Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • شُترمُرغ کے 4000 سال  قدیم انڈے دریافت

    شُترمُرغ کے 4000 سال قدیم انڈے دریافت

    تل ابیب: ماہرین کو 4000 سال سے زائد پُرانا شترمرغ کا انڈہ ملا ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیل کے محکمہ آثار کے مطابق ریگستانی علاقے نگیوو میں ایک مقام پر شترمرغ کے ہزاروں برس قدیم انڈوں کی باقیات ملی ہیں اور اس کے پاس ہی آگ لگانے کے لیے بنایا جانے والا ایک گڑھا بھی ملا ہے۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں انسانوں نے عارضی پڑاؤ کیا تھا جو 200 مربع میٹر وسیع تھا یہاں سے گزرنے والے خانہ بدوشوں نے شترمرغ کے انڈوں کو پکا کر کھایا ہوگا کیونکہ ساتھ ہی آگ سے جھلسے ہوئے چھوٹے بڑے پتھر بھی ملے ہیں علاوہ ازیں شترمرغ کےشکستہ انڈے بھی پائے گئے ہیں جو سب سے اہم دریافت ہے انسانی تاریخ میں شترمرغ کے انڈے کے یہ قدیم ترین آثار ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے کوچ کرنے کے بعد ریگستانی مٹی نے تھوڑے ہی عرصے میں پوری جگہ پرایک دبیز چادر کی شکل اختیار کرلی تھی اور اب ہزاروں سال بعد اسے ماہرین نے دوبارہ دریافت کیا ہے-

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین…

    کھدائی کے ڈائریکٹر لارین ڈیوس نے کہا کہ ماہرین آثار قدیمہ نے پتھر کے اوزار اور مٹی کے برتنوں کے ٹکڑوں کا بھی پتہ لگایا، لیکن یہ کہ انڈے "واقعی خاص تلاش” تھے،19ویں صدی تک اس علاقے میں جنگلی شتر مرغ عام تھے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ اس خطے میں شترمرغ اسی طرح عام تھے جیسے آج گائے اور دیگر جانور پائے جاتے ہیں انیسویں صدی کے اوائل میں شترمرغ یہاں سے غائب ہوگئے تھے بعض انڈے بہت اچھی حالت میں ہیں جن کا بغورمطالعہ کیا جائے گا۔

    دوسری جانب قدیم انسانی حیات میں شترمرغ اور ان کے انڈوں کی اہمیت بھی سامنے آئی ہے۔ شترمرغ کے ایک انڈے میں مرغی کے 25 انڈوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے پھر اس میں زائد سفیدی اور زردی کی وجہ سے لوگ اسے پسند کیا کرتےہوں گے علاوہ ازیں انڈے کے خول کو آرائش اور دیگر امور میں بھی استعمال کیا جاتا تھا۔


    واضح رہے کہ عموماً آثارِ قدیمہ سے انڈے نہیں ملتے اور یوں یہ ایک اہم دریافت ہے۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

  • چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چین: لامحدود وقت تک ہوا میں رہنے والے لیزرڈرون کا تجربہ کامیاب

    چینی انجینیئروں نےڈرون ٹیکنالوجی میں ایک حیرت انگیز خاصیت پیدا کی ہے کہ وہ زمین سے پھینکی گئی لیزر سے توانائی بنا کر کئی ہفتے بلکہ کئی ماہ تک زمین پر اترے بغیر ہوا میں سفر کرسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی: شمال مغربی چین میں محققین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ اس نے ہائی انرجی لیزر بیم استعمال کرنے کا ایک طریقہ تیار کیا ہے، ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ انھیں ہمیشہ کے لیے ہوا میں رکھنے کے لیے۔

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    چین سمیت کئی ممالک ڈرون مخالف ہتھیاروں کے طور پر طاقتور لیزر سسٹم تیار کر رہے ہیں۔ لیکن چیان یانگ میں واقع نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنیکل یونیورسٹی (این پی یو) کے پروفیسر لی زیلونگ اور ان کے ساتھیوں نے ڈرون لیزر تعلقات کو دوسرے زاویے سے دیکھا۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج سے وابستہ ماہرین نے ریموٹ چارجنگ پر مبنی ڈرون بنائے ہیں جو لیزر سے چارج ہوتے رہیں گے اور ان میں بیٹری بدلنے یا چارج کرنےکی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    اس کے لیے ہر ڈرون کے نیچے فوٹولیکٹرک کنورٹرلگایا گیا ہے جو لیزر کی مدد سے قوت لیں گے اوربےتار انداز میں اپنےاندربجلی بھریں گے۔ تاہم اب بھی اس میں توانائی ضائع ہورہی ہے۔ لیزر سے بجلی بنانے کا عمل 50 سے 85 فیصد تک ہی مؤثر ہوتا ہ یعنی 100 فیصد میں سے اتنے فیصد بجلی ہی بنائی جاسکتی ہے۔ پھر جب یہ لیزر (ڈرون کے) کنورٹرپرپڑتی ہے تو اس میں مزید 50 فیصد کمی ہوسکتی ہے۔

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    تاہم 24 گھنٹے نگرانی کرنے والے ڈرون کے لیے یہ عمل قابلِ قبول ہے ہوسکتا ہے۔ لیزر شعاع کو ٹھیک فوٹوالیکٹرک کنورٹر پر مرکوز رکھنے کے لیے سائنسدانوں نے ’انٹیلی جنٹ وژول ٹریکنگ الگورتھم‘ بنایا ہے جو ہوا، دھند اور دیگر رکاوٹوں کا خیال بھی رکھتا ہے۔ یہ الگورتھم لیزر کو اپنے ہدف تک پھینکتا ہے۔

    نارتھ ویسٹرن پولی ٹیکنکل کالج کے سائنسدانوں نے ایک چھوٹا کواڈکاپٹرآزمایا ہے انہوں نے دن، رات، ایک ہال کے اندر اور کھلی فضا میں لیزر سے ڈرون اڑایا ہے جو لگ بھگ 10 میٹر کی بلندی تک گیا۔ اس پر فرش پر لگے ایک متحرک اسٹیشن سے لیزر ڈالی گئی تھی۔ تاہم ڈیزائن بہتر کرکے ڈرون کو مزید بلندی پر بھی لیزر سے چلایا جاسکتا ہے۔

    چینی سائنسدانوں کے مطابق اس کے عسکری اور شہری دونوں طرح کے لاتعداد استعمالات ہوسکتے ہیں۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

  • دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    دورانِ حمل خطرناک پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے والا خون کا ٹیسٹ

    بیجنگ: ماہرین کے مطابق حمل کی مہلک پیچیدگیوں کے ابتدائی اشاروں کی پیٹ میں ہوتی تبدیلیوں اور ایک خون کے ٹیسٹ کے ذریعے نشاندہی کی جاسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی:اسکریننگ ٹیسٹ کا نتیجہ نارمل ہو سکتا ہے اور اس مسئلے سے محروم ہو سکتا ہے جو موجود ہے۔ حمل کے دوران، خواتین کو عموماً یہ اسکریننگ ٹیسٹ پیش کیے جاتے ہیں تاکہ عورت یا اس کے بچے کے لیے پیدائشی نقائص یا دیگر مسائل کی جانچ کی جا سکے۔ قبل از پیدائش کی جانچ کے بارے میں آپ کو جو بھی خدشات ہیں اس کے بارے میں اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    چین کی نِنگبو یونیورسٹی کی جانب سے ایک نیا ٹیسٹ تیار کیا گیا ہے جس کی مدد سے پری ایکلیمپسیا (دورانِ حمل بلند فشار خون ہونا)، جیسٹیشنل ڈائبیٹیز (دورانِ حمل ہونے والی ذیابیطس) اور انٹرا ہیپٹک کولیسٹیسِس (دورانِ حمل ہونے والا جگر کا ممکنہ طورپرمہلک عارضہ) جیسی صورتوں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے۔

    نامعلوم وجوہات کے سبب حمل پیٹ کے بیکٹیریا کو متاثر کرتا ہے اور سائنس دانوں نے اس بات کو مزکورہ بالا حمل کی تینوں پیچیدگیوں کی نشاندہی کرنے کے لیے استعمال کیا ہے پری ایکلیمپسیا ہر سال تقریباً سات فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور رحمِ مادر میں 5 لاکھ سے زائد بچوں کی اموات کا سبب بنتی ہے۔

    جیسٹیشنل ڈائیبیٹیز تقریباً 10 فی صد حاملہ خواتین کو متاثر کرتی ہے اور بچوں کو ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرے سے دوچار کرتی ہے۔ جبکہ انٹرا ہیپٹِک کولیسٹیسِس تقریباً سات فی صد بچوں کی قبل از پیدائش اموات کا سبب بنتی ہے۔

    اگرچہ ان اسباب کے متعلق مکمل معلومات نہیں ہے لیکن مرض کی جلدی تشخیص اور علاج ان تینوں پیچیدگیوں کے زندگی بھر رہنے والے اثرات یا ماں یا بچے کو موت سے بچانے کے لیے اہم ہوسکتے ہیں۔

    تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر رونگ رونگ شوان کا کہنا تھا کہ محققین نے دورانِ حمل چھوٹی چین کے فیٹی ایسڈ کی تقسیم اور ان کا تین مخصوص حمل کی پیچیدگیوں کے درمیان تعلق دیکھا اور ان کا تجزیہ کیا۔

    انہوں نے بتایا کہ یہ فیٹی ایسڈ پیٹ میں قدرتی طور پر موجود بیکٹیریا کا ’میٹابولک پروڈکٹ‘ ہوتے ہیں اور ان کو حمل کی پیچیدگیوں کے ممکنہ اشاروں کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    تین سیکنڈ میں آواز نقل کرنے ولا سوفٹ ویئر

    مائیکرو سافٹ نے مصنوعی ذہانت پر مبنی ایک اے آئی سافٹ ویئر بنایا ہے جو صرف تین سیکنڈ تک کسی کی بھی آواز سن کر اس کی ہوبہو نقل بناتا ہے۔

    باغی ٹی وی: انسانی آواز نقل کرنے والے اس سافٹ ویئر کا نام وال ای، اے آئی رکھا گیا ہے اب یہ ماڈل ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ہے یعنی لکھے الفاظ کو آواز میں بدلتا ہے۔

    وائر اور بجلی کے بغیر چلنے والے ٹی وی تیار

    یہ دنیا میں کسی بھی شخص کی آواز کی نقل کرسکتا ہے جس کے لیے اسے تین سیکنڈ کی آڈیو فائل درکار ہوگی۔ تاہم مزید بہتری کے لیے قدرے طویل آڈیو فائل کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ سافٹ ویئر اس حد تک مؤثر ہے کہ یہ آواز کے زیروبم اور آواز کے جذباتی اتارچڑھاؤ کی بھی نقالی کرسکتا ہے۔

    وال ای سے کسی بھی شخصیت سے وہ الفاظ ادا کروائے ہیں جو اس نے کبھی نہیں کہے۔ اس سے جعلی آڈیوز اور فیک ریکارڈنگ کا ایک نیا سیلاب بھی آسکتا ہے اور طرح طرح کےمسائل جنم لےسکتے ہیں۔

    مائیکروسافٹ کےمطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی اس کے الگورتھم کو انگریزی زبان کی 60 ہزار گھنٹوں کی آواز پر تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ان میں کہانی سنانے والے اور کتاب پڑھنے والوں کی آواز بھی شامل ہیں۔

    جی میل میں سکیورٹی فیچر کا اضافہ

    تاہم ریکارڈ کی گئی آواز کے نمونے یا واٹس ایپ پیغامات پر اس کا معیار کچھ گرسکتا ہے تاہم اگر کوئی وال ای پر براہِ راست اچھے مائیک سے آواز ریکارڈ کرتا ہے تو سافٹ ویئر کےنتائج حقیقت سے قریب تر ہوتے ہیں۔

    آزاد تجزیہ نگاروں نے کہا ہے کہ مائیکروسافٹ کےدعووں کے برعکس سافٹ ویئر نے بہت واجبی صلاحیت دکھائی۔

    تاہم مائیکروسافٹ نے کہا ہے کہ اس کے کچھ فوائد بھی ہوسکتے ہیں۔ اگر کوئی فنکار فلم کی ڈبنگ درمیان میں چھوڑ کر کہیں اور مصروف ہوجاتا ہے تو اس کی ڈبنگ سافٹ ویئر سے کی جاسکتی ہے اس طرح کےچھوٹے امور وال ای اے آئی اچھی طرح نبھا سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل مائیکرو سافٹ مشہور مصوروں کی پینٹنگ کی نقل کرنے والا ایک اور پروگرام ڈیل ای بنا چکا ہے۔

    ٹک ٹاک کی نئے فیچر کی آزمائس

  • 2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں سمندر کے درجہ حرارت نے 2021 میں بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: دو درجن سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، سمندروں نے 2022 میں مسلسل چوتھے سال ریکارڈ پر اپنی گرم ترین سطح کو نشانہ بنایا۔ گرمی کے پچھلے ریکارڈ 2021، 2020 اور 2019 میں ٹوٹے تھے، اور پچھلے چھ سالوں میں سب سے اوپر چھ گرم ترین سطحیں واقع ہوئی ہیں دنیا جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے اس کی یہ ایک بُری علامت ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    بین الاقوامی محققین پرمشتمل ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ گزشتہ برس زمین کےسمندروں میں 10 زیٹا جولز(1021 یا 10 کے آگے 21 صفر)کے برابر گرمائش کا اضافہ ہوا۔

    یہ مقدار کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار 70 کروڑ 1.5 لیٹر حجم والی کیتلیوں کو ایک سال تک ہر سیکنڈ ابالنے کے لیے کافی ہے یا یہ توانائی ایک سال میں عالمی سطح پر بننے والے بجلی سے 100 گُنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے زمین کے سمندر کس بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس تحقیق میں دنیا بھرکے 16 اداروں کے 24 سائنس دانوں کیجانب سے سمندروں کے متعلق مشاہدات پیش کیے گئے۔

    یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف پروفیسر مائیکل مین کا کہنا تھا کہ انسانوں کی خارج کردہ کاربن سے پیدا ہونے والی تپش کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ جب تک ہم نیٹ زیرو اخراج تک نہیں پہنچ جاتے یہ تپش جاری رہے گی اور ہم سمندر کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑتے جائیں گے جیسے 2022 میں کیا گیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کے متعلق آگہی اور بہتر سمجھ موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ نیا ریکارڈ بدھ کے روز شائع ہوا، کچھ ہی دن بعد جب یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ 2022 سیارے کا پانچواں گرم ترین سال تھا۔ ایجنسی کے مطابق، سال 2016، 2020، 2019 اور 2017 سبھی ٹاپ فائیو میں بھی شامل ہیں یہ تمام سیاروں کی گرمی، سمندروں اور ماحول کے ایک طویل مدتی نمونے کا حصہ ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدان لیجنگ چینگ کی سربراہی میں سمندروں کی رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ 1958 کے بعد سے ہر دہائی جب سائنسدانوں نے پہلی بار سمندری حرارت کی قابل اعتماد پیمائش کو رکھنا شروع کیا آخری سے زیادہ گرم رہا ہے۔ اور وقت کے ساتھ گرمی میں تیزی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے، سمندر جس شرح سے گرمی کو ذخیرہ کرتا ہے اس میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

  • جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 2 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود ستاروں کے جھرمٹ کی تصویر لی ہے جس میں کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے جاری کی گئی NGC 346 نامی ستاروں کے اس مجمع کی تازہ ترین تصویر میں دراصل ستاروں کی 10 ارب سال پُرانی تصویر ہے۔


    سائنسدانوں کی جانب سے اس جھرمٹ، جو چھوٹےسےایک میگلینِک بادل میں موجود ہے، جس میں خصوصی طور پردلچسپی لی گئی ہے کیوںکہ یہ ابتدائی وقت کی کائنات سے مشابہ ہیں جب ستارہ سازی کا عمل اپنے عروج پر تھا۔

    ماہرینِ فلکیات پُر امید ہیں کہ اس خطے کا مزید مطالعہ ایسے مزید سوالات کے جوابات دے گا کہ بِگ بینگ سے صرف 2 یا 3 ارب سال بعد ’کوسمک نون‘ کے دوران ابتدائی ستارے کیسے وجود میں آئے۔


    اس تصویر کے حامل تحقیقی مقالے کی مصنفہ ڈاکٹر اولیویا جونز کے مطابق ایسا پہلی ہوا ہے کہ ماہرین کسی اور کہکشاں میں کم اور زیادہ حجم والے ستاروں کے بننے کے مکمل کو دیکھ سکتے ہیں۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس ہائی ریزولوشن پر مطالعے کے لیے بہت زیادہ ڈیٹا موجود ہے جو ہمیں اس متعلق نئی معلومات دے گا کہ ستاروں کے بننے سے ان کے ماحول کیسے وجود میں آئے اور اس سے زیادہ اہم ستارے بننے کے عمل کے متعلق بتائے گا۔

    جیسے جیسے ستارے بنتے ہیں، وہ گیس اور دھول جمع کرتے ہیں، جو ارد گرد کے سالماتی بادل سے ویب کی تصویر میں ربن کی طرح نظر آتے ہیں موادایک ایکریشن ڈسک میں جمع ہوتا ہےجو مرکزی پروٹوسٹارکوکھلاتا ہےماہرین فلکیات نے NGC 346 کے اندر پروٹوسٹار کے ارد گرد گیس کا پتہ لگایا ہے، لیکن ویب کے قریب اور مشاہدات نے پہلی بار ان ڈسکوں میں دھول کا بھی پتہ لگایا ہے۔

    تحقیقاتی ٹیم کے شریک تفتیش کار یورپی خلائی ایجنسی کے گائیڈو ڈی مارچی نے کہا کہ ہم عمارت کے بلاکس دیکھ رہے ہیں، نہ صرف ستاروں کے، بلکہ ممکنہ طور پر سیاروں کے بھی ،اور چونکہ چھوٹے میجیلانک کلاؤڈ کا ماحول کائناتی دوپہر کے دوران کہکشاؤں سے ملتا جلتا ہے، اس لیے یہ ممکن ہے کہ چٹانی سیارے کائنات میں اس سے پہلے بن چکے ہوں جتنا ہم نے سوچا ہوگا۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ٹیم کے پاس Webb کے NIRSpec آلے سے سپیکٹروسکوپک مشاہدات بھی ہیں جن کا وہ مسلسل تجزیہ کر رہے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ انفرادی پروٹوسٹارز کے ساتھ ساتھ فوری طور پر پروٹوسٹار کے آس پاس کے ماحول کے بارے میں نئی ​​بصیرت فراہم کریں گے۔

    یہ نتائج 11 جنوری کو امریکن ایسٹرانومیکل سوسائٹی کے 241 ویں اجلاس میں ایک پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے مشاہدات پروگرام 1227 کے حصے کے طور پر حاصل کیے گئے تھے۔

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ دنیا کی سب سے بڑی خلائی سائنس رصد گاہ ہےویب ہمارے نظام شمسی کے اسرار کو حل کرے گا، دوسرے ستاروں کے آس پاس دور دراز کی دنیاوں کو دیکھے گا، اورہماری کائنات کے پراسرارڈھانچے اورابتداء اوراس میں ہمارے مقام کی تحقیقات کرے گا۔ ویب ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جس کی قیادت NASA اپنے شراکت داروں، ESA (یورپی خلائی ایجنسی) اور کینیڈا کی خلائی ایجنسی کے ساتھ کرتی ہے۔

    کائنات کی ابتدا میں موجود ہماری کہکشاں سے مشابہ کہکشائیں دریافت

  • یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    یو اے ای کی پہلی چاند گاڑی نےخلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کرلیا

    متحدہ عرب امارات کے پہلے چاند مشن کے سلسلے میں روانہ ہونے والی چاند گاڑی "راشد روور” نے خلا میں ایک ماہ کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز راشد روور سے زمینی پر موجود سائندانوں کی ٹیم کو تازہ ڈیٹا موصول ہوا ہے جس کے مطابق اماراتی "راشد روور” نے اب تک کامیابی سے 1،34 ملین کلو میٹر کا خلائی سفر مکمل کیا ہے امکانی طور پر چاند پر ماہ اپریل میں اتر سکے گی۔

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    "راشد روور” خالصتاً امارات کے سائنسدانوں اور انجینئیرز کی تیار کردہ چاند گاڑی ہے۔ اسے گیارہ دسمبر کو فلوریڈا کے خلائی مرکز سے چاند مشن پر روانہ کیا گا تھا۔ ‘راشد روور’ چاند پر اترنے کے بعد چاند کی سطح سےمتعلق حقائق پرمبنی ڈیٹا زمین پر منتقل کرنا شروع کرے گی اس میں چاند پر موجود ذرارت، دھول، لینڈنگ ایریا کی ہیت اور موسم وغیرہ کے بارے میں بھی آگاہی دینے کے علاوہ دیگر حقائق کی بھی تصویر کشی کرے گی۔

    زمین پر موجود خلائی مرکز کی ٹیم نے ہر ہفتے "راشد روور” سے رابطے کی صورت اس کےبارےمیں ڈیٹا کاجائزہ لےگی اور راشد روور کی کامل درستی کے ساتھ ورکنگ کے بارے میں رپورٹس تیار کرے گی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    "راشد روور” کو چاند مشن پر روانہ کرنے والی زمینی ٹیم اس کے چاند پر اترنے سے پہلے 12 کے قریب ایسی فرضی اقدامات کرے گی جو چاند گاڑی کے چاند پر اترنے کے بعد کے امکانی ڈیٹا سے متعلق ہوں گے بتایا گیا ہے کہ چاند گاڑی چاند کے کسی غیر دریافت شدہ حصے پر اترے گی-

  • واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    واٹس ایپ میسنجر نے صارفین کی آسانی کے لیے نیا فیچر متعارف کرادیا-

    باغی ٹی وی: واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    واٹس ایپ نے اپنے صارفین کی سہولت کے لیے یا فیچر متعارف کرا دیا

    اس سے قبل یہ فیچر ویب ورژن کے صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے اب اینڈرائیڈ صارفین کے لیے بھی پیش کردیا گیا ہے۔

    اس فیچر کو پیش کیے جانے کے بعد اب اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    واٹس ایپ نے یہ فیچر اینڈرائیڈ کے 2.23.2.2 ورژن استعمال کرنے والے صارفین کے لیے متعارف کرایا ہے، یہ فیچر صارفین واٹس ایپ اپ ڈیٹ کرنے کے بعد استعمال کرسکتے ہیں۔

    قبل ازیں واٹس ایپ نے ایک سے دوسرے اینڈرائیڈ فون میں وائی فائی کے ذریعے ڈیٹا منتقل کرنے کا نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے لیے صارفین کو گوگل ڈرائیو کی ضرورت نہیں پڑے گی اور یہ کام صرف کیو آر کوڈ کے ذریعے ہی ممکن ہو جائے گا۔

    یہ نیا فیچر واٹس ایپ کے بیٹا ورژن 2.23.1.26 اور 2.23.1.27 میں چند صارفین کو ہی دستیاب ہے، اس کا استعمال بہت آسان ہے جب بھی آپ کسی نئی اینڈرائیڈ ڈیوائس میں واٹس ایپ انسٹال کریں تو امپورٹ چیٹس کے آپشن کا انتخاب کریں۔ ایسا کرنے سے ڈیوائس کا کیمرا کیو آر کوڈ اسکین کرنے کے لیے اوپن ہوجائے گا۔

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی،…

  • سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    سمندری سیپی سے تیار ماحول دوست ہیلمٹ

    ماہرین نے سمندری سیپی سے مضبوط اور ماحول دوست ہیلمٹ بنا لیا-

    باغی ٹی وی :سمندر کنارے دھاری دار سیپی میں ایک نرم کیڑا کسی خطرے کے بغیر مزے سے رہتا ہے اور اسی سیپی سے اب ایک ماحول دوست ہیلمٹ بنایا گیا ہےاسے شیلمٹ کا نام دیا گیا ہے-

    پی سی بی نےسابق ٹیسٹ کرکٹرز کی پینشن میں اضافہ کردیا

    شیلمٹ میں اسکیلپ سیپی کی 50 فیصد مقدار اور 50 فیصد پلاسٹک ملایا گیا ہے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیلمٹ بنانے والی کمپنی نے اپنے کاروبار میں دیہات کے ماہی گیروں کو شریکِ کاروبار بنایا ہے جو اس ہیلمٹ کے لیے سیپی کا خام مال فراہم کرتے ہیں۔

    شیلمٹ کی تباری کے لیے جاپانی کاؤشی کیمیکل کمپنی نے اہم کردار ادا کیا ہے اور سمندری بستی کے ماہی گیر سالانہ 40 ہزار ٹن سیپیاں فراہم کریں گے۔

    اگرچہ یہ سیپیاں اب بھی جالوں میں پھنس کر آتی ہیں لیکن ان کا مصرف کچھ نہیں ہوتا اور وہ ساحل پر پڑی بو دیتی رہتی ہیں جاپان کے سب سے شمالی سرے پر واقع، ہوکائیڈو جزیرہ اپنے آتش فشاں، قدرتی گرم چشموں اور نرم، میٹھے،سشیمی گریڈ سکیلپس کے لیے جانا جاتا ہے۔

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ پلاسٹک میں صدفے یا سیپی کو ملانے سے نہ صرف ہیلمٹ ہلکا پھلکا رہتا ہےبلکہ وہ مضبوط ترین ہیلمٹ کے مقابلے میں یکساں سختی رکھتا ہے۔

    پاکستانیوں کو امریکی ویزا کے حصول کیلئے آسانی

  • مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    مونٹریال پروٹوکول کی کامیابی،اوزون کی سطح جلد اپنی پرانی حالت میں واپس آجائے گی، رپورٹ

    گلوبل وارمنگ کے پیشِ نظر اوزون کی تہہ کو بچانے کے لیے کی جانے والی کوششیں رنگ لانے لگ گئیں۔

    باغی ٹی وی : اوزون سطح کرہ ارض کو ڈھانپنے والی ایک حفاظتی سطح ہے جو سورج سے آنے والی نقصان دہ الٹرا وائلٹ شعاؤں کو زمین کے ماحول میں گھسنے سے روکتی ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    ماضی کے مطالعوں میں روز مرہ کی اشیاء میں استعمال ہونے والے کلوروفلورو کاربن (سی ایف سیز) کو اوزون سطح، انسان کی صحت اور ماحول کے لیے نقصان دہ پایا گیا ہے،1987 میں درجنوں ممالک نے موٹریال پروٹوکول پر دستخط کیے جس کے تحت دستخط کنندہ سی ایف سیز کے استعمال کو ختم کرنے کے پابند ہوگئے اوریہ ایک تاریخی کثیر جہتی ماحولیاتی معاہدہ ہےجو تقریباً 100 انسانی ساختہ کیمیکلز، یا ‘اوزون کو ختم کرنے والے مادے’ (ODS) کی کھپت اور پیداوار کو منظم کرتا ہے۔

    تاہم اب دنیا بھر کے سینکڑوں سائنسدانوں کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ کے مطابق اوزون کو نقصان پہنچانے والی اشیاء کے استعمال میں کمی کے نتیجے میں اوزون کی تہہ بحال ہونا شروع ہوگئی ہے اور اس صدی کے آخر تک زمین کو گلوبل وارمنگ کے سبب بڑھنے والے درجہ حرارت میں 0.5- 1 ڈگری تک کمی کا سامنا متوقع ہےلیکن گروپ نے جیو انجینئرنگ جیسی نئی ٹیکنالوجیز کے اوزون پرت پر غیر ارادی اثرات سے بھی خبردار کیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    مونٹریال پروٹوکول کی پیشرفت پر ہر چار سال بعد شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں پینل نے اوزون کو ختم کرنے والے ممنوعہ مادوں کے تقریباً 99 فیصد کے مرحلے سے باہر ہونے کی تصدیق کی۔

    پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اوزون کی تہہ میں سوراخ کی دریافت کا اعلان پہلی بار برطانوی انٹارکٹک سروے کے تین سائنسدانوں نے مئی 1985 میں کیا تھا۔

    پینل کی رپورٹ کے مطابق، اگر موجودہ پالیسیاں اپنی جگہ پر رہتی ہیں، تو توقع ہے کہ 2040 تک یہ تہہ 1980 کی قدروں تک پہنچ جائے گی، اوزون سطح کی انٹارکٹک میں 2066 تک، آرٹک میں 2045 اور باقی دنیا میں 2040 تک اس ہی حالت میں واپسی متوقع ہے جس حال میں وہ 1980 میں تھی۔

    ماہرین فلکیات کا زمین کےمدارمیں گردش کرتےسیٹلائٹس پرگہری تشویش کا اظہار

    انٹارکٹک اوزون ہول کے سائز میں تغیرات، خاص طور پر 2019 اور 2021 کے درمیان، زیادہ تر موسمیاتی حالات کی وجہ سے تھے اس کے باوجود، سال 2000 سے، انٹارکٹک اوزون کی خلاف ورزی رقبے اور گہرائی میں آہستہ آہستہ بہتر ہو رہی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے اوزون سیکریٹریٹ کے انوائرنمنٹ پروگرام کی ایگزیکٹِیو سیکریٹری میگ سیکی کا کہنا تھا کہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اوزون تہہ کی بحالی ایک زبردست خبر ہےموسمیاتی تغیر کو کم کرنے کے لیے مونٹریال پروٹوکول اس سے زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتا 35 سال سے زیادہ کے عرصے میں یہ معاہدہ ماحولیات کے لیے حقیقی چیمپئن بن گیا ہےسائنٹیفک اسسمنٹ پینل کی طرف سے کئے گئے جائزے اور جائزے پروٹوکول کے کام کا ایک اہم جزو بنے ہوئے ہیں جو پالیسی اور فیصلہ سازوں کو مطلع کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

    منگل کو ایک ٹویٹ میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا کہ اوزون کی تہہ کی بحالی "ایک حوصلہ افزا مثال ہے کہ جب ہم مل کر کام کریں گے تو دنیا کیا حاصل کر سکتی ہے-

    گلوبل وارمنگ بڑھتی رہی توانٹارکٹیکا کےنصف سےزیادہ جاندارناپید ہوجائیں گے