Baaghi TV

Category: شوبز

  • کیا یاسر حسین اور فیروز خان میں صلح ہو گئی ؟‌

    کیا یاسر حسین اور فیروز خان میں صلح ہو گئی ؟‌

    اقراء عزیز کے شوہر اور معروف ایکٹر رائٹر ہوسٹ یاسر حسین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ ہماری اور فیروز خان کی صلح صفائی ہو گئی ہے اس نے جو کیا وہ اس کا حساب دے گا اور ہمارے ساتھ جو ہوا ہے ہم اس پر آواز اٹھا رہے ہیں. انہوں نے کہا کہ فیروز خان کا فون ایف آئی اے نے ضبط کر لیا ہے انہوں نے ہمارے نمبرز بپلک میں شئیر کرکے اچھا کام نہیں‌ کیا مردوں کے تو نمبرز پبلک کئے ہی خواتین کے بھی کر دئیے انہوں نے یہ یقینا یہ بہت ہی غلط حرکت کی انہیں ایسا نہیں‌کرناچاہیے تھا. میں سمجھتا ہوں کہ اگر کسی کے ساتھ کوئی ظلم ہوتا

    ہے تو اسکو اسکے خلاف آواز ضرور اٹھانی چاہیے. یاسر حسین نے کہا کہ یقینا ہمیں انصاف کی امید ہے. اگر فیروز خان نے ہمارے نمبرز پبلک میں شئیر کئے ہیں اگر کیا بلکہ کئے ہیں اس پر ضرور کاروائی ہونی چاہیے. یاسر حسین نے کہا کہ مجھے جو ٹھیک لگتا ہے میں بولتا ہوں کسی کو اگر کوئی مسئلہ ہے تو یہ اسکا مسئلہ ہے یہ میرا مسئلہ نہیں ہے. میں ویسے تو کام ہی کرنے کا قائل ہوں لیکن بعض‌اوقات کچھ معاملات میں‌ بولنا بہت ضروری ہوتا ہے. اگر کسی کو لگتا ہے کہ یاسر حسین یا ان سب کی جنہوں‌ کے فیروز خان نے نمبرز لیک کئے تھے ان کی صلح ہو گئی ہے تو ایسا نہیں ہے.

  • شاہد فلمز کے علاوہ کسی کے لئے فلم ڈائریکٹ نہیں‌ کروں گا کامران شاہد

    شاہد فلمز کے علاوہ کسی کے لئے فلم ڈائریکٹ نہیں‌ کروں گا کامران شاہد

    کامران شاہد نے حال ہی میں اپنی فلم ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ کیا ہے. اس موقع پرانہوں‌ نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس فلم کا سکرپٹ میرے دل کے بہت قریب تھا، اورمیری بہت خواہش تھی کہ اس پر کام کروں گا اسلئے یہ بنائی اور فلم تیار ہو چکی ہے عید الفطر پر ریلیز ہوگی. مجھے بہت امید ہے کہ شائقین کو یہ فلم پسند آئیگی. انہوں نے مزید کہا کہ میرا پیشہ صحافت ہے ، میں نے اپنے شوق سے فلم ڈائریکٹ کی، اگر کوئی اور مجھے کہے کہ میں تمہیں اتنے پیسے دیتا ہوں فلم ڈائریکٹ کر دو میں ایسا نہیں کروں گا ، میں ہمیشہ شاہد فلمز کی فلمیں ہی ڈائریکٹ کروں گا. میرا جب دل کرے گا تب ہی فلم ڈائریکٹ کروں گا اور شاہد فلمز کے بینر تلے ہی وہ فلم بنے گی. کامران شاہد نے کہا کہ میری فلم کا موضوع سنجیدہ ہے

    لیکن اس میں ایک لڑکی اور لڑکے کی محبت کی کہانی دکھائی گئی ہے. میری پوری ٹیم نے میرے ساتھ بہت زیادہ تعاون کیا. کامران شاہد نے کہا کہ فلم کا سکرپٹ ہی اس قسم کا تھا کہ اس کو بنانے میں ہی کافی وقت لگ گیا لیکن مجھے خوشی ہے کہ آخر کار مجھے اپنا کام لوگوں کے سامنے رکھنے کا موقع میسر آگیا ہے.

  • کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ کر دیا گیا

    اینکر پرسن کامران شاہد نے گزشتہ روز لاہور میں اپنی فلم ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ کیا. اس فلم کے زریعے کامران شاہد نے ڈائریکشن کی دنیا میں قدم رکھا ہے. تقریب میں محمل سرفراز ، حفیظ اللہ نیازی ، مجیب الرحمان شامی ، میکال ذوالفقار ، شمعون عباسی ، سہیل احمد ، شفقت چیمہ ، محمود اسلم نے شرکت کی. فلم سے جڑی کاسٹ نے میڈیا بریفنگ دی اور ٹریلر لانچنگ کا شاندار اہتمام کیا گیا.تقریب کی میزبانی کے فرائض فاروق حسن نے انجام دیئے ۔ فلم میں مرکزی کردار میکال ذوالفقار نے ادا کیا ہے. اس فلم میں سہیل احمد ایک منفرد کردار میں نظر آئیں گےجبکہ محمود اسلم نے شیخ مجیب الرحمان کا کردار ادا کیا ہے. فلم کی ڈائریکشن تو کامران شاہد نے کی ہی ہے لیکن سکرپٹ بھی انہوں نے خود ہی لکھا ہے. کہانی سقوط ڈھاکہ

    کےپس منظر میں بنائی گئی ہے جبکہ شاہد فلمزکے زیر سایہ بننے والی اس فلم میں سب سے زیادہ دلکش رومانوی کہانیوں میں سے ایک غیر معمولی فلیش بیک ناظرین کے لئے پیش کیا گیاہے۔ ہوئے تم اجنبی میں 9 گانے شامل کئے گئے ہیں. ٹائٹل سانگ علی ظفر نے گایا ہے. فلم پاکستان بھر میں مانڈوی والا انٹرٹینمنٹ کی جانب سے ریلیز کی جا رہی ہے جسے عیدالفطر کے موقع پر ملک کے تمام سینما گھروں میں عام نمائش کیلئے پیش کیا جا ئے گا۔پہلی بار ٹریلر لانچ کے موقع پر 12 منٹ کی فلم کے مختلف سینز بھی دکھائے گئے.

  • ملک میں تعلیم کو کیوں‌ پنپنے نہیں دیا گیا؟‌ انور مقصود نے بتا دیا

    ملک میں تعلیم کو کیوں‌ پنپنے نہیں دیا گیا؟‌ انور مقصود نے بتا دیا

    انور مقصود نے کہا ہے کہ ملک کے حالات جیسے بھی ہوں ادبی سرگرمیاں جاری رہنی چاہیں اور والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو بچپن سے ہی ایسا ماحول دیں کہ جس میں انہیں‌ یہ باور کروایا جائے کتابیں پڑھنا ضروری ہوتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں تعلیم کو پنپنے نہیں دیا گیا کیونکہ اگر ایسا ہوا ہوتا تو تعلیم یافتہ بچےالیکشن میں ووٹ نہ دیتے. انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان بہت ذہین ہیں،عقلمند اور سمجھداربھی ہیں مجھے ان کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے. انہوں نے کہا کہ ہماری عمر کے لوگ بہت ڈھیٹ ہیں جو اس دور میں بھی زندہ ہیں. ہمارے تو گھر میں بچپن میں ہی ماحول ایسا تھا کہ کتابیں پڑھنے کا رجحان خود بخود ہی پیدا ہو گیا. ہمارے گھر میں باقاعدہ لائبریری ہوتی تھی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کے

    جو حالات ہیں ان کو دیکھ کر دکھ ہوتا ہے. اس لئے دل ہی نہیں کرتا کہ ملک کی سیاسی صورتحال پر بات کی جائے. ہم تو خاموش ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور شاید یہی بہتر ہے. انور مقصود نے یہ بھی کہا کہ میرے نام سے سوشل میڈیا اکائونٹس چلانے والوں‌کو منت سماجت کرچکا ہوں کہ میرے نام سے غلط پوسٹیں نہ کریں لیکن وہ باز ہی نہیں آتے. شرم کا مقام ہے.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل  سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا میلہ کل سے لاہور الحمراء میں سجے گا

    تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کل سے لاہور میں شروع ہونے جا رہا ہے، ایونٹ کا افتتاح جمعہ 10 فروری شام 3 بجے الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علیٰ شاہ کریں گے جب کہ پنجاب کے وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر اور سندھ کے وزیر ثقافت اور تعلیم سید سردار شاہ بھی شرکت کریں گے۔ فیسٹیول کے 50سے زائد سیشن ہوں گے جس میں تفریح، مزاح،موسیقی ، ڈانس کے علاوہ ادب،تعلیم، معیشت، کتابوں کی تقریب رونمائی،ملک کے معروف دانشوروں اور فن کاروں کے ساتھ گفتگو اور دیگر سنجیدہ سیشن بھی ہوں گے۔ صدر آرٹس کونسل پاکستان کراچی احمد شاہ کا کہنا ہے کہ آج ہمارے ملک کے دشمن زیادہ ہو گئے ہیں پاکستان میں یکجہتی کی بہت ضرورت ہے۔ کلچر اور ادب کے ذریعے ملک کی تمام اکائیوں کو جوڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان لٹریچر فیسٹیول لاہور سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ انور مقصود کی مشاورت سے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کرنے جا رہے ہیں فیسٹیول کا افتتاح لاہور

    سے کر رہے ہیں، لاہور ادبی و تہذیبی مرکز رہا ہے، یہ شہر اس ریجن میں سب سے بڑا ثقافتی مرکز تھا، دلی اور چندی گڑھ سے لوگ یہاں پڑھنے آتے تھے. فیسٹیول میں میوزک،ڈانس، اردو ادب، ادبی نشستیں شامل ہیں، جبکہ تعلیم،معیشت ، شاعری پر مختلف سیشنز ہیں، معاشرے میں سب مرغے لڑا رہے ہیں، دانشور ختم ہوتے جا رہے ہیں، شاعر ادیب کا حکومت سے رشتہ نہیں رہا. ہم نوجوان نسل کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، لاہور کے بعد گوادر،مظفر آباد،گلگت،پشاور، اسلام آباداور کراچی میں اس فیسٹیول کا انعقاد ہو گا،اس کے بعد امریکہ کے چار مختلف شہروں میں جائیں گے، ہیوسٹن، نیویارک، شکاگو سلیکان ویلی، ڈیلس اور ٹورنٹو میں پاکستان لیٹریچر فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے حوالے پریس کانفرنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے دس تا بارہ فروری الحمراء آرٹس کونسل لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کی پریس کانفرنس کا آج لاہور میں انعقاد ہوا. پریس کانفرنس میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ ،صوبائی وزیر اطلاعات و ثقافت عامر میر نے شرکت کی۔ معروف ادیب و دانشور انور مقصود اور ذوالفقار زلفی نے میڈیا کو سہہ روزہ اس ایونٹ کی بریفنگ دی.صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم لوگوں کو ادب سے قریب رکھیں چاہے حالات کچھ بھی ہوں.انہوں نے کہا کہ میں وزیر ثقافت و اطلاعات جناب عامر میر کا شکر گزار ہوں یہ میری درخواست پر یہاں تشریف لائے ہیں۔ادب کی خدمات کے لئے اس طرح‌ کی تقریبات میں گزشتہ سولہ برس سے کررہا

    ہوں.پاکستان میں کلچر کے فرغ کے لئے اس طرح‌کے ایونٹس کا انعقاد بے حد ضروری ہے. انور مقصود نے کہا کہ میں نے احمد شاہ سے پوچھا کہ پاکستان میں جو حالات ہیں ایسے میں اسطرح‌ کے ایونٹس کے انعقاد کا حوصلہ کہاں سے لاتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ جس ملک میں ادب زندہ رہتا ہے وہ کہیں نہیں جاتا۔انور مقصود نے کہا کہ لاہور نہ ہوتا تو پاکستان میں اردو نہ ہوتی۔ ہر آدمی کا حق ہے کہ کہ اس کا آنے والا دن اچھا ہو۔حالات برے ہیں لیکن ہمیں اچھے کی امید رکھنی چاہیے. نوجوان ہمارا مستقبل ہیں.

  • ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ جو کہ "غزل کنگ” یا "غزل کے بادشاہ” کے نام سے مشہور ہیں، ایک ہندوستانی غزل گلوکار، موسیقار تھے۔

    8 فروری 1941 میں پیدا ہونے والےجگجیت سنگھ نےمتعدد زبانوں میں گایا اورغزل کےاحیاء اور مقبولیت کا سہرا،ایک ہندوستانی کلاسیکی فن کی شکل ہے، جس نے عوام کے لیے موزوں اشعار کا انتخاب کیا اور انہیں اس انداز میں کمپوز کیا جس میں الفاظ اور راگ کے معنی پر زیادہ زور دیا گیا۔

    انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لحاظ سے، ان کی کمپوزنگ کا انداز اور گائیکی (گائیکی) کو بول پردھان سمجھا جاتا ہے، جو الفاظ پر زور دیتا ہے انہوں نے پریم گیت (1981)، آرتھ (1982)، اور ساتھ ساتھ (1982)، اور ٹی وی سیریلز مرزا غالب (1988) اور کہکشاں (1991) جیسی فلموں کے لیے اپنی موسیقی میں اس کو اجاگر کیا۔

    سنگھ کو تنقیدی پذیرائی اور تجارتی کامیابی کے لحاظ سے اب تک کا سب سے کامیاب غزل گائیک اور موسیقار سمجھا جاتا ہے پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر اور بہت سے البمز کے ساتھ، اس کے کام کی حد اور وسعت کو صنف کی وضاحت کےطورپرسمجھا جاتا ہےسنگھ کا 1987 کا البم، بیونڈ ٹائم، ہندوستان میں پہلی ڈیجیٹل ریکارڈ شدہ ریلیز تھی ان کا شمار ہندوستان کے بااثر فنکاروں میں ہوتا تھا۔

    ستار بجانے والے روی شنکر اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور ادب کی دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ، سنگھ نے ہندوستان میں فنون اور ثقافت کی سیاست کرنے اور ہندوستان کے روایتی فن کے ماہرین، خاص طور پر لوک فنکاروں اور موسیقاروں کے ذریعہ تعاون کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کئی فلاحی کاموں کو فعال تعاون فراہم کیا جیسے سینٹ لوئس میں لائبریری میریز سکول، ممبئی، بمبئی ہسپتال، CRY، سیو دی چلڈرن اور ALMA۔ سنگھ کو حکومت ہند نے 2003 میں پدم بھوشن سے نوازا تھا اور فروری 2014 میں حکومت نے ان کے اعزاز میں دو ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا گلوکار 10 اکتوبر 2011 کو انتقال کر گئے-

  • حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    کراچی میں جمشید کوارٹرز کے علاقے میں حرامانی ، نبیل قریشی و دیگر شوٹنگ کررہے تھے دو دن قبل اسی علاقے کے علاقہ مکینوں نے ڈرامے کے پچاس پر مشتمل کرو کو گھیر لیا اور ان کو شدید مارا پیٹا اور ان سے ان کے موبائل چھین لئے. ان کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں . جمشید کوراٹرز کے قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ساتھ ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے. کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو ایک ہجوم تھا جو ڈرامے کے پورے کرو پر ٹوٹ پڑا . حرامانی شدید صدمے کی حالت میں ہیں ان سب کا کہنا ہے کہ بھپرے ہوئے ہجوم سے ہمارے

    لئے خود کی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا. ہمارے پاس جو پیسے موبائل تھے وہ سب چھین لیا گیا ہے. ہمارے ساتھ یہ سب کیوں کیا گیا ہے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اتنا عرصہ ہو چکا ہے ہمیں شوٹنگ کرتے ہوئے کبھی پہلے ایسا نہیں ہوا جو کچھ اب ہوا ہے. نبیل قریشی نے کہا کہ کیا ہم جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں کوئی قانون نہیں ہے. آرٹسٹوں پر اتنا ظلم کیا گیا ہے، اس واقعہ کی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مذمت کی جا رہی ہے.

  • میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

    میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

    اداکارہ راکھی ساونت نے کہا ہے کہ میں نے کبھی اپنے شوہر عادل درانی پر ہاتھ نہیں آٹھایا جب وہ مجھے مارتا تھا تو اس وقت اپنے بچائوں میں شاید دھکا مار لیتی تھی. راکھی نے مزید کہا کہ عادل گھر چھوڑ کر جانے لگتے تھے تو میں ان کے پائوں پکڑ لیتی تھی اس دوران وہ مجھے پائوں مارتے تھے ، لاتیں مارتے تھے ، وہ نہیں دیکھتے تھے کہ مجھے کہاں چوٹ لگے گی. راکھی ساونت نے کہا کہ میری ماں نے ہمیشہ مجھے کہا کہ عورت کی زندگی میں اسکے شوہر کی بہت اہمیت ہوتی ہے لہذا میرے زہن میں یہ بات تھی کہ شوہر کی عزت ہی کرنی ہے . دل پر پتھر رکھ کر

    شوہر پر کیس کیا ہے ، سات مہینے مسلسل مجھے ٹارچر کیا اور ٹارچر بھی ایک لڑکی کے لئے کیا جس کے ساتھ اسکا شرعی تعلق نہیں تھا. میں عادل کی بیوی ہوں میرا حق ہے کہ مجھے عزت دی جائے مجھے مارا نہ جائے. راکھی نے مزید کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یقینا مجھے اچھا نہیں‌لگ رہا لیکن کیا کیا جا سکتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ میرا مذاق بنا رہے ہیں ان کو میری زندگی کے مسائل کا پتہ نہیں ہے میں کن مسائل سے گزری ہوں اور گزر رہی ہوں.

  • اداکارہ و ماڈل ریچل گل کا بڑا اعلان

    اداکارہ و ماڈل ریچل گل کا بڑا اعلان

    اداکارہ و ماڈل ریچل گل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں اب اپنے مداحوں کو باقاعدگی سے ٹی وی پر نظر آئوں گی. میں کرداروں کے انتخاب کرنے میں کافی وقت لیتی ہوں یہی وجہ ہے کہ مجھے میرے شائقین زرا وقفے وقفے سے دیکھ پاتےہیں لیکن اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں مسلسل اپنے مداحوں کو نظر آئوں گی . ریچل گل نے مزید یہ بھی کہا کہ ماڈلنگ اور اداکاری میں فرق تو ہے لیکن دونوں ہی کام بہت آسان نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ میں آج کل سنگیتا بیگم کا ڈرامہ دو بوند پانی کی شوٹنگ میں مصروف ہوں اور میرا کردار بہت اچھا ہے ایسا کردار میں نے کبھی پہلے نہیں کیا. اس میں جو بولی بولی گئی ہے یا جو لہجہ اپنایا گیا ہے میں اس سے پہلے زیادہ واقفیت نہیں رکھتی تھی. لیکن کام کرکے بہت مزا آیا

    ہے مجھے بہت امید ہےکہ شائقین کو یہ ہم سب کی یہ کوشش بہت پسند آئیگی . انہوں نے مزید کہا کہ سردی اور گرمی دونوں میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن محنت اور لگن انسان سے اچھا کام کروا لیتی ہے. ریچل نے کہا کہ ابھی بھی سٹل شوٹس کر لیتی ہوں لیکن ریمپ پر واک نہیں کرتی، ریمپ پر ببہت واک کر لی اب نئے لوگوں کو مقع دیا جانا چاہیے.