Baaghi TV

Category: شوبز

  • رابی  پیرزادہ نے غریبوں کا برانڈ متعارف کرا دیا

    رابی پیرزادہ نے غریبوں کا برانڈ متعارف کرا دیا

    گذشتہ سال اسلام کی خاطر شوبز اکو خیر باد کہنے والی گلوکارہ رابی پیر زادہ نے کپڑوں کا نیا برانڈ متعارف کرا دیا-

    باغی ٹی وی : رابی پیر زادہ نے کہڑوں کا نیا برانڈ متعارف کرایا جس کا نام انہوں نے رابی سٹیچڈ غریبوں کا برانڈ رکھا ہے- رابی پیر زادہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی تصاویر شئیر کیں جس میں انہوں نے سفیر رنگ کا لانگ قمیض اور لال پاجامہ زیب تن کیا ہوا ہے جبکہ گہرے سبز رنگ کے دوپٹے سے حجاب کر رکھا ہے رابی کی قمیض پر یہ سب میری ساس کی دُعا ہے الفاظ دھاگے کی کڑھائی سے کُندہ کئے ہوئے ہیں –


    تصاویر شئیر کرتے ہوئے رابی نے پیغام دیا کہ یہ برانڈ غریب خواتین کا ہے-

    انہوں نے لکھا کہ محض 1500روپے میں کپڑا، سلائی، ہاتھ کی کڑھائی سب حاصل کریں۔

    رابی نے لکھا کہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ سب خواتین اپنا رزق خود کما سکیں۔ اپنی پسند کے الفاظ اپنی شرٹ پر لکھوائیں۔ سلائی کڑھائی الگ سے بھی کروا سکتے ہیں۔

    رابی پیر زادہ نے لکھا کہ long shirt میں آپ لمبی اور سمارٹ لگتی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کونٹیکٹ نمبر بھی دیا جس پر کونٹیکٹ کر کے آرڈر دیا جا سکتا ہے-‬

  • یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    یونس ایمرے ڈرامہ کیا ہے؟

    اس میں اسلامی تصوف کو کافی بہتر انداز میں سمجھایا ہے جو حضرات تصوف کو اور پیری مریدی کو بالکل خاطر میں نہیں لاتے اور اسے جہالت سمجھتے ہیں انکے لئے بطور خاص ہے
    اس میں ایسے ہی یونس نامی ایک عالم دین کا ذکر ہے جو نالیحان میں قضا کے عہدے پر بیٹھتا ہے اور خانقاہی نظام کو ڈھکن سمجھتا ہے، بزرگی اور ولایت ہوائ باتیں سمجھتا ہے اور علمی شگوفے حل کرنے کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے

    یونس ایمرے عشق کا سفر: یہ چودہویں صدی کی بات ہے کہ اناطولیہ میں سلجوقوں کی باقیات سلاجقہ روم کے عنوان سے برسراقتدار تھی۔ انکی شمالی سرحد پر صلیبی بیٹھے تھے تو مشرق میں بغداد کو خلیفہ سمیت اکھاڑ پھینکے والے تاتاریوں نے طوفان کھڑا کر رکھا تھا۔ یوں مسلمانوں کی قوت و شوکت اور مسلم فرمان رواؤں کا وہ پہلے سا جاہ و جلال قصے کہانیوں تک محدود ہوچکا تھا۔

    پایہ تخت قونیا میں مولانا جلال الدین رومی کی خانقاہ تھی جہاں گرد و پیش کے حالات سے قطع نظر ہر روز معرفت کی محفل سجتی، مراقبے کی خاموشی چھاتی، زکر کی گونج سے در و دیوار لرزتے اور اور پھر رقص بے خودی میں آتش عشق بڑھک اٹھتا تھا۔ رومی ثانی کہلائے جانے والے یونس ایمرے تصوف سے بیزار تھے، انہوں نے قونیہ میں خود کو علم کی گھتیں سلجھانے اور شریعت کے مسئلے سمجھنے میں مصروف رکھا۔ مدرسے سے فارغ ہوئے تو قاضی کا منصب دیکر قونیا سے دور مضافاتی قصبے میں بھیج دئے گئے۔ شہر پناہ میں تصوف سے بھاگنے اور رومی سے متاثر نہ ہونے والا قاضی مگر پہاڑوں میں ایک صوفی چرواہے تاپتک ایمرے کو دل دے بیٹھا۔

    پہلے تاپک ایمرے یونس کے پیچھے بھاگتا تھا اور اب یونس تاپک ایمرے کے پیچھے ایسا بھاگنے لگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یونس سے یونس ایمرے ہوگیا۔ پہلے مقام قضاء کو ٹھکرا کر صوفی ہوا اور پھر حکمت کی باتوں کو شعر کے روپ میں ڈھالنے لگا۔ کہتے ہیں کہ رومی اور یونس ایمرے ایک ہی کشتی کے دو سوار تھے مگر دونوں میں فرق صرف انداز تخاطم کا تھا۔ رومی نے ترک اشرافیہ میں رائج فارسی زبان کو اختیار کیا اور ایمرے چراگاہوں میں بولی جانے والی قدیم ترکی میں گویا ہوئے۔ یوں جہاں رومی کا فلسفہ جلد ہی قونیا کے دربار سے ہوتا ہوا ایران اور ہندوستان تک پھیل گیا وہیں ایمرے کے گیت خانہ بدوشوں کی خوشی غمی کا حصہ بن گئے۔ آج قریب نو سو سال گزرگئے ہیں اور بات ٹھیک وہی ہے۔

    ترکی کے سرکاری چینل پر چلنے والی مقبول سیریز "یونس ایمرے” ترکوں کے اسلامی تصوف، عارفانہ کلام اور لوک گیتوں سے دیرینہ اور توانا تعلق کا ایک مظہر ہے۔ جہاں یہ ڈرامہ یونس ایمرے کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں وہیں جابجا اسکا موضوع شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کے مابین قدیم بحث کے پیچھے بھی گھومتا نظر آتا ہے۔ آخر کس طرح ظاہر پر یقین رکھنے والا قاضی سرکاری عہدہ اور پرآسائش زندگی چھوڑ کر درگاہ کا رخ کرتا ہے، آخر وہ کیا بات ہوتی ہے کہ کتابوں کی کتابیں حفظ کرلینے والا بندہ ہر سوال پر ‘مجھے نہیں معلوم” کہتا سنا جاتا ہے۔ آخر وہ کونسے حالات ہوتے ہیں کہ شاعری کو گمراہی سمجھنے والا کتابی بندہ جنگ قوس دگ کا مرثیہ لکھتا ہے۔ میرا نہیں خیال کہ اسلامی تصوف پر اس سے پہلے کبھی کوئی اتنا شاندار ڈرامہ بنایا گیا ہو۔

    وزیراعظم عمران خان نے ارطغرل غازی کے علاوہ ایک اور ترک ڈرامے کو پاکستان میں نشر کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا

  • انوشے اشرف اوریاسر حسین کا لائیو ویڈیو کے دوران  تلخ جملوں کا تبادلہ

    انوشے اشرف اوریاسر حسین کا لائیو ویڈیو کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ

    پاکستان شوبز انڈسڑی کے معروف اداکار یاسر حسین اور نامور میزبان انوشے اشرف کے درمیان لائیو ویڈیو کے دوران غیر ملکی فنکاروں کو لے کر بحث و مباحثے کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا-

    باغی ٹی وی : اپنے ایک انٹر ویو میں اسرا بلجیک نے کہا تھا کہ وہ پاکستان کے تین مختلف برانڈز کے ساتھ کام کرنے والی ہیں اور وہ اس بات کا باقاعدہ اعلان کچھ دن میں ایک پریس ریلیز کے ذریعے کریں گی۔تاہم اب گذشتہ روزان میں سے ایک برانڈ کے لیے اداکارہ کے اشتراک کا اعلان ہوگیا ہے اور انہیں ایک موبائل کمپنی کا برانڈ ایمبسیڈر بنادیا گیا ہے۔

    اسمارٹ فون کمپنی کیو موبائل نے سوشل میڈیا پوسٹ پر اعلان کیا تھا کہ ترک اداکارہ ان کی نئی ڈیوائس ویو میکس پرو کے لیے برانڈ ایمبیسڈر بن گئی ہیں کمپنی کا کہنا تھا کہ وہ پہلا پاکستانی برانڈ ہے جس نے ارطغرل ڈرامے سے شہرت پانے والی اداکارہ کو اپنے نئے فون کی مہم کا حصہ بنایا ہے۔

    کمپنی کے اس اعلان کے بعد اداکار یاسر حسین نے غیر ملکی برانڈ ایمبیسیڈر کے خلاف آواز بلند کی جس کی حمایت اداکارہ ایمن خان اور اداکارہ منال خان نے بھی کی-

    یاسر حسین نےاپنی انسٹاگرام سٹوری میں لوگوں سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر پاکستانی ہونی چاہئے؟ نہ بھارتی اور نہ ترک اداکارہ؟یاسر حسین نے کہا تھا کہ کیا ماہرہ خان، صباقمر، سونیاحسین، منال خان، ایمن خان، امر خان، زارا نور عباس، ہانیہ عامر ، ثنا جاوید، یمنی زیدی، ارمینہ خان، سارہ اور حرامانی کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟

    یاسر حسین نے لکھا تھا کہ پاکستانی اداکاراؤں کو سپورٹ کریں پاکستان زندہ باد۔ یاسر حسین نے اپنی اہلیہ اقرا عزیز کا نام نہ لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اقرا کانام اس لیے نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے ہی ایک موبائل برانڈ کی ایمبسیڈر ہے۔

    یاسر حسین کے ان بیانات کے بعد پاکستان شوبز انڈسٹری کے فنکار اس موضوع پر بٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں کچھ فنکاروں کا کہنا ہے کہ فنکاروں کے فن کی کوئی سرحد نہیں ہونی چاہیے جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ ترکش ڈرامے کی کامیابی کے بعد ترک اداکار بھی پاکستان میں آئیں گے جس سے مقامی فنکاروں کا نقصان ہوگا ۔

    حال ہی میں اس حوالے سے میزبان انوشے نے یاسرحسین کا لائیو انسٹا سیشن کے ذریعے انٹرویو کیا انٹرویو کے دوران انوشے کی جانب سے یاسر حسین سے سوال کیا گیا کہ وہ ایسا کیوں سوچتے ہیں کہ پاکستان میں بین الاقوامی اداکاروں کو نہیں آنا چایئے اور انہیں یہاں کام نہیں ملنا چاہیے ؟
    https://www.instagram.com/p/CCwH9-XFw8G/?igshid=1an7x92n3jevz
    اس پر جواب دیتے ہوئے یاسر حسین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی باہر سے اداکارہ پاکستان آتی ہے تو اُسے پہلے یہاں آ کر ایک سال محنت کرنی چایئے جیسی ہماری اداکارائیں دن رات محنت کرتی ہیں یاسر حسین نے ترکش اداکارہ ایسرا بیلجک سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ پاکستان آئی بھی نہیں وہ تو اپنے شوٹ بھی اپنے ملک میں کرا رہی ہیں وہ پاکستان آتی کراچی یا پشا ور میں اُن کا اشتہار تیار ہوتا تو یہاں کی عوام کو بھی پیسہ ملتا ۔

    اس پر انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ ایک یا دو کمرشل سے کیا ہو جاتا ہے انوشے نے بھارتی اداکارہ کرینہ کپور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی پاکستانی برانڈ کی ایمبیسیڈر بن چکی ہیں ۔

    یاسر حسین کا انوشے کی اس بات پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہنا تھا کہ اُنہیں اس بات پر حیرانی ہو رہی ہے کہ اگر آپ نہیں سمجھ رہی تو باقی عوام کیسے سمجھے گی-

    یاسر ھسین کی اس بات پر انوشے اشرف نے تیز لہجے میں بات کی جس پر یاسر حسین نے کہا کہ اپنا اپنا موقف ہوتا ہے میرا موقف ہے جکہ اسطرح نہیں ہونا چاہیئے جبکہ آپ کا موقف ہے کہ غیر ملکی اداکاروں کو ملک میں اتنا پروٹوکول دینے میں کوئی حرج نہیں تو میں تو نہیں آپ کی باتوں کا بُرا مان رہا آپ کیوں بُرا مان رہی ہیں-

    کیا پاکستانی اداکاراؤں میں کوئی اس قابل نہیں کہ پاکستانی برانڈ کی برانڈ ایمبسیڈر بن سکے؟ یاسر حسین

    اسرا بلجیک پہلی پاکستانی کمپنی کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    دوسرے ممالک کے فنکاروں کو پاکستان میں خوش آمدید کہیں اور اپنے لوگوں کو غیر محفوظ محسوس نہ کروائیں ، آغا علی کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

    پاکستانی فنکاروں کا اسراء بلجیک کو پاکستانی کمپنی کا برانڈ ایمبیسڈر بنائے جانے پر تنقید کرنے والے فنکاروں کو جواب

  • بھارتی گلوکارہ لتا کا ہیما منگیشکر سے لتا منگیشکر تک کا سفر

    بھارتی گلوکارہ لتا کا ہیما منگیشکر سے لتا منگیشکر تک کا سفر

    بالی وڈ لیجنڈری اور عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ لتا منگشیکر ایک ہندوستانی پلے بیک گلوکارہ اور میوزک ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے ایک ہزار سے زیادہ ہندی فلموں میں گانے ریکارڈ کروائے ہیں اور چھتیس سے زیادہ علاقائی ہندوستانی زبانوں اور غیر ملکی زبانوں میں گانے گائے ہیں ، بنیادی طور پر مراٹھی ، ہندی ، بنگالی اور آسامی زبان میں گانے ریکارڈ کروائے ہیں-

    لتا منگشیکر 28 ستمبر 1929 کو اندور میں پیدا ہوئیں اندور میں ایک مراٹھی اور کونکانی موسیقارپنڈت دیناناتھ منگیشکر اور ان کی اہلیہ شیونتی کی بڑی بیٹی ہیں- ان کے والد ، پنڈت دینا ناتھ منگیشکر ، کلاسیکی گلوکار اور تھیٹر اداکار تھے۔ ان کی والدہ ، شونتی بمبئی پریذیڈنسی شمال مغربی مہشٹرا، تھالنر کی ایک گجراتی خاتون تھیں ، اور پنڈت دینا ناتھ کی دوسری بیوی تھیں۔ ان کی پہلی بیوی نرمدا ،شیونتی کی بڑی بہن تھیں جو وفات پا گئیں تھیں-ان کی وفات کے بعد دیناناتھ نے شیونتی سے شادی کی تھی-

    لتا کے دادا ، گنیش بھٹ نواٹھے ہردیکر (ابھیشیک) ، کرہڈے برہمن پجاری تھے جنہوں نے گوا کے منگشیشی مندر میں شیوا لنگم کا ابھیشیکم کیا تھا ، اور ان کی پتنی ، لتا کی دادی یسوبائی رین کا تعلق گوا کے گومنتک مراٹھا سماج برادری سے تھا۔

    لتا کے ماموں گجراتی تاجر سیٹھ ہریداس رامداس لاڈ ، ایک خوشحال تاجر اور تھلنر کے جاگیردار تھے۔ اور منگیشکر نے گجراتی لوک گیتوں جیسے پاواگڑھ کے گرباس کو اپنی نانی سے سیکھا تھا-

    اس کنبے کا آخری نام ہردیکار تھا۔ دینا ناتھ نے گوا میں اپنے آبائی شہر منگیشی سے اپنے کنبے کو نئی شناخت دینے کے لئے اس کو منگیشکر میں تبدیل کردیا۔ لتا کی پیدائش کے وقت نام”ہیما” رکھا گیا تھا۔ بعد میں ان کے والد نے اپنے ایک ڈرامے بھاؤبندھن میں خاتون لاتیکا کے نام سے لتا کا نام تبدیل کردیا۔

    لتا منڈت دینا ناتھ کی سب سے بڑی اولاد ہیں ان کے بعد بالترتیب مینا ، آشا ، اوشا ، اور ہری ناتھ ہیں یہ تمام بہن بھائی کامیاب گلوکار اور موسیقار ہیں۔

    لتا نے موسیقی کا پہلا سبق اپنے والد سے حاصل کیا۔ پانچ سال کی عمر میں ، انہوں نے اپنے والد کے میوزیکل ڈراموں (مراٹھی میں سنگیت ناٹک) میں بطور اداکارہ کام کرنا شروع کیا۔ انہوں نے اسکول کی پڑھائی اس لئے چھوڑ دی تھی کیونکہ وہ انہیں ان کی چھوٹی بہن آشا کو اپنے ساتھ نہیں لانے دیتے تھے ، کیونکہ وہ اکثر اپنی چھوٹی بہن کو بھی ساتھ لاتی تھیں۔

    لتا نے اپنا ابتدائی فنی کرئیر 1942 سے شروع کیا- 1942 میں ، جب لتا 13 سال کی تھیں ، ان کے والد دل کی بیماری میں مبتلا ہوگئے تھے۔ ماسٹر وینائک (ونایاک دامودر کرناٹاکاکی) ، نیویگ چِر پٹ فلم کمپنی کے مالک اور منگیشکر خاندان کے ایک قریبی دوست تھے انہوں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ انہوں نے بطور گلوکارہ اور اداکارہ کیریئر کے آغاز میں لتا کی مدد کی۔

    لتا نے "ناچو یا گاڈے ، کھیلو ساری مانی ہوس بھری” کا گانا گایا ، اس گانے کو (1942) میں سداشیو راو نے وسانت جوگلیکر کی مراٹھی فلم کیٹی ہاسال کے لئے کمپوز کیا تھا ، لیکن یہ گانا آخری کٹ سے خارج کردیا گیا تھا۔

    بعد ازاں وینائک نے انہیں (1942) میں ہئ نویگ چیتراپاٹ کی مراٹھی فلم پہیلی منگالہ گاڑ میں ایک چھوٹا سا کردار دیا ، جس میں انہوں نے "ناتالی چیٹراچی نوالائی” گایا تھا ، جسے دادا چانڈیکر نے کمپوز دیا تھا- ان کا پہلا ہندی گانا (1943) میں بنی مراٹھی فلم گجاباؤ کے لئے "ماتا ایک سپوت کی دنیا بدل دے تو” تھا۔

    جب 1945 میں ماسٹر ونائیک کی کمپنی نے اپنا صدر دفتر ممبئی وہاں منتقل کیا تو لتا ممبئی منتقل ہوگئیں۔ انہوں نے بھنڈی بازار گھرانہ کے استاد امان علی خان سے ہندوستانی کلاسیکی موسیقی سیکھی –

    1948 میں انائیک کی موت کے بعد ، میوزک ڈائریکٹر غلام حیدر نے بطور گلوکارہ ان کی رہنمائی کی۔ انہوں نے لتا کو پروڈیوسر سشادھر مکھرجی سے متعارف کرایا ، جو اس وقت (1948) میں بنائی گئی فلم شہید میں کام کر رہے تھے ، لیکن مکھرجی نے لتا کی آواز کو "انتہائی باریک” کے طور پر مسترد کردیا۔لیکن غلام حیدر مکھر جی کو جواب دیا کہ آنے والے برسوں میں پروڈیوسر اور ہدایتکار "لتا کے پاؤں پر گر پڑے” گے اور "ان سے التجا” کریں گے کہ وہ ان کی فلموں میں گانے گائیں۔ حیدر نے (1948) میں بنائی گئی فلم مجبور میں "دل میرا توڑاا ، مجھے کہیں کا نہ چھورا” کگانا گیا جس سے ان کو پہلی بڑی کامیابی ملی ، ستمبر 2013 میں خود اپنی 84 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک انٹرویو میں ، لتا نے خود اعلان کیا ، "غلام حیدر واقعی میں میرا گاڈ فادر ہے۔ وہ پہلے میوزک ڈائریکٹر تھے جنہوں نے میری صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کیا۔”

    ابتدائی طور پر ، کہا جاتا ہے کہ لتا نے مشہور گلوکارہ نور جہاں کی تقلید کی تھی ، لیکن بعد میں انہوں نے اپنے انداز میں گانے کا انداز تیار کیا۔ ہندی فلموں میں گانوں کی دھن بنیادی طور پر اردو شاعروں پر مشتمل ہیں اور اس میں مکالمے سمیت اردو الفاظ کا زیادہ تناسب ہے۔ اداکار دلیپ کمار نے ایک بار ہندی / اردو گانا گاتے ہوئے لتا کے مہاراشٹرین لہجے کے بارے میں ایک ہلکے سے ناگوار تبصرہ کیا۔ لہذا ایک مدت کے لئے ، لتا نے شفیع نامی اردو ٹیچر سے اردوسیکھنا شروع کی- اس کے بعد کے انٹرویوز میں ، لتا نے کہا ہے کہ نور جہاں نے انہیں بچپن میں ہی سنا تھا اور کہا تھا کہ بہت مشق کریں۔ وہ آنے والے کئی سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں

    ان کی پہلی بڑی کامیاب فلموں میں سے ایک "آئے گا آنے والا” تھی ، فلم محل کا ایک گانا (1949) ، جسے میوزک ڈائریکٹر کھیمچند پرکاش نے تشکیل دیا تھا اور اداکارہ مدھوبالا پر فلمایا گیا تھا-

    لتا منگیشکر فلموں مینا بازار ، آدھی رات، بڑی بہن افسانہ-عدل جہانگیر ، دیدار ، آنسو ،امر، اڑن کھٹولا، برسات ،شری 420 چوری چوری ہاؤس نمبر 44 آجا پردیسی ، عدالت ،جیلر پاکٹ مار، چاچا زندہ بادامر دیپ ، آشا ، پہلی جھلک انارکلی اور دیوداس،پیار کیا تو ڈرنا کیا، مغل اعظم ، مدھو بالا، دل اپنا اور پریت پرائی ،مینا کماری، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، ویر زارا ،پُکار ،بےوفا و دیگر فلموں میں اپنی آوز کے جادو جگایا-

    اپنے ہر دور کے مشہور گلوکاروں کو لیجنڈری اداکارہ کے ساتھ گانا گانے کا موقع ملا، انہوں نے محمد رفیع، مکیش، مہیندر کپور، سونو نگم ، ادت نارائن، کمارسانو، کشور کمار آشا بھوسلے، ثریا، شمشاد بیگم ،اشا منگیشکر، اے آر رحمان ، اور عدنان سمیع سمیت دیگر گلوکاروں کے ساتھ مل کر کام کیا-

    لتا منگیشکر متعدد ایوارڈز اور اعزازات جیت چکی ہیں ، جن میں ہندوستان کا اعلی ترین شہری ایوارڈ (بھارت رتنا) ایوارڈ ، 1969 پدما بھوشن ، 1999 میں پدما ویبھوشن ،1999 میں زی سینی ایوارڈ برائے لائف ٹائم اچیومنٹ اور1989 میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ شامل ہیں

    علاوہ ازیں 1997 مین مہاراشٹر بھوشن ایوارڈ ، 1999 میں این ٹی آر نیشنل ایوارڈ ، 2001 میں بھارت رتن ایوارڈ، 2007 میں لیجن آف آنر ، 2009 میں اے این آر نیشنل ایوارڈ ، تین قومی فلم ایوارڈ اور 15 بنگال فلم جرنلسٹ ‘ایسوسی ایشن ایوارڈ جبکہ چار فلم فیئر بیسٹ فیملی پلے بیک ایوارڈ بھی اپنے نام کر چکی ہیں –

    لیجنڈری گلوکارہ نے 1969 میں ،جدید صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے فلم فیئر کا بہترین خواتین پلے بیک ایوارڈ دینے کا غیر معمولی عندیہ کیا۔ بعدازاں انہیں 1993 میں فلم فیئر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور 1994 اور 2004 میں فلم فیئر خصوصی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

    1984 میں ، مدھیہ پردیش کی ریاستی حکومت نے لتا منگیشکر کے اعزاز میں لتا منگیشکر ایوارڈ کا آغاز کیا۔ ریاست مہاراشٹرا نے 1992 میں لتا منگیشکر ایوارڈ کا بھی آغاز کیا۔

    2009 میں ، منگیشکر کو فرانس کے اعلی ترین آرڈر ، فرانسیسی لیجن آف آنر کے آفیسر کے اعزاز سے نوازا گیا۔

    2012 میں ، منگیشکر آؤٹ لک انڈیا کے عظیم ترین ہندوستانی سروے میں 10ویں نمبر پر تھیں-

    دلیپ کمار نے ایک بار کہا تھا ، "لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تکنیک کا ایک کرشمہ ہے ،” جس کا مطلب ہے "لتا منگیشکر کی آواز خدا کی طرف سے ایک معجزہ ہے۔

    لتا 22 نومبر 1999 سے 21 نومبر 2005 تھ اجیا سبھا کی پارلیمنٹ ممبر بھی رہیں-
    لتا منگیشکر کے سُپر ہٹ اور سدا بہار گانے

  • فجر لقمان، لاہور میں کپڑوں کا نیا برینڈ متعارف

    فجر لقمان، لاہور میں کپڑوں کا نیا برینڈ متعارف

    لاہور:حالیہ برسوں میں پاکستان فیشن انڈسٹری میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ عصر حاضر کے ساتھ ہمارا فیشن بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی دھاک بٹھا چکا ہے-

    ہر ایک کو پسند ہے کہ وہ اپنے پہنے ہوئے لباس کا رجحان بنائے۔ پاکستان میں لباس کا ایک ابھرتا ہوا برانڈ ہے جو فیشن اسٹیٹمنٹ بنتا جارہا ہے۔

    ‘فجر لقمان’ لاہور کے جدید ترین لباس برانڈز میں سے ایک ہے جو فیشن انڈسٹری میں اپنی شناخت بنا رہا ہے۔ ایک پرجوش نوجوان لڑکی کے ذریعہ شروع کیا گیا ، یہ برانڈ طرح طرح کے جدید فیشن کے مطابق خوبصورت کپڑوں کی ورائٹی پیش کرتا ہے-

    ڈیزائنر کی اپنی ہی پریرتا ہوتی ہیں ، جو پوری دنیا میں سفر کرنا اور اپنے ملبوسات میں اپنے ڈیزائن تیار کرنا پسند کرتی ہے۔ فجر لقمان ، نوعمر ڈیزائنر uber-chic ڈیزائن کے ساتھ تجربہ کرنا پسند کرتی ہیں-

    مس لقمان جو اس وقت تعلیم حاصل کررہی ہیں ،انہوں نے اس برانڈ کو ایک سال قبل اپنے شوق کے طور پر شروع کیا تھا۔ اب وہ لاہور اور ملک بھر کے گاہکوں کے درمیان اپنی بڑی کامیابی کے ساتھ ، وہ جلد ہی مستقبل میں اس فیلڈ کو اپنائے رکھنے کی ہی خواہش مند ہیں۔

    فجر لقمان برانڈ کا ایک صفحہ انسٹاگرام اور فیس بک دونوں پر تشکیل دیا گیا ہے۔ مندرجہ ذیل انسٹاگرام صفحہ میں خود ڈیزائنر کے ذریعہ پوری ر توجہ کے ساتھ ڈیزائن کردہ کپڑوں کی تصاویر آویزاں ہیں:
    https://www.instagram.com/p/CBOLNV-p44n/
    https://www.instagram.com/p/CBOLTviJAvZ/
    https://www.instagram.com/p/CBOLadyJ71k/
    مشہور اداکارہ نمرہ خان نے سفید رنگ کی پف آستین ٹاپ میں فجر لقمان برانڈ کے لئے ماڈلنگ کی ہے۔

    فیس بک پیج میں اپنے جدید ترین ڈیزائنوں کی نمائش بھی کی گئی ہے ، جن کو ہر لڑکی آزمانا پسند کرے گی۔

    ڈیزائنر اپنے جدید ڈیزائنوں کے لئے اچھے مواد کا انتخاب کرتے ہوئے منفرد اور اچھا کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ فجر عام طور پر ریشم ، آرگنزا اور کاٹن پر کام کرتی ہیں۔

    ہم ان کے برانڈ میں طرح طرح کے مغربی اور مشرقی امتزاج دیکھ سکتے ہیں جو پاکستان اور بیرون ملک بھی تمام طبقے کے لئے یکساں موزوں ہیں وہ آن لائن آرڈر لیتی ہیں اور خاص طور پر لباس کی سلائی سے لے کر اس کی ترسیل تک کی مینجمنٹ دیکھتی ہیں-

    یاد رہے کہ اکتوبر 2019 میں ، فجر لقمان نے لاہور میں اپنی پہلی نمائش منعقد کی تھی ، جو ایک مکمل کامیابی تھی۔ حال ہی میں انہوں نے عید پر اپنے نئے ڈیزائن لانچ کیے اور وہ آنے والی عیدالاضحی کی مزید تیاریوں میں مصروف ہیں۔

    باغی ٹی وی نے آئندہ کی کوششوں کی خواہشمند ڈیزائنر کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ وہ فیشن انڈسٹری میں ترقی اور خوشحالی اور پاکستان کو قابل فخر بنائے-

  • نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کو شکست دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئیں

    نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کو شکست دینے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئیں

    بریسٹ کینسر کو شکست دینے والی پاکستان کی معروف اداکارہ و سماجی کارکن نادیہ جمیل نے سوشل میڈیا پر اپنے مداحوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خصوصی پیغام جاری کیا ہے

    باغی ٹی وی : سماجی رعابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر نادیہ جمیل نے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں اداکارہ بریسٹ کینسر سے صحتیاب ہونے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج ہوکر اپنے گھر واپس جار ہی ہیں۔
    https://www.instagram.com/p/CCrntkohFfp/
    ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے نادیہ جمیل نے لکھا کہ یہ وہ دن تھا کہ جب میں اسپتال سے ڈسچارج ہوئی اور میں اپنی زندگی کے اِس خاص موقع پر اُن تمام لوگوں کی شکرگزار ہوں جنہوں نے اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اور میری نگہداشت کی اور میری صحتیابی کے لیے دُعا کی اور میری ہمت بندھائی-

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ مجھےاسپتال کا وہ تیسرا دن یاد ہے جب میں نے آخری الفاظ یہ سُنے تھے کہ ہم ان کو کھو رہے ہیں۔

    اداکارہ نےلکھا کہ میں علاج کے دوران یہ سوچ رہی تھی کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو میرے بچوں کو کون دیکھے گا اور میرے کُتے کا خیال کون رکھے گا اور پھر اُس کے بعد میں نے خود سے کہا کہ اس مشکل وقت میں کلمہ پڑھو۔

    نادیہ نے لکھا کہ مجھے دوران علاج کی اپنی تنہائی یاد ہے اور میں آج بھی وہ سب محسوس کرسکتی ہوں مجھے یاد ہے کہ جب مجھے سوئیاں یعنی انجیکشنز اور ڈرپس لگتی تھیں تو مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی اور پھر میں اللہ تعالی سے دُعا کرتی تھی کہ مجھے یہ سب برداشت کرنے کے لیے مضبوط بنا دیں-

    نادیہ جمیل نے لکھا کہ اس پورے عرصے کے دوران میں نے جب اپنا فون کھولتی تھی تو آپ سب کے محبت بھرے پیغامات دیکھ کر خوش ہوجاتی تھی اور مُسکرانے لگتی تھی۔

    اُنہوں نے لکھا کہمیں واقعی بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ سب کا پیار ملا میں بھی آپ سے اُتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی آپ سب مجھ سے کرتے ہیں۔

    نادیہ جمیل کینسر کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئیں

  • اُشنا شاہ پاکستانی عوام پر برس پڑیں

    اُشنا شاہ پاکستانی عوام پر برس پڑیں

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم کے دوہرے رویے پر برس پڑیں-

    باغی ٹی وی : مسلمانوں کی اسلمای فتوحات پر مبنی ترکش سیریز ارطغرل غازی کو وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی وی پر یکم رمضان المبارک سے نشر کیا جا رہا ہے اس ڈرامے کے پاکستان میں نشر ہوتے ہیاس کا ہر طرف چرچا ہوگیا- پاکستانی شائقین کی جانب سے ارطغرل غازی ڈرامے سمیت اس ڈرامے کے کرداروں کو بھی سوشل میڈیا پر کافی زیادہ پسند کیا جا رہا ہے کبھی پاکستانی عوام ارطغرل غازی کے اپنے پسندیدہ کردار کے لباس پر تنقید کر رہے ہیں تو کہیں تعریفیں کر رہے ہیں-

    پاکستانی اداکارہ اُشنا شاہ نے پاکستانی شائقین کے اس رویئے پر غصے کا اظہار پاکستانی اداکارہ عفت عُمر کے شو میں کیا-
    https://www.instagram.com/p/CCqK-MlFayE/?igshid=13kjjwccuues5
    عفت عمر کو انٹرویو کے دیتے ہوئے اُشنا شاہ نے کہا کہ ارمینہ کی جانب سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ماہرہ اور ایسرا بیلجک کی تصویر پوسٹ کی گئی جس میں دونوں اداکاؤں نے ایک ہی جیسے کپڑے پہنے ہوئے تھے دونوں کے بازو نظر آ رہے تھے۔

    اُشنا شاہ نےکہا کہ پاکستانی شائقین کے کمنٹ دونوں اداکاؤں کے تصویروں پر اگر دیکھے جائیں تو ماہرہ کو سب ہی نے ایسا لباس پہنے پر تنقید کا نشانہ بنایا اور گالیاں دیں ا جبکہ ایسرا بلجیک کی تصویر کی سب نے تعریف کی ۔

    اُشنا کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی عوام کا کہنا ہےکہ پاکستانی ادکارائیں مسلم ہیں اور عوام کا حق ہے اداکاروں کے ایسے لباس پر تنقید کر نا تو ترکش اداکارائیں بھی مسلمان ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی اداکاروں اور معروف شخصیات کو اپنی عورتوں کو اتنا برا بھلا کہتے ہیں اور اُن کی توہین کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو باقی دوسروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، بالی وڈ اورگوروں کو بھی دیکھتے ہیں اور اُن کی تعریف کرتےہیں ۔جبکہ اپنی اداکاراؤں کے وقت یہ مذہبی بن جاتے ہیں انہیں مذہب یاد آ جاتا ہے-

  • 6 اقسام کے افراد ہیں جو کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ امیتابھ بچن

    6 اقسام کے افراد ہیں جو کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ امیتابھ بچن

    بالی ووڈ لیجنڈ امیتابھ بچن نے ایک پیغام میں اپنے چاہنے والوں کو اُن 6 افراد کے بارے میں اہم معلومات دیں جو ہمیشہ اپنی زندگی میں دُکھ اور غم کا شکار رہیں گے۔ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے پیغام میں امیتابھ بچن نے لکھا کہ ’جو لوگ دوسروں سے حسد کرتے ہیں، دوسروں کی کامیابیوں کی وجہ سے اُنہیں ناپسند کرتے ہیں، جو لوگ غیر مطمئن رہتے ہیں، دوسروں پر بلا وجہ غصہ کرتے ہیں، شکوہ کرتے ہیں، یہ وہ 6 اقسام کے افراد ہیں جو کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔‘

    امیتابھ بچن نے لکھا کہ ’ان اقسام کے افراد ہمیشہ دُکھی اور غمزدہ رہتے ہیں کیونکہ وہ دوسروں کی خوشیوں سے حسد کرتے ہیں۔‘ بھارتی اداکار نے لکھا کہ ’اِسی لیے میں آپ کو مشور ہ دے رہا ہوں کہ آپ خود کو اس طرح کے لوگوں سے بچائیں۔‘

  • لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی

    لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی

    بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان کے بعد لولیا ونتر نے بھی کھیتی باڑی شروع کر دی-

    باغی ٹی وی :اداکار سلمان خان کے بعد ، اب ایسا لگتا ہے کہ لولیا ونتر بھی کھیتی باڑی کر رہی ہیں۔ رومانیہ کی ماڈل و گلوکار نے خان کے پنوال فارم ہاؤس میں ہرزہ سرائی کے درمیان اس کی ایک تصویر شائع کی۔ وہ سرسبز و شاداب کھیتوں میں چاول لگاتے نظر آرہی ہیں۔

    لولیا ونتر ان تاویر مین یقینی طور پر خان کے پنول فارم ہاؤس میں دن گزار رہی ہیں۔ گھوڑوں کی سواری سے لے کر درخت لگانے تک ، دھان کے کھیت تک لولیا ونتر نے اپنی خوبصورت تصاویر انسٹا گرام پر شئیر کی ہیں-

    اپنی تازہ ترین انسٹاگرام پوسٹ میں ، لولیا نے لکھا "میں نے گرمی کی بہت سی چھٹیاں بچپن میں دیہی علاقوں میں گزاریں اور میں اپنے دادا دادی کی مدد سے زمین پر کام کرنے ، بیج لگانے اور جانوروں کی دیکھ بھال کرنے میں لطف اندوز ہوتی تھی۔ یہ بہت فائدہ مند ہے۔ میں نے پہلے کبھی چاول نہیں لگائے تھے لہذا یہ میرے لئے نیا تجربہ تھا۔میں اپنے یوٹیوب چینل پر بہت جلد اپنے مداحوں کے ساتھ اپنا تجربہ شئیر کروں گی۔ ”
    https://www.instagram.com/p/CCqo7W0lnyE/?igshid=1tkn3qm8hd3j6
    https://www.instagram.com/p/CCWE0czlSys/?igshid=20o8rjaqec4w
    https://www.instagram.com/p/CCYl2bcFSUo/?igshid=9d26qb36u271
    https://www.instagram.com/p/CCavgFdFnj4/?igshid=1q8wrlz5wqn9r
    https://www.instagram.com/p/CCfveLNlE6s/?igshid=v6hyz1byagbf

  • سونو سود نے لاک ڈاؤن کے دوارن تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھ دی

    سونو سود نے لاک ڈاؤن کے دوارن تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھ دی

    باغی ٹی وی :لاک ڈاؤن کے دوران سونو سود نے تارکین وطن کارکنوں کے ساتھ اپنے کام پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں اداکار نے جو لوگوں کی مدد کی ہے اس کے ساتھ ساتھ وہ جذباتی اور چیلنجنگ سفر کے بارے میں تحریر کیا ہے ۔ یہ کتاب ، ابھی تک بغیر عنوان کے ہے ، پینگوئن کے ذریعہ شائع کی جائے گی۔

    اداکار کو لگتا ہے کہ اب ان کا ایک حصہ اترپردیش ، بہار ، جھارکھنڈ ، آسام ، اوڈیشہ اور اتراکھنڈ اور دیگر کئی ریاستوں کے دور دراز دیہاتوں میں رہتا ہے جہاں انہوں نے مزدوروں کو بحفاظت ان کے گھروں تک پہنچنے اور اپنے کنبہ کے ساتھ ملنے میں مدد فراہم کی۔

    غیر منقولہ طور پر ، سونو سود ہزاروں تارکین وطن کے وطن واپس جانے کے لئے نقل مکانی کے انتظامات کررہے ہیں۔ اداکار نے کہا کہ وہ یہ کام مکمل طور پر پیار سے کررہے ہیں اور انھیں اپنے کنبہ کے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ تارکین وطن کے لئے اپنے کام کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ، "میرا ارادہ ہے جب تک کہ آخری مہاجر اپنے گھر نہیں پہنچتا تب تک کام کروں گا۔ سفر پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنا ہے۔ کسی کو بے گھر نہیں کیا جانا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بحفاظت گھر پہنچ جائیں۔

    اداکار نے مزید کہا ، "میں ان کے بارے میں سختی سے محسوس کرتا ہوں کیونکہ میں ایک مہاجر کی حیثیت سے ممبئی آیا ہوں۔ میں ایک دن ٹرین میں سوار ہوا اور یہاں اتر گیا۔ ہر ایک بہتر زندگی کا خواب دیکھنے والے شہر میں آتا ہے۔