Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    موت کے قریب پہنچنے پر انسان کن تجربات کا سامنا کرتا ہے؟

    امریکامیں ہونے والی نئی تحقیق میں ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ موت کے قریب پہنچنے پر لوگوں کی نگاہوں کے سامنے ان کی زندگی کسی فلم کی طرح گزرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : نیویارک یونیورسٹی کے گروسمین اسکول آف میڈسین کی تحقیق میں ایسے 567 افراد کو شامل کیا گیاتھا جن کی حرکت قلب تھم گئی تھی مگر طبی امداد کے بعد وہ زندگی کی جانب واپس لوٹ آئے۔

    موت کاایک وقت مقررہے:عمرے پرجانےوالاپاکستانی شہری دومنٹ دل کی دھڑکن بند…

    محققین نے بتایا کہ موت کے منہ پر پہنچنے والے افراد نے زندگی کی جانب واپس لوٹنے کے بعد مختلف تجربات شیئر کیے تحقیق میں ہر 5 میں سے ایک فرد نے موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد مختلف تجربات کو رپورٹ کیا۔

    محققین کے مطابق ان افراد کا کہنا تھا کہ ہمارا شعور کا کام کررہا تھا اور انہیں ایسا تجربہ ہوا جیسے انہوں نے دوبارہ زندگی گزار لی ہو۔

    موت کے منہ میں پہنچنے کے بعد ان افراد نے بتایا کہ انہیں جسم سے الگ ہونے کا تجربہ ہوا، ڈاکٹروں کو بچانے کی کوشش کرتے دیکھا مگر کوئی تکلیف محسوس نہیں ہوئی، جبکہ اپنی زندگی کے اقدامات، ارادوں اور دیگر افراد کے بارے میں مقاصد کا تجزیہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

    محققین کے مطابق لوگوں کو ہونے والے تجربات خواب، واہمے یا تصور کا دھوکا نہیں تھے بلکہ یہ حقیقی تجربات ہیں جن کا سامنا ہمیں مرتے وقت ہوتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ موت کے قریب پہنچنے والے افراد اپنی زندگی، مقاصد اور اقدامات کا گہرائی میں جاکر بامقصد تجزیہ کرتے ہیں، یعنی ایک بار پھر خیالات میں اپنی زندگی دوبارہ جی لیتے ہیں۔

    اسمارٹ فونز مختلف الرجیز کا شکار بناکر بیمار بھی کرسکتے ہیں،تحقیق

    تحقیق کے دوران دماغی مانیٹرنگ سسٹمز کو بھی مریضوں پر استعمال کیا گیا تھا اور زندگی کی جانب لوٹ آنے والے مختلف دماغی لہروں کو دریافت کیا گیایہ دماغی لہریں عام طور پر اس وقت دیکھنے میں آتی ہیں جب لوگ شعوری طور پر کچھ تجزیہ کررہے ہوتے ہیں یا پرانی یادیں ذہن میں اجاگر ہوتی ہیں۔

    ایم ڈی، پی ایچ ڈی، مطالعہ کے اہم تفتیش کار انتہائی نگہداشت کے معالج،NYU Langone اور Health کے شعبہ طب میں ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر کے ساتھ ساتھ تنظیم کے اہم نگہداشت اور بحالی کی تحقیق کے ڈائریکٹر سیم پارنیا کہتے ہیں کہ یہ یاد کیے گئے تجربات اور دماغی لہر کی تبدیلیاں نام نہاد قریب قریب موت کے تجربے کی پہلی علامتیں ہو سکتی ہیں، اور ہم نے انہیں پہلی بار ایک بڑے مطالعے میں پکڑا ہے

    انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج اس بات کا ثبوت پیش کرتے ہیں کہ موت کے دہانے پراور کوما میں رہتے ہوئے،لوگ ایک منفرد باطنی شعوری تجربے سے گزرتے ہیں، جس میں پریشانی کے بغیر آگاہی بھی شامل ہے۔

    نتائج سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ موت کے وقت بھی انسانی شعور مکمل طور پر کام کرنا نہیں چھوڑتا۔

    محققین کی جانب سے اب اس حوالے سے تحقیق کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

  • آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

    امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے آرٹیمس 1 مشن کامیابی سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرٹیمس 1 مشن میں شامل اورین اسپیس کرافٹ 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا اورین اسپیس کرافٹ کی پرفارمنس توقعات سے بھی زیادہ بہتر رہی ہے۔

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    واضح رہے کہ آرٹیمس 1 مشن کو 16 نومبر کو روانہ کیا گیا تھا اور اورین اسپیس کرافٹ اس وقت زمین سے 2 لاکھ 30 ہزار میل سے زیادہ دور پہنچ چکا ہے اور چاند سے 55 ہزار میل دور ہے۔

    ناسا کو توقع ہے کہ یہ مشن 21 نومبر کو چاند تک پہنچے گا اور وہاں اسپیس کرافٹ کے 4 میں سے ایک مین انجن کو چلایا جائے گا اورین اسپیس کرافٹ چاند کی سطح سے 81 میل اوپر سے گزرے گا۔

    4 دن بعد ناسا کی جانب سے دوسرے انجن کو چلایا جائے گا جس سے اورین اسپیس کرافٹ چاند کے دور دراز واقع مدار تک جاسکے گا اس کے بعد اسپیس کرافٹ کو زمین کی جانب واپس لایا جائے گا اور سب کچھ ٹھیک رہا تو یہ اسپیس کرافٹ 11 دسمبر کو واپس پہنچے گا۔

    یہ کیپسول چاند کی سطح سے محض 100 کلومیٹر کے فاصلے پر ہوگا۔ جبکہ زمین سے اس کا سب سے زیادہ فاصلہ 70 ہزار کلومیٹر تک ہوگا۔ کوئی بھی ایسا خلائی جہاز جو انسانوں کو لے جانے کے قابل ہو زمین سے اتنے زیادہ فاصلے پر کبھی نہیں گیا ہے۔

    آرٹیمس 1 مشن کی کامیابی مستقبل میں چاند کے لیے انسانی مشنز کی راہ ہموار کرے گی آرٹیمس 1 کے بعد آرٹیمس 2 مشن میں انسانوں کو خلا میں بھیجا جائے گا اور ایسا 2024 میں متوقع ہے، البتہ یہ مشن چاند پر لینڈ نہیں کرے گا۔

    واپسی پر کیپسول کی رفتار بہت تیز ہو گی، یہ 38 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرے گا جو آواز کی رفتار سے 32 گنا زیادہ ہے اس کے اندر کی ڈھال کو شدید حرارت کا سامنا کرنا پڑے گا جو تین ہزار سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔

    فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل ہی فرانس کی ٹیم کو بڑا جھٹکا

    اورین کیپسول کوچاند کی طرف لے جانے کے لیے راکٹ کو خلا میں کئی کام کرنے پڑے۔ جہاز اب اپنے یورپی پروپلشن موڈیول پر انحصار کرے گا تاکہ بقیہ مشن پر اسے محفوظ طریقے سے چلایا جا سکے۔

    یورپی خلائی ایجنسی کے انسانی خلائی پروازکےڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیوڈ پارکرنےبی بی سی نیوز کو بتایا تھا کہ جب ہم چاند کے گرد اس انتہائی دلچسپ راستے میں مدار میں داخل ہوں گے تو وہ بہت زبردست لمحات ہوں گے۔ ہم پہلی مرتبہ چاند سے بہت آگے جا رہے ہیں۔

    آرٹیمس 3 وہ مشن ہوگا جس میں خلا بازوں کو 2025 میں چاند پر بھیجا جائے گا اور یہ وہاں کے قطب جنوبی پر لینڈ کرے گا۔

    ٹویٹرنے بڑے پیمانے پراستعفوں کے درمیان تمام دفاتر عارضی طور پر بند کر دیے

  • واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    واٹس ایپ نےڈیسک ٹاپ ورژن کےصارفین کیلئےدلچسپ فیچرمتعارف کرادیا

    واٹس ایپ نے اپنے ڈیسک ٹاپ ورژن کے صارفین کے لیے تصاویر اور ویڈیوز کا دلچسپ فیچر متعارف کرا دیا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین کسی بھی قسم کا میڈیا یعنی تصاویر، ویڈیوز ، گرافکس انٹرچینج فارمیٹ (GIF) اور ڈاکیومنٹس کو فارورڈ کرتے ہوئے ‘کیپشن’ بھی درج کرسکیں گے۔

    ایلون مسک نے پرفیوم متعارف کرادیا

    یعنی اگر آپ کسی قسم کا میڈیا ایک چیٹ سے دوسری چیٹ میں بھیجنا چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ ‘کیپشن’ لکھا جا سکے گا۔


    اس سے قبل واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ ورژن استعمال کرنے والے صارفین کو یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی تھی، لیکن اب باآسانی تصاویر اور ویڈیوز کو فاروڈ کرتے وقت کچھ بھی لکھا جاسکے گا۔

    فیس بک کا 2015 میں متعارف کرایا جانے والا فیچر ختم کیا جارہا ہے

    اس حوالے سے واٹس ایپ بیٹا انفو کی جانب سے شئیر کئے گئے اسکرین شاٹ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیچر صارفین کے لیے پیش کردیا گیا ہے اس کے علاوہ اگر صارف چاہے تو لکھا ہوا کیپشن ڈیلیٹ کرکے دوبارہ نیا کیپشن بھی درج کرسکے گا۔

    رپورٹ کے مطابق کچھ صارفین اب بھی اس فیچر کو استعمال کرنے کے اہل نہیں ہیں، ان کے لیے یہ فیچر کچھ دنوں میں پیش کر دیا جائے گا۔


    علاوہ ازیں بیٹا انفو کے مطابق واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ بیٹا پر اسکرین لاک فیچر پر کام کر رہا ہے اسکرین لاک آپشن کی بدولت، آپ پاس ورڈ استعمال کرکے ایپ کو غیر مجاز رسائی سے محفوظ رکھ سکیں گے-

    واٹس ایپ کا رواں برس کا سب سے بڑا فیچر پاکستانی صارفین کو بھی مہیا کر دیا گیا

  • اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    اربوں سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا،تحقیق

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ آج کا صحرا نما سرخ سیارہ مریخ کبھی پانی سے بھرپور تھا۔

    باغی ٹی وی :ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ مریخ پر ماضی میں کبھی پانی تھا لیکن اس بات پر بحث جاری تھی کہ یہ پانی کتنی مقدار میں تھا تاہم اب ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا کہ 4.5 ارب سال قبل مریخ 300 میٹر گہرے سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا۔

    ڈیٹا رازداری کیس:گوگل 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محققین حاصل ہونے والےنتائج سے پُر امید ہیں کہ کبھی اس سیارے پر زندگی تھی؟ کا جواب حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی ہوسکتی ہے۔

    تحقیق میں اندازہ لگایا گیا کہ پورا سیارہ سمندروں سے ڈھکا ہوا تھا اور ان کی گہرائی 300 میٹر سے لے کر 1000 میٹر تک تھی۔

    سطح سمندر سے 2000 میٹربلندی پرمکہ کی فضا میں آسمانی بجلی کی چمک کا شاندار نظارہ

    سینٹر فار اسٹار اینڈ پلینٹ فارمیشن کے پروفیسر مارٹن بِزارو کا کہنا تھا کہ یہ معلوم ہونے کے باوجود کہ مریخ کا سائز زمین کے مقابلے میں نصف ہے، اس کی نسبت ہمارے سیارے پر بہت کم پانی ہے مریخ پر یہ پانی برف سے بھرے سیارچوں کی وجہ سے آیا پانی کے ساتھ یہ سیارچے مریخ پر حیاتیات سے متعلقہ مالیکیول جیسے کہ امائنو ایسڈ بھی لائے۔

    ڈی این اے اور آر این اے کی جب بنیاد بنتی ہے تو امائنو ایسڈ کی ضرورت پڑتی ہے جو اپنے اندر ہر وہ چیز رکھتے ہیں جس کی ضرورت ایک خلیے کو ہوتی ہے۔

    پروفیسر بِزارو نے بتایا کہ یہ مریخ کے وجود میں آنے کے ابتدائی 10 کروڑ سالوں میں ہوا۔

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی

  • بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    بچپن میں پریشان کن اور برے حالات جوانی میں امراض قلب کا باعث بن سکتے ہیں ،تحقیق

    ڈنمارک: ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ ب جو بچے پریشان کن یا تکلیف دہ ماحول میں پروان چڑھتے ہیں ان میں جوانی میں دل کا دورہ پڑنے یا خون کی شریانوں کی بیماریاں پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

    باغی ٹی وی : یورپی جرنل آف ہارٹ میں شائع رپورٹ کے مطابق جو بچے ابتدائی عمر میں کسی نامناسب حالات سے گزرتے ہیں جوانی میں وہ رگوں کی تنگی اور امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں یا ان امراض کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    نان اسٹک برتن ٹیفلون پلاسٹک کے خوردبینی ذرات خارج کرتے ہیں،تحقیق

    ان مسائل میں خاندان میں بیماری یا موت، غربت وتنگدستی، ناچاقی اور گھریلو لڑائی، نظراندازکرنے اور خاندان میں تناؤ وغیرہ شامل ہیں۔ اس ماحول میں رہنے والے بچے فوری طور پر تو متاثر ہوتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ عین جوانی میں بھی امراضِ قلب کے شکار ہوسکتے ہیں۔

    سروے میں جنوری 1980 سے دسمبر 2001 کےدرمیان 13 لاکھ بچوں کو جائزہ لیا گیا تھا۔ اس دوران 4118 بچے قلبی رگوں کی بیماری (سی وی ڈی) کےشکار ہوچکے تھے جو ان کی سولہویں سالگرہ سے 2018 کے اختتام کے دوران ہوا جبکہ بعض افراد کی عمر 38 برس تک تھی۔

    مطالعہ کے سینئر مصنف، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے شعبہ صحت عامہ میں وبائی امراض کی سربراہ پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہہم نے پایا کہ بچپن میں بہت کم مشکلات کا سامنا کرنے والے نوجوانوں کے مقابلے میں، بچپن میں نامساعد حالات سے جوانی میں امراضِ قلب کا خطرہ 60 فیصد تک بڑھ سکتا ہے-

    ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اگرنوعمری میں بھی یہ مسائل جان نہ چھوڑیں تب بھی اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے تاہم جو اس طویل مطالعے سےعیاں ہے۔ اگر اوسطاً 30برس کے ایک لاکھ افراد موجود ہوں تو 50 افراد میں امراضِ قلب کا اندیشہ ہوسکتا ہے لیکن گھریلو مسائل سے مزید 10 سے 18 کیس بڑھ سکتے ہیں جو ایک بہت تشویشناک امر ہے۔

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    بالخصوص بچپن میں گھرمیں اموات، شدید دیرینہ امراض کےمنفی اثرات بہت سخت ہوتے ہیں۔ اس تحقیق میں ڈنمارک کے کل 1,263,013 بچوں کا مطالعہ کیا گیا جو اپنی سولہویں سالگرہ تک زندہ تھے اور کسی امراضِ قلب کے شکار نہ تھے۔

    مطالعے میں صفر سے 15 برس کےبچے شامل تھے جنہیں 5 مختلف درجوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ان میں بہت کم گھریلو مسائل والے بچے، مادی ضرویات سےمحروم (بیروزگاری اور غربت)، مستقل محرومی، بہن بھائی یا والدین کو کھودینے والے یا کھونے کے خطرے کے شکار بچے، اور پانچویں قسم ان بچوں کی تھی جو تمام اقسام کے شدید مسائل میں گھرے تھے۔

    ان میں سے جن بچوں نے بھوک اور بیماری دیکھی ان میں امراضِ قلب کی شرح بھی بلند دیکھی گئی ہے-

    محققین نے ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے تجزیوں کو ایڈجسٹ کیا جو سی وی ڈی کے خطرے کو بھی بڑھا سکتے ہیں، جیسے کہ عمر، پیدائش کے وقت زچگی کی عمر، والدین کی اصل، اور دل، خون کی شریانوں یا میٹابولزم کی کوئی بھی والدین کی بیماریاں۔ ضمنی تجزیوں میں، انھوں نے حمل کی عمر اور والدین کی تعلیم کے لیے بھی ایڈجسٹ کیا۔ انہوں نے ان لوگوں کو خارج کر دیا جن کے والدین کو دل یا میٹابولزم سے متعلق کوئی بیماری تھی، جیسے کہ ذیابیطس یا دل کی بیماری، جو ان کے بچوں کو ان حالات میں مبتلا کر سکتی ہے۔

    گوشت کا کم استعمال موسمیاتی بحران سے بچا سکتا ہے ،تحقیق

    محققین نے پایا کہ مطالعہ میں 2,195 مردوں اور 1,923 خواتین کے درمیان سی وی ڈی کی نشوونما کے خطرے میں بہت کم فرق تھا۔ خطرہ ان لوگوں میں سب سے زیادہ تھا جنہوں نے خاندان میں شدید بیماری یا موت کا سامنا کیا اور ان لوگوں میں جنہوں نے بچپن اور جوانی کے دوران مشکلات کی بلند اور بڑھتی ہوئی شرح کا تجربہ کیا۔

    ہیڈ آف ایپیڈیمولوجی، ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ، کوپن ہیگن یونیورسٹی کے پروفیسر ناجا ہولویج روڈ نے کہا کہ ابتدائی جوانی میں بچپن کی مشکلات اور سی وی‌ڈی کے درمیان جو تعلق ہم نے دیکھا اس کی جزوی طور پر ان رویوں سے وضاحت کی جا سکتی ہے جو صحت کو متاثر کر سکتے ہیں، جیسے شراب پینا، سگریٹ نوشی اور جسمانی بے عملی۔ بچپن ایک حساس دور ہے جس کی خصوصیت تیز رفتار علمی اور جسمانی نشوونما سے ہوتی ہے۔ بچپن میں مشکلات کا بار بار اور دائمی نمائش جسمانی تناؤ کے ردعمل کی نشوونما پر اثرانداز ہو سکتا ہے، اور یہ ان نتائج پر مبنی میکانزم کے لیے ایک اہم وضاحت فراہم کر سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی

    انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال قبل کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی

    یروشلم: سائنسدانوں کو اسرائیل میں آثار قدیمہ کے مقام پر کھانا پکانے کے قدیم ترین ثبوت ملے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کچے کھانے سے پکے ہوئے کھانے کی طرف تبدیلی انسانی ارتقاء میں ایک ڈرامائی موڑ تھا، اور دریافت نے بتایا ہے کہ ماقبل تاریخ کے انسان نے کم از کم 7 لاکھ 80 ہزار سال پہلے کھانا پکانے کے لیے آگ جلائی-

    ڈائنوسار کی ایک نئی قسم دریافت، جس کا سر ہیلمٹ کی طرح بڑا اور بہت سخت تھا

    مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر تل ابیب یونیورسٹی کے اسٹین ہارڈ میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے محقق اریت زوہرنے کہا کہ قدیم جھیل Hula کے کنارے واقع گیشر بینوٹ یعقوف سائٹ پر مچھلی کے دانتوں کے تفصیلی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ابتدائی آباؤ اجداد میں سے کچھ غالباً ہومو ایریکٹس مچھلی پکانے کےقابل تھےجھیل کے کنارے رہنے والوں نے میٹھے پانی کی ایک بڑی انواع پر کھانا کھایا-

    زوہر نے کہا کہ اس مقام پر کوئی انسانی باقیات نہیں ملی، لیکن پتھر کے اوزار افریقہ میں ہومو ایریکٹس سائٹس سے ملنے والے اوزاروں سے مماثل ہیں، اور ممکن ہے کہ معدوم ہونے والی لوسیو باربس لانگیسیپ جیسی بڑی مچھلیوں کو پکڑنا آسان ہو، جو ہاتھ سے 6.5 فٹ (2 میٹر) تک بڑھ سکتی ہے۔

    3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت

    زوہر کی پچھلی تحقیق، جس نے اس جگہ پر 16 سال تک کام کیا ہے، نے پایا تھا کہ تلچھٹ کی پرتیں جہاں پتھر کے اوزار ملے تھے جس سے لگتا تھا کہ یہ انسانی استعمال میں رہے ہوں گے دو مخصوص انواع (Luciobarbus longiceps اور Carasobarbus) سے مچھلی کے دانتوں کی ایک بڑی تعداد سے منسلک تھے۔ canis) جو کارپ خاندان کا حصہ تھے لیکن اب ناپید ہیں۔

    تاہم، مچھلی کی ہڈیاں بہت کم تھیں، جو دانتوں کے برعکس اعلی درجہ حرارت میں نرم ہو جاتی ہیں اور آسانی سے بوسیدہ ہو جاتی ہیں۔ مطالعہ کی شریک مصنف نیرا الپرسن نے چولہے کے نشانات کی نشاندہی کی تھی جو افریقہ سے باہر کے قدیم ترین ہیں۔

    آثار قدیمہ کے جیو کیمسٹ ڈاکٹر بیتھن لِنسکاٹ اس تحقیق میں شامل تو نہیں تھے تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک ناقابل یقین حد تک اہم دریافت ہے-

    پکا ہوا کھانا کھانے میں تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ انسانوں نے تازہ، کچے کھانے کی تلاش اور ہضم کرنے پر کم توانائی صرف کی، جس میں نئے سماجی اور طرز عمل کے نظام کو تیار کرنے کے لیے زیادہ وقت نکالا جائے۔

    میٹا کا 11 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ

    لِنسکاٹ نے کہا کہ خوراک نے ہماری نسلوں کےارتقاء پر بڑا اثر ڈالا ہے یہ تجویز کیا گیا ہے کہ گوشت کی کھپت نے خاص طور پر ہمارے ابتدائی ہومو آباؤ اجداد کے دماغی سائز میں اضافے میں اہم کردار ادا کیا لیکن پیتھوجینک بیکٹیریا بغیر پکے گوشت کے استعمال کو ایک خطرناک بنا دیتے ہیں-

    "تاہم، کھانا پکانا بیکٹیریا کو مارتا ہے اور گوشت کی توانائی بخش قدر کو بڑھاتا ہے اس طرح ابتدائی ہومینز کے لیے ایک نیا، قابل اعتماد خوراک کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہ سمجھنا کہ یہ کب ہوا اس لیے بہت دلچسپی کا موضوع ہے، کیونکہ اس سے یہ سمجھانے میں مدد مل سکتی ہے کہ ہمارے ہومینین آباؤ اجداد نے اس طرح کیوں ترقی کی جس طرح انہوں نے کیا تھا۔

    یہ تحقیق پیر کو نیچر ایکولوجی اینڈ ایوولوشن نامی جریدے میں شائع ہوئی۔

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا

  • ڈیٹا رازداری کیس:گوگل  39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    ڈیٹا رازداری کیس:گوگل 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مند

    گوگل نے ڈیٹا رازداری کیس میں 39 کروڑ ڈالرز سے زائد ادائیگی پر رضا مندی ظاہر کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاستی استغاثہ کے اتحاد نے پیر کو اعلان کیا کہ گوگل نے 40 ریاستوں کے ساتھ ایک تصفیہ میں تقریبا 392 ملین ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ گوگل ٹریکنگ سے متعلق بہتر تفصیلی معلومات فراہم کرنے کا بھی پابند ہو گا۔

    ٹیکساس مین گوگل کے خلاف بغیر اجازت بائیو میٹرک ڈیٹا استعمال کرنے پر مقدمہ درج

    امریکی ریاستوں کا الزام تھاکہ گوگل نے صارفین کو گمراہ کیا کہ ان کے آلات پر لوکیشن ٹریکنگ بند کر دی گئی ہے،یہ امریکی تاریخ میں ریاستی حکام کی طرف سے سب سے بڑا تصفیہ ہے۔

    حکام نے کہا، کم از کم 2014 سے، گوگل نے صارفین کو گمراہ کر کے صارفین کے تحفظ کے قوانین کو توڑا کہ اس نے خفیہ طور پر ان کی نقل و حرکت ریکارڈ کی تھی۔ اس کے بعد اس نے خفیہ طریقے سے کاٹے گئے ڈیٹا کو ڈیجیٹل مارکیٹرز کو اشتہارات بیچنے کے لیے پیش کیا، جو گوگل کی تقریباً تمام آمدنی کا ذریعہ ہے۔

    بھارت میں گوگل پر ایک ہفتہ میں دوسری بار جرمانہ عائد

    نیبراسکا کے ساتھ تحقیقات کی قیادت کرنے والے اوریگون کے اٹارنی جنرل نے ایلن روزن بلم کہا ہے کہ گوگل جیسا ڈیجیٹل پلیٹ فارم صارفین کو پرائیویسی کنٹرول فراہم کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو بعد میں صارفین کی خواہشات کے خلاف ان کا ڈیٹا اکٹھا کر کے ایڈورٹائزرز کو فروخت کرنے کے لیے ان کنٹرولز کو نظر انداز کر دیتا ہے۔

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ برسوں سے گوگل نے اپنے صارفین کی رازداری پر منافع کو ترجیح دی ہے،وہ چالاک اور دھوکے باز رہے ہیں ادائیگی اب تک کی سب سے بڑی ملٹی اسٹیٹ پرائیویسی سیٹلمنٹ ہے۔

    مواد کی خلاف ورزی،روس نے گوگل پر 98 ملین ڈالر جرمانہ عائد کردیا

    مقام کا ڈیٹا، جو اکثر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے مجرمانہ تفتیش میں مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے حاصل کیا جاتا ہے، گوگل کے اشتہاری کاروبار کا ایک اہم حصہ ہےریاستی تفتیش کاروں نے اسے گوگل کی طرف سے جمع کی جانے والی انتہائی حساس اور قیمتی ذاتی معلومات” قرار دیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یہ لوگوں کو ان کے آس پاس کی بنیاد پر اشتہارات کے ذریعے نشانہ بنانے میں مدد کرتا ہے۔

    گوگل کو بھاری جرمانہ عائد ، کیوں جرمانہ ہوا وجہ جان کر ہو گا ہر کوئی حیران

  • انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں،ناسا

    ہماری کائنات ایک وسیع و عریض معمہ ہے ایک ایسا معمہ جس نے بنی نوع انسان کی فطری کیفیت کو جگایا ہے انسان کائنات میں کسی خلائی زندگی کو تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں،امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ انسانوں کا کسی ایلین تہذیب کو دریافت کرنے کا امکان نہیں۔

    باغی ٹی وی : اجنبی زندگی (ایلینز) کی شکلوں پر سوال پوچھنا اب تک بے نتیجہ رہا ہے، یہاں تک کہ ہم نے حالیہ برسوں میں جن حد تک ترقی کی ہے مفروضے اور حسابات جیسے کہ ڈاکٹر فرینک ڈریک نے 1960 کی دہائی کے اوائل میں بنائے تھے،زندگی کے ثبوت صرف ہماری کہکشاں میں وافر مقدار میں موجود ہونے چاہئیں، اور پھر بھی عملی طور پر ہم نے پیدا کیا ہے ہمارے اپنے سیارے سے باہر کسی چیز کا کوئی واضح اثبات نہیں-

    ناسا کے سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک وجہ موجود ہے جس کے باعث انسانوں اور ایلین تہذیب کےملنے کا امکان ختم ہوجاتا ہےناسا کے سائنسدانوں کی جانب سے ایک2210.10582.pdfمیں بتایا گیا کہ یہ وجہ کسی تہذیب کا بہت زیادہ ذہین ہوجانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی ایلین تہذیب کا خاتمہ ممکنہ طور پر خود اپنے ہاتھوں بہت زیادہ ذہانت کی وجہ سے ہوجاتا ہے اگر ہم نے اقدامات نہ کیے تو انسانوں کی قسمت بھی یہی ہوسکتی ہے۔

    اسے گریٹ فلٹر تھیوری کا نام دیا گیا ہے جس کے مطابق کائنات میں متعدد تہذیبیں موجود ہوسکتی ہیں مگر وہ زمین سے رابطے سے قبل ہی خود کو تباہ کرلیں گی سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ذہانت رکھنے والے جاندار جیسے انسان اپنے خاتمے کا باعث خود بن سکتے ہیں۔

    تاریخ میں پہلی بار چاند پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز

    مگر ان کا کہنا تھا کہ ہم اس سے بچ سکتے ہیں جس کے لیے تباہی کا باعث بننے والے عناصر کی شناخت کرنا ضروری ہے انسان یا کسی بھی ذہین ایلین تہذیب کا خاتمہ جوہری جنگ، وبا، موسمیاتی تبدیلیوں اور کنٹرول سے باہر مصنوعی ذہانت کے نتیجے میں ہوسکتا ہے۔

    محققین کے مطابق اس سے بچنے کا راستہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اپنی بقا کے لیے متحد ہوکر کام کرنا۔

  • 2500 نوری سال کے فاصلے پر موجود کون نیبیولا کی تصویر جاری

    2500 نوری سال کے فاصلے پر موجود کون نیبیولا کی تصویر جاری

    جرمنی: زمین سے تقریباً 2500 نوری سال کے فاصلے پر موجود دودھیا کہکشاں کے ستارہ ساز خطے ’کون نیبیولا‘ (Cone Nebula) کی تصویر جاری کر دی گئی مخروطی نیبولا کی ایک خوفناک تصویر، اسے ایک افسانوی مخلوق کی طرح ظاہر کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : رواں سال کے ابتداء میں یورپین سدرن آبزرویٹری (ای ایس او) کی جانب سے لی گئی اس تصویر میں تاریک اور ابر آلود نیبیولا کی پُر اسرار وجود کو دیکھا جاسکتا ہے۔

    سات نوری سال طویل کون نیبیولا کا ستون NGC 2264 نامی خطے کا ایک حصہ ہے اور اس کو پہلی بار 18 ویں صدی میں ماہرِ فلکیات ولیم ہرشل نے دریافت کیا تھا۔

    تاریخ میں پہلی بار چاند پر کاروباری سرگرمیوں کا آغاز


    کون نیبیولا کی یہ منفرد شکل ٹھنڈی گیس کے بڑے بڑے بادلوں اور گرد و غبار کی وجہ سے ہے۔ یہ عناصر نئے ستاروں کی تشکیل کے اسباب کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

    یورپی خلائی مشاہدہ گاہ کے مطابق اس ستون کا وجود تب ظاہر ہوتا ہے جب بڑے بڑے نو تشکیل نیلے روشن ستارے ہوائیں اور شدید الٹرا وائلٹ شعائیں خارج کرتے ہیں جو ان ستاروں کے اطراف سے مواد اڑا لے جاتی ہیں۔

    آٹو میٹک ویدر اسٹیشن سے اگلے 10 روز کی پیشگوئی کی جا سکے گی


    ای ایس او کا کہنا تھا کہ جس اس مواد کو دور دھکیلا جاتا ہے تو نئے ستاروں سے دور جانے والی گیس اور گرد دبتی ہے اور کثیف، تاریک اور لمبے ستون جیسی شکلیں وجود میں آتی ہیں۔

    یہ عمل NGC 2264 میں چمکدار ستاروں سے دور اشارہ کرتے ہوئے تاریک مخروطی نیبولا بنانے میں مدد کرتا ہے یہ تصویر ESO کی بہت بڑی ٹیلی سکوپ پر دو آلات کے ساتھ حاصل کی گئی تھی، جو دنیا کی سب سے جدید نظر آنے والی روشنی فلکیاتی رصد گاہ ہے جو چلی میں واقع ہے۔

    زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں دریافت


    ان دو فلٹرز کا استعمال چمکدار نیلے ستاروں کو بناتا ہے – حالیہ ستاروں کی تشکیل – تقریبا سنہری دکھائی دیتی ہے اگرچہ اس خاص نیبولا کا پہلے بھی مطالعہ کیا جا چکا ہے، لیکن نئی تصویر اسے زیادہ ڈرامائی انداز میں پیش کرتی ہے۔

    یہ نیبولا آسمان میں برج مونوکیروس (دی یونیکورن) میں پایا جا سکتا ہے ESO نے یہ تصویر اپنے قیام کی 60 ویں سالگرہ کے ایک حصے کے طور پر اور تعلیم اور رسائی کے مقاصد کے لیے جاری کی۔

    3700 سال پرانی کنگھی پر دنیا کا قدیم ترین تحریری جملہ دریافت


    5 اکتوبر 1962 کو پانچ ممالک نے رصد گاہ بنانے کے لیے ایک کنونشن پر دستخط کیے تھے۔ اب سائنسی کوشش کو 16 رکن ممالک اور اسٹریٹجک شراکت داروں کی حمایت حاصل ہے۔

  • زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں دریافت

    زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں دریافت

    ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے زمین سے 30 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر موجود تنہا کہکشاں کی تصویر جاری کردی۔

    باغی ٹی وی : تصویروولف-لُنڈ مارک-میلوٹے نامی یہ ڈوارف گلیکسی 2016 میں صرف اسپِٹزر اسپیس ٹیلی اسکوپ سے دیکھی گئی تھی لیکن چونکہ اس میں نصب آلات جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ جتنے جدید نہیں تھے اس لیے اس تصویر میں ستاروں کے دھدنلے نقوش آئے تھے یہ کہکشاں ہماری کہکشاں سے تقریباً 3 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے اور جس کا سائز تقریباً دسویں حصہ ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین کے سب سے زیادہ قریب بلیک ہول دریافت کرلیا



    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی طاقتور مکینکس کو استعمال کرتے ہوئے ناسا پُر امید ہے کہ وہ اس کہکشاں کے ستاروں کی تخلیق کی تاریخ کو دوبارہ ترتیب دے سکے گی۔ اس کہکشاں کے متعلق ناسا کا خیال ہے کہ یہ اربوں سال قبل وجود میں آئی تھی۔


    جاری کی جانے والی یہ تصویر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ملکی وے کہکشاں کے بالکل باہر موجود ستاروں کو واضح کرنے کی زبردست صلاحیت کو پیش کرتی ہے جو ایسا اس سے قبل کبھی ممکن نہیں تھا۔

    ستارے کی باقیات کی تصویر جاری

    10 ارب ڈالرز کی لاگت سے بنائی گئی اس ٹیلی اسکوپ میں نیئر انفرا ریڈ کیمرا نصب ہے جو ابتدائی ستاروں اور کہکشاؤں سے آنے والی روشنی کی نشان دہی کرتا ہے۔


    وولف-لُنڈ مارک-میلوٹے کہکشاں ہماری کہکشاں کے پڑوس میں موجود ہے لیکن ہماری کہکشاں کی نسبت 10 گُنا چھوٹی ہے یہ کہکشاں 1909 میں میکس وولف نے دریافت کی لیکن اس کے متعلق تفصیلات 1926 میں نُٹ لُنڈ مارک اور فِلِیبرٹ جیک میلوٹے نے پیش کیں تھیں۔

    ٹیلی اسکوپ کی جانب سے یہ مشاہدہ ارلی ریلیز سائنس پروگرام 1334 کے تحت کیا گیا۔

    ای آر ایس کے ایک سائنس دان کرِسٹن مک کوئن کے مطابق اگرچہ یہ کہکشاں ہماری کہکشاں کے پڑوس میں ہے لیکن سب سے علیحدہ ہے اور کسی دوسرے نظام سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتی۔


    ناسا کے مطابق، ڈبلیو ایل ایم کہکشاں ماہرین فلکیات کے لیے دلچسپ ہے کیونکہ یہ بڑی حد تک الگ تھلگ رہی ہے اور ابتدائی کائنات میں کہکشاؤں کی طرح کیمیکل میک اپ رکھتی ہے۔

    سیاروی دفاع کی پہلی کامیاب آزمائش،ناسا کا تجرباتی خلائی جہاز سیارچے سے ٹکرا گیا

    ویب دوربین، جو دسمبر 2021 میں لانچ کی گئی، آج تک کی سب سے طاقتور خلائی رصد گاہ ہے۔ یہ ناقابل یقین حد تک دور کی کہکشاؤں کی مدھم روشنی کا پتہ لگانے کے قابل ہے کیونکہ وہ انفراریڈ روشنی میں چمکتی ہیں، ایک طول موج انسانی آنکھ سے پوشیدہ ہے۔

    تصویر میں مختلف رنگوں، سائزوں، درجہ حرارت، عمروں، اور ارتقاء کے مراحل کے انفرادی ستاروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ کہکشاں کے اندر نیبولر گیس کے دلچسپ بادل پیش منظر کے ستارے جس میں ویب کے پھیلاؤ والے اسپائکس ہیں۔ اور پس منظر کی کہکشائیں جن میں سمندری دم جیسی صاف خصوصیات ہیں-

    کرسٹن میک کوئن، نیو جرسی کے پسکاٹا وے میں رٹگرز یونیورسٹی کے شعبہ طبیعیات اور فلکیات کے اسسٹنٹ پروفیسر نے ناسا کی ویب سائٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک تبصرے میں کہا۔ ایک سمندری ستاروں کی ایک پتلی "دم” ہے اور ایک کہکشاں کو پھیلانے والی انٹرسٹیلر گیس۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد