Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چین سمندرمیں تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے میں کامیاب

    چینی سائنسدانوں اورانجینئرزنے بحیرہ جنوبی چین میں سمندری تھرمل توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے آلے کا آف شور ٹیسٹ مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: 20 کلو واٹ کا آلہ، بنیادی طور پر چائنا جیولوجیکل سروے کے براہ راست کنٹرول میں گوانگزو میرین جیولوجیکل سروے (GMGS) کے ذریعے تیار کیا گیا، ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد، جنوبی گوانگ ڈونگ صوبے کے دارالحکومت گوانگزو کو واپس کر دیا گیا ٹیسٹ کے دوران، ڈیوائس نے چار گھنٹے اور 47 منٹ تک بجلی پیدا کی، جو 16.4 کلو واٹ کی زیادہ سے زیادہ پاور آؤٹ پٹ تک پہنچ گئی۔

    جی ایم جی ایس کے ایک سینئر انجینئر ننگ بونے بتایا کہ آف شور ٹیسٹ میں مقامی طور پر تیار کردہ سمندری تھرمل انرجی پاور جنریشن سسٹم کی عملداری کے ساتھ ساتھ اس کے موثر طورسے کام کرنے کی تصدیق کی گئی، جو کہ ملک کی جانب سے سمندری تھرمل توانائی کو ترقی اور استعمال کرنے،زمینی جانچ کے مرحلے سے لے کر آف شور ایپلی کیشنز تک کی جاری کوششوں میں اہم قدم ہے۔

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ننگ کے مطابق،سمندری حرارتی توانائی سطح اور گہرے سمندری پانی کے درمیان درجہ حرارت کے فرق کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے، اس طرح یہ قابل تجدید توانائی کا ایک ذریعہ ہے چین سمندری تھرمل توانائی کے ذخائر سے مالا مال ہے، لیکن متعلقہ تحقیق پہلے لیبارٹری اور زمینی جانچ کے مرحلے میں رہی تھی۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

  • ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    ناسا کی جیمزویب نےایک بڑے سیارےمیں ممکنہ سمندرکی موجودگی دریافت کرلی

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے ایک اہم دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایک بڑے سیارے میں ممکنہ سمندر کی موجودگی کا اعلان کیا ہے جبکہ وہاں کے کیمیائی عناصر سے ممکنہ زندگی کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نے 120 نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ستاروں کے جھرمٹ اسد میں موجود سیارے کو دریافت کیا،اسے K2-18 b کا نام دیا گیا ہے جو کہ زمین کے مقابلے میں لگ بھگ 9 گنا بڑا ہے اس نے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ سمیت کاربن برداشت کرنے والے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔


    ناسا کے مطابق اس سیارے میں ممکنہ طور پر ہائیڈروجن فضا میں موجود ہے جبکہ سطح سمندر سے ڈھکی ہوئی ہے سیارے کی فضا میں کیمیائی عناصر کی جانچ پڑتال سے وہاں سمندر کی موجودگی کا عندیہ ملتا ہے میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی موجودگی سے اس خیال کو تقویت ملتی ہے کہ اس سیارے کے ہائیڈروجن والے ماحول میں سمندر موجود ہوسکتا ہے۔

    بھارت سمندر کی گہرائیوں میں مشن بھیجنے کیلئے تیار

    مگر ناسا کا کہنا تھا کہ اہم ترین دریافت وہاں dimethyl sulfide (ڈی ایم ایس) نامی مالیکیول کی ممکنہ موجودگی ہے یہ مالیکیول زمین پر زندگی سے ہی بنتا ہے زمین کی فضا میں ڈی ایم ایس کا اخراج بحری ماحول سے ہوتا ہے تاہم امریکی خلائی ادارے نے کہا کہ ڈی ایم ایس کی موجودگی کی تصدیق ہونا باقی ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقی کام کیا جائے گا یہ پہلی بار نہیں جب ناسا نے دیگر سیاروں میں پانی کی موجودگی کے آثار دریافت کیے مگر اس نئی دریافت نے سائنسدانوں کو پرجوش کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ زمین سے باہر زندگی کی تلاش کے لیے عموماً چھوٹے چٹانی سیاروں پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے مگر K2-18 b جیسے بڑے سیاروں کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہےیہ سیارہ ایک ستارے K2-18 کے گرد چکر لگاتا ہے اور اس سے اتنی دور موجود ہے جو سائنسدانوں کے خیال میں سیال پانی کی موجودگی کے لیے ضروری ہے۔

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر فلکیات اور ان نتائج کا اعلان کرنے والے مقالے کے سرکردہ مصنف نکو مدھو سدھن نے وضاحت کی، ہمارے نتائج کسی اور جگہ زندگی کی تلاش میں متنوع رہائش کے قابل ماحول پر غور کرنے کی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔

    میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت، اور امونیا کی کمی، اس مفروضے کی تائید کرتی ہے کہ K2-18 b میں ہائیڈروجن سے بھرپور ماحول کے نیچے پانی کا سمندر ہو سکتا ہے ان ابتدائی ویب مشاہدات نے ڈائمتھائل سلفائیڈ (DMS) نامی مالیکیول کی ممکنہ شناخت بھی فراہم کی۔ زمین پر، یہ صرف زندگی کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے زمین کے ماحول میں ڈی ایم ایس کا بڑا حصہ سمندری ماحول میں فائٹوپلانکٹن سے خارج ہوتا ہے۔

    مراکش کے بعد اسرائیل تباہ کن مناظر کا شکار ہو سکتا ہے،ماہرین نے خبردار کر …

    اس سیارے کو سب سے پہلے 2015 میں ناسا کے K2 مشن نے دریافت کیا تھا مگر جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کی ٹیکنالوجی زیادہ بہتر ہے جس سے اس کے تفصیلی تجزیے میں مدد ملی اور سمندر کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔

  • گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    گوگل میپس کا صارفین کی سہولت کیلئے دلچسپ فیچر متعارف

    کیلیفورنیا: گوگل میپس نے صارفین کی سہولت کے لیے دلچسپ فیچر متعارف کروا دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اگر آپ گوگل میپس میں متعدد مقامات کو فیورٹ کے طور محفوظ کرنے کے عادی ہیں تو اب اس کے لیے ایموجیز کو استعمال کر سکتے ہیں آپ کسی بھی ایموجی کو کسی مخصوص مقام کی علامت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، اب وہ ریسٹورنٹ ہو، دکان، ہوٹل، پارک یا کوئی بھی جگہ، اس کی شناخت کےلیے فون میں دستیاب کسی بھی ایموجی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔
    https://x.com/googlemaps/status/1699414764273770836?s=20
    ایموجیز سے کسی بھی محفوظ مقام کو شناخت کرنا صارفین کے لیے بہت آسان ہو گا، بس یہ یاد رکھنا ضروری ہو گا کہ کسی مقام کے لیے کونسا ایموجی استعمال کیا گیا ہے،گوگل کی جانب سے اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ میپس کو کیسے تبدیل کرسکتا ہے۔

    پرویز الہی توہین عدالت کیس: پولیس افسران نے توہین عدالت شوکاز نوٹس کے جوابات …

    گوگل کی جانب سے اس فیچر کا اعلان کرتے ہوئے ایک تصویر بھی شیئر کی گئی تھی جس سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نقشے کو کیسے تبدیل کرسکتا ہے، اس مقصد کے لیے اس مقام پر کلک کریں جسے گوگل میپس پر سیو کرنا چاہتے ہیں، پھر نیچے سیو پر کلک کریں اس کے بعد نیو لسٹ پر کلک کر کے اس جگہ کا نام لکھیں اور اوپر موجود Choose icon بٹن کا انتخاب کریں، یہاں آپ کسی بھی ایموجی کو سلیکٹ کر سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ ستمبر کے آغاز میں کمپنی کی جانب سے خاموشی سے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی گئی تھی۔

    بجلی چوری کے خلاف کریک ڈاؤن،8 کروڑ یونٹ بجلی کا کھوج لگا لیا گیا

  • ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    ناسا کے رووَر نے مریخ پرآکسیجن پیدا کر لی

    واشنگٹن: ناسا نے پہلی بار اپنے پریسیورنس رووَر کی مدد سے مریخ پر آکسیجن پیدا کی جس سے ایک خلاباز تین گھنٹے تک سیارے پر زندہ رہ سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق رووَر جس نے فروری 2021 میں مریخ پر لینڈنگ کی تھی، نے اپنی مشین میں نصب آکسیجن پیدا کرنے والی ڈیوائس( MOXIE( Mars Oxygen In-Situ Resource Utilization Experiment، کا استعمال کرتے ہوئے دو سالوں کے دوران وقفے وقفے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو تبدیل کرکے آکسیجن پیدا کی مریخ پر پہنچنے کے بعد سے مائیکرو ویو سائز کے آلے نے 4.3 اونس (122 گرام) آکسیجن پیدا کی ہے یہ مقدار کتے کے 10 گھنٹے سانس لینے کے برابر مقدار ہے۔

    اپنی کارکردگی کے عروج کے دوران، MOXIE نے فی گھنٹہ 12 گرام آکسیجن 98 فیصد خالص یا اس سے بہتر پیدا کی، جو کہ اس آلے کے لیے NASA کے اہداف سے دوگنا ہے 7 اگست کو، MOXIE نے اپنی تمام ضروریات پوری کر کے 16ویں اور آخری بار کام کیا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    ناسا کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ کامیابی امید دلاتی ہے کہ انسانی زندگی ایک دن سُرخ سیارے پر برقرار رہ سکتی ہےواشنگٹن میں ناسا ہیڈکوارٹر میں اسپیس ٹکنالوجی مشن ڈائریکٹوریٹ رُکن سائنسدان ٹرڈی کورٹس نے کہا کہ ہمیں MOXIE جیسی کی ٹیکنالوجی پر فخر ہے جو مقامی وسائل کومستقبل کے ریسرچ مشنوں کے لیے مفید مصنوع میں تبدیل کر سکتی ہےاس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم ایک ایسے مستقبل کے قریب آ گئے ہیں جس میں خلاباز زمین سے دور رہتے ہوئے سرخ سیارے پر رہ سکتے ہیں۔

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

  • پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    لندن: ہبل دوربین کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے پہلی مرتبہ کائنات میں ایک ایسی بلبلہ نما ساخت دریافت کی ہے جو کہکشاؤں پر مبنی ہے اور اس کی غیرمعمولی وسعت کا اندازہ ایک ارب نوری سال لگایا گیا ہے،جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بگ بینگ کے فوراً بعد کا ایک فوسل شدہ باقیات ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹیم کے رکن کولن ہولیٹ، یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے سکول آف میتھمیٹکس اینڈ فزکس نے کہا کہ یہ بلبلہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے 10 ہزار گنا بڑا ہے اور اسی کہکشاں سے 82 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے خیال ہے کہ یہ عظیم بلبلہ بگ بینگ کے فوری بعد پیدا ہوا تھا اور یوں قدیم کائنات کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اسی بنا پر ماہرین نے اسے کائناتی رکاز (فاسل) بھی کہا ہے۔

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    حیرت انگیز طورپربڑے اس کائناتی مظہر سے ایک جانب تو خود سائنسداں حیران ہیں تو دوسری جانب اس کا مطالعہ کئی دلچسپ انکشافات کا اضافہ کرتا ہے کولن ہولیٹ کہتے ہیں کہ اس کائناتی عجوبے کو دیکھ کر ہم خود انگشت بدنداں ہیں کیونکہ یہ ہم سے بہت ہی قریب ہے۔

    کیولن ہولیٹ نے یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کی تلاش بھی نہیں کر رہے تھے، لیکن ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ یہ آسمان کے اس سیکٹر کے کناروں تک پھیل گیا جس کا ہم تجزیہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر کائناتی پھیلاؤ کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہےاور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہوسکتی ہے ان کے مطابق اس دریافت کی روشنی میں کائناتی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے-

    آب و ہوا کے مطالعے کے لیے پہلی پرواز شروع

    یہ تحقیق اس ہفتے کے ’ایسٹرفزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے تحقیق کےمطابق ابتدائی کائنات میں گرم پلازمہ کی وجہ سے ثقلی اور ریڈیائی عمل سے صوتی (آواز) کی امواج خارج ہوئی تھیں جنہیں ’بیریئن اکاسٹک آسلیشن‘ (بی اے او) کہا جاتا ہے ماہرین نے 2005 میں بے اے او کے سگنل محسوس کئے تھے۔

    تاہم بگ بینگ کے 380000 برس بعد یہ عمل رک گیا، کائنات کچھ ٹھنڈی ہوئی اور کہیں کہیں بلبلوں کی شکلیں وجود میں آگئیں پھر یہ بلبلے پھیلے اور خوب بڑے ہوئے لیکن انہیں ہم ابتدائی کائنات کی اولین نشانیاں کہہ سکتے ہیں اور یہ بلبلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

  • بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    چنئی:سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کا پہلا شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے مطابق اتوار کو 2:30 بجے، اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) نے آدتیہ L1 کو اگلے مدار میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا مشن کے دوران، ماریشس، بنگلورو، ایس ڈی ایس سی-ایس ایچ اے آر اور پورٹ بلیئر میں اسروکے گراؤنڈ اسٹیشنوں نے سیٹلائٹ کی نگرانی کی نیا مدار296 کلومیٹر ضرب 71767 کلومیٹر ہے اگلے چوتھے مدار میں داخل ہونے کے لئے 15 ستمبر کی صبح 2 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
    india
    واضح ہے کہ ہندوستان نے سورج اور خلا کا مطالعہ کرنے کے لیے 2 ستمبر کو اپنا پہلا سوریہ مشن آدتیہ ایل 1 شروع کیا تھایہ سوریہ مشن زمین کے سب سے قریب ترین ستارے کا مشاہدہ کرے گا اور سولر ونڈ جیسے خلا کے موسم کی خصوصیات کا مطالعہ کرے گا،آدتیہ ایل ون کو سورج کے قریب جانے کے لیے زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’لاگرینج ون‘ (Lagrange-1) پوائنٹ تک پہنچنا ہے،وہاں پہنچنے کے بعد یہ سورج کے گرد چکر لگانا شروع کرے گا جس دوران یہ سورج پر نظر رکھے گا یعنی سورج کا مطالعہ کرے گا،۔ انڈیا سے قبل امریکہ، روس اور یورپی خلائی ایجنسی اس قسم کی تحقیق کے لیے اپنے مشن بھیج چُکے ہیں۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    سابق امریکی سفیرپر دبئی کے امیر کیجانب سے ساس کو 60 ہزار ڈالر کے ہیرے …

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟

  • سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    لندن: ایک سمندری ٹیکنالوجی اور ریسرچ فرم ڈیپ(DEEP) ریسرچ لیبز کے سائنسدانوں نے ویلز کے ساحل پر سطح سے 660 فٹ نیچے ایک بیس بنانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے جہاں محققین ایک وقت میں 28 دن تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : برطانوی ماہرین نے ویلز اور برطانیہ کےقریب پانی کی گہرائی میں ایک مستقل تحقیق اسٹیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ’ڈیپ‘ کے نام سے 2027 تک مکمل ہو جائے گا جو 80 میٹر گہرے پانی میں بنایا جائے گا اس کی کل لمبائی600 میٹر ہوگی برطانیہ اور ویلز کےدرمیان ایک مناسب، پرسکون اور اونچی امواج سے محفوظ مقام کا انتخاب کیا گیاہے یہاں پانی بہت صاف ہے اورمحلِ وقوع کی بنا پر سمندری ٹیکنالوجی کے کئی اداروں کے قریب واقع ہوگا اطراف میں ہی برطانیہ کی کمرشل اور ڈائیونگ صنعتیں بھی واقع ہیں۔

    ڈیپ پروجیکٹ کا مرکزی منصوبہ ’سینٹینل‘ ہے جو ایک کیپسول نما ڈیزائن ہے اسے چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے، بار بار تبدیل کیا جاسکتا ہے اور دوبارہ بحال کیا جاسکتا ہے، سائنسدانوں کی انفرادی ضروریات کے لحاظ سے اس میں ردوبدل ممکن ہوگا، کمپنی نے اسے سمندری دیہات کا نام دیاہےسب سے بڑھ کر یہ سمندری لہروں اور اتھل پتھل سے محفوظ رہے گا اور اطراف کے ماحول کو بھی نقصان نہیں پہنچائے گا یہ ‘ایپیپلاجک زون’ تک وسیع رسائی فراہم کرے گا، جہاں 90 فیصد سمندری حیات پائی جاتی ہے۔

    شمالی وزیرستان :دہشتگردوں اورسیکیورٹی فورسزکےدرمیان فائرنگ،نوجوان شہید

    ڈیپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صرف سطح سے دراندازی کرنے کے بجائے سمندر کے اس حصے کے مکمل طور پر دریافت کرنے کے قابل ہونا سائنسدانوں کے سمندروں کا مشاہدہ، نگرانی اور سمجھنے کے طریقے میں ایک قدمی تبدیلی کی نمائندگی کرے گا،ایپی پیلیجک زون کو اکثر سورج کی روشنی کا زون کہا جاتا ہے، اور یہ سطح سے نیچے 660 فٹ (200 میٹر) تک پھیلا ہوا ہے۔

    واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن نے وضاحت کی کہ یہ اس زون میں ہے جہاں زیادہ تر نظر آنے والی روشنی موجود ہےاس کے ساتھ سورج کی روشنی سورج سےگرمی آتی ہے جو موسموں اور عرض البلد دونوں کے ساتھ اس زون میں درجہ حرارت میں وسیع تغیرات کے لیے ذمہ دار ہے سمندر کی سطح کا درجہ حرارت خلیج فارس میں 97F (36C) سے لے کر قطب شمالی کے قریب 28F (-2C) تک ہے۔

    آئندہ 24 گھنٹوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی

    اگرچہ سائنسدان اس زون کو آبدوزوں پر تلاش کر سکتے ہیں، لیکن یہ عام طور پر ایک وقت میں گھنٹوں پانی کے اندر رہ سکتے ہیںDEEP کے صدر سٹیو ایتھرٹن نے کہا کہ ہمیں سمندروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے ہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے دنیا کو جن نسلی چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں سے بہت سے سمندروں کے مرکز میں ہیں، اور وہ ایسے مواقع بھی پیش کرتے ہیں جن کو ہم نے سمجھنا بھی شروع نہیں کیا ہے۔

    پہلے روبوٹک بازوؤں سے فولادی انفراسٹرکچر پانی میں اتاراجائےگا جس میں تھری ڈی پرنٹنگ سے بھی مدد لی جائےگی یہاں سائنسدانوں کے رہنے اور تحقیق کی جگہیں بھی بنائی جائیں گی اس میں ہرکیپسول نما ماڈیول کا قطر 6 میٹر تک ہوگا جو بوئنگ 777 ہوائی جہاز کی طرح ہی ہوگا یہاں تک کہ سیاح بھی یہاں آسکیں گےلیکن اس کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ زمین کی طرح سائنسداں پانی میں رہ کرآسانی سے تحقیق کرسکیں جو بین الاقوامی مرکز بھی ہوگا۔

    کاروباری افراد ویزا آسانی سے حاصل کرسکیں گے،نگران وزیراعظم

  • دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    دنیا بھر کے سمندروں کو لاحق غیرمعمولی خطرات پرماہرین کا کھلا خط

    ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی : 200 سے زیادہ بین الاقوامی شہرت یافتہ سائنسدانوں نے ایک کھلا خط شائع کیا جس میں سمندر پر مبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کی تحقیق اور ترقی کو ترجیح دینے اور تیز کرنےکی ضرورت کی توثیق کی گئی خط میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں سمندروں کے ممکنہ کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت پر روشنی ڈالی گئی اور خطرات اور فوائد کو بہتر طور پر سمجھنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔

    دنیا بھر کے سائنسدانوں، بحری حیاتیات داں اور آب و ہوا کے ماہرین نے کہا ہے کہ دنیا بھر کے سمندروں کو غیرمعمولی خطرات لاحق ہیں،بالخصوص سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے انجذاب کو روکنے کی ضرورت ہےیہ خط اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے پہلے جاری کیا گیا ہے جو نیویارک میں منعقد ہوگا اس خط پر ماہرین کے دستخط بھی ہیں اور ان کا اصرار ہے کہ سمندروں پرمبنی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کرنے یا ’اوشن بیسڈ کاربن ڈائی آکسائیڈ ریموول (اوسی ڈی آر) پر تحقیق اورکوششوں کو تیزترکیا جائےاس کا مطلب یہ ہےکہ کسی بھی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سمندروں میں جذب ہونے سے روکا جائے۔

    سعودی ولی عہد،جی 20 اجلاس کے فوری بعد واپس نہیں جائیں گے

    ماہرین نے کہا کہ اسی تناظر میں ہم آب وہوا میں تبدیلی کے کے خوفناک مظاہر بھی دیکھ چکے ہیں اور اس سال کئی گرم ترین تاریخی دنوں کا مشاہدہ بھی ہوا ہے اس کی صاف وجہ ہے کہ کاربن جمع ہونے سے عالمی حدت (گلوبل وارمنگ) بڑھ رہی ہے،ہم فضا میں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کررہے ہیں اس سے زمین کا حساس نظام متاثرہورہا ہے اور عالمی سمندر اپنی استطاعت سے 50 گنا زائد کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کررہے ہیں اس طرح سمندری درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور اس کی تیزابیت بڑھ رہی ہے یوں سمندری حیات پر ایک قیامت ٹوٹ پڑی ہے خط میں یہ بھی لکھا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کے ہر راستے کو روکنے کی بھی ضرورت ہے۔

    دستخط کرنے والے سائنسدانوں نے بھی کہا ہے وہ اس ضمن میں اپنی بھرپور کوششیں کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے نئے طریقوں، قانون سازی اور فریم ورک پربھی زوردیا ہے۔ خط کے مطابق سمندروں کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ اور پائیدار بنانا بہت ضروری ہے خط میں عالمی رہنماؤں پر زوردیا گیا ہے وہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔

    جی 20 سربراہی اجلاس،رکشے میں بارودی مواد کی اطلاع پر پولیس کی دوڑیں

    ووڈس ہول اوشیانوگرافک انسٹی ٹیوشن کے صدر اور ڈائریکٹرپیٹر ڈی مینوکل، جس نے کھلے خط پر دستخط کیے نے کہا آئی پی سی سی نے واضح کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو روکنے کے لیے اس صدی میں بڑے پیمانے پر CO2 کو ہٹانے کی ضرورت ہوگی لہذا، یہ ضروری ہے کہ ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹانے کے تمام راستوں کی ذمہ دارانہ تحقیق، ترقی اور جانچ کو تیز کریں، بشمول سمندر میں، اس بات کا تعین کرنے کے لیے کہ کون سے نقطہ نظر بالآخر محفوظ، مساوی اور قابل عمل ہو سکتے ہیں-

    کھلے خط کے دستخط کنندگان تحقیق کو آگے بڑھانے، اختراع کو فروغ دینے، اور ایسے پالیسی فریم ورک کی وکالت کرنے کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہیں جو ذمہ دارانہ تحقیق اور جانچ کی اجازت دیتے ہیں۔ وہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، سمندری ماحولیاتی نظام کی حفاظت، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابل عمل مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے تبدیلی کے عمل کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ خط میں اخراج کو کم کرنے کی بنیادی اہمیت پر بھی زور دیا گیا ہے، جس میں کاربن کو ہٹانا 1.5 ڈگری سیلسیس کے ہدف کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

    طالبان نے 6.5 ارب ڈالرز کے معاہدوں پر دستخط کر لئے

  • ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    ایچ ڈی فوٹوزاور ویڈیوز کا فیچر تمام واٹس ایپ صارفین کو دستیاب

    فیس بک کی پیرنٹ کمپنی میٹا کی زیرملکیت ایپلیکیشن واٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر تمام صارفین کو دستیاب ہے۔

    باغی ٹی وی: اگست میں مارک زکربرگ نے اعلان کیا تھا کہ واٹس ایپ میں ایچ ڈی فوٹوز شیئر کرنے کا فیچر متعارف کرایا جا رہا ہے جبکہ ایچ ڈی ویڈیوز کا فیچر بھی جلد میسجنگ ایپ کا حصہ بنے گا تاہم اب واٹس ایپ کے ترجمان کی جانب سےجاری بیان میں بتایا گیا کہ ایچ ڈی فوٹوز اور ویڈیوز کا فیچر دنیا بھر میں صارفین استعمال کر سکتے ہیں-

    اس نئے فیچر کے ذریعے صارفین واٹس ایپ پر 720p ریزولوشن والی ویڈیوز اپنے دوستوں سے شیئر کر سکیں گے اس سے پہلے 480p ویڈیوز کو ہی بھیجنا ممکن تھا،اس فیچر کو استعمال کرنے کے لیے اس فوٹو یا ویڈیو کوسلیکٹ کریں جس کوشیئر کرنا چاہتےہیں اور اسکرین پر اوپر ایڈیٹنگ ٹولز میں ایچ ڈی کے آپشن پر کلک کریں۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    جب اس ایچ ڈی بٹن پر کلک کریں تو ایک نئی پوپ اپ ونڈو نمودار ہوگی جہاں آپ فوٹو یا ویڈیو کوالٹی سلیکٹ کر سکیں گے واٹس ایپ میں بائی ڈیفالٹ اسٹینڈرڈ کوالٹی کو سلیکٹ کیا گیا ہے مگر اس کے نیچے ایچ ڈی کوالٹی کا آپشن بھی ہوگا جب کوئی صارف ایچ ڈی کوالٹی کو سلیکٹ کرکے فوٹو یا ویڈیو بھیجے گا تو اس میں ایچ ڈی لیبل بھی بائیں کونے میں نیچے نظر آئے گا۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

  • آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    آئندہ کچھ دنوں میں ایک دم دار ستارہ اور چار سیارچے زمین کے قریب سے گزریں گے

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا نے آگاہ کیا ہے کہ 8 ستمبر سے 12 ستمبر کے دوران زمین کے قریب سے چار سیارچے گزریں گے-

    باغی ٹی وی :ناسا کے سیارچوں کی نگرانی کرنے والے ڈیش بورڈ کے مطابق دو سیارچے 8 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزریں گے ان میں کیو سی 5 نامی سیارچے کا سائز 79 فٹ (جہاز کے برابر) جبکہ جی ای نامی سیارچے کا سائز 26 فٹ (بس کے برابر) کے قریب ہےجہاز کے برابر دوسرے سیارچے کیو ایف 6 (جو رواں سال ہی دریافت ہوا) کا سائز تقریباً 68 فِٹ ہے،چوتھا اور آخری سیارچہ آر ٹی 2 جو کہ بس کے برابر ہے-

    کیو سی 5 سیارچہ (جس کا پہلی بار مشاہدہ رواں برس ہی کیا گیا تھا) تقریباً 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سےجبکہ جی ای سیارچہ (جس کو 2020 میں پہلی بار دیکھا گیا تھا) زمین سے 56 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ کیو ایف 610 ستمبر کو زمین کے قریب سے گزرے گا یہ سیارچہ زمین سب سے قریب یعنی صرف 25 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے سے گزرے گا سیارچہ آر ٹی 2 کا گزر زمین کے قریب سے 12 ستمبر کو ہوگا۔ یہ سیارچہ زمین سے 41 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا ان سے زمین کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    ذخیرہ اندوزوں کے خلاف آپریشن،چینی کے ساڑھے 5 ہزار سے زائد بیگ برآمد

    ان سے قبل 6 ستمبر کو جے اے 5 نامی سیارچہ (جو 2021 میں دریافت کیا گیا تھا) زمین سے 49 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے گزر چکا ہے۔

    علاوہ ازیں ایک دم دار ستارہ زمین کے قریب سے گزرنے والا ہے جسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura نامی دم دار ستارے کو اگست میں ہی دریافت کیا گیا تھا اور اسے 9 اور 10 ستمبر کو آسمان پر دیکھنا ممکن ہوگااس دم دار ستارے کو ایک جاپانی ماہر Hideo Nishimura نے 11 اگست کو سب سے پہلے دیکھا تھا۔

    اس دم دار ستارے کا حجم تو ابھی معلوم نہیں مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی دم دار ستارے کو اس وقت دریافت کیا جائے جب وہ زمین کے قریب ہوعموماً اس طرح کے دم دار ستاروں کو کئی ماہ یا سال پہلے ہی دریافت کر لیا جاتا ہےماہرین کے مطابق یہ دم دار ستارہ 437 سال میں محض ایک بار سورج کے گرد چکر لگاتا ہے، یعنی اسے آئندہ دیکھنے کے لیے 5 صدیوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

    انسانی اسمگلنگ میں ملوث ملزم گرفتار

    Nishimura سورج کے قریب سے 17 ستمبر کو گزرے گا اور اس وقت وہ سورج سے 3 کروڑ 30 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہوگا اسی طرح یہ دم دار ستارہ زمین سے ساڑھے 12 کروڑ کلومیٹر کے فاصلے سے گزرے گا لوگوں کے لیے اسے دوربین کے بغیر بھی دیکھنا ممکن ہوگا، البتہ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ آسمان صاف ہو، ورنہ چھوٹی دوربین سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔

    ماہرین کے مطابق 9 اور 10 ستمبر کو سورج طلوع ہونے سے قبل آسمان پر اس دم دار ستارے کو شمال مغربی سمت میں دیکھنا ممکن ہوگا Nishimura کی دم سبز رنگ کی ہوگی کیونکہ اس میں گرد کے مقابلے میں گیس زیادہ ہے۔

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہے، جس سے انہیں زمین پر دیکھنا ممکن ہوتا ہے۔

    سپریم کورٹ میں سانحہ جڑانوالا کیس سماعت کیلئے مقرر