Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • میپ میں غلط راستہ بتانے پر گوگل پر مقدمہ درج

    میپ میں غلط راستہ بتانے پر گوگل پر مقدمہ درج

    شمالی کیرولائنا کے ایک شخص کے اہل خانہ نے گوگل میپس کی ہدایات پرعمل کرتے ہوئے کار پُل سے نیچے گرنے کے باعث اُس کی ہلاکت پرٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کروادیا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکوری میں ایک گاڑی پُل پر جاتے وقت کھائی میں جاگری جس کے نتیجے میں 2 بچیوں کے والد فِل پیکسن موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جس کا ذمہ دار متوفی کی بیوہ نے گوگل کو ٹھہرایا ہے،ویک کاؤنٹی سپیریئر کورٹ میں منگل کے روز دائر مقدمے کے مطابق 30 ستمبر 2022 کو فلپ پیکسن اپنی جیپ گلیڈی ایٹرز کے ہکوری میں سنو کریک میں گرنے سے ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے۔

    47 سالہ فِل پیکسن شمالی کیرولائنا میں ایک دوست کے گھر اپنی 9 سالہ بیٹی کی سالگرہ پارٹی سے رات کے وقت شدید بارش میں واپس آرہے تھےاندھیرا ہونے کی وجہ سے فِل پیکسن نے اپنے فون پر گوگل میپس کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 4.3 میل دور 10 منٹ کے فاصلے پر اپنے گھر تک GPS ہدایات آن کردیں۔ تاہم جی پی ایس انہیں اسنو کریک پُل پر لے گیا جو 2013 میں جزوی طور پر ڈھے گیا تھا۔

    سعودی عرب اور اسرائیل قریب تر ہوتے جارہے ہیں، محمد بن سلمان

    جیسے ہی وہ پُل پر آئے پیکسن کی جیپ گلیڈی ایٹر سڑک سے 20 فٹ نیچے کھائی میں جا گری شمالی کیرولائنا کے سیکورٹی حکام نے کہا کہ عام طور پر ڈرائیوروں کو پل عبور کرنے سے روکنے کے لیے رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں لیکن کچھ دنوں میں مرمت اور توڑ پھوڑ کے کام کے بعد پُل سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی تھیں، مقدمے کے مطابق وہ ایک غیر محفوظ کنارے سے گاڑی چلا کر تقریبا 20 فٹ نیچے گرے۔

    پیکسن کی بیوہ نے اپنے شوہر کی موت کا گوگل کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گوگل کیخلاف مقدمہ دائر کیا ہے یہ مقدمہ 19 ستمبر کو ویک کاؤنٹی کی نارتھ کیرولینا سپیریئر کورٹ میں دائر کیا گیا ہے، جہاں گوگل کا رجسٹرڈ دفتر بھی موجود ہے۔

    مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ گوگل نے ٹوٹے ہوئے پل کے بارے میں شہریوں کی شکایات کو نظر انداز کیا اور اپنے نقشوں کو اپ ڈیٹ کرنے میں ناکام رہا۔ مقدمے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اپریل 2023 تک گوگل میپس نے پل کو قابل گزر راستے کے طور پر دکھایا ہوا ہے۔

    سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے عالمی تعاون ضروری ہے،نگران وزیراعظم

    ان کی اہلیہ الیسیا پیکسن کا کہنا تھا کہ ہماری بیٹیاں پوچھتی ہیں کہ ان کے والد کی موت کیسے اور کیوں ہوئی اور میں ان الفاظ سے محروم ہوں جو وہ سمجھ سکتی ہیں کیونکہ مجھےبھی سمجھ نہیں آرہی-

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ پٹرول نے کہا تھا کہ پل کی دیکھ بھال مقامی یا ریاستی حکام نہیں کرتے تھے اور اصل ڈویلپر کی کمپنی تحلیل ہو گئی تھی۔ مقدمے میں کئی نجی پراپرٹی مینجمنٹ کمپنیوں کا نام لیا گیا ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ پل اور ملحقہ زمین کے ذمہ دار ہیں۔

    مقدمے کے مطابق متعدد افراد نے گوگل میپس کو پل کے گرنے کے بارے میں مطلع کیا تھا اور کمپنی پر زور دیا تھا کہ وہ اپنے روٹ کی معلومات کو اپ ڈیٹ کرے۔

    کینیڈا میں ایک اورعلیحدگی پسند سکھ رہنما قتل

    منگل کو دائر کی گئی عدالتی شکایت میں ہکوری کے ایک اور رہائشی کے ای میل ریکارڈ بھی شامل ہیں جنہوں نے ستمبر 2020 میں نقشے کے ”ایڈٹ کی تجویز“ کی خصوصیت کا استعمال کرتے ہوئے کمپنی کو متنبہ کیا تھا کہ وہ ڈرائیوروں کو منہدم پل پر ہدایت دے رہی ہے۔

    گوگل کی جانب سے نومبر 2020 میں ای میل کی تصدیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ کمپنی کو ان کی رپورٹ موصول ہوئی ہے اور وہ تجویز کردہ تبدیلی کا جائزہ لے رہی ہے، لیکن مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گوگل نے مزید کوئی قدم نہیں اٹھایا گوگل کے ترجمان جوز کاسٹانیڈا نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’ہمیں پیکسن خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی ہے‘ ہمارا مقصد میپس میں درست روٹنگ معلومات فراہم کرنا ہے اور ہم اس مقدمے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    سدھوموسے والا قتل کیس: ملزم گولڈی برار کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاری کیلئےچھاپے

  • ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کرلیا

    ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کرلیا

    جغرافیائی ماہرین نے 375 سال بعد ایک گمشدہ براعظم دریافت کیا ہے-

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق یہ جزیرہ کسی وقت میں ایک قدیم سپر براعظم کا حصہ تھا جس میں مغربی انٹارکٹیکا اور مشرقی آسٹریلیا شامل تھےماہرین قیاس آرائیاں کرتےرہے ہیں کہ ماؤری زبان میں زیلینڈیا یا( تی ریو ماوی) کے نام سے جانا جانے والا براعظم تاریخی طور پرخطے پرموجود ہے زیلینڈیا کا سائز 1.89 ملین مربع میل ہے تقریباً 1.89 ملین مربع میل (4.9 ملین مربع کلومیٹر) پرمحیط یہ براعظم جو جگہ جگہ چھپا ہوا تھا، زیادہ تر زیرآب ہے اسے سب سے پہلے 1642 میں ڈچ تاجر اور ملاح ایبل تسمان نے دریافت کیا تھا ، جو ”عظیم جنوبی براعظم“ بے نقاب کرنے کے لئے نکلا تھا ۔

    ایبل تسمان کی ملاقات وہاں موجود ماؤری قبیلے کے لوگوں سے ہوئی جو اس کی وہاں موجودگی سے ناخوش تھے لیکن پھر انہوں نے اسے وہاں کے بارے میں معلومات فراہم کیں جواس کے لئےکافی حیرت انگیزتھیں ،انہوں نےاسے وہاں موجود مشرق میں ایک بڑے زمینی حصے کے وجود کے بارے میں بھی آگاہ کیا تھا-

    نیب کا حساس اداروں کے افسران کی خدمات لینے کا فیصلہ

    نیوزی لینڈ کراؤن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جی این ایس سائنس کے ماہر ارضیات اینڈی ٹلوچ کا کہنا تھا کہ یہ اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح کسی بہت واضح چیز کو سامنے آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے انھوں نے وضاحت کی کہ یہ براعظم 6560 فٹ (2 کلومیٹر) پانی کے نیچے واقع ہے،اس تحقیق کی قیادت کرنے والے ساتھی نک مورٹیمر نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ”بہت اچھا“ تھا اور انہوں نے وضاحت کی کہ اسے دریافت کرنے میں اتنا وقت کیوں لگا۔

    عام انتخابات کونسے مہینے میں ہوں گے؟الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا

    اس عظیم جنوبی براعظم کے بارے میں رومن دور سے نظریہ سازی کی گئی ہے اور یہاں تک کہ 1600 کی دہائی میں اسے جزوی طور پر دریافت کیا گیا تھا یہ پہلا موقع تھا جب کسی نے پراسرار آٹھویں براعظم کے بارے میں معلومات ریکارڈ کیں،ماہرین ارضیات کو نئے براعظم پر اتفاق کرنے میں بھی طویل عرصہ درکار ہے۔

  • گوشت کا کھانے میں کم استعمال کرکے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے،تحقیق

    گوشت کا کھانے میں کم استعمال کرکے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے،تحقیق

    برلنگٹن: ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا کے نصف حصے کو سبزیوں پر منتقل کرنے سے موسمیاتی تغیر میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: پودوں پر مبنی کھانے – جیسے پھل اور سبزیاں، اناج، پھلیاں، مٹر، گری دار میوے، اور دال – عام طور پر کم توانائی، زمین، اور پانی کا استعمال کرنے پر جانوروں پر مبنی کھانے کے مقابلے میں گرین ہاؤس گیس کی شدت کم ہوتی ہے،خوراک کے آب و ہوا کے اثرات کو گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی شدت کے لحاظ سے ماپا جاتا ہے۔ اخراج کی شدت کا اظہار کلوگرام "کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی” میں کیا جاتا ہے جس میں نہ صرف CO2 بلکہ تمام گرین ہاؤس گیسیں شامل ہیں بلکہ فی کلوگرام خوراک، فی گرام پروٹین یا فی کیلوری بھی شامل ہے-

    جانوروں پر مبنی کھانے، خاص طور پر سرخ گوشت، ڈیری، اور کھیتی کے جھینگا، عام طور پر سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سے وابستہ ہوتے ہیں،گوشت کی پیداوار کے لیے اکثر گھاس کے وسیع میدانوں کی ضرورت ہوتی ہے، جو اکثر درختوں کو کاٹ کر، جنگلات میں ذخیرہ شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو چھوڑ کر پیدا ہوتا ہے۔

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    گائے اور بھیڑیں گھاس اور پودوں کو ہضم کرتے وقت میتھین خارج کرتی ہیں چراگاہوں پر مویشیوں کا فضلہ اور مویشیوں کے چارے کے لیے فصلوں پر استعمال ہونے والی کیمیائی کھاد ایک اور طاقتور گرین ہاؤس گیس نائٹرس آکسائیڈ خارج کرتی ہے۔

    کیکڑے کے فارم اکثر ساحلی زمینوں پر قابض ہوتے ہیں جو پہلے مینگروو کے جنگلات میں ڈھکے ہوئے تھے جو بڑی مقدار میں کاربن جذب کرتے ہیں۔ جھینگے یا جھینگوں کے بڑے کاربن فوٹ پرنٹ بنیادی طور پر ذخیرہ شدہ کاربن کی وجہ سے ہوتے ہیں جو فضا میں چھوڑے جاتے ہیں جب مینگرووز کو جھینگوں کے فارم بنانے کے لیے کاٹا جاتا ہے۔

    جرنل نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گوشت اور ڈیری پر مشتمل غذا کا نصف حصہ پودوں پر مشتمل غذا سے بدل دیا جائے تو آئندہ 27 سالوں میں 31 فیصد تک کاربن اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے،گوشت پرمبنی بھاری غذائیں ہماری صحت کے ساتھ ہمارے سیارے کے لیے بھی خطرات رکھتی ہیں بڑے پیمانے پر مویشیوں کا پالا جانا ہمارے ماحول کو خراب کرتا ہے اور وسیع مقدار میں گرین ہاؤس گیس کو پیدا کرتا ہے۔

    لیبیا:سیلاب کے بعد لاشیں نکالنے والی ٹیموں کا ہولناک سانحہ کا انکشاف

    2021 میں کی جانے والی یونیورسٹی آف الینوائے اربانا شیمپین کی ایک تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ غذا کے سبب گرین ہاؤس گیس اخراج کا 57 فی صد حصہ گوشت اور ڈیری پر مشتمل ہوتا ہے یہ نئی تحقیق گزشتہ مطالعےسےاتفاق کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ غذا کا 50 فیصد حصہ سبزیوں پر مشتمل کرنے سے زراعت اور زمین کے استعمال میں کمی واقع ہوگی۔

    یونیورسٹی آف ورمونٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کی شریک مصنفہ ایوا وولین برگ کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیس کے اخراج میں کمی کے لیےہمیں گوشت کےاستعمال میں کمی کرنےکی ضرورت ہوگی، اوریہ تحقیق ہمیں ایسا کرنےکا راستہ دِکھاتی ہے، پودوں سے بنے گوشت صرف ایک نئی غذا نہیں ہے بلکہ غذائی تحفظ اور موسمیاتی مقاصد کو حاصل کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر صحت اور حیاتیاتی تنوع پر مشتمل مقاصد حاصل کرنے کے لیے ایک اہم موقع ہے۔

    شریک بانی گوگل نے اپنی بیوی نیکول شناہن کو طلاق دے دی، انکشاف

  • جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    جیمز ٹیلی اسکوپ نےستارے کی پیدائش کیمرے میں محفوظ کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ایک ستارے کے بننے کے عمل کی تصویر کھینچی ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے اس تصویر کو جاری کیا گیا جس میں ستارے کے سفر کے دوران خارج ہونے والی متعدد گیسوں کو دکھایا گیا ہے گیسوں کا یہ امتزاج اس وقت نظر آتا ہے جب نئے بننے والے ستارے تیز رفتاری سے گیس اور گرد ٹکراتے ہیں،زمین سے ایک ہزار نوری برسوں کے فاصلے پر واقع اس ستارے کو Herbig-Haro 211 کا نام دیا گیا ہے۔
    https://x.com/NASA/status/1702367051719889338?s=20

    پرویز الٰہی ایک روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی اس دریافت سےسائنسدانوں کو اس طرح کے ٹکراؤ سے پیدا ہونے والی شاک ویوز کی رفتار اور سمت کے بارے میں جاننے کا موقع ملے گا ناسا کے مطابق Herbig-Haro 211 بتدریج سورج جیسا ستارہ بن جائےگا،جیمز ویب کے انفرا ریڈ کیمرے نے اس ستارے کے درجہ حرارت کو جاننے کا موقع فراہم کیا اور اس طرح محققین شاک ویوز کا ڈیٹا اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئے۔

    نامورمیڈیا گروپ کا مالک جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور منی لانڈرنگ میں ملوث،7 ارب روپے برآمد

    واضح رہے کہ جیمز ویب دنیا کی طاقتور ترین ٹیلی اسکوپ ہے اور اس کی مدد سے سائنسدان اب تک اربوں سال پرانی کہکشاؤں کا ڈیٹا اکٹھا کر چکے ہیں جبکہ اس نے ہمارے نظام شمسی کے سیاروں کی حیران کن تصاویر بھی کھینچی ہیں۔

  • بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی، ٹِک ٹاک پر 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد

    بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی، ٹِک ٹاک پر 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز جرمانہ عائد

    ڈبلن: آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹِک ٹاک پر 36 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز (108 ارب 96 کروڑ پاکستانی روپے) کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن (DPC) نے 1 ستمبر 2023 کو TikTok ٹیکنالوجی لمیٹڈ (TTL) سے متعلق اپنی انکوائری کے بارے میں اپنا حتمی فیصلہ کیا یہ جرمانہ2021 میں ڈی پی سی کی جانب ایپلی کیشن میں بچوں کےڈیٹا کے حوالے سے شروع ہونے والی تحقیقات کی صورت میں عائد کیا گیا تحقیقات میں نگران ادارے نے ٹِک ٹاک کی جانب سے یورپ کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جی ڈی پی آر) کے قوانین کی پاسداری کو دیکھا۔

    اپنی مرضی سے کی جانے والی اس انکوائری نے اس حد تک جانچنے کی کوشش کی کہ 31 جولائی 2020 سے 31 دسمبر 2020 (متعلقہ مدت) کے دوران، ٹک ٹاک نے بچوں کے صارفین سے متعلق ذاتی ڈیٹا کی پروسیسنگ کے سلسلے میں GDPR کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی کس حد تک تعمیل کی-

    بھارت میں کرونا سے بھی خطرناک وائرس،تعلیمی ادارے،دفاتر بند

    تحقیقات میں ٹک ٹاک کے ڈیفالٹ اکاؤنٹ سیٹنگز، فیملی پیئرنگ سیٹنگز اور ایج ویریفیکیشن (عمر کی تصدیق) کے فیچر کو دیکھا گیا یورپین ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ سے مشاورت کے بعد ڈی پی سی کو معلوم ہوا کہ ٹِک ٹاک میں بچوں کے سائن اپ ہونے کے بعد ان اکاؤنٹس تک پبلک کی رسائی بنیادی سیٹنگز کاحصہ ہے جس کا مطلب ہے کہ ڈیفالٹ سیٹنگز (پہلے سے طے شدہ سیٹنگ) کے تحت بچوں کی ویڈیو عام صارفین دیکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی کمنٹس، ڈیوٹس اور اسٹچ فیچر بھی ڈیفالٹ سیٹنگ میں آن ہوتے ہیں۔

    2020 میں ٹِک ٹاک کی جانب سے متعارف کرائے جانے والا پیئرنگ فیچر بچوں کے اکاؤنٹ کو کسی بڑے کے اکاؤنٹ کے ساتھ جوڑنے کی سہولت دیتاہے ایسا کرنے سے بچوں کے اسکرین ٹائم، ڈائریکٹ میسج اور غیر مناسب کونٹینٹ پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔

    پاکستان میں امریکا کے سابق سفیر کو سزا سنا دی گئی

    تاہم، ڈی پی سی کو معلوم ہوا کہ بچوں کے اکاؤنٹ ایسے اکاؤنٹ سے جوڑے جاسکتے ہیں جن کے متعلق کمپنی نے یہ تصدیق ہی نہیں کی ہوتی آیا یہ ان کے والدین یا سرپرستوں کے اکاؤنٹ ہیں یا نہیں۔ اکاؤنٹ کے ایک بار جڑنے کے بعد بچے کی پروفائل کی سیٹنگ بڑے کی جانب سے بدلی جاسکتی ہیں۔

    البتہ ادارے کی جانب سے دیئے جانے والے فیصلے میں بتایا گیا کہ ٹِک ٹاک کا عمر کی تصدیق کا طریقہ کار جی ڈی پی آر قوانین سے متصادم نہیں تھا۔ ادارے کے مطابق کمپنی نے اکاؤنٹ بنانے والے 13 سال سے کم عمر بچوں کی پرائیویسی کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے۔

    ٹک ٹاک پر بچوں کے ڈیٹا کی خلاف ورزی پر 345 ملین یورو کا جرمانہ …

    واضح رہے اس سے پہلے ڈی پی سی نے 2022 میں میٹا پر 40 کروڑ ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ میٹا پر یہ جرمانہ نوجوانوں کے انسٹاگرام پر بزنس اکاؤنٹ بنانے کی اجازت پر عائد کیا گیا تھا جس کی وجہ سے ان کی نجی معلومات پبلک ہو رہی تھی۔

  • واٹس ایپ نے نیا دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا

    واٹس ایپ نے نیا دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی واٹس ایپ نے صارفین کے لئے ایک اور نیا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: میٹا کے پانی مارک زکر برگ کے مطابق صارفین کے لیے واٹس ایپ چینلز متعارف کروانے جارہے ہیں جس میں ہزاروں نئے چینلز شامل کیے جائیں گے جنہیں صارفین واٹس ایپ پر فالو کر سکیں گے،صارفین ان چینلز کو نئے اپ ڈیٹس ٹیب میں دیکھ سکیں گے۔

    واٹس ایپ کی تازہ ترین اپ ڈیٹ میں ایک نیا فیچر متعارف کرایا گیا ہے جو آپ کو ایپ کے اندر ہی ان لوگوں اور تنظیموں کی اپ ڈیٹس کو فالو کرنے میں مدد دے گا جو آپ کے لیے اہم ہیں واٹس ایپ چینلز کہلاتے ہیں-

    پینشن حاصل کرنےکیلئےبیوی کی لاش 5 سال تک گھرکےفریزرمیں چھپاکررکھنےوالاشوہرگرفتار

    واضح رہے کہ چینلز نما یہ نیا فیچر دراصل ایک براڈ کاسٹ فیچر ہے جسے سیاسی، سماجی اور تمام مشہور شخصیات و ادارے اپنی اپ ڈیٹس شیئر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں یہ فیچر ایک نئے اپ ڈیٹس ٹیب پر ظاہر ہوگا جو دوستوں اور رشتہ داروں سے کی جانے والی عمومی چیٹ سے علیحدہ ہوگا۔

    میسجنگ ایپ نے چند ماہ قبل دو ممالک میں یہ نیا فیچر متعارف کروایا تھا، مارک زکربرگ نے اپنے نئے واٹس ایپ چینل پر اس فیچر کے رول آؤٹ کا اعلان کیا ہےنیٹ فلکس جیسی کمپنیاں اس فیچر کا استعمال کرتے ہوئے اپنے چینل کے ذریعے صارفین کو یک طرفہ سیریز دیکھا سکیں گی، چینل کی ہسٹری صرف 30 دن تک محدود ہوگی، جس کے بعد وہ ازخود ڈیلیٹ ہوجائے گی،اگلے چند ہفتوں میں چینلز عالمی سطح پر شروع ہو رہے ہیں، اور ہندوستان سمیت 150 سے زیادہ ممالک میں دستیاب ہوں گے۔

    قطر سے اسلام آباد کی پرواز میں ہنگامی صورتحال،دوحہ ائیر پورٹ پرلینڈنگ

  • چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چینی سائنسدانوں اورانجینئرزنے بحیرہ جنوبی چین میں سمندری تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے آلے کا آف شور ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 20 کلو واٹ کا آلہ، بنیادی طور پر چائنا جیولوجیکل سروے کے براہ راست کنٹرول میں گوانگزو میرین جیولوجیکل سروے (GMGS) کے ذریعے تیار کیا گیا، ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد، جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے کے دارالحکومت گوانگزو کو واپس کر دیا گیا ٹیسٹ کے دوران، ڈیوائس نے چار گھنٹے اور 47 منٹ تک بجلی پیدا کی، جو 16.4 کلو واٹ کی زیادہ سے زیادہ پاور آؤٹ پٹ تک پہنچ گئی۔

    جی ایم جی ایس کے ایک سینئر انجینئر ننگ بونے بتایا کہ آف شور ٹیسٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ سمندری تھرمل انرجی پاور جنریشن سسٹم کی عملداری کے ساتھ ساتھ اس کے موثر طورسے کام کرنے کی تصدیق کی گئی، جو کہ ملک کی جانب سے سمندری تھرمل توانائی کو ترقی اور استعمال کرنے،زمینی جانچ کے مرحلے سے لے کر آف شور ایپلی کیشنز تک کی جاری کوششوں میں اہم قدم ہے۔

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ننگ کے مطابق،سمندری حرارتی توانائی سطح اور گہرے سمندری پانی کے درمیان درجہ حرارت کے فرق کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، اس طرح یہ قابل تجدید توانائی کا ایک ذریعہ ہے چین سمندری تھرمل توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن متعلقہ تحقیق پہلے لیبارٹری اور زمینی جانچ کے مرحلے میں رہی تھی۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

  • ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک اہم دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بڑے سیارے میں ممکنہ سمندر کی موجودگی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں کے کیمیائی عناصر سے ممکنہ زندگی کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ستاروں کے جھرمٹ اسد میں موجود سیارے کو دریافت کیا،اسے K2-18 b کا نام دیا گیا ہے جو کہ زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اس نے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت کاربن برداشت کرنے والے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔


    ناسا کے مطابق اس سیارے میں ممکنہ طور پر ہائیڈروجن فضا میں موجود ہے جبکہ سطح سمندر سے ڈھکی ہوئی ہے سیارے کی فضا میں کیمیائی عناصر کی جانچ پڑتال سے وہاں سمندر کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس سیارے کے ہائیڈروجن والے ماحول میں سمندر موجود ہوسکتا ہے۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    مگر ناسا کا کہنا تھا کہ اہم ترین دریافت وہاں dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) نامی مالیکیول کی ممکنہ موجودگی ہے یہ مالیکیول زمین پر زندگی سے ہی بنتا ہے زمین کی فضا میں ڈی ایم ایس کا اخراج بحری ماحول سے ہوتا ہے تاہم امریکی خلائی ادارے نے کہا کہ ڈی ایم ایس کی موجودگی کی تصدیق ہونا باقی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کیا جائے گا یہ پہلی بار نہیں جب ناسا نے دیگر سیاروں میں پانی کی موجودگی کے آثار دریافت کیے مگر اس نئی دریافت نے سائنسدانوں کو پرجوش کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے عموماً چھوٹے چٹانی سیاروں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر K2-18 b جیسے بڑے سیاروں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہےیہ سیارہ ایک ستارے K2-18 کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس سے اتنی دور موجود ہے جو سائنسدانوں کے خیال میں سیال پانی کی موجودگی کے لیے ضروری ہے۔

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر فلکیات اور ان نتائج کا اعلان کرنے والے مقالے کے سرکردہ مصنف نکو مدھو سدھن نے وضاحت کی، ہمارے نتائج کسی اور جگہ زندگی کی تلاش میں متنوع رہائش کے قابل ماحول پر غور کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

    میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت، اور امونیا کی کمی، اس مفروضے کی تائید کرتی ہے کہ K2-18 b میں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول کے نیچے پانی کا سمندر ہو سکتا ہے ان ابتدائی ویب مشاہدات نے ڈائمتھائل سلفائیڈ (DMS) نامی مالیکیول کی ممکنہ شناخت بھی فراہم کی۔ زمین پر، یہ صرف زندگی کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے زمین کے ماحول میں ڈی ایم ایس کا بڑا حصہ سمندری ماحول میں فائٹوپلانکٹن سے خارج ہوتا ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس سیارے کو سب سے پہلے 2015 میں ناسا کے K2 مشن نے دریافت کیا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی زیادہ بہتر ہے جس سے اس کے تفصیلی تجزیے میں مدد ملی اور سمندر کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

  • گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیلیفورنیا: گوگل میپس نے صارفین کی سہولت کے لیے دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اگر آپ گوگل میپس میں متعدد مقامات کو فیورٹ کے طور محفوظ کرنے کے عادی ہیں تو اب اس کے لیے ایموجیز کو استعمال کر سکتے ہیں آپ کسی بھی ایموجی کو کسی مخصوص مقام کی علامت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، اب وہ ریسٹورنٹ ہو، دکان، ہوٹل، پارک یا کوئی بھی جگہ، اس کی شناخت کےلیے فون میں دستیاب کسی بھی ایموجی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    https://x.com/googlemaps/status/1699414764273770836?s=20
    ایموجیز سے کسی بھی محفوظ مقام کو شناخت کرنا صارفین کے لیے بہت آسان ہو گا، بس یہ یاد رکھنا ضروری ہو گا کہ کسی مقام کے لیے کونسا ایموجی استعمال کیا گیا ہے،گوگل کی جانب سے اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ میپس کو کیسے تبدیل کرسکتا ہے۔

    پرویز الہی توہین عدالت کیس: پولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات …

    گوگل کی جانب سے اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نقشے کو کیسے تبدیل کرسکتا ہے، اس مقصد کے لیے اس مقام پر کلک کریں جسے گوگل میپس پر سیو کرنا چاہتے ہیں، پھر نیچے سیو پر کلک کریں اس کے بعد نیو لسٹ پر کلک کر کے اس جگہ کا نام لکھیں اور اوپر موجود Choose icon بٹن کا انتخاب کریں، یہاں آپ کسی بھی ایموجی کو سلیکٹ کر سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ستمبر کے آغاز میں کمپنی کی جانب سے خاموشی سے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی گئی تھی۔

    بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن،8 کروڑ یونٹ بجلی کا کھوج لگا لیا گیا

  • ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    واشنگٹن: ناسا نے پہلی بار اپنے پریسیورنس رووَر کی مدد سے مریخ پر آکسیجن پیدا کی جس سے ایک خلاباز تین گھنٹے تک سیارے پر زندہ رہ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رووَر جس نے فروری 2021 میں مریخ پر لینڈنگ کی تھی، نے اپنی مشین میں نصب آکسیجن پیدا کرنے والی ڈیوائس( MOXIE( Mars Oxygen In-Situ Resource Utilization Experiment، کا استعمال کرتے ہوئے دو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تبدیل کرکے آکسیجن پیدا کی مریخ پر پہنچنے کے بعد سے مائیکرو ویو سائز کے آلے نے 4.3 اونس (122 گرام) آکسیجن پیدا کی ہے یہ مقدار کتے کے 10 گھنٹے سانس لینے کے برابر مقدار ہے۔

    اپنی کارکردگی کے عروج کے دوران، MOXIE نے فی گھنٹہ 12 گرام آکسیجن 98 فیصد خالص یا اس سے بہتر پیدا کی، جو کہ اس آلے کے لیے NASA کے اہداف سے دوگنا ہے 7 اگست کو، MOXIE نے اپنی تمام ضروریات پوری کر کے 16ویں اور آخری بار کام کیا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    ناسا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کامیابی امید دلاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک دن سُرخ سیارے پر برقرار رہ سکتی ہےواشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر میں اسپیس ٹکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ رُکن سائنسدان ٹرڈی کورٹس نے کہا کہ ہمیں MOXIE جیسی کی ٹیکنالوجی پر فخر ہے جو مقامی وسائل کومستقبل کے ریسرچ مشنوں کے لیے مفید مصنوع میں تبدیل کر سکتی ہےاس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایک ایسے مستقبل کے قریب آ گئے ہیں جس میں خلاباز زمین سے دور رہتے ہوئے سرخ سیارے پر رہ سکتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت