Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سائنسدانوں کا ذیابیطس سے چھٹکارا پانے کیلئے گانا سننے کا مشورہ

    سائنسدانوں کا ذیابیطس سے چھٹکارا پانے کیلئے گانا سننے کا مشورہ

    سائنسدانوں نے ذیابیطس کے مریضوں کے سیلز کو متحرک کرنے کیلئے موسیقی کا استعمال کرتے ہوئے ایک اور نیا طریقہ تیار کیا ہے، تاکہ خلیوں کو منٹوں میں انسولین جاری کرنے کے لیے متحرک کیا جا سکے-

    باغی ٹی وی:معروف طبی جریدے ”دی لانسیٹ“ میں شائع تحقیق کےمطابق ای ٹی ایچ زیورخ میں بائیو سسٹم سائنس اور انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر مارٹن فوسنیگر اور ان کے ساتھی انسولین تیار کرنے والے ڈیزائنر سیلز کی تیاری پر کام کر رہے ہیں ان سیلز کو جسم کے باہر سے کنٹرول کیا جاسکے گا کہ خون میں کب اور کتنی انسولین چھوڑنی ہے –

    ذیابیطس کے مریضوں کی آسانی کیلئے محققین نے ایسے خلیات بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں پیوندکاری کے ذریعے انسانی جسم کا حصہ بنا دیا جائے گا یہ خلیات ایک مخصوص حکم پر انسولین پیدا کرسکیں گے اور انہیں باہر سے کنٹرول کیا جاسکے گا۔

    ممالیہ جانوروں کے خلیوں میں تناؤ پر قابو پانے والی لوڈنگ اور ماڈل کارگوز کی ٹرگر-انڈیکیبل ریلیز کو قابل بنانے کے لیے اظہار کیا گیا ہے متعدد بیماریوں کے علاج کے لیے اگلی نسل کے سیل پر مبنی علاج میں استعمال کے لیے بہت سے جین سوئچز تیار کیے گئے ہیں تاہم، چھوٹے مالیکیولر ٹرگر مرکبات کی نظامی ترسیل کو فارماکوکینیٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے مضر اثرات، اور ٹریس لیس محرکات، جیسے روشنی، الٹراساؤنڈ، مقناطیسی میدان، ریڈیو لہریں، بجلی اور حرارت، کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اس طرح، اب بھی نئے سوئچنگ طریقوں کی ضرورت ہے۔

    بھارتی حکومت چاند کو ہندو سلطنت قراردے،ہندو مہاسبھا کے قومی صدر کا مطالبہ

    سائنس دانوں نے ان سیلز کو متحرک کرنے کیلئے موسیقی کا استعمال کرتے ہوئے ایک اور نیا طریقہ تیار کیا ہے، تاکہ خلیوں کو منٹوں میں انسولین جاری کرنے کے لیے متحرک کیا جا سکے۔

    فوسنیگر کے مطابق دورانِ تحقیق پایا گیا کہ یہ خلیات خاص طور پر برطانوی راک بینڈ کے گانے ”We Will Rock You“ سن کر اچھا کام کرتے ہیں تاہم، یہ کلینیکل ایپلی کیشن ابھی بہت دور ہے محققین نے ابھی اس تصور کا صرف ایک ثبوت فراہم کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جینیاتی نیٹ ورکس کو مکینیکل محرکات جیسے آواز کی لہروں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

    ذیابیطس کے مریض اس ہارمون کی بیرونی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں، جو باقاعدہ انجیکشن یا جسم سے منسلک انسولین پمپ کے ذریعے لی جاتی ہے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو آواز کی لہروں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے، محققین نے بیکٹیریم ”ای کولی“ سے ایک پروٹین کا استعمال کیابیکٹیریم کی جھلی میں واقع اس طرح کے پروٹین مکینیکل محرکات کا جواب دیتے ہیں اور یہ جانوروں اور بیکٹیریا میں عام ہیں یہ سیلز اندرونی حصے میں کیلشیم آؤنز کی آمد کو منظم کرتے ہیں۔

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    محققین نے اس بیکٹیریل آئن چینل کے بلیو پرنٹ کو انسولین پیدا کرنے والے انسانی خلیات میں شامل کیا ، جس سے ان خلیوں کے لیے خود آئن چینل بنانا اور اسے اپنی جھلی میں سرایت کرنا ممکن ہو گیا ان خلیوں میں چینل آواز کے جواب میں کھلتا ہے، جس سے مثبت چارج شدہ کیلشیم آئنوں کو خلیے میں بہنے کی اجازت ملتی ہے۔

    یہ خلیے کی جھلی میں چارج الٹنے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں خلیے کے اندر چھوٹے انسولین سے بھرے ویسکلز سیل کی جھلی کے ساتھ مل جاتے ہیں اور انسولین کو باہر کی طرف چھوڑ دیتے ہیں محققین نے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا کہ کون سے تعدد اور حجم کی سطح آئن چینلز کو سب سے زیادہ مضبوطی سے چالو کرتی ہے۔

    انہوں نے پایا کہ تقریباً 60 ڈیسیبلز (ڈی بی) کے حجم کی سطح اور 50 ہرٹز کی باس فریکوئنسی آئن چینلز کو متحرک کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ہیں زیادہ سے زیادہ انسولین کے اخراج کو متحرک کرنے کے لیے، آواز یا موسیقی کو کم از کم تین سیکنڈ تک جاری رکھنا پڑتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ سیکنڈ کے لیے روکنا پڑتا ہے۔

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    آخر میں محققین نے دیکھا کہ کون سی موسیقی کی انواع نے 85 ڈی بی کے حجم میں انسولین کا سب سے مضبوط ردعمل پیدا کیا جس کے نتیجے میں راک میوزک جیسے گانا ”وی وِل راک یو“ سب سے کامیاب رہا، اس کے بعد ایکشن مووی ”دی ایوینجرز“ کا ساؤنڈ ٹریک آیا۔

    کلاسیکی موسیقی اور گٹار موسیقی پر انسولین کا ردعمل کافی کمزور تھا اس نظام کو جانچنے کے لیے، محققین نے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو چوہوں میں لگایا، ان پیٹ براہ راست لاؤڈ اسپیکر کی جانب تھےیہ واحد طریقہ تھا جس سے محققین انسولین کے ردعمل کا مشاہدہ کر سکتے تھے اگرچہ، چوہے اس ”ماؤس ڈسکو“ میں آزادانہ طور پر چلنے پھرنے کے قابل تھے، لیکن موسیقی انسولین کی رہائی کو متحرک کرنے میں ناکام رہی۔

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    فوسینگر نے بتایا کہ ہمارے ڈیزائنر خلیے صرف اس وقت انسولین جاری کرتے ہیں جب صحیح آواز کے ساتھ امپلانٹ کے اوپر کی جلد پر براہ راست میوزک چلایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ ہارمون کا اخراج محیطی شور جیسے گفتگو، ایمبولینس سائرن، لان موورز یا فائر بریگیڈ سائرن سے نہیں ہوتا ایک دفعہ انسولین کے اخراج کے بعد خلیات کو مکمل طور پر بھرنے کے لیے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں، اس لیے اگر خلیے ہر گھنٹے کے وقفے سے انسولین چھوڑیں گے پورا لوڈ جاری نہیں کر پائیں گے اور جان لیوا ہائپوگلیسیمیا (کم شوگر) کا سبب بنیں گے۔

  • خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    سڈنی: نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی ریسرچرز اینڈ فیڈریشن یونیورسٹی کی جانب سے کیے گئے مطالعے کے دوران خواتین کو مردوں کی نسبت زیادہ دھوکے باز پایا گیا،ماہرین کے مطابق یہ نظریہ ہے کہ زیادہ تر مرد عورتوں کو اس لیے دھوکہ دیتے ہیں کیونکہ انکی جیون ساتھی وقت کے ساتھ جنسی تعلقات میں عدم دلچسپی کا شکار ہوجاتی ہے تاہم نئی تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ دراصل خواتین مردوں کے مقابلے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں۔

    محققین کی جانب سے مطالعے کی وضاحت بدلہ لینے اور ساتھی کو ارادتاً نقصان پہنچانے کے ساتھ کی گئی ہے، اس کیلئے 18 سے 67 سال کی عمر کی 240 خواتین کا مشاہدہ کیا گیا، تحقیق میں شامل خواتین سے ڈارک ٹیٹراڈ خصوصیات مثلاً جسمانی، جذباتی، اور بے وفائی کے عوامل کی تاریخ کا جائزہ لیتے سوالوں کے جواب لیے گئے۔

    بھارت میں پٹاخے کی فیکٹری میں دھماکا، 4 افراد ہلاک

    تحقیق میں پتا چلا ہے کہ خواتین مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات کو تو پسند کرتی ہیں لیکن وہ ایک ہی پارٹنر کے ساتھ جنسی تعلقات میں یکسانیت کی وجہ سے بور ہوجاتی ہیں اور اپنی تسکین کیلئے نیا راستہ تلاش کرتی ہیں،دوران مطالعہ انکشاف ہوا کہ مردوں کے مقابلے خواتین میں اپنے ساتھی کو نقصان پہنچانے کیلئے بدلہ لینے کا امکان زیادہ پایا جاتا ہے۔

    محققین کے مطابق تحقیق کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ خواتین کی جانب سے کی جانے والی بے وفائی کی وجوہات مختلف بھی ہوسکتی ہیں جس میں سماجی توقعات، بدسلوکی یا نظرانداز کرنے یا دماغی صحت کے مسائل شامل ہیں، دوسروں کو تکلیف پہنچانے سے لطف اندوز ہونے والی کیفیت اور اپنی ذات سے محبت انتقامی دھوکے کا باعث بن سکتی ہے۔

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    ایک طرف یہ مطالعہ مردوں کو خواتین کو سمجھنے اور ممکنہ نقصان سے خود کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے تو دوسری جانب اس تصور کو بھی چیلنج کرتا ہے کہ صرف مرد ہی بے وفا ہوتے ہیں

    واضح رہے ڈارک ٹیٹراڈعوامل 4 شخصیاتی خصوصیات خود سے محبت، دماغی مرض، منافقت اور اپنی تسکین کی خاطر دوسروں کو اذیت پہنچانا جیسے عوامل کا مجموعہ ہے۔

    دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ

  • 61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    خاتون کو اپنی اولاد کو دیکھنے کیلئے 61 سال انتظار کرنا پڑا،یہ ایک نایاب حالت ہے جو کسی ہارر فلم کی طرح لگتا ہے کہ ایک جنین مر جاتا ہے، اور پھر اس کی ماں کے جسم کے اندر بنیادی طور پر پتھر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین کی ایک خاتون ہوانگ ییجون نے 92 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، مگر جب ڈاکٹروں نے ان کے بچے کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے، کیونکہ ان کا بچہ پتھر بن چکا تھا،دراصل ہوانگ 1948 میں 31 سال کی عمر میں ماں بننے والی تھیں، مگر کچھ ایسا ہوا کہ انہیں اپنا بچہ 61 سال تک پیٹ میں رکھنا پڑاجب انہیں پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہیں تب انہیں خوشی توکافی ہوئی،مگر جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ایکٹوپک پریگنینسی ہے تو وہ فکر مند ہوگئی تھیں۔


    ہیلتھ لائن کے مطابق اس حالت میں فرٹیلائز ایگ ماں کے رحم سے چپک نہیں پاتا اس حالت میں ماں اور بچہ دونوں کیلئے کافی خطرات ہوتے ہیں ان حالات میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص کا 21 فیصد امکان ہوتا ہے بنیادی طور پر حفاظتی ایمنیوٹک سیال کی عدم موجودگی اور رحمِ مادر کے اندر نارمل بچوں کے مقابلہ میں انہیں اضافی دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔

    بی سی سی آئی صدر راجر بنی نے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی

    ہوانگ کے معاملے میں بچہ زندہ نہیں بچا ان کے پیٹ میں پرورش پا رہا بچہ اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اس کا جسم خود بخود باہر نہیں نکل سکتا تھا ڈاکٹروں نے اس سے نجات کیلئے سرجری کرانے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ اس کو رکھنے سے بعد میں صحت سے وابستہ پریشانیاں لاحق ہوسکتی تھیں لیکن سرجری کی لاگت خاتون اور اس کے اہل خانہ کیلئے کافی زیادہ تھی ہوانگ نے آپریشن کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ایک ڈاکٹر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ جب ایسے معاملات میں بچہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ جسم قدرتی طور پر اسے باہر نہیں نکال پاتا تو مردہ بافتوں کے پاس کیلشیم جمع ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجہ میں ایک ’اسٹون بے بی‘ بنتا ہے۔ جو خواتین اس کا تجربہ کرتی ہیں وہ اکثر اس سے انجان رہتی ہیں۔

    تاہم، ہوانگ کے غیر معمولی معاملے میں وہ پتھر کے بچے کی موجودگی کے بارے میں بخوبی واقف تھیں، لیکن وہ اس کو ہٹانے کا رسک نہیں اٹھا سکتی تھیں۔

    خیبرپختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

    آخر کار 2009 میں 92 سال کی عمر میں انہوں نے 60 سال سے رحم مادر میں موجود جنین کو ہٹانے کیلئے سرجری کروائی اور جب بچہ باہر نکلا تو اسے دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے، کیونکہ وہ مکنمل طور پر پتھر بن چکا تھا۔

  • کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    کہکشاں کے اندر ایک اور کہکشاں دریافت

    اسپین میں ایک ماہر فلکیات نے ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے حاصل کی گئی سومبریرو کہکشاں کی تصاویر کا تجزیہ کرکے ایک نئی فعال کہکشاں دریافت کی ہے،ان تصاویر میں اسی کہکشاں کے اندر ایک نئی فعال کہکشاں کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: اکیڈمک مضامین کے لیے ایک اوپن ایکسیس آرکائیو ”arXiv“ میں شائع ہونے والی یہ دریافت ”ہماری“ کہکشاں کے سب سے دلچسپ اور منفرد پڑوسیوں میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہے، جو کنیا سپر کلسٹر میں واقع ہے، جہاں ملکی وے پائی جاتی ہے،سومبریرو کہکشاں (Sombrero Galaxy) کو Messier 104 یا NGC 4594 کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ کنیا اور کوروس برجوں کے درمیان 31 ملین نوری سال پر محیط ایک سرپل کہکشاں ہے اور کنیا کے جھرمٹ میں سب سے بڑی آسمانی اشیاء میں سے ایک ہے اس کا حجم 800 بلین سورجوں کے برابر ہے۔

    اسے ایک عجیب کہکشاں کے طور پر بھی درجہ بندی کیا گیا ہے، یہ اصطلاح کہکشاؤں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو سائز، شکل یا ساخت میں غیر معمولی ہیں اس کہکشاں کے بارے میں دو چیزیں ہمیشہ نمایاں رہی ہیں: اس کے مرکز میں اس کا انتہائی روشن نیوکلئس اور اس کے ارد گرد موجود دھول کا بہت بڑا حلقہ، اسے ایک سومبریرو(میکسیکن ٹوپی) کی شبیہ دیتا ہے، اس لیے اس کا عرفی نام ہے سومبریرو کہکشاں 1781 میں پہلی بار دریافت ہوئی تھی۔

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    تاہم، اس کہکشاں کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متعدد گلوبلر کلسٹرز ہیں، جو کشش ثقل سے جڑے ہوئے ستاروں کی بڑی تعداد ہیں۔ یہ ہر کہکشاں میں موجود ہیں، بشمول ملکی وے، حالانکہ یہ عام طور پر کنارے پر زیادہ واقع ہوتے ہیں۔

    لیکن اسپین کی مڈ اٹلانٹک یونیورسٹی کے ماہر فلکیات ایلیو کوئروگا روڈریگیز کے نتائج کے مطابق، ایک عجیب چیز جو پہلے ایک گلوبلر کلسٹر سمجھی جاتی تھی (جسے پین اسٹار آر ایس 1 ڈیٹا آرکائیو میں PSO J190.0326-11.6132 کے طور پر درج کیا گیا ہے) کچھ اور ہو سکتی ہے، یعنی ایک مکمل طور پر الگ کہکشاں، جو اپنے مرکز میں ایک فعال کہکشاں نیوکلئس (AGN) رکھتی ہو ایسا لگتا ہے کہ اس کہکشاں کے دو سرپل بازو ہیں اور اسے عارضی طور پر ”Iris Galaxy“ کا نام دیا گیا ہے۔

    کہکشاں کے مرکز میں ایک کمپیکٹ خطہ جو کہ انتہائی چمکدار اور توانائی بخش ہے، ستارے کی تشکیل یا مرکز میں ایک زبردست بلیک ہول کی سرگرمی کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

    بچوں سے جنسی جرائم پر پرنسپل کو 15 برس قید کی سزا

    ایک کہکشاں دوسری کہکشاں کے اندر کیسے بن سکتی ہے؟

    یہ حقیقت میں اتنا غیرمعمولی نہیں جتنا لگتا ہے 2009 میں، سائنسدانوں نے ایک بونی کہکشاں دریافت کی تھی جو سومبریرو کہکشاں کے ساتھ تھی۔ اس طرح Sombrero Galaxy کے لیے اس طرح کا ایک اور ساتھی ہونا غیرمعمولی نہیں اگر آئرس گیلیکسی سومبریرو گیلیکسی کا حصہ ہے تو غالب امکان یہ ہے کہ یہ ایک بہت چھوٹی کہکشاں ہوگی، جس کا سائز صرف 1,000 نوری سال ہو۔

    لیکن اگر یہ Sombrero Galaxy کا حصہ نہیں تو یہ ممکنہ طور پر بہت دور ہے اور اس لیے بہت بڑی ہےروڈریگز کے مطابق، اس حساب سے آئرس گیلیکسی کو کم از کم 65 ملین نوری سال کے فاصلے پر ہونا پڑے گا اور اس کا سائز تقریباً 71,000 نوری سال ہو سکتا ہے۔

    کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

  • چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    چندریان تھری مشن: چاند پرروور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری

    بھارتی خلائی مشن چندریان 3 کی چاند کے قطب جنوب پر روور کے لینڈر سے نیچے اترنے کی پہلی ویڈیو جاری کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر بھارتی خلائی ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) نے یہ ویڈیو جاری کی جس میں روور کو لینڈر سے چاند پر اترتے دیکھا جاسکتا ہےاسرو کی جانب سے شیئر کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لینڈر سے روور چاند کی سطح پر اترتا ہے اور اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے۔


    اس سے قبل چندریان 3 کی پہلی بار چاند پر لینڈنگ کے بعد چاند کی سطح کی پہلی تصاویر بھی جاری کی گئی تھیں،واضح رہے کہ جمعرات کو بھارت کا مشن چندریان 3 کامیابی سے چاند کے تاریک حصے پر اتر گیا تھا جس کے ساتھ ہی بھارت چاند کے تاریک حصے پر لینڈ کرنے والا پہلا ملک بن گیا.اس سے قبل امریکا، روس اور چین چاند کے خط استوا کے قریب سافٹ لینڈنگ کر چکے ہیں۔


    چندریان 3 مشن 14 جولائی کو روانہ ہوا تھا جو لانچ کے بعد 10 دن تک زمین کے مدار میں موجود رہا اور 5 اگست کو کامیابی سے چاند کے مدار میں داخل ہوا وکرم نامی لینڈر 17 اگست کو پروپلشن موڈیول سے کامیابی سے الگ ہوا تھا جس کے بعد آج یہ مشن چاند پر کامیابی سے اتر گیا ہے۔


    جہاں چندریان 3 اترا وہ قطب جنوبی کا دوردراز خطہ ہے، مستقل طور پر سائے میں رہنے کی وجہ سے اسے ‘چاند کا اندھیرے والا حصہ’ بھی کہا جاتا ہے اور غالب امکان ہے کہ چاند کا جو حصہ سائے میں ہے وہاں پانی کی موجودگی کے آثار ملیں،سائنسدانوں کا خیال ہےکہ چاندکے قطب جنوبی میں کافی مقدار میں برف موجود ہے۔

    چاند پر برف یعنی پانی کی موجودگی کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں انسان اسے استعمال کر سکتا ہے، یہ برف نہ صرف پینےکے پانی میں تبدیل کی جاسکتی ہے بلکہ اس سے آکسیجن اور ہائیڈروجن حاصل کی جاسکتی ہے جس سے وہاں زندہ رہنے اور راکٹ یا خلائی جہاز کے لیے فیول حاصل کرنا ممکن ہوسکتا ہے۔

  • کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

    کیا دماغ چیزیں جان بوجھ کر بھولتا ہے؟نئی تحقیق میں ماہرین کے انکشاف

    حالیہ تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ الزائمر جیسی کئی حالتیں کمزور یادداشت کی خصوصیات رکھتی ہیں کیونکہ یہ یادیں بعض اوقات خوشگوار ادوار میں واپس آسکتی ہیں-

    باغی ٹی وی: تحقیق کے مطابق دماغ کی جانب سے کسی چیز کابھلا دیا جانا جان بوجھ کر کیا گیا کام بھی ہوسکتا ہے جرنل سیل رپورٹس میں شائع تحقیق کے نتائج کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ بھول جانا دراصل سیکھنے کا بہترین طریقہ ہے اگر آپ کبھی کچھ بھول جاتے ہیں تو ظاہر ہے آپ کو وہ اب یاد رہے گا، کچھ بھولنے کا نقطہ ہی یہی ہےیعنی آپ کا دماغ بنیادی طور پر اب وہ معلومات محفوظ نہیں رکھتا جو اس نے پہلے کی تھی،سننے میں لگتا ہے کہ یہ آپ کے دماغ کے کسی حصے کی کوئی خرابی اس کی فعالیت میں کمی ہے تاہم، ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہوبھولنا اتنا برا نہیں جتنا آج تک اسے پیش کیا گیا ہے۔

    دراصل جب دماغ کچھ سیکھتا ہے اور معلومات کو جذب کرتا ہے تو دماغ کے نیوران اور ان کے آپس ملنے کے پوائنٹس (Synapses) میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اس عمل کو پھر اینگرام سیلز کے ذریعے سہولت فراہم کی جاتی ہے، جو میموری کو ذخیرہ کرنے، اسے مضبوط کرنے، بازیافت کرنے اور اسے بھولنے میں مدد دیتے ہیں اگرچہ کچھ بھول جانے پر اینگرام سیلز کا کیا ہوتا ہے، یہ واضح نہیں ہے لیکن یادداشت پر غور کرتے ہوئے کبھی کبھی بھولی گئی بات واپس یاد آسکتی ہے، جس کا مطلب ہے خلیات ممکنہ طور پر ختم نہیں ہوتے ہیں۔

    طالبان نے یونیورسٹی اسکالر شپ کیلئے یو اے ای جانیوالی 100 طالبات کو روک دیا

    نیوران اور Synapses میں ہونے والی جسمانی تبدیلیاں جو سیکھنے کے دوران حاصل کی گئی مخصوص معلومات کی نمائندگی کرتی ہیں ان کو اینگرامس کہا جاتا ہے اور یہ ایک میموری کا جسمانی نشان بناتے ہیں ممکنہ طور پر دماغی علاقوں میں تقسیم کی جاتی ہے تاہم، بھول جانے کے بعد اینگرام سیلز کی قسمت اب بھی اچھی طرح سے سمجھ نہیں آتی ہے۔

    پیتھولوجیکل حالات جیسے کہ فارماسولوجیکل طور پر خلل شدہ یادداشت کی مضبوطی اور الزائمر، کے ساتھ ساتھ نشوونما اور عمر بڑھنے کی وجہ سے یادداشت میں کمی کی صورت میں بازیافت کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ معدومیت کے بعد اچانک بحالی کی مثال میں یا الزائمر کی پیتھالوجی کے باوجود یادداشت کے واضح دور میں میموری انگرامس کی بقا بھولنے کی ایک فعال شکل کے خیال کی حمایت کرتی ہے، ایسا عمل جو ماضی میں انکوڈ شدہ یادوں کو الٹا خاموش کر سکتا ہے۔تاہم، کچھ مطالعات نے بھولے ہوئے انگرام کی خصوصیات پر توجہ مرکوز کی ہے یا یہ تجربہ کیا ہے کہ براہ راست تجربے کے ذریعے بھولنے کو کیسے ماڈیول کیا جا سکتا ہے-

    سعودی تحائف فروخت کرنے پربرازیل کے سابق صدر کی گرفتاری کا امکان

    یہ جاننے کے لیے کہ ان سیلز کے ساتھ کیا ہوتا ہے، آئرلینڈ کے محققین نے چوہوں میں اینگرام سیلز کا سراغ لگایا تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ جب وہ بھول گئے تو کیا ہوااس کے بعد، روشنی کے ساتھ ان خلیات کو متحرک کیا گیا جس سے بظاہر خلیات اور بھولی ہوئی یادیں دوبارہ فعال ہوگئیں اس دریافت کے کئی مضمرات ہیں، لیکن جو چیز سب سے نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ کسی چیز کو ”قدرتی طور پر بھول جانا“ اکثر الٹ سکنے والا عمل ہوتا ہے جب آپ معلومات کو ”بھولتے“ ہیں، تو وہ معلومات درحقیقت غائب نہیں ہوتی، صرف چھپی ہوتی ہے۔

    لیکن دماغ چیزوں کو کیوں بھول جاتا ہےاس کے پیچھے نظریہ یہ ہے کہ دماغ میں موجود چیزوں کو بھلانے سے دماغ کے لیے موافقت ممکن ہے یہ ان یادوں پر بھروسہ کرنے کے بجائے زیادہ لچک اور بہتر فیصلہ سازی کا باعث بن سکتا ہےجوحالات سے متعلق نہیں ہیں لیکن یہ حقیقت کہ ان یادوں کو بازیافت کیا جاسکتا ہے، مستقبل کی تحقیق کے لئے ناقابل یقین اہمیت رکھتا ہے الزائمر جیسی کئی حالتیں کمزور یادداشت کی خصوصیات رکھتی ہیں کیونکہ یہ یادیں بعض اوقات خوشگوار ادوار میں واپس آسکتی ہیں، اس کا مطلب ہے کہ اینگرام سیل ابھی بھی موجود ہیں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نظریاتی طور پر ان کے علاج میں مدد کا کوئی طریقہ ہو سکتا ہے۔

    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق

  • بھارتی مشن چندریان 3 آج  چاند پر اترے گا

    بھارتی مشن چندریان 3 آج چاند پر اترے گا

    نئی دہلی: چاند پر پہنچنے کا بھارتی مشن چندریان 3 آج شام 6:00 بجے کے قریب چاند پر اترے گا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ سب کی نظریں اس لینڈنگ پر ہیں جو اگر کامیاب ہو جاتی ہے تو امریکا، روس اور چین کے بعد بھارت چاند پر اترنے والا چوتھا ملک بن جائے گا چندریان تھری مشن ممکنہ طور پر چاند کے جنوبی حصے پر اُترے گا،پھر ریمپ کھلے گا چاند کی سطح کی تصویر لیں گے یہ تصاویر زمین پر بھیجی جائیں گی۔

    اسرو کے چیئرمین ایس سومناتھ نے 9 اگست کو مشن کی لینڈنگ کے بارے میں کہا تھا کہ اگر سب کچھ ناکام ہو جاتا ہے، اگر تمام سینسر فیل ہو جاتے ہیں، کچھ بھی کام نہیں کرتا ہے، پھر بھی یہ (لینڈ کرے گا، بشرطیکہ الگورتھم ٹھیک سے کام کریں ہم نے اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ اگر اس بار اس کے دو انجن فیل ہو جائیں تب بھی یہ لینڈنگ کے قابل ہو گا بھارتی پی ایم مودی عملی طور پر لائیو پروگرام میں شامل ہوں گے-

    روس کا لیونا 25 مشن آخری لمحات میں چاند کی سطح سے ٹکرا کر …

    رپورٹ کے مطابق چندریان 3 کے لینڈر کی سافٹ لینڈنگ میں 15 سے 17 منٹ لگیں گے اس دورانیے کو ‘دہشت کے 15 منٹ’ کہا جا رہا ہے اگر چندریان 3 مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو بھارت چاند کے جنوبی قطب پر لینڈر اتارنے والا پہلا ملک بن جائے گا چاند پر اترنے سے دو گھنٹے پہلے، لینڈر ماڈیول کی پوزیشن اور چاند پر موجود حالات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کرے گا کہ اس وقت لینڈ کرنا مناسب ہوگا یا نہیں اگر کوئی عنصر نشان زد نہیں ہوا تو 27 اگست کو لینڈنگ کی جائے گی-

    بھارتی میڈیا کے مطابق چندریان کا دوسرا اور آخری ڈی بوسٹنگ آپریشن اتوار کی رات 1.50 بجے مکمل ہوا۔ اس کے بعد چاند سے لینڈر کا کم از کم فاصلہ 25 کلومیٹر اور زیادہ سے زیادہ 134 کلومیٹر ہے ڈی بوسٹنگ میں، خلائی جہاز کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔

    یونان کے جنگلات میں لگی آگ پر چار روز بعد بھی قابو نہ پایا جاسکا

    بھارتی کی جانب سے مشن صرف قطب جنوبی پر کیوں بھیجا گیا؟

    چاند کے قطبی علاقے دوسرے خطوں سے کافی مختلف ہیں۔ یہاں بہت سے حصے ہیں جہاں سورج کی روشنی کب نہیں پہنچتی اور درجہ حرارت -200 ڈگری سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ برف کی صورت میں اب بھی پانی موجود ہو سکتا ہے -بھارت کے 2008 کے چندریان ونمشن نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کا اشارہ دیا تھا چاند پر اترنے کے لیے پچھلے تمام خلائی جہازخط استوا میں اترے ہیں، چند ڈگری عرض البلد کے شمال یا جنوب میں قمری خط استوا کےاس مشن کی لینڈنگ سائٹ وہی ہے جو چندریان 2 کی ہے 70 ڈگری عرض بلد پر چاند کے جنوبی قطب کے قریب لیکن اس بار رقبہ بڑھا دیا گیا ہے-

    واضح رہے کہ چندریان تھری مشن 14 جولائی کو ریاست آندھرا پردیش سے روانہ ہوا تھا اور یہ 40 دن کے طویل سفر کے بعد اترنے کی کوشش کررہا ہے۔

    زمبابوے کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ہیتھ اسٹریک انتقال کر گئے

  • میٹا کا ناروے کی عدالت سے پرائیویسی جرمانہ ختم کرنے کا مطالبہ

    میٹا کا ناروے کی عدالت سے پرائیویسی جرمانہ ختم کرنے کا مطالبہ

    میٹا پلیٹ فارمز نے ناروے کی ایک عدالت سے اس جرمانے کو روکنے کے لیے کہا ہے جو ملک کے ڈیٹا ریگولیٹر نے فیس بک اور انسٹاگرام کے مالک پر صارف کی رازداری کی خلاف ورزی کرنے پر عائد کیا ہے جبکہ 14 اگست سے پر یومیہ 1 ملین کراؤن ($94,313) جرمانہ عائد کیا گیا ہےکیونکہ وہ صارف کا ڈیٹا اکٹھا کرنے اور ان پر اشتہارات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیںجسے رویے کی تشہیر کہا جاتا ہےجو بگ ٹیک کے لیے عام ہے۔

    جبکہ کمپنی اس حکم کے خلاف ایک عارضی حکم امتناعی مانگ رہی ہےجو 3 نومبر تک روزانہ جرمانہ عائد کرتا ہے علاوہ ازیں میٹا نے پہلے ہی (صارفین سے) رضامندی طلب کرنے کا عہد کر رکھا ہےکمپنی کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل کرسچن ریش نے منگل کو عدالت کو بتایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    ناروے کے ڈیٹا ریگولیٹر نے 14 جولائی کو میٹا کو بتایا کہ کمپنی کو جرمانہ کرنے کا ارادہ ہے جب تک کہ میٹا نے اصلاحی کارروائی نہ کی۔ ریگولیٹر 7 اگست کو جرمانے کے ساتھ آگے بڑھا۔ اور پھر 1 اگست کومیٹا نے کہا کہ اس نے آئرلینڈ میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹر میں اپنے لیڈ ریگولیٹر کے جنوری کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئےطرز عمل کی تشہیر کی اجازت دینے سے پہلے یورپ میں صارفین سے رضامندی طلب کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جبکہ ریاؤسچ نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ڈیٹاٹیلسی نیٹ نے ایک تیز عمل کا استعمال کیا جو غیر ضروری تھا اور اس نے کمپنی کو جواب دینےکے لیے کافی وقت نہیں دیا۔

  • روس کا  لیونا 25 مشن آخری لمحات میں چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ

    روس کا لیونا 25 مشن آخری لمحات میں چاند کی سطح سے ٹکرا کر تباہ

    ماسکو: روس کی جانب سے چاند تک روانہ کیے جانے والا لیونا 25 مشن آخری لمحات میں قمری سطح سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : 1976 یعنی 50 برس کے بعد روس نے ایک جدید خلائی جہاز چاند پر روانہ کیا تھا جس نے پہلے چاند کے گرد مدار میں چکر کاٹے اسے چاند کے ایک گڑھے کے قریب اترنا تھا جس کا نام بوگیوسلوفسکی کریٹر ہے جو قمری قطبِ جنوبی پر موجود ہے۔

    اپنے آخری سفر سے قبل اس نےچاند کی شاندار تصاویر زمین پر بھیجی تھیں فی الحال اس کی شاندار تصاویر میں زمین اور دیگر اجرام کو دیکھا جاسکتا ہے 800 کلوگرام وزنی لیونا 25 کو گزشتہ جمعے کو خلا میں روانہ کیا گیا تھا اس کے بعد دھیرے دھیرے وہ چاند کی جانب بڑھااس کے اہم مشن میں چاند پر پانی کی تلاش شامل تھی لیکن مٹی کی ساخت کی کیمیائی آزمائش اور نمونے جمع کرنے کا کام بھی اس کے ذمے تھا۔

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز مشن قابو سے باہر ہوگیا، پھر اس کا رابطہ منقطع ہوا اور خیال ہے کہ اس کے بعد وہ مدار سے بھٹک کر چاند سے جا ٹکرایا ہے روسی خلائی ایجنسی کا کہنا تھا کہ چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن لونا 25 میں غیرمعمولی ایمرجنسی صورتحال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں روسی خلائی ایجنسی کےمطابق آپریشن کے دوران خودکار اسٹیشن پر ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی، چاند کی سطح پر اتر نے سے پہلے ایمرجنسی صورتحال کا پتاچلا ہے ماہرین لونا 25 میں پیش آنے والی ایمرجنسی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں-

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں سمندری طوفان نے تباہی مچا دی

    روس کا لونا 25 لینڈر مشن سوویت دور کے بعد چاند پر خلائی جہاز اتارنے کی ملک کی پہلی کوشش ہے، آخری قمری لینڈر، لونا 24، 18 اگست 1976 کو چاند کی سطح پر اترا تھا،10 اگست کو روس کے امور اوبلاست میں ووسٹوچنی کاسموڈروم سے لانچ کیا گیا خلائی جہاز سویوز-2 فریگیٹ راکٹ پر سوار ہو کر گاڑی کو چاند کے تیز سفر پر لے گیالونا 25 نے تیز رفتاری کے باعث بھارت کے چندریان 3 قمری لینڈر کو پیچھے چھوڑدیا، جو کہ جولائی کے وسط میں چاند پر جانے کیلئے لانچ ہوا تھا۔

    ایڈُوبی کے شریک بانی چل بسے

  • ایڈُوبی کے شریک بانی چل بسے

    ایڈُوبی کے شریک بانی چل بسے

    ٹیکنالوجی انڈسٹری میں ایک اہم مقام رکھنے والی شخصیت اور ایڈُوبی کے شریک بانی جان وارنوک 82 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں جبکہ یہ اعلان کمپنی کے ایک باضابطہ بیان کے ذریعے کیا گیا ہے جس میں ایک ایسے شخص کے کھو جانے کا انکشاف ہوا جس نے ٹیکنالوجی کے دائرے کو بہت متاثر کیا اور ویڈیوز اور تصاویر کی دنیا کو خوبصورت رنگ دیا اور نکھارا.

    تاہم عالمی ادارے کی خبر کے مطابق ابھی تک وارنک کے انتقال کی پوری وجہ ظاہر نہیں کی گئی ہے لیکن ایڈُوبی کے سی ای او نے کمیونٹی اور پوری صنعت کے اجتماعی دکھ کا اظہار کیا ہے،

    ایڈُوبی کے سی ای او نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جان وارنوک کا کام کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اسے کمیونٹی اور انڈسٹری کے لیے ایک افسوسناک دن قرار دے دیا جارہا ہے کیونکہ آج وہ ہمارے ساتھ موجود نہیں ہیں،
    1982 میں چارلس گیسچکے کے ساتھ مل کر ایڈُوبی کی بنیاد رکھنے کے بعد جان وارنوک نے اس کام میں متاثر کن کام سرانجام دیا جبکہ ان کے تعاون نے ڈیجیٹل جدت طرازی کی رفتار کو نمایاں طور پر تشکیل دیا اور اسے نمایاں کیا.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی

    تاہم واضح رہے کہ 2000 میں اپنی ریٹائرمنٹ تک سی ای او کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے ہوئے وارنک نے 2017 تک گیسچکے کے ساتھ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے اہم کردار ادا کیا تھا تاہم اس کے بعد انہوں نے عمر کے تقاضے کی بدولت ریٹائرڈ ہونے کا فیصلہ کیا اور خیر بعد کہہ دیا.