Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    لوگ کن افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں،سائنسدانوں کا دلچسپ انکشاف

    سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ بنیادی طور پر لوگ ایسے افراد سے رومانوی تعلق قائم کرنا پسند کرتے ہیں جو شخصیت کے لحاظ سے ان سے ملتے جلتے ہوں۔

    باغی ٹی وی: امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہر شادی شدہ جوڑے کی زندگی میں کافی کچھ مشترک ہوتا ہے، کچھ کے تو چہرے بھی ایک دوسرے سے ملنے جلنے لگتے ہیں،کولوراڈو یونیورسٹی کی تحقیق میں 80 ہزار کے قریب جوڑوں کی 133 عادات کا تجزیہ کیا گیا۔

    ماہرین نے 22 خصائص پر انسانی مرد-خواتین پارٹنر کے ارتباط کے منظم جائزے اور بے ترتیب اثرات کے میٹا تجزیے کیے جن کا عام طورپرماہرین نفسیات،ماہرین معاشیات، سماجیات، ماہر بشریات، وبائی امراض کےماہرین اورجینیاتی ماہرین نےمطالعہ کیا ScienceDirect، PubMed اور Google Scholar کا استعمال کرتے ہوئے شریک والدین، منگنی شدہ جوڑوں، شادی شدہ جوڑوں اور/یا ساتھ رہنے والے جوڑوں کے 199 ہم مرتبہ جائزہ شدہ مطالعات سے 480 پارٹنر ارتباط کو شامل کیا جو 16 اگست 2022 کو یا اس سے پہلے شائع ہوئے تھے۔

    جی 20 اجلاس،بائیڈن پہنچیں گے آج بھارت،دہلی کی عوام کیلئے مشکلات

    جرنل نیچر ہیومین بی ہیوئیر میں شائع تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جوڑوں کی 82 سے 89 فیصد تک عادات لگ بھگ ایک جیسی ہوتی ہیں، محض 3 فیصد عادات نمایاں حد تک مختلف ہوتی ہیں اس تحقیقی ٹیم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کام کیا تھا مگر اس وقت لاکھوں جوڑوں کی 22 عادات کا جائزہ لیا گیا تھااب اس تحقیق کو آگےبڑھایا گیا اورنتائج سےمعلوم ہوا ہےکہ جوڑوں کے سیاسی اور مذہبی نظریات، تعلیمی لیول اور آئی کیو کافی حد تک ملتے جلتے ہوتے ہیں۔

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا کہ جوڑے ہر پہلو سے ایک دوسرے جیسے نہیں ہوتے، قد، وزن، طبی مسائل اور شخصی عادات میں کسی حد تک فرق ہوتا ہے گھر سے باہر زیادہ گھومنا پھرنا پسند کرنے والے افراد اپنی جیسی فطرت کے حامل شریک حیات کو پسند نہیں کرتے یہ بالکل کسی سکے کے 2 رخ جیسا معاملہ ہے، یعنی سکہ تو ایک ہوتا ہے مگر اوپر اور نیچے کچھ فرق ہوتا ہے۔

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ماہرین کے مطابق جب ہم کسی کو پسند کرتے ہیں اور وہ شخصی اعتبار سے ہم سے بالکل مختلف ہو تو وہ تعلق اکثر کمزور ہوتا ہے اور جلد ٹوٹ جاتا ہےاس کی مثال یہ ہے کہ اگرکوئی صبح جلد جاگنےوالا فرد کسی رات گئے تک جاگنے والے کو پسند کرتا ہے تو ان کا تعلق ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا ہےجوڑوں کا ایک دوسرے جیسا ہونے کا اثر آنے والی نسلوں میں بھی منتقل ہوتا ہے، یعنی سماجی اور دیگر عادات بھی آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جاتی ہیں۔

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن …

  • 2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین سال ثابت

    سائنسدانوں کے مطابق سال 2023 کا موسم گرما تاریخ کا گرم ترین ثابت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: یورپی یونین کے موسمیاتی ادارے کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس Copernicus Climate Change Service کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا گیا کہ 1940 سے موسمیاتی ریکارڈ کو مرتب کیا جا رہا ہے مگر جون سے اگست 2023 کے دوران دنیا کا درجہ حرارت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ دیکھنے میں آیا،جون سے اگست کے دوران اوسط عالمی درجہ حرارت 16.77 ڈگری سینٹی گریڈ رہا جو 1990 سے 2020 کی اوسط کے مقابلے میں 0.66 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

    یہ پہلا سائنسی ڈیٹا ہے جس میں یہ اس خیال کی تصدیق کی گئی کہ 2023 میں شمالی نصف کرے میں گرمی کی شدت بہت زیادہ رہی اس سے قبل جون اور پھر جولائی کو تاریخ کے گرم ترین مہینے قرار دیا گیا تھا بشمول ریاست ہائے متحدہ امریکہ، یورپ اور جاپان کے کچھ حصے ،ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں اور سمندر کے بے مثال درجہ حرارت کے ساتھ-

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    نئی رپورٹ کے مطابق اگست میں بھی درجہ حرارت گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ رہا بلکہ 2023 کے ہر مہینے (جولائی کے علاوہ) سے زیادہ رہا اگست کے دوران عالمی سطح پر اوسط درجہ حرارت 16.38 ڈگری سینٹی گریڈ رہا اور اگست 2016 میں قائم ہونے والے ریکارڈ کو 0.31 ڈگری سینٹی گریڈ کے فرق سے توڑ دیا جولائی اور اگست دونوں مہینوں میں درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔

    خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا سائنسدانوں کی جانب سے عرصے سے انتباہ کیا جا رہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنا ضروری ہے۔

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن …

    ابھی ایسا مستقل طور پر تو نہیں ہوا مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ عارضی طور پر درجہ حرارت کے اس حد تک پہنچنے سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں دنیا میں موسم گرما کیسا ہو سکتا ہے جنوبی نصف کرے میں جون سے اگست کے دوران موسم سرما ہوتا ہےمگر اس سال جنوبی نصف کرے کے متعدد ممالک میں موسم سرما کے دوران درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    کوپرنیکس کے اعداد و شمار کے بارے میں ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، انتونیو گوٹیرس نے کہا سائنسدانوں نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہے کہ ہمارے جیواشم ایندھن کی لت کیا پیدا کرے گی ہماری آب و ہوا اس سے زیادہ تیزی سے پھوٹ رہی ہے جس سے ہم کرہ ارض کے ہر کونے کو مارنے والے شدید موسمی واقعات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

    میرے بیٹے ایلون مسک کو قتل کیا جا سکتا ہے،ایرول مسک

    یورپی موسمیاتی ادارے کے مطابق جون سے اگست کے دوران سمندری سطح کا اوسط عالمی درجہ حرارت بھی بہت زیادہ رہا، جس کے باعث بحر اوقیانوس اور بحر الکاہل میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوا جولائی سے اگست کے اختتام تک روزانہ سمندری درجہ حرارت 2016 میں قائم ہونے والے ریکارڈ سے زیادہ رہا 2023 تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہوتا ہے یا نہیں، یہ تو ابھی واضح نہیں، مگر ایسا ممکن نظر آتا ہے ابھی 2023 کو تاریخ کا دوسرا گرم ترین سال خیال کیا جا رہا ہے، مگر وہ 2016 سے محض 0.01 ڈگری سینٹی گریڈ پیچھے ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت 2016 کا دنیا کا گرم ترین سال قرار دیا جاتا ہے سائنسدانوں کے مطابق 2024 رواں سال سے بھی زیادہ گرم ثابت ہوگا کیونکہ ایل نینو کے اثرات زیادہ واضح ہو جائیں گے۔

    ایشیا کپ:تمام میچز پاکستان میں نہ کرانے کی بڑی وجہ براڈ کاسٹرز کی ہچکچاہٹ تھی، …

  • ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ہمارے نظام شمسی میں زمین جیسے سیارے کا انکشاف

    ٹوکیو: ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : زمین جیسے سیاروں کی تلاش علمِ فلکیات اور سیاروں کا ایک بنیادی پہلو ہے سائنس دان ایسے سیاروں کو تلاش کرنے کے لیے انتہائی جدوجہد کر رہے ہیں جہاں زندگی کے لیے سازگار حالات موجود ہوں اور اب یہ جدوجہد رنگ لارہی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق سائنسدانوں کی مسلسل کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کیونکہ ماہرین فلکیات نے حال ہی میں ہمارے نظام شمسی کے اندر زمین سے ملتے جلتے ایک سیارے کے امید افزا شواہد دریافت کیے ہیں جو ممکنہ طور پر سیارہ نیپچون سے آگے کے مدار میں واقع ہے۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان

    یہ کھوج جاپان کے شہر اوساکا میں کنڈائی یونیورسٹی کے محقق پیٹرک صوفیا لکاوکا اور ٹوکیو میں جاپان کی قومی فلکیاتی رصد گاہ کے ماہر فلکیات تاکاشی ایتو کی تحقیق کا نتیجہ ہے۔

    آسٹرونومیکل جریدے میں شائع ہونے والی تحقیق میں محققین نے لکھا کہ ہم زمین جیسے سیارے کے وجود کی پیش گوئی کررہے ہیں ایک ابتدائی سیاروں کا جسم دور دراز کوائپر بیلٹ (نیپچون سے بھی آگے مدار) میں کوئپر بیلٹ سیارے (KBP) کے طور پر موجود ہو سکتا ہے کیونکہ ابتدائی نظام شمسی میں بہت سے ایسے سیارے موجود تھے۔

    برکینا فاسو میں شدت پسندوں کا حملہ،53 افراد ہلاک،30 زخمی

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ نیپچون سے آگے کوئپر بیلٹ کی مداری ساخت کے بارے میں مزید تفصیلی علم بیرونی نظام شمسی میں کسی فرضی سیارے کے وجود کو یا تو ثابت کردے گا یا مسترد کر سکتا ہے۔

    محققین لکھتے ہیں اختتام میں، کوائپر بیلٹ سیارے کے منظر نامے کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ نظام شمسی میں ابھی تک دریافت نہیں کیا گیا ہے،سائنس دانوں کا خیال ہے کہ نظریاتی سیارے کا مدار ممکنہ طور پر اسے سورج سے 250 اور 500 فلکیاتی اکائیوں (AU) کے درمیان رکھے گا۔

    محققین کا خیال ہے کہ کوئپر بیلٹ کے قریب کسی سیارے کی شناخت سیارے کی تشکیل اور ارتقاء کے عمل کے بارے میں تازہ بصیرت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جس سے مطالعہ کے اس شعبے میں نئی ​​رکاوٹیں اور تناظر پیش کیے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا

  • چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن سکتے ہیں

    چینی کمپنی نے فولڈ ایبل اسمارٹ فون پیش کر دیا جسے پرس کی طرح پہن سکتے ہیں

    بیجنگ: چینی سمارٹ فون فرم آنر نے ایک تصوراتی سمارٹ فون کی نقاب کشائی کی جسے ہینڈ بیگ کی طرح پہنا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چینی کمپنی آنر نے دنیا کا پہلا اسمارٹ فون پیش کردیا ہے جو دور سے دیکھنے پر ایک ڈجیٹل پرس یا ہینڈ بیگ دکھائی دیتا ہے اسے آنروی پرس کا نام دیا گیا ہے جو فولڈ ہونے والا اسمارٹ فون بھی ہے، پہلی مرتبہ اسے برلن کے آئی ایف اے 2023 ٹیکنالوجی میلے میں پیش کیا گیا ہےکانسیپٹ فون فروخت نہیں کیا جائے گا لیکن یہ واضح ہے کہ آنر، چینی ٹیک کمپنی ہواوے کی طرف سے ایک اسپن آف، دنیا کو یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ کیا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے-

    ڈیوائس، جسے آنر وی پرس کہتے ہیں، ایک اسمارٹ فون ہے جو باہر کی طرف ایک اوپری پٹی کے ساتھ فولڈ ہوتا ہے جس میں کیمرہ ہوتا ہے ہینڈ بیگ کے پٹے کے لئے ہکس ہیں جو اس کےساتھ منسلک ہوسکتے ہیں ڈیوائس پر ڈسپلے کو اپنی مرضی کے مطابق بنایا جا سکتا ہے تاکہ ایسا لگے کہ آپ مختلف بیگ پہنے ہوئے ہیں کندھے پر لٹکانے کے فون کے کنارے سے ایک مضبوط زنجیر باندھی گئی ہے جس کا ڈیزائن ایک کلک سے تبدیل ہوجاتا ہے۔

    ایشیا کپ:تمام میچز پاکستان میں نہ کرانے کی بڑی وجہ براڈ کاسٹرز کی ہچکچاہٹ تھی، …


    اس کی ایک جانب بہت واضح اور روشن ڈسپلے ہے جسے چھوکر آپ اپنے پسندیدہ ڈیزائن کو ظاہر کرسکتے ہیں اسے مصروف خواتین کے لیے تیار کیا گیا ہے جو وسیع ڈسپلے کا اسمارٹ فون پسند کرتی ہیں اور اسے بار بار استعمال بھی کرتی ہیں،کمپنی نے بتایا ہے کہ وہ خواتین کے لیے پہنے جانے والے فون بنارہی ہے جو ان کا اظہار بن سکے اور زندگی میں شامل ہوسکے۔

    وی پرس اسمارٹ فون سیاہ، ریشمی کالے، جامنی اور سنہرے رنگوں میں دستیاب ہے جس کا وزن 231 گرام ہے۔ اس کے کنارے پر ٹائٹانیئم دھات سے حاشیہ بنایا گیا ہے جبکہ اوایل ای ڈی پر مشتمل ڈسپلے ہے۔ مکمل کھلنے پر اس کا ڈسپلے 145 ملی میٹر سے کچھ زائد ہوجاتا ہے اسکرین ریزولوشن 2344 × 2156 اور ویڈیو ریزولوشن 2160×3840 بتائی گئی ہے،کاندھےپر لٹکانے والی پٹی کو آپ اپنی ضرورت کے لحاظ سے بدل سکتے ہیں جن میں زنجیر، پٹے اور کپڑے کی پٹیاں بھی شامل ہیں۔

    سعودی عرب کا تیل کی یومیہ پیداوار میں مزید توسیع کا اعلان


    واضح رہے کہ آنردرحقیقت ہواوے کی نجی کمپنی ہے جس نے اپنے پرس فون کی تاریخ اور قیمت کے متعلق تفصیلات نہیں دی ہیں،ممکنہ طور پر مہنگی ڈیوائس کو عوام میں پہننا اور اسے بہت زیادہ دکھائی دینا بہت سے لوگوں کو پسند نہیں آسکتا اور اگر اسکرین آپ کے ساتھ لٹک رہی ہے تو اس کے گرنے اور ٹوٹنے کا خطرہ زیادہ ہے۔

    عمران خان کی گرفتاری کے معاملے پر گہری نظر ہے،امریکا


    لیکن فیشن اور ٹیکنالوجی تیزی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اسمارٹ واچز اس کی ایک مثال ہیں ایپل اور سام سنگ جیسے ڈیوائس بنانے والے اپنی مرضی کے مطابق پٹے اور ڈیوائس کا چہرہ تبدیل کرنے کی صلاحیت پیش کر رہے ہیں اگرچہ اس بات کا امکان ہے کہ ڈیوائس کو اس شکل میں کبھی ریلیز نہیں کیا جائے گا، آنر ایک چیز دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ ایک اعلیٰ درجے کا سمارٹ فون بنانے والا ہے جو ایپل اور سام سنگ کے ساتھ مارکیٹ کے پریمیم اینڈ میں جدت اور مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔

    میرے بیٹے ایلون مسک کو قتل کیا جا سکتا ہے،ایرول مسک

  • موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض  سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    موسمیاتی تبدیلیاں پھیپھڑوں کے امراض سے متاثرافراد کیلئے خطرہ بڑھا رہی ہیں،تحقیق

    ایک نئی طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ سے متاثر افراد کے لیے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی: اس سال دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافے کے نئے ریکارڈز دیکھنے میں آئے ہیں،محققین نے بتایا کہ لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ خود کو موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے اقدامات کر سکیں۔

    سانس کے ماہرین نے یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق فضائی آلودگی کے لیے اپنی ریگولیٹری حدود کو کم کرے،انہوں نے کہا کہ ہمیں مریضوں کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کی ضرورت ہے،ایک اندازے کے مطابق فضائی آلودگی نے 2019 میں عالمی سطح پر 6.7 ملین اور یورپ میں 373,000 افراد کی جان لے لی ہے، جس میں گرین ہاؤس گیسز اور فضائی آلودگی ایک جیسے ذرائع میں سے بہت سے شریک ہیں۔

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جرنل European Respiratory میں شائع تحقیق میں بتایا گیاکہ پھیپھڑوں کے امراض جیسے دمہ اور chronic obstructive pulmonary disease (سی او پی ڈی) کے شکار افراد کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے،ہیٹ ویوز، جنگلات میں آتشزدگی اور سیلاب وغیرہ جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے لیے سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہر فرد کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے مگر نظام تنفس کے امراض کے شکار مریضوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوگا،جن افراد کو پہلے ہی سانس لینے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، ان کی علامات موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مزید بدتر ہو جائیں گی۔

    2 افراد دیوار چین میں سوراخ کرنے پر گرفتار

    محققین نے بتایا کہ فضائی آلودگی پہلے ہی پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب موسمیاتی تبدیلیاں بھی نظام تنفس کے امراض کے شکار افراد کے لیے بڑا خطرہ بن گئی ہیں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جبکہ ہیٹ ویوز، خشک سالی، جنگلات میں آتشزدگی اور دیگر شدید موسمیاتی اثرات کے باعث فضا میں نمی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی میں ماحولیاتی وبائی امراض کی پروفیسر اور اس رپورٹ کی مصنفہ زورانا جووانووک اینڈرسن نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ہر کسی کی صحت کو متاثر کرتی ہیں، لیکن دلیل کے طور پر، سانس کے مریض سب سے زیادہ خطرے کا شکار ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیں پہلے ہی سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے اور وہ ہماری بدلتی ہوئی آب و ہوا کے لیے بہت زیادہ حساس ہیں۔ ان کی علامات بدتر ہو جائیں گی، اور کچھ کے لیے یہ جان لیوا ثابت ہو گا۔

    ڈائنا سور کے قدموں کے11 کروڑ سال پرانے پیروں کے نشانات دریافت

  • جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان بھی چاند پر مشن بھیجنے کے لیے تیار

    جاپان نے بھی چاند پر خلائی مشن چاند پر بھیجنے کااعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: جاپانی مشن کو اگست کے آخر میں لانچ کیا جانا تھا مگر خراب موسم کے باعث ایسا نہ ہو سکا، اب یہ 7 ستمبر 2023 کو روانہ ہوگا، اسمارٹ لینڈر فار انویسٹی گیٹنگ مون (سلم) نامی یہ مشن چھوٹے اسپیس کرافٹ پر مشتمل ہوگا جس کا وزن 200 کلوگرام ہے، اس مشن کا بنیادی مقصد منتخب کردہ لینڈنگ کے مقام کے 1 00 میٹر کے اندر پن پوائنٹ لینڈنگ کی صلاحیت کا اظہار کرنا ہے، جس کے ساتھ چاند کی لینڈنگ جنوری 2024 سے شروع ہوگی۔

    جاپان امریکہ، سابق سوویت یونین، چین اور اب ہندوستان کے بعد چاند پر اترنے والا پانچواں ملک بن جائے گا۔ اس ماہ ہندوستان کے چندریان -3 چاند کی تلاش کے مشن کی کامیابی جاپان کے خلائی مشنوں میں حالیہ ناکامیوں سے متصادم ہے-

    مودی حکومت کا آئین میں "انڈیا” کا نام تبدیل کرنے کا فیصلہ

    جاپانی حکام کے مطابق ابھی تو جہاں آسانی محسوس ہوتی ہے خلائی مشن کو لینڈ کیا جاتا ہے، مگر اس مشن سے ہم یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ہم جہاں چاہے چاند پر لینڈ کر سکتے ہیں یہ چندریان 3 مشن کی سافٹ لینڈنگ تکنیک سے کچھ مختلف ہے،یہ ایک موثر کیمیکل پروپلشن سسٹم کا استعمال کرتا ہے اور اس میں چھوٹے الیکٹرانک آلات شامل ہیں،اس سال تک SLIM کی مجموعی ترقی پر تقریباً 15 بلین ین ($102 ملین) لاگت آئی ہے۔ بھارت نے تقریباً 75 ملین ڈالر کے بجٹ سے اپنا لینڈر لانچ کیا۔

    جے جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی (جے اے ایکس اے) کے مطابق پن پوائنٹ لینڈنگ ٹیکنالوجی سے ہم سائنسی طور پر زیادہ اہم مقامات کے قریب اسپیس کرافٹ کو اتار سکیں گے اس مقصد کے حصول سے دیگر سیاروں پر لینڈ کرنا بھی ممکن ہو جائے گا جاپانی مشن کو چاند کے استوائی خطے کے ایک چھوٹے گڑھے Shioli کے قریب اتارنے کی کوشش کی جائے گی یہ پہلی بار ہے جب جے اے ایکس اے کی جانب سے چاند پر مشن بھیجا جا رہا ہے۔

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ:بھارت نے اپنے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا

    اس سے قبل ایک نجی جاپانی کمپنی نے کچھ ماہ قبل چاند پر مشن روانہ کیا تھا مگر وہ لینڈنگ میں ناکام رہا تھا جاپانی مشن کے لیے کسی طاقتور راکٹ پر انحصار نہیں کیا جائے گا بلکہ یہ چندریان 3 مشن کی طرح پہلے زمین کے مدار میں داخل ہوگا اور پھر چاند کی جانب روانہ ہوگا اس مشن کو چاند کے مدار میں داخل ہونے میں 4 سے 6 ماہ کا عرصہ لگے گا۔

  • وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    وٹامن سپلیمنٹس پھیپھڑوں کےکینسربڑھنےاورپھیلنےکاسبب بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن سی اور ای کی گولیاں لینا پھیپھڑوں کے کینسر بڑھنے اور پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چوہوں میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، وٹامن سی اور ای جیسے اینٹی آکسیڈنٹ سپلیمنٹس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر بڑے ہو سکتے ہیں اور ٹیومر کے اندر خون کی نالیوں کی تشکیل کو تحریک دے کر پھیل سکتے ہیں سوئیڈش سائنس دانوں کے مطابق وہ افراد جو کسی بھی قسم کے کینسر میں مبتلا ہیں ان کو اپنی میں غذا میں کسی قسم کی تبدیلی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    محققین کے مطابق وٹامن سی اور ای سے بھرپور صحت مند غذا کے علاوہ سپلیمنٹ کا لینا کینسر کا مرض پھیلنے کا سبب بن سکتا ہے جرنل آف کلینکل انویسٹیگیشن میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے کینسر میں مبتلا چوہوں کو اضافی وٹامن دیے جو وہ اپنی غذا میں پہلے ہی حاصل کر رہے تھے چوہوں میں جتنی زیادہ وٹامن کی مقدار تھی، کینسر کی رسولیوں میں اتنی زیادہ خون کی نئی شریانیں بن رہیں تھیں جو ممکنہ طور پر بیماری کےبڑھنے اور پھیلنےکا سبب ہوسکتی ہے،انہوں نے چوہوں کے پانی کو وٹامن سی کے ساتھ ملایا، جو جانور قدرتی طور پر پیدا کرتے ہیں، اور وٹامن ای اور این ایسٹیل سسٹین، جو وہ اپنی خوراک سے حاصل کرتے ہیں۔

    فرانس میں ڈسپوزایبل ویپس پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

    کیرولِنسکااِنسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف ڈاکٹر مارٹن برگو کا کہنا تھا کہ آج کل بہت سے لوگ جو صحت مند خوراک لیتے ہیں، کچھ سپلیمنٹ کھاتے ہیں اور پھر شاید اسموتھی بھی پیتے ہیں اگر یہ سب بطور غذا لیا جائے تو آپ کی وٹامن کی کھپت اتنی ہوتی ہے جس کے متعلق تحقیق میں بتایا گیا ہے وٹامن انسانی صحت کے لیے انتہائی اہم شے ہے اگر غذاؤں سے تمام اینٹی آکسیڈنٹ نکال لیں آپ متعدد وجوہات سے بیمار ہوسکتے ہیں جیسے کہ وٹامن کی کمی وغیرہ اور یہ کینسر پر اثر ڈالتا ہے۔

    ایک محقق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس حالت میں مبتلا افراد کو اپنی خوراک میں ان اینٹی آکسیڈنٹ سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، لیکن سپلیمنٹس کے ذریعے ضرورت سے زیادہ حاصل کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔

    سلطان النیادی کا خلا میں اپنا چھ ماہ کا تاریخی مشن مکمل

  • جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    جیمز ویب:سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات

    واشنگٹن: ماہرین فلکیات نے زمین سے 1 لاکھ 68 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود زیر مطالعہ سُپر نووا کے اندرونی سانچے کے متعلق نئے انکشافات کئے ہیں یہ معلومات ستاروں کے دھماکے سے پھٹنے کے متعلق مزید معموں کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی: 1987 میں دریافت ہونے والے سُپر نووا ایس این 1987 اے کا مطالعہ سائنس دان پچھلی تین دہائیوں سے کر رہے ہیں سُپر نووا ستارے کا وہ طاقت ور دھماکا ہوتا ہے جو اس کی زندگی کے اختتام پر ہوتا ہےجب ستارہ 1987 میں عروج پر تھا، تو یہ تقریباً 400 سالوں میں زمین سے دیکھا جانے والا قریب ترین، روشن ترین سپرنووا تھا تاہم اب نئی سپر اسپیس ٹیلی سکوپ جیمز ویب ہمیں ایسی تفصیلات دکھا رہی ہے جو پہلے کبھی سامنے نہیں آئی تھیں۔

    SN1987A بڑے میجیلانک کلاؤڈ میں ہم سے محض 170,000 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جو ہماری اپنی کہکشاں سے متصل ایک بونی کہکشاں ہے ماہرین فلکیات اس چیز سے متوجہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ ایک پیچیدہ منظر پیش کرتا ہے کہ جب بڑے ستارے اپنے دن ختم ہوتے ہیں تو کیا ہوتا ہے-

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    ناسا کے مطابق تازہ ترین مشاہدوں میں سپر نووا کے مرکزی سانچے کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ چابی کے سوراخ جیسا دِکھنے والا یہ سانچہ دبیز گیس سے اور دھماکے سے خارج ہونے والی گرد سے بھرا ہوا ہے

    محققین کے مطابق یہ گرد اتنی گاڑھی ہے کہ جدید جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ بھی اس کے پار نہیں دیکھ سکتی اور یہی چیز چابی کے سوراخ جیسی شکل کا سبب بھی ہے۔یہ شکل اطراف میں موجود روشن چھلے اور دو بیرونی چھلوں کے سبب بھی وجود میں آتی ہے۔

    اطراف میں موجود اکوئیٹوریل رِنگ سپرنووا سے ہزاروں سال قبل خارج ہونے والے مادے سے بنا ہے۔ اس چھلے میں روشن ہاٹ اسپاٹ بھی موجود ہیں جو سپر نووا سے خارج ہونے والی شاک ویو ٹکرانے کے سبب وجود میں آئے ہیں۔

    امریکا کا یوکرین کوڈیپلیٹڈ یورینیم گولہ بارود فراہم کرنے کا فیصلہ

    اس سپر نووا کا کئی سالوں تک ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ اور اسپٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے مطالعہ کیا گیا لیکن جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی غیر معمولی صلاحیتیں وہ پوشیدہ حقائق سامنے لے کر آئیں جو اس سے قبل نہیں آسکیں تھیں۔

  • گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    گوگل میپس میں بڑی تبدیلی کر دی گئی

    دنیا کے مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی ہے۔

    باغی ٹی وی: گوگل کی مقبول ترین سروس میپس کو روزانہ کروڑوں افراد استعمال کرتے ہیں،اس سروس سے لوگوں کو مختلف مقامات کے راستوں کو سمجھنے یا وہاں تک پہنچنے میں مدد ملتی ہے،اب کمپنی کی جانب سے خاموشی سے گوگل میپس کے یوزر انٹرفیس میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہے۔

    اس تبدیلی کے باعث گوگل میپس سروس بیشتر افراد کو پہلے کے مقابلے میں مختلف نظر آنے لگے گی،اس اپ ڈیٹ کے ذریعے فون اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے گوگل میپس کے رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہےاب سڑکوں کے لیے گرے، پانی کے لیے سبزی مائل نیلے جبکہ پارکوں کے لیے نیلگوں مائل سبز رنگ استعمال کیا جا رہا ہے۔

    گلگت بلتستان میں پاک فوج کی تعیناتی کی خبریں اور قیاس آرائیاں بے بنیاد ہیں،وزیر …

    اس نئی تبدیلی کو بتدریج تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے اس سے پہلے گوگل میپس میں سڑکوں کے لیے پیلا جبکہ پانی کے لیے ذرا گہرا نیلا رنگ استعمال کیا جاتا تھا مگر اب رنگوں کو تبدیل کیا گیا ہے جس کے باعث صارفین کے لیےراستوں کو شناخت کرنا مشکل ہوگیا ہے یا کم از کم پانی اور پارک لگ بھگ ایک جیسے ہی محسوس ہوتے ہیں اس سروس کو ڈارک موڈ پر استعمال کر سکتے ہیں جس میں پرانا یوزر انٹرفیس ہی برقرار رکھا گیا ہے۔

    کچھ لوگ پاکستان کا خوبصورت چہرہ تباہ کرناچاہتے ہیں،نگران وفاقی وزیر برائے مذہبی امور

  • موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موبائل فون سے تیزی سے پھیلنے والا مرض نوموفوبیا کیا ہے؟

    موجودہ عہد میں موبائل فونز لگ بھگ ہر فرد کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں، مگر کچھ افراد کو ان ڈیوائسز کے باعث ایک عجیب مرض کا سامنا ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل بی ایم سی سائیکاٹری میں شائع ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں انحصار سنڈروم کی علامات کی نشوونما کا باعث بنتا ہے جو بالغوں کے مقابلے میں موبائل فون پر زیادہ انحصار کرتے ہیں کوویڈ وبائی مرض نے معاشرے کے متعدد گروہوں خصوصاً یونیورسٹی کے طلباء کی ذہنی صحت پر اثر ڈالا ہے اس مطالعے کا مقصد یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون پر انحصار کے پھیلاؤ اور اس سے وابستہ عوامل کو تلاش کرنا تھا۔

    ماہرین نے ستمبر 2021 اور جنوری 2022 کے درمیان، اردن، لبنان، مصر، بحرین اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں آن لائن اور کاغذ پر مبنی خود زیر انتظام سوالنامے کا استعمال کرتے ہوئے ایک کراس سیکشنل مطالعہ کیا گیا،اس تحقیق میں یونیورسٹی کے کل 5,720 طلباء شامل تھے جن میں مصر کے 2813، سعودی عرب کے 1509، اردن کے 766، لبنان کے 432، اور بحرین کے 200 طلبا کو تحقیق میں شامل کیا گیا-

    روس نے جدید بین البراعظمی بیلسٹک میزائل سرحدوں پر نصب کر دیئے

    موبائل فون استعمال کرنے پر روزانہ کا اوسط تخمینہ 186.4 (94.4) منٹ تھا مصر سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے زیادہ سکور دیکھا گیا اور لبنان سے تعلق رکھنے والے یونیورسٹی کے طلباء کے لیے موبائل پر انحصار کا سب سے کم سکور دیکھا گیا۔ مطالعہ کے نمونے میں انحصار کا سب سے عام معیار خراب کنٹرول 55.6 فیصد تھا اور سب سے کم عام نقصان دہ استعمال 25.1 فیصد تھا خواتین اور جن کی اطلاع ہے کہ اضطراب کا مسئلہ ہے یا اضطراب کا علاج استعمال کرتے ہیں ان میں بالترتیب 15فیصد اور 75 فیصد موبائل فون پر انحصار بڑھنے کا زیادہ خطرہ تھا۔

    ماہرین نے تحقیق میں پایا کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کے عرب ممالک میں یونیورسٹی کے طلباء میں موبائل فون کا انحصار عام ہے موبائل فون پر انحصار کو کم کرنے کے لیے مفید اور نئے مشاغل اپنانے کی مستقبل کے مطالعے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    سونےکی کان سے سونا لے جانے والی ٹیم پر حملہ،دو چینی شہریوں سمیت 4 …

    تحقیق کے مطابق نو موبائل فون فوبیا (نو مو فوبیا) کی اصطلاح کا استعمال ایسی انزائٹی کے لیے کیا جاتا ہے جس کا سامنا کسی فرد کو اس وقت ہوتا ہے جب موبائل فون اس کی رسائی میں نہیں ہوتا، نو مو فوبیا سے موبائل فون کی لت کا اظہار ہوتا ہے،انزائٹی، غصہ، پسینے کا اخراج، سانس لینے کے انداز میں تبدیلیاں، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھ جانا اور اردگرد کے ماحول کا احساس ختم ہو جانا اس مرض کی علامات ہیں نوجوانوں میں نو مو فوبیا زیادہ عام ہے مگر ہر عمر کے افراد کو اس کا سامنا ہو سکتا ہے موبائل فونز پر بہت زیادہ انحصار کرنے کی وجہ سے لوگوں کو اس عارضے کا سامنا ہوتا ہے۔

    محققین کے مطابق موبائل فونز ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکے ہیں کیونکہ وہ منی (mini) کمپیوٹر کا کام کرتے ہیں جن سے ہم کہیں بھی اپنا کام کر پاتے ہیں اور خاندان سے بھی جڑے رہتے ہیں مگر جب ہم اچانک موبائل فونز سے محروم ہوتے ہیں تو ذہنی بے چینی کے شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ زندگی میں کچھ کم ہوگیا ہے خود اعتمادی کی کمی، جذباتی انتشار اور انزائٹی کے قریب پہنچ جانے والے افراد میں نو مو فوبیا سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

    امریکا نے متحدہ عرب امارات میں اپنا سفیر مقرر کر دیا

    محققین نے بتایا کہ جب کوئی فرد موبائل فون پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگتا ہے تو اس کی زندگی کے متعدد پہلوؤں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے نتیجے میں ان کی توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جبکہ روزمرہ کے کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر لوگ اس فوبیا سے بچنا چاہتے ہیں تو فارغ وقت میں موبائل فون کے بغیر رہنے کی کوشش کریں، اسی طرح روزانہ ایک گھنٹے کے لیے فون بند کر دیں یا فون کو گھر میں چھوڑ کر باہر نکل جائیں وقت گزارنے کے لیے نئے مشاغل کو اپنانے سے بھی فون پر انحصار کم ہوتا ہے۔