Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

    ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کے اعزاز سے محروم ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : 2021 سے ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص قرار دیئے جارہے تھے اور یہ اعزاز انہوں نے ایمازون کے بانی جیف بیزوس سے لیا تھا تاہم اب فوربز اور بلومبرگ دونوں کی امیر ترین افراد کی رئیل ٹائم فہرست میں ایلون مسک کی جگہ فرانس سے تعلق رکھنے والے برنارڈ آرنلٹ کو دنیا کا امیر ترین شخص قرار دیا گیا ہے برنارڈ آرنلٹ کے اثاثوں میں حالیہ مہینوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، وہ اکتوبر میں 137 ارب ڈالرز کے مالک تھے۔

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    فوربز کی فہرست میں پرتعیش اشیا بنانے والی کمپنی ایل وی ایم ایچ کے سی ای او برنارڈ آرنلٹ نے پہلے 7 دسمبر اور پھر 8 دسمبر کو کچھ گھنٹوں کے لیے ایلون مسک کو پیچھے چھوڑا تھا مگر ٹیسلا کے بانی دوبارہ دنیا کے امیر ترین شخص بن گئے تھے۔

    فوربز کی رئیل ٹائم بلین ائیر لسٹ کے مطابق اس وقت 73 سالہ برنارڈ آرنلٹ 188.6 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں اس کے مقابلے میں ایلون مسک اس وقت 176.8 ارب ڈالرز کے مالک ہیں۔

    اسی طرح بلومبرگ کی بلین ائیر لسٹ کے مطابق برنارڈ آرنلٹ 171 ارب ڈالرز کے ساتھ دنیا کے امیر ترین شخص ہیں جبکہ ایلون مسک 164 ارب ڈالرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں تیسرے نمبر پر بھارتی بزنشس مین گوتم ایڈنی چوتھت نمبر پر ایمازون کے بانی جیف بیزوس اور لسٹ میں پانچویں نمبر پر بل گیٹس ہیں-

    انگلینڈ کے سابق آل راؤنڈر اینڈریو فلنٹوف کار حادثے میں زخمی

    ایلون مسک ستمبر 2021 سے فوربز جبکہ جنوری 2021 سے بلومبرگ کی فہرست میں دنیا کے امیر ترین شخص کا اعزاز اپنے نام کیے ہوئے تھے نومبر 2021 میں ایلون مسک کے اثاثے 340 ارب ڈالرز تک پہنچ گئے تھے مگر ایک سال سے زائد عرصے کے دوران ان کی دولت میں 58 فیصد تک کمی آئی ہے۔

    ایلون مسک کی دولت میں 2022 کے دوران 100 ارب ڈالرز سے زیادہ کی کمی آچکی ہے جس کی وجہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنا ہے اسی طرح ٹوئٹر کی 44 ارب ڈالرز سے خریداری سے بھی ان کے اثاثوں میں کمی آئی۔

    سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان فوجی تعاون کے معاہدے پر دستخط:ایران کوسخت تشویش

  • جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    جوہری فیوژن توانائی کے حصول میں انتہائی اہم پیشرفت

    کیلیفورنیا: امریکا کے حکومتی سائنسدانوں نے فیوژن توانائی کے حصول میں ایک انتہائی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : جوہری توانائی کے حصول میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، نئی تحقیق کےمطابق جوہری فیوژن (ایسا عمل جس میں ٹھوس مادہ تبدیل ہو کر مائع بن جاتا ہے) تقریباً لامحدود توانائی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واضح رہے کہ ہمارا سورج نیوکلیائی فیوژن (عملِ گداخت) کے ذریعے توانائی پیدا کرتا ہے جس میں ہائیڈروجن ایٹم باہم مل کر ہیلیئم بناتے ہیں۔ اس عمل میں غیرمعمولی توانائی حاصل ہوتی ہے۔

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں قائم لارنس لِیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دانوں نے حال ہی میں پہلی بار ایک فیوژن ری ایکشن میں اضافی توانائی کی پیداوار حاصل کی ہے جو خرچ کی جانے والی توانائی سے زیادہ ہے۔

    لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں واقع نیشنل اگنیشن فیسلٹی (این آئی ایف) نے لیزر استعمال کرتے ہوئے پہلے 2.1 ملین جول توانائی خرچ کی اور اس سے 2.5 ملین جول توانائی حاصل کی۔

    تحقیق میں شامل ماہرین نے جوہری فیوژن کے تجربے کو کاربن سے پاک توانائی کے حصول میں اہم کامیابی قرار دیا ہے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    کیلی فورنیا یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تقریباً لامحدود،محفوظ اور صاف توانائی کےذریعے کو دریافت کرنے میں پیش رفت کی ہے اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر مضر گیسیں خارج نہیں ہوتیں جبکہ پیٹرول، کوئلے اور دیگر ذرائع کی توانائی سے مضر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے جس سے ہمارے موسمیاتی توازن اور ماحول پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

    لیبارٹری تجربے میں اگنیشن(ignition) نامی جوہری فیوژن کے رد عمل سے زیادہ توانائی حاصل ہوئی، جوہری فیوژن میں ہائیڈ روجن جیسے ہلکے عناصر کو ایک ساتھ توڑنے کے عمل سے توانائی کا بہت بڑا اخراج ہوتا ہے۔

    اگرچہ روایتی بجلی گھروں کی طرح فیوژن پاور اسٹیشن کی منزل ابھی بہت دور ہے لیکن دنیا میں رکازی (فاسل) ایندھن سے اجتناب اور صاف توانائی کے حصول میں اسے ایک اہم پیشرفت قرار دیا جارہا ہے۔

    واضح رہے کہ جوہری فیوژن پر تحقیق کا آغاز 1950 سے ہوا،محققین مثبت توانائی حاصل کرنے کا مظاہرہ کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

    آرٹیمس مشن 21 نومبر کو چاند کے مدار میں داخل ہوجائے گا،ناسا

  • جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک،بوٹانیکل گارڈن تتلیوں کے لیےبہترین جائے پناہ

    مختلف پھولوں، پودوں اور نباتات سے بھرے بوٹانیکل گارڈن (نباتاتی باغ) بڑے پارک کے مقابلے میں تتلیوں کے لیے ایک بہترین جائے پناہ اور گھر ثابت ہوتے ہیں کیونکہ جنوب مغربی امریکہ کی آب و ہوا مسلسل گرم اور خشک ہوتی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں مسلسل 20 برس تک 10 ہزار سے زائد نباتاتی باغوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ تتلیوں کے لیے نباتاتی باغ زیادہ اہم ہوتے ہیں یا پھر شہروں کے عام باغات زیادہ موزوں ہوتے ہیں۔

    برطانیہ میں شدید برفباری سے مواصلات کا نظام بری طرح متاثر ،ڈیڑھ سو پروازیں منسوخ

    انسیکٹس نامی جرنل میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکا کے کئی پرہجوم شہروں مثلاً ٹکسن، فینکس، پام ڈیزرٹ، کیلیفورنیا، نیو میکسکو، ایل پاسو اور ٹیکساس وغیرہ میں مصرف عمارتوں کے درمیان میں موجود بوٹانیکل گارڈن میں تتلیوں کی اقسام اور تعداد کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے پام ڈیزرٹ کو چھوڑ کر باقی تمام شہروں میں سالانہ 11 انچ بارش ہی ہوتی ہے۔

    اگرچہ عام باغ اور پارک کے مقابلے میں بوٹانیکل گارڈن بہت چھوٹے ہوتے ہیں لیکن ان میں دیگر کے مقابلے میں تتلیوں اور ان کی اقسام قدرے زیادہ دیکھی گئی ہیں۔ یعنی نباتاتی باغات میں اگر تتلیوں کا تنوع دیکھا جائے تو وہ 86 فیصد تک ہوسکتا ہے۔

    بچوں کی جھیل میں ڈوب کر ہلاکت کی خبرنے براہ راست نشریات کے دوران میزبان کو جذباتی کردیا

    پوری دنیا میں تتلیوں اور شہد کی مکھیوں کی آبادی تیزی سے کم ہورہی ہے جس پر ماہرین پریشان ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پوری دنیا میں ہر سال ڈیڑھ فیصد تتلیاں ختم ہورہی ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ کمی مونارک تتلیوں میں ہوئی ہیں جس کی عالمی تعداد 90 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ اس کیفیت میں شہروں کے نباتاتی باغ ان کے لیے بہترین جائے پناہ بن سکتے ہیں جہاں وہ پھلتی پھولتی ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ ماہرین نے انہیں تتلیوں کی سبز جائے پناہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب نباتاتی باغ معدومیت کے شکار پودوں اور درختوں کو بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ آب و ہوا میں تبدیلی، فضائی آلودگی اور قدرتی پناہ گاہوں کے خاتمے سے تتلیوں کی بقا کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔

    آئی ایل ٹی ٹونٹی کا آفیشل ترانہ ” ہلہ ہلہ “ ریلیز

  • ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    ملازمت کی جگہ دائمی جوڑوں کی بیماری کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے،تحقیق

    لندن: ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں بتایا ہے کہ جس جگہ آپ نوکری کرتے ہیں وہاں کی ہوا آپ کو رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : اینلز آف دی رہیومیٹکس ڈیزیز نامی ایک جرنل میں حال ہی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ملازمت کی جگہ زہریلے بخارات، گیسز اور محلول کے دھوئیں یا غبار میں سانس لینا لوگوں میں دائمی آٹو امیون جوڑوں کی بیماری کے امکانات بڑھا سکتا ہے۔

    تحقیق کے لیے محققین نے 4000 افراد سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا جو ایک سوئڈش مطالعے کے لیے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان تمام افراد میں 1996 سے 2017 کے درمیان تازہ تازہ اس بیماری کی تشخیص ہوئی تھی۔

    ٹیم نے ان تمام افراد کی نوکریوں کے متعلق چھان بین کی تاکہ یہ اندازہ لگا سکیں ان کی نوکریوں کی جگہ پر 32 ایجنٹس کے بخارات میں سے کونسا موجود تھا۔

    تحقیق سے معلوم ہوا کہ دھوئیں اور گرد و غبار میں سانس لینے کا تعلق اس بیماری کے خطرات میں اضافے سے تھا۔ مزید یہ کہ سیگریٹ نوشی یا جینیاتی عوامل کے سبب لاحق خطرات میں بھی یہ چیز اضافہ کرتی ہے۔

    پوری نیند خواتین کو عملی زندگی میں کامیاب بنا سکتی ہے. تحقیق

    محققین کا کہنا تھا کہ 32 میں سے 17 ایجنٹس، جن میں ایسبیسٹوس، کوارٹز، ڈیزل کا دھواں، پیٹرول کا دھواں، کاربن مونو آکسائیڈ اور فنگیسائڈز شامل ہیں، کا تعلق اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس سے تعلق تھا۔

    تحقیق میں محققین نے دیکھا کہ ملازمت کی جگہ پر موجود اس قسم کے کسی آلودگی میں سانس لینے کا تعلق رہیومیٹائڈ آرٹھرائٹس کی ایک قسم میں مبتلا ہونے کے امکانات میں 25 فی صد اضافے سے ہے جو اینٹی سیٹریولینیٹڈ پروٹین اینٹی باڈیز(اے سی پی اے) کی موجودگی میں مزید بد تر ہوجاتی ہے مردوں میں اس بیماری کے خطرات میں 40 فی صد تک اضافہ دیکھا گیا۔

    محققین کا کہنا تھا کہ اے سی پی اے مثبت رہیومیٹائڈ آرتھررائٹس میں مبتلا افراد کو بدتر طبی صورتحال کا سامنا ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ان کے جوڑ بہت خرابی سے گزرتے ہیں۔

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    رہیومیٹائڈ آرتھرائیٹس ایک دائمی آٹو امیون بیماری ہوتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں میں سوزش اور تکلیف ہو جاتی ہے۔ آٹو امیون بیماریاں وہ بیماریاں ہوتی ہیں جس میں جسم کا قدرتی نظام صحت مند اور متاثر خلیوں کو بلا امتیاز ختم کرنا شروع ہو جاتا ہے۔

  • یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای نے چاند پر لینڈ کرنے والا مشن روانہ کر دیا

    یو اے ای کا چاند کی سطح پر اترنے والا روور راشد اسپیس ایکس کے راکٹ کے ذریعے امریکی ریاست فلوریڈا کے لانچ سینٹر سے خلائی سفر پر روانہ کیا گیا۔

    باغی ٹی وی : سی این این کے مطابق اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ 11 دسمبر کو فلوریڈا کے کیپ کیناورل اسپیس فورس اسٹیشن سے لانچ کیا گیا، جو عربوں کے بنائے ہوئے پہلے قمری خلائی جہاز کو خلا میں لے گیا۔

    راشد روور کو دبئی کے محمد بن راشد اسپیس سینٹر (MBRSC) نے متحدہ عرب امارات (UAE) میں بنایا تھا، اور اسے HAKUTO-R لینڈر کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے، جسے جاپانی قمری تلاش کرنے والی کمپنی ispace نے انجنیئر کیا ہے۔ اگر لینڈنگ کامیاب ہو جاتی ہے، تو HAKUTO-R چاند پر کنٹرول لینڈنگ کرنے والا پہلا تجارتی خلائی جہاز بھی بن جائے گا۔

    یہ مشن چاند تک کم توانائی کا راستہ اختیار کر رہا ہے اور اپریل 2023 کے آس پاس پہنچنا ہے وہاں پہنچنے کے بعد، روور اپنے اہم کاموں کو انجام دیتے ہوئےسطح پر ایک قمری دن (زمین پر 14.75 دنوں کے برابر) گزارے گایہ دوسرا قمری دن ثانوی آپریشنز کرنے میں گزارے گا، یہ جانچنے کے لیے کہ آیا روور چاند کے رات کے سخت ماحول سے بچ سکے گا، اس سے پہلے کہ وہ ختم ہو جائے۔

    اس راکٹ میں روور کے ساتھ ساتھ ایک جاپانی کمپنی آئی اسپیس کا لینڈر بھی موجود ہے جو چاند کی سطح سے گرد کو اکٹھا کرکے امریکی خلائی ادارے ناسا کو فروخت کرے گا اس طرح یہ پہلی بار ہوگا جب چاند کو کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    لانچ کے 35 منٹ بعد آئی اسپیس لینڈر راکٹ سے الگ ہوگیا جس کے اوپر یو اے ای کا روور بھی موجود تھا لینڈر کے الگ ہونے کے بعد اسپیس ایکس کا فالکن 9 راکٹ کامیابی سے واپس زمین پر لینڈ کرگیا۔

    یو اے ای اس سے قبل مریخ پر مشن کو کامیابی سے بھیج چکا ہے مگر پہلی بار وہ چاند کی سطح پر روور کو اتارنا چاہتا ہے اس روور کا وزن 10 کلوگرام ہے اور اگر یہ کامیابی سے چاند کی سطح پر اتر جاتا ہے تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی مسلم ملک کا مشن وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگا۔

    اس روور میں 2 ہائی ریزولوشن کیمرے، مائیکرو اسکوپک کیمرے، تھرمل امیج کیمرے اور دیگر ڈیوائسز نصب ہیں اور اس کی مدد سے چاند کی سطح پر تحقیق کی جائے گی ویسے تو لانچ کامیاب رہا ہے مگر چاند پر اترنا بھی آسان نہیں کیونکہ ایسے ایک تہائی سے زیادہ مشنز ناکام رہتے ہیں۔

    اب تک صرف امریکا، چین اور روس کے مشن ہی چاند پر لینڈ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مگر جاپان اور یو اے ای کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہونے والا ہے۔

    حالیہ برسوں میں بھارت اور اسرائیل کے چاند پر بھیجے جانے والے مشنز کو ناکامی کا سامنا ہوا تھا یہ لینڈر اور روور 5 ماہ میں چاند کی سطح پر پہنچیں گے چاند پر کوئی آب و ہوا نہیں تو لینڈرز کو اترنے کے لیے پیچیدہ طریقہ کار پر عمل کرنا ہوتا ہے۔


    یو اے ای کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ راشد روور یو اے ای کے خلائی پروگرام کا حصہ ہے جس کا آغاز مریخ پر پہنچنے سے ہوا۔

  • آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیاں اور قدرتی جڑی بوٹیاں کینسر کا علاج کر سکتی ہیں

    ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا ہے کہ آلو اور ٹماٹر سمیت دیگر سبزیوں اور قدرتی جڑی بوٹیوں اور پودوں میں پائے جانے والے خصوصی اجزا کینسر کے علاج میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : طبی جریدے فرنٹیئرز ان فارماکولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق پولینڈ اور برطانیہ کے ماہرین نے مختلف تحقیقات کا جائزہ لیا، جن سے یہ دریافت ہوا کہ آلو اور ٹماٹر سمیت مختلف سبزیوں اور پودوں میں پائے جانے والے گلائیکول کلوئیڈز اجزا کینسر کے علاج میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔

    گلائیکول کلوئیڈز دراصل نائٹروجن اورمختلف کیمیکلزکا ایک گروہ ہےجو کہ سبزیوں، پودوں اور جڑی بوٹیوں میں پائے جاتے ہیں گلائیکول کلوئیڈز عام طور پر پانچ مختلف کیمیکل کا گروپ ہوتا ہے،جن میں سولانائن، چاکونین، سولاسونین، سولا مارگین اور ٹماٹین شامل ہیں یہ اجزا عام طور پر ٹماٹر، آلو، بینگن اور کالی مرچوں میں پائے جاتے ہیں، تاہم یہ اجزا مختلف جڑی بوٹیوں اور پودوں میں بھی ہوتے ہیں۔

    ماہرین نے ان ہی اجزا کا کینسر کے علاج اور مرض پر اثر دیکھنے کے لیے تحقیق کی، جس سے معلوم ہوا کہ یہ اجزا موذی مرض کے علاج کے دوران فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ گلائیکول کلوئیڈز پر مبنی پانچوں اجزا کینسر کے مریض کو کیمو تھراپی کے دوران فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔

    ماہرین کے مطابق یہ اجزا صرف کینسر کے سیلز کو نشانہ بناتے ہیں، تاہم یہ صحت مند سیلز کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے جبکہ کیمو تھراپی کے دوران دوا کینسر کے سیلز سمیت صحت مند سیلز کو بھی نشانہ بناتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کمزور پڑ جاتا ہے۔

    اس بات پر ابھی تحقیق ہونا باقی ہے کہ مذکورہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) اجزا کو کس طرح استعمال کرنے سے کینسر کے علاج فائدہ ہو سکتا ہے تحقیق میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ’گلائیکول کلوئیڈز‘ (glycoalkaloids) براہ راست کینسر کا علاج کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں یا نہیں؟

  • قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے شمالی گرین لینڈ کے منجمد صحرا سے 20 لاکھ سال پرانا جینیاتی مواد (ڈی این اے) دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میں شائع ہونے والی اس دریافت سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ خطہ لاکھوں سال قبل ہاتھی، قطبی ہرن اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کا گھر تھا یہ خطہ کسی زمانے میں جنگل سے ڈھکا ہوا تھا مگر آج یہاں سبزہ نظر ہی نہیں آتا آج، یہ ایک بنجر آرکٹک ریگستان ہے، لیکن اس وقت یہ درختوں اور پودوں کا ایک سرسبز منظر تھا-

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    محققین نے بتایا کہ انہوں نے شمالی گرین لینڈ کے ساحلی علاقے Kap Kobenhavn سے حاصل کیے گئے 41 نمونوں میں دنیا کے قدیم ترین جینیاتی مواد کو دریافت کیا نمونے نامیاتی مرکبات سے بھرپور تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے نمونوں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہاں متعدد جاندار، پودے اور جرثومے پائے جاتے تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب ہم 20 لاکھ سال پرانے ڈی این اے کو دیکھ رہے ہیں جس سے زمانہ قدیم میں گم ہوجانے والی دنیا کا علم ہوتا ہےتحقیق کے دوران جینیاتی مواد سے اس خطے میں کم از کم 102 جانداروں کی موجودگی کے بارے میں علم ہوا۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور گلیشیئر کے ماہر کرٹ کجر نے کہا کہ "مطالعہ ایک ایسے ماضی کا دروازہ کھولتا ہے جو بنیادی طور پر کھو چکا ہے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    محققین نے مٹی کے نمونوں سے ماحولیاتی ڈی این اے، جسے ای ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، نکالا یہ وہ جینیاتی مواد ہے جسے جاندار اپنے گردونواح میں بہاتے ہیں – مثال کے طور پر، بال، فضلہ، تھوکنے یا گلنے والی لاشوں کے ذریعے۔

    واقعی پرانے ڈی این اے کا مطالعہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے کیونکہ جینیاتی مواد وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ جاتا ہے اور سائنسدانوں کو صرف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔

    لیکن جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ، محققین ڈی این اے کے چھوٹے، تباہ شدہ بٹس سے جینیاتی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر جینیاتی ماہر ایسکے ولرسلیو نے وضاحت کی۔

    نیچر جریدے میں بدھ کو شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں، انہوں نے ڈی این اے کا موازنہ مختلف پرجاتیوں کے ڈی این اے سے کیا، جو مماثلت کی تلاش میں تھے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    اس سے قبل ماہرین نے 2006 میں نمونے جمع کرکے ڈی این اے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت انہیں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔

    مگر اس کے بعد سے لاکھوں سال پرانے ڈی این اے کو دریافت کرنے کی ٹیکنالوجی بہتر ہوئی اور سائنسدان 16 سال کی کوششوں کے بعد یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

  • واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے صارفین کیلئے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    دنیا بھر میں مقبول ایپلیکیشن واٹس ایپ نے صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرا دیا ہے-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ صارفین اب اپنے تھری ڈی اواتار بناسکیں گے یہ فیچر پہلے ہی میٹا کی دیگر ایپس فیس بک، انسٹاگرام اور میسنجر میں دستیاب تھا اور اب اسے واٹس ایپ میں متعارف کرایا جارہا ہے۔

    ایس ایم ایس کی سہولت کے 30 برس مکمل ہو گئے

    واٹس ایپ نے ایک بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ ان تھری ڈی اواتار کو پروفائل فوٹو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکے گا اسی طرح صارفین کے اواتار کے مطابق 36 کاسٹیوم اسٹیکرز بھی دستیاب ہوں گے جن کو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرسکیں گے۔

    فیچر کو صارفین کے لیے متعارف کرانے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےآئی او ایس اور اینڈرائیڈ صارفین کو بتدریج یہ فیچر دستیاب ہوگا۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    اس فیچر کے استعمال کیلئے فون میں واٹس ایپ کو اوپن کرکے تھری ڈاٹ مینیو سے سیٹنگز میں جائیں تو وہاں Avatars کا سیکشن آپ کو نظر آئے گا (اگر فیچر آپ تک پہنچ گیا ہو تو) اس سیکشن پر کلک کرے آپ اپنی پسند کے تھری ڈی اواتار کو تیار کرسکتے ہیں۔

    اسی طرح آئی او ایس یا اینڈرائیڈ پر کسی چیٹ باکس میں اسٹیکر کے آپشن پر جاکر اس اواتار کے اسٹیکرز دوستوں کو بھیج سکتے ہیں۔

    گوگل نے رواں سال سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی اشیا کی فہرست جاری کردی

  • اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    اگر امریکی کانگریس نے میڈیا بل منظور کیا تو فیس بک سے خبریں ہٹا دیں گے،میٹا

    میٹا نے انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ بل کی منظوری دی گئی تو فیس بک پر خبروں سے متعلق تمام مواد ہٹا دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے اس بل میں میڈیا اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے گوگل اور فیس بک سے مالی معاملات پر مذاکرات کو آسان بنایا جائے گا۔

    اس معاملے پر بریفنگ دینے والے ذرائع نے بتایا کہ قانون ساز صحافیوں کے مقابلہ اور تحفظ کے ایکٹ کو سالانہ دفاعی بل میں شامل کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مقامی نیوز انڈسٹری کی جدوجہد میں مدد مل سکے۔

    امریکی ایوان نمائندگان کے اراکین کی جانب سےصحافیوں کےمقابلہ اورتحفظ کےایکٹ ( Journalism Competition and Preservation Act) کو سالانہ دفاعی بل کا حصہ بنانے پر غور کیا جارہا ہے تاکہ مقامی میڈیا انڈسٹری کو مدد فراہم کی جاسکے۔


    میٹا کے ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ اگر یہ قانون منظور ہوا تو کمپنی کی جانب سے خبروں کو ہٹانے پر غور کیا جائے گا ہم میڈیا اداروں کو ٹریفک اور سبسکرپشنز بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں –

    انہوں نے مزید کہا کہ تجویز یہ تسلیم کرنے میں ناکام ہے کہ پبلشرز اور براڈکاسٹرز پلیٹ فارم پر مواد ڈالتے ہیں کیونکہ "اس سے ان کی نچلی لائن کو فائدہ ہوتا ہے –

    نیوز میڈیا الائنس، ایک تجارتی گروپ جو اخبارات کے پبلشرز کی نمائندگی کرتا ہے، کانگریس پر زور دے رہا ہے کہ وہ اس بل کو دفاعی بل میں شامل کرے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ مقامی کاغذات بگ ٹیک کے استعمال اور غلط استعمال کے مزید کئی سال برداشت نہیں کر سکتے، اور کارروائی کرنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

    اسی طرح کے قانون کا اطلاق آسٹریلیا مارچ 2021 میں ہوا تھا جس کے بعد فیس بک نے نیوز فیڈ کو بند کردیا تھا مگر پھر اسے بحال کردیا تھا امریکی بل کے تحت گوگل یا فیس بک پر اگر کسی خبر پر کلک کیا جائے گا تو میڈیا اداروں کو اشتہاری آمدنی میں سے حصہ دینا ہوگا۔

    انڈونیشیا کے صوبے مشرقی جاوا میں آتش فشاں پہاڑ پھٹ پڑا، 2,000 رہائشی نقل مکانی پر…

  • ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    ایلون مسک سے ملاقات کے بعد دنیا کے پہلے خلائی سیاح کا بڑا اعلان کرنے کا فیصلہ

    دنیا کے پہلے خلائی سیاح جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ کیا کہ وہ اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک سے ملاقات کے بعد بہت جلد خلا سے متعلق ‘بڑا اعلان’ کرنے والے ہیں-

    باغی ٹی وی : "روئٹرز” کے مطابق جاپانی ارب پتی یوساکوما یزاوا ایک آن لائن فیشن کمپنی کے بانی ہیں اور انہوں نے دسمبر 2021 میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن (آئی ایس ایس) جاکر پہلے خلائی سیاح کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

    وہ 2023 میں ایلون مسک کی کمپنی کے ذریعے چاند کے سفر کی منصوبہ بندی بھی کررہے ہیں، مگر ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ مشن شیڈول کے مطابق روانہ ہوتا ہے یا نہیں۔


    47 سالہ یوساکوما یزاوا نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ایلون مسک سے ان کی آن لائن ملاقات ہوئی اور وہ 9 دسمبر کو خلا سے متعلق بڑا اعلان کرنے والے ہیں۔

    جنوبی افریقا میں چرچ جانے والا قافلہ سیلاب میں بہہ گیا؛ 14 افراد ہلاک

    اگر 2023 کو اسپیس ایکس کا چاند پر بھیجے جانے والا مشن روانہ ہوا تو یوساکوما یزاوا وہاں جانے والے پہلے پرائیویٹ مسافر بن سکتے ہیں انہیں ستمبر 2018 میں اسپیس ایکس نے چاند کے پہلے نجی سیاحتی دورے کے لیے منتخب کیا تھا۔

    ایک میوزک بینڈ میں ڈرمر سے مقبولیت حاصل کرنے والے میزاوا، اپنے توجہ حاصل کرنے والے سٹنٹس کی وجہ سے بھی خاصے مشہور ہیں کپڑوں کی آن لائن جاپانی کمپنی زوزو کے بانی میزاوا نے فیشن انڈسٹری سے دولت کمائی اپنی دولت کا بڑا حصہ وہ آرٹ پر خرچ کرتے ہیں-

    ٹِک ٹاک ایپ سے امریکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں. ایف بی آئی