Baaghi TV

Category: شوبز

  • کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    سب جانتے ہیں کہ کترینہ کیف کو اردو بولنی نہیں آتی تھی انہوں نے فلموں میں‌ کام کرکے اردو اور ہندی سیکھی. لیکن کترینہ کیف کی اردو ایک پاکستانی اداکار نے ٹھیک کی اور اس پاکستانی اداکار کا نام علی ظفر ہے. علی ظفر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں جا کر کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا. جب میں بھارت میں کام کرنے گیا تو اس دوران کترینہ کیف سے کام کرنے کے سلسلے میں ملاقاتیں رہیں اور کام کے دوران میں نے محسوس کیا کہ کترینہ کیف کو اردو بولنے میں دوقت محسوس ہوتی ہے اس لئے میں نے ان کو اردو سکھائی. انہوں نے کہا کہ آپ کہہ سکتےہیں کہ کترینہ کیف کا اردو سکھانے کے معاملے میں استاد رہا ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ

    میں نے ہمیشہ کام کرکے عزت کمائی ہے. میں مقابلے پر یقین نہیں رکھتا نہ ہی کسی کی ٹانگیں‌ کھینچتا ہوں میں خود اچھا کام کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہوں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ طیفا انٹربل کو بہت زیادہ پسند کیا گیا، میں ایسی فلمیں بنانے کی کوشش جاری رکھوں گا. انہوں نے کہا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اس لئے میں مشکلات سے نہیں گھبراتا ان کا مقابلہ کرتا ہوں .

  • سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    ٹی وی اداکارہ ژالے سرحدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سلمی آغا رشتے میں میری پھوپھو لگتی ہیں. میرے دادا ضیاء سرحدی تھے ضیاء سرحدی وہ ہیں جنہوں نے دلیپ کمار سے بھی کام کروایا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلمی آغا سے میں نے بہت کچھ سیکھا میری آدھی فیملی شوبز سے تعلق رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ اداکاری میں مجھے کبھی بھی دلچپسی نہیں تھی. مجھے گلوکاری میں دلچپسی تھی. لیکن قسمت میں اداکارہ بننا لکھا ہوا تھا تو اداکارہ بن گئی. ژالے سرحدی نے کہا کہ میں‌کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں. اسی لئے میں سکرینز پر

    کم کم دکھائی دیتی ہوں انہوں نے مزید کہا کہ کام کوئی بھی آسان نہیں ہوتا. چاہیے وہ اداکاری ہو یا گلوکاری دونوں ہی کام مشکل ہیں. دونوں ہی کام شوق اور کوشش سے ہوتے ہیں. ژالے سرحدی نے کہا کہ بڑی یا چھوٹی سکرین پر کام کرنے کا چارم الگ ہے. میرا دونوں میڈیم میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ویب سیریز میں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ اچھی علامت ہے. یاد رہے کہ ژالے سرحدی نے لاتعداد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا شائقین ان کی اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں.

  • ماڈٌلنگ کرتے دیکھا تو والدین نے شادی کروا دی اعجاز اسلم

    ماڈٌلنگ کرتے دیکھا تو والدین نے شادی کروا دی اعجاز اسلم

    سیئنراداکاراعجاز اسلم نے کہا ہے کہ میں اکلوتا بیٹا تھا اس لئے مجھ پہ خاندان والوں کی طرف سے شادی کا بہت زیادہ دبائو تھا. میرے والدین نے جب مجھے ماڈلنگ کرتے دیکھا تو انہوں نے میری شادی کروا دی ، کم عمری میں ہی میں شادی کے بندھن میں بندھ گیا. اعجاز اسلم نے کہا کہ میں نے شادی کے بعد اپنے کیرئیر پر بھرپور توجہ دی . میں نے دیکھا کہ میری فیملی نے میری شادی کے بعد میرے شوق کی تکمیل کےلئے میرا بہت زیادہ ساتھ دیا. اعجاز اسلم

    نے کہا کہ شادی کے بعد میں بہت زیادہ ذمہ دار ہو گیا تھا یہ چیز دیکھ کر میرے والدین بہت خوش ہوتے تھے کہ میں جلد ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیا. میں اپنے مزاج کے مطابق کام کرتا ہوں اگر سکرپٹ پسند نہ آئے تو میں نہیں‌ کرتا. میں ان لوگوں سے بالکل اتفاق نہیں کرتا جو لوگ یہ کہتے ہیں‌ کہ آج ڈرامہ اچھا نہیں‌ بن رہا. آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے.

  • بگ باس نہ جیتنے کا افسوس نہیں پریانکا چوہدری

    بگ باس نہ جیتنے کا افسوس نہیں پریانکا چوہدری

    بگ باس 16 کے فنالے سے باہر نکلنے والی پریانکا چوہدری نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے لوگوں کو ایم سی سٹین کی سادگی پسند آئی ہو جو وہ جیتا ہے. مجھے اپنی ہار کا افسوس نہیں ہے لیکن امید تھی کہ میں جیتوں گی یہ امید مجھے خود پہ یقین کی وجہ سے تھی. لیکن کوئی بات نہیں ہار جیت ہوتی رہتی ہے. گھر سے باہر نکلی تو پتہ چلا کہ لوگ مجھے اتنا پیار کرتے ہیں. مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہی ہوں. لوگ مجھے اتنا پیار کرتے ہیں یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے . لوگوں کی محبت کے احسان تلے دب گئی ہوں میں. لوگ تو یہ

    بھی کہہ رہے ہیں کہ مجھے شاہ رخ خآن اور سلمان خآن کے ساتھ فلم مل گئی ہے اگر تو ایسا ہے تو مجھے بہت خوشی ہے اور یہی میری جیت ہے. پریانکا نے کہا کہ میں اپنی ہار پر افسردہ نہیں ہوں اسلئے میرے مداح بھی افسردہ نہ ہوں. ایم سی سٹین جیتا ہے ہم سب اسکی خوشی میں شامل ہیں. یاد رہے کہ بگ باس 16 ایم سی سٹین جیتا ہے جبکہ پریانکا ہار گئی ہیں ، پریانکا کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بگ باس کے تمغے کو اپنے نام کریں گی.

  • سوشل میڈیا پر دعویٰ کرنے والی خاتون میری بہن نہیں. سجاد علی

    سوشل میڈیا پر دعویٰ کرنے والی خاتون میری بہن نہیں. سجاد علی

    سوشل میڈیا پر دعویٰ کرنے والی خاتون میری بہن نہیں. سجاد علی

    کچھ عرصے قبل ایک یوٹیوبر نے ایک بشریٰ نامی خاتون سے انٹرویو کیا تھا جس میں خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ گلوکار سجاد علی کی بہن ہیں۔ چند روزقبل ایک یوٹیوبر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی. جس میں اس نے دعویٰ کیا کہ اس نے اپنے چینل پرسجاد علی کی بہن سے ملوایا ہے ۔ ساتھ ہی بشریٰ نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ وہ سجاد علی کی بہن ہیں۔ جبکہ وہ آج کل لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اور بھیک مانگ کر گزر بسر کرتیں ہیں۔ یہ ویڈیو خاصی وائرل ہوئی۔ ویڈیو کے جواب میں تین دنوں تک تو گلوکار سجاد علی نےکوئی رسپانس نہیں دیا۔


    سجاد علی نے اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس پر فیک نیوز کے حوالے سے ویڈیو پوسٹ کیں ہیں ۔ اس ویڈیو میں سجاد نے کہا کہ ان کی جھوٹی بہن سے پہلے ان کی دوسری شادی کی تصاویر کی جھوٹی خبریں بھی پھیلائیں گئیں ۔ جس پر ان کے گھر والے ناراض ہوگئے ۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کی ناراضگی کی وجہ یہ بتائی کہ ان کا کہنا تھا کہ گھر والوں کو دوسری شادی میں کیوں مدعو نہیں کیا؟

    اب ایسی ہی جھوٹی بہن کے حوالے سے بھی ایک ویڈیو بنائی گئی ہے ۔ جس میں لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون میری بہن ہونے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔ سجاد علی نے کہا کہ وہ خاتون نہ میری بہن ہے ، نہ میری کزن ہے نا رشتہ دار نہ تو اس کا دور دور تک مجھ سے کوئی تعلو ہے ۔ گلوکار نے کہا کہ میں چاہتا تو اس ویڈیو پر قانونی کاروائی کرتا یا اس عورت کے خلاف لیکن میں ایسا نہیں کروں گا ۔ کیوں کہ وہ غریب ہے۔ اسے بیچاری خاتون کو جو جیسا کہتا ہے وہ ویسا کرتی ہے۔ اگر وہ خاتون مدد کی اپیل کر دیتی تو کوئی نہ کوئی مدد کر دیتا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ کچھ لوگ اس خاتون کو اکسا رہے ہیں کہ وہ ایسے ڈرامے کریں۔

    سجاد علی نے کہا کہ یوٹیوبر ایسی ویڈیوز اسی لیے پوسٹ کرتے ہیں کیونکہ وہ زیادہ ویوز چاہتے ہیں ، یا کلک چاہتے ہیں نہیں تو ان کا مقصد کسی کو بدنام کرنا ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات کی حیرت ہے کہ لوگ اسے یوٹیوبرز کی باتوں کا یقین بھی کرتے ہیں ۔ ان ویڈیوز کو شیئر بھی کر دیتے ہیں اوربنا تصدیق کے ان ویڈیوز پر کومنٹس بھی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے لوگ بھی کومنٹ کر رہے ہوتے ہیں شاید وہ اپنی بڑھاس کسی پر نکال رہے ہوتے ہیں۔ جتنے الٹے سیدھے کومنٹس ہیں میں ان کی پروا نہیں کرتا ۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے چاہنے والے ایسی بے بیناد خبروں یا بوتوں پر انہیں منہ توڑ جواب دے دیتے ہیں۔

    سجاد علی نے کہا کہ میں 33 سال سے پاکستان کی خدمت کررہا ہوں ۔ میرا نام ایسی کسی بھی ویڈیوز یا کومنٹس سے متاثر نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چلیں ایسی چیزیں دیکھ لیں لیکن انہیں پھیلائیں نہیں ۔ ساتھ ہی سجاد علی نے کہا کہ اچھی چیزوں کو بھی پھیلائیں ان پر بھی کومنٹ کریں۔

  • سلمان خان بھی ایم سی سٹین کے بگ باس کے ونر بننے پر خوش نہیں ؟

    سلمان خان بھی ایم سی سٹین کے بگ باس کے ونر بننے پر خوش نہیں ؟

    گزشتہ روز بھارت کے سب سے بڑے رئیلٹی شو بگ باس 16 کا فائنل ہوا فائنل کے ونر نے سب کو حیران اور پریشان کر دیا ہے. کیونکہ کوئی بھی نہیں سوچ رہا تھا کہ ایم سی سٹٰن بگ باس کے ونر ہوں گے. سلمان خان نے ایم سی سٹین کے ونر ہونے کا اعلان کیا اس سے پہلے وہ پریانکا کی تعریفیں کرتے نظر آئے انہوں نے کہا کہ پریانکا چوہدری آپ اصل معنوں میں ونر ہیں. یہ سب کہہ کر انہوں نے پریانکا کو ایوکٹ کر دیا. پریانکا کو شو سے نکال کر ایم سی سٹین کو ونر بنانا بن گیا ہے کنٹرورشل. سوشل میڈیا پر یہاں تک کہ ٹی وی انڈسٹری اور شوبز حلقوں میں کہا جا رہا

    ہے کہ بگ باس کا فیصلہ درست نہیں اور سوشل میڈیا پر تو باقاعدہ ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے کہ بگ باس سکرپٹڈ تھا اور سازشن کے تحت ایم سی سٹٰن کو جتوایا اور پریانکا کو ہرایا گیا ہے. یوں بگ باس کا کوئی بھی فین بگ باس کے ونر سےخوش نہیں ہے. واضح رہے کہ جیسے پریانکا کا شو سے نکلنے کا اعلان کیا گیا ان کا دوست انکت پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور کہا کہ میں پریانکا پر بہت زیادہ فخر محسوس کر رہا ہوں.

  • ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    کراچی: ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: معروف ہدایت کار و ٹی وی میزبان ضیا محی الدین آج صبح 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے جس کے بعد ا ن کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں قائم امام بارگاہ یثرب میں ادا کی گئی اور ان کی تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کردی گئی۔

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے-

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا…

    ضیا محی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہے۔

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

  • ترکیہ زلزلہ: کورولش عثمان کے اداکار اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے

    ترکیہ زلزلہ: کورولش عثمان کے اداکار اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے

    گزشتہ پیر ترکیہ میں آنے والے ہولناک زلزلے میں معروف ترک سیریز کورولش عثمان میں اہم کردار نبھانے والے اداکار اپنی اہلیہ سمیت ملبے تلے دب کر جاں بحق ہو گئے-

    باغی ٹی وی : جاگدس جانکایا اور ان کی اہلیہ زلان ٹگرس بھی ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو زلزلے کے ملبے تلے دب کر انتقال کرگئے پروڈکشن کمپنی بوزداغ فلم کی جانب سے انسٹاگرام پر جاگدس اور ان کی موسیقار اہلیہ زلان کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

    پروڈکشن کمپنی کی جانب سے دونوں کی تصویر شیئر کی گئی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا گیا کہ اداکار جاگدس جانکایا اہلیہ سمیت ترکیہ میں آنے والے زلزلے کے ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے جب کہ ساتھ ہی ان کی مغفرت کے لیے دعا بھی کی گئی۔

    جاگدس جانکایا نے اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک ڈرامہ سیریز عثمان غازی المعروف ‘کورولش عثمان’ میں قونیہ محل کے ایک اہم سپاہی کا کردار نبھایا تھا۔

    واضح رہے کہ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کو آنے والے زلزلے سے اموات کی تعداد 34 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے ترکیہ میں 29 ہزار 605 اور شام میں 4 ہزار 500 اموات ہوئی ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ،اسپتال میں نرسوں کی نوزائیدہ بچوں کو بچانے کی ویڈیو وائرل

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ اتھارٹی نے اتوار کو اعلان کیا کہ گزشتہ ہفتے ملک کے جنوب میں آنے والے زلزلے کے متاثرین کی تعداد بڑھ کر 29 ہزار 605 ہوگئی ہے۔ ترکی کے سرکاری "ٹی آر ٹی” چینل نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے حوالے سے بتایا کہ ایک لاکھ 47 ہزار 934 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

    دوسری طرف سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 5,273 تک پہنچ گئی ہے۔ یہ تعداد 7,000 تک پہنچنے کی توقع ہے۔

    گزشتہ روز شام کے شمال مغربی علاقوں میں ملبے تلے دبے بچ جانے والوں کی تلاش اور امدادی کارروائیاں رک گئیں اور وہ کئی دن تک مسلسل تباہ کن زلزلے سے زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے بعد لاشوں کو نکالنے کے مرحلے تک پہنچ گئے ہیں۔

    ترکیہ زلزلہ:ریسکیو ٹیم نے ملنے کی نیچے سے 140 گھنٹے بعد نوزائیدہ بچہ نکال…

  • ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز اداکار ، صداکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کے انتقال پر تعزیت کا اظہارکیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے، ضیا محی الدین کے مخصوص انداز نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں دھوم مچائی، افسوس ہے کہ کئی خوبصورت خوبیوں کا مالک شخص معاشرے سے کوچ کرگیا۔

    وزیراعظم شہباز شریفنے کہا کہ ضیا محی الدین کی آواز ہمارے ذہن میں گونجتی رہےگی، ضیا محی الدین کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین۔

    واضح رہے کہ ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئےضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

  • عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیاء محی الدین 20 جون 1933ء کو لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان روہتک (ہریانہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی قصور اور لاہور میں گزاری۔

    آپ وہ واحد ادبی شخصیت تھے جن کے پڑھنے اور بولنے کے انداز کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اردو طنزو مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی نے ضیاء محی الدین کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا کہ ضیاء اگر کسی مردہ سے مردہ ادیب کی تحریر پڑھ لے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے۔

    برطانیہ میں 1960ء میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ایڈورڈ مورگن فوسٹر کے مشہور ناول ”A Passage to India“ پر بنے اسٹیج ڈرامے میں ضیاء محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کر کے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسی شاندار اور باکمال پرفارمنس دی کہ شائقین حیرت زدہ رہ گئے۔
    اس کے علاوہ ان کے انگریزی ٹی وی ڈراموں میں ”ڈینجرمین، دی ایونجرز مین، ان اے سوٹ کیس، ڈیٹیکٹو، ڈیتھ آف اے پرنسس، دی جیول پرائڈ، ان دی کرائون اور فیملی“ سرفہرست ہیں۔

    ضیاء محی الدین نے اپنے فلمی سفر کا آغام 1962ء میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ کلاسیکی فلم ”لارنس آف عریبیہ“ سے کیا تھا۔
    اس فلم میں انہوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا جسے عمر شریف اس بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے کیوں کہ وہ غلط کنویں سے پانی پی لیتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اس فلم میں مختصر کردار ادا کیا لیکن یادگار پرفارمنس دی۔
    ان کی مشہور انگریزی فلموں میں ”خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئے ٹاکی اور پارٹیشن‘‘ بھی شامل ہیں۔

    1969ء اور 1973 ء میں انہوں نے پی ٹی وی سے ایک اسٹیج شو ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ کا آغاز کیا اور بطور میزبان ایسی پرفارمنس دی کہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی توجیح و تشریح اور پاکستانیوں میں اردو زبان سے محبت بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قوم کو احساس دلایا کہ اردو زبان دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے جس کے لہجے میں الہامی کیفیت ہے، اسی لیے ضیاء محی الدین کو اردو زبان کا سب سے حسین و دلکش لہجہ کہا جاتا تھا۔

    اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اختتام پر وہ ایک منفرد ڈانس کیا کرتے تھے، جو شائقین کے دلوں کو بہت بھاتا تھا اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیاء کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سب سے نمایاں ہیں۔

    انہوں نے اردو زبان کے نایاب شاعر و فلسفی مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے خطوط جس انداز میں پڑھے، اس سے بھی انہیں بہت شہرت ملی۔
    ضیاء محی الدین نے دو کتابیں ”دی گاڈ آف مائی ایڈولیٹری“ اور ”اے کیرٹ از اے کیرٹ: میموریز اینڈ ریفلیکشنز“ بھی تخلیق کی تھیں۔

    آپ کو 2003ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا انہیں پیپلز پارٹی دور میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور 2004ء میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔