Baaghi TV

Category: شوبز

  • ڈیرہ غازیخان :عیدالفطر کے بعد بننے والی شارٹ فلم میں نئے چہروں کو معارف کرایا جاۓ گا،عرفان خان بزدار

    ڈیرہ غازیخان :عیدالفطر کے بعد بننے والی شارٹ فلم میں نئے چہروں کو معارف کرایا جاۓ گا،عرفان خان بزدار

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی رپورٹ) عیدالفطر کے بعد بننے والی شارٹ فلم میں نئے چہروں کو معارف کرایا جاۓ گا،عرفان خان بزدار

    تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی تاریخ میں شوبز سے تعلق رکھنے والے بہت سے اداکاروں نے بڑے بڑے چینلوں میں اپنا اور اپنے شہر ملک کا نام روشن کیا اسی طرح عرصہ 24 سال سے عرفان خان بزدار بطور اینکر آرٹسٹ رائٹر ڈائریکٹر پروڈیوسر کام کر رہے ہیں جہنوں نے بے شمار کمرشل تھیٹر ٹیلی ویژن ٹیلی فلم پاکستان ٹیلیویژن پر بھی کام کیا ہے

    اب عرفان خان بزدار نے اپنے پروڈکشن ہاؤس کہکشاں پروفارمنگ آرٹس فلم پروڈکشن اور بخآری پروڈکشن کے بینر سے مشترکہ ویب شارٹ فلم مایا کی حواس عید الفطر کے فوری بعد شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اس شارٹ فلم میں نئے چہروں کو معارف کرایا جاۓ گا

    مزید عرفان خان بزدار آصفہ بخاری نے بتایا کہ اس شارٹ فلم کے پروڈیوسر موسی خان بزدار ، وسیم عرفان خان بزدار اور علی عباس بخاری شامل ہیں جبکہ اس شارٹ فلم کی شوٹنگ ڈیرہ غازی کے علاؤہ مظفرگڑھ ملتان میں بھی شوٹ کی جاۓ گا اور جو مختلف شوشل میڈیا پر ریلیز کی جاۓ گی

  • کنگنا رناوت نے گائے کے گوشت سے متعلق خاموشی توڑ دی

    کنگنا رناوت نے گائے کے گوشت سے متعلق خاموشی توڑ دی

    ممبئی: اداکارہ کنگنا رناوت اپنے اچھے ہندو ہونے کی وضاحتیں دینے لگیں –

    باغی ٹی وی: کنگنا رناوت بھارتی انتہاپسندوں کے نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتی دکھائی دیتی ہیں وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہی ہیں،اداکارہ نے سوشل میڈیا پوسٹ پر گائے کے گوشت سے متعلق خاموشی توڑ دی۔

    اداکارہ نے انسٹاگرام پر پوسٹ کرتے ہوئے اس دعوے کو شرم ناک قرار دے دیا ہے جو سیاسی مخالف امیدوار نے کیا تھا، کانگریس رہنما وجے وادیتوار کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ کنگنا رناوت نے ماضی میں گائے کا گوشت کھایا ہے۔

    اداکارہ نے انسٹاگرام پر کہا کہ لوگ میری امیج کو خراب کرنا چاہ رہے ہیں، میں نے کبھی گائے کا گوشت نہیں کھایا ہےیہ انتہائی شرم ناک ہے کہ میرے متعلق بےبنیاد خبر کو اچھالا جا رہا ہے میں ہمیشہ یوگک اور ایورویدھک طرز زندگی کو پروموٹ کرتی آئی ہوں، ایسے حربے میری ذات اور امیج کو خراب نہیں کر سکتے ہیں، لوگ مجھے جانتے ہیں اور انہیں اس بات کا علم ہے کہ میں ایک فخریہ ہندو ہوں اور انہیں کچھ بھی بدزن نہیں کر سکتا ہے۔

    حکومت سندھ نے عید الفطر کی تعطیلات کا اعلان کردیا

    واضح رہے اداکارہ نے گزشتہ ماہ بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ مندی کے علاقے سے بی جے پی کے ٹکٹ پر امیدوار نامزد ہوئی ہیں۔

    نواب اکبر بگٹی کی پُر اسرار شخصیت

    کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 3 افراد قتل

  • آپ جیسا کوئی، اب کہاں سے آئے:نازیہ حسن

    آپ جیسا کوئی، اب کہاں سے آئے:نازیہ حسن

    شاہد ریاض سیالکوٹ:
    آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے،تو بات بن جائے،ہاں بات بن جائے

    یہ وہ گانا ہے جو آج بھی زبان زد عام ہے۔یہ گانا ایسی سحرانگیز شخصیت نازیہ حسن نے گایا جن کوپاپ موسیقی کی ملکہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وہ نازیہ حسن جونا صرف پاکستان اور انڈیابلکہ ان ممالک میں بھی پسند کی جاتی تھیں، جہاں لوگ اردو نہیں جانتے تھے لیکن نازیہ کی آواز کا جادو انہیں جھومنے پر مجبور کر دیتا تھا۔نازیہ حسن انتہائی خوبصورت اور پراسرار آواز کی ملکہ تھیں۔ ان کے مداح اور ناقدین یہی فیصلہ نہیں کر پائے کہ وہ خود زیادہ حسین تھیں یا ان کی آواز زیادہ خوبصورت تھی۔ ان کی شخصیت میں پراسراریت زیادہ تھی یا آواز میں؟

    ایک فنکارہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بے حد انسان دوست بھی تھیں اور انسانی بھلائی کے کاموں میں بھی شرکت کرتی رہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ موسیقی سے ہونے والی ساری آمدنی کراچی کی پسماندہ بستیوں میں بسنے والے بچوں، محروم نوجوانوں اور غریب خواتین کی بہبود کے پروگراموں پر خرچ کرتی رہیں۔

    نازیہ حسن ،ایک نام، جو سنتے ہی دل لہک لہک کر گانے لگتا ہے ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘‘۔

    نازیہ حسن کے بارے میں ایک فقرے میں یہی کہا جا سکتا ہےکہ ’’وہ آئی، اس نے دیکھا اور فتح کر لیا‘‘ ۔دنیا میں ایسی عجوبہ روزگار شخصیت بہت کم ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک نازیہ حسن بھی تھیں۔ جنہیں پاکستان میں پاپ میوز ک کی بے تاج ملکہ کہا جا سکتا ہے۔ نازیہ کا البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ایسا البم تھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ بنائے۔

    نازیہ حسن3اپریل1965 کوکراچی میں پیدا ہوئیں اور لندن میں پروان چڑھیں۔ لندن کی رچرڈ امریکن یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن اور اکنامکس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ان کا پیشہ وارانہ کیریئر15 سال کی عمر میں شروع ہوا جب انہوںنے 1980میں بھارتی فلم’’ قربانی ‘‘ کانغمہ ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے‘‘ گایا ۔ اس نغمے نے بھارت میں بہت بڑی کامیابی حاصل کی اوراس نغمے سے ایک ہی رات میں نازیہ کو مقبولیت حاصل ہو گئی۔

    1981 میں نازیہ نے اس نغمے کے لیے فلم فیئر ایوارڈ جیتا۔ نازیہ حسن کا پہلا البم ’’ڈسکو دیوانے‘‘ 1981ء میں ریلیز ہوا، اس البم نے 14 ممالک میں مقبولیت حاصل کی۔ نازیہ اپنے بھائی زوہیب کے ساتھ مل کر گاتی تھیں، زوہیب اور نازیہ کی جوڑی گائیکی کی دنیا میں بہت مقبول ہوئی۔ ان کا دوسرا البم ’’سٹار/ بوم بوم ‘‘ 1982 میں ریلیز ہوا۔تیسرا البم ’’ینگ ترنگ‘‘ 1984میں ریلیز ہوا۔ یہ پاکستان میں پہلا البم تھا جس میں میوزک ویڈیوز پیش کی گئیں اور اسے ڈیوڈ اور کیتھے روز نے لندن میں بنایا تھا۔ اس البم کو ایشیاء میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔

    ’’ آنکھیں ملانے والے‘‘ اس البم کا مقبول نغمہ تھا۔ ینگ ترنگ کے ریلیز ہونے کے بعد نازیہ نے بالی وڈ فلموں میں پلے بیک گلوکار کے طور پر گانا شروع کر دیا۔ ان کا چوتھا البم ’’ہاٹ لائن‘‘ 1987 میں ریلیز ہوا۔ 1988 میں نازیہ اور اس کا بھائی زوہیب میوزک ڈائریکٹر سہیل رعنا کے ٹیلی ویژن پروگرام ’’سنگ سنگ‘‘ میں نمودار ہوئے۔ اسی سال نازیہ اور زوہیب نے اولین شو ’’میوزک 89 ‘‘ کی میزبانی کی، شو کے پروڈیوسر شعیب منصور تھے اور یہ پاکستان کے ٹیلی ویژن پر چلنے والا سب سے پہلا پاپ میوزک سٹیج شو تھا۔ نازیہ نے 1989میں شو ’’ دھنک‘‘ میں بھی میزبانی کے فرائض سر انجام دیے۔

    1991 میں نازیہ کا پانچواں البم ’’کیمرہ کیمرہ‘‘ زوہیب حسن کے ساتھ ریلیز ہوا۔ یہ البم پہلے ریلیز ہونے والے البمز کی طرح کامیاب نہ ہو سکا۔ اس البم کے بعد نازیہ نے موسیقی چھوڑ دی اور اپنی ذاتی زندگی میں مصروف ہو گئیں۔اردو نغموں کے علاوہ نازیہ حسن نے پنجابی گانے بھی گائے۔ ان کا گایا ہوا پنجابی گانا

    ٹالی دے تھلے بیہہ کے

    ماہیا وے ماہیا وے

    آکرئیے پیار دیاں گلاں

    تو میرا درد ونڈاویں

    میں تیرادرد ونڈاواں

    آ کرئیے پیار دیاں گلاں

    بہت مقبول ہوا۔

    نازیہ حسن نے 1991میں نیو یارک میں اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرمیں سیاسی اور سلامتی کونسل کے امور کے سیکشن میں شمولیت اختیار کی اور 2 سال تک یہاں کام کیا۔ انہوں نے اپنی سماجی اور تعلیمی کامیابیوں کی وجہ سے کولمبیا یونیورسٹی کے لیڈر شپ پروگرام میں سکالر شپ بھی حاصل کی تھی۔نازیہ اس وقت وہ آفر قبول نہیں کر سکی کیونکہ وہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہو چکی تھیں۔نازیہ نے کئی مقبول کمپنیوں کے لئے اشتہارات میں بھی کام کیا۔

    انہوں نے سماجی وجوہات کو فروغ دینے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کیا۔موسیقی سے حاصل کی گئی زیادہ تر رقم لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کر دیتی تھیں۔ خاص طور پر کراچی کے غریب علاقوں میں رہنے والے بچوں، نوجوانوں اور خواتین کی مدد کیا کرتی تھیں۔ وہ خواتین کی آواز کے طور پر اور پاکستان کے نیشنل یوتھ کونسل کے طور پر تنظیموں کی ایک فعال رکن بن گئیں۔نازیہ نے لندن میں اپنی تعلیم مکمل کر کے قانون کی ڈگری حاصل کی اور پھر سلامتی کونسل میں کام کیا۔ انہوں نے بھارت میں بھی مختلف سماجی تنظیموں کی حمایت کی اور ان کے لئے فنڈز اکٹھے کرنے میں مدد کی۔

    نازیہ نے 30 مارچ 1995کو اشتیاق بیگ سے شادی کی لیکن وفات سے کچھ دن قبل ہی ان کو طلاق ہو گئی تھی۔حیرت اور دْکھ کی بات یہ ہے کہ جس فنکارہ کے فن کی آواز کی دنیا میں دھوم تھی، اس عظیم گلوکارہ کی ازدواجی زندگی تباہی سے دوچار تھی۔ اشتیاق بیگ کے ساتھ ان کا نباہ نہ ہو سکا تھا۔ شاید یہی دکھ اس عظیم گلوکارہ کو اندر ہی اندر سے گھن کی طرح چاٹ رہا تھا جو وہ کینسر میں مبتلا ہوئیں۔ یہ کوئی مرنے کی عمر تو نہ تھی۔ ابھی تو انہوں نے شہرت کی مزید کئی بلندیوں کو چھونا تھا لیکن شاید کاتب تقدیر کو یہی منظور تھا۔

    وہ13 اگست 2000 میں 35 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر کے باعث لندن میں وفات پا گئیں۔ ان کی عظیم کامیابیوں اور شراکت کے لئے حکومت پاکستان نے ان کو ’’پرائڈ آف پرفارمنس ایوارڈ‘‘ پیش کیا۔ یہ ایوارڈ23 مارچ 2002 میں ان کی والدہ کے حوالے کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ’’ ڈبل پلاٹینم‘‘، ’’پلاٹینم‘‘ اور ’’ گولڈن ڈسک ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا تھا۔

    آج نازیہ حسن ہمارے درمیان نہیں ہیں لیکن پاکستان میں میوزک کی تاریخ جب تک زندہ رہے گی، ان کا نام لیا جاتا رہے گا۔وہ پاپ میوزک کی ملکہ کے طور پر جانی جاتی رہیں گی۔

    نازیہ حسن کی ناگہانی موت کے بعد زوہیب حسن نے موسیقی میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اور 2003 میں ان کے نغمے ’’خوبصورت‘‘ نے شہرت حاصل کی جبکہ 2006 میں ان کا آخری سولو البم ’’قسمت‘‘ کچھ خاص شہرت حاصل نہ کرسکا۔ پاپ موسیقی پسند کرنے والوں کیلئے خوشخبری ہے کہ زوہیب حسن بہت جلد اپنے نئے میوزک البم ’’سگنیچر‘‘ کے ساتھ10 سال بعد دوبارہ گلوکاری کے میدان قدم رکھ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق زوہیب 21 جولائی کو اپنا نیا البم ریلیز کریں گے۔زوہیب کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے نئے البم کے ذریعے اپنی بہن نازیہ حسن کوٹریبیوٹ پیش کیا ہے اور امید ہے کہ یہ شائقین کو ضرور پسند آئے گا۔ انہوں نے البم میں شامل گانوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ویسے تو سارے گانے ہی بہت اچھے ہیں لیکن ایک گانا ’’سنوسنو‘‘ موسیقی کے دلدادہ افراد کو سب سے زیادہ پسند آئے گا۔

  • عالیہ بھٹ کا شو میں شرکت کیلئے ہوشربا رقم کے مطالبہ، کپل شرما شو انتظامیہ نے معذرت کر لی

    عالیہ بھٹ کا شو میں شرکت کیلئے ہوشربا رقم کے مطالبہ، کپل شرما شو انتظامیہ نے معذرت کر لی

    ممبئی :بالی ووڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی جانب سے شو میں شرکت کے لیے ہوشربا رقم کے مطالبے پر کپل شرما شو انتظامیہ نے معذر ت کر لی-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق کپل شرما کے نیٹ فلکس ورژن میں شرکت کیلئے عالیہ بھٹ کی جانب سے طلب کی گئی فیس انہیں اس شو میں شرکت سے محروم کر گئی، نیٹ فلکس عالیہ بھٹ کی فیس کے مطالبات کو پورا نہیں کر سکا، کمپنی ہر قسط کے لیے ایک مخصوص بجٹ مختص کرتی ہے جس سے تجاوز کرنا ممکن نہیں تھا،چنانچہ جب وہ عالیہ بھٹ کی فیس کو ایڈجسٹ نہیں کر سکے، تو انہوں نے شو میں شرکت سے معذرت کرلی۔

    نیٹ فلکس کی جانب سے 2024 کے شوز کا اعلان کیا گیا تھاکپل شرما کے اس شو میں سنیل گروور کےدوبارہ شو کا حصہ بننے اور کپور خاندان کے ساتھ پہلی قسط نے خوب داد سمیٹی، تاہم، ناظرین نے رنبیر کپور، نیتو کپور، اور ردھیما کپورکے ساتھ بالی وڈ اداکارہ عالیہ بھٹ کی غیر موجودگی کو محسوس کیا۔

    اس سے قبل بہت سے فنکاروں نے ایپی سوڈز میں بغیر معاوضہ شرکت کی کیونکہ وہ اپنے پروجیکٹس کی پروموشن کر رہے ہوتے تھےعالیہ بھٹ بھی اس سے قبل اپنے ساتھی اداکاروں کے ساتھ اپنے پروجیکٹس کی تشہیر کے لیے کئی بار ٹیلی ویژن پر ’دی کپل شرما شو‘ میں نظر آ چکی ہیں،ایسا لگتا ہے کہ مشہور شخصیات کو اب ‘دی گریٹ انڈین کپل شو‘ میں آنے کے لیے ایک بھاری رقم کی ادائیگی کی جائے گی-

  • گلوکار عاطف اسلم کا  نیا  نعتیہ کلام ریلیز

    گلوکار عاطف اسلم کا نیا نعتیہ کلام ریلیز

    کراچی: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار عاطف اسلم نے اپنا نعتیہ کلام ریلیز کردیا۔

    باغی ٹی وی : عاطف اسلم نے نئی نعت ’’میں صدقے یا رسول اللہ ﷺ‘‘ یوٹیوب پر ریلیز کی ہے اور ساتھ ہی لکھا کہ یہ کلام براہ راست میرے دل سے ہے جس کے ہر لفظ کا اپنا منفرد اور طاقتور معنی ہے، مجھے امید ہے کہ آپ سب اس سے جُڑیں گے۔

    اس سے قابل عاطف اسلم نے رمضان المبارک کی آمد پر دلوں کو چُھو لینے والی اپنی آواز میں نیا کلام ’اللّٰہ ہو اللّٰہ‘ جاری کیا تھا جسے خوب پسند کیا گیا تھا،دیں اثناء عاطف اسلم کی پڑھی گئی نعتوں ’تاجدارِ حرم‘ اور ’مصطفیٰ جانِ رحمت پر لاکھوں سلام‘ نے بھی خوب پذیرائی حاصل کی تھی،عاطف اسلم نے اپنی سحر انگیز آواز میں اذان پیش کی تھی جبکہ ان کی آواز میں 99 ناموں ”اسماء الحسنیٰ“، حمد”وہی خدا ہے،کو بھی مداحوں کی جانب سے بے حد پسند کیا گیا تھا۔

    ایک انٹرویو میں اُن کا کہنا تھا کہ نعت اور حمدیہ کلام نہ صرف مداح بلکہ خود ان کے اور ان کے بچوں کیلئے بھی بہت معنی رکھتے ہیں، یہ کلام اُنہیں روحانی سکون پہنچاتے ہیں، عاطف اسلم کی خواہش ہے کہ وہ مکہ میں اذان دینے کا شرف حاصل کریں۔

  • آریان خان کے برازیلی ماڈل کیساتھ  ڈیٹنگ  کے چرچے

    آریان خان کے برازیلی ماڈل کیساتھ ڈیٹنگ کے چرچے

    ممبئی: بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان کے صاحبزادے آریان خان برازیلی ماڈل لاریسا بونیسی کو ’ڈیٹ‘ کرنے لگے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آریان خان کو لاریسا بونیسی کے ساتھ متعدد تقریبات میں ایک ساتھ دیکھا گیا ہے،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ریڈ اٹ‘ پر آریان خان کی برازیلی ماڈل کے ساتھ تصاویر بھی اپلوڈ کی گئی ہیں، لاریسا بونیسی آریان کے کپڑوں کے برانڈ کیلئے ماڈلنگ بھی کررہی ہیں سال 2022 میں آریان نے اپنا برانڈ ’ڈی یاوال‘ لاؤنچ کیا تھا اور 2023 میں فلم میکنگ کی دنیا میں قدم بھی رکھا، دونوں نے سوشل میڈیا پر ناصرف ایک دوسرے بلکہ ایک دوسرے کے خاندان کے افراد کو بھی فالو کر رکھا ہے، آریان خان فلموں میں اداکاری کا شوق نہیں رکھتے اور وہ مستقبل میں ڈائریکشن کے میدان میں جانا چاہتے ہیں۔

  • مس یونیورس آرگنائزیشن کی سعودی ماڈل  سے متعلق رپورٹس کی تردید

    مس یونیورس آرگنائزیشن کی سعودی ماڈل سے متعلق رپورٹس کی تردید

    میکسیکو: مس یونیورس آرگنائزیشن نے سعودی عرب کی ایک ماڈل رومی القحطانی سے متعلق رپورٹس کی تردید کردی ہے-

    باغی ٹی وی : مس یونیورس آرگنائزیشن نے کہا کہ سعودی عرب میں ’مس یونیورس‘ کے لیے انتخاب کا عمل نہیں کیا گیا تھا لیکن وہ ”سخت جانچ پڑتال کے عمل“ سے گزررہے ہیں، اگرچہ سعودی عرب ابھی تک ان ممالک میں شامل نہیں ہے جن کی اس سال مس یونیورس مکمل طور پر شرکت کی تصدیق ہوئی ہے ، لیکن ہم فی الحال ایک ممکنہ امیدوار کو کوالیفائی کرنے اور نمائندگی کے لیے قومی ڈائریکٹر مقرر کرنے سے متعلق سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزر رہے ہیں، سعودی عرب کو اس وقت تک ہمارے باوقار مقابلے میں شرکت کا موقع نہیں ملے گا جب تک کہ یہ حتمی نہیں ہو جاتا اور ہماری منظوری کمیٹی اس کی تصدیق نہیں کر دیتی۔

    آرگنائزر کی جانب سے یہ بیان سعودی ماڈل رومی القحطانی کی جانب سے سوشل میڈیا پر سالانہ مقابلے میں شرکت کے اعلان کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے،انسٹا گرام پر اپنے 10 لاکھ فالوورز کا حوالہ دیتے ہوئے القحطانی کا کہنا تھا کہ مس یونیورس 2024 میں شرکت کرنا اعزاز کی بات ہے،مس یونیورس مقابلے میں سعودی عرب کی یہ پہلی شرکت ہے ۔

    مس یونیورس آرگنائزیشن کے بیان کے بعد سے سوشل میڈیا پر رومی القحطانی کے اعلان کو ہٹایا یا تبدیل نہیں کیا گیا ہےانسٹاگرام بائیو کے مطابق ریاض میں پیدا ہونے والی ماڈل کا مس عرب پیس، مس پلینٹ، مس مڈل ایسٹ سمیت متعدد دیگر ایونٹس میں مملکت کی نمائندگی کرچکی ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال ’مس یونیورس‘ ایونٹ ستمبر میں میکسیکو میں منعقد کیا جائے گا جس میں عالمی سطح پر100 سے زیادہ شرکاء شامل ہوں گی۔

  • پاپ میوزک کی نمبر ون  پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن

    پاپ میوزک کی نمبر ون پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن

    آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے

    نازیہ حسن

    پاپ میوزک کی نمبر ون پاکستانی گلوکارہ نازیہ حسن 3 اپریل 1965 میں پیدا ہوئیں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن کے مشہور پروگرام سنگ سنگ چلیں سے کیا جس میں ان کے بھائی زوہیب حسن بھی ان کے ساتھ شرکت کرتے تھے،ان دونوں بھائی بہن نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کی۔

    پاکستان پاپ موسیقی کو روشناس کرانے کا سہرا بھی انہی بھائی بہن کو جاتا ہے عالمی سطح پر نازیہ حسن کو اس وقت شہرت ملی جب انہوں نے بھارتی موسیقار بدو کی موسیقی میں فلم قربانی کا مشہور نغمہ آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ریکارڈ کروایااس نغمے نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے اور اس پر انہیں بھارت کا مشہور فلم فیئر ایوارڈ بھی عطا ہواوہ یہ ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی شخصیت تھیں فلم قربانی کے اس نغمے کی مقبولیت کے بعد نازیہ اور زوہیب حسن کا مشہور البم ڈسکو دیوانے ریلیز ہوا، اس کیسٹ نے بھی فرو خت اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔

    برڈ فلو کا وائرس انسان میں منتقل ہونے کا دوسر ا کیس سامنے آگیا

    نازیہ حسن اور زوہیب حسن نے پاکستان میں پاپ موسیقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا اور صاف ستھرا انداز اپناتے ہوئے عالمی شہرت حاصل کی، دونوں بہن بھائی نے جب جدید انداز میں ٹیلی وژن اور اسٹیج پر پرفارم کرنے شروع کیا تو ان پر اعتراضات کی بھرمار بھی ہوئی لیکن دونوں سب اعتراضات سے بے نیاز آگے بڑھتے رہے۔

    02 اپریل کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

    نازیہ حسن اور زوہیب حسن کے دیگر مقبول کیسٹوں میں بوم بوم اور ینگ ترنگ کے نام سرفہرست ہیں، 1995ء میں نازیہ حسن کی شادی مرزا اشتیاق بیگ سے ہوئی، ان کے ایک بیٹا بھی ہوا، شادی کے کچھ عرصے کے بعد اطلاع ملی کہ نازیہ حسن کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہیں اس کے بعد ان کے اپنے شوہر اشتیاق بیگ سے اختلافات کی خبریں بھی منظرعام پر آئیں، نازیہ حسن 13 اگست 2000ء کو لندن میں وفات پاگئیں، وہ نارتھ لندن کے مسلم قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔۔!!!

    ’گمراہ کن‘ اشتہارات بند نہ کیے تو سخت کارروائی ہو گی،بھارتی سپریم کورٹ …

  • برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

    مینا کماری
    31 مارچ 1972: تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی خوب صورت اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری یکم اگست 1933 میں بمبئی کے ایک مسلم گھرانے میں پیدا ہوئی ان کے والد کا نام علی بخش اور ماں کا نام اقبال بانو تھا۔ ماں نے اس کا نام ماہ جبین بانو رکھا جبکہ گھر میں اسے منجو کے نام سے پکارا جاتا تھا اور فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد وہ فلمی نام مینا کماری کے نام سے مشھور ہوئی۔ مینا کماری جتنی خوب صورت تھی زندگی میں اسے اتنے ہی دکھ اور غم ملے۔ اس کے پیدا ہوتے ہی اس کے باپ علی بخش نے ایک یتیم خانہ میں چھوڑدیا اس کی وجہ یہ تھی کہ علی بخش کو پہلے دو بیٹیاں تھیں جن کے بعد اسے بیٹے کی شدید خواہش ہوئی لیکن تیسری بیٹی پیدا ہوئی تو اس نے غصے کے طور پر اپنی بیٹی کو یتیم خانہ میں داخل کرا دیا مگر اپنی بیوی کے رونے اور ممتا کی تڑپنے کی وجہ سے کچھ روز بعد بیٹی کو اپنے گھر واپس لے آیا۔ ماہ جبیں نے چار سال کی عمر میں چائلڈ اسٹار کے طور پر اداکاری کا آغاز کیا جس میں اسے بے بی مینا کا نام دیا گیا وہ جب سن بلوغت کو پہنچی تو اسے فلمساز وجے بھٹ نے اپنی فلم ”بچوں کا کھیل“میں مینا کماری کا نام دیا۔ مینا کماری فلمی دنیا ایک عظیم اداکارہ کا مقام حاصل کر لیا وہ ہندستان کی پہلی اداکارہ تھی جس کو فلم بیجوباورا میں بہترین اداکاری کی وجہ سے فلم فیئرایوارڈ دیا گیا۔ جبکہ مجموعی طور پر اس نے چار فلم فیئر ایوارڈز حاصل کیے۔ مینا کماری کی مشہور فلموں میں بیجو باورا، صاحب بیوی غلام، یہودی، دل ایک مندر، پرینتیا، کاجل ، کوہ نور ، دل اپنا اور پریت پرائی ، آرتی، میں چپ رہوں گی اور آزاد شامل ہیں ۔

    مینا کماری نے 1952 میں فلمساز کمال امروہوی سے اس کی دوسری بیوی کی حیثیت سے شادی کی ۔ 1964 میں کمال امروہوی کے درمیان شدید اختلافات کے باعث علیحدگی ہو گئی ۔ مینا کماری کو بچپن سے ہی شاعری سے دلچسپی تھی لیکن زمانے کے دکھ درد کے باعث خود بھی شاعرہ بن گئی اور ناز تخلص اختیار کیا مرزا غالب اس کا پسندیدہ شاعر تھا جبکہ شاعری میں وہ گلزار سے مشاورت کرتی تھی۔ اس کی شاعری اس کی زندگی کے دکھ اور غموں کی تفسیر بن گئی تھی جبکہ غمگین اداکاری ک وجہ سے اسے ملکہ جذبات کے خطاب سے نوازا گیا۔ 31 مارچ 1972 میں تنہائی کے عالم میں اس کی وفات ہوئی کیوں کہ اس کو اولاد نہیں تھی ۔

    مینا کماریناز کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عیادت ہوتی جاتی ہے عبادت ہوتی جاتی ہے
    مرے مرنے کی دیکھو سب کو عادت ہوتی جاتی ہے

    نمی سی آنکھ میں اور ہونٹ بھی بھیگے ہوئے سے ہیں
    یہ بھیگا پن ہی دیکھو مسکراہٹ ہوتی جاتی ہے

    تیرے قدموں کی آہٹ کو یہ دل ہے ڈھونڈتا ہر دم
    ہر اک آواز پر اک تھرتھراہٹ ہوتی جاتی ہے

    یہ کیسی یاس ہے رونے کی بھی اور مسکرانے کی
    یہ کیسا درد ہے کہ جھنجھناہٹ ہوتی جاتی ہے

    کبھی تو خوبصورت اپنی ہی آنکھوں میں ایسے تھے
    کسی غم خانہ سے گویا محبت ہوتی جاتی ہے

    خود ہی کو تیز ناخونوں سے ہائے نوچتے ہیں اب
    ہمیں اللہ خود سے کیسی الفت ہوتی جاتی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آبلہ پا کوئی اس دشت میں آیا ہوگا
    ورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہوگا

    ذرے ذرے پہ جڑے ہوں گے کنوارے سجدے
    ایک اک بت کو خدا اس نے بنایا ہوگا

    پیاس جلتے ہوئے کانٹوں کی بجھائی ہوگی
    رستے پانی کو ہتھیلی پہ سجایا ہوگا

    مل گیا ہوگا اگر کوئی سنہری پتھر
    اپنا ٹوٹا ہوا دل یاد تو آیا ہوگا

    خون کے چھینٹے کہیں پوچھ نہ لیں راہوں سے
    کس نے ویرانے کو گل زار بنایا ہوگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    چاند تنہا ہے آسماں تنہا
    دل ملا ہے کہاں کہاں تنہا

    راہ دیکھا کرے گا صدیوں تک
    چھوڑ جائیں گے یہ جہاں تنہا

  • پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ  انجلین ملک

    پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ انجلین ملک

    کراچی: انجلین ملک ایک پاکستانی ہدایت کار اور اداکارہ ہیں، ملک نے 2006 میں بہترین ہدایت کار اور بہترین اداکارہ کے لیے لکس اسٹائل ایوارڈز جیتا تھا۔

    باغی ٹی وی : انجلین ملک انڈس ویژن پر آنے والے پہلے آنے والے ٹاک شو بلیک اینڈ وائٹ اور متنوع کرداروں کے انتخاب کے لیے بھی مشہور ہیں،ان کا نام 2002 سے اس شعبے میں کام کرنے والے پاکستان کے ٹاپ ڈائریکٹرز میں آتا ہے،وہ اینجلیک فلمز کے بینر تلے کام کرنے والی پروڈیوسر کے طور پر بھی جانی جاتی ہیں، لندن سے کمپیوٹر امیجنگ اور اینی میشن کی ڈگری لے کر ملک نے 2002 میں فیشن اور شوبز کی دنیا میں قدم رکھا جس کے بعد سے انجلین ملک مسلسل مختلف شعبوں میں محنت کرکے اپنا نام روشن کر رہی ہیں۔

    ایک مشہور ماڈل کے طور پر فیشن ریمپ پر اپنی ہمت دکھانے کے علاوہ، انجلین ملک نے بطور پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور اینکر کے طور پر بھی خود کو ثابت کیا ہے،ملک نے مختلف چینلز پر کئی ٹی وی ڈراموں میں مختلف قسم کے کردار ادا کیے ہیں، ملک ان پراجیکٹس کے بارے میں بہت حساس اور منتخب ہے جو وہ سمت کے لیے اپناتی ہیں بنیادی طور پر ہمارے معاشرے میں جڑے گہرے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں،اس نے ایک ایسی صنعت میں اپنے لیے ایک نام پیدا کیا ہے جس میں زیادہ تر مردوں کا غلبہ ہے جو اس نے ادا کیے ہیں اور ان کے منتخب کردہ مضامین۔