Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

    واشنگٹن: گوگل نے اس سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : گوگل کے مطابق اس سال جن شعبوں میں لوگوں نے سب سے زیادہ اشیا یا چھٹیوں کے تحائف دیکھے ہیں ان میں ہوم اینڈ گارڈن، یعنی گھر اور باغیچے کی اشیا، کپڑے، گیمز اور برقی اشیا، میک اپ اور حسن آور اشیا، کھلونے اور کرافٹ، صحت اور تندرستی کے زمرے شامل ہیں۔

    زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق

    گوگل نے عین ان کے کی ورڈ یا ناموں کو ہی شمار کیا ہے جس سے ان مصنوعات کو تلاش کیا گیا ہے ان میں ہائیڈروپونک گلدان اور اشیا، کسٹم گیمنگ کی بورڈز، پانی ملاکر استعمال کرنے والے آئی لائنر، کان کے اوپر پہنے جانے والے ہیڈفون، برقی کیتلی، مینسجر بیگ، بھاری لحاف، برقی ٹوتھ برش، غذا سے نمی ختم کرنے والے آلات، ورچول ریئلٹی ہیڈسیٹ، سائنسی اصول والے کھلونے شامل ہیں-

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    علاوہ ازیں لینگنگز، بچی کچھی غذا کو کمپوزٹ میں بنانے وآلے آلات، غسل کی مصنوعات، مشروم لیمپ، چہرے کے میک اپ ماسک، موم بتی بنانے والی کٹ، مساجر گن، چاول پکانے والے کوکر، کارڈلیس ویکیوم کلینر، لیپ ٹاپ، موبائل فون، شرپا جیکٹ، کھلونا پیانو، موم بتی بنانے والے آلات کو سرچ کیا گیا-

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت…

    گوگل کے مطابق صارفین نے جو چیزیں سرچ کیں ان میں پیپرکلپ نیکلیس، ایل ای ڈی فیس ماسک، برقی اسکوٹر،فجٹ کھلونے،کودنے والی رسیوں، سلیپر مشین، ڈجیٹل پکچر فریم، اسکن کیئرفریج، مصری کاٹن پردے، انڈور گارڈن، میک اپ والاچھوٹا شیشہ جوروشن ہوجاتا ہے اور صحت پر نظر رکھنے والے زیورات وغیرہ شامل ہیں۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

  • ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

    ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر بچوں پر ضرورت سے زائد سختی کی جائے تو ان کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے جس سے وہ لڑکپن اور جوانی میں ڈپریشن کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :یہ تحقیق اب جرمنی کی یونیورسٹی آف میونسٹر کی پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کی ہے جو تحقیق کے وقت بیلجیئم کی جامعہ لیوون سے وابستہ تھیں اس کی تفصیل یورپی کالج آف نیوروسائیکولوجی فارماکولوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کہا کہ بچوں کو مارنے اور ان پر چیخنے چلانے کا عمل جین پڑھنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرسکتا ہے اور یوں بچے کی مجموعی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

    مطالعے میں 21 نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو لیا گیا جنہیں والدین نے بہترین ماحول میں پروان چڑھایا تھا اور نرمی سے تربیت کی تھی پھر 23 لڑکے لڑکیوں سےان کا موازنہ کیا گیاجو اسی عمر کے تھے اور بچپن میں والدین کی پٹائی، سختی اور بے رخی جھیل چکے تھے۔ ان کی اوسط عمر 12 سے 16 برس تھی۔

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    پھرماہرین نے شامل تمام افراد کا ڈی این اے پرکھا جس میں ڈی این اے کےساڑھے چار لاکھ مقامات پر میتھائیلیشن کا جائزہ لیا گیا میتھائلیشن ایک قدرتی عمل ہے جس میں کیمیائی اجزا کےچھوٹے ٹکڑے ڈی این اے سے منسلک ہوجاتے ہیں اوران کی ہدایات پر اثراندازہوتے ہیں اگر یہ عمل بڑھ جائے تو انسان ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    اب جن بچوں کی تربیت سخت ترین ماحول میں ہوئی تھی ان کے ڈی این اے میں تبدیلی کی شرح بلند تھی اور جائزے کے بعد اس کے آثار ان کی نفسیات میں بھی دیکھے گئے۔

    تحقیق میں بتایا کہ والدین کی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچوں میں ایپی جنیٹکس تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اورحیاتیاتی طور پر ان میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہےالبتہ اس کے اثرات بلوغت میں ہی نمودارہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ اس کا منفی اثرختم کرنےکےلیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت احساسِ تحفظ اور محبت کے ساتھ کی جائے تاکہ ان کی شخصیت متوازن ہوسکے۔

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

  • زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق

    زیادہ چکنائی والی غذا شدید جسمانی دائمی درد کو جنم دیتی ہے،تحقیق

    خوراک صحت کا ایک اہم جزو ہے محققین مسلسل نئے اعداد و شمار سے پردہ اٹھا رہے ہیں کہ غذا کس طرح جسم کو متاثر کرتی ہے اور کس طرح زیادہ چکنائی والی غذا درد اور اشتعال انگیز ردعمل میں حصہ ڈالتی ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل سائنٹیفک رپورٹس میں شائع ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں اس بات کی کھوج کی گئی ہے کہ کس طرح زیادہ چکنائی والی غذا درد کےردعمل کوغیر تکلیف دہ محرکات کی طرف راغب کرتی ہےمطالعہ کے نتائج سے پتہ چلتا ہےکہ زیادہ چکنائی والی خوراک دردناک محرکات کے لیے درد کے ردعمل کو جنم دے سکتی ہے، ایسا ہی اثر جو موٹاپا یا ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    تحقیق میں ماہرین نےکہا کہ بھلے ہی آپ موٹاپے کا شکار نہ ہوں اور نہ ہی ذیابیطس کے شکار ہیں اور نہ کسی زخم نے آپ نے جینا حرام کیا ہوا ہے۔ اس کے باوجود آپ ایک ایسے نامعلوم دائمی درد سے ہلکان ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ’’چکنائی سے بھرپور غذا کی زیادتی‘‘ ہے۔

    یونیورسٹی آف ٹیکساس میں محققین کی جانب سے چوہوں پر کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ تھوڑے عرصے کے لیے زیادہ چکنائی والی غذا کے استعمال کا ممکنہ طور پر موٹاپے یا ذیابیطس یا کسی زخم کے بغیر تکلیف کے احساس سے تعلق ہوسکتا ہے۔

    چوہوں کے دو گروہوں کو آٹھ ہفتوں تک دی جانے والی مختلف غذا کے اثرات موازنہ کیا گیا۔ ایک گروپ کو معمول کے مطابق غذا دی گئی جبکہ دوسرے گروپ کو زیادہ چکنائی والی غذا اس طریقے سے دی گئی کہ اس کے نتیجے میں چوہوں میں موٹاپے یا بلڈ شوگر (جو ڈائیبیٹک نیوروپیتھی اور دیگر اقسام کی تکالیف کا سبب ہوسکتے ہیں) کی سطح میں اضافہ نہیں ہوا۔

    محققین کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ چکنائی سے بھرپور غذا کے سبب ایک اعصابی تبدیلی جو تکلیف کے شدید ہونے سے دائمی ہونے تک کی منتقلی کو واضح کرتی ہے، رُونما ہوئی اور ایلوڈائنا سامنے آئی۔ ایلوڈائنا کی کیفیت میں مبتلا افراد کو ہلکا سا چھونے سے بھی شدید تکلیف محسوس ہوتی ہے۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    تحقیق کے ایک مصنف ڈاکٹر مائیکل برٹن کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ تکلیف کے لیے لازمی نہیں کہ موٹاپا، ذیا بیطس، پیتھالوجی یا کوئی زخم ہو۔ تھوڑے وقت کے لیے چکنائی سے بھرپور غذا کا کھایا جانا کافی ہے۔ ایسی غذا جو امریکا میں تقریباً سب ہی کھاتے ہیں۔

    تحقیق میں موٹاپے اور ذیا بیطس میں مبتلا چوہوں کا موازنہ ان چوہوں کے ساتھ کیا گیا جن کی غذاؤں میں تبدیلی لائی گئی تھی۔

    مغربی ممالک کی غذائیں چکنائی سے بھرپور ہوتی ہیں جو نتیجتاً موٹاپے، ذیا بیطس اور ان سے متعلقہ کیفیات کا سبب بنتی ہیں۔ وہ افراد جو زیادہ مقدار میں مکھن، پنیر اور گوشت(بیف، مٹن وغیرہ) کھاتے ہیں ان کے خون میں فری فیٹی ایسڈز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جو سوزش کا سبب بنتی ہے۔

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

  • روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    سائبرسیکیوریٹی کمپنی گروپ۔ آئی بی نامی ایک کمپنی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ روسی زبان بولنے والوں کو متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں سب سے زیادہ کمپیوٹر ہیکنگ، پاس ورڈ چوری اور دوسروں کے کریڈٹ کارڈز کے استعمال میں قرار دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گروپ-آئی بی نے ایمیزون اور پے پال سمیت اکاؤنٹس کے پاس ورڈ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ادائیگی کے ریکارڈ اور کرپٹو بٹوے تک رسائی حاصل کرنے کے لیے میلویئر استعمال کرنے والے گروپوں کی نشاندہی کی-

    ایلون مسک کی دولت میں 100 ارب ڈالرز کی کمی

    رپورٹ میں کہا گیا کہ روسی زبان بولنے والے لوگوں نے رواں سال کے دوران پہلے سات ماہ میں 6300 الیکٹرنکس آلات یا مشینیوں کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنایا ہے جبکہ سات لاکھ کمپیوٹرز یا دوسری چیزوں کے ‘ پاس ورڈز ‘ چوری کیے ہیں۔ اس طرح 1300 سے زیادہ افراد کےکریڈٹ کارڈز کی تفصیلات کا حصول ممکن بنایا۔ تاہم سعودی عرب میں یہ وارداتیں مقابلتاً کم ہوئی ہیں جہاں صرف 1,400 سے کم لوگوں سے کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات اکٹھی کیں۔

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات میں ہزاروں آلات بھی ہیک کیے گئے اور کریڈٹ کارڈ اور دوسرے الیکٹرانک آلات کی تفصیلات چوری کی گئیں۔

    یہ گروپ غلط آلات کے استعمال سے انفارمیشن چوری کرتے اور اس کو اپنی مرضی کے مطابق چھانٹتے ہیں۔ پھر اس انفامیشن کو سوشل میڈیا اکاونٹس کے زریعے اپنے استعمال میں لاتے ہیں۔

    ‘ گروپ ۔ آئی بی ‘ اس سے پہلے بھی اسی نومبر میں بتایا تھا کہ سائبر جرائم میں ملوث عناصر نے ایک بڑی ریکروٹمنٹ کمپنی کو بھی سعودیہ میں ہیک کر لیا تاکہ اس سے متعلق افراد اور بنکوں تک رسائی ممکن بنا سکے ، یہ کام بنکوں سے رقم چوری کرنے کے لیے کیا گیا۔

    فرانس میں تاجر کے گھر پرانسپکشن کے لیے آیا ٹیکس انسپکٹر قتل

    ایک رپورٹ کے مطابق سائبر سکیورٹی فرم نے پتہ چلایا ہے کہ کمپیوٹرز سے متعلق جرائم میں ملوث افراد نے سعودی کمپنیوں کے 1000 سے زائد جعلی ورژنز بنائے۔ تاکہ لوگوں اشتہارات بذریعہ سوشل میڈیا متاثر کر سکے۔ ان عناصر نے جولائی میں سائبر کرائمز کی مہم کو زیادہ وسعت دے دی ہے۔

    گروپ-آئی بی نے جولائی میں یہ بھی انکشاف کیا کہ سائبر کرائمینلز نے مشرق وسطیٰ میں صارفین کو نشانہ بناتے ہوئے ایک وسیع پیمانے پر فشنگ مہم شروع کی تھی، جس میں 270 سے زیادہ ڈومینز کی نشاندہی کی گئی تھی جو مشہور پوسٹل سروس برانڈز کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا…

    ماضی میں دس سال قبل 2012 میں سعودی عرب کی معرف کمپنی ‘ آرامکو’ کی ہیکنگ ایک بڑا ایشو بنی تھی۔ یہ ایک بڑی ہیکنگ کا واقعہ تھا کٹنگ سورڈ آف جسٹس نامی ایک گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تیل اور گیس کی پیداوار کو روکنے کے مقصد سے تقریباً 30,000 کمپیوٹرز کو نقصان پہنچا۔

    گروپوں نے میلویئر کا استعمال کیا جو لوگوں کےانٹرنیٹ براؤزرز، جیسےای میل سروسز اورسوشل میڈیا اکاؤنٹس میں محفوظ کردہ معلومات کو جمع کرنے کے قابل تھا۔ جب ہیکرز بینک کی تفصیلات جیسی معلومات حاصل کرتے ہیں، تو وہ اسےپیسہ اور ڈیٹا چوری کرنے یا چوری شدہ معلومات کو "سائبر کرائمینل انڈر گراؤنڈ” پر فروخت کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    سعودی عرب سے اپ سیٹ شکست کے بعد لیونل میسی کا بیان سامنے آ گیا

  • ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی-

    باغی ٹی وی : ناسا کے خلائی جہاز اورین نے اپنے خلائی سفر کے چھٹے روز چاند کی تصویر لی، جسے ناسا نے اپنے آفیشل اکاونٹ سے جاری کیا ہے-

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    ناسا کے مطابق چاند کی ہائی ریزولوشن تصویر اس وقت لی گئی جب خلائی جہاز چاند کی سطح سے 129 کلومیٹر اوپر سے گزر رہا تھا۔


    ناسا نےتصویر شئیر کرتے ہوئے لکھا کہ تصویر ناسا کے اورین خلائی جہاز نے لی ہے جو آرٹیمیس ون مشن کے ایک حصّے کے طور پر پچھلے ہفتے سفر پر روانہ ہوا تھا۔

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    تقریباً 270,000 میل (430,000 کلومیٹر) دور،آرٹیمس 1 جلد ہی خلابازوں کو لے جانے کے لیے بنائے گئے خلائی جہاز میں اپولو 13 کے زمین سے ریکارڈ قائم کرنے والے فاصلے کو پیچھے چھوڑ دے گا۔


    واضح رہے اورین خلائی جہاز میں کوئی انسان موجود نہیں ہے لیکن اسی کے ذریعے مستقبل میں عام لوگوں کے چاند کا سفر ممکن ہو سکے گا، اس جہاز کو روانہ کرنے کیلئے ستمبر میں دو مرتبہ کوشش کی گئی تھی لیکن تکنیکی مسائل کی وجہ سے اسے روک دیا گیا۔

    110 سال قبل ڈوبنے والے ٹائی ٹینک جہاز سے ملنی والی گھڑی 98 ہزار پاؤنڈز میں نیلام

  • ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا عندیہ

    ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنےکا اقدام حیران کن اورخطرناک ہے،ٹوئٹرکے اہم شراکت دار کا علیحدگی کا عندیہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کے اہم خیراتی شراکت داروں میں سے ایک نے ایلون مسک کی جانب سے پالیسی میں تبدیلیوں کی مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے اپنی راہیں جدا کرنے پر غور شروع کر دیا۔

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر نے گزشتہ برس جنوری میں عوام کو تشدد پر اکسانے کے پیش نظر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ معطل کیا تھا جبکہ امریکی ریپر کین ویسٹ کا اکاؤنٹ یہودی مخالف پوسٹ کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا تاہم ایلون مسک نے حال ہی میں عوامی رائے کے بعد دونوں اکاؤنٹس کو بحال کر دیا ہے جس پر ٹوئٹر کے ایک اہم خیراتی شراکت دار اور ایک اشتہاری کمپنی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے-

    زکربرگ کےبطورسی ای اومستعفیٰ ہونے کی خبر پر ترجمان میٹا کا بیان سامنے آ گیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر کے بانی ایلون مسک کا امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ دوبارہ بحال کرنے کا اقدام حیران کن اور خطرناک ہے۔

    انہوں نے اپنے خدشات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹوئٹر نے مشہور امریکی ریپر کین ویسٹ کا اکاؤنٹ بھی دوبارہ بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    سی ای او اے ڈی ایل کے مطابق یکم نومبر کو ایلون مسک نے سول رائٹس گروپ سے ملاقات کی تھی تاکہ انہیں یقین دہانی کرائی جائے کہ کسی بھی فرد کے پہلے سے معطل کردہ اکاؤنٹ کو اس وقت تک بحال نہیں کیا جائے گا جب تک وہ سول سوسائٹی کے خیالات کو مدنظر رکھتے ہوئے شفاف عمل کو اپنا نہیں لیتا۔

    فیفا ورلڈکپ2022: افتتاحی تقریب براہ راست نشر نہ کرنے پر بی بی سی کو تنقید کا سامنا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور کین ویسٹ سمیت دیگر متنازع شخصیات کے ٹوئٹر اکاؤنٹس کی بحالی کے بعد ایک اشتہاری کمپنی نے بھی ٹوئٹر کے ساتھ اپنے مستقبل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ کمپنی اور سول رائٹس گروپ اور تنظمیوں کے ساتھ ایک بہترین تعلقات رہے ہیں جن میں اے ڈی ایل سمیت اے ڈی کلر اور این اے اے سی پی بھی شامل ہیں-

    قطر انرجی کا چینی سینوپیک کےساتھ گیس کی خریدوفروخت کے 27 سالہ معاہدے پر دستخط

  • موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    امریکامیں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے پر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ان کی زندگی کسی فلم کی طرح گزرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین اسکول آف میڈسین کی تحقیق میں ایسے 567 افراد کو شامل کیا گیاتھا جن کی حرکت قلب تھم گئی تھی مگر طبی امداد کے بعد وہ زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔

    موت کاایک وقت مقررہے:عمرے پرجانےوالاپاکستانی شہری دومنٹ دل کی دھڑکن بند…

    محققین نے بتایا کہ موت کے منہ پر پہنچنے والے افراد نے زندگی کی جانب واپس لوٹنے کے بعد مختلف تجربات شیئر کیے تحقیق میں ہر 5 میں سے ایک فرد نے موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد مختلف تجربات کو رپورٹ کیا۔

    محققین کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ ہمارا شعور کا کام کررہا تھا اور انہیں ایسا تجربہ ہوا جیسے انہوں نے دوبارہ زندگی گزار لی ہو۔

    موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد ان افراد نے بتایا کہ انہیں جسم سے الگ ہونے کا تجربہ ہوا، ڈاکٹروں کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھا مگر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اپنی زندگی کے اقدامات، ارادوں اور دیگر افراد کے بارے میں مقاصد کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

    محققین کے مطابق لوگوں کو ہونے والے تجربات خواب، واہمے یا تصور کا دھوکا نہیں تھے بلکہ یہ حقیقی تجربات ہیں جن کا سامنا ہمیں مرتے وقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد اپنی زندگی، مقاصد اور اقدامات کا گہرائی میں جاکر بامقصد تجزیہ کرتے ہیں، یعنی ایک بار پھر خیالات میں اپنی زندگی دوبارہ جی لیتے ہیں۔

    اسمارٹ فونز مختلف الرجیز کا شکار بناکر بیمار بھی کرسکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران دماغی مانیٹرنگ سسٹمز کو بھی مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا اور زندگی کی جانب لوٹ آنے والے مختلف دماغی لہروں کو دریافت کیا گیایہ دماغی لہریں عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہیں جب لوگ شعوری طور پر کچھ تجزیہ کررہے ہوتے ہیں یا پرانی یادیں ذہن میں اجاگر ہوتی ہیں۔

    ایم ڈی، پی ایچ ڈی، مطالعہ کے اہم تفتیش کار انتہائی نگہداشت کے معالج،NYU Langone اور Health کے شعبہ طب میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ تنظیم کے اہم نگہداشت اور بحالی کی تحقیق کے ڈائریکٹر سیم پارنیا کہتے ہیں کہ یہ یاد کیے گئے تجربات اور دماغی لہر کی تبدیلیاں نام نہاد قریب قریب موت کے تجربے کی پہلی علامتیں ہو سکتی ہیں، اور ہم نے انہیں پہلی بار ایک بڑے مطالعے میں پکڑا ہے

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موت کے دہانے پراور کوما میں رہتے ہوئے،لوگ ایک منفرد باطنی شعوری تجربے سے گزرتے ہیں، جس میں پریشانی کے بغیر آگاہی بھی شامل ہے۔

    نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ موت کے وقت بھی انسانی شعور مکمل طور پر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

    محققین کی جانب سے اب اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

  • آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے آرٹیمس 1 مشن کامیابی سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرٹیمس 1 مشن میں شامل اورین اسپیس کرافٹ 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا اورین اسپیس کرافٹ کی پرفارمنس توقعات سے بھی زیادہ بہتر رہی ہے۔

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    واضح رہے کہ آرٹیمس 1 مشن کو 16 نومبر کو روانہ کیا گیا تھا اور اورین اسپیس کرافٹ اس وقت زمین سے 2 لاکھ 30 ہزار میل سے زیادہ دور پہنچ چکا ہے اور چاند سے 55 ہزار میل دور ہے۔

    ناسا کو توقع ہے کہ یہ مشن 21 نومبر کو چاند تک پہنچے گا اور وہاں اسپیس کرافٹ کے 4 میں سے ایک مین انجن کو چلایا جائے گا اورین اسپیس کرافٹ چاند کی سطح سے 81 میل اوپر سے گزرے گا۔

    4 دن بعد ناسا کی جانب سے دوسرے انجن کو چلایا جائے گا جس سے اورین اسپیس کرافٹ چاند کے دور دراز واقع مدار تک جاسکے گا اس کے بعد اسپیس کرافٹ کو زمین کی جانب واپس لایا جائے گا اور سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ اسپیس کرافٹ 11 دسمبر کو واپس پہنچے گا۔

    یہ کیپسول چاند کی سطح سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ جبکہ زمین سے اس کا سب سے زیادہ فاصلہ 70 ہزار کلومیٹر تک ہوگا۔ کوئی بھی ایسا خلائی جہاز جو انسانوں کو لے جانے کے قابل ہو زمین سے اتنے زیادہ فاصلے پر کبھی نہیں گیا ہے۔

    آرٹیمس 1 مشن کی کامیابی مستقبل میں چاند کے لیے انسانی مشنز کی راہ ہموار کرے گی آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

    واپسی پر کیپسول کی رفتار بہت تیز ہو گی، یہ 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جو آواز کی رفتار سے 32 گنا زیادہ ہے اس کے اندر کی ڈھال کو شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا جو تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی فرانس کی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    اورین کیپسول کوچاند کی طرف لے جانے کے لیے راکٹ کو خلا میں کئی کام کرنے پڑے۔ جہاز اب اپنے یورپی پروپلشن موڈیول پر انحصار کرے گا تاکہ بقیہ مشن پر اسے محفوظ طریقے سے چلایا جا سکے۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے انسانی خلائی پروازکےڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ پارکرنےبی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ جب ہم چاند کے گرد اس انتہائی دلچسپ راستے میں مدار میں داخل ہوں گے تو وہ بہت زبردست لمحات ہوں گے۔ ہم پہلی مرتبہ چاند سے بہت آگے جا رہے ہیں۔

    آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    ٹویٹرنے بڑے پیمانے پراستعفوں کے درمیان تمام دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

  • واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے اپنے ڈیسک ٹاپ ورژن کے صارفین کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کا دلچسپ فیچر متعارف کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    یعنی اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا۔


    اس سے قبل واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی، لیکن اب باآسانی تصاویر اور ویڈیوز کو فاروڈ کرتے وقت کچھ بھی لکھا جاسکے گا۔

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    اس حوالے سے واٹس ایپ بیٹا انفو کی جانب سے شئیر کئے گئے اسکرین شاٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے اس کے علاوہ اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ صارفین اب بھی اس فیچر کو استعمال کرنے کے اہل نہیں ہیں، ان کے لیے یہ فیچر کچھ دنوں میں پیش کر دیا جائے گا۔


    علاوہ ازیں بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ بیٹا پر اسکرین لاک فیچر پر کام کر رہا ہے اسکرین لاک آپشن کی بدولت، آپ پاس ورڈ استعمال کرکے ایپ کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھ سکیں گے-

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

  • اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آج کا صحرا نما سرخ سیارہ مریخ کبھی پانی سے بھرپور تھا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مریخ پر ماضی میں کبھی پانی تھا لیکن اس بات پر بحث جاری تھی کہ یہ پانی کتنی مقدار میں تھا تاہم اب ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 4.5 ارب سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

    ڈیٹا رازداری کیس:گوگل 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین حاصل ہونے والےنتائج سے پُر امید ہیں کہ کبھی اس سیارے پر زندگی تھی؟ کا جواب حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ پورا سیارہ سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا اور ان کی گہرائی 300 میٹر سے لے کر 1000 میٹر تک تھی۔

    سطح سمندر سے 2000 میٹربلندی پرمکہ کی فضا میں آسمانی بجلی کی چمک کا شاندار نظارہ

    سینٹر فار اسٹار اینڈ پلینٹ فارمیشن کے پروفیسر مارٹن بِزارو کا کہنا تھا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ مریخ کا سائز زمین کے مقابلے میں نصف ہے، اس کی نسبت ہمارے سیارے پر بہت کم پانی ہے مریخ پر یہ پانی برف سے بھرے سیارچوں کی وجہ سے آیا پانی کے ساتھ یہ سیارچے مریخ پر حیاتیات سے متعلقہ مالیکیول جیسے کہ امائنو ایسڈ بھی لائے۔

    ڈی این اے اور آر این اے کی جب بنیاد بنتی ہے تو امائنو ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے جو اپنے اندر ہر وہ چیز رکھتے ہیں جس کی ضرورت ایک خلیے کو ہوتی ہے۔

    پروفیسر بِزارو نے بتایا کہ یہ مریخ کے وجود میں آنے کے ابتدائی 10 کروڑ سالوں میں ہوا۔

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی