Baaghi TV

Category: شوبز

  • قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ  بنی

    قصورکےایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ فن گائیکی کی بے تاج ملکہ بنی

    گائے گی دنیا گیت میرے

    ملکہ ترنم نورجہاں

    شوبز کی تاریخ کی شاید واحد ہستی تھی کہ جو اپنے بچپن سےلےکر بڑھاپے تک سپرسٹار رہی 21 ستمبر 1926ء کو قصور کے ایک غریب گھر میں پیدا ہونے والی ‘اللہ وسائی’ ، صرف پانچ سال کی عمرمیں اپنے خاندان کے لئے دھن دولت کی دیوی بن گئی تھی نو سال کی عمر میں اپنی گائیکی سے لاہور سٹیج پر داد سمیٹ رہی تھی کولکتہ میں بننے والی اپنی پہلی پنجابی فلم شیلا عرف پنڈدی کڑی (1935) میں اداکاری کرتی اور گیت گاتی ہوئی نظر آئی۔

    اس کا فلمی نام ‘بے بی نورجہاں’ ، فلم پوسٹروں اور اشتہارات پر بڑے نمایاں انداز میں شائع ہوتا تھا سولہ سال کی عمر میں لاہور ساختہ اردو ہندی فلم خاندان (1942) میں ہیروئن بنی جس میں اس کے گیتوں نے پورے برصغیر میں دھوم مچا دی تھی چالیس کے عشرہ میں ممبئی کی فلموں میں صف اول کی اداکارہ اور گلوکارہ تھی پچاس کے عشرہ میں پاکستان کی عظیم گلوکارہ اور اداکارہ کے طور اپنے فن کی بلندیوں پرنظر آئی۔

    ساٹھ کے عشرہ سے پس پردہ گلوکاری شروع کی اور نوے کے عشرہ میں اپنی بیماری تک ، فن گائیکی کی بے تاج ملکہ تھی۔ سات عشروں تک بام عروج پر رہنے والی اس حسین و جمیل ہستی پر قدرت کے انعام و اکرام کی برسات دیکھئے کہ دولت و شہرت کی فراوانی رہی اور وہ زندگی بھر کبھی کسی کی محتاج نہیں ہوئی۔ 23 دسمبر 2000ء کو جب سفر آخرت پر روانہ ہوئی تو وہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اور شب القدر کی متبرک رات تھی۔۔!

    نور جہاں کا فنی کیریئر چار ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا دور تقسیم سے قبل کے گیت ہیں۔ دوسرا دور بطور اداکارہ اور گلوکارہ فلموں کا دور تھا۔ تیسرا دور ساٹھ اور ستر کے عشروں کے شاہکار گیت ہیں۔ چوتھا اور آخری دور ایکشن فلموں کا تھا جن میں اگر میڈم نورجہاں کے گیت نہیں ہوتے تھے تو ڈسٹری بیوٹرز فلم ہی نہیں اٹھاتے تھے۔ ، وہ فلم پھنے خان (1965) کے گیت "جیو ڈھولا۔۔” سے لے کر فلم ماں دا لال (1974) کے گیت "میں پل پل تینوں پیار کراں۔۔” تک کا دور ہے

    ملکہ ترنم نورجہاں کے اب تک ایک ہزار سے زائد فلموں میں دوہزار سے زائد گیتوں کا ریکارڈ دستیاب ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق انہوں نے کم از کم ساڑھے تین سے چار ہزار کے قریب فلمی گیت گائے تھے۔ میڈم کے گائے ہوئے فلمی دوگانوں کی سب سے بڑی تعداد مسعودرانا کے ساتھ تھی۔ اعدادوشمار سے کھیلتے ہوئے بڑی سخت حیرت ہوئی کہ ان دونوں عظیم گلوکاروں کی مشترکہ فلموں کی تعداد ساڑھے تین سو سے زائد تھی جو گلوکاروں کی کسی بھی جوڑی کے لئے ایک منفرد ریکارڈ ہے۔

    دوسرے نمبر پر اس فہرست میں سب سے زیادہ مشترکہ فلموں کا ریکارڈ مالا اور احمدرشدی کا ہے جن کی تعداد سوا دو سو ہےلیکن ان کے دوگانوں کی تعداد سو سے بھی زائد ہے جبکہ میڈم نورجہاں اور مسعودرانا کے دوگانوں کی تعداد صرف 57 ہے اس کی ایک بڑی وجہ اردو اور پنجابی فلموں کا ایک بنیادی فرق ہے ۔

    مسعودرانا اور ملکہ ترنم نورجہاں کی پہلی مشترکہ فلم بنجارن (1962) تھی لیکن پہلا دوگانا فلم میرے محبوب (1966) میں گایا گیا تھا ” کلی مسکرائی جو گھونگھٹ اٹھا کے ، خدا کی قسم تم بہت یاد آئے۔۔” حمایت علی شاعر کے لکھے ہوئے اس گیت کی دھن موسیقار خلیل احمد نے بنائی اور فلم میں یہ گیت درپن اور شمیم آرا پر فلمایا گیا تھا۔

    ان دونوں کا پہلا پنجابی دوگانا اگلے سال کی فلم نیلی بار (1967) میں تھا ” میرے دل دا وجے اک تارا ، سدا وسدا روے تیرا دوارا ، نی میرا دل کھون والئے۔۔” موسیقار کالے خان شبو کی دھن میں یہ گیت یوسف خان اور شیریں پر فلمایا گیا تھا۔ اب تک کی معلومات کے مطابق آخری دوگانا ، فلم نہلا دہلا (1994) میں تھا جو وجاہت عطرے کی دھن میں روبی نیازی اور عمرشریف پر فلمایا گیا تھا ” آجا ، آجا، پیار پیار پیار پیار کرئیے ، پر لا کے بدلاں چہ اڈ چلیے۔۔

    ملکہ ترنم نورجہاں کی فنی صلاحیتوں کی تعریف کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔ ان سے زیادہ موسیقی کی سوجھ بوجھ کم ہی گلوکاروں کو حاصل تھی۔ لیکن یہ بھی ایک حقیت ہے کہ کوئی فن کبھی کسی خاص فنکار تک محدود نہیں رہتا۔ میڈم کے مقابلے میں جن گلوکاروں نے گایا اور نام کمایا ، وہ کوئی معمولی فنکار نہیں تھے۔ مسعودرانا ایسے ہی ایک گلوکار تھے جو فنی اصطلاح میں ایک عطائی تھے لیکن بڑے بڑے کسبیوں پر بھاری تھے۔

    قدرت نے انہیں جو آواز اور انداز دیا تھا ، اس نے انہیں مردانہ گائیکی میں بے مثل بنا دیا تھا، فلمی گلوکار اپنی مرضی سے نہیں گاتے تھے ، فلموں میں ان کی مانگ ، ان کے میعار اور مقبولیت کا منہ بولتا ثبوت ہوتی تھی۔ مسعودرانا کو میڈم نورجہاں کی طرح سب سے زیادہ فلموں میں سب سے زیادہ گیت گانے کا اعزاز حاصل ہے اور ان دونوں کو پنجابی فلموں میں مکمل اجارہ داری حاصل ہوتی تھی۔

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں کے 13 گیت ایسے تھے جنہیں مقابلے کے گیت کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ہی گیت کو دو الگ الگ گلوکار گاتے ہیں ، ریڈیو پر ایسے گیتوں کو ‘ایک گیت دو آوازیں’ کے نام سے پیش کیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے بیشتر گیتوں میں مسعودرانا کو میڈم نورجہاں پر برتری حاصل ہوتی تھی۔

    اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ایک نسوانی آواز چاہے جتنی بھی پاور فل ہو ، وہ ایک جاندار مردانہ آواز کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ پھر مسعودرانا جیسا کھلے گلے اور اونچی سروں میں گانے والا ایک بے مثل گلوکار ہو تو مقابلہ ناممکن ہوجاتا تھا۔ مسعودرانا ، اپنی اس خداداد خوبی کی وجہ سے دیگر گلوکاروں پر چھا جاتے تھے اور سننے والوں پر بڑا گہرا اثر ہوتا تھا۔ ان گیتوں کو سن کر میرے دل میں مسعودرانا کی قدرومنزلت میں اضافہ ہوا تھا –

    مسعودرانا اور میڈم نورجہاں نے مقابلے کا پہلا گیت فلم باؤجی (1968) میں گایا تھا "دل دیاں لگیاں جانے نہ۔۔” اس شوخ گیت کے موسیقار رشیدعطرے تھے اور بول حزیں قادری نے لکھے تھے۔

    دوسرا گیت فلم دلاں دے سودے (1969) میں نذیرعلی کی دھن میں خواجہ پرویز کے بول تھے "بھل جان اے سب غم دنیا دے۔۔” دھیمی سروں میں گائے ہوئے اس گیت میں بھی مسعودرانا نے ثابت کردیا تھا کہ کیوں انہیں پاکستان کا سب سے بہترین ہر فن مولا فلمی گلوکار کہا جاتا تھا۔ ویڈیو پرنٹ میں یہ گیت نہیں تھا لیکن فلم میں موجود تھا۔

    اسی سال کی فلم شیراں دی جوڑی (1969) میں بابا چشتی کی دھن میں ایک المیہ گیت "تیرے ہتھ کی بے دردے آیا ، پھلاں جیا دل توڑ کے۔۔” میں ایک بار پھر مسعودرانا نے اپنی عظمت کی دھاک بٹھا دی تھی۔ اس دور میں گیتوں کے مکھڑے گانے میں مسعودرانا کا کوئی ثانی نہیں ہوتا تھا۔ وہ پہلے بول سے ہی سننے والے کو اپنے قابو میں کر لیتے تھے۔

    فلم تیرے عشق نچایا (1969) کے اس گیت میں البتہ میڈم نورجہاں کو مسعودرانا پر واضح برتری حاصل تھی "تیرے عشق نچایا کر کے تھیا تھیا۔۔” میڈم کا گایا ہوا یہ سپرہٹ گیت فلم کا تھیم سانگ تھا جو فلم کے آخر میں مسعودرانا کے گائے ہوئے گیت میں مکس کیا گیا تھا اور بڑا گہرا اثر چھوڑتا تھا۔

    مسعودرانا کے یادگار گیتوں میں ایک اور گیت "یا اپنا کسے نوں کر لے ، یا آپ کسے دا ہو بیلیا۔۔” بھی تھا جو فلم دل دیاں لگیاں (1970) میں ماسٹرعنایت حسین کی دھن میں حزیں قادری نے لکھا تھا۔ میڈم نے اس گیت کو سنجیدہ انداز میں گایا تھا جبکہ مسعودرانا کا گیت شوخ انداز میں تھا ۔

    فلم آنسو (1971) میں پہلی بار مسوسیقار نذیرعلی نے خواجہ پرویز کا لکھا ہوا ایک اردو گیت "تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں ، جیسے صدیاں بیت گئیں۔۔” ان دونوں سے گوایا تھا جو ان کا اکلوتا مقابلے کا اردو گیت تھا۔۔ مسعودرانا اس گیت کو جتنی آسانی اور قدرتی انداز میں گاتے ہیں ، میڈم اس پر پورا زور لگا کر گا رہی ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

    اسی سال کی فلم جٹ دا قول (1971) میں موسیقار بخشی وزیر صاحبان نے یہ گیت تخلیق کیا تھا "جان والئے ، تینوں میں سنائی نئیوں گل دل والی نی۔۔” مسعودرانا نے یہ گیت انتہائی شوخ انداز میں گایا تھا اور آغاز میں بڑی لمبی تان لگائی تھی جو بے مثل تھی لیکن یہ گیت سنجیدہ انداز میں میڈم نورجہاں کی آواز میں زیادہ مقبول ہوا تھا جو ریڈیو پر اکثر بجتا تھا۔

    فلم دامن اور چنگاری (1973) میں موسیقار ایم اشرف نے تسلیم فاضلی کا ایک دوگانا ان دونوں سے ایک شوخ رومانٹک گیت گوایا تھا "یہ وعدہ کرو کہ محبت کریں گے۔۔” اسی گیت کو پھر مسعودرانا کی آواز میں سنجیدہ انداز میں گوایا تھا "یہ وعدہ کیا تھا ، محبت کریں گے۔۔” جو شباب کیرانوی کا لکھا ہوا تھا۔ دونوں گیت بڑے مقبول ہوئے تھے۔

    فلم نگری داتا دی (1974) میں تنویرنقوی کا لاہور شہر کا ایک خوبصورت روحانی تعارف نذیرعلی نے کمپوز کیا تھا "سجنوں ، اے نگری داتا دی ، ایتھے آندا کل زمانہ۔۔” بنیادی گیت مسعودرانا کا گایا ہوا انتہائی متاثرکن گیت تھا۔ اس گیت میں مکھڑا "گنج بخش فیض عالم مظہر نورخدا۔۔” جتنا خوبصورت مسعودرانا نے گایا تھا ، آج تک کوئی دوسرا گلوکار اس سے بہتر نہیں گا سکا۔ میڈم نورجہاں نے اس گیت کو ثانوی انداز میں گایا تھا جو کم ہی سننے میں آتا تھا۔

    فلم نوکرووہٹی دا (1974) میں ایک اور بھاری بھر کم گیت تھا "نی چپ کر دڑ وٹ جا ، نہ عشق دا کھول خلاصہ۔۔” خواجہ پرویز کے گائے ہوئے اس گیت کی دھن وجاہت عطرے نے بنائی تھی اور ان دونوں نے یہ گیت بڑے شوخ انداز میں گایا تھا ، مسعودرانا کو بلاشبہ اس گیت میں بھی برتری حاصل تھی جس کی ایک وجہ منورظریف پر فلمایا جانا بھی تھا۔

    فلم ظالم تے مظلوم (1974) میں وجاہت عطرے کی دھن میں یہ واحد گیت تھا جو مقبول نہیں ہوا تھا "میرے دل نوں آگئی ایں پسند کڑیئے۔۔” یہ بھی ایک شوخ گیت تھا۔

    فلم گاما بی اے (1976) میں وزیرافضل کی دھن میں یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "نیندراں نئیں آندیاں۔۔” اس گیت کو بھی زیادہ تر مسعودرانا ہی سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ میڈم نے بھی بڑے اچھے انداز میں گایا تھا۔

    اب تک کی معلومات کے مطابق آخری گیت فلم نرگس (1992) میں تھا "جینا میں نئیں جینا ، بن یار دے۔۔” ایم اشرف کی دھن میں یہ گیت خواجہ پرویز نے لکھا تھا۔ یہ دور میڈم نورجہاں کا تھا جو فلمی گائیکی پر چھائی ہوئی تھیں جبکہ مسعودرانا کی آواز میں وہ جان نہیں رہی تھی ، جو ان کی پہچان ہوتی تھی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اقراء عزیز اپنی شادی پر کیوں نہیں روئیں ؟ اداکارہ نے بتا دیا

    اقراء عزیز اپنی شادی پر کیوں نہیں روئیں ؟ اداکارہ نے بتا دیا

    ٹی وی ڈراموں کی معروف اداکارہ اقراء عزیز نے حال ہی میں عمران اشرف کے شو میں شرکت کی ، اس میں انہوں نے رانجھا رانجھا کردی کے تھوڑے ڈائیلاگز بھی بھولے کے ساتھ بولے. جنہیں بہت پسند کیا گیا. انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ میں اپنی شادی پر بالکل نہیں روئی تھی ، نہ رونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے کم عمری میں‌ہی سوچ لیا تھا کہ میں نے شاد ی کرنی ہے لہذا مجھے جلد شادی کرنے کا شوق تھا سو کرلی ، میں دلہن بنی بیٹھی تھی لوگوں کا خیال تھا کہ میں روئوں گی لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ مجھے رونا آیا ہی نہیں ، بلکہ رات کے 4 بجے میں‌زبردستی اپنی رخصتی کروائی.

    انہوں نے کہا کہ ”جب میری ملاقات یاسر کے ساتھ ہوئی تو میں‌نے محسوس کیا کہ وہ بہت لونگ اور کیرنگ ہے،” وہ شادی سے پہلے مجھے مشورے دیا کرتے تھے کہ میں زندگ میں‌کیسے آگے بڑھ سکتی ہوں کیسے کامیابی میرا مقدر بن سکتی ہے، ان کے ایسے مشورے اور میری پرواہ نے مجھے ان کا دیوانہ بنا دیا اور بس پھر میں نے سوچ لیا کہ شادی کرنی ہے تو اسی سے کرنی ہے، یاسر نے مجھے پرپوز کیا تو میں نے ہاں ک

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

    دی .

  • سٹیج کے مرد فنکاروں کی بھی شامت آ گئی

    سٹیج کے مرد فنکاروں کی بھی شامت آ گئی

    حکومت پنجاب کا غیر اخلاقی پرفارمنسز پر تھیٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔حکومت کسی کو بھی اس حوالے سے لچک دینے کےلئے تیار نہیں ہے. خواتین کے ساتھ اب ایسے مرد فنکاروں کے گرد بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جو فحش جملے ادا کرتے ہیں.حکومت کی جانب سے متعدد مرد اداکاروں کی غیر اخلاقی پرفارمنسز مانیٹر کی گئیں اور ان کی ویڈیوز بھی اکٹھی کر لی گئیں ہیں جن میں‌اداکار راشد کمال ۔ گڈو کمال ۔ شکیل چن ۔تسلیم عباس ۔عمران شوکی ۔ سجاد شوکی ۔ سرفراز وکی ، عقیل حیدر ۔ امجد رانا ۔وکی کوڈو ۔ بلا شیخوپوریا ۔ فہد اعوان ۔ مہدی شاہ ، شازب مرزا ۔ شوکت رنگیلا ۔ اسلم چٹا ۔ سجاد فوکی ۔ ناصر مستانہ ، علی ناز ۔ طوطی برال ۔ ندیم چٹا ۔ عابد چارلی کے نام قابل زکر ہیں ان کے خلاف شکنجہ تیار کرلیا گیا اور ان کی رپورٹس اعلی حکام کو بھجوا دی گئیں۔

    ”صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر کا کہنا ہے کہ خواتین کے ساتھ ساتھ مرد فنکاروں کو بھی پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا،” قانون سب کے لیے برابر ہے چاہے وہ مرد ہو یا خاتون ہو، جو بھی غیر اخلاقی پرفارمنسز کرے گا چاہے وہ مرد ہو یا خاتون قانون سے بالا تر نہیں۔

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

  • لتا منگیشکر نے کپل نے کو افسوس کرنے کے لئے کال لیکن کپل نے کیا کیا؟

    لتا منگیشکر نے کپل نے کو افسوس کرنے کے لئے کال لیکن کپل نے کیا کیا؟

    کپل شرما جو کہ ایک شو ہوسٹ کرتے ہیں ان کے شو میں‌ بالی وڈ‌کی نامور سلیبرٹیز آ چکی ہیں، کپل کے کام کرنے کا انداز دوسروں سے کافی مختلف ہے یہی وجہ ہے کہ ہر کوئی ان کا پروگرام دیکھ کر محظوظ ہوتا ہے. کپل شرما نے اپنے ہی ایک شو میں بتایا ہے کہ ہمارے اس شو کے سیٹ کو ایک بار آگ لگ گئی تھی اس حوالے سے میڈیا پر بہت خبریں آئیں ، ہر کسی نے افسوس کا اظہار کیا ، یہاں تک کہ مجھ سے ہمدردی دکھانے کےلئے بہت ساری سلیبرٹیز کی کالز آئیں. میں پریشانی میں‌گھر جا رہا تھا ، میں کیا دیکھتا ہوں کہ لینڈ لائن سے میرے موبائل پر ایک کال آئی ہے. اور میں نے سوچا پتہ نہیں کس کا نمبر ہے خیر میں نے اٹھا لیا.

    انہوں نے کہا کہ” میں نے جب فون اٹھایا تو آواز آئی کپل میں لتا بول رہی ہوں، میں‌ نے سنا تو میرے تو ہوش اڑ گئے ”میں نے گاڑی کھڑی کر لی ، اور لتا نے کال کی تھی سیٹ کو آگ لگنے پر افسوس کرنے کےلئے ، بولی بہت افسوس ہوا ، میں خوشی میں بھول گیا کہ میرے سیٹ کو آگ لگی ہے ، میں نے لتا سے کہا کہ میرے والد زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ مجھے لتا منگیشر کی کال آئی ہے تو اس پر لتا نے کہا کہ کپل میں نے افسوس کرنے کے لئے کال کی ہے اس کے بعد مجھے ہوش آئی کہ میرا تو سیٹ جل گیا ہے.

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

  • لتا منگیشر کو دیکھ کر ادت نارائن کیوں کانپ اٹھے ؟

    لتا منگیشر کو دیکھ کر ادت نارائن کیوں کانپ اٹھے ؟

    بالی وڈ‌ کے معروف گلوکار ادت نارائن نے کپل شرما کے شو میں‌ ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ میں نے بہت سارے گلوکارائوں کے ساتھ گایا ہے کبھی نروس نہیں ہوا، ہمیشہ موج مستی کرتے ہوئے گانا گا دیا. انہوں نے کہاکہ لیکن جب مجھے لتا منگیشکر کے ساتھ گانے کا موقع ملا تو میں‌بہت خوش ہوا ، میرے تو پائوں ہی زمین پر نہیں لگ رہے تھے ، مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ میں نے سارا بچپن جن کو سنتے ہوئے گزارا ہے انہی کے ساتھ گانے موقع میسر آرہا ہے. عین جب گانے کا دن آیا تو میں نروس ہو گیا میں‌گانا ریکارڈ کروانے پہنچ گیا، لتا منگیشر ابھی نہیں پہنچی تھیں، میں گا رہا تھا، گاتے گاتے میری نظر پڑی دروازے پر.

    ”کیا دیکھتا ہوں کہ سفید ساڑھی پہنے ہوئے لتاق منگیشر جی تشریف لا رہی ہیں، وہ ریکارڈنگ روم میں‌داخل ہوئیں تو مجھے پسینے آ گئے اور میری ٹانگیں کانپنے لگیں ”، لتا نے میری حالت دیکھ کر کہا کہ میں جان بوجھ کر اس وقت آئی ہوں صرف اسلئے کہ تم کو میں‌ریلیکس کر سکوں ، تاکہ تم اچھا گا سکو، بھول جاو میں‌لتا ہوں بس اپنے گانے پر فوکس کرو اس کے بعد مجھے اطمینان ہوا حوصلہ بلند ہوا تو میں‌نے لتا کے برابر کھڑے ہو کر گانے ریکارڈ کروائے.

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

  • میرااصل نام الکا ہے آج بھی گھر والے اسی نام سے پکارتے ہیں انورادھاپوڈوال

    میرااصل نام الکا ہے آج بھی گھر والے اسی نام سے پکارتے ہیں انورادھاپوڈوال

    بالی وڈ کی معروف گلوکارہ انورادھا پوڈوال نے کپل شرما کے شو میں شرکت کی اس میں انہوں نے بتایا کہ ان کا اصل نام الکا ہے اور ہم میں‌رواج ہے کہ شادی کے بعدہمارا نام تبدیل ہو تا ہے، تو شادی کے بعد میرا نام تبدیل ہوا الکا سے انورادھا پوڈوال رکھ دیا گیا، دنیا کے لئے تو میرا نام انورادھا پوڈوال رہا لیکن آج تک میرے گھر میں مجھے الکا ہی کہتے ہیں، کبھی کسی نے مجھے انورادھا نہیں کہا ، وہ آج بھی مجھے الکا کہہ کر پکارتے ہیں، انہوں نے کہا کہ انورادھا نام بھی اچھا ہے الکا بھی اچھا ہے ، فرق یہ ہے کہ میرے پاس جو شہرت ہے وہ انورادھا پوڈوال کے نام سے ہے. انہوں نےایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں نے بہت سارے گلوکاروں کے ساتھ گایا بہت اچھا لگا،

    لیکن ادت نارائن کے ساتھ گانے کا تجربہ اس لئے بھی خوشگوار رہا ہے کیونکہ یہ کام کے دوران بہت ہنساتے ہیں اور اچھا ماحول بنا کر رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ”میں‌یہ مانتی ہوں کہ فلم عاشقی نے میرے کیرئیر کی ڈگر کو بدل ڈالا لیکن بھجن گانا بھی میری پہچان ہیں، اور مجھے خوشی ہے کہ لوگ مجھے بھجن گانے کی وجہ سے بھی بہت پیار کرتے ہیں.”

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

  • ایک فلم میں‌کام کرنے کے بعد اداکاری سے توبہ کر لی کمارسانو

    ایک فلم میں‌کام کرنے کے بعد اداکاری سے توبہ کر لی کمارسانو

    بالی وڈ میں نوے کی دہائی میں اگر کسی گلوکار نے سٹار ڈم انجوائے کیا تو وہ تھے کمار سانو، 1990 میں آئی فلم عاشقی سے انہوں نے میوزک کی دنیا میں ایسی دھوم مچائی کےاس کے بعد انہوں نے آج تک پیچھے مڑ کر نہیں سیکھا. کیا آپ جانتے ہیں کہ اس رومینٹک گلوکار نے ایک بنگالی فلم میں بھی کام کیا تھا، اس کے بعد یہ کسی فلم میں‌نظر نہیں آئے. رجت شرما کے ساتھ ایک انٹرویو میں‌ کمار سانو نے اس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے دوستوں نے مجھے بہت چڑھایا کہ تم فلم کرو ہر کوئی کر رہا ہے تم کیوں نہیں کرتے، میں‌بھی ان کے پیچھے لگ گیا اور بنگالی فلم کر ڈالی ، بنگالی تھا زبان پر عبور تھا ، فلم ریلیز ہوئی 23 ہفتے چلی لیکن مجھے سمجھ میں آئی کہ اداکاری تو میرے بس کی بات نہیں ہے.

    لہذا میں‌نے اداکاری دوبارہ کبھی نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اگر کبھی مجھے دوبارہ آتی یا آئیگی تو انکار ہی کروں گا. انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ” مجھے جب لگاتار 5 بار فلم فئیر ایوارڈ ملے تو میں‌نے کہا تھا کہ کسی اور گلوکار کو اب ملے تو مجھے خوشی ہو گی اس بات کو پرنٹ میڈیا نے غلط انداز سے لکھا جس کے بعد فلم فئیر والے بھی مجھ سے ناراض ہوئے ، میں سمجھتا ہوں کہ یہ بیان ایک ایسا گناہ بن گیا میرے لئے جس کی سزا آج بھی بھگت رہا ہوں.”

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    فضا علی کی بیٹی کی شوبز میں‌اینٹری

  • نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    نتاشا علی ہوئیں گھر سے بے گھر

    اے آر وائی پر چلنے والا رئیلٹی شو تماشا گھر جو کہ اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اس میں‌دو بڑے اور اہم کنٹسیٹنس حال ہی میں‌بے گھر ہو گئے ہیں علی سکندر اور اداکارہ نتاشا علی . نتاشا علی نے اپنی گیم بہت ہی اچھے انداز سے کھیلی ، انہوں نے گھر میں کبھی بہت زیادہ صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا تو کبھی وہ اپنا ٹیمبپر لوز کر جاتیں. نتاشا علی جیسے ہی گھر سے بے گھر ہوئیں تو علی سکندر کے بھائی آغا علی نے ان کو سوشل میڈیا پر کہا کہ ” آپ گھر میں کونٹینٹ کی کوئین تھیں، آپ نے بہترین انداز سے گیم کھیلی اور سب سے زیادہ اچھی بات یہ ہے کہ آپ جیسی ہیں ویسی ہی رہیں آپ رئیل رہیں فیک نہیں بنیں ،

    بہت زبردست نتاشا آپ پہلے ہی جیت چکی ہو، گھر سے نکلنا معنی نہیں رکھتا”. یوں ”علی سکندر نے خوبصورت الفاظ میں نتاشا علی کی حوصلہ افزائی کی.” یاد رہے کہ اس بار تماشا گھر میں جتنے بھی کنٹیسٹنس ہیں وہ سب ہی بہت مضبوط ہیں کوئی فی الحال یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتا کہ کون ہو گا شو کا ونر. تماشا گھر انڈین رئیلٹی شو بگ باس کی کاپی ہے اور عدنان صدیقی گھر والوں کے لئے بادشاہ ہیں.

    ویلکم کے تیسرے حصے میں نانا پاٹیکر کیوں نہیں ؟ اداکار نے بتا دیا

    عمارہ حکمت نے لکس ایوارڈز میں مولا جٹ کو کیوں نہیں بھیجا؟‌

    ڈرامہ سیریل جنت سے آگے تنقید کی زد میں‌کیوں‌؟‌

  • تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    تماشا گھر سے نکلنے کے بعد علی سکند کا اہم وڈیو پیغام

    آغا علی کے بھائی علی سکندر جو کہ رئیلٹی شو تماشاگھر میں موجود تھے ان کو بہت پسند کیا گیا لیکن بد قسمتی سے وہ جیت نہ سکے اور گھر سے بے گھر ہو گئے. علی سکندرنے تماشا گھر سے باہر نکلنے کے بعد ایک وڈیو پیغام جاری کیا جس میں‌انہوں نے کہا کہ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے پاکستان سمیت پوری دنیا سے اتنا پیار ملے گا. انہوں نے کہا کہ میں ہر وقت گھر میں‌یہی سوچ رہا ہوتا تھا کہ باہر اس وقت کیا ہو رہا ہوگا جو میں‌کررہا ہوں وہ باہر لوگوں کو پسند آبھی رہا ہے یا نہیں. کہیں میں‌کچھ غلط تو نہیں کررہا. میں ہر روز اینٹرٹینمنٹ کا پیکج تیار کرکے لاتا تھا. لیکن مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ سب مجھے اتنا پسند کررہے ہیں.

    ”آپ سب نے مجھے ووٹ کیا سپورٹ کیا ، میں آپ سب کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں ”، آپ سب نے میرا دل جیت لیا ہے مجھے جیت لیا ہے میں‌آپ کی محبتوں کا قرضدار بن گیا ہوں. میں اب آپ سب کے ساتھ رابطے میں‌رہا کروں گا انسٹاگرام پر لائیو بھی آیا کروں گا، یوٹیوب چینل پر بھی آپ سے باتیں کیا کروں گا، آپ کے تمام سوالوں کا جواب دوں گا. آپ سب میری انرجی ہو میرا فیول ہو بس اسی طرح سے مجھے پیار دیتے رہیے گا .

    ویلکم کے تیسرے حصے میں نانا پاٹیکر کیوں نہیں ؟ اداکار نے بتا دیا

    عمارہ حکمت نے لکس ایوارڈز میں مولا جٹ کو کیوں نہیں بھیجا؟‌

    ڈرامہ سیریل جنت سے آگے تنقید کی زد میں‌کیوں‌؟‌

  • ماڈل عاشق احمد کی ٹک ٹاک پر وڈیوز کے ویوز اور لائکس  کا ریکارڈ

    ماڈل عاشق احمد کی ٹک ٹاک پر وڈیوز کے ویوز اور لائکس کا ریکارڈ

    بہت سارے فنکاروں نے ٹک ٹاک کا رخ کر لیا ہوا ہے اور انہیں وہاں پر بہت زیادہ پذیرائی بھی ملی ہے.
    عاشق احمد کا شمار بھی ایسے فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے شوبز کی دنیا میں‌قدم رکھنے اور وہاں پذیرائی حاصل کرنے کے بعد ٹک ٹاک کی دنیا کا رخ کیا. ان کی ٹک کی وڈیوز کے لائیکس 106 ملین سے بھی تجاوز کر چکے ہیں جبکہ ان کے فالورز کی تعداد 47 لاکھ ہے. عاشق احمد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سماجی مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں اور ان کی باتوں کو لوگ بہت شوق سے سنتے اور سراہتے ہیں.

    ”عاشق احمد نے متعدد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا ہے” جس میں‌اڈاری ڈرامہ سیریل قابل زکرہے. ان کے کریڈٹ پر یوفون کے کمرشلز بھی ہیں. انہوں نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کیا، عاشر عظیم کی ڈائریکشن میں بنی فلم مالک میں انہوں نے نہایت ہی اہم کردار ادا کیا، اس کے بعد انہوں نے نامعلوم افراد 2، لال کبوتر، دُرج، وی آئی پی، چوہدری جیسی فلموں میں‌کام کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا.عاشق احمد کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ مجھے پنجابی اور پشتو فلموں میں کام کرنے کا موقع میسر آئے.

    ویلکم کے تیسرے حصے میں نانا پاٹیکر کیوں نہیں ؟ اداکار نے بتا دیا

    عمارہ حکمت نے لکس ایوارڈز میں مولا جٹ کو کیوں نہیں بھیجا؟‌

    ڈرامہ سیریل جنت سے آگے تنقید کی زد میں‌کیوں‌؟‌