Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آسمان پر نیلے رنگ کی تیز روشنی کا خوبصورت نظارہ

    آسمان پر نیلے رنگ کی تیز روشنی کا خوبصورت نظارہ

    امریکا کی ریاست ہوائی کے آسمان پرماہرین فلکیات نے رات کے اندھیرے میں بھنور کی شکل والی نیلے رنگ کی تیز روشنی کا نظارہ کیا۔

    بغی ٹی وی: اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق ماہرین فلکیات نے یہ نظارہ 18 جنوری کو ریاست ہوائی کے جزیرے مونوکی سے سبارو دور بین کی مدد سے کیا۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق


    ماہرین کی جانب سے بتایا جا رہا ہے کہ اسپیس ایکس کی جانب سے 18 جنوری کے روز ایک نئی سیٹلائٹ لانچ کی گئی تھی اور اس نیلے رنگ کے بھنور کو سیٹلائٹ آربٹل ڈیویلپمنٹ آپریشن سے جوڑا جا رہا ہے۔


    اسپیس ڈاٹ کام کے مطابق جب بھی سیٹلائٹ لانچ کی جاتی ہے تو آسمان پر اس طرح کے بھنور کا نظارہ کیا جاتا ہے، یہ نظارہ ریاست ہوائی سے نیوزی لینڈ تک کیا گیا اور اسے فالکن 9 راکٹ کی سرگرمیوں سے بھی منسلک کیا جا رہا ہے۔

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    شہری سائنسدان اور سیٹلائٹ ٹریکر سکاٹ ٹِلی، چِمنگ اِن نے کہا کہ بھنور کی پوزیشن اس کے لیے ایک قریبی میچ تھی جہاں دوسرے مرحلے کا فالکن 9 راکٹ لانچ ہونے کے چند منٹوں میں متوقع تھا۔ (پہلا مرحلہ سمندر میں ایک ڈرون جہاز پر زمین پر واپس آیا۔)

    اسپیس ویدر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل 2022 میں بھی ایسا بھنور دیکھا جاچکا ہے جب فالکن 9 راکٹ کے اوپری اسٹیج نے بحر الکاہل میں گرنے سے پہلے بچا ہوا ایندھن نکالا تھا۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

  • 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:”الجزیرہ کے مطابق” مصری ماہرین آثار قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فرعونی مقبرہ دریافت کیا ہے، جس میں ملک میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور "سب سے مکمل” ممی موجود ہے۔

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق مصر کے علاقے سکارا میں زمین سے 20 میٹر نیچے موجود ایک کمرے سے تقریباً 25 ٹن وزنی تابوت میں ایک ممی ملی۔

    10 افراد پر مشتمل ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو اس میں سونے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی ملی جس کے سر پر ایک بینڈ اور سینے پر ایک بریسلٹ موجود تھا جس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی امیر انسان کی ممی ہے۔

    سونے کے پتے سے ڈھکی ہوئی ممی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 4 ہزار 3 سو سال پرانی ہے جس کی دریافت آثار قدیمہ کیلئےاہمیت کی حامل ہےممی کیساتھ مجسمے، مٹی کے برتن دیگر اشیاء بھی ملی ہیں، یہ ممی مصر میں اب تک پائی جانے والی سب سے قدیم اور مکمل غیر شاہی ممی ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق ایک اور مقبرہ راز کا محافظ اور محل کے عظیم رہنما کے معاون میری کا تھا،”خفیہ محافظ” کا پجاری لقب محل کے ایک سینئر اہلکار کے پاس تھا جس نے خصوصی مذہبی رسومات انجام دینے کی طاقت اور اختیار دیا تھا۔

    ہاؤس نے مزید کہا کہ تیسری قبر فرعون پیپی اول کے اہرام کمپلیکس کے ایک پادری کی تھی اور چوتھی قبر فیٹیک نامی جج اور مصنف کی تھی۔

    مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ فیٹیک کے مقبرے میں اس علاقے میں اب تک پائے جانے والے "سب سے بڑے مجسموں” کا مجموعہ شامل ہے۔

    مقبروں کے درمیان بے شمار مجسمے پائے گئے، جن میں سے ایک مرد اور اس کی بیوی اور کئی نوکروں کے ہیں۔

    بچوں کی مزید قبریں دریافت ہونے پرہرطرف خوف کی فضا

  • ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہےجو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: خود مختار ڈرون کومشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    اس کا فریم کاربن فائبر کا ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    سلمان خان کی نئی فلم ’کسی کا بھائی، کسی کی جان‘ کا ٹریلر جاری

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹےپیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    چین میں ہونے والی ایک نئی تحقیق میں ماہرین نے دعوی کیا ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی:جرنل نیچر جیو سائنسز میں شائع تحقیق کے مطابق زمین کی اوپری تہہ سیال دھات پر مبنی ہے جبکہ اندرونی تہہ ٹھوس دھاتوں پر مشتمل ہے اور اس کا حجم چاند کے 70 فیصد رقبے کے برابر ہے۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    خیال کیا جاتا ہے کہ مینٹل کی نسبت زمین کے اندرونی تہہ کی تفریق گردش کور ڈائنامکس اور گروویٹیشنل کور مینٹل کپلنگ پر جیوڈینامو کے اثرات کے تحت ہوتی ہے اس گردش کا اندازہ بار بار زلزلہ کی لہروں کے درمیان وقتی تبدیلیوں سے لگایا گیا ہے جو اندرونی کور سے ایک ہی راستے سے گزرتی ہیں۔

    ایسا مانا جاتا تھا کہ زمین کی اندرونی تہہ کاؤنٹر کلاک وائز گھومتی ہے مگر Peking یونیورسٹی کی تحقیق میں نتیجہ نکالا گیا کہ اندرونی تہہ کی گردش 2009 کے قریب تھم گئی تھی اور پھر وہ مخالف سمت یا کلاک وائز گھومنا شروع ہوگئی۔

    محققین نے بتایا کہ ہمارے خیال میں یہ تہہ پہلے ایک سمت میں گھومتی ہے اور پھر دوسری جانب گھومنے لگتی ہے دونوں سمتوں میں گھومنے کا یہ چکر 70 سال (ہر سمت کا چکر 35 سال میں مکمل ہوتا ہے) تک مکمل ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ 2009 سے قبل آخری بار زمین کی اندرونی تہہ کی سمت 1970 کی دہائی میں تبدیل ہوئی تھی اور اگلی بار ایسا 2040 کی دہائی کے وسط میں ہوگا۔

    گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا 6 فیصد ملازمین کو برطرف کرنے کا فیصلہ

    زمین کی اندرونی تہہ کے حوالے سے تفصیلات اکٹھا کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ وہ سطح سے 5 ہزار کلومیٹر گہرائی میں واقع ہے تاہم اس تحقیق کے لیے ماہرین نے زلزلوں کی لہروں کا تجزیہ کیا تھا اوراس کی مدد سےاندرونی تہہ کی گردش کا تعین کرنےمیں کامیابی حاصل ہوئی۔

    محققین نے 1960 سے 1990 کی دہائی کے زلزلوں کے ریکارڈز کا موازنہ حالیہ زلزلوں سے کیا، جس سے عندیہ ملا کہ زمین کی اندرونی تہہ کی گردش 2009 میں رک گئی تھی اور پھر اس نے سمت بدل لی محققین کے مطابق اندرونی تہہ کے گھومنے کی سمت بدلنے سے دنوں کی لمبائی اور زمین کے مقناطیسی میدان میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی

    عالمی سطح پر مسلسل پیٹرن بتاتا ہے کہ اندرونی تہہ گردش حال ہی میں موقوف ہوئی ہے۔ ہم نے اس حالیہ پیٹرن کا موازنہ 1964 کے جنوبی جزائر کےڈبلٹس کےالاسکا کےزلزلہ ریکارڈ سے کیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ تقریباً سات دہائیوں کے دہورے حصے کے طور پر اندرونی تہہ کی بتدریج واپسی کے ساتھ منسلک ہے-

    ایک اور اہم موڑ کے ساتھ۔ 1970 کی دہائی کے اوائل میں۔ یہ کثیر الجہتی وقفہ کئی دوسرے جیو فزیکل مشاہدات، خاص طور پر دن کی لمبائی اور مقناطیسی میدان میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ موافق ہے۔

  • نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    نیا دریافت شدہ سیارچہ زمین کے قریب سے گزرے گا،ناسا

    ایک نیا دریافت شدہ سیارچہ اس ہفتے زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 2023 بی یو (2023 BU) نامی سیارچہ زمین کے سب سے زیادہ گزرنے والے سیارچوں میں سے ایک ہوگا۔

    شہابی پتھر سے دو نئی معدنیات دریافت

    2023 BU کی پیمائش 12 اور 28 فٹ چوڑائی (3.8 سے 8.5 میٹر) کے درمیان ہے، اور اسے ابھی ہفتہ (21 جنوری) کو ماہر فلکیات Gennadiy Borisov نے کریمیا میں MARGO آبزرویٹری میں دریافت کیا تھا۔

    ای ایس ٹی (2117 GMT)، خلائی چٹان زمین کی سطح سے صرف 2,178 میل (3,506 کلومیٹر) کی اونچائی پر زمین سے چاند کے اوسط فاصلے کے 3 فیصد سے بھی کم کے اندر ہوگی مقابلے کے لیے، زیادہ تر جیو سٹیشنری سیٹلائٹ تقریباً 22,200 میل (35,800 کلومیٹر) مدار میں گردش کرتے ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    یہ سیارچہ پاکستانی وقت کے مطابق 27 جنوری کو صبح ساڑھے 5 بجے جنوبی امریکا کے اوپر سے گزرے گا اور اس وقت ہمارے سیارے کی سطح سے محض 3600 کلومیٹر اوپر ہوگا، یعنی سیٹلائیٹس کے قریب ہوگا زمین کے اکثر سیٹلائیٹس 160 سے 2 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرتے ہیں مگر ناسا کے مطابق سیارچے کا ہمارے سیارے سے ٹکرانے کا خطرہ نہیں۔

    ناسا نے کہا کہ اگر سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آگیا تو یہ جل جائے گا اور اس کے چھوٹے ٹکڑے شہاب ثاقب کی شکل میں سطح تک پہنچیں گےناسا کی جیٹ Propulsion لیبارٹری کے ماہر Davide Farnocchia نے بتایا کہ یہ سیارچہ زمین کے بہت زیادہ قریب آنے والا ہے، درحقیقت یہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آنے والے چند سیارچوں میں سے ایک ثابت ہوگا۔

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نےزندگی کیلئے موافق سیاروں کا ایک جتھہ دریافت کر…

    یہ سیارچہ حجم کے لحاظ سے کسی ڈیلیوری ٹرک (delivery truck) جتنا بڑا ہے اور اسے سب سے پہلے کریمیا کے شوقیہ خلا باز Gennady Borisov نے دیکھا تھا جس کے بعد ناسا کے ماہرین کی جانب سے اس کے راستے کا تعین کیا گیا۔

    ناسا کے مطابق اس سیارچے کا راستہ زمین کے قریب سے گزرنے کے دوران کشش ثقل سے نمایاں طور پر متاثر ہوا۔

  • واٹس ایپ نےتصاویر، ویڈیوز کا نیا فیچر پیش کر دیا

    واٹس ایپ نےتصاویر، ویڈیوز کا نیا فیچر پیش کر دیا

    میٹا کی زیرملکیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے آئی فون صارفین کی دیرینہ خواہش پوری کر دی-

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے اب تصاویر، ویڈیوز اور کسی بھی قسم کے میڈیا کو فارورڈ کرنے کے ساتھ کیپشن کے فیچر کو ویب اور اینڈرائیڈ کے بعد آئی فون صارفین کے لیے بھی پیش کردیا۔

    واٹس ایپ نےصارفین کی آسانی کیلئےتصاویر اورویڈیوزکا نیافیچرمتعارف کرا دیا

    رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت آئی فون صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    اس سے قبل یہ فیچر ویب ورژن اور اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا تھا جسے اب آئی فون استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بھی پیش کردیا گیا ہے۔

    اس فیچر کو پیش کیے جانے کے بعد اب اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    علاوزہ ازیں واٹس ایپ کے اسٹیٹس فیچر میں مزید اپ ڈیٹس متعارف کرا دی گئیں ہیں اب صارفین اپنے اسٹیٹس میں اپنی ریکارڈ آواز کو بھی بطور آڈیو اسٹیٹس لگا سکیں گےواٹ ایپ کے بیٹا ورژن میں ایک نیا فیچر شامل کیا گیا جسے استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنی ریکارڈ شدہ آڈیو کو اپنے اسٹیٹس پر لگا سکیں گے لیکن یہ اپ ڈیٹس ابھی منتخب اینڈرائیڈ بیٹا ٹیسٹرز پر دستیاب ہے۔

    ٹوئٹرمیں بڑی تبدیلی، ڈیوائس لیبل نامی فیچر ختم کردیا گیا

    رپورٹ کے مطابق میسجنگ ایپلی کیشن صارفین کو یہ اختیار دے گی کہ وہ فیصلہ کرسکیں کہ ان کے وائس اسٹیٹس کون کون سنتا ہے اور صارفین اپنی آواز کی ریکارڈنگ پر بھی کنٹرول رکھ سکیں گے کیونکہ فیچر کی مدد سے اسٹیٹس پبلک کرنے سے قبل ڈیلیٹ کا آپشن بھی دستیاب ہو گا۔

    صارفین اپنی 30 سیکنڈ کی آواز ریکارڈ کر کے اسٹیٹس پر لگا سکیں گے جو 24 گھنٹے تک موجود رہے گی اور مقررہ وقت کے بعد ختم ہو جائے گی۔ اسٹیٹس فیچر میں ہونے والی یہ اپ ڈیٹ آنے والے ہفتوں میں دیگر واٹس ایپ صارفین کے لیے بھی دستیاب ہو گی۔

    قبل ازیں واٹس ایپ میں اگست 2021 میں پیش کیا گیا ‘ویو ونس’ فیچر زیادہ بہتر بناتے ہوئے میسجز کے اسکرین شاٹ لینا ناممکن بنا دیا ہے اس فیچر کے تحت بھیجی جانیوالی تصویر یا ویڈیو ایک بار کھلنے کے بعد چیٹ سے مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے۔

    واٹس ایپ میں اگست 2021 ‘ویو ونس’ کا فیچر موجود ہے،اس فیچر کے تحت بھیجی جانیوالی تصویر یا ویڈیو ایک بار کھلنے کے بعد چیٹ سے مکمل طور پر غائب ہوجاتی ہے،مگر اس فیچر میں ایک سکیورٹی کمزوری موجود تھی اور وہ تھی ویو ونس کے تحت بھیجی جانے والی تصاویر کا اسکرین شاٹ لینا ممکن تھا۔

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ اب ویو ونس کے تحت بھیجے جانے والے میسجز کے اسکرین شاٹس لینا ممکن نہیں ہوگا اس فیچر پر کئی ماہ سے کام کیا جارہا تھا اور اسے اکتوبر 2022 میں بیٹا ورژن میں پیش کیا گیا تھا،مگر اب اسے تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جارہا ہے۔


    کمپنی کے مطابق اگر اب کوئی صارف ویو ونس کے تحت بھیجے گئے کسی میسج کا اسکرین شاٹ لینے یا ریکارڈ کرنے کی کوشش کرے گا تو اسکرین بلیک ہوجائے گی یہاں تک کہ تھرڈ پارٹی ایپ سے بھی ایسے پیغامات کا اسکرین شاٹ لینا ممکن نہیں ہوگا۔

    خیال رہے کہ ویو ونس کو متعارف کراتے ہوئے واٹس ایپ نے کہا تھا کہ اس فیچر کو حساس معلومات جیسے وائی فائی پاس ورڈ کی تصویر بھیجنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے،مگر اسکرین شاٹ لینے کے باعث صارفین کی سکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوسکتا تھا جس کی روک تھام اب کی جارہی ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

  • مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    قاہرہ: قدیم مصری تہذیب سے دریافت شدہ ایک ممی کو کھولے بغیر معلوم ہوا ہے کہ اسے 49 قیمتی تعویز گنڈوں سے سجایا گیا تھا-

    باغی ٹی وی: نوعمر لڑکے کو 2300 سال قبل ممی میں ڈھالا گیا تھا 1916 میں دریافت ہونے والی یہ ممی قاہرہ کے عجائب گھر میں کھلے بغیر رکھی تھی اور 300 قبل مسیح میں بطلیموسی عہد میں بنائی گئی تھی-

    اب جامعہ قاہرہ کی سحرسلیم اورانکےساتھیوں نے اسے ڈجیٹل انداز میں پرت در پرت کھولا ہےاس میں ایکسرے، سی ٹی (کمپیوٹر ٹوموگرافی) کے ساتھ ساتھ ہائی ریزولوشن کے سینکڑوں ایکسرے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ 21 اقسام کے 49 قیمتی تعویز اور گنڈے بھی جسم میں لگائے گئے ہیں۔

    ایرانی جوہری تنصیبات پر حملے کی تیاری

    Mummy gold
    ممی کوایکسرے اور دیگر آلات سے دیکھا گیا ہے چونکہ مصری، بلیوں کی طرح بھنوروں کو بھی مقدس تصور کرتے تھے اور اسی وجہ سے ایک سونے کا بھنورا بنا کر اسے دل کے قریب لگایا گیا ہے اسے غالباً دوسرے دل کے طور پر نصب کیا گیا ہے۔

    لڑکے کے سینے کے جوف میں تین سینٹی میٹر سونے کا دل لگایا گیا تھاالٹی ران میں ایک چیرا لگا کر دو انگلیوں کی شکل کا ایک اور تعویز بھی رکھا گیا ہےجبکہ جسم کے دیگر مقامات پر سونے، قیمتی پتھر اور نیم قیمتی معدنیات وغیرہ کی بنی اشیا بھی موجود ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    پروفیسر سحر کے مطابق دل اور دیگر اشیا کو دوسری دنیا کے سفر اور تحفظ کے لیے پہنائے گئے ہیں اس لڑکے کے اہلِ خانہ نے لڑکے کے تحفظ کے لیے بہت خرچ کیا ہوگا اسے قیمتی سینڈل بھی پہنائے گئے ہیں تاکہ یہ تابوت سے باہرآکر بحفاظت سفر کرسکے۔

  • گیس کے چولہے پر کھانا بنانا صحت کیلئے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے

    لندن: ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ گیس پر کھانا بنانا صحت کے لیے آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسدانوں کے مطابق ٹیلی ویژن پرشیف برقی چولہوں کے متبادل استعمال کرتے ہیں لیکن اس سے نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور پارٹیکیولیٹ میٹر(ٹریفک کے دھوئیں میں موجود ذرات) بنتے ہیں یہ بخارات پھیپھڑوں کونقصان پہنچاتےہیں اور خون میں داخل ہوسکتے ہیں جس سے امراضِ قلب، کینسر اور الزائمرز کے خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    بچے اور بوڑھے افراد کو ان چولہوں سے زیادہ خطرہ ہوتا ہےجبکہ ایک تحقیق کےمطابق گیس کے چولہے گھر کی فضا مصروف شاہراہوں سے زیادہ آلودہ کر دیتے ہیں۔

    نیو سائنٹسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیق میں شامل بچے بیگ میں لگے آلودگی کے مانیٹر کے ساتھ اسکول گئے امپیرئل کالج لندن کی پروفیسر فرینک کیلی کا کہنا تھا کہ باہر سے زیادہ گھر میں شام کے وقت بچوں کو آلودگی سامنا تھا جس وقت ان کے والدین کھانا بنا رہے تھے۔

    ایک اور تحقیق کے مطابق گیس کے چولہے امریکا میں ہر آٹھ میں سے ایک بچے میں دمے کا سبب ہوتے ہیں۔

    پروفیسر کیلی، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، کا کہنا تھا کہ یہ چولہے گھر کی فضا آلودہ کرنے کا بڑا سبب ہیں۔ یہ دمے اور دیگر صحت کے مسائل کا سبب ہوسکتے ہیں اور ان کو بد تر کر سکتے ہیں یہ مسئلہ ان گھروں میں زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے جہاں مناسب ہواداری کا انتظام نہیں ہوتا۔

    گیس کے چولہے شہر کی مصروف سڑکوں کی سطح سے کئی گنا زیادہ اندر کی ہوا میں اضافہ کرتے ہیں۔

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    ایک اور تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جنوبی کیلیفورنیا کے رہائشی گیس کے چولہے کا استعمال کرتے ہوئے معمول کے مطابق نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور فارملڈہائیڈ کی سطح کے سامنے آتے ہیں جو امریکی حکام کی طرف سے مقرر کردہ بیرونی آلودگی کے لیے حفاظتی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر اسٹیفن لوفٹ نے کہا کہ کوئی یہ بحث کر سکتا ہے کہ گیس کے چولہے سے منسلک خطرہ آلودہ شہر میں رہنے سے زیادہ ہو سکتا ہے گیس ککر بھی گلوبل وارمنگ کو ہوا دے رہے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتا چلا ہے کہ امریکہ میں چولہے سے نکلنے والی میتھین کا آب و ہوا پراثرپڑتا ہےجو تقریباً 500,000 پٹرول کاروں سےکاربن ڈائی آکسائیڈ کےاخراج کے مقابلے میں ہوتا ہے۔

    2025 تک، برطانیہ میں کوئی بھی نیا گھر فوسل فیول ہیٹنگ کے ساتھ نہیں بنایا جائے گا، ایک ایسا اقدام جس کا تقریباً یقینی طور پر مطلب ہوگا کہ ان کے پاس الیکٹرک انڈکشن چولہے ہوں گے امریکہ میں، صدر جو بائیڈن کا مہنگائی میں کمی کا ایکٹ گھرانوں کو گیس سے انڈکشن سٹو پر جانے کے لیے $1,340 تک کی سبسڈی فراہم کرے گا۔

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار

  • سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرے گا

    سبز دم دار ستارہ زمین کے قریب سے 50 ہزار سال بعد دوبارہ گزرنے والا ہے۔

    باغی ٹی وی: دم دار ستارہ C/2022 E3 (ZTF)، جسے ‘گرین دم دار ستارہ’ بھی کہا جا رہا ہے، یکم فروری کو ہمارے سیارے کے قریب سے گزرے گا۔

    C/2022 E3 نامی اس دم دار ستارے کو مارچ 2022 میں امریکا کے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین نے دریافت کیا تھا، اس وقت وہ سورج سے 37 کروڑ 70 لاکھ میل کی دوری پر موجود تھا۔

    992 سال بعد نیا چاند زمین کے قریب ترین ہو گا

    ماہرین کے تخمینے کے مطابق یہ دم دار ستارہ ہمارے سورج کے مدار میں ہر 50 ہزار سال بعد داخل ہوتا ہے، یعنی یہ آخری بار زمین کے قریب سے اس وقت گزرا تھا جب ہمارے سیارے میں پتھر کا عہد چل رہا تھا اب یہ دم دار ستارہ یکم اور 2 فروری کو زمین کے سب سے زیادہ قریب ہوگا اور 2 کروڑ 70 لاکھ میل دوری سے گزرے گا۔

    درحقیقت دم دار ستارے نے آخری بار 50,000 سال پہلے اندرونی نظام شمسی کا دورہ کیا تھا، اس وقت کے ارد گرد پتھر کے زمانے کے انسانوں کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ پہلی بار کسی زبان میں بات شروع کر دی تھی۔

    اور اس کے مدار کی نوعیت کی وجہ سے، یہ کبھی بھی اندرونی نظام شمسی کا دورہ نہیں کر سکتا ہے یعنی یہ انسانیت کے لیے C/2022 E3 (ZTF) کو دیکھنے کا آخری موقع ہو سکتا ہے۔

    خوش قسمتی سے آسمان پر نظر رکھنے والوں کے لیے، 2023 کے بہترین دم دار ستارے کے طور پر جس چیز کی تعریف کی جا رہی ہے اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے اب بھی کافی مواقع موجود ہیں۔

    زمین جیسا سیارہ دریافت

    دم دار ستارے بنیادی طور پر گرد اور برف کی ایسی گیندیں ہوتی ہیں جو سورج کے بڑے بیضوی مداروں کے گرد گھومتی رہتی ہیں جب دم دار ستارے سورج کے قریب آتے ہیں تو ان کے جسم گرم ہوجاتے ہیں جبکہ برفانی سطح گیس میں تبدیل ہوجاتی ہے اور گرد پھیل جاتی ہےان سب عناصر سے بادل سا بنتا ہے جس کے پیچھے گرد کی دم ہوتی ہے۔

    C/2022 E3 کی تصاویر پہلے ہی سامنے آچکی ہیں جس میں اس کے اردگرد سبز جگمگاہٹ نظر آئی ہے اور خیال کیا جارہا ہے کہ اس رنگت کی وجہ diatomic کاربن نامی مالیکیول ہے یہ مالیکیول شمسی ریڈی ایشن کی الٹرا وائلٹ شعاعوں میں سبز روشنی خارج کرتا ہے۔

    یہ دم دار ستارہ آنے والے دنوں میں دوربین کی بجائے آنکھوں سے دیکھنا بھی ممکن ہوگا مگر ایسی جگہوں پر جہاں تاریکی بہت زیادہ ہو اور روشنی کی آلودگی نہ ہونے کے برابر ہو۔

    جیمز ویب ٹیلی سکوپ نے کائنات کے ابتدائی دور میں بنتے ستاروں کی تصویر جاری کردی

    ویسے دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے اسے زیادہ آسانی سے دیکھنا ممکن ہے جبکہ آن لائن بھی ورچوئل ٹیلی اسکوپ پراجیکٹ کے یوٹیوب چینل پر اسے دیکھا جاسکتا ہے مگر اسے دیکھنے کا وقت زیادہ طویل نہیں، اگرچہ اگلے ہفتے اس کا بہترین نظارہ ہوسکے گا مگر فروری کے وسط میں یہ مدھم ہونا شروع ہوجائے گا اور پھر دوبارہ واپسی کے سفر پر روانہ ہوجائے گا۔

  • 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا سے الگ ہوگیا

    1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ انٹار کٹیکا کی برنٹ آئس شیلف سے الگ ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی: برٹش انٹارکٹک سروے (بی اے ایس) نے بتایا کہ 1550 اسکوائر کلومیٹر رقبے پر پھیلا برفانی تودہ 22 جنوری کو برنٹ آئس شیلف سے ٹوٹ کر الگ ہوگیا تھا اور اب یہ امکان ہے کہ وہ بحیرہ ودل میں بہنے لگے گا۔

    انٹارکٹیکا میں 7.6 کلوگرام وزنی غیرمعمولی آسمانی پتھر دریافت


    خیال رہے کہ لاہور کا رقبہ 1772 اسکوائر کلومیٹر ہے، یعنی یہ برفانی تودہ اس سے کچھ زیادہ چھوٹا نہیں۔


    بی اے ایس کے مطابق برفانی تودے کی علیحدگی سے قبل ایک دراڑ نمایاں ہوئی تھی جس کے بعد وہ آئس شیلف سے علیحدہ ہوا یہ واقعہ بی اے ایس کے ہیلے ریسرچ اسٹیشن کے قریب پیش آیا اور وہاں موجود عملے کے 21 افراد محفوظ رہے۔

    برطانیہ :چھوٹے طیارے میں ہائیڈروجن-الیکٹرک انجن کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ایک دہائی قبل بی اے ایس کے ماہرین نے آئس شیلف میں بڑی دراڑوں کو دیکھا تھا اور اب جاکر یہ برفانی تودہ الگ ہوا ہے بی اے ایس کی ڈائریکٹر ڈیم جین فرانسس کے مطابق ماہرین کو پہلے ہی ایسا ہونے کی توقع تھی۔


    انہوں نے بتایا کہ برفانی تودے کی علیحدگی موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ نہیں اور ایسا قدرتی طور پر ہوا دراڑ چوڑی ہونے پر 2016 میں ہیلے اسٹیشن کو 23 کلومیٹر دور منتقل کیا گیا تھا اور 2017 سے وہاں صرف نومبر سے مارچ (جب انٹار کٹیکا میں موسم گرما ہوتا ہے)کے دوران عملے کو تعینات کیا جاتا ہے۔

    گزشتہ 2 سال کے یہ دوسری بار ہے جب اس خطے میں ایک بڑا برفانی تودہ الگ ہوا ہے اس سے قبل مئی 2021 میں دنیا کا سب سے بڑا برفانی تودہ انٹارکٹیکا کے رونی آئس شیلف سے الگ ہوکر سمندر میں بہنے لگا تھا اس برفانی تودے کا رقبہ 4320 اسکوائر کلومیٹر تھا، یعنی وہ لاہور سے دوگنا سے بھی زیادہ بڑا تھا-

    دنیا کے سمندروں کی سطح بلند کرنے میں گرین لینڈ کا بڑا کردار