Baaghi TV

Category: شوبز

  • کام  کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    کام کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر کاشف نثار نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ ہی میرا لاہور چھوڑنے کا ارادہ ہے اور کام کے لئے لاہور کو چھوڑ کر تو میں کبھی بھی کراچی نہیں گیا. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں اپنے انداز سے کام کررہا ہوںا اور میں بہت مطمئن ہوں ٹھیک ہے جو لوگ کراچی میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں میں یہاں کام کرکے مطمئن ہوں . انہوں نے کہا کہ بات کہیں رہنے یا نہ رہنے کی نہیں ہوتی بس کام اچھا ہونا چاہیے ہر کوئی ہر جگہ رہ کر اگر کام اچھا کررہا ہے تو اچھی بات ہے. جہاں

    تک آج اور کل کے ڈرامے کی بات ہے تو میں اس بحث میں نہیں پڑتا. یاد رہے کہ کاشف نثار نے بس رانجھا رانجھا کردی جیسے ڈرامے تخلیق کئے ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں. انہوں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے انکی ڈائریکشن کا انداز دوسروں سے یکسر مختلف ہے، کاشف نثار کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرتے ہیں. کاشف نثار نے باری سٹوڈیو میں اپنا ایک دفتر بھی کھول رکھا ہے اور زیادہ تر وہیں وقت گزارتے ہیں.

  • بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    سینئر اداکارہ بشری انصاری جو کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں آج موجود تھیں انہوں نے وہاں کہا کہ میں ایک ہی طرح کے کردار کر کر کے تھک گئی ہوں ، میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا کچھ نیا اور روٹین سے ہٹ کر بن ہی نہیں رہا کہ میں سوچوں کہ ہاں میں کروں . میں ایک سال میں ایک ہی ڈرامہ مشکل سے اب کرتی ہوں وجہ یہی ہے کہ کرداروں میں‌یکسانیت ہے کہانیوں میں یکسانیت ہے. آرٹسٹ کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے آج کی رائٹر بی گل سے کہا ہے کہ میرے لئے کچھ نیا لکھیں میں کچھ الگ

    اور نیا کرنا چاہتی ہوں میں تنگ آ گئی ہوں روٹین کی کہانیوں سے. انہوں نے کہا کہ ایک ڈرامے میں میں نے اپنی بہو کو تھپڑا مارا توجب میں اپنی بیٹی کے پاس کینڈا گئی تو اس نے کہا کہ امی آپ نے ڈرامے میں اپنی بہو کو تھپڑ مارا ، میں اپنی بیٹی کے اس سوال کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئی وہ الگ بات ہے کہ میں نے کہانی اور اپنے کردار کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بہت دلیلیں دیں . بشری نے کہا کہ میرے کریڈٹ پر چند ایک کردار ایسے ہیں جن کو لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں بس میں انہی کی ٹوکری سر پر اٹھا کر پھرتی ہوں.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام لاہور میں جاری تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کے دوسرے روز کے اختتام پر یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، معروف گلوکار علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی پرفارمنس نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے جبکہ اہلیان لاہور کی بڑی تعداد نے میوزیکل پروگرام میں شرکت کی، الحمرءآرٹس کونسل لاہور کا لان شہریوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، یو کرینی گلوکار کے ”دل دل پاکستان“ اور علی ظفر کے ”الے“ اور لیلیٰ او لیلیٰ نے دھوم مچا دی، لاہور کے باسیوں نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں میوزک کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا، ارمان رحیم، منیب، مصطفی بلوچ سمیت دیگر گلوکاروں نے بھی پرفارم کیا جس کو شہریوں نے بہت پسند کیا۔پاکستان لٹریچر

    فیسٹیول کا آج تیسرا اور آخری دن ہے آج بھی مختلف سیشنز اور میوزیکل پرفارمنسز ہوں گی. طالب علم اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس فیسٹیول میں شریک ہو رہے ہیں. اس فیسٹیول کے روح رواں احمد شاہ کا کہنا ہے کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ پی ایل ایف کو اہلیان لاہور نے اس قدر عزت بخشی ہے. امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا. احمد شاہ اس فیسٹیول کو مزید شہروں میں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں .

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا دوسرا روز ، لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا دوسرا روز ، لوگوں کی بڑی تعداد میں شرکت

    لاہور میں جاری پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے دن اردو فکشن میں نیا کیا کے نام سے ایک سیشن رکھا گیا۔ جسکی نظامت کے فرائض آمنہ مفتی نے انجام دئیے۔ شرکائے گفتگو میں طاہرہ اقبال ، اخلاق احمد ، حمید شاہد ، ضیاءالحسن ، خالد فیاض ، سفیر حیدر شامل تھے۔ اسی طرح سے اکیسویں صدی میں پنجابی ،فرید سے فرید تک ، عوامی دانشوری کی روایت پر سیشن رکھے گئے ۔عاصمہ شیرازی کی کتاب کہانی بڑے گھر کی ، تقریب رونمائی کی گئی اس سیشن کی نظامت کے فرائض وسعت اللہ خان نے ادا کئے ماڈرن سٹوری ٹیلر ، بچوں کا ادب پربھی سیشن کئے گئے احمد بشیر کا کنبہ میں بشری انصاری نے میزبانی کے

    فرائض انجام دئیے۔ نوجوانوں کے نام سے ایک سیشن رکھا گیا جس میں حامد میر نے گفتگو کی اور نظامت کے فرائض محمد احمد شاہ نے ادا کئے۔ میں بھناں دلی دے کنگرے ، لاہور پر کمال پر سیشن اور کتابوں کی رونمائی ، بھی ہوئی۔علی زریون کے ساتھ ایک سیشن رکھا گیا ، اور نظامت کے فرائض یاسر حسین نے ادا کئے ۔ شان شاہد کے ساتھ ایک سیشن رکھا گیا ، مشرقی پاکستان ،ٹوٹا ہوا تارا ، نئے نقاد کے نام خطوط کی رونمائی کی گئی ، ٹی وی پاکستانی سماج کا ترجمان ؟ یاد گارزمانہ میں یہ لوگ ، پاکستانی آرٹ کے پچھتر سال ، مشاعرہ ، کمالیہ اور علی ظفر کا کنسرٹ رکھا گیا۔

  • اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    معروف کرکٹر وسیم اکرم جن کی عید الفطر پر فلم منی بیگ گارنٹی ریلیز ہو رہی ہے انہوں نے حال ہی میں اس ھوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداکاری بہت ہی مشکل کام ہے. میں پچھلے تیس پینتیس سال سے کمرشلز میں کام کررہا ہوں اس لئے مجھے کیمرے کے سامنے جانے کا اعتماد تو پہلے سے تھا لیکن اداکاری کے لئے کسی سے میں نے گائیڈ لائن نہیں لی بس جو ڈائریکٹر نے کہا وہ کیا. وسیم اکرم نے کہا کہ ایک پیراگراف کو یاد کرنا اور پھر اداکاری کرنا اتنا مشکل کام ہے یہ پہلے اندازہ نہیں تھا. فیصل قریشی کے ساتھ چونکہ میں پہلے بہت سارے کمرشلز

    کر چکا تھا اس لئے جب اس نے مجھے یہ کردار آفر کیا میں نے حامی بھر لی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شاید ہی دوبارہ کوئی فلم کروں گا لیکن اس فلم سے بہت سے نام جڑے ہیں ان کےکیرئیر کے لئے اس فلم کی کامیابی بہت ضروری ہے. وسیم اکرم نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ فلم میں تمام اداکاروں نے بہت اچھے سے کام کیا. میں نے 9 دن کی شوٹنگ کروائی . میرا کردار اس میں بہت اہم ہے میرے مداحوں کو میری اداکاری ضرور پسند آئیگی.یاد رہے کہ منی بیگ گارنٹی عید الفطر پر ریلیز ہونے جا رہی ہے اس فلم کے ساتھ کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی بھی سینما گھروں کی زینت بنے گی .

  • امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    امجد اسلام امجد اچھے دوست تھے مبشر لقمان

    شاعر، ڈرامہ نگار اور نقاد امجد اسلام امجد آج لاہور میں انتقال کر گئے ہیں، ان کے انتقال پر گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا جا ر ہا ہے. معروف صحافی مبشر لقمان نے امجد اسلام امجد کے انتقال پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امجد میرے بہت اچھے دوست تھے وہ ایک زندہ دل آدمی تھے ، ہمیشہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے رکھتے اور ملتے تو بہت ہی پرجوش انداز میں ملتے. انہوں نے کہا کہ ویسے تو ان کے ساتھ بہت زیادہ ملاقاتیں رہیں لیکن آخری بار وہ ہمارے گھر اس وقت آئے جب وہ بیرون ملک سے کسی دورے سے وطن واپس آئے تھے ، میں ان کی آمد پر کافی خوش تھا ان کی محفل میں کیسے وقت گزرتا تھا نہیں پتہ چلتا تھا. ان کے ساتھ آخری ملاقات میں ہمارے بہت سارے دوست تھے. مجھے ان کے

    انتقال کا دھچکا لگا ہے. مبشر لقمان نے کہا کہ ادب کے لئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رہے گا. مبشر لقمان نے کہا کہ امجد اسلام نے اپنے قلم سے لوگوں کے دلوں پر راج کیا. ان کا لکھا ہوا آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ رہے گا. واضح رہے کہ امجد اسلام امجد لاہور میں آج سے شروع ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے دوسرے روز شرکت کرنے والے تھے. ان کے اس فیسٹیول میں مختلف سیشنز رکھے گئے تھے.

  • امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    امجد اسلام امجد انتقال کر گئے

    معروف شاعر ، ڈرامہ نگار، کالمسٹ امجد اسلام امجد انتقال کر گئے ہیں.امجد اسلام امجد کا شمار اردو کے بہترین اساتذہ میں ہوتا ہے ۔ امجد اسلام امجد اور عطا الحق قاسمی دونوں ہی ایم اے او کالج میں اردو پڑھاتے رہے ہیں۔ان کی خدمات کے عوض انہیں ایوارڈز سے بھی نوازا گیا. 80 کی دہائی میں انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔امجد اسلام امجد نے پنجاب یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے (اردو) کیا۔ ایم او کالج میں درس و تدریس کے شعبہ سے بھی منسلک رہے. 70 کی دہائی میں پنجاب آرٹ کونسل کے ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔نوے کی دہائی میں وہ دوبارہ ایم اے او کالج میں ہی شعبہ درس و تدریس سے منسلک ہو گئے۔ یہاں سے ان کی تعیناتی بطور ڈائریکٹر چلڈرن کمپلکس ہوئی اور وہیں سے انہوں نے ریٹائرمنٹ لی۔ امجد اسلام امجد ڈرامہ نگاری کی طرف بھی آئے اور یہاں بھی اپنے قلم کا لوہا منوایا. 1975ء

    میں ٹی وی ڈراما (خواب جاگتے ہیں ) پر گریجویٹ ایوارڈ ملا۔ انہوں نے بہت سارے ڈرامے لکھے ان کے معروف ڈراموں میں وارث، دن، فشار قابل زکر ہیں ہیں۔ انکے شعری مجموعہ برزخ اور جدید عربی نظموں کے تراجم عکس کے نام سے شائع ہوچکے ہیں جبکہ افریقی شعرا کی نظموں کا ترجمہ کالے لوگوں کی روشن نظمیں کے نام سے لاہور سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے تنقیدی مضامین کی ایک کتاب (تاثرات) بھی لکھی . ان کے شعری مجموعوں میں .بارش کی آواز.شام سرائےاتنے خواب کہاں رکھوں.نزدیک.یہیں کہیں.ساتواں در.فشار.سحر آثار.ساحلوں کی ہوا.محبت ایسا دریا ہے.برزخ قابل زکر ہیں .امجد اسلام امجد کے انتقال پر گہرے رنج اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ امجد اسلام امجد کا انتقال ادب کو ایک بہت بڑا دھچکا ہے.

  • سہیل احمد نے کس اداکار کو اپنا استاد کہہ دیا ؟‌

    سہیل احمد نے کس اداکار کو اپنا استاد کہہ دیا ؟‌

    اداکار سہیل احمد جو عزیزی کے نام سے بھی جانے جاتےہیں انہوں نے گزشتہ روز معروف اینکر کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی کے ٹریلر لانچ میں شرکت کی . چونکہ سہیل احمد اس فلم میں اہم کردار ادا کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کرکے کردار سائن کئے کہ ان میں کچھ مختلف ہو، اور کامران شاہد نے جو مجھے کردار آفر کیا وہ کافی مختلف تھا. انہوں نے کہا کہ فلم میں محمود اسلم نے کمال کی اداکاری ہے میں نے توہمیشہ ہی ان سے بہت کچھ سیکھا ہے. اگر میں یہ کہوں کہ وہ میرے استاد ہیں تو بے جا نہ ہوگا. انہوں نے ہمیشہ ہی ایسا کام کیا ہے جو ان کو دوسروں سے یکسر منفرد بناتا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلم ہوئے تم اجنبی کو بڑے سکیل پر بہت محنت کے ساتھ بنایا گیا ہے اگران کو کوئی سین

    دوبارہ کرنا پڑا تو انہوں نے کیا. کامران شاہد ایک باصلاحیت ڈائریکٹر ہیں انہوں نے کہانی کے مطابق کاسٹنگ کی ہے اور اپنے والد سے بھی انہوں نے ڈائریکٹر بن کر ہی کام لیا. امید ہے کہ شائقین کو ہم سب کی یہ کوشش ضرور پسند آئیگی. سہیل احمد نے یہ بھی کہا کہ ایسی فلمیں سالوں میں بنتی ہیں اور پاکستان میں ایسی فلمیں کم بنی ہیں جیسی ہوئے تم اجنبی ہے.

  • میں رسک لینے سے نہیں ڈرتی نادیہ حسین

    میں رسک لینے سے نہیں ڈرتی نادیہ حسین

    معرف ماڈل اور اداکارہ نادیہ حسین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں کبھی بھی رسک لینے سے نہیں گھبراتی آپ مجھے بہادر کہہ سکتےہیں انہوں نے کہا کہ میں وہ کام کر لیتی ہوں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہوتا ہے کہ ایسا کیا تو یہ ہو جائیگا ویسا کیا تو وہ ہوجائیگا. انہوں نے کہا کہ انسان کو زندگی میں رسک لینے چاہیے. انہوں نے کہا کہ میں نے محبت کی شادی کی اس لئے میں بچوں کی محبت کی شادی کے خلاف بالکل بھی نہیں ہوں، میں بچپن میں ٹام بوائے ٹائپ تھی ، گھر کے باہر سائیکل چلاتی ، اور میرے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ہم پر اس طرح کی پابندی نہیں‌لگائی جاتی تھی کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو یہ پڑھو اور وہ نہ پڑھو، مجھے میری مرضی کا کیرئیر چننے کی اجازت دی گئی میں نے اپنی

    مرضی سے ماڈلنگ کا آغاز کیا خدا نے مجھے عزت دی. انہوں نے مزید کہا کہ اداکاری جب اچھا کردار ملے تو کرلیتی ہوں نہیں‌تو پھر اپنے بزنس میں لگی رہتی ہوں ، جب مجھے میرے بزنس میں تھوڑا سا بھی نقصان ہوجانے کا خدشہ ہو تو میں گھبرا جاتی ہوں. میں اپنا بزنس بہت دلچپسی سے چلاتی ہوں . میں پاکستان کی خواتین کو بااختیار دیکھنا چاہتی ہوں. میں چاہتی ہوں کہ ان کو ان کی مرضی کے مطابق جینے دیا جائے.

  • ہاں میں فضول خرچ نہیں‌ ہوں اکشے کمار نے ایسا کس کو اور کیوں کہا ؟‌

    ہاں میں فضول خرچ نہیں‌ ہوں اکشے کمار نے ایسا کس کو اور کیوں کہا ؟‌

    کپل شرما کا شو بھارت میں کافی پسند کیا جاتا ہے، اس شو میں بالی وڈ کی نامور سلیبرٹی آتی ہیں اور کپل کی مزے دار باتوں سے لطف اندوز ہوتی ہیں. اکشے کمار جن کی کپل شرما سے کافی دوستی ہے وہ کئی بار شو پر آچکے ہیں، اچھی دوستی ہونے کی وجہ سے کپل شرما اکشے کمار سے ایسے سوال کرتے ہیں جن کا جواب وہ زرا تیکھا ہی دیں. کپل شرما نے اکشے کمار سے کہا کہ دوسرے ہیرو کمرہ بند کر کے ابھی سکرپٹ ہی پڑھ رہے ہوتے ہیں اتنی دیر میں آپ کی تین فلمیں سینما گھروں میں لگ چکی ہوتی ہیں. آپ نے بہت پیسہ کمایا ہے. اور آپ پارٹیز میں بھی نہیں جاتے آپ کا پارٹیز میں نہ جانے کی وجہ کہیں‌یہ تو نہیں کہ آپ اپنے گھر پر پارٹی رکھ کر پیسے خرچ نہیں کرنا چاہیے اسلئے نہ جاتے ہیں کسی کے گھر

    نہ بلاتے ہیں، اس پر بات کرتے ہوئے اکشے کمار نے کہا کہ میں صبح جلدی اٹھ کر کام پر چلا جاتا ہے رات کو دس بجے سے پہلے گھر آجاتا ہوں اور سو جاتا ہوں نو بجے کے بعد میں کسی فلمی پارٹی میں نہین‌جاتا ، میرا فوکس صرف میرے کام پر ہوتا ہے اسلئے میری فلمیں جلدی مکمل کروا لیتا ہوں ، رہی بات کسی کو پارٹی دینے کی تو یقینا میں کنجوس ہوں ، میں پارٹیز میں اپنا پیسہ کیوں برباد کروں یوں کپل تمہارا جو آئیڈیا ہے کہ میں اس لئے نہیں جاتا کہ کل کو مجھے بھی گھر بلانا پڑے گا اسکو ٹھیک بھی کہہ سکتے ہیں. مجھے آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں‌کہ میں فضول خرچ نہیں ہوں.