Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے۔

    باغی ٹی وی : یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آئی، جس کے نتائج جرنل نیچر میں شائع ہوئے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ انکشاف افریقا اور بحر الکاہل میں 1980 کی دہائی میں ملنے والے مادے کی جانچ پڑتال سے ہوا،یہ مادہ زمین کی پرت کے قریب ملا تھا اور محققین کے مطابق اس میں آئرن کی مقدار بہت زیادہ ہے اور زلزلے کی لہروں پر یہ مادہ مختلف انداز سے ردعمل ظاہر کرتا ہے۔

    محققین کے مطابق یہ ایک سیارے Theia کی باقیات ہیں جو اربوں سال قبل ہماری زمین سے ٹکرایا تھا انہوں نے مزید کہا کہ زمین کی ابتدا میں یہ سیارہ ٹکرایا اور اس ملبے سے ٹیکٹونک پلیٹس پر اثرات مرتب ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دونوں سیاروں کے ٹکراؤ سے چاند بھی بنا۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر دہشت گردوں کا حملہ،14 جوان شہید

    محققین کے خیال میں اربوں سال قبل Theia سورج کے گرد چکر لگاتا تھا مگر دیگر سیاروں کی کشش نے اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ سیارہ بننے کے عمل سے گزرنے والی زمین سے ٹکرا گیا Theia کا حجم مریخ جتنا تھا اور جب دونوں سیاروں کا ٹکراؤ ہوا تو وہ اتنا طاقتور تھا کہ بہت زیادہ مقدار میں مادہ زمین کے اردگرد پھیل گیا، جو بعد میں ٹھنڈا ہوکر جمع ہوا اور چاند کی شکل اختیار کرگیا۔

    محققین نے تسلیم کیا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آخر اس سیارے کی باقیات اب بھی زمین کی تہہ میں کیوں موجود ہیں اس حوالے سے وہ مزید تحقیق کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

    لاہور چڑیا گھر کو تین ماہ کے لیے بند کرنے کا فیصلہ

  • مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی وجہ دریافت

    مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی وجہ دریافت

    ماہرین نے مردوں میں بانجھ پن کی شرح میں اضافے کی ممکنہ وجہ دریافت کر لی ہے-

    باغی ٹی وی: دنیا میں ہر 6 میں سے ایک فرد بانجھ پن کا شکار ہے،عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے اپریل میں جاری ایک رپورٹ میں یہ انکشاف کیا گیا تھا رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں 17.5 فیصد بالغ آبادی کو اپنی زندگی میں کسی وقت بانجھ پن کا سامنا ہوتا ہے،جس پر سائنسدان تحقیقات کر رہے ہیں سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مشکلات کا سامنا ہو رہا تھا کہ آخر مردوں میں اسپرمز کی تعداد میں کمی اور بانجھ پن کی شرح مسلسل کیوں بڑھ رہی ہےاب ایک نئی تحقیق میں اس کاممکنہ جواب دیاگیاہےاور وہ ہے اسمار ٹ فونز کا زیادہ استعمال۔

    جرنل Fertility and Sterility میں شائع سوئٹزر لینڈ کی جنیوا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ جو مرد اسمارٹ فونز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان میں اسپرمز کی تعداد ان ڈیوائسز سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہےاس تحقیق میں 18 سے 22 سال کی عمر کے 2886 مردوں کو شامل کیا گیا تھا اور ان کی صحت کا جائزہ 2005 سے 2018 تک لیا گیا۔

    راحت فتح علی خان اور ان کے پروموٹر نے امریکی عدالت میں 22 لاکھ ڈالر ..

    اس دوران ان سے یہ بھی معلوم کیا گیا کہ وہ روزانہ کتنے وقت تک موبائل فون استعمال کرتے ہیں جبکہ طرز زندگی اور صحت کی تفصیلات بھی جمع کی گئیں تحقیق کے دوران ان افراد کے اسپرمز کے معیار اور تعداد کا بھی جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ موبائل کے استعمال سے اس میں کیا تبدیلیاں آتی ہیں۔

    نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ 20 یا اس سے زائد بار موبائل فون استعمال کرنے والے مردوں میں اسپرمز کی تعداد میں کمی کا خطرہ 21 فیصد زیادہ ہوتا ہے کپڑوں کے اندر موبائل فون رکھنے سے تولیدی صحت پر کوئی منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے اور اس حوالے لوگوں میں پائے جانے والا تاثر غلط ہےمحققین نے تسلیم کیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے تو ابھی یہ حتمی طور پر کہنا ممکن نہیں کہ اسمارٹ فونز کا استعمال اسپرمز کی تعداد میں کمی کا باعث بنتا ہے۔

    ورلڈ کپ،نیدر لینڈ کاافغانستان کو جیت کیلئے 180 رنز کا ہدف

    یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے ٹھوس ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ایک کلینیکل ٹرائل کا آغاز کیا ہے اور اس کے لیے رضا کاروں کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں 2 اور 3 جی فون استعمال کرنے والوں کے اسپرمز کی تعداد میں کمی زیادہ نمایاں تھی، مگر 4 جی نیٹ ورکس پر منتقل ہونے پر یہ اثر کم ہونے لگا۔

    ان کا ماننا ہے کہ فون سگنل کو بھیجنے اور موصول کرنے کے لیے استعمال ہونے والی توانائی ممکنہ طور پر اسپرمز کے معیار اور تعداد پر اثر انداز ہوتی ہے جدید نیٹ ورکس میں توانائی کا استعمال کم ہوتا ہے جس کے باعث اسپرمز کی صحت کم متاثر ہوتی ہے، مگر اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    سپریم کورٹ کا42سال بعد بھائی کو دو بہنوں کا جائیداد کا حق دینے کا حکم

  • واٹس ایپ میں نیا  فیچر متعارف

    واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف

    سان فرانسسکو: میٹا کی زیر ملکیت دنیا بھر میں مقبول ایپ واٹس ایپ میں ایک نیا دلچسپ فیچر متعارف کرایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق میٹا کی زیر ملکیت میسجنگ ایپ میں نئے ویڈیو پلے بیک کنٹرولز کا اضافہ کیا گیا ہےیہ نیا فیچر اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں متعارف کرایا گیا ہے،یہ نیا فیچر یوٹیوب کے ویڈیو پلے بیک کنٹرولز سے ملتا جلتا نظر آتا ہے۔

    اس فیچر سے صارفین کے لیے ویڈیوز کو 10 سیکنڈ ریوائنڈ اور 10 سیکنڈ فارورڈ کرنے میں مدد مل سکے گی ابھی واٹس ایپ پر ویڈیو دیکھتے ہوئے اسے ریوائنڈ یا فارورڈ کرنے کے لیے پروگریس بار پر انگلی کو آگے پیچھے کرنا پڑتا ہے فی الحال یہ فیچر بیٹا ورژن میں دیا گیا ہےاس سے قبل واٹس ایپ کے بیٹا ورژن میں الٹرنیٹ پروفائل فیچر بھی متعارف کرایا گیا تھااس پرائیویسی فیچر سے صارفین کو اپنی پروفائل فوٹو کی پرائیویسی کے حوالے سے زیادہ کنٹرول مل جائے گا-

    واٹس ایپ نے صارفین کو نئی جعلسازی سے خبردار کر دیا

    قبل ازیں واٹس ایپ نے اپنے صارفین کوخبر دار کیا ہےکہ نیا فشنگ اسکیم ان کے تمام پیغامات سائبر مجرمان کے حوالے کر سکتا ہے فشنگ ایک ایسا پینترا ہوتا ہے جس میں جعلسازی میل میسج یا کال کے ذریعے میلویئر بھیج کر نجی معلومات حاصل کر لیتے ہیں، پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ جعلی واٹس ایپ ویب سائٹس پر نظر رکھیں، واٹس ایپ صارف عموماً ڈیسک ٹاپ پرا کاؤ نٹ لاگ ان کرنے کے لیے آفیشل ویب سائٹ سرچ انجن پر ڈھونڈتے ہیں۔

    ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    صارفین کمپیوٹر کے انٹرنیٹ براؤزر میں web.whatsapp.com ٹائپ کرتے ہیں اور پھر ایپ ان لاک کرنے کے لیے خصوصی کوڈ درج کرتے ہیں ایک بار صارفین سائٹ تک پہنچ جائیں تو ان کو فون سے کیو آر کوڈ اسکین کرنا ہوتا ہے تا کہ اکاؤنٹ تک دسترس حاصل ہو سکے لیکن ماہرین کی جانب سے جعلسازوں کے جعلی واٹس ایپ ویب سائٹ کے استعمال کی نشان دہی کی گئی ہے۔

    حج 2024 کی پروازوں سے متعلق شیڈول جاری

  • واٹس ایپ نے صارفین کو  نئی جعلسازی سے خبردار کر دیا

    واٹس ایپ نے صارفین کو نئی جعلسازی سے خبردار کر دیا

    سان فرانسسکو: میٹا کی زیر ملکیت ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کوخبر دار کیا ہےکہ نیا فشنگ اسکیم ان کے تمام پیغامات سائبر مجرمان کے حوالے کر سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: فشنگ ایک ایسا پینترا ہوتا ہے جس میں جعلسازی میل میسج یا کال کے ذریعے میلویئر بھیج کر نجی معلومات حاصل کر لیتے ہیں، پولیس نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ جعلی واٹس ایپ ویب سائٹس پر نظر رکھیں، واٹس ایپ صارف عموماً ڈیسک ٹاپ پرا کاؤ نٹ لاگ ان کرنے کے لیے آفیشل ویب سائٹ سرچ انجن پر ڈھونڈتے ہیں۔

    صارفین کمپیوٹر کے انٹرنیٹ براؤزر میں web.whatsapp.com ٹائپ کرتے ہیں اور پھر ایپ ان لاک کرنے کے لیے خصوصی کوڈ درج کرتے ہیں ایک بار صارفین سائٹ تک پہنچ جائیں تو ان کو فون سے کیو آر کوڈ اسکین کرنا ہوتا ہے تا کہ اکاؤنٹ تک دسترس حاصل ہو سکے لیکن ماہرین کی جانب سے جعلسازوں کے جعلی واٹس ایپ ویب سائٹ کے استعمال کی نشان دہی کی گئی ہے۔

    ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    پولیس نے کہا کہ کچھ فشنگ ویب سائٹس سرکاری ویب سائٹ سے لیے گئے حقیقی QR کوڈ کے ساتھ ایمبیڈڈ ہیں،سنگا پور پولیس کے مطابق کچھ فشنگ ویب سائٹس پر حقیقی ویب سائٹ سے حاصل کیا گیا اصل کیو آر کوڈ لگا ہوا ہے، جعلسازی کا شکار بننے والے افراد سرچ نتائج میں آنے والی ابتدائی ویب سائٹ پر ان کے ایڈریس کی تصدیق کیے بغیر کلک کر دیتے ہیں، حقیقی اکاؤنٹ پر جانے کے بجائے کسی دوسرے اکاؤنٹ پر پہنچ جاتا ہے جس کے بعد جعلساز جھانسے میں آئے افراد کے اکاؤنٹ میں جاتے ہیں اور ان کا روپ دھار لیتے ہیں، وہ صارف کے کانٹیکٹس کو میسج بھیج سکتے ہیں۔

    نیتن یاہو کا غزہ پلان کیا ہے؟ خفیہ دستاویزات لیک

  • ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں،ماہرین نفسیات کا دعویٰ

    ایڈنبرا:ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈراؤنی فلمیں صحت کے لیے مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    باغی ٹی ویِِ :ماہرین نفسیات نے دعویٰ کیا ہے کہ ہارر فلمیں دراصل کسی فرد کی صحت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں کیونکہ یہ اینڈورفنز اور انعامی ہارمون ڈوپیمائن کے اخراج کے ذریعے تناؤ اور درد سے نجات کو فروغ دیتی ہیں۔

    ایک تحقیق کے مطابق ہالی ووڈ فلموں ’’دی ایگزورسسٹ‘‘ یا ’’دی نن‘‘ جیسی دیگر ڈراؤنی فلمیں دماغ میں ایسے کیمیا کے اخراج کا سبب بنتی ہیں جو ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں ایڈنبرا کی کوئن مارگریٹ یونیورسٹی کی نیورو سائیکولوجسٹ ڈاکٹر کرسٹن نولیس کے مطابق ڈراؤنی فلمیں انڈورفِنز اور ڈوپیمائن کی پیداوار میں مدد دیتی ہیں جو خوشی کے احساس اور دباؤ سے نجات سے تعلق رکھتے ہیں،درد سے خلفشار بھی ایک ممکنہ وضاحت ہے، کیونکہ توجہ اور توانائی کے وسائل خطرے کی تشخیص اور دیگر جسمانی افعال سے دور ہو جاتے ہیں-

    فضائی آلودگی سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    انہوں نے بتایا کہ خوف اور تجسس کے ردِ عمل میں ہمارا جسم ایڈرینیلن ہارمونز کی پیداوار کو بڑھا دیتا ہے جو جسم کے توانائی کے ذرائع کو حرکت دیتے ہیں، اس کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اور توجہ یکسو ہوجاتی ہے، فلم کے اختتام میں جب تناؤ ختم ہوتا ہے تو یہ کیفیت خوشی میں بدل جاتی ہے، مثال کے طور پر اسکائی ڈائیونگ جو خوف ناک ہونے کے ساتھ پُر لطف بھی ہوتی ہے اینڈورفنز وہ ہارمون ہوتے ہیں جنہیں جسم ہمیں خوشی محسوس کرنے کے لیے بناتا ہے، دماغ یہ ہارمون کھانے اور ورزش کے دوران بنانے کے ساتھ تکلیف اور دباؤ کے احساس پر بھی بناتا ہے۔

    سنگا پور :طالبہ کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر بھارتی شہری کو قید اور …

  • فضائی آلودگی سے  ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    فضائی آلودگی سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے،تحقیق

    نئی دہلی: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سموگ سے آلودہ ہوا میں سانس لینے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: برطانوی خبر رساں ادارے ”دی گارڈین“ کی رپورٹ کے مطابق بھارت کے دارالحکومت دہلی اور جنوبی شہر چنئی میں کی گئی تحقیق میں پتاچلا ہےکہ PM2.5 ذرات کی زیادہ مقدار والی ہوا میں سانس لینےےخون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہےاور ٹائپ 2 ذیابیطس کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے سانس لینے پر PM2.5 ذرات جو کہ بالوں سے بھی 30 گنا پتلے ہوتے ہیں خون میں داخل ہو سکتے ہیں اور سانس اور قلبی امراض کا سبب بن سکتے ہیں۔

    یہ مطالعہ ہندوستان میں دائمی بیماریوں کے بارے میں جاری تحقیق کا حصہ ہے جس کا آغاز 2010 میں ہوا تھا،فضائی معیار کے حوالے سے دنیا کے بدترین ممالک میں سے ایک ہندوستان میں کیا گیا یہ مطالعہ محیطی PM2.5 اور ٹائپ 2 ذیابیطس کے درمیان رابطے پر توجہ مرکوز کرنے والی پہلی تحقیق ہے۔

    بھارت میں قرض دار باپ بیٹے کو فروخت کرنے پر مجبور

    مطالعہ میں محققین نے 2010 سے 2017 تک دہلی اور چنئی میں 12,000 مردوں اور عورتوں کے ایک گروپ کی نگرانی کی اور وقتاً فوقتاً ان کے خون میں شوگر کی سطح کی پیمائش کی سیٹلائٹ ڈیٹا اور فضائی آلودگی کی نمائش کے ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اس ٹائم فریم میں مطالعے میں شریک ہر شخص کے علاقے میں فضائی آلودگی کا تعین کیا۔

    انہوں نے پایا کہ پی ایم 2.5 کے ایک ماہ کی نمائش سے خون میں شوگر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور ایک سال یا اس سے زیادہ طویل عرصے تک رہنے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے دہلی میں اسی گروہ پر ایک اور تحقیق کی گئی جس میں پایا گیا کہ PM2.5 کی اوسط سالانہ نمائش کی وجہ سے بلڈ پریشر کی سطح میں اضافہ ہوا اور ہائی بلڈ پریشر کے امکانات بڑھ گئے۔

    اسرائیلی فوج کا جبالیا کے کیمپ پر حملہ،100 سے زیادہ فلسطینی ہلاک

    امراض قلب کے ماہر اور مرکز برائے دائمی بیماریوں کے کنٹرول کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور مقالے کے مصنفین میں سے ایک ڈاکٹر ڈور یراج پربھاکرن نے کہا کہ پی ایم 2.5 میں سلفیٹ، نائٹریٹ، بھاری دھاتیں اور سیاہ کاربن ہوتے ہیں جو خون کی نالیوں کی پرت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور شریانوں کو سخت کر کے بلڈ پریشر کو بڑھا سکتے ہیں۔ یہ ذرات چکنائی کے خلیوں میں جمع ہو کر سوزش کا باعث بن سکتے ہیں اور دل کے پٹھوں پر بھی براہ راست حملہ کر سکتے ہیں۔

    محققین کی ٹیم میں شامل ایک رکن نے کہا کہ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی شہروں میں ہوا میں PM2.5 کی محفوظ سطح سے زیادہ ہونا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کا سبب بنتا ہے جو ایتھروسکلروسیس (شریانوں میں چربی کے ذخائر)، دل کے دورے اور دل کی ناکامی کا باعث بن سکتا ہے اینڈوکرائن ڈسپوٹر کے طور پر کام کرتے ہوئے PM 2.5 جسم میں انسولین کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اس کے اثر کو روکتا ہے مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ آلودگی ان سب کی وجہ بننے میں کردار ادا کر سکتی ہے کیونکہ یہ اینڈوکرائن سسٹم میں خلل ڈالتی ہے جو جسم میں تمام ہارمونز پیدا کرتا ہے۔

    یو اے ڈبلیو نے جی ایم کے ساتھ معاہدہ کرلیا، ڈیٹرائٹ آٹومیکرز کے خلاف ہڑتال …

    محققین اب جسم میں کولیسٹرول اور وٹامن ڈی کی سطح پر آلودگی کے اثرات کو سمجھنے کے لیے کام کر رہے ہیں، اور افراد کی زندگی کے چکر پر اس کے اثرات، بشمول پیدائش کے وقت بچے کا وزن، حاملہ خواتین کی صحت، نوعمروں میں انسولین کے خلاف مزاحمت، اور پارکنسنز کے لیے خطرہ، الزائمر کی بیماری، دوسروں کے درمیان تعلق تلاش کر رہے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ اگرچہ اس کے نتائج تشویش ناک ہیں، لیکن یہ مطالعہ سائنس دانوں کو امید دلاتا ہے کہ آلودگی کو کم کرنے سے ذیابیطس کے ساتھ ساتھ دیگر غیر متعدی بیماریوں کے بوجھ کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

  • میٹا  نے نیا پروگرام متعارف کروا دیا

    میٹا نے نیا پروگرام متعارف کروا دیا

    فیس بک اور انسٹا گرام آغاز سے یہ سروسز صارفین کو مفت دستیاب ہیں مگر اب پہلی بار میٹا کی جانب سے یورپ میں ان صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹا گرام کا استعمال ماہانہ فیس سے مشروط کیا جا رہا ہے جو اپنے اکاؤنٹس پر اشتہارات نہیں دیکھنا چاہتے ہیں تاہم واضح رہے کہ میٹا کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ اس کی ایپس میں دکھائے جانے والے اشتہارات ہیں۔

    جبکہ یورپی یونین کے نئے قوانین ٹیکنالوجی کمپنیوں کو صارفین کی مرضی کے بغیر اشتہارات دکھانے سے روکتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میٹا کی جانب سے ان قوانین پر عمل کرنے کے لیے سبسکرپشن پلان متعارف کرایا گیا ہے اور کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب جو صارفین اپنے فیس بک یا انسٹا گرام اکاؤنٹ پر اشتہارات نہیں دیکھنا چاہتے، انہیں ویب ورژن پر 10 یورو جبکہ اینڈرائیڈ اور آئی او ایس ڈیوائسز پر 13 یورو ماہانہ ادا کرنا ہوں گے اور جو صارف مفت فیس بک یا انسٹا گرام استعمال کرنا چاہتے ہیں، انہیں اشتہارات پر مبنی مفت پروگرام میں شمولیت کی ہدایت کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    گیس کی قیمتوں میں اضافہ، نگراں وفاقی کابینہ نے تاحال روک لگادی
    چین اور روس کا سیکورٹی فورم پر امریکہ کو نشانہ بنانے کا ارادہ
    عالمی ادارے کی خبر کے مطابق یورپی یونین نے میٹا کو انتباہ کیا تھا کہ اس کی ایپس میں صارف کی مرضی کے بغیر اشتہارات دکھائے گئے تو اس کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے جبکہ جولائی میں جرمنی میں میٹا کے خلاف فیصلہ سنایا گیا تھا اور یورپی یونین کی عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں جرمن مسابقتی کمیشن کو میٹا کے خلاف تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔

  • کیا  پے پال اور اسٹرائپ بہت جلد پاکستان میں فعال ہوجائیں گے؟

    کیا پے پال اور اسٹرائپ بہت جلد پاکستان میں فعال ہوجائیں گے؟

    ڈاکٹر عمر سیف جو اس وقت شعبہ آئی ٹی کے نگران وزیر ہیں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی ابھرتی ہوئی فری لانسنگ کمیونٹی کے لیے ادائیگیوں کی سہولت کے لیے کوئی مالیاتی زریعہ دستیاب نہیں ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پال اور اسٹرائپ کمپنیوں کو بشمول ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ یہ کہ اپنے کچھ خدشات ہیں۔ اس کے باوجود ہم معاملات آگے بڑھتے دیکھ رہے ہیں۔ اور میں پر امید ہوں کہ آنے والے چار سے چھ ہفتوں میں ہم پے پال، اور سٹرائپ کے حوالے سے اچھی خبریں سنیں گے، اور ایک فارمولے کے ذریعے ہم اپنی فری لانس کمیونٹی کو یہ خدمات فراہم کریں گے۔

    جبکہ ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ 15 لاکھ پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ہم دوسری سب سے بڑی آن لائن افرادی قوت ہیں۔ تاہم، بنیادی ڈھانچے کی کمی ہمیں روک رہی ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ ای روزگار پروگرام کے ذریعے نجی شعبے کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جس کے تحت 500,000 افراد کے لیے کام کرنے کی جگہ قائم کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    بینکوں پر 8 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    تاہم واضح رہے کہ عبوری وزیر نے کہا کہ ملک کا آئی ٹی سیکٹر تقریباً 19,000 کمپنیوں پر مشتمل ہے، جو 150,000 افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور سرکاری برآمدات میں اس کا 2.5 بلین ڈالر کا حصہ ہے۔ جبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے جیسا دعویٰ کیا جارہا ہے ایسا اتنا جلد ہونا ممکن ہے بلکہ یہ حکومت بھی جانے کے قریب ہے چلو عوام کو خوش کررہے ہیں.

  • نوکیا  نے ملازمتوں میں   کٹوتی کا اعلان کردیا

    نوکیا نے ملازمتوں میں کٹوتی کا اعلان کردیا

    نوکیا نے کہا ہے کہ وہ اخراجات کو کم کرنے کے لئے 14,000 ملازمتوں میں کٹوتی کرے گا، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ 5 جی آلات کی کمزور طلب کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کی فروخت میں 20 فیصد کمی کے بعد اسے جلد ہی مارکیٹ کی بحالی کی توقع نہیں ہے۔ ٹیلی کام نیٹ ورکس کے لئے سازوسامان تیار کرنے والی فن لینڈ کی کمپنی کے حصص میں 0900 جی ایم ٹی پر 2 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سست روی، ویریزون (وی زیڈ) کا گھر. این) اور اے ٹی اینڈ ٹی (ٹی این) اور نوکیا اور ایرکسن (ERICb.ST) کے لئے زیادہ منافع بخش مارکیٹوں میں سے ایک نے انہیں ہندوستان جیسے دوسرے خطوں میں ترقی کی تلاش کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن اب توقع ہے کہ 2022 کے بعد ہندوستان بھی معمول پر آجائے گا۔

    جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو پیکا لنڈمارک نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘مارکیٹ کی صورتحال واقعی چیلنجنگ ہے اور اس کا مشاہدہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ ہماری سب سے اہم مارکیٹ، جو شمالی امریکہ کی مارکیٹ ہے، میں تیسری سہ ماہی میں ہماری خالص فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔’ نوکیا نے 2026 تک 800 ملین یورو (842 ملین ڈالر) سے 1.2 بلین یورو کی بچت کا ہدف مقرر کیا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کے ملازمین کی تعداد 86 ہزار سے کم ہو کر 72 ہزار سے 77 ہزار کے درمیان رہ جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ نرجس افروز زیدی کا جنم دن
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم مارک نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو پہلے ملازمین کے نمائندوں سے مشورہ کرنا چاہئے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ تحقیق اور ترقی کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں. نوکیا کو 2024 میں کم از کم 400 ملین یورو اور 2025 میں مزید 300 ملین یورو کی بچت کی توقع ہے۔ ایرکسن، جس نے اس سال ہزاروں ملازمین کو بھی فارغ کیا ہے، نے منگل کو کہا کہ اس کے کاروبار کو متاثر کرنے والی غیر یقینی صورتحال 2024 تک برقرار رہے گی۔

  • مصنوعی ذہانت؛  افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں  دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    مصنوعی ذہانت؛ افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    ایگزیکٹوز کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت آج کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں اب سے صرف دو سال بعد متعلقہ نہیں ہوں گی۔ اور اس میں سے بہت کچھ ان کی اپنی مہارتوں میں شامل ہے. یہ چونکا دینے والا اعلان ایک آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ایڈ ایکس کی جانب سے جاری کردہ 800 ایگزیکٹوز اور 800 ملازمین کے حالیہ سروے کے بعد سے سامنے آیا ہے۔

    فوربز کے مطابق ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ آج ان کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف (49 فیصد) مہارتیں 2025 میں متعلقہ نہیں ہوں گی۔ یہی تعداد، 47 فیصد، کا ماننا ہے کہ ان کی افرادی قوت مستقبل کے کام کی جگہ کے لئے تیار نہیں ہے. تعلیمی پلیٹ فارم فراہم کرنے والے کی طرف سے مہارت کی کمی کی نشاندہی کرنا کوئی حیرت انگیز نتیجہ نہیں ہے ، لیکن مختصر وقت آنکھیں کھولنے والا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کا غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ
    سابق کر کٹر وسیم اکرم قومی ٹیم کے فٹنس کے حوالے سے پریشان
    پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں گے. عامر میر
    آسٹریلیا نے دو کٹوں‌کے نقصان پر 39 رنز بنا لیئے
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ دورہ چین کیلئے بیجنگ پہنچ گئے
    جبکہ سروے میں شامل ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں، ان کی تنظیمیں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انٹری لیول نالج ورکر کے کردار کے نصف سے زیادہ (56 فیصد) کو ختم کردیں گی۔ مزید یہ کہ ، 79٪ ایگزیکٹوز نے پیش گوئی کی ہے کہ انٹری لیول نالج ورکر کی نوکریاں اب موجود نہیں ہوں گی کیونکہ مصنوعی ذہانت افرادی قوت میں داخل ہونے والے ملازمین کے لئے مکمل طور پر نیا کردار تخلیق کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 56٪ کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے کردار "مکمل طور پر” یا "جزوی طور پر” مصنوعی ذہانت سے تبدیل ہوجائیں گے.

    تاہم واضح رہے کہ صنعت کے رہنما ایسے بھی ہیں جو اس طرح کی بھاری بھرکم تباہی کی پیشگوئیوں پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ایچ سی ایل سافٹ ویئر کے ایگزیکٹو نائب صدر اور جنرل منیجر رچرڈ جیفٹس کہتے ہیں کہ "میرے خیال میں کیریئر کے اہداف پر مصنوعی ذہانت کا فوری اثر کم سے کم ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ بہت سی کمپنیاں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ابھی بھی اپنانے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے پختہ ہونے کے ساتھ کیریئر پر طویل مدتی اثرات کی توقع ہے۔