Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فیصل آباد، پبلک ٹرانسپورٹس سٹینڈ میں مسافروں کے لئے ضروری سہولیات کی فراہمی کویقینی بنانے کی ہدایت

    فیصل آباد، حکومت پنجاب کے احکامات اور ڈویژنل کمشنر محمود جاوید بھٹی کی ہدایات پر پبلک ٹرانسپورٹس سٹینڈ میں مسافروں کے لئے ضروری سہولیات کی فراہمی کویقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا عمل جاری ہے۔سیکرٹری آرٹی اے ضمیر حسین نے مختلف ٹرانسپورٹ اڈوں کا دورہ کیا اور نمایاں جگہوں پر کرایہ نامے آویزاں،صاف ستھرے پبلک ٹائلٹس،بزرگ ومعذورافراد کیلئے ریمپس اور دیگر سہولیات کو چیک کیا۔انہوں نے ٹرانسپورٹرز سے کہا کہ وہ مسافروں کی سہولیات کاخیال رکھیں جس میں کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے بتایا کہ چیکنگ کا عمل روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گا اور عدم تعمیل کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے مسافروں سے بھی ملاقات کی اور ان سے کرایوں پر عملدرآمد اور دیگر سہولیات کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے پبلک ٹرانسپورٹ اڈوں میں مسافروں کے بیٹھنے،پینے کے صاف پانی،کرایہ نامے آویزاں،صاف پبلک ٹائلٹس سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کویقینی بنانے کا حکم دیا ہے جس پر سو فیصد عملدرآمد کرایاجارہا ہے۔

  • سائنسدان کوشش کے باوجود ایلین یا خلائی مخلوق کو تلاش نہ کر سکے،

    سائنسدان کوشش کے باوجود ایلین یا خلائی مخلوق کو تلاش نہ کر سکے،

    ماہرین فلکیات کوشش کےباوجود کسی ستارے پر خلائی مخلوق یا ایلین کو تلاش کرنے میں ناکام رہے

    تفصیلات کے مطابق سائنسدان کوشش کےباوجود کسی ستارے پر خلائی مخلوق یا ایلین کو تلاش کرنے میں ناکام رہے. جیسا کہ عموما بالی وڈ اور ہالی وڈ موویز میں‌خلائی مخلوق یا ایلینز کو بہت بڑے مبالغہ آرائی اور ما فوق الفطرت صلاحیتوں کا مالک بتایا جاتا ہے اس بات کا حقیقت سے کتنا تعلق ہے اس بات کی کھوج لگانے کے لیے اپنی نوعیت کی منفرد اور طویل تحقیق میں کہا گیا کہ ماہرین فلکیات کو 1327 قریب ترین ستاروں میں کسی قسم کی ذہین اور ٹیکنالوجی پر دسترس رکھنے والی خلائی مخلوق کے آثار نہیں مل سکے۔

    تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے آسٹرو فزکس کے پروفیسر ڈینی پرائس کا کہنا ہے کہ ابھی تک قریب ترین ستاروں میں ایسی کسی مخلوق کا پتا نہیں چل سکا جو طاقتور ٹرانسمیٹرز کے ذریعے انسانوں کے ساتھ رابطے کی کوشش کر رہی ہو۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہمیں تلاش میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم غلط فریکوئینسی پر کوشش کرتے رہے ہوں یا خلاقی مخلوق کے بھیجے گئے سگنلز زمین پر موجود ریڈیو لہروں کے باعث ہم تک نہ پہنچ پائے ہوں۔

    خلاقی مخلوق کی تلاش کے یہ تحقیق 10 سال پر محیط ہو گی اور اس پر 10 کروڑ ڈالر خرچ ہوں گے، اس کے تمام تر اخراجات روسی کھرب پتی یوری ملنر نے مہیا کیے ہیں۔

  • لیٹ کر موبائل فون کا استعمال آنکھوں اور دماغ کیلئے خطرناک

    لیٹ کر موبائل فون کا استعمال آنکھوں اور دماغ کیلئے خطرناک

    ہم میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اسمارٹ فون لیٹ کر اس کا استعمال نہ کرتا ہو لیکن یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کا عمل آپ کی صحت کے لیے کتنا نقصان دہ ہے۔

    باغی ٹی وہی رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا یونیورسٹی نے موبائل فون کے استعمال سے متعلق حالیہ تحقیق میں صارفین کو خبردار کیا ہے کہ لیٹ کر موبائل فون کا استعمال جسم اور دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اسمارٹ فون کی اسکرین سے خارج ہونے والی شعاعیں آنکھوں کو متاثر کرتی ہیں اور دماغ کو جاگنے پر مجبور کرتی ہیں۔

    موبائل فون استعمال کرتے ہوئے سونا خواتین میں موٹاپے کا سبب

    تحقیق کے مطابق اگر آپ کی نیند متاثر ہوتی ہے اور آپ 5 سے 6 گھنٹے ہی سو پاتے ہیں، اس کے نتیجے میں دوران نیند جسم کے اندر زہریلے مواد کی صفائی کا عمل مناسب طریقے سے نہیں ہوپاتا۔

    یہ زہریلے اثرات پھر جسم کے اندر موجود رہتے ہیں جس کے نتیجے میں توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، مختصر المدت یادداشت پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، مسائل کا حل نکالنے کی صلاحیت بھی ناقص ہوسکتی ہے۔

    کم نیند کا نتیجہ لوگوں کے اندر نقصان دہ غذا کے استعمال کا رجحان بھی بڑھاتا ہے جس کے نتیجے میں موٹاپے، ذیابیطس اور بلڈ پریشر جیسے امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

  • آئی فون کے ڈیزائنر نےایپل کمپنی کو چھوڑ کر کس کمپنی کو جائن کر لیا،جانیے رپورٹ میں‌

    آئی فون کے ڈیزائنر نےایپل کمپنی کو چھوڑ کر کس کمپنی کو جائن کر لیا،جانیے رپورٹ میں‌

    ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایپل کو اہم مقام دلوانے والے آئی فون کے ڈیزائنر سر جونی آئیو نے کمپنی کو چھوڑ دیا

    تفصیلات کے مطابق ایپل کو بام عروج تک پہنچانے والے سرجوناتھن نے آئی میک، آئی پوڈ اور آئی فون ڈیزائن کیے اور وہ تقریباً 30 سال تک اپیل سے وابستہ رہے جب کہ وہ اب ایپل کے بعد اپنی تخلیقی فرم بنارہے ہیں۔

    انہیں 1996 میں ایپل کے بدترین معاشی بحران کے دور میں کمپنی کے ڈیزائن اسٹوڈیو کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

    جونی آئیو نے 1998 میں آئی میک اور 2001 میں آئی پوڈ متعارف کرایا جب کہ 2004 میں آئی پوڈ منی، 2007 میں آئی فون، 2008 میں میک بک ائیر، 2010 میں آئی پیڈ، 2015 میں ایپل واچ اور 2016 میں ائیرپوڈز متعارف کرائے۔

  • ہنڈا کمپنی نے کیا گاڑیوں کی قیمت میں آضافہ

    ہنڈا کمپنی نے کیا گاڑیوں کی قیمت میں آضافہ

    پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے ہنڈا کمپنی نے پاکستان میں اپنی گاڑیاں مہنگی کرنے کا اعلان کر دیا۔ ہنڈا کمپنی نے اپنی گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا بھی اعلان کر دیا ہے ۔ نئی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار سے چار لاکھ تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔
    نئی قیمتوں کے مطابق 24 جون سے ہنڈا سوک ٹربو آر ایس کی قیمت 41 لاکھ 99 ہزار روپے پر پہنچ جائے گی۔ اسی طرح سوک 1.8L VTI CVT کی قیمت بھی 35 لاکھ 99 ہزار روپے ہوجائے گی۔
    نئی قیمتوں کے مطابق ہونڈا سٹی 1.3L MT اور ہنڈا سٹی 1.5L Aspire MT کی قیمت میں 2 لاکھ 60 ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
    ہنڈا کمپنی نے نوٹیفیکشن جاری کیا ہے کہ 19 جون تک جن گاڑیوں کی بکنگ ہو چکی ہے وہ پرانی قیمت پر ہی ملے گی لیکن 22 جون سے گاڑیوں کی بکنگ نئی قیمت پر کی جاٸے گی ۔

  • موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    موبائل اب چند مینٹ میں چارج

    سمارٹ فون تو ہر کوئی رکھنا چاہتا ہے لیکن اس کی گھنٹوں چارجنگ کرنے والی اذیت سے ہر کوئی پریشان ہے ۔ لیکن اب یہ پریشانی بھی حل ہونے کے قریب ہے ۔ چین کی ایک ویوو نامی کمپنی نے سمارٹ فون رکھنے والوں کی الجھن کو آسانی میں بدل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ویوو نامی کمپنی نے جدید تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے جس کی وجہ سے اب سمارٹ فومن رکھنے والے لوگ اپنا فون صرف 13 منٹ میں چارج کر لیں گے ۔
    چینی کمپنی ویوو نے سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر یہ اعلان کیا ہے کہ وہ 26 جون کو شنگھائی میں شیڈول موبائل ورلڈ کانگریس میں یہ تیز ترین چارجنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے والی ہے۔ اس کی بدولت پچاس فیصد بیٹری صرف پانچ منٹ میں چارج ہوجاٸے گی ۔
    اس ٹیکنالوجی کی بدولت ویوو کمپنی ، ون پلس، ہواوے اور اوپو کے مقابلے پر آگئی ہے۔ اس چارجنگ ٹیکنالوجی کی بدولت 4000 ایم اے ایچ بیٹری صرف اور صرف 13 منٹ میں چارج ہوجائے گی ۔
    ویوو کمپنی اس سے بھی تیز ترین ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیلات اگلے ہفتے ایونٹ میں سامنے آئیں گے جس میں یہ کمپنی اپنا پہلا 5 جی اسمارٹ فون اپیکس 2019 بھی پیش کرے گی ۔

  • فیس بک کی اپنے صارفین کے لیے ایک اور آسانی

    فیس بک کی اپنے صارفین کے لیے ایک اور آسانی

    آن لائن بینکنگ کے بعد پیش خدمت ہے ڈیجیٹل کرنسی ” لبرا ” کوائن ۔
    آن لائن بینکنگ سے بات آگے بڑھانے کے لیے فیس بک انتظامیہ نے ڈیجیٹل کرنسی ” لبرا ” کوائن متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے ۔ یہ کرنسی 2020 تک عام استمال میں آجائے گی ۔ اور اس کرنسی کو واٹس اپ اور مسینجر کے ذریعے منتقل کیا جاسکے گا ۔ جس سے وہ سب لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے جو بینک اکاونٹ ہولڈر نہیں ہیں ۔بینک اکاونٹ نہ رکھنے والے لوگ اس کرنسی سے آن لائن خریداری بھی کر سکیں گے ۔ فیس بک انتظامیہ اس سہولت کے بدلے انتہائی معمولی معاوضہ وصول کرے گی ۔ فیس بک ذرائع کے مطابق 2020 میں یہ کرنسی عام لوگوں کے استعمال میں بھی آجاٸے گی اور اس سے اگلے مرحلے میں لبرا کرنسی آف لائن ادائیگی کے لیے بھی استعمال ہوگی اور لوگ اسے ٹراسپورٹ میں سفر کے لیے بھی استعمال کر سکیں گے ۔ لبرا کوائن کی پشت پر ویزا اور ماسٹر کارڈ جیسے ادارے ہیں جبکہ دیگر ادارے ادائیگی کے اس طریقے کو مستقبل میں قبول کریں گے ۔

  • الٹراساونڈ ہوگا اب ایک کیپسول سے

    الٹراساونڈ ہوگا اب ایک کیپسول سے

    گلاسگو یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسا کیپسول تیار کیا ہے جس میں انہوں نے پورے الٹرا ساٶنڈ کو سمو دیا ہے ۔ کیپسول کی جسامت والا یہ ایک مقناطیسی آلہ ہے جسے مریض کیپسول کی طرح نگل لے گا ۔ جبکہ اس آلہ کو جسم کے باہر سے مقناطیس کے ذریعے کنٹرول کیا جاٸے گا ۔ مقناطیسی آلہ باسانی سے اسے جسم کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکے گا ۔ اس کے ذریعے اندرونی جسم ، نظامِ ہاضمہ اور آنتوں وغیرہ کی تصاویر ایک بیرونی آلے پر نظر آتی رہتی ہیں ۔ مختلف جانداروں پر اس کیپسول نما الٹرا ساونڈ کو آزمانے کے بعد اس کی بہتری کے لیے مزید اقدامات کٸے جا رہے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ معدے اور آنتوں کی بیماریوں کے علاج میں یہ کیپسول نما الٹرا ساٶنڈ بہت اہم کردار ادا کرے گی ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ذریعے معدے اور آنتوں کے لاکھوں مریضوں کو لقمہ اجل بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔

  • ربوٹ مچھلی تیار

    ربوٹ مچھلی تیار

    حیران کر دینے والی روبوٹ مچھلی جو ’برقی خون‘ سے آگے جاتی ہے.حقیقی زندگی سے ملتی جلتی ایک ایجاد سامنے آہ گئی ہے جس میں سائنسدانوں نے ایک نرم ملائم جسم والی روبوٹ مچھلی تیار کی ہے جو اپنے اندر بیٹری کی جگہ ’برق خون‘ کو بطور بیٹری استعمال کرتی ہے اور مختلف کام انجام دیتی ہے۔کورنیل یونیورسٹی میں واقع آرگینک روبوٹ لیب نے لائن فش جیسا ایک روبوٹ بنایا ہے۔ اس میں نہ کوئی بیٹری ہے اور نہ ہی کوئی سیل لگا ہے بلکہ اس میں برقی مائع ہے جو مچھلی کو انرجی فراہم کرتا ہے۔
    عجیب بات یہ ہے کہ یہی برقی خون اسے پانی میں آگے بڑھنے میں بھی مدد دیتا ہے۔اس طرح روبوٹ مچھلی نے بغیر ریموٹ والی تار کے آگے بڑھنے کا ایک اہم فاصلہ طے کیا جو ایک عرصے سے سائنسدانوں کے لیے چیلنج بنا ہوا تھا۔بیٹریوں جیسے آلات روبوٹ کا وزن زیادہ کر دیتے ہیں اور یوں وہ بیکار ہو جاتا ہے۔ پھر کچھ بھی ہو جائے روبوٹ کی حرکت اور کارکردگی اچھی نہیں رہتی اسی بنا پر یونیورسٹی کے سائنسدان جیمز پکل اور ان کے ساتھیوں نے 40 سینٹی میٹر طویل مچھلی سلیکن سے تیار کی ہے۔اس میں دو ہائیڈرالک پمپ ہیں جس میں ساتھ جڑی ہوئی زنک آئیوڈائڈ فلو سیل بیٹریاں لگی ہیں۔ ایک پمپ مائع کو دم کے ایک جانب سے دوسری جانب بھیجتا ہے۔ دوسرا پمپ مائع کو مچھلی کے پچھلے اور اگلے پروں کی جانب گھماتا ہے۔ اس طرح مچھلی میں حرکت ہوتی ہے اور آگے کی جانب تیرتی ہے۔ اس کی رفتار ابھی بہت آہستہ ہے یعنی یہ ایک منٹ میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے وہ اس کے جسم کی کل لمبائی کا بھی آدھا ہے۔

  • کیا آج واقع ہی سال کا سب سے بڑا دن ہے؟

    کیا آج واقع ہی سال کا سب سے بڑا دن ہے؟

    آج سال کا سب سے لمبا دن ہے جبکہ آج چھوٹی رات ہوگی۔ کل یعنی 22 جون سے دن کا وقفہ کم ہونے لگے گا اور راتیں لمبی ہونا شروع ہوجائیں گی۔
    دن اور رات کے اس نظام کو سائنس کی زبان میں (summer solstice) کہتے ہیں.اس نظام کے بعد دن چھوٹے ہونے لگتے ہیں اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں 22اور 23ستمبر کے دن اور رات برابر ہوتے ہیں .
    عجیب بات یہ ہے کہ اج کہ دنیا کے شمالی نصف کڑے(northern hemisphere) میں آج سال کا سب سے لمبا ترین دن ہے جبکہ اس کے دوسری جانب جنوبی نصف کڑے(southern hemisphere) سال کا چھوٹا دن ہے.
    شمالی حصے میں واقع ملک یعنی پاکستان، بھارت، چین، روس، امریکا، کینیڈا اور برطانیہ جیسے ممالک ہیں جن میں آج سال کا طویل ترین دن ہے اس کی دوسری طرف آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں سال کا چھوٹا دن ہے جس کی وجہ وہ جنوبی حصے میں واقع ہیں.