Baaghi TV

Category: شوبز

  • لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔

    ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔

    عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔

    فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔

  • ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر  شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر شہزاد رائے کا گانا سوشل میڈیا پر وائرل

    معروف گلوکار، سماجی کارکن اور ایجوکیشن ایکٹیوسٹ شہزاد رائے نے ورلڈ ایجوکیشن ڈے کے موقع پر تعلیمی نظام پر طنز کرتے ہوئے نیا گانا “لیٹ ہو گئے” ریلیز کر دیا۔

    “لیٹ ہو گئے” گانے کی ویڈیو میں شہزاد نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے والدین سے سوال کیا “کیا آپ نے ابھی تک اپنے بچے کو اسکول میں داخل کروا دیا ہے؟” جس پر والدین حیران ہو جاتے ہیں کہ ابھی تک جو بچہ پیدا ہی نہیں ہوا، اس کا داخلہ کیسے ممکن ہے، جواب میں شہزاد رائے کہتے ہیں “لیٹ ہوگئے” یہ منظر بچوں پر ابتدائی عمر سے ڈالے جانے والے دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

    ویڈیو میں شہزاد رائے مختلف کرداروں میں نظر آتے ہیں، اور بار بار جملہ “لیٹ ہو گئے” دہراتے ہیں اس انداز نے گانے کے پیغام کو مزید مؤثر اور طنزیہ بنایا ہے،ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح اعلیٰ طبقے کے اسکولوں میں چھوٹے بچوں کے داخلے کے لیے سخت انٹرویوز اور معیارات قائم کیے جاتے ہیں ، اور بچوں پر اسکول جانے سے قبل ہی دباؤ ڈالنا شروع ہو جاتا ہے ایک منظر میں چھوٹی لڑکی والدین اور نظام سے التجا کرتی ہے کہ اسے صرف جینے کے لیے کچھ وقت دیا جائے، قبل اس کے کہ توقعات اور معیار کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔

    سرکاری خرچ پر پارلیمانی وفد کا عمرہ، خبروں پر قومی اسمبلی کی وضاحت جاری

    گانے میں تعلیمی نظام کے دیگر پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے، جیسے زبان کا فرق اور انگریزی تعلیم کا دباؤ، جہاں بچے گھر میں اپنی مادری زبان بولتے ہیں مگر اسکول میں انگریزی میں پڑھائی ہوتی ہے، جس سے ذہنی دباؤ اور الجھن بڑھتی ہے علاوہ ازیں، ٹیوشن کلچر اور بھرپور پڑھائی کے باعث بچوں کے لیے آرام اور کھیل کود کا وقت نہ ہونا بھی واضح کیا گیا ہے، جو بچوں کی ذہنی تھکان اور روزمرہ کے دباؤ کو اجاگر کرتا ہےشہزاد رائے کا پیغام واضح ہے کہ تعلیم صرف مقابلہ بازی اور بوجھ کا ذریعہ نہیں بن سکتی، بلکہ بچوں کی فکری نشونما، خوشی اور مجموعی ترقی کا ذریعہ ہونی چاہیے۔

    پاکستان اور گھانا کے درمیان 2 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

  • ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ  کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ٹرمپ کی پالیسی سے بیزا رہالی ووڈ اداکارہ کا امریکا چھوڑنے پر غور

    ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن اسٹیورٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکا میں آزادی سے کام نہیں کر سکتیں اس لیے وہ اپنی ہدایتکاری کے کیریئر کے لیے یورپ منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

    چند ماہ قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی تھی جس کا مقصد فلم سازی کو امریکا تک محدود کرنا تھا اداکارہ نے برطانوی اخبار دی ٹائمز کو انٹرویو میں اس پالیسی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ صدر کے احکامات کی اندھی تقلید پر یقین نہیں رکھتیں خواہ وہ درست ہوں یا غلط۔

    کرسٹن اسٹیورٹ کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث وہ امریکا میں آزادانہ طور پر کام کرنے کے قابل نہیں رہیں جس کی وجہ سے انہوں نے یورپ میں فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا ہے،انہوں نے امریکا سے باہر بننے والی فلموں پر 100 فیصد ٹیکس کے تصور کو فلم انڈسٹری کے لیے خوفناک قرار دیا۔

    اپنی ہدایتکاری میں بننے والی پہلی فلم ’دا کرنولوجی آف واٹر‘ کے حوالے سے کرسٹن اسٹیورٹ نے بتایا کہ یہ فلم لاتویا میں شوٹ کی گئی کیونکہ امریکا میں اس منصوبے پر کام کرنا ممکن نہیں تھاٹرمپ کے دور میں حقیقت بکھرتی جا رہی ہے مگر ہمیں اپنی مرضی کی دنیا تخلیق کرنی چاہیے، میں وہاں آزادی سے کام نہیں کر سکتی لیکن مکمل طور پر ہار بھی نہیں ماننا چاہتی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت پیغام دیتے ہوئے اداکارہ نے کہ میں یورپ میں فلمیں بنانا چاہتی ہوں اور پھر انہیں امریکی عوام کے گلے اتارنا چاہتی ہوں،

  • فلم دھرندر کے اداکار  گھریلو ملازمہ سے زیادتی  کے الزام میں گرفتار

    فلم دھرندر کے اداکار گھریلو ملازمہ سے زیادتی کے الزام میں گرفتار

    پاکستان مخالف فلم دھرندر کے اداکار ندیم خان کو پولیس نے گھریلو ملازمہ سے زیادتی کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق 41 سالہ خاتون نے شکایت درج کروائی کہ وہ مختلف اداکاروں کے گھروں میں کام کر چکی ہیں اور گزشتہ کئی برسوں سے ندیم خان کے گھر میں بھی کام کر رہی تھیںدونوں کے درمیان قربت بڑھی اور اداکار نے شادی کا وعدہ کیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق متاثرہ خاتون نے الزام عائد کیا ہے کہ شادی کے وعدے پر اداکار نے گزشتہ 10 برس کے دوران متعدد بار ان کے ساتھ زیادتی کی اب اداکار نے شادی سے انکار کردیا جس پر انہوں نے پولیس سے رجوع کیا۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس کے مطابق ندیم خان کو اس شکایت پر 22 جنوری کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت پولیس کی حراست میں ہیں۔

  • بروکلین بیکہم اور نکولا پیلٹز میں اختلافات , بیکہم خاندان میں تنازع

    بروکلین بیکہم اور نکولا پیلٹز میں اختلافات , بیکہم خاندان میں تنازع

    ‎شوبز اور فٹ بال کی دنیا میں ’بیکہم فیملی‘ ہمیشہ ایک مثالی خاندان کے طور پر دیکھی جاتی رہی ہے، لیکن 2026 کے آغاز تک، ڈیوڈ اور وکٹوریہ بیکہم کے بڑے بیٹے بروکلین بیکہم اور ان کی اہلیہ نکولا پیلٹز کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے ایک سنگین خاندانی جنگ کی صورت اختیار کر لی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، یہ تنازع صرف "ساس بہو کی لڑائی” تک محدود نہیں رہا بلکہ انا، کاروباری مفادات اور ذاتی آزادی جیسے پہلو بھی شامل ہو گئے ہیں۔
    ‎تنازع کی جڑ: شادی سے شروع ہونے والی سرد جنگ
یہ کہانی 2022 میں بروکلین اور نکولا کی پرتعیش شادی سے شروع ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ وکٹوریہ بیکہم اور نکولا کے درمیان شادی کے جوڑے کو لے کر پیدا ہونے والی غلط فہمی نے اس تنازع کو بڑھاوا دیا۔ نکولا کا دعویٰ ہے کہ وکٹوریہ نے وقت پر جوڑا تیار کرنے سے معذرت کی، جبکہ بیکہم خاندان ان الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
    ‎2026 کے بڑے انکشافات: بروکلین کا دو ٹوک مؤقف
حالیہ مہینوں میں بروکلین نے اپنے والدین سے فاصلے اختیار کیے اور چند بیانات دیے جو سوشل میڈیا پر تنازع کا سبب بن گئے:
    * برانڈ بیکہم کا دباؤ: بروکلین کا کہنا ہے کہ انہیں بچپن سے ہی "بیکہم برانڈ” کی چمک برقرار رکھنے کے لیے ایک کٹھ پتلی کی طرح استعمال کیا گیا، اور والدین کی سخت نگرانی میں رکھا گیا۔
    * تجارتی حقوق کا تنازع: رپورٹس کے مطابق ڈیوڈ بیکہم اور ان کی ٹیم نے دباؤ ڈالا کہ بروکلین اپنے نام کے تجارتی حقوق والدین کے پاس رہنے دیں، تاکہ پیلٹز خاندان اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔
    * بیوی کی حمایت: بروکلین نے کہا کہ وہ اپنی زندگی کے نئے سفر میں اپنی اہلیہ نکولا کے ساتھ کھڑے ہیں اور والدین کی مداخلت مزید برداشت نہیں کریں گے۔
    ‎والدین کا ردعمل: خاموشی یا حکمتِ عملی؟
دوسری جانب ڈیوڈ اور وکٹوریہ نے عوامی سطح پر شرافت کا دامن تھامے رکھا ہے۔ ڈیوڈ کے مطابق بروکلین جذباتی فیصلے کر رہے ہیں اور وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا، جبکہ اندرونی ذرائع کے مطابق وکٹوریہ بروکلین کی بغاوت پر شدید رنجیدہ ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ نکولا نے ان کے بیٹے کو ان سے دور کر دیا ہے۔

  • انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”

    ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

  • بھارتی  اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف اداکار، فلم ساز اور متنازع تبصروں کے لیے مشہور کمال رشید خان المعروف کے آر کے کو رہائشی عمارت میں فائرنگ کرنے کے الزام میں ممبئی پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ 18 جنوری 2026 کو آندھیری کے اوشیواڑہ علاقے میں نالندا سوسائٹی میں پیش آیا، جہاں دو گولیاں رہائشی عمارت کی دیواروں میں لگی پائی گئیں ان میں سے ایک گولی دوسری منزل کے فلیٹ سے اور دوسری چوتھی منزل کے فلیٹ سے برآمد ہوئی، تاہم عمارت میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    ابتدائی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج سے گولیاں چلانے کے ماخذ کا پتہ نہیں چل سکا، تاہم فارنزک تجزیے سے ظاہر ہوا کہ یہ گولیاں ممکنہ طور پر کے آر کے کے قریب واقع بنگلے سے چلائی گئی تھیں، جس کے بعد پولیس نے انہیں جمعہ کی شب تفتیش کے لیے حراست میں لیا۔

    پولیس کے مطابق بیان کے دوران کے آر کے نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ انہوں نے اپنے لائسنس یافتہ ہتھیار سے دو گولیاں چلائیں پولیس نے اس ہتھیار کو ضابطے کے مطابق قبضے میں لے لیا ہے اور مزید قانونی کارروائی جاری ہے،تفتیش ابھی جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فائرنگ حادثاتی تھی یا دانستہ۔ پولیس نے معاملے میں متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

  • شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر

    شمالی کوریا کی سینما دنیا میں غیر معمولی تبدیلی، فلم میں تشدد، سنسنی اور ممنوعہ مناظر

    شمالی کوریا کی ایک نئی ریاستی منظور شدہ فلم نے ملکی اور غیر ملکی مبصرین کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ اس میں ایسے مناظر اور کہانی دکھائی گئی ہے جو ماضی میں اس سخت گیر ملک کے سینما میں ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔

    فلم “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” (Days and Nights of Confrontation) میں ایک شخص کو پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹ کر قتل کرنے کا منظر، خودکش بم جیکٹ، خاندانی غداری، ازدواجی بے وفائی، حتیٰ کہ مختصر جزوی عریانی بھی دکھائی گئی ہے۔ ایک خاتون کردار کو پہلے اس کے شوہر کے ہاتھوں چھرا گھونپا جاتا ہے، پھر گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہوتی ہے اور آخرکار قتل کر دیا جاتا ہے۔یہ فلم گزشتہ سال شمالی کوریا کے سینما گھروں میں دکھائی گئی جہاں اس نے بڑی تعداد میں ناظرین کو متوجہ کیا، تاہم اس ماہ اسے پہلی بار سرکاری ٹی وی پر نشر کیا گیا، جسے مبصرین سرکاری منظوری اور اعتماد کی واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔اس فلم کو کوریَن اپریل 25 فلم اسٹوڈیو نے پروڈیوس کیا ہے، جو شمالی کوریا کی نظریاتی اور انقلابی فلموں کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں کھلے تشدد اور تھرلر انداز کی کہانی کو خاص طور پر غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

    امریکی فلم ساز جسٹن مارٹیل، جنہوں نے گزشتہ سال پیانگ یانگ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں شرکت کی، کا کہنا ہے “پلاسٹک بیگ سے دم گھونٹنے کا منظر میں نے اس سے پہلے کسی شمالی کوریائی فلم میں نہیں دیکھا۔ جزوی عریانی بھی ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔”

    فلم کی کہانی 2000 کی دہائی کے وسط میں ترتیب دی گئی ہے اور اس کا مرکزی موضوع ذاتی اور ریاستی غداری ہے۔ پلاٹ کا نقطۂ عروج سابق شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اِل کے قتل کی سازش ہے، جس میں ان کی ٹرین کو دھماکے سے اڑانے کا منصوبہ بنایا جاتا ہے۔یہ کہانی 2004 میں چین کی سرحد کے قریب ریونگ چون ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے سے مماثلت رکھتی ہے، جسے سرکاری طور پر حادثہ قرار دیا گیا تھا، مگر بیرونِ ملک اسے قتل کی کوشش سے جوڑا جاتا رہا۔فلم کے اختتام پر سازش ناکام ہو جاتی ہے، مرکزی کردار گرفتار ہو جاتا ہے اور واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ ریاست سے غداری کا انجام ہمیشہ تباہی ہے۔

    اگرچہ فلم کا مواد اشتعال انگیز ہے، تاہم اس کا پیغام مکمل طور پر ریاستی نظریے کے مطابق ہے۔ غداری تباہی کی طرف لے جاتی ہے اور ریاست سے وفاداری ہی واحد محفوظ راستہ ہے۔ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی کم جونگ اُن کی حکومت کی اس سوچ کی عکاسی کرتی ہے کہ نوجوان نسل کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جدید انداز اپنانا ضروری ہو چکا ہے۔

    شمالی کوریا میں فلم کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے۔ سابق رہنما کم جونگ اِل خود فلمی صنعت کی نگرانی کرتے تھے اور ان کے پاس 15 ہزار سے زائد فلموں کا ذاتی ذخیرہ تھا۔اسی دور میں جنوبی کوریا کی معروف اداکارہ چوئی اُن ہی اور ہدایتکار شن سانگ اوک کو اغوا کر کے پیانگ یانگ لایا گیا، جہاں انہوں نے ریاست کے لیے متعدد فلمیں بنائیں، جن میں مشہور فلم “پلگاساری” بھی شامل ہے۔آج کے شمالی کوریا میں اسمارٹ فونز، ریاستی ایپس اور اندرونی اسٹریمنگ سروسز عام ہو رہی ہیں، جبکہ خفیہ طور پر جنوبی کوریائی ڈرامے اور موسیقی بھی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ اگرچہ ان پر سخت سزائیں دی جاتی ہیں، مگر ماہرین کے مطابق صرف جبر اب کافی نہیں رہا۔

    “ڈیز اینڈ نائٹس آف کنفرنٹیشن” اسی نئی حکمتِ عملی کا حصہ ہے ، زیادہ سنسنی خیز، زیادہ تاریک، مگر پیغام وہی پرانا،ریاست اور رہنما کے خلاف سازش کا انجام ہمیشہ ہلاکت اور تباہی ہے۔

  • خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    خلیل الرحمان قمر نازیبا ویڈیو کیس: ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور

    معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کی مبینہ نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے مقدمے میں نامزد ملزمہ آمنہ عروج کی ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج منصور احمد قریشی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا عدالت نے ملزمہ کی درخواستِ ضمانت بعد از گرفتاری تین لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی۔ ملزمہ آمنہ عروج نے اپنے وکیل کے ذریعے ضمانت کی درخواست دائر کر رکھی تھی، جس پر عدالت نے قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا۔

    عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ ملزمہ کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مبینہ طور پر نامناسب ویڈیو وائرل کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

    عدالت نے حکم دیا کہ ملزمہ مقررہ مچلکے جمع کرانے کے بعد ضمانت پر رہا کی جائے، جبکہ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ بر س جولا ئی میں معروف رائٹر خلیل الرحمان قمر کی ہنی ٹریپ ہونے کی خبر سامنے آئی تھی، آمنہ عروج نامی خاتون نے خلیل الرحمان کو گھربلا کر ساتھیوں کے ہمراہ تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں لوٹ لیا تھاڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمرکوآمنہ عروج نامی خاتون نے ڈرامہ بنانے کا جھانسہ دے کر ا پنے گھر بلایا خلیل الرحمان کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ 7 سے 8 مسلح افراد داخل ہوئےان کی آنکھوں پرپٹی باندھی اورتشدد کا نشانہ بنایا۔

    ایف آئی آرکے مطابق ملزمان نے خلیل الرحمان کوگاڑی میں بیٹھایا اورایک کروڑ روپےکا مطالبہ کیا گن پوائنٹ پران سے اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے 2 لاکھ 60 ہزاربھی نکلوائے گئے ان سے نقدی، پرس، موبائل اور قیمتی گھڑی بھی چھین لی گئی تھی،خلیل الرحمان کوکہا گیا کہ تمھیں مارنےکا حکم ہے کلمہ پڑھ لو اورایک فائرپاؤں کےقریب مارا گیا،آرگنائزڈ کرائم یونٹ نے ہنی ٹریپ کرنے والی خاتون سمیت چار ملزمان کو پکڑ ا تھا جبکہ استعمال کی گئی گاڑی بھی برآمد کی تھی۔

  • ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی میں بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل ایک گاڑی پیر کی شام سڑک حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اکشے کمار اپنی اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کے ہمراہ ایئرپورٹ سے اپنے جوہو کے رہائشی مکان واپس جا رہے تھے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کار نے پیچھے سے ایک آٹو رکشہ کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں رکشہ الٹ گیا اور اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل اسکارٹ گاڑی سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ سیکیورٹی گاڑی سڑک پر دائیں جانب الٹ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکشے کمار کی اسکارٹ گاڑی سڑک پر ایک طرف الٹی ہوئی ہے، جبکہ آٹو رکشہ بری طرح تباہ نظر آتا ہے اور اوپر سے دب چکا ہے۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    واضح رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ حال ہی میں بیرونِ ملک سفر سے واپس آئے تھے، جہاں وہ اپنی ذاتی زندگی کے ایک خاص موقع کی مناسبت سے گئے تھے۔ دونوں نے حال ہی میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ منائی ہے۔اس موقع پر ٹوئنکل کھنہ نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ اور اکشے کمار پیراگلائیڈنگ کرتے نظر آئے۔ ویڈیو کے ساتھ ٹوئنکل نے لکھا کہ ان کی شادی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے اور “اڑان بھرنے” کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ کی شادی 17 جنوری 2001 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں 23 سالہ بیٹا آراو اور 13 سالہ بیٹی نتارا شامل ہیں۔