Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • کیا "فیس بک” خود کو ایک جال میں پھنسا رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا بڑا ادارہ اپنی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرسکتا ہے

    کیا "فیس بک” خود کو ایک جال میں پھنسا رہا ہے کیونکہ سوشل میڈیا کا بڑا ادارہ اپنی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرسکتا ہے

    سماجی رابطوں کی عیبسائٹ ٹویٹر پر "RT” نے ایک پوسٹ جاری کی ہے جس میں ایک میٹر دکھایا گیا. میٹر کی ایک سائڈ پر لکھا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر سب آزاد ہیں جبکی دوسری سائڈ پر لکھا ہے کہ ہم کدی کع بھی اس پلیٹ فارم سے نکال سکتے.

    میٹر کی سوئی کبھی ایک سائڈ پر جا رہی اور کبھی دوسری سائڈ پر جس کا مطلب یہ ہے کہ سب کچھ فیس بک کے ہاتھوں میں ہے.

    ٹویٹر پر "RT” کی جانب سے اس پوسٹ پر لعگ کئی طرح کے تبصرے کر رہی ہیں. ایک صارف کا کہنا تھا کہ یہ سب انسٹاگرام اور ٹویٹر پر بھی ہو رہا.

    https://twitter.com/amitesh_rockz/status/1175700911563264002?s=09

    https://twitter.com/kung_fu_koala/status/1175696717389410306?s=09

  • 80سالہ ذہین بوڑھوں کے دماغ 20 سال جیسے کیسے ہوتے؟

    80سالہ ذہین بوڑھوں کے دماغ 20 سال جیسے کیسے ہوتے؟

    ایسا لگتا ہے کہ سپر بوڑھے”علمی فعل میں کمی سے بچتے ہیں جو بوڑھوں کی زیادہ تر آبادی کو متاثر کرتی ہے۔

    نئی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی وجہ دماغ کے اہم نیٹ ورکس میں اعلی فعال رابطے ہیں۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی مخصوص وجہ کیا ہے ، لیکن تحقیق نے متعدد سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے جو بڑھاپے میں دماغ کی زیادہ سے زیادہ صحت کو ترغیب دیتے ہیں۔

    ہمارے 20 یا 30 کی دہائی میں کسی وقت ، ہمارے دماغوں میں کچھ تبدیل ہونا شروع ہوتا ہے۔ وہ تھوڑا سا سکڑنا شروع کردیتے ہیں۔ مائلین جو ہمارے اعصاب کو گرم کر دیتی ہے وہ اپنی کچھ دیانتداری کھونے لگتا ہے۔ کم اور کم کیمیکل پیغامات بھیجے جاتے ہیں کیوں کہ ہمارے دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر کم ہوتے ہیں۔

    جیسے جیسے ہم عمر بڑھتے جاتے ہیں ، یہ عمل بڑھتے جاتے ہیں۔ دماغ کے وزن میں 40 کے بعد فی دہائی میں تقریبا 5 فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔ فرنل لاب اور ہپپوکیمپس – میموری انکوڈنگ سے متعلق علاقے – بنیادی طور پر 60 یا 70 کے لگ بھگ سکڑنا شروع کردیتے ہیں۔ لیکن یہ صرف ایک بدقسمتی حقیقت ہے۔ آپ ہمیشہ جوان نہیں رہ سکتے ، اور چیزیں بالآخر ٹوٹنا شروع ہوجائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد یہ سمجھتے ہیں کہ وقت کے بدترین اثرات میں ڈوبنے سے پہلے ، ہم سب کو 75 کی زندگی کی زندگی کی امید کرنی چاہئے۔

    لیکن یہ ایک لمبا وقت سے پہلے ہوسکتا ہے۔ کچھ خوش قسمت افراد ہمارے دماغ پر کام کرنے والی ان تباہ کن قوتوں کے خلاف مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں۔ علمی آزمائشوں میں ، یہ 80 سالہ "سپر ایجرز” اپنے 20 کی دہائی کے افراد کی طرح ہی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

    اتنے شاتر کیسے؟

    یہ جاننے کے لیے کہ عمر رسیدہ افراد کے رجحان کے پیچھے کیا ہے ، محققین نے دو گروپوں کے دماغ اور علمی پرفارمنس کی جانچ پڑتال کی۔ یہ عمر 18 اور 35 سال کی عمر کے 40 نوجوان اور 60 اور 80 سال کے درمیان 40 بوڑھے بالغوں کی ہے۔

    سب سے پہلے ، محققین نے کئی طرح کے علمی تجربات کیے ، جیسے کیلیفورنیا وربل لرننگ ٹیسٹ (سی وی ایل ٹی) اور ٹریل میکنگ ٹیسٹ (ٹی ایم ٹی)۔ پرانے گروپ کے سترہ ارکان نے چھوٹے گروپ کے اوسط اسکور پر یا اس سے زیادہ گول کیا۔ یعنی ، ان 17 کو سپر ایجر سمجھا جاسکتا ہے ، جو اسی طرح کی سطح پر کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں جیسے چھوٹے مطالعے کے شرکاء۔ ان افراد کے علاوہ ، بوڑھے گروپ کے ممبروں نے علمی امتحانات پر کم کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ اس کے بعد ، محققین نے دماغ کے دو حصوں: ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک اور سیلینیسیس نیٹ ورک پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ، ایف ایم آر آئی میں تمام شرکاء کے دماغ کو اسکین کیا۔

    ڈیفالٹ موڈ نیٹ ورک ، جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہوسکتا ہے ، دماغی خطوں کی ایک سیریز ہے جو بطور ڈیفالٹ فعال ہوتی ہے – جب ہم کسی کام میں مصروف نہیں ہوتے ہیں تو ، وہ اعلی سطح کی سرگرمی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ کسی کے اپنے بارے میں سوچنے ، دوسروں کے بارے میں سوچنے کے ساتھ ساتھ یادداشت کے پہلوؤں اور مستقبل کے بارے میں سوچنے سے بھی بہت وابستہ ہے۔

    بڑھاپے میں دماغ کی صحت کو کیسے یقینی بنائیں؟

    اگرچہ اس سے قبل کی تحقیق نے کچھ جینیاتی اثرات کی نشاندہی کی ہے کہ کس طرح دماغ کی عمر کو "احسان” سے دوچار کیا جاتا ہے ، لیکن ایسی سرگرمیاں موجود ہیں جو دماغ کی صحت کی حوصلہ افزائی کرسکتی ہیں۔ اس مطالعے میں محققین میں سے ایک بریڈفورڈ ڈیکرسن نے ایک بیان میں کہا ، "ہم امید کرتے ہیں کہ ہم ان چیزوں کی نشاندہی کریں جو ہم لوگوں کے لکھ سکتے ہیں جو انھیں زیادہ تر افراد کی طرح ہونے میں مدد فراہم کریں گے۔” "یہ گولی کا اتنا ہی امکان نہیں ہے جتنا کہ طرز زندگی ، غذا اور ورزش کی سفارشات کی جاسکتی ہے۔ اس مطالعہ کا یہ ایک طویل مدتی اہداف ہے – تاکہ اگر وہ چاہیں تو لوگوں کو مغوی بننے میں مدد کریں۔”

    آج تک ، ان طریقوں کے کچھ ابتدائی ثبوت موجود ہیں جن کی مدد سے آپ اپنے دماغ کو لمبا لمبا رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ، زیادہ تعلیم اور شعوری طور پر مطالبہ کرنے والی ملازمت کی پیش گوئی ہے کہ بڑھاپے میں اعلی علمی قابلیت موجود ہے۔ عام طور پر ، "اس کا استعمال کریں یا اسے کھوئے” کی کہاوت درست ثابت ہوتی ہے۔ علمی طور پر فعال طرز زندگی رکھنے سے بڑھاپے میں آپ کے دماغ کی حفاظت ہوتی ہے۔ لہذا ، یہ آپ کے سنہری سالوں کو بیئر اور سی ایس آئی کے دوبارہ کاموں سے پُر کرنے کی آزمائش میں مبتلا ہوسکتا ہے ، لیکن اس کا امکان نہیں ہے کہ آپ اپنا رخ برقرار رکھنے میں مدد کریں۔

    اپنے دماغ کو صحت مند رکھنے کے ان بدیہی طریقوں کے علاوہ ، باقاعدگی سے ورزش بڑھاپے میں علمی صحت کو فروغ دینے میں ظاہر ہوتی ہے ، جیسا کہ ڈکسنسن نے ذکر کیا۔ غذا بھی ایک حفاظتی عنصر ہے ، خاص طور پر کھانے میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ (جو مچھلی کے تیل میں پایا جاسکتا ہے) ، پولیفینول (ڈارک چاکلیٹ میں پایا جاتا ہے) ، وٹامن ڈی (انڈے کی زردی اور سورج کی روشنی) ، اور بی وٹامن (گوشت ، انڈے اور پھلیاں)۔ اس بات کا بھی ثبوت موجود ہے کہ بڑھاپے میں صحت مند معاشرتی زندگی کا ہونا علمی زوال سے بچا سکتا ہے۔

    بہت سے لوگوں کے لئے ، بڑھاپے سے وابستہ جسمانی زوال زندگی کی بہتر زندگی کا متوقع ضمنی اثر ہے۔ لیکن یہ خیال کہ ہماری عقل بھی زوال پذیر ہوگی اس سے کہیں زیادہ خوفناک حقیقت ہوسکتی ہے۔ خوش قسمتی سے ، سپر ایجرز کا وجود ظاہر کرتا ہے کہ بہت کم سے کم ، ہمیں لڑائی کے بغیر علمی زوال کو قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

  • مریخ پر آدھی رات کو مقناطیسی نبضوں کا پتہ چلا

    مریخ پر آدھی رات کو مقناطیسی نبضوں کا پتہ چلا

    مریخ پر ایک ناسا روبوٹ غیرمعمولی نتائج بھیجتا ہے ، جس میں وقتی مقناطیسی دالیں شامل ہیں۔

    * سائنس دانوں نے مریخ پر ناسا کے انسائٹ لینڈر سے ابتدائی نتائج سامنے آئے۔

    * لینڈر نومبر 2018 سے مریخ پر ہے۔

    * اعداد و شمار میں مقناطیسی نبضوں کا پتہ لگانا ، مقامی آدھی رات کو ہوتا ہے۔

  • فیس بک نے اپنی 69 ہزار ایپلی کیشنز بند کردیں‌

    فیس بک نے اپنی 69 ہزار ایپلی کیشنز بند کردیں‌

    نیویارک : فیس بک نے اپنی ہزاروں ایپلیکیشنز بند کر دیں، فیس بک کے مطابق خارج کردہ ایپس قریب چار سو مختلف ڈیویلپرز کی ہیں جبکہ امریکی اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں بند کردہ ایپلیکیشنز کی تعداد انہتر ہزار بتائی ہے۔

    امریکی اخبار کے مطابق فیس بک میں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل میں سامنے آنے والے حقائق کے مطابق رائے عامہ کو ایک مخصوص سمت میں لے جانے کے لیے صارفین کا ڈیٹا استعمال کیا گیا، جو کہ پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

    یاد رہے برطانوی حکومت نے کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کی تحقیقات کے بعد فیس بک کو صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت نہ کرنے کے جرم میں 6 لاکھ 63 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

  • ادویات میں اضافہ

    ادویات میں اضافہ

    ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ
    تفصیلات کے مطابق چند ماہ سے ادویات غریب لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں محض 5 سے 6 ماہ میں ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے چند ماہ قبل اسی گورنمنٹ کے دور حکومت میں Septran DS فی بلسٹر 10 گولی 25 روپیہ تھا جو کہ اب 55 روپیہ اسی طرح Resochin 8 روپیہ سے 25 روپیہ Coldrex 12 روپیہ سے 24 روپیہ Basoquin 14 روپیہ سے 28 روپیہ Axidox12 روپیہ سے 32 روپیہ Basqopan plus 17 روپیہ سے 40 روپیہ Flygel 12 روپیہ سے 21 روپیہ Kestine 20 mg 207 روپیہ سے 277 روپیہ Stemetil 4 روپیہ سے 9 روپیہ فی بلسٹر پیک ہو گئے ہیں لوگ حیران ہیں کہ صرف چند ماہ میں ایسا کونسا معرکہ سر ہو گیا کہ ادویات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں درج بالا تمام ادویات فرسٹ ایڈ استعمال ہونے والی ہیں جبکہ جان بچانے والی ادویات سینکڑوں کے بجائے ہزاروں فی فیصد مہنگی ہو گئی ہے لوگوں کا کہنا ہے کہ ڈرگ کنٹرول اتھارٹی اور پرائس کنٹرول مینجمنٹ کیا کر رہے ہیں
    لوگوں نے وزیراعظم اور وزیراعلی سے استدعا کی ہے کہ آپ کے نوٹس کے باوجود بھی کمپنیوں نے اضافی واپس نہیں لیا لہذہ ان کمپنیوں کے خلاف کاروائی کرکے قیمتوں میں استحکام لایا جائے

  • گاڑی کا انجن فیل

    گاڑی کا انجن فیل

    قصور
    کوٹ رادہاکشن اسٹیشن پر علامہ اقبال ایکسپریس کا انجن فیل
    تفصیلات کے مطابق کراچی سے لاہور ،سیالکوٹ جانے والی علامہ اقبال ایکسپریس انجن کی خرابی کی بدولت پچھلے 3 گھنٹوں سے کوٹ رادہاکشن ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ہے مسافر پریشان تاہم ریلوے انتظامیہ کی طرف سے مسافروں کو ابھی تک یہ نہیں بتایا گیا کہ ابھی کتنی دیر تک انجن ٹھیک ہو جائے گا ہر بار پوچھنے پر تسلیوں پر ہی اکتفاء لوگ کی جانب سے انتظامیہ کو کوسا جا رہا ہے اور مسافروں کا کہنا ہے کہ ریلوے کا سارا نظام خراب ہو چکا ہے اول تو ٹرین وقت پر آتی نہیں اگر آ جائے تو کہیں نا کہیں ٹرین میں خرابی بن جاتی ہے جس سے مسافروں کے وقت کا ضیاع ہوتا ہے

  • اب پاکستان میں گاڑیاں پیٹرول کی بجائے بجلی پر چلیں گی

    اب پاکستان میں گاڑیاں پیٹرول کی بجائے بجلی پر چلیں گی

    حکومت نے ملک کا پہلا اسپیشل آٹو اکنامک زون بنانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اب گاڑیاں پیٹرول اور ڈیزل کی بجائے بجلی سے چلیں گی۔

    پاکستان میں 43 فیصد آلودگی کا سبب گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں ہے. تاہم پاکستان میں اب گاڑیوں میں پیٹرول کی جگہ لیتھیم کی بیٹریاں لگیں گی۔

    پہلے مرحلے میں 2 اور 3 اسٹروک گاڑیوں میں پیٹرول کی جگہ بیٹریز لگائی جائیں گی۔ اس کے علاوہ ایک نئی منی سلو سروس گاڑی بھی متعارف کروائی جائے گی۔

    وزیراعظم کے مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بتایا کہ چین کی طرز پر ایک چھوٹی آہستہ رفتار سے چلنے والی گاڑی متعارف کروائی جا رہی ہے جو کہ  35 سے 40 میل کی اسپیڈ سے چلتی ہے۔

    دوست ملک چین کی مدد سے الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت بھی قائم کی جائے گی جس کے لئے اسپیشل آٹو اکنامک زون کا منصوبہ ہے۔ ان بیٹریز میں استعمال ہونے والا لیتھیم بھی پاکستانی استعمال کیا جائیگا۔

    واضح رہے کسی بھی ملک کی ترقی اکانومی اور ٹیکنالوجی کے مغیر ممکن نہیں تاہم نئے آٹو اکنامک زون سے جہاں ماحول میں بہتری آئے گی وہیں بڑی مد میں سی این جی اور پٹرول کی کھپت میں کمی سے ملکی معیشت کو بھی فروغ ملے گا۔

  • یہ ہوتی ہے تبدیلی ، گوگل فوٹوز کو میسجنگ ایپ بنانے کی تیاری

    یہ ہوتی ہے تبدیلی ، گوگل فوٹوز کو میسجنگ ایپ بنانے کی تیاری

    واشنگٹن : تبدیلی اسے کہتے ہیں ، اطلاعات کے مطابق گوگل نے اپنی فوٹو ایپ فوٹوز میں نیا فیچر میموریز متعارف کرایا ہے جو کہ انسٹاگرام سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔اس فیچر میں صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز اسٹوریز جیسے فارمیٹ میں دیکھ سکیں گے۔

    ذرائع کےمطابق اس فیچر سے قبل گوگل فوٹوز میں پرانی تصاویر کے لیے ری ڈسکور دس ڈے نامی فیچر تھا جو ایپ کے اسسٹنٹ ٹیب میں منتقل کیا گیا تھا مگر میموریز نامی فیچر سب سے اوپر انسٹاگرام اسٹوریز جیسی شکل میں چھوٹے سرکل میں نظر آئے گا، جن میں ایک سال پرانی تصاویر یا ویڈیوز سے آغاز ہوگا اور پھر پیچھے چلتا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق گوگل کا یہ فیچر آج سے تمام صارفین تک پہنچنا شروع ہوجائے گا۔تصاویر کے پرنٹ آﺅٹ کا فیچر بھی متعارف کرایا جارہا ہے مگر فی الحال وہ صرف امریکا تک ہی محدود ہوگا۔

    تاہم ان تمام سوشل فیچرز کی بدولت گوگل کو توقع ہے کہ اس کی مقبول ترین ایپس میں سے ایک گوگل فوٹوز کے ذریعے وہ مزید آمدنی کے حصول کے ذرائع بناسکے گا۔خیال رہے کہ گوگل فوٹوز استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔

  • پاکستانی انجینیئرز کا ایک اور کارنامہ

    پاکستانی انجینیئرز کا ایک اور کارنامہ

    پرو پاکستا ن کی اطلاع کے مطابق ملک کے مختلف قابل افراد کی مدد کرنے کی کوششوں میں محمد اویس ، اور انس نذیر ، نامی دو پاکستانی انجینئروں نے حال ہی میں مصنوعی بازو تیار کیا ہے جو مصنوعی جسم کے اعضاء کی نشاندہی کرتے ہوئے دماغ کے ذریعے کمانڈ دے کر کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصنوعی متبادل یا جسم کے کسی حصے جیسے گھٹنے یا دوسرا جوڑ ، ٹانگ ، بازو ، وغیرہ کی مصنوعی متبادل یا تبدیلی کا عمل ہے۔ مصنوعی اعضاء مصنوعی یا کاسمیٹک وجوہات یا دونوں کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ جوڑوں کے لئے مخصوص مصنوعی اعضاء ہپ ، گھٹنے ، کہنی ، ٹخنوں اور انگلی کے جوڑ ہیں۔
    کمپیوٹر سائنس دان طویل عرصے سے اس علاقے پر کام کر رہے ہیں اور پوری دنیا میں بہت سے پروٹو ٹائپس تیار ہوئے ہیں۔ مصنوعی جسمانی اعضاء معذور افراد کے لیے مفید اور زیادہ کارآمد ثابت ہوتے ہیں. انہیں دماغ کے اعصاب خلیوں کے مطابق بنایا جاتا ہے تاکہ دماغ ان کی تعمیل کرنے کے احکامات دے سکے۔

    یہ روبوٹک بازو تیار کرنے والے دو پاکستانی انجینئروں نے یونیورسٹی کے ایک منصوبے کے دوران بائیو روبوٹکس پر کام کرنا شروع کیا۔ ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اویس نے کہا کہ بایونکس کا مقصد بائیو روبوٹکس کی دنیا میں اپنے لئے ایک نام پیدا کرنا تھا۔ اب ہم بایونک پر مبنی نچلے اعضاء اور خارجی نشانات پر کام کر رہے ہیں۔

    "ہم جسم کے ان مقامات پر سینسر لگاتے ہیں جہاں دماغ انگلیوں پر بجلی کے دھارے یا سگنل بھیجتا ہے، انہیں منتقل کرنے کا حکم دیتا ہے۔

  • اب موٹر سائیکل بھی چلیں گے بیٹری پر وہ بھی پاکستان میں

    اب موٹر سائیکل بھی چلیں گے بیٹری پر وہ بھی پاکستان میں

    وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے موٹر سائیکلوں اور چنگ چی رکشوں کو بیٹری پر لانے کا اعلان کردیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری نے پاکستان کونسل برائے قابلِ تجدید توانائی کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جلد ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے لیے تمام موٹرسائیکلوں اور چنگ چی رکشوں کو پیٹرول کے بجائے بیٹری پر لانے کے لیے منصوبہ بنارہی ہے۔

     

    مودی سن لے ہم اگلے مرحلے کے لیے تیار ہیں، فواد چودھری

     

    پاکستان کونسل برائے قابلِ تجدید توانائی کے دورہ کے دوران فواد چوہدری نے بیٹری سے چلنے والی موٹر بائیک چلائی جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی،

    واضح رہے کہ فواد چودھری وزیر اطلاعات بنائے گئے تھے تا ہم بعد میں انہیں وفاقی وزیر سائنس وٹیکنالوجی بنا دیا گیا، وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں تبدیلی کی تھی

     

    بھارتی فوج کی بربریت، کشمیری نوجوان شہید،25 روز سے کرفیو،کشمیری گھروں میں محصور

     

    امریکا کی کشمیر کی صورتحال پر تشویش، مودی سرکار سے مانگیں کشمیر کی تفصیلات

    وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو، فواد چودھری کشمیریوں کی حمایت پر میدان میں آ گئے