاوہ ایک نامعلوم پراسرار ’پانچویں قوت‘ بھی موجود ہو سکتی ہے، جو کہکشاؤں کی ترتیب اور کائنات کے پھیلاؤ کے پیچھے چھپا اصل محرک ہو سکتی ہے۔

    یہ خیال موجودہ فزکس کے لیے بہت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ہماری کائنات کی سمجھ کو مکمل طور پر بدل سکتا ہے ناسا کے ماہرین کے مطابق، اس دریافت کے لیے ہمیں دور دراز کی کہکشاؤں کے بجائے اپنے نظامِ شمسی میں موجود شواہد پر توجہ دینی ہوگی۔

    یہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہم اب تک فطرت کی چار بنیادی قوتوں کو جانتے ہیں، کششِ ثقل، برقی مقناطیسیت ، مضبوط نیوکلیئر قوت اور کمزور نیوکلیئر قوت، یہ چاروں قوتیں کائنات کے زیادہ تر نظام کو کنٹرول کرتی ہیں، لیکن سائنس دانوں کے مطابق یہ کائنات کی مکمل وضاحت نہیں کرتیں۔

    سائنسی ویب سائٹ سائنس ڈیلی کے مطابق ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کا کہنا ہے کہ، کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ ’ڈارک میٹر‘ اور ’ڈارک انرجی‘ پر مشتمل ہے، جسے آج تک کوئی نہیں دیکھ سکا، یہ ممکنہ پانچویں قوت دراصل اس پراسرار مادے اور ہمارے نظر آنے والے مادی جہان (ستاروں اور سیاروں) کے درمیان ایک ’پل‘ کا کام کر سکتی ہے اس کا سراغ ملنے سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ بگ بینگ کے بعد کائنات کی تشکیل کے اصل مراحل کیا تھے۔

    ناسا کے ماہر طبیعات ڈاکٹر سلاوا جی تریشیف کی تجویز ہے کہ اس قوت کو ثابت کرنے کے لیے چاند اور زمین کے درمیان لیزر شعاعوں کے ذریعے فاصلے کی انتہائی درست پیمائش کی جائےاگر کششِ ثقل کے روایتی حساب کتاب اور تجرباتی نتائج میں معمولی سا فرق بھی پایا گیا، تو یہ اس پانچویں قوت کی موجودگی کا حتمی ثبوت ہوگا۔

    تحقیقات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یورپی مشنز جیسے ’اقلیدس‘ اربوں کہکشاؤں کا معائنہ کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کا اصرار ہے کہ پانچویں قوت کی تصدیق کے لیے ہمیں اپنے پڑوس یعنی نظامِ شمسی میں تجربات کرنے ہوں گے یہ دریافت نہ صرف طبیعیات کے نقشے کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز اور اس کے انجام کے بارے میں بالکل نئی بصیرت فراہم کرے گی۔

    ماضی میں بھی اس حوالے سے دلچسپ تجربات سامنے آئے ہیں 2015 میں ہنگری کے سائنس دانوں نے ایک غیر معمولی مشاہدہ کیا تھا جس میں ایک ممکنہ نئے ذرے کا اشارہ ملا، جبکہ بعد میں کچھ نظریات میں اسے ’ایکس بوسون‘ کہا گیا جو ممکنہ طور پر ایک نئی قوت کی علامت ہو سکتا ہےمزید حالیہ تجربات جیسے میں بھی کچھ ایسے نتائج سامنے آئے ہیں جو موجودہ سائنسی ماڈل سے مکمل طور پر مطابقت نہیں رکھتے، جس سے یہ سوال مزید مضبوط ہو گیا ہے کہ کیا واقعی کائنات میں کوئی اضافی قوت موجود ہے؟

    ڈاکٹر ٹوری شیف کے مطابق اگرچہ بڑے پیمانے پر مشاہدات نئی معلومات دے سکتے ہیں، لیکن اس نظریے کو ثابت کرنے کے لیے سب سے اہم قدم ہمارے اپنے نظامِ شمسی میں انتہائی درست اور کنٹرولڈ تجربات ہوں گے اگر یہ ’پانچویں قوت‘ ثابت ہو گئی تو یہ نہ صرف طبیعیات کے بنیادی اصولوں کو بدل دے گی بلکہ ہمیں کائنات کے آغاز، اس کی ساخت اور اس کے مستقبل کو سمجھنے کا ایک بالکل نیا طریقہ بھی فراہم کرے گی۔

  • پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان کا مقامی ای او-3 سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ

    پاکستان نے خلائی پروگرام میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرلی ہے، مقامی سطح پر تیار کردہ ’ای او تھری‘ سیٹلائٹ خلا میں روانہ کردیا گیا ہے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنا مقامی طور پر تیار کردہ ‘الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ’ (ای او3) کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کردیا ہے اس تاریخی سیٹلائٹ کو چین کے تائی یوآن سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا، جو پاکستان کے خلائی پروگرام میں خود انحصاری اور تکنیکی مہارت کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔

    ای او تھری سیٹلائٹ کا کامیاب مشن پاکستان کے لیے ایک نئی صبح کا آغاز ہے، جو ملک میں شہری منصوبہ بندی، آفات سے نمٹنے کے انتظام (ڈیزاسٹر مینجمنٹ)، غذائی تحفظ اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں انقلاب برپا کر دے گایہ سیٹلائٹ زمین کے مشاہدے کے ایک مربوط نظام کی بنیاد بنے گا، جس سے حاصل ہونے والا ڈیٹا قومی ترجیحات کو سہارا دینے اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

    اس تاریخی موقع پر وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے سپارکو کے انجینیئرز اور سائنسدانوں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے،وزیرِ اعظم نے عزم کا اظہار کیا کہ یہ کامیابی پاکستان کے روشن مستقبل کی علامت ہے ساتھ ہی انہوں نے خلائی ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کے دیرینہ اور ہر موسم کے آزمودہ دوست ملک چین کے تعاون کو بھی سراہا، جس نے اس اہم منصوبے کی تکمیل میں بھرپور مدد فراہم کی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سیٹلائٹ کی مدد سے اب پاکستان خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر اور ڈیٹا کے لیے غیر ملکی ذرائع پر انحصار کم کر سکے گا۔

  • سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج

    سورج سے طاقتور شمسی شعلوں کا اخراج ہوا-

    سورج نے7 گھنٹوں کےاندر 2 طاقتور ایکس 2.5 درجے کےشمسی شعلے خارج کیے، جو گزشتہ 78 دنوں میں سب سےشدید شمسی سرگرمی سمجھی جا رہی ہے دونوں دھماکے سورج کے ایک غیر مستحکم سن اسپاٹ ریجن اے آر 4419 سے خارج ہوئے، جو اس وقت سورج کے مغربی کنارے پر واقع ہےپہلا شمسی شعلہ 23 اپریل کو رات 9:07 بجے اپنے عروج پر پہنچا، جبکہ دوسرا 24 اپریل کو صبح 4:14 بجے ظاہر ہوا۔

    طبیعیات دان ریان فرنچ کے مطابق، یہ گزشتہ 78 دنوں میں دیکھے گئے سب سے طاقتور شعلے ہیں ان دھماکوں سے خارج ہونے والی شعاعوں نے زمین کے روشن حصے میں شدید ریڈیو بلیک آؤٹس پیدا کیے پہلا بلیک آؤٹ بحرالکاہل اور آسٹریلیا کے کچھ علاقوں میں محسوس کیا گیا، جبکہ دوسرے نے مشرقی ایشیا کو نمایاں طور پر متاثر کیا۔

    23 اپریل کو ان ایکس درجے کے شعلوں سے قبل درمیانے درجے کے ایم کلاس شمسی شعلوں کی ایک لہر بھی دیکھی گئی، جس کے ساتھ ایک نایاب ‘سمپیتھیٹک فلیئر’ بھی سامنے آیا، جس میں سورج کے 2 مختلف حصوں میں بیک وقت دھماکے ہوئے۔

    ماہرین کے مطابق، ان شعلوں کے ممکنہ راستوں کا تجزیہ جاری ہے، اور یہ امکان موجود ہے کہ ان کے اثرات زمین کو جزوی طور پر متاثر کریں ایسی صورت میں جیومقناطیسی طوفان پیدا ہو سکتے ہیں اور آسمان پر خوبصورت قطبی روشنیاں نظر آ سکتی ہیں۔

    واضح رہے کہ شمسی شعلے سورج پر ہونے والے انتہائی طاقتور دھماکے ہوتے ہیں، جو روشنی اور توانائی کے شدید اخراج کا سبب بنتے ہیں۔ان میں ایکس ریز اور بالائے بنفشی شعاعیں شامل ہوتی ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہیں جب یہ شعاعیں زمین تک پہنچتی ہیں تو فضا کی بالائی تہہ یعنی آئنوسفیئر کو متاثر کرتی ہیں عام حالات میں، طویل فاصلے تک جانے والے ریڈیو سگنلز آئنوسفیئر سے ٹکرا کر واپس زمین کی طرف آتے ہیں، لیکن شمسی شعاعوں کے اثر سے یہ نظام متاثر ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ریڈیوسگنلز کمزور پڑ جاتے ہیں اور شارٹ ویو ریڈیو بلیک آؤٹ ہو سکتا ہے۔

  • سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کا سیٹلائٹ”شمس”کامیابی سے لانچ

    سعودی عرب کی خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیشرفت، ‘شمس’ سیٹلائٹ کامیابی سے لانچ کر دیا-

    سعودی خلائی ایجنسی نے اعلان کیا ہے کہ سعودی سیٹلائٹ ‘شمس’ کو کامیابی کے ساتھ لانچ کر دیا گیا ہے اور اس سے ابتدائی رابطہ بھی قائم کر لیا گیا ہے، یہ سیٹلائٹ آرٹیمس ٹو مشن کے تحت سپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) کے ذریعے خلا میں بھیجا گیا جس کے بعد سعودی عرب ناسا کے آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے، اس پروگرام کا مقصد خلائی تحقیق میں جدت کو فروغ دینا اور عالمی سطح پر سائنسی تعاون کو مستحکم کرنا ہے۔

    آرٹیمس II اس پروگرام کا دوسرا مرحلہ ہے، جس میں چار خلا بازوں کو اورین سپیس کرافٹ کے ذریعے چاند کے گرد مدار میں بھیجا جا رہا ہے یہ گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو چاند کے قریب جائے گا، اور مستقبل میں مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔

    سعودی سیٹلائٹ "شمس” اس مشن کے سائنسی آلات میں شامل ہے، جو ایک بیضوی مدار (HEO) میں کام کرے گا یہ مدار زمین سے تقریباً 500 کلومیٹر سے لے کر 70 ہزار کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہوگا، جس کے ذریعے شمسی سرگرمیوں اور خلائی شعاعوں کی وسیع پیمانے پر نگرانی ممکن ہوگی۔

    دنیا کو غیر ذمہ دار قیادت کے حوالے کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ فوری نوٹس لے،حافظ نعیم

    "شمس”کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے یہ آرٹیمس پروگرام میں شامل ہونے والا پہلا عرب مشن ہے اور سعودی عرب کا پہلا باقاعدہ خلائی موسمیاتی (Space Weather) مشن بھی ہے اس سیٹلائٹ کو مقامی ماہرین نے تیار کیا، جسے وژن 2030 کے تحت نیشنل انڈسٹریل ڈویلپمنٹ اینڈ لاجسٹکس پروگرام (این آئی ڈی ایل پی) کی معاونت حاصل رہی۔

    یہ مشن چار اہم سائنسی شعبوں میں تحقیق کرے گا، جن میں خلائی شعاعیں، شمسی ایکس ریز، زمین کا مقناطیسی میدان اور شمسی توانائی کے حامل ذرات شامل ہیں اس سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا مواصلات، فضائی سفر اور نیویگیشن جیسے اہم شعبوں میں بہتری لانے میں مدد دے گا، جبکہ حساس بنیادی ڈھانچے کی حفاظت اور تیاری کو بھی مضبوط بنائے گا۔

    سعودی خلائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ محمد التمیمی کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں مملکت کی تیز رفتار ترقی کی عکاس ہے، جسے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کی قیادت حاصل ہے، یہ کامیابی اس عزم کی عکاس ہے کہ مملکت جدت، مہارت کی ترقی اور عالمی تعاون کے ذریعے مستقبل کی خلائی تحقیق میں اپنا فعال کردار ادا کرے گی۔

    مجتبیٰ خامنہ ای کے ’’وار روم‘‘ دورے کی ویڈیو وائرل،حقیقت کیا؟

    این آئی ڈی ایل پی کے سربراہ جمیل الغامدی کا کہنا ہے کہ ‘شمس’ کی مقامی سطح پر تیاری اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ پروگرام جدید ٹیکنالوجی کو مقامی بنانے اور قومی صلاحیتوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    آرٹیمس 2 زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گیا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کے آرٹیمس 2 مشن نے ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں چاروں خلا باز زمین اور چاند کے درمیان نصف سے زیادہ فاصلہ طے کرتے ہوئے اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ گئے ہیں۔

    ناسا کے مطابق خلائی جہاز اورائن اس وقت زمین سے تقریباً 154300 میل دور جبکہ چاند سے لگ بھگ 122500 میل کے فاصلے پر موجود ہے،مشن کے دوران خلا باز چاند کے گرد چکر لگائیں گے اور اس کی سطح سے متعلق سائنسی مشاہدات جمع کریں گےخلائی جہاز چاند کے گرد گھومنے کے بعد بغیر رکے واپس زمین کی جانب روانہ ہوجائے گا۔

    اورائن کیپسول چاند کے عقب میں تقریباً 4000 میل مزید سفر کرے گا، جہاں سے چاند کے اُس حصے کا نظارہ ممکن ہوگا جو زمین سے کبھی واضح طور پر نہیں دیکھا جا سکا، اس مشن میں شامل خلا باز ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور جیریمی ہینسن شامل ہیں، جو پیر کے روز چاند کے قریب پہنچنے کی توقع رکھتے ہیں-

    یہ 1972 میں اپالو 17 مشن کے بعد چاند کی جانب بھیجا جانے والا پہلا انسانی مشن ہےمشن کی تکمیل کے بعد اورائن خلائی جہاز کی 10 اپریل کو بحرالکاہل میں لینڈنگ متوقع ہے، جہاں اس کی بحفاظت واپسی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

  • چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    چاند کے سفر کے دوران خلا سے لی گئی زمین کی دلکش تصاویر وائرل

    امریکی خلائی ادارے ناسا نے آرٹیمس II مشن کے دوران خلا بازوں کی جانب سے کھینچی گئی زمین کی پہلی دلکش تصاویر جاری کر دی ہیں-

    ناسا کے تاریخی مشن ’آرٹیمس ٹو‘ نے خلا میں اپنے سفر کے تیسرے روز ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ اورین اسپیس کرافٹ پر سوار چار رکنی عملہ اب زمین کے مقابلے میں چاند کے زیادہ قریب پہنچ چکا ہے، جو کہ گہرے خلا کی تسخیر کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔

    مشن کے تیسرے روز عملے نے مختلف اہم سرگرمیاں سرانجام دیں اس اہم سنگ میل پر خلابازوں کے تاثرات نہایت پُر جوش تھے، خاص طور پر جب انہوں نے جہاز کے ’ڈاکنگ ہیچ‘ سے چاند کا پہلا قریبی نظارہ کیا اور اسے ایک ”خوبصورت منظر“ قرار دیتے ہوئے پوری دنیا کے ساتھ اپنی خوشی شیئر کی۔

    ناسا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر یہ ویڈیو اس خوشی کے پیغام کے ساتھ شیئر کی لکھا کہ ہم اس وقت ڈاکنگ ہیچ سے چاند کو دیکھ سکتے ہیں، یہ ایک نہایت خوبصورت نظارہ ہے۔

    ناسا کی جانب سے جاری کردہ اس ویڈیو میں سفر کی دلچسپ جھلکیاں دکھائی گئی ہیں، جس میں عملے کے ارکان کو زیرو گریوٹی میں تیرتے ہوئے اور اپنے معمول کے کام انجام دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے،ویڈیو میں خلابازوں کو نہ صرف جہاز کے اندرونی نظام کی مانیٹرنگ کرتے دکھایا گیا ہے بلکہ وہ چاند کے گرد چکر لگانے یعنی ’لونر فلائی بائی‘ کے لیے ضروری حساب کتاب اور تکنیکی تیاریوں میں بھی مصروف نظر آتے ہیں-

    ویڈیو میں شئیر کی گئیں تصاویر آرٹیمس II کے کمانڈر ریڈ وائزمین نے اورائن کیپسول میں موجود اپنے ذاتی کمپیوٹنگ ڈیوائس، یعنی ایک کیمرہ سے لیس ٹیبلیٹ کے ذریعے کھینچیں۔ تصاویر میں خلا سے نظر آنے والی زمین کا ایسا حسین منظر دکھایا گیا ہے جو دیکھنے والوں کو حیران کر دیتا ہے۔

    nasa

    ناسا کے مطابق ایک تصویر میں سورج کے غروب ہونے کے وقت زمین کے کناروں پر روشنی کی خوبصورت جھلک دیکھی جا سکتی ہے، جبکہ مختلف مقامات پر شمالی روشنیاں (Auroras) بھی نمایاں ہیں اسی کے ساتھ زوڈیاکل لائٹ کی روشنی بھی ایک خاص انداز میں نظر آتی ہے، جو خلا سے زمین کی دلکشی کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

    nasa

    ایک اور تصویر، جو چند منٹ بعد لی گئی، زمین کے رات کے منظر کو اجاگر کرتی ہے، جہاں مختلف شہروں کی روشنیاں ستاروں کی طرح چمکتی دکھائی دیتی ہیں، جبکہ سورج کی روشنی سیارے کے کنارے پر واضح دیکھی جا سکتی ہے۔

    nasa

    اورائن خلائی جہاز کی کھڑکی سے لی گئی ایک تصویر کو ناسا نے ’’خلا بازوں کی آنکھوں سے دیکھی گئی نیلی زمین‘‘ قرار دیا ہے، جو انسان اور اس کے سیارے کے درمیان گہرے تعلق کی عکاسی کرتی ہے۔

    earth

    مشن اسپیشلسٹ کرسٹینا کوچ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ زمین کو ایک ہی منظر میں دیکھنا ایک ناقابلِ بیان تجربہ ہے۔ ان کے مطابق دن کی روشنی میں چمکتی زمین اور رات میں چاندنی کی روشنی میں اس کا نظارہ بے حد دلکش ہے، اور اب وہ چاند کے اسی طرح کے مناظر دیکھنے کے لیے مزید پرجوش ہیں۔

    اسی دوران کمانڈر ریڈ وائزمین نے بتایا کہ ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب خلائی جہاز کو اس زاویے پر موڑا گیا کہ پوری زمین ایک ساتھ نظر آنے لگی، جس میں افریقہ اور یورپ واضح دکھائی دے رہے تھے اور شمالی روشنیاں بھی جھلک رہی تھیں۔ انہوں نے اسے اپنی زندگی کا سب سے حیران کن لمحہ قرار دیا۔

    کینیڈین خلائی ایجنسی کے خلا باز جیریمی ہینسن نے بھی کہا کہ اس قدر خوبصورت مناظر دیکھ کر عملہ کھانے تک بھول گیا اور سب کی نظریں کھڑکی سے باہر جمی رہیں۔

    ناسا کے مطابق خلا باز مسلسل تصاویر لینے میں مصروف رہے، یہاں تک کہ انہوں نے اپنا پہلا مشترکہ خلائی کھانا بھی کچھ دیر کے لیے مؤخر کردیا تاکہ اس نادر منظر کو محفوظ کیا جا سکے-

    اس تاریخی مشن کا آغاز یکم اپریل 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے ہوا تھا، جب ناسا کے طاقتور ترین راکٹ ’اسپیس لانچ سسٹم‘ نے چار خلابازوں، ریڈ وائز مین، وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہینسن کو لے کر فضاؤں کو چیرا تھا۔

    ’آرٹیمس ٹو‘ دراصل 1972 کے اپولو مشن کے بعد پہلا انسانی مشن ہے جو انسانوں کو زمین کے مدار سے باہر لے کر گیا ہے۔ اس 10 روزہ سفر کا بنیادی مقصد اورین جہاز کے لائف سپورٹ سسٹم کی مکمل جانچ کرنا ہے تاکہ مستقبل کے مشن میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے اور وہاں مستقل قیام کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا جا سکے۔

  • اے آئی ڈیٹا سینٹرز   زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں،تحقیق

    اے آئی ڈیٹا سینٹرز زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں،تحقیق

    اے آئی ڈیٹا سینٹرز اتنی گرمی پیدا کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کی زمین کے درجہ حرارت کو کئی ڈگری تک بڑھا سکتے ہیں ،د ڈیٹا سینٹر ہیٹ آئی لینڈز بناتے ہیں جو پہلے ہی 340 ملین لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔

    دنیا بھر میں بنائے گئے ڈیٹا سینٹرز کی تعداد میں بہت زیادہ اضافے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ JLL، ایک رئیل اسٹیٹ کمپنی، کا تخمینہ ہے کہ ڈیٹا سینٹر کی گنجائش 2025 اور 2030 کے درمیان دوگنی ہو جائے گی جس کی توقع ہے کہ AI اس طلب سے نصف ہو گی۔

    کیمبرج یونیورسٹی، برطانیہ میں اینڈریا مارینونی اور ان کے ساتھیوں نے دیکھا کہ ڈیٹا سینٹر کو چلانے کے لیے درکار توانائی کی مقدار میں دیر سے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور آنے والے سالوں میں اس کے "پھٹنے” کا امکان ہے، اس لیے وہ اس کے اثرات کا اندازہ لگانا چاہتے تھے۔

    تحقیق کے مطابق سطح کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ 2 ° C کے قریب ہوتا ہے، انتہائی صورتوں میں، خاص طور پر بعض ماحول میں، 9.1 ° C تک اضافہ دکھایا گیا ہے،گرمی صرف عمارت کے نشانات تک ہی محدود نہیں ہے، مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ 10 کلومیٹر (تقریباً 6.2 میل) دور تک کے علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔

    محققین کا اندازہ ہے کہ 340 ملین سے زیادہ لوگ ڈیٹا سینٹرز کے اتنے قریب رہتے ہیں کہ ان بڑھتے ہوئے مقامی درجہ حرارت سے متاثر ہوں،AI کی تیز رفتار نشوونما کے لیے ایسے پروسیسرز کے ریک کی ضرورت ہوتی ہے جو روایتی سرورز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، جس سے بڑی مقدار میں گرمی پیدا ہوتی ہے جسے روایتی ایئر کنڈیشنگ اب سنبھال نہیں سکتا۔

    ڈیٹا سینٹرز بڑی مقدار میں توانائی کا استعمال کرتے ہیں اور سرورز سے گرمی کو دور کرنے کے لیے، وہ گرم ہوا کو براہ راست ماحول میں خارج کرتے ہیں، بہت سے ڈیٹا سینٹرز گرم علاقوں میں بنائے گئے ہیں (مثال کے طور پر، میکسیکو کا باجیو علاقہ، اسپین میں آراگون)، جہاں گرمی کا انتظام زیادہ مشکل ہے، یہ مقامی درجہ حرارت بڑھنے کا اثر خاص طور پر مقامی علاقوں میں گرمی اور گرمی کے دوران پہلے سے ہی خراب ہو سکتا ہے-

  • اے سی کو کم ترین درجہ حرارت پر چلانا نقصان دہ، ماہرین کی وارننگ

    اے سی کو کم ترین درجہ حرارت پر چلانا نقصان دہ، ماہرین کی وارننگ

    گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ اے سی کا استعمال بھی عام ہو چکا ہے، مگر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک عام عادت آپ کے اے سی کی عمر کم کر سکتی ہے اور بجلی کے بل میں بھی اضافہ کر دیتی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اکثر لوگ اے سی کو ہمیشہ کم ترین درجہ حرارت پر چلاتے ہیں، جو کہ ایک بڑی غلطی ہے۔ اس سے مشین پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور اسے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ مسلسل کام کرنا پڑتا ہے۔
    ‎اس عمل کے باعث اے سی کا آؤٹ ڈور یونٹ بار بار بند اور دوبارہ چلتا ہے، جس سے نہ صرف مشین کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے بلکہ اس کی عمر بھی کم ہو جاتی ہے۔
    ‎خاص طور پر شدید گرمی اور حبس کے دنوں میں اگر اے سی کو 20 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم پر چلایا جائے تو سسٹم زیادہ محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کا ضیاع اور بل میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ اے سی کو مسلسل 24 گھنٹے چلانے کے بجائے وقفے دینا چاہیے تاکہ مشین کو آرام مل سکے اور اوور ہیٹنگ سے بچا جا سکے۔
    ‎مزید یہ کہ اگر باہر کا درجہ حرارت 34 سے 38 ڈگری کے درمیان ہو تو اے سی کو اس سے تقریباً 8 سے 10 ڈگری کم پر رکھنا کافی ہوتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق 26 سے 28 ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت نہ صرف آرام دہ ہوتا ہے بلکہ یہ بجلی کی بچت اور اے سی کی لمبی عمر کے لیے بھی بہترین ہے۔

  • جدہ: قدیم ترین مسجد میں  جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    جدہ: قدیم ترین مسجد میں جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام دریافت

    مسجد عثمان بن عفان سعودی شہر جدہ کے تاریخی علاقے میں واقع ہے اور اسے شہر کے قدیم ترین آثارِ قدیمہ میں شمار کیا جاتا ہے اس مسجد کی بنیاد 33 ہجری (654 عیسوی) میں رکھی گئی تھی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

    حالیہ کھدائی کے دوران ماہرین نے انکشاف کیا کہ یہ مقام گزشتہ 1300 سال سے مسلسل استعمال میں رہا ہے تحقیق کے دوران مختلف ادوار کے آثار سا منے آئے جن میں اموی دور، عباسی دور اور مملوک دور شامل ہیں، کھدائی کے دوران ایک جدید نوعیت کا تقریباً 800 سال پرانا آبی نظام بھی دریافت ہوا، جو اس دور کی انجینئرنگ مہارت کو ظاہر کرتا ہے اس کے علاوہ محراب میں نصب نایاب آبنوسی ستون بھی ملے، جن کے بارے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ لکڑی قدیم سری لنکا سے لائی گئی تھی، جو جدہ کے قدیم بحری تجارتی روابط کا ثبوت ہے۔

    ماہرین نے مسجد کی تعمیر کے سات مختلف ادوار کو ڈیجیٹل طور پر محفوظ کیا ہے، اس میں روایتی ساحلی طرزِ تعمیر، جیسے مرجانی پتھر اور لکڑی کے استعمال کو نمایاں کیا گیا ہے، جو اس علاقے کی مخصوص تعمیراتی پہچان ہے۔

    کھدائی کے دوران ہزاروں نوادرات بھی دریافت ہوئے، جن میں ابتدائی چینی مٹی کے برتن شامل ہیں یہ دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ مسجد صدیوں سے جدہ کی ثقافتی اور تجارتی تاریخ کا اہم حصہ رہی ہے، خاص طور پر اس وقت سے جب حضرت عثمان بن عفان نے جدہ کو اسلامی دنیا کی مرکزی بندرگاہ قرار دیا تھا، آج یہ مسجد جدہ کے ثقافتی راستوں کا ایک اہم مرکز بن چکی ہے، جہاں اسلامی تاریخ اور جدید سرگرمیوں کو یکجا کر کے سعودی عرب کی مذ ہبی اور تعمیراتی شناخت کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔