Baaghi TV

Category: شوبز

  • فلم دلدل، کا موشن پوسٹر جاری

    فلم دلدل، کا موشن پوسٹر جاری

    ایکشن کے متوالوں کے لیے کراچی کے انڈر گراؤنڈ کلچر پر مبنی کرائم تھرلر مووی ’دلدل‘ کا موشن پوسٹر جاری کردیا گیا ہے۔فلم کے ڈسٹری بیوشن ادارے میٹرو لائیو موویز کے مطابق دلدل، کا پوسٹراور ٹیزر بھی رواں ہفتے جاری کردیا جائے گا۔ جس کے ساتھ ہی فلم کی تاریخ نمائش کا اعلان بھی متوقع ہے.دلدل، کی کہانی کراچی کی انڈر گراؤنڈ دنیا کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ ایک ڈارک کرائم ڈرامہ ہے جس کی کاسٹ میں سلیم معراج سمیت شہاب خان، کوثر فاطمہ، مجتبیٰ رضوی، ذیشان الیاس، انور اقبال، لیاقت بھٹو، شکیل مراد، حیدر علی لوہار، ارمان خان اور سبین علی

    شامل ہیں۔فلم کے ڈائریکٹراور رائٹر جنید عزیز ہیں جو اس سے قبل کمرشل فلمیں بناچکے ہیں۔ دلدل، کے فلم ساز حبیب حسن، اور جام علی وقاص سما ہیں۔فلم کا میوزک شالم عاشر نے کمپوز کیا ہے جبکہ سنیماٹوگرافر ابراہیم ندیم ہیں۔امید کی جا رہی ہے کہ یہ فلم روٹین سے ہٹ کر ہوگی. پاکستان میں اس طرح کی فلمیں‌کم کم بنتی ہیں. فلم کی کہانی پر بہت کام کیا گیا ہے. دلدل یقینا ایک اچھی فلم ثابت ہونے کے ساتھ ساتھ سینما انڈسٹری کے لئے بھی خوشگوار اور تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہو گی.

  • صدر کراچی آرٹس کونسل احمد شاہ نے اہلیان لاہور کا شکریہ ادا کیا

    صدر کراچی آرٹس کونسل احمد شاہ نے اہلیان لاہور کا شکریہ ادا کیا

    صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے تین روزہ لٹیرچر فیسٹیول کامیاب بنانے پر اہلیان لاہور کا شکریہ ادا کرتے ہوئےکہا ہے کہ جب ہم یہاں آ رہے تھے تو دل میں خلش تھی کے نئے شہر میں اہلیان شہر کیسا اور کیا سلوک کریں گے اور اب جانے کو دل نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور بلھے شاہ، اقبال، فیض اور داتا کی نگری ہے۔ زندہ دلان لاہور نے جو ہمارا استقبال کیا ہم اب بار بار آئیں گے اور جلد آئیں گے، لیکن لاہور کا کوئی شاعر اور ادیب کراچی آئے تو آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے دروازے اس کے لیے ہمیشہ کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے وہ اپنے ورثہ کو محفوظ رکھے جس قوم کی زبان و تہذیب ختم ہو گئی وہ قوم ختم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی نے کہا کہ اس پی ایل ایف نے یہ ثابت کیا کہ

    یہ پاکستان کا سب سے بڑا فیسٹیول ہے۔ ہمیں خطرہ تھا کہ ہماری شناخت ختم ہو رہی ہے لیکن احمد شاہ نے اس کو بحال کیا، آج کا فیسٹیول اس بات کی گواہی ہے۔بنک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود نے کہا کہ بنک آف پنجاب عوام کے لیے اس طرح کے پروگرام کی سرپرستی کرتا رہے گا۔

  • لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام الحمرا ءآرٹس کونسل لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کا رنگا رنگ اختتام ہوگیا، اسٹیج پر ملک کے مایہ ناز ادیب، شاعر، آرٹسٹ مجلس صدارت میں موجود تھے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے تین دانشوروں کشور ناہید، نیئرعلی دادا اور ناہید صدیقی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا جبکہ معروف گلوکارہ نتاشہ بیگ، ساحر علی بگا اور گلوکارہ عاصم اظہر کی شاندار پرفارمنس نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کو چار چاند لگادیے، طنز و مزاح کے بادشاہ انور مقصود نے کہاکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ اس فیسٹیول میں اتنے نوجوان آئیں گے، لوگ کہتے تھے کہ پاکستان کے نوجوان کا ادب سے تعلق نہیں رہا آج آ کر دیکھیں کتنے ہزار نوجوان پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا لاہور میں پھولوں کی آمد آمد ہے، لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ لاہور والے الیکشن کے انتظار میں ہیں لیکن الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا ان تین دنوں میں لاہور کے نوجوانوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور

    چمک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں جو بھی حکومت ہو ہمیں ان کی حفاظت کرنا چاہیے کیوں کہ وہ ہماری حفاظت نہیں کر سکتے ہیں۔ احمد شاہ نے سنجیدہ گفتگو کرنے نہیں بلایا لیکن حالات ایسے حالات میں ہنسانے کا دل نہیں کرتا۔ امیر پریشان ہیں ڈالر مہنگا ہو گیا غریب پریشان ہے روٹی مہنگی ہو گئی۔ پاکستان نمک پیدا کرنے میں نمبرٹو ہے لیکن نمک حرام پیدا کرنے پر نمبر ون ہے۔ انہوں نے کہا کہ والڈ بنک نے حکمرانوں سے کہا کہ اثاثے بتاﺅ، ایک زمانے میں حکومت نے یہی فیض احمد فیض سے پوچھا تھا۔انہوں نے کہا آخر میں زیرہ نگاہ اورفیض کی دو نظموں پر گفتگو ختم کی۔”سنا ہے جنگل کا بھی کوئی دستور ہوتا“۔

  • ایم سی سٹین بگ باس 16 کے ونر بن گئے

    ایم سی سٹین بگ باس 16 کے ونر بن گئے

    بگ باس 16 جس کا گزشتہ رات فائنل تھا. فائنل کو سلمان خان نے ہوسٹ کیا. گھر میں ٹوٹل پانچ پارسیپینٹس تھے جس میں شالین ، ارچنا گوتھم ، پریانکا چوہدری ، ایم سی سٹین اور شیو ٹھاکرے. ان سب میں کافی سخت مقابلہ تھا، لیکن ایم سی سٹین پریانکا چوہدری اور شیو ٹھاکرے میں‌ کانٹے دار مقابلہ تھا، لیکن اب فائنل ہو چکا ہے اور ایم سی سٹین بگ باس 16 ک فاتح قرار پائے ہیں. یوں بگ باس 16 کی ٹرافی گھر میں بنی منڈلی میں‌ہی رہی کیونکہ ایم سی سٹین منڈلی کا حصہ تھے اس منڈلی میں ساجد خان ، سنبل توقیر خان ، شیو اور سٹین و دیگر تھے. اس سیزن کا دورانیہ چار ہفتے تک بڑھایا گیا. اس میں جن لوگوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ان میں پریانکا چوہدری ، ٹینا دتہ اور ارچنا گوتھم کا نام قابل زکر ہے. شو کی

    ہوسٹنگ مجموعی طور پر تین لوگوں نے کی ، سلمان خان ، فرح خان اور کرن جوہر. اس بار کے کنٹیسٹینٹس میں ایک ایسا تھا جو کہ بگ باس مراٹھی جیت چکا تھا اور اسکا نام ہے شیو ٹھاکرے. دوسری طرف شالین کو بھی کافی امید تھی کہ وہ یہ سیزن جیتیں گے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایم سی ٹین فاتح قرار پائے ہیں.

  • اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے کہا ہے کہ جس طرح کی آج کہانیاں بن رہی ہیں وہ ہماری دلچسپی میں نہیں ہیں‌ نہ ہم اس طرح کی کہانیاں لکھ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ رائٹرز کے ہاتھ بندھے نہیں ہونے چاہیں نہ ہی ان کو انسٹرکٹ کیا جانا چاہیے کہ یہ لکھیں اور یہ نہ لکھیں . انہوں نے مزید کہا کہ آج کل چینلز کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ڈرامہ بنانے میں بہت زیادہ انوالو ہوتا ہے یہ وہ شعبہ ہے جس کا نام نہیں‌لیا جاتا. یہی طے کرتا ہے کہ کون سے ایکٹرز ہوں گے اور کہانی کیسی ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی کچھ دکھا رہے ہیں بھئی نور الہدی شاہ سے زیادہ سندھ کی خواتین کے مسائل کس کو پتہ ہیں ؟ کیوں ان سے نہیں لکھوایا جا رہا. ہم جو لکھتے ہیں اس کے

    بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ یہ پسند نہیں کیا جائےیہ چلے گا. مجھے کسی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بندے نے کہا کہ میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا لکھ دیں اس کے ہٹ ہونے کی گارنٹی میں دیتا ہوں تومیں نے کہا کہ جو چل رہا ہےاسکو چلانے میں آپ کا کیا کمال ، جو نہیں چل رہا اسکو اگر چلائو تو وہ ہو گا آپ کا کمال . اس بات کے بعد وہ بندہ بول نہ سکا.

  • وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    سینئر اداکار منور سعید جو کافی عرصےکے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ اچھے ہیں اور آج کے دور کے مطابق ہیں. پی ٹی وی کا دور گزر گیا ہے اور جو گزر چکا ہو اسکا حال سے مقابلہ نہیں‌ کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں آج کل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کررہا ہوں اب میں اپنے مداحوں کو نظر آیا کروں گا. انہوں نے کہا کہ آج بہت زیادہ چینلز ہیں اور سال میں بہت بڑی تعداد میں ڈرامہ بنتا ہے. لہذا کام زرا تیز ہو گیا ہے. پہلے تو ریہرسلز ہوتی تھیں اور کئی کئی دن تک چلتی

    تھیں پھر جا کر کہیں شوٹنگ ہوتی تھی. اب ریہرسلز کا تصور ختم ہو گیا ہے. پہلے ایک چینل ہوتا تھا رات کو آٹھ سے نو بجے تک ڈرامہ لگتا تھا لہذا بہت زیادہ ڈرامہ کوئی بنتا نہیں تھا. کسی آرٹسٹ کا کسی ڈرامے میں ایک بھی سین آجاتا تو اسکے لئے بہت غنیمت ہوتی تھی. منور سعید نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ڈرامہ بنانا جن کا کام ہے وہی بنائیں. اور کہانیوں میں یکسانیت نہیں‌ہونی چاہیے. مجھے اچھے کردار ملتے رہے تو میں ضرور کروں گا.

  • تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    ٹی وی اور فلم کی معروف اداکارہ صنم سعید نے لاہور میں‌ ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں تین سال سے ڈرامے نہیں کررہی، ڈرامے نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہےکہ جس طرح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان میں مجھے بالکل بھی دلچپسی نہیں ہے. صنم سعید نے کہا کہ مجھے جب تک کہانی اور کردار پسند نہ آئے میں سائن نہیں کرتی. میرے پاس پچھلے تین سال میں بہت ساری کہانیاں آئیں لیکن مجھے پسند نہیں آئیں. ساری کہانیاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریبا ایک جیسی تھی.صنم سعید نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر کے کوئی بھی ڈرامہ سائن کیا کہ اس کے زریعے ہم سوسائٹی کو کیا پیغام دے رہے ہیں. میں اس نسل کی نمائندہ فنکارہ ہوں لیکن جیسی کہانیاں بن رہی ہیں میں ان کے حق میں

    نہیں ہوں. صنم نے کہا کہ فلموں میں بھی کام کیا اچھا تجربہ رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ میرا جب دل کرتا ہے میں کام کرتی ہوں . انہوں نے کہا کہ چاہے تھوڑا کم کام کر لیں لیکن معیار کو ضرور مد نظر رکھیں. یاد رہے کہ صنم سعید فواد خان کے ساتھ ایک بار پھر نظر آرہی ہیں اور اس بار وہ ایک ویب سیریز میں نظر آئیں گی.

  • معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    کوئٹہ: معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچی سمیت مختلف زبانوں میں لوک گیت گانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار محمد بشیر بلوچ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    لوک گلوکار کے بیٹے محمد رضا نے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے محمد رضا کا کہنا ہےکہ والد کو آج دوپہر کلی دیبہ کے قریب اخوند بابا قبرستان میں سپرد خاک کیا جائےگا۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے لوک گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بشیر بلوچ نے اپنی محنت و لگن سے بلوچی گلوکاری میں نمایاں مقام حاصل کیا، صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بشیر بلوچ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے عبدالقدوس بزنجو نے مرحوم بشیر بلوچ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی معروف بلوچی گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار…

  • کام  کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    کام کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر کاشف نثار نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ ہی میرا لاہور چھوڑنے کا ارادہ ہے اور کام کے لئے لاہور کو چھوڑ کر تو میں کبھی بھی کراچی نہیں گیا. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں اپنے انداز سے کام کررہا ہوںا اور میں بہت مطمئن ہوں ٹھیک ہے جو لوگ کراچی میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں میں یہاں کام کرکے مطمئن ہوں . انہوں نے کہا کہ بات کہیں رہنے یا نہ رہنے کی نہیں ہوتی بس کام اچھا ہونا چاہیے ہر کوئی ہر جگہ رہ کر اگر کام اچھا کررہا ہے تو اچھی بات ہے. جہاں

    تک آج اور کل کے ڈرامے کی بات ہے تو میں اس بحث میں نہیں پڑتا. یاد رہے کہ کاشف نثار نے بس رانجھا رانجھا کردی جیسے ڈرامے تخلیق کئے ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں. انہوں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے انکی ڈائریکشن کا انداز دوسروں سے یکسر مختلف ہے، کاشف نثار کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرتے ہیں. کاشف نثار نے باری سٹوڈیو میں اپنا ایک دفتر بھی کھول رکھا ہے اور زیادہ تر وہیں وقت گزارتے ہیں.

  • بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    سینئر اداکارہ بشری انصاری جو کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں آج موجود تھیں انہوں نے وہاں کہا کہ میں ایک ہی طرح کے کردار کر کر کے تھک گئی ہوں ، میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا کچھ نیا اور روٹین سے ہٹ کر بن ہی نہیں رہا کہ میں سوچوں کہ ہاں میں کروں . میں ایک سال میں ایک ہی ڈرامہ مشکل سے اب کرتی ہوں وجہ یہی ہے کہ کرداروں میں‌یکسانیت ہے کہانیوں میں یکسانیت ہے. آرٹسٹ کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے آج کی رائٹر بی گل سے کہا ہے کہ میرے لئے کچھ نیا لکھیں میں کچھ الگ

    اور نیا کرنا چاہتی ہوں میں تنگ آ گئی ہوں روٹین کی کہانیوں سے. انہوں نے کہا کہ ایک ڈرامے میں میں نے اپنی بہو کو تھپڑا مارا توجب میں اپنی بیٹی کے پاس کینڈا گئی تو اس نے کہا کہ امی آپ نے ڈرامے میں اپنی بہو کو تھپڑ مارا ، میں اپنی بیٹی کے اس سوال کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئی وہ الگ بات ہے کہ میں نے کہانی اور اپنے کردار کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بہت دلیلیں دیں . بشری نے کہا کہ میرے کریڈٹ پر چند ایک کردار ایسے ہیں جن کو لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں بس میں انہی کی ٹوکری سر پر اٹھا کر پھرتی ہوں.