Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • کیا  پے پال اور اسٹرائپ بہت جلد پاکستان میں فعال ہوجائیں گے؟

    کیا پے پال اور اسٹرائپ بہت جلد پاکستان میں فعال ہوجائیں گے؟

    ڈاکٹر عمر سیف جو اس وقت شعبہ آئی ٹی کے نگران وزیر ہیں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کی ابھرتی ہوئی فری لانسنگ کمیونٹی کے لیے ادائیگیوں کی سہولت کے لیے کوئی مالیاتی زریعہ دستیاب نہیں ہے جبکہ ان کا کہنا تھا کہ پال اور اسٹرائپ کمپنیوں کو بشمول ایف اے ٹی ایف کا مسئلہ یہ کہ اپنے کچھ خدشات ہیں۔ اس کے باوجود ہم معاملات آگے بڑھتے دیکھ رہے ہیں۔ اور میں پر امید ہوں کہ آنے والے چار سے چھ ہفتوں میں ہم پے پال، اور سٹرائپ کے حوالے سے اچھی خبریں سنیں گے، اور ایک فارمولے کے ذریعے ہم اپنی فری لانس کمیونٹی کو یہ خدمات فراہم کریں گے۔

    جبکہ ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ 15 لاکھ پاکستانی آئی ٹی فری لانسرز کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ہم دوسری سب سے بڑی آن لائن افرادی قوت ہیں۔ تاہم، بنیادی ڈھانچے کی کمی ہمیں روک رہی ہے جبکہ انہوں نے کہا کہ ای روزگار پروگرام کے ذریعے نجی شعبے کو بلاسود قرضے فراہم کیے جائیں گے، جس کے تحت 500,000 افراد کے لیے کام کرنے کی جگہ قائم کی جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زلفی بخاری کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    بینکوں پر 8 کروڑ روپے سے زائد کا جرمانہ
    فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس سماعت کے لیے مقرر
    تاہم واضح رہے کہ عبوری وزیر نے کہا کہ ملک کا آئی ٹی سیکٹر تقریباً 19,000 کمپنیوں پر مشتمل ہے، جو 150,000 افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے اور سرکاری برآمدات میں اس کا 2.5 بلین ڈالر کا حصہ ہے۔ جبکہ اس حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے جیسا دعویٰ کیا جارہا ہے ایسا اتنا جلد ہونا ممکن ہے بلکہ یہ حکومت بھی جانے کے قریب ہے چلو عوام کو خوش کررہے ہیں.

  • نوکیا  نے ملازمتوں میں   کٹوتی کا اعلان کردیا

    نوکیا نے ملازمتوں میں کٹوتی کا اعلان کردیا

    نوکیا نے کہا ہے کہ وہ اخراجات کو کم کرنے کے لئے 14,000 ملازمتوں میں کٹوتی کرے گا، انہوں نے خبردار کیا ہے کہ 5 جی آلات کی کمزور طلب کی وجہ سے تیسری سہ ماہی کی فروخت میں 20 فیصد کمی کے بعد اسے جلد ہی مارکیٹ کی بحالی کی توقع نہیں ہے۔ ٹیلی کام نیٹ ورکس کے لئے سازوسامان تیار کرنے والی فن لینڈ کی کمپنی کے حصص میں 0900 جی ایم ٹی پر 2 فیصد کمی واقع ہوئی۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سست روی، ویریزون (وی زیڈ) کا گھر. این) اور اے ٹی اینڈ ٹی (ٹی این) اور نوکیا اور ایرکسن (ERICb.ST) کے لئے زیادہ منافع بخش مارکیٹوں میں سے ایک نے انہیں ہندوستان جیسے دوسرے خطوں میں ترقی کی تلاش کرنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن اب توقع ہے کہ 2022 کے بعد ہندوستان بھی معمول پر آجائے گا۔

    جبکہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو پیکا لنڈمارک نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ‘مارکیٹ کی صورتحال واقعی چیلنجنگ ہے اور اس کا مشاہدہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ ہماری سب سے اہم مارکیٹ، جو شمالی امریکہ کی مارکیٹ ہے، میں تیسری سہ ماہی میں ہماری خالص فروخت میں 40 فیصد کمی آئی ہے۔’ نوکیا نے 2026 تک 800 ملین یورو (842 ملین ڈالر) سے 1.2 بلین یورو کی بچت کا ہدف مقرر کیا ہے۔ کمپنی کو توقع ہے کہ اس کے ملازمین کی تعداد 86 ہزار سے کم ہو کر 72 ہزار سے 77 ہزار کے درمیان رہ جائے گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ نرجس افروز زیدی کا جنم دن
    نواز شریف کی آمد،چار افراد ایئر پورٹ پر پھول پھینک سکتے،ایوی ایشن کی اجازت
    سابق وزیر قانون اور سینیٹر ایس ایم ظفر وفات پاگئے
    تاہم مارک نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کو پہلے ملازمین کے نمائندوں سے مشورہ کرنا چاہئے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ تحقیق اور ترقی کا تحفظ کرنا چاہتے ہیں. نوکیا کو 2024 میں کم از کم 400 ملین یورو اور 2025 میں مزید 300 ملین یورو کی بچت کی توقع ہے۔ ایرکسن، جس نے اس سال ہزاروں ملازمین کو بھی فارغ کیا ہے، نے منگل کو کہا کہ اس کے کاروبار کو متاثر کرنے والی غیر یقینی صورتحال 2024 تک برقرار رہے گی۔

  • مصنوعی ذہانت؛  افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں  دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    مصنوعی ذہانت؛ افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں دو سال بعد ختم. تحقیق میں انکشاف

    ایگزیکٹوز کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت کی بدولت آج کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف مہارتیں اب سے صرف دو سال بعد متعلقہ نہیں ہوں گی۔ اور اس میں سے بہت کچھ ان کی اپنی مہارتوں میں شامل ہے. یہ چونکا دینے والا اعلان ایک آن لائن تعلیمی پلیٹ فارم ایڈ ایکس کی جانب سے جاری کردہ 800 ایگزیکٹوز اور 800 ملازمین کے حالیہ سروے کے بعد سے سامنے آیا ہے۔

    فوربز کے مطابق ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ آج ان کی افرادی قوت میں موجود تقریبا نصف (49 فیصد) مہارتیں 2025 میں متعلقہ نہیں ہوں گی۔ یہی تعداد، 47 فیصد، کا ماننا ہے کہ ان کی افرادی قوت مستقبل کے کام کی جگہ کے لئے تیار نہیں ہے. تعلیمی پلیٹ فارم فراہم کرنے والے کی طرف سے مہارت کی کمی کی نشاندہی کرنا کوئی حیرت انگیز نتیجہ نہیں ہے ، لیکن مختصر وقت آنکھیں کھولنے والا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کا غزہ میں انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ
    سابق کر کٹر وسیم اکرم قومی ٹیم کے فٹنس کے حوالے سے پریشان
    پیٹرول کی قیمت کم ہونے کا فائدہ عام آدمی کو پہنچائیں گے. عامر میر
    آسٹریلیا نے دو کٹوں‌کے نقصان پر 39 رنز بنا لیئے
    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ دورہ چین کیلئے بیجنگ پہنچ گئے
    جبکہ سروے میں شامل ایگزیکٹوز کا اندازہ ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں، ان کی تنظیمیں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے انٹری لیول نالج ورکر کے کردار کے نصف سے زیادہ (56 فیصد) کو ختم کردیں گی۔ مزید یہ کہ ، 79٪ ایگزیکٹوز نے پیش گوئی کی ہے کہ انٹری لیول نالج ورکر کی نوکریاں اب موجود نہیں ہوں گی کیونکہ مصنوعی ذہانت افرادی قوت میں داخل ہونے والے ملازمین کے لئے مکمل طور پر نیا کردار تخلیق کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، 56٪ کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے کردار "مکمل طور پر” یا "جزوی طور پر” مصنوعی ذہانت سے تبدیل ہوجائیں گے.

    تاہم واضح رہے کہ صنعت کے رہنما ایسے بھی ہیں جو اس طرح کی بھاری بھرکم تباہی کی پیشگوئیوں پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ایچ سی ایل سافٹ ویئر کے ایگزیکٹو نائب صدر اور جنرل منیجر رچرڈ جیفٹس کہتے ہیں کہ "میرے خیال میں کیریئر کے اہداف پر مصنوعی ذہانت کا فوری اثر کم سے کم ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ بہت سی کمپنیاں مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کا دعویٰ کرتی ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ابھی بھی اپنانے کے ابتدائی مراحل میں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے پختہ ہونے کے ساتھ کیریئر پر طویل مدتی اثرات کی توقع ہے۔

  • گوگل کی سب سے بڑی تبدیلی

    گوگل کی سب سے بڑی تبدیلی

    جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ گوگل دنیا کی سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے اور اس میں بہت بڑی تبدیلی کی جا رہی ہے اور گوگل کے ڈیسک ٹاپ ہوم پیج پر ایک ڈسکور فیڈ کا اضافہ کیا جا رہا ہے جو حالیہ برسوں میں کی جانے والی سب سے بڑی تبدیلی سمجھی جاسکتی ہے یعنی گوگل ویب سائٹ اوپن کرنے پر روایتی سرچ باکس کے ساتھ مختلف مواد نظر آئے گا۔

    جبکہ ایک رپورٹ میں گوگل کی اس نئی ڈسکور فیڈ کی جھلک پیش کی گئی اور اس میں مختلف خبروں کی ہیڈلائنز، موسم کی پیشگوئی، اسپورٹس اسکور اور دیگر تفصیلات نظر آ رہی ہیں اور گوگل کی جانب سے اس طرح کا فیچر 2018 میں موبائل ڈیوائسز کے یو ایس ہوم پیج میں بھی متعارف کرایا تھا، تاہم گوگل ترجمان کی جانب سے بھی ڈیسک ٹاپ ورژن میں کی جانے والی تبدیلی کی تصدیق کردی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    چین؛ تجارتی مندی میں کمی، بحالی کی امیدوں میں اضافہ مگر چیلنجز بدستور برقرار
    روپیہ کے مقابلےامریکی ڈالر میں مزید کمی
    فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ ،عمران خان کے نعرے لگانے پر پی ٹی آئی کارکنان گرفتار
    ہنگو حملے کے دوران دہشتگردو ں کا مقابلہ کرنیوالے پولیس نوجوان سے وزیراعظم کی ملاقات
    ترجمان کے مطابق اس نئی تبدیلی کی آزمائش ابھی انڈیا میں کی جا رہی ہے اور جیسا اوپر درج کیا جا چکا ہے کہ گوگل دنیا میں سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائٹ ہے تو اس میں کی جانے والی ہر تبدیلی اس لیئے بھی اہم ہوتی ہے جبکہ گوگل کا یہ نیا فیچر مائیکرو سافٹ کے سرچ انجن بنگ سے ملتا جلتا نظر آتا ہے جس میں نیوز اسٹوریز کی طویل فہرست نظر آتی ہے جس میں سیاست شوبز، ٹیکنالوجی وغیرہ.

  • 2000 سال پرانی میک اپ کی دکان دریافت

    2000 سال پرانی میک اپ کی دکان دریافت

    ایزونوئی: ترکی میں ماہرین آثار قدیمہ نے 2 ہزار سال پرانی کاسمیٹکس کی ایک انوکھی دُکان دریافت کر لی-

    باغی ٹی وی: برطانوی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین آثار قدیمہ کواس دکان میں پرفیوم کی بوتلیں، میک اپ میں استعمال ہونے والے آئی شیڈز اور بلشز بھی ملے ہیں،یہ حیرت انگیز دریافت قدیم شہر ایزونوئی میں کی گئی جو اس وقت مغربی ترکیہ کا حصہ ہے، اس سے قبل رومی دور میں یہ ایک اہم سیاسی اور اقتصادی مرکز تھا مبینہ طور پر یہ شہر رومن دور میں سماجی، سیاسی اور اقتصادی سر گر میوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا تھا۔

    برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کی جانب سے دریافت کیے گئے نوادرات میں پرفیوم کے برتن اور میک اپ کے باقیات شامل ہیں، جن میں آئی شیڈو اور بلش شامل ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ رومن خواتین یہ کاسمیٹکس 2 ہزار سال قبل استعمال کرتی تھیں اسی شہر کے اندر آثار قدیمہ کی ٹیم نے ایک اور دُکان بھی دریافت کی ہے، جس کے بارے میں اندازہ لگایا جارہا ہے کہ یہاں زیورات اور کاسمیٹکس کی مصنوعات فروخت کی جاتی تھیں ماہرینِ آثار قدیمہ کو ان اشیاء کےساتھ ساتھ ہار اور بالوں کےلیے مختلف موتیوں کی مالابھی ملی ہے۔

    اٹلی میں 2,000 سال قدیم مقبرہ دریافت

    آثار قدیمہ کی ٹیم نے شہر کے اندر ایک دکان کا بھی پتہ لگایا، جو مبینہ طور پر زیورات اور کاسمیٹک مصنوعات فروخت کرتی تھی ان اشیاء کے ساتھ ساتھ، ہار اور بالوں کے لئے مختلف موتیوں کی مالا بھی احاطے میں ملی ،دکان کے اندر ایک خاص طور پر دلچسپ در یا فت سیپ کے گولوں کی کافی مقدار تھی، جو میک اپ رکھنے کے لیے کنٹینرز کے طور پر کام کرتی تھی حیران کن بات یہ ہے کہ اس جگہ سے ملنے والےمیک اپ میں متحرک رنگت موجود تھے جو عصری بلشز اور آئی شیڈو کی یاد دلاتے ہیں شناخت کیے گئے نمایاں رنگو ں میں سرخ اور گلابی رنگوں کی ایک صف شامل تھی، جس میں 10 الگ الگ رنگ شامل تھے۔

    نواز شریف کا سعودی عرب میں والہانہ استقبال

    فروری میں، ماہرین آثار قدیمہ کانسی کے زمانے کی عمارت کے فرش کے نیچے دفن ایک شخص کے کنکال میں دماغی سرجری کے شواہد پا کر حیران رہ گئےسی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق، نتائج ٹریفینیشن کی ابتدائی مثال کی نشاندہی کرتے ہیں، جو کہ سرجیکل طریقہ کار ہے جس سے کھوپڑی میں سوراخ کرنے کا عمل بنیادی ٹشو کو متاثر کیے بغیر ہے یہ 1550 قبل مسیح سے 1450 قبل مسیح کے درمیان رہتے تھے اور ان کی باقیات قدیم شہر تل میگیدو میں ایک مقبرے کی کھدائی کے دوران ملی تھیں۔

    اس دریافت کی تفصیلی مطالعہ جریدے PLOS ONE میں شائع ہوا تھا۔

    کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ،کہیں زمیں کہیں آسماں نہیں ملتا

  • مردار ستارے کی طاقتورگیما شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں

    مردار ستارے کی طاقتورگیما شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں

    پیرس: خلا میں سینکڑوں نوری سال فاصلے پر موجود ایک مردار ستارے سےخارج ہونے والی طاقتور شعاعیں زمین سے ٹکرا گئیں۔

    باغی ٹی وی: نمیبیا میں نصب ٹیلی اسکوپس کے وسیع سسٹم سے مشاہدے میں آنے والی یہ گیما شعاعیں اتنی شدید ہیں کہ اگر یہ انسانوں پر افشا ہوں تو انسانوں کوجھلسا دیں یہ شعاعیں زمین سے تقریباً 1000 نوری سال کے فاصلے پر موجود ویلا پُلسر سے خارج ہوئیں تھیں پلسر ایسے بڑے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں جو اندازاً 10 ہزار سال قبل سپر نووا کی صورت پھٹ گئے ہوتے ہیں اور بعد میں اپنے اندر ہی تباہ ہوجاتے ہیں۔

    فرانس کی ایسٹروپارٹیکل اینڈ کوسمولوجی لیبارٹری سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف آرچی جنتی اتائی کے مطابق ان شعاعوں کا مطلب یہ نہیں کہ خلائی مخلوق ہم سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہ بات درست ہے کہ 1967 میں پہلی بار جب یہ پلسر دریافت ہوئے تھے تو ان کے ماخذ کو خلائی مخلوق کے حوالے سے ایل جی ایم 1 اور ایل جی ایم 2 کا نام دیا گیا تھا لیکن یہ ایک مذاق جیسا ہی تھا ہم یہ جانتے ہیں کہ پلسر بڑے بڑے ستاروں کی باقیات ہوتے ہیں اور خلائی مخلوق کو ایسے سگنل بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    یہ مردہ ستارے تقریباً مکمل طور پر نیوٹران سے بنے ہیں اور ناقابل یقین حد تک گھنے ہیں ان کے مادے کا ایک چمچ پانچ بلین ٹن سے زیادہ ہے، یا گیزا کے عظیم اہرام سے تقریباً 900 گنا زیادہ ہے،” ایما ڈی اونا ولہیلمی نے کہا، نمیبیا میں ہائی انرجی سٹیریوسکوپک سسٹم آبزرویٹری کے ایک سائنسدان نے دھماکے کا پتہ لگایا جیسے جیسے پلسر گھومتے ہیں، وہ برقی مقناطیسی تابکاری کے شہتیروں کو باہر پھینکتے ہیں، اسے کائناتی لائٹ ہاؤس کی طرح باہر پھینک دیتے ہیں-

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …

    تابکاری کو تیز رفتار الیکٹرانوں کا نتیجہ سمجھا جاتا ہے جو پلسر کے مقناطیسی میدان کے ذریعہ پیدا ہوتے ہیں اور باہر پھینک دیتے ہیں، جو پلازما اور برقی مقناطیسی شعبوں سے بنا ہوتا ہے جو ستارے کو گھیرتے ہیں اور اس کے ساتھ گھومتے ہیں۔ سائنس دان برقی مقناطیسی سپیکٹرم کے اندر مختلف انرجی بینڈز کے لیے تابکاری تلاش کر سکتے ہیں، اس کو سمجھنے میں ان کی مدد کر سکتے ہیں-

    نزلہ زکام کی علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہیں،تحقیق

  • خلا میں آزاد گھومتے   سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    خلا میں آزاد گھومتے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” دریافت

    دنیا کی طاقتور ترین دوربین جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ نے سیارہ مشتری کے حجم جتنے دو "سیارے” خلا میں آزاد گھومتے دریافت کئے ہیں-

    باغی ٹی وی:دریافت کےبارے میں دلچسپ بات یہ ہےکہ یہ سیارے جوڑی میں حرکت کرتےنظر آتےہیں جیمز ویب ٹیلی اسکوپ نےان سیاروں کا مشہور Orion نیبولا کےنئےتفصیلی سروےمیں مشاہدہ کیاجہاں ان جیسے تقریباً 40 جوڑےسیارےموجود ہیں، سائنس دانوں نے ان سیاروں کو مختصراً “JuMBOs” کا عرفی نام دیا ہے تاہم یہ بغیر کسی شمسی نظام کے خلا میں کیسے گھوم رہے ہیں، اس کے بارے میں ناسا کے ماہرین فلکیات نے دو امکانات کا ذکر کیا ہے۔

    بھارت حیدرآباد : نیوزی لینڈ کی پری میچ پریس کانفرنس کے دوران بجلی …


    ماہرین کے مطابق ایک امکان یہ ہے کہ یہ سیارے نیبولا کے ان خطوں سے نکلے ہیں جہاں مواد (materials) کی کثافت پوری طرح سے ستارے بنانے کے لیے ناکافی تھی جس کی بنا پر یہ اس مقام سے خارج ہوگئے دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ ستاروں کے گرد وجود میں آئے اور پھر مختلف تعاملات کے ذریعے خلا میں خارج ہوگئے ناسا کے پروفیسر مارک میک کیوگرین نے کہا کہ مذکورہ بالا دونوں امکانات میں سے فی الحال اول الذکر مفروضے کو اپنایا گیا ہے۔

    ‎‎نوارا نجم معروف مصری صحافی

  • واٹس ایپ نے دو نئے  فیچرز متعارف کروا دیئے

    واٹس ایپ نے دو نئے فیچرز متعارف کروا دیئے

    واٹس ایپ کی جانب سے چند نئے فیچرز متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے، اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے لیے واٹس ایپ کے بیٹا (beta) ورژن میں چند نئے فیچرز متعارف کرائے گئے ہیں تاہم ان میں سے ایک فیچر لاک چیٹ کے حوالے سے ہے جبکہ دوسرا میسجز ٹیکسٹ فارمیٹنگ ٹولز کے حوالے سے ہے جبکہ واضح رہے کہ چیٹ لاک نامی فیچر مئی میں متعارف کرایا گیا تھا جس کے ذریعے صارفین مختلف چیٹس کو ایک فولڈر میں محفوظ کیا جاتا ہے جبکہ ان تک رسائی فون ان لاک کے طریقہ کار سے ممکن ہوتی ہے۔

    وابیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اب میٹا کی جانب سے اس فیچر کو زیادہ بہتر بنایا جا رہا ہے اور اس میں ایک سیکرٹ کوڈ کا اضافہ کیا جا رہا ہے، اس فیچر کی آزمائش بیٹا ورژن میں ہو رہی ہے اور توقع ہے کہ جلد اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرا دی جائے گا، سیکرٹ کوڈ فیچر سے صارفین اپنی لاک چیٹس کو زیادہ محفوظ بنا سکیں گے۔ وہ ان چیٹس کو فون ان لاک کے طریقہ کار کے ساتھ ساتھ ایک سیکرٹ کوڈ کے ذریعے محفوظ بنا سکیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کا انٹیلی جنس ماہرین بھرتی کرنے کا فیصلہ
    سولرپینلز کی مزید 6 فرضی کمپنیاں بے نقاب،13 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف
    آسٹریلیا کی بھارت کے خلاف بیٹنگ جاری،8 کھلاڑی آؤٹ
    دوسرا فیچر ٹیکسٹ فارمیٹنگ ٹولز کا ہے جس سے صارفین اپنے میسجز کو زیادہ بہتر طریقے سے کسٹمائز کر سکیں گے، ان نئے ٹولز میں کوڈ بلاکس، لسٹس اور quote بلاکس شامل ہیں جبکہ اس سے قبل میسجز کے ٹیکسٹ کو بولڈ، اٹالک اور اسٹرائیک تھرو جیسے ٹولز سے بہتر بنانا ممکن تھا مگر اب ان میں مزید ٹولز کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔

  • "اوزون” میں شگاف کے حجم میں ریکارڈ اضافہ

    "اوزون” میں شگاف کے حجم میں ریکارڈ اضافہ

    پیرس: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سالانہ اوزون سوراخ جو کہ انٹارکٹیکا کے اوپر بنتا ہے اس کا حجم ریکارڈ حد تک بڑھ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی:سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح انٹارکٹیکا کے ارد گرد سمندری برف ہر سال کم اور بڑھتی جاتی ہے، اسی طرح براعظم کے اوپر اوزون میں پڑا شگاف گھٹتا اور بڑھتا جاتا ہے اور رواں سال اس کا حجم کافی بڑھ گیا ہے یورپی خلائی ایجنسی (ای ائس اے) کی Copernicus Sentinel-5P سیٹلائٹ کے مشاہدات سے پتہ چلتا ہے کہ 16 ستمبر 2023 میں اوزون کا سوراخ تقریباً 10 ملین مربع میل (26 ملین مربع کلومیٹر یعنی 3 برازیل جتنے حجم) تک پہنچ گیا ہے جو اسے اب تک کے سب سے بڑے موسمی شگاف میں سے ایک بنا دیتا ہے –

    اوزون قدرتی طور پر پیدا ہونے والی گیس ہے اور اس کی ایک تہہ اسٹراٹاسفیئر میں ہے جو ہمیں سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے زمین کو بچاتی ہے۔اوزون کو اس کل اماؤنٹ کے طور پر ماپا جاتا ہے جو ڈوبسن یونٹوں میں اوورلینگ ماحول کے کالم میں موجود ہے۔ ایک ڈوبسن یونٹ کے بارے میں سوچا جا سکتا ہے کہ اوزون کی مقدار موجود ہو گی اگر یہ اوسط سطح سمندر کے دباؤ اور درجہ حرارت پر 0.01 ملی میٹر موٹی پرت بنائے۔ اوزون کی تہہ کے لیے ایک عام ڈوبسن ریڈنگ تقریباً 300 ڈوبسن یونٹ ہے، مطلب یہ ہے کہ اوزون کی تہہ صرف 3 ملی میٹر موٹی ہوگی اگر سطح سمندر پر لایا جائے۔

    نوجوانوں میں عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    ڈوبسن یونٹ کا نام ڈوبسن سپیکٹرو فوٹومیٹر کی وجہ سے رکھا گیا ہے جو پیمائش کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ UV تابکاری کی دو مختلف طول موجوں کے تناسب کا موازنہ کرکے کام کرتا ہے – ایک دوسرے کے مقابلے میں اوزون کے ذریعہ زیادہ مضبوطی سے جذب ہوتا ہے – اور مشاہدہ شدہ تناسب کا استعمال کرکے اوزون اوور ہیڈ کی مقدار کا حساب لگاتا ہے-

    یہ طریقہ 1956 سے ہیلی ریسرچ سٹیشن پر اوزون کی تہہ کی پیمائش کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ 1985 میں، برطانوی انٹارکٹک سروے کے سائنسدانوں نے نتائج شائع کیے جن میں 1970 کی دہائی سے ہیلی کے اوپر اوزون کی سطح میں زبردست کمی ظاہر ہوئی 1985 میں انٹارکٹیکا کے اوپر اوزون کی تہہ میں ایک شگاف دریافت ہوا تھا جو کہ انسانی استعمال میں کاربن کو ختم کرنے والے مادوں کی وجہ سے ہوا تھا جس کے بعد ای ایس اے نے ان مادوں کے استعمال پر پابندی عائد کی تھی اس کے بعد دنیا بھر کے سائنسدان شگاف کے سائز کی نگرانی کر رہے ہیں1980 کی دہائی کے اوائل میں، سائنسدان جو اوزون کی پیمائش کر رہے تھے، قطب جنوبی پر اوزون کے ارتکاز میں کمی دیکھی۔ یہ سوراخ، کئی سالوں تک بڑھتا رہا۔

    کسی دوسرے لیڈر یا جماعت کے پاس ملکی ترقی …

    کوپرنیکس ایٹموسفیئر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان اینٹجے اینیس نے ایک بیان میں کہا کہ اوزون کا شگاف اب بھی بڑھتا اور سکڑتا ہے تاہم درجہ حرارت کی تبدیلیوں اور اسٹراٹاسفیئر میں ہوا کے دباؤ کی وجہ سے یہ شگاف وسط ستمبر اور وسط اکتوبر کے درمیان زیادہ بڑھ گیا ہے،ہماری آپریشنل اوزون مانیٹرنگ اور اس سے منسلک پیش گوئی سے پتہ چلتا ہے کہ 2023 کا اوزون شگاف ابتدائی طور پر شروع ہوا اور اگست کے وسط سے تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

  • جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور متعدد دیگر ایپس میں پوسٹس پر ایموجیز کے ذریعے ری ایکشن ظاہر کرنا ممکن ہے جبکہ اب آپ گوگل کی مقبول ترین ای میل سروس جی میل پر بھی ایموجی ری ایکشنز کا استعمال کر سکیں گے، گوگل سپورٹ سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق یہ نیا فیچر پہلے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔

    اس کے بعد آئندہ چند ماہ میں ویب اور آئی او ایس صارفین کے لیے بھی اس فیچر کو متعارف کرایا جائے گا، مگر ای میل پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال اتنا سادہ نہیں جتنا فیس بک یا دیگر ایپس میں ہوتا ہے اور کچھ افراد کو تو ایموجی ری ایکشن ایک الگ ای میل میں نظر آئے گا جس پر لکھا ہوگا کہ کسی فرد نے جی میل پر آپ کی ای میل پر ری ایکٹ کیا ہے۔

    تاہم ایسا جی میل کے پرانے وژن استعمال کرنے والے صارفین کے ساتھ ہوگا جبکہ کسی اور ای میل پروگرام جیسے آؤٹ لک اور یاہو صارفین کے ساتھ بھی ایسا ہوگا، کمپنی کے مطابق ایموجی ری ایکشن کو ہمیشہ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر آپ کسی دفتری اکاؤنٹ کو اسعمال کرتے ہوئے 20 سے زائد ایڈریسز پر کوئی ای میل بھیجیں گے تو اس پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال ممکن نہیں ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر عہدے سے فارغ
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے کے لیے 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم

    جبکہ اس کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، اگر یہ فیچر آپ کے اینڈرائیڈ فون میں دستیاب ہو تو ای میل اوپن کرنے پر اس کے نیچے ایڈ ایموجی ری ایکشن کا آپشن نظر آئے گا اور اس آپشن کے ساتھ ایموجیز کی لسٹ ہوگی جس میں سے اپنی پسند کے ایموجی کو سلیکٹ کریں جو ای میل کے نیچے نظر آئے گا، اگر آپ نے کسی غلط ایموجی کو سلیکٹ کرلیا ہے تو اسے ہٹا بھی سکتے ہیں مگر اس کے لیے 5 سے 30 سیکنڈ کے اندر اسے ان ڈو (undo) کرنا ہوگا۔