Baaghi TV

Category: شوبز

  • گوگل کا ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوخراج عقیدت

    گوگل کا ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوخراج عقیدت

    مقبول ترین سرچ انجن گوگل نے ڈوڈل کے ذریعے معروف ادیبہ اورافسانہ نگار بانوقدسیہ کوان کی سالگرہ کے موقع پربہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مرحوم ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ اورمعروف مصنفہ بانوقدسیہ کوگوگل ڈوڈل کی جانب سے آج سالگرہ کے موقع پران کی خدمات کے پیش نظرخراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔

    بانوقدسیہ 28 نومبر 1928 کو بھارت کے مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہوراور بی اے کنیئرڈ کالج سے کیا جب کہ 1949 میں گریجویشن کا امتحان پاس کیا –

    بانو قدسیہ نے گورنمنٹ کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور یہیں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے اور دونوں نے دسمبر 1956 میں شادی کرلی۔

    مصنفہ بانو قدسیہ نے 27 ناول اور کہانیاں تحریر کی ہیں جس میں ’راجہ گدھ‘، ’امربیل‘، ’بازگشت‘، ’آدھی بات‘، ’دوسرا دروازہ‘ قابل ذکر ہیں جب کہ ان کے ناول ’راجہ گدھ‘اور ’آدھی بات‘ کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بھی بہت سے ڈرامے لکھے ہیں۔

    حکومت پاکستان کی جانب سے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں ’ستارہ امتیاز‘ اور 2010 میں ’ہلال امتیاز‘ سے نوازا گیا جب کہ اس کے علاوہ انہیں کئی قومی اوربین الااقوامی ایورڈ بھی دیئے گئے ہیں تاہم طویل علالت کے بعد 88 سال کی عمرمیں اس دار فانی کوچ کر گئیں-

  • شہریار منور کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب

    شہریار منور کا تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف اداکار شہریار منور نے اپنے فوٹو شوٹ پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کو کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : معروف اداکار شہریار منور ان دنوں اپنے فوٹو شوٹ کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں حال ہی میں انہوں نے سائرہ یوسف کے ساتھ بھی فوٹو شوٹ کروایا تھا جس میں سائرہ کے بولڈ انداز کی وجہ سے سوشل میڈیا پرتنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اب سائرہ کے بعد صارفین نے شہریار کو بھی تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کی جو صارفین کو مہنگی پڑگئی۔

    اداکار شہریار منور نے حآل ہی میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنے نئے فوٹو شوٹ کی تصاویر شئیر کیں ہیں جن پرایک صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ وہ غریبوں کے براڈلے کوپر لگ رہے ہیں –

    صارفین کی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے اداکار نے لکھا کہ غریب ہونا معاشرتی عیب نہیں ہے لیکن میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں مجھے ایسے گروپ سے وابستہ کرنے کے لئے جوکہ اپنے لئے اور اپنی فیملی کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں جب کہ ایسے لوگ قابل احترام ہوتے ہیں۔

    ایک اور بھارتی صارف نے طنزیہ انداز کے ساتھ لکھا کہ نماز بھی پڑھ لو یہ نہ ہو کے اس سے قبل آپ کی نماز پڑھی جائے۔

    اس بھارتی صارف کو شہریار منور نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ الحمد اللہ میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں اور کبھی کبھار رب العزت کی مہربانی سے تہجد کی نماز بھی نصیب ہو جاتی ہے۔

    شہر منور نے یہ بھی لکھا کہ نماز میرے اور رب کے درمیان کا معاملہ ہے اور میرا کام بھی میرے لئے ایک عبادت ہے جب کہ رب حساب کرنے والا ہے لیکن تم لوگوں سے انسٹا گرام پر حساب لینا بند کرو کیوںکہ ایک دن تمھاری بھی نماز پڑھی جانی ہے۔

    سائرہ یوسف کو سوشل میڈیا پر وائرل حالیہ فوٹو شوٹ کی تصاویر پر تنقید کا سامنا

  • ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی مقبول ترین تُرک سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں عبدالرحمٰن غازی کا کردار ادا کرنے والے تُرک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر تُرک اداکار جلال نے ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں اُنہوں نے اپنے نومولود بچے کا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔

    تُرک اداکار جلال نے اپنے مداحوں کو خوشخبری سُناتے ہوئے کیپشن میں تُرک زبان میں لکھا کہ الحمدللہ میرے رب نے مجھے جمعے کے مبارک دن باپ بنایا ہے جس کے لیے میں اپنے رب کا بہت شکر گزار ہوں۔

    جلال نے کہا کہ میری دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر جوڑے کو جمعے کے دن والدین بننے کی سعادت عطا کرے۔

    اس کے علاوہ اُنہوں نے بچے کی پیدائش میں بھرپور تعاون کے لیے ڈاکٹروں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

    آخر میں جلال نے اپنے بچے کی تاریخ پیدائش 27-11-2020 بھی لکھی ہے جبکہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اُن کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے یا بیٹی کی-

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر سرکاری ٹی وی چینل پر اُردو زبان میں نشر کی جانے والی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ کو پاکستان میں خوب مقبولیت مل رہی ہے اورنہ صرف اس سیریز بلکہ اس کے کرداروں نے پاکستانیوں کو اپنے سحر میں جکڑا ہوا ہے-

  • اداکارہ رباب ہاشم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    اداکارہ رباب ہاشم رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئیں

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی معروف اداکارہ رباب ہاشم رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں-

    باغی ٹی وی : خوبرو اداکارہ رباب ہاشم گزشتہ روز شعیب شمشاد کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئیں شادی کی تصویریں اُنہوں نے سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر شیئر کی ہیں۔

    رباب ہاشم نے انسٹاگرام پر اپنے نکاح کا ایک فوٹو کولاج شیئر کیا ہے جس میں اداکارہ اور اُن کے شوہر نکاح کے کاغذات پر دستخط کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    فوٹو کولاج پوسٹ کرتے ہوئے رباب ہاشم نے کیپشن میں دل والے ایموجی کے ساتھ ’نکاح‘ لکھا۔

    اداکارہ نے شادی کے موقع پر خوبصورت عروسی لباس زیب تن کیا جبکہ اُن کے شوہر نے بھی اداکارہ کے لباس کے رنگ سے ملتی جلتی شیروانی پہنی۔


    رباب ہاشم کی جانب سے شئیر کی جانے والی تصاویر میں اداکارہ کافی خوش اور دلکش دکھائی دے رہی ہیں مداحوں اور معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے اور دعاؤں نیک تمناؤں اور کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    خیال رہے کہ گزشتہ دنوں رباب ہاشم کی اچانک شادی کی تقریبات نے مداحوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا تھا۔ رباب ہاشم نے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کے کئی ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز دس برس کی عمر میں جیو کے بچوں کے پروگرام سے کیا تھا۔

    اداکارہ رباب ہاشم کی شادی کی تقریبات کا آغاز ہو گیا

  • نکاح نامے کا ہر خانہ پر کرنا کیوں ضروری قرار دے دیا گیا

    نکاح نامے کا ہر خانہ پر کرنا کیوں ضروری قرار دے دیا گیا

    نکاح خواں عام طور پر کسی سے پوچھے بغیر خود ہی نکاح نامے کے کچھ خانے خالی چھوڑ دیتے ہیں یا ان میں کراس (x) لگادیتے ہیں.
    یہ وہ خانے ہیں جو ہماری بیٹی یا بہن کو مشکلات سے بچا سکتے ہیں.

    باغی ٹی وی : اگرچہ توقع اچھے ہی کی رکھنی چاہئیے لیکن سب کچھ توقعات اور خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا. خاصی تعداد میں شادیاں چل نہیں پاتیں اور پھر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جاتا ہے.

    جب یہ صاف ہوجاتا ہے کہ میاں بیوی اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس کیلئے حق مہر، بچے چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے. مقدمات فیملی کورٹ سے ہائی کورٹ تک فیصلہ ہوتے ہوتے بیوی بوڑھی ہوجاتی ہے. وہ نئی زندگی شروع نہیں کرپاتی، شوہر اس دوران دوسری شادی کرچکا ہوتا ہے.اس سے بھی بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں.

    نکاح نامے کے خانہ نمبر 18 میں "ہاں ” لکھ کر اس مصیبت سے بچا جاسکتا ہے. اس میں پوچھا گیا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟

    نکاح نامے کی شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں. 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔

    مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر مؤجل کسی معیّنہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ مہر مؤجل کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔ اس پر بھی جھگڑے طول پکڑتے ہیں.

    حق ِطلاق دینا تو کیا اس پر بات کرنا بھی نامناسب اور بد شگونی سمجھا جاتا ہے۔

    اگر بیوی کے پاس حقِ طلاق نہ ہو تو اُس کے پاس خلع یا تنسیخ نکاح یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہو جاتی ہے۔

    لڑکی کے پاس حقِ طلاق ہونے کی صورت میں یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔

    نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حقِ طلاق پر شرائط عائد کرسکتی ہے مثلاً شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اُسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔

    نکاح نامے کا خانہ 20 مہر و نان نفقہ سے متعلق تیار کی گئی کسی دستاویز کی تفصیلات درج کرنے کیلئے ہے۔ مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدّت تک بیوی کو ادا کی جائے۔

    اگر نکاح نامے میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا گیا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ اسے استعمال کرے مگر یہ حق اپنے پاس رکھے ضرور۔ پتہ نہیں مستقبل میں کیا ہو اور کب یہ حق استعمال کرنا پڑ جائے۔

    جیسا کہ پہلے ذکر کیا، نکاح خواں کئی خانوں کو خود ہی قلم زد کردیتے ہیں. جس کا انہیں کوئی حق ہے نہ اختیار لیکن اب پنجاب حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ ایسا کرنے پر پابندی لگادی ہے اور ہر خانہ پُر کرنا لازمی کردیا ہے.

  • ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں  عدنان صدیقی

    ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کا فیصلہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں عدنان صدیقی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار عدنان صدیقی کا کہنا ہے کہ ہمیں مردوں کو صنفی ادب و احترم اور خواتین کو عزت دینے سے متعلق تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ریپ ملزمان کی جنسی صلاحیت ختم کرنے کے فیصلے پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر نامور اداکار عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی نڈر فیصلہ لیا ہے تاہم یہ مسئلے کا کوئی ٹھوس اور مستقل حل نہیں۔


    عدنان صدیقی نے کہا کہ ہمیں مردوں اور خواتین کو معاشرتی ذمہ داری کا احترام کرتے ہوئے صنفی حساسیت سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

    اداکار نے کہا کہ ہمیں مردوں کو صنف ادب و احترم کی تعلیم دینے کی ضرورت ہے انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ معاشرے میں خواتین اور مردوں کا برابری کا کردار ہے، معاشرے میں دونوں کو ایک ہی طرح کے مواقع میسر ہیں۔

     

  • معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے  ماہرہ خان

    معاشرے کی سوچ کو بدلنے کے لئے ڈراموں اور فلموں کی کہانیاں بدلنے کی ضرورت ہے ماہرہ خان

    عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    باغی ٹی وی :پاکستان کی صف اول کی اداکارہ ماہرہ خان نے بی بی سی کوانٹرویودیتے ہوئے جنسی تشدد سے متعلق کہا کہ اس تشدد کے خلاف بہت سی آوازیں بلند ہوتی ہیں لوگ سڑکوں پرآتے ہیں لیکن پھریہ سب بھلادیا جاتا ہے، اس کے بعد پھرکوئی خبرآتی ہے، پھریہ ہی سب ہوتا ہے لیکن ہم اپنی عوام کو تربیت دینے کے لیے تیارنہیں ہیں۔ ہمیں ایسے پروگرامز بنانے چاہیئں جس سے بچوں کی تربیت ہو لیکن ہم اس کے بارے میں کھل کربات کرنے کے لیتے بھی تیارنہیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ ہمارے ٹی وی سیریزاورفلموں میں موجود کہانی بدلنی چاہیئے۔ ہم صرف یہ نہیں دکھا سکتے کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے۔ اورپھرعورت کو اس ہی شخص سے محبت ہوجائے اوراسی شخص کوہم ہیرو بھی دکھاتے ہیں۔ تشدد کرنے والا شخص ہیرو نہیں ہوسکتا۔ ہمیں کہانی بدلنے کی ضرورت ہے اوریہاں میں بھی ذمہ داری لیتی ہوں کیونکہ میں بھی میڈیا کا حصہ ہوں۔

    فنکاروں اور دستکاروں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے صدر مملکت…

    اداکارہ نے مزید کہا کہ مجھ سے بہت سی رنگ گورا کرنے والی کریموں اورمصنوعات کے لیے رابطہ کیا گیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایسے پراڈکٹ کا حصہ بن کر میں ایک ایسے خیال کی توثیق کررہی ہوں کہ گہرے رنگ کی لڑکی لڑکا یا کوئی بھی اتنا خوبصورت یا پرکشش نہیں ہوتا جتنا ایک گورے رنگ کا حامل شخص خوبصرت ہوتا ہے۔دراصل مجھے کبھی یہ بات سمجھ نہیں آتی۔

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

  • قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ

    قمیض شلوار کے ساتھ ٹائی باندھنے والے آخری بزرگ اور 200 سے زیادہ ناولوں کے مصنف ایم اسلم نے اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک نیا ریکارڈ قائم کیا-

    باغی ٹی وی : میاں محمد اسلم 6 اگست 1885 کو لاہور میں پیدا ہوئے اور ساری عمر لاہور میں ہی رہے۔ 23 نومبر 1983 کو وفات پائی اور میانی صاحب میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    ایم اسلم نے اپنی مرضی کی زندگی گزاری۔ شہری جائیداد کی وجہ سے فکرِ معاش تھی نہیں۔ بس گراموفون سنتے تھے اور ناول لکھتے تھے۔ شلوار قمیص پہنتے تھے، اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھتے تھے۔ کہتے تھے یہ میرا شوق ہے۔

    مصنف ایم اسلم دوستوں کی خاطر تواضع بہت کرتے تھے لیکن دوست کھانے کے بعد ان سے ناول کا باب سننے سے خائف رہتے تھے۔ ایک بار شائد قتیل شفائی نے کہا ، میاں صاحب ، لوگ آپ کے بارے میں غلط بات کرتے ہیں،
    پوچھا ، کیا ؟
    قتیل نے کہا، کہ آپ زبردستی ناول سناتے ہیں، حالانکہ ایسی تو کوئی بات نہیں،
    میاں صاحب نے کہا ، ہاں ، ہاں
    اور یوں احباب اس روز ناول سننے سے محفوظ رہے !

    شلوار قمیض کے اوپر شوخ رنگ کی ٹائی باندھنا ایم اسلم کا شوق تھا ،ناول نگار اور مصنف ایم اسلم کی یادگار تصویر

    ایک بار کسی کے سوال پر ایم اسلم نے بتایا کہ انہیں ناول لکھنے کے لئے زیادہ غوروفکر کی ضرورت نہیں پڑتی ، بس کوئی گراموفون ریکارڈ لگا کر سنتے ہیں اور ناول کا پلاٹ ان کے ذہن میں آجا تا ہے۔

    عظیم مصنف ایم اسلم کے والد میاں نظام دین علامہ اقبال کے دوست تھے۔ ایم اسلم پہلے شاعری کرتے تھے، علامہ اقبال کو دکھائی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ نثر لکھا کریں ۔ انہوں نے یہ مشورہ قبول کرکے ناول افسانے لکھنا شروع کئے اور اردو فکشن کے ایک لاکھ سے زیادہ صفحات لکھ کر ایک ریکارڈ قائم کرڈالا !

    جن میں ناظمہ کی آپ بیتی،عروسِ غربت، معرکۂ بدر،جوئے خون، پاسبانِ حرم، شمشیرِستم، بنتِ حرم، فتحِ مکہ، صبحِ احد، ابو جہل، غزالۂ صحرا ،فتنۂ تاتار ،خونِ شہیداں ، رقصِ ابلیس ، مرزا جی، گناہ کی راتیں ،جہنم ،حسنِ سوگوار ، خار و گل ،رقصِ زندگی ، راوی کے رومان ، درِ توبہ اور شامِ غریباں ایم اسلم کے مشہور ناول ہیں۔

    معروف ناول نگار فاروق خالد بتاتے ہیں ایم اسلم، مشہور مصوّر اُستاد اللہ بخش کے دوست تھے اور ان سے ملنے اکثر پُرانا مسلم ٹاون جایا کرتے تھے۔ ان کے کئی ناولوں کے سرورق بھی استاد نے ڈیزائن کیے۔ مَیں اُستاد اللہ بخش کا باقاعدہ شاگرد تھا۔ ان پر مَیں نے بڑی محبت سے ایک خاکہ لکھا ہے جو ” سویرا” لاہور کی تازہ اشاعت میں شامل ہے اور اس میں میاں ایم اسلم کا ذکر بھی ہے۔

    میاں یوسف صلاح الدین کی جس حویلی کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ میاں ایم اسلم کی ہی تھی۔ ان کی اولاد نہیں تھی، اس لئے ان کی حویلی پہلے ان کے کزن میاں امیر الدین کو ملی. ان سے ان کے بیٹے اور علامہ اقبال کے داماد میاں صلاح الدین ( میاں صلی، جو ایم این اے بھی بنے ) کے حصے میں آئی اور پھر ورثے میں میاں یوسف صلاح الدین کے۔

    محترم منیب اقبال کے مطابق علامہ اقبال کی صاحبزادی منیرہ کا نکاح میاں صلاح الدین سے ہوا تو خاندان کے بزرگ کی حیثیت کی سے میاں اسلم نے نکاح نامے پر گواہ کے طور پر دستخط کئے۔

    ڈاکٹر انور سدید مرحوم کے صاحبزادے مسعود انور ایک یادگار واقعہ بتاتے ہیں کہ1976 میں ڈینٹل کالج کے قریب انکی رہائش گاہ کے سامنے سے ابا جی کے ساتھہ گزر رہا تھا۔ ایم اسلم باہر کھڑے تھے۔ اباجی بولے جلدی سے نکل چلو ۔ مگر اسلم صاحب کی نظر پڑ گئی اور آواز دے کر بلا لیا۔ چائے بسکٹ کے ساتھہ دو باب ناول کے سنے۔ ابا جی نے بتایا کہ انہوں نے فائلیں بنائی ہوئی ہیں۔ بارش کا منظر 20 صفحات۔ پہلی ملاقات 15 صفحات وغیرہ۔ ناول میں جیسا مقام آتا ھے فائل کھول کر صفحات فٹ کر دیتے ھیں۔

    ارشد نعیم صاحب نے یاد دلایا ہے کہ شاہد احمد دہلوی نے ایم اسلم کا شاندار خاکہ لکھا تھاجس سے ان کی شخصی عظمت کا اندازہ بھی ہوتا ہے اور ان کی عوامی مقبولیت کے راز کا بھی پتہ چلتا ہے.

  • اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی اُبھرتی ہوئی اداکارہ مریم نفیس بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئیں ہیں-

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے اداکارہ مریم نفیس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر اپنی سیفلی پوسٹ کی ہے جو اُنہوں نے آئسولیشن کے دوران لی۔

    انسٹاگرام پر سیلفی پوسٹ کرتے ہوئے مریم نفیس نے کیپشن میں لکھا کہ میں آپ سب کو آئسولیشن سے سلام بھیج رہی ہوں کیونکہ بدقسمتی سے وہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہوں۔

    مریم نفیس نے کہا کہ مجھے کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں جس کے بعد میں نے اپنا کورونا ٹیسٹ کروایا اور اُس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    اداکارہ نے مداحوں سے دُعا کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ میری جلد صحت یابی کے لیے دُعا کریں۔

    اُنہوں نے لوگوں کو کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ براہِ کرم ماسک پہنیں، سماجی فاصلے کا خیال رکھیں، خود بھی محفوظ رہیں اور اپنے آس پاس کے لوگوں کو بھی اس وائرس سے بچائیں۔

    مریم نفیس کی پوسٹ پر بڑی تعداد میں مداحوں کی جانب سے اُن کے لیے دُعائیہ پیغامات بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    عامر لیاقت حسین نے عالمی وبا کورونا وائرس کو شکست دے دی

    واضح رہے کہ اس سے قبل کئی فنکار کورونا وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں عامر لیاقت حسین اور ان کی اہلیہ طوبی عامر ،اداکار امیر گیلانی ،گلوکارجواد احمد ،عثمان مختار ، فروا علی کاظمی ،ماڈل صحیفہ جبار ، روبینہ اشرف ، اداکار یاسر نواز اور ان کی اہلیہ ندا یاسر ،واسع چوہدری اور دیگر شامل ہیں-

    واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد آج 28 نومبر کی دوپہر تک 3 لاکھ 92 ہزار 3سو 56ہو چکی ہے جبکہ اس موذی وبا سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 7 ہزار 942 تک جا پہنچی ہے۔

    عامر لیاقت حسین کورونا وائرس کے باعث طبیعت بگڑنے پر ہسپتال منتقل

    ڈاکٹرعامر لیاقت اہلیہ طوبیٰ عامر سمیت کرونا وائرس کا شکار

    ایک اوراداکار امیر گیلانی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    جواد احمد عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

    عثمان مختار کے بعد ماڈل فروا علی کاظمی بھی کورونا وائرس کا شکار

    عثمان مختار بھی عالگیر وبا کورونا وائرس میں مبتلا ہو گئے

    ماڈل صحیفہ جبار بھی کورونا وائرس کا شکار

  • چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے   ثروت گیلانی

    چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے ثروت گیلانی

    ٹی وی اداکارہ ثروت گیلانی کا کہنا ہے کہ ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں ایک یوٹیوب چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں ثروت گیلانی کا کہنا تھا کہ ساس بہو والے ڈراموں کی کہانیاں سب جھوٹ ہیں۔ جن لوگوں کی سوچ صحیح ہوتی ہے انہیں ایسے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اوروہ لوگ مل کررہ سکتے ہیں۔

    ثروت گیلانی کا اپنے فنی کیرئیر کی شروعات کے حوالے سے کہنا تھا کہ شوبزمیں کام کے حوالے سے خاندان کو راضی کرنا بہت مشکل تھا، میں سوچتی تھی کہ اگراچھا کام کرتی رہی تو وہ ایک دن خود ہی مان جائیں اورایسا ہی ہوا۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو زیادتی، اغوا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے جیسے کئی مسائل کے حل کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے لیکن حکومت چیزوں پرپابندیاں لگانے اور چھوٹے موٹے معاملات میں ہی مصروف ہے میں سمجھتی ہوں کہ حکومت کو گھمبیر معاملات پر زیادہ سنجیدگی دکھانے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری صرف تین افراد کے سینگوں پر کھڑی ہے محمد احمد

    ٹی وی ڈراموں میں کم کام کی وجہ بتاتے ہوئے ثروت گیلانی نے کہا کہ میری ترجیحات تبدیل ہوگئی ہیں میری والدہ اوربچے میری پہلی ترجیح ہیں اس کے علاوہ اسپیشل اولپمکس کی سفیرہونے کی وجہ سے مجھ پر کئی ذمہ داریاں ہیں، میرا زیادہ تروقت ان 2 چیزوں میں چلا جاتا ہے۔

    ثروت گیلانی نے ویب سیریز ’چڑیلز‘ کی پابندی لگائے جانے پر بھی بات کی ان کا کہنا تھا کہ ویب سیریز ’چڑیلز‘ پرپابندی سے مجھے بہت دکھ ہوا اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کے لیے ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا-

    پاکستانی ڈراموں میں ان کہانیوں کو ہی دکھایا جاتا ہے جو معاشرے میں موجود ہوتی ہیں…

    ثروت گیلانی نے کہا کہ اگر ہم سچائی سے بھاگتے رہے تو خود کو ٹھیک کیسے کریں گے ٹی وی ڈراموں میں بہوؤں پرتشدد دکھانے اور انہیں جلائے جانے پرتوتالیاں بجائی جاتی ہیں لیکن اگرمیاں بیوی محبت کا ظہارکررہے ہوں تویہ ہمارے عوام کے لیے ہضم کرنا مسئلہ ہے۔ امید ہے ایک وقت آئے گا کہ انہیں یہ پیارمحبت بھی ہضم کرنا آجائے گا۔

    جب ٹیلی ویژن نہیں تھا اداکارائیں ٹی وی پر نہیں آتی تھیں تو کیا ریپ نہیں ہوتے تھے؟

    پاکستان میں چڑیلز بین کئے جانے پر ہدایتکار عاصم عباسی اور شائقین برہم

    چڑیلز کو پاکستان میں بین کر دیا گیا

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ چڑیلزبنا کرہم نے یہ ثابت کیا کہ پاکستانی فنکاروں میں اچھا کام کرنے کی پوری صلاحیت ہے، ہم نے سوچا تھا کہ ویب سیریز دیکھنے والوں میں سے 80 فیصد تنقید اور20 فیصد تعریف کریں گے لیکن معاملہ اس کے الٹ ہوا زیادہ تر لوگوں نے اس کی تعریف کی اس کا مطلب یہ ہے کہ ساس بہو جیسی کہانیاں پرانی ہوگئیں لوگوں کواب نیا چاہیے۔

    پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

    پاکستان کی پہلی اوریجنل ویب سیریز ’چڑیلز‘ پر پاکستان میں عائد پابندی ختم

    ویب سیریز چڑیلز کو پاکستان میں بین کرنے پر شوبز شخصیات کا سخت رد عمل