Baaghi TV

Category: شوبز

  • کرینہ کپور خان کا خود پر ٹرولنگ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب

    کرینہ کپور خان کا خود پر ٹرولنگ کرنے والوں کو منہ توڑ جواب

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ کرینہ کپور خان نے خود پرکی جانے والی ٹرولنگ کرنے والوں کو کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی اداکارہ وکرینہ کپورخان مختلف انٹرویوزاورسوشل میڈیا پلیٹ فارم کی وجہ سے خبروں کی زینت بنی رہتی ہیں اوراب ایک بارپھران کے گھرننھے مہمان کی آمد متوقع ہے جس پربھی وہ خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔

    ایک انٹریو کے دوران کرینہ کپورخان نے خود پرہونے والی آن لائن ٹرولنگ پرکہا کہ عوام کورونا وبا کے باعث گھروں میں محصورہیں اوراس وبا سے خاصے بوراورذہنی دباؤ کا شکاربھی ہوچکے ہیں ان کے پاس اب کرنے کے لیے کچھ نہیں تو وہ پھر تنقید ہی کرتے ہیں۔

    بی جے پی کارکن نے احد رضامیر کی تصویر شئیر کر کے سوشل میڈٰیا پرخود کا مذاق بنوالیا

    کرینہ کپور خان نے کہا کہ بہت سے لوگوں کی اس وبا کے باعث نوکریاں بھی ختم ہوگئیں جس کی باعث عوام پریشان ہیں اور زیادہ سوچ بھی رہے ہیں اورتنقید بھی زیادہ کررہے ہیں۔

    بالی وڈ اداکارہ نے کہا کہ اگرٹرولنگ کرنا کسی کو اچھا لگتا ہے توکرے اورخوش رہے تاہم ہرایک کو اپنی جگہ خوش رہنا چاہیئے اورکسی اورکے معاملے میں زیادہ دخل اندازی نہیں کرنی چاہیئے۔

    پاکستان میں بھارتی اسٹریمنگ ویب سائٹ زی فائیوسمیت دیگر بھارتی مواد کی سبسکرپشن…

  • ’فنٹاسٹک بیٹس‘ میں جونی ڈیپ کی جگہ میڈس مکلسن شیطان جادوگر کے کردار میں دکھائی دیں گے

    ’فنٹاسٹک بیٹس‘ میں جونی ڈیپ کی جگہ میڈس مکلسن شیطان جادوگر کے کردار میں دکھائی دیں گے

    ہا لی وڈ کی فنٹیسی فلم ’فنٹاسٹک بیٹس‘ کی تیسری فلم میں 57 سالہ اداکار جونی ڈیپ کی جگہ ڈینش نژاد اداکار 54 سالہ میڈس مکلسن اب شیطان جادوگر کے کردار میں دکھائی دیں گے۔

    باغی ٹی وی : شوبز ویب سائٹ ڈیڈ لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ڈینش نژاد 54 سالہ اداکار میڈس مکلسن اور فنٹیسی فلم ’فنٹاسٹک بیٹس‘ کی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے جونی ڈیپ کی جگہ ممکنہ طور میڈس مکلسن نئی فلم میں کاسٹ کیے جائیں گے اور اب فلم کی پروڈکشن کمپنی نے بھی اس کی تصدیق کردی۔

    خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ’ہیری پوٹر‘ سیریز کی اسپن آف فلم سیریز کی تیسری فلم ’فنٹاسٹک بیٹس‘ میں اب میڈس مکلسن شیطان جادوگر کا کردار ادا کریں گے۔

    فلم کی پروڈکشن کمپنی وارنر برادرز نے 26 نومبر کو تصدیق کی کہ ڈینش نژاد اداکار آنے والی فلم ’فنٹاسٹک بیٹس‘ میں گیلرٹ گرنڈلوالڈ کا کردار ادا کریں گے جو ایک شیطان جادوگر ہوتا ہے۔

    ’فنٹاسٹک بیٹس‘ معروف فنٹیسی فلم و ناول سیریز ’ہیری پوٹر‘ سیریز کی اسپن آف سیریز ہے۔

    خیال رہے کہ آنے والی فنٹیسی فلم ’فنٹاسٹک بیٹس‘ کو امریکی و برطانوی فلم ساز و کمپنیاں مشترکہ طور پر بنا رہی ہیں اور اس سیریز کی کہانی معروف فنٹیسی سیریز ہیری پوٹر کے کرداروں پر مبنی ہے۔

    ’فنٹاسٹک بیٹس‘ میں جونی ڈیپ کی جگہ میڈس مکلسن لیں گے

    اس فلم سیریز کی 2 فلمیں ریلیز کی جا چکی ہیں اور اس کی پہلی فلم 2016 جب کہ دوسری فلم 2018 میں ریلیز کی گئی تھی اب اس کی تیسری فلم آئندہ سال کے آخر تک ریلیز کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی اداکار جونی ڈیپ برطانوی اخبار سن کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ ہار گئے تھے۔جونی ڈیپ رواں ماہ 2 نومبر کو لندن ہائی کورٹ میں برطانوی اخبار ’دی سن‘ کے خلاف دائر کیا گیا ہتک عزت کا مقدمہ ہار گئے تھے جونی ڈیپ نے برطانوی اخبار پر 2018 میں اپنے خلاف ایک مضمون شائع کرنے پر 2 لاکھ یورو کا مقدمہ دائر کیا تھا۔

    جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ نے 2015 میں شادی کی تھی تاہم 2016 میں 34 سالہ امبر ہرڈ نے جونی ڈیپ پر تشدد کا الزام لگانے کے بعد طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور دونوں کے درمیان 2017 میں طلاق ہوگئی تھی۔

    دونوں میں طلاق ہونے کے بعد متعدد نشریاتی اداروں میں جونی ڈیپ کی جانب سے امبر ہرڈ پر تشدد کی خبریں شائع ہوئی تھیں، تاہم برطانوی اخبار کے مضمون میں تفصیلات کے ساتھ بتایا گیا تھا کہ اداکار نے بیوی کو 2 سال میں 14 مختلف مواقع پر جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا اخبار نے اپنے مضمون میں جونی ڈیپ کو ’بیوی پر تشدد کرنے والا شوہر‘ لکھا تھا-

    مداحوں کا جونی ڈیپ کو فلم ’ فنٹاسٹک بیٹس‘ میں شامل کرنے کا مطالبہ

    مذکورہ مضمون کے بعد جونی ڈیپ نے اخبار کے خلاف جھوٹے دعوے کرنے پر مقدمہ دائر کیا تھا اور اس کی سماعتیں رواں برس جولائی سے ستمبر تک ہوئی تھیں جس میں جونی ڈیپ اور امبر ہرڈ دونوں شامل ہوئی تھیں۔

    سماعتوں میں جونی ڈیپ نے سابق بیوی پر تشدد کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اخباری مضمون میں جھوٹ لکھا گیاسچ تو یہ ہے کہ سابق اہلیہ ان پر تشدد کرتی تھیں۔

    سماعتوں کے دوران امبر ہرڈ نے بتایا تھا کہ انہوں نے بھی ایک یا دو مرتبہ جونی ڈیپ پر تشدد کیا تھا مگر ان پر 14 مواقع پر تشدد کیا گیا اور ساتھ ہی سابق شوہر نے انہیں دوسرے مرد حضرات سے گینگ ریپ کا نشانہ بنوانے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

    سماعتوں کے بعد رواں ماہ 2 نومبر کو لندن ہائی کورٹ نے جونی ڈیپ کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا برطانوی اخبار کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس کے بعد جونی ڈیپ کو آنے والی فلم فانٹیسٹک بیٹس‘ کی ٹیم نے فلم سے الگ ہونے کی درخواست کی تھی فلم کی ٹیم کی جانب سے کی گئی درخواست کو اداکار نے قبول کرتے ہوئے فلم سے علیحدگی اختیار کرلی تھی۔

    جونی ڈیپ کا ہالی وڈ میں کیرئیر ختم ہو گیا امریکی وکیل کا دعوٰی

    تاہم اداکار کی جانب سے فلم سے الگ ہونے کے معاملے پر ان کے مداح ناخوش تھے اور انہوں نے اس عمل کو ناانصافی قرار دیا تھا اور جونی ڈیپ کو ’ فنٹاسٹک بیٹس‘ میں واپس شامل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا تھا جونی ڈیپ کے مداحوں نے آن لائن پلیٹ فارم چینج آرگنائیزیشن پر اداکار کے حق میں پٹیشن کا آغاز کردیا۔

    پٹیشن میں مطالبہ کیا گیا کہ جونی ڈیپ کو واپس فنٹیسی فلم ’ فنٹاسٹک بیٹس‘ کا حصہ بنایا جائے انہیں فلم سے الگ کرنا ان کے ساتھ نا انصافی ہے پٹیشن میں کہا گیا تھا کہ جونی ڈیپ سے وارنر بروس کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ استعفی دیں اور فینٹسٹک بیٹس 3 فلم میں گرائنڈوالڈ کے اپنے کردار کو چھوڑ دیں۔ یہ اس واقعے کی وجہ سے ہوا ہے جس میں عدالت نے "دی سن”اخبار کے ساتھ اپنے کیس کا فیصلہ سنایا تھا جو سراسر غیر منصفانہ تھا۔ ہم اسے واپس چاہتے ہیں! وارنر بروس کو عوام کی بات سننی چاہئے یا ہم فلم کا بائیکاٹ کریں گے !

    جس پر خیال کیا جا رہا تھا کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اداکار کے مداح ان کی حمایت کریں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر جونی ڈیپ کو واپس فلم کا حصہ بنایا جائے گا-

    برطانوی اخبار سے مقدمہ ہارنے کے بعد جونی ڈیپ نئی آنے والی فلم سے باہر

  • بلاول بھٹو سے شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہیں  مہوش حیات

    بلاول بھٹو سے شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہیں مہوش حیات

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی نامور اور تمغہ امتیاز اداکارہ مہوش حیات کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : مہوش حیات نے اسٹریمنگ چینل ناشپاتی پرائم کے پروگرام ’بائے دی وے‘ میں میزبان بیگم نوازش سے اپنے پسندیدہ اداکاروں، کیریئر میں کامیابی اور ذاتی زندگی سے متعلق بات کی۔

    انٹرویو میں مہوش حیات نے بتایا کہ وہ اپنی والدہ کی دعاؤں کی وجہ سے اس منزل تک پہنچی ہیں کیوں کہ انہیں یقین ہے کہ ماں کی دعائیں بڑی سے بڑی آفت کو جہاں ٹال دیتی ہیں وہیں نئے راستے بھی کھول دیتی ہیں-

    میزبان کی جانب سے کئے گئے سوال کہ ابھی تک اکیلی کیوں ہیں؟ کے سوال کے جواب میں مہوش حیات نے بتایا کہ انہیں واقعی آج تک کوئی محبت کرنے والا مرد نہیں ملا۔

    اداکارہ نے وضاحت کی کہ شاید اس کا سبب یہ ہو کہ انہوں نے پیار کے لیے وقت ہی نہ نکالا ہو اور وہ کیریئر بنانے میں مصروف رہی ہوں اور انہوں نے غرور سے سوچا ہو کہ وہ مہوش حیات وہ کسی سے پیار نہیں کرسکتیں۔

    اداکارہ نے بتایاکہ انہوں نے پیار اور دل کے معاملے کو انتہائی رازدانہ رکھا ہے تاہم شاید آگے چل کر کوئی ایسا شخص ان کی زندگی میں آئے جو ان کے دل کے تالے کو کھول کر ان سے محبت کرے اور وہ بھی ان کی محبت میں ڈوب جائیں۔

    ساتھ ہی انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حقیقی زندگی میں رومانوی نہیں بلکہ وہ اسکرین پر رومانوی دکھائی دیتی ہیں۔

    میزبان کی جانب سے پسندیدہ مرد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہیں مردانہ وجاہت والے ایسے مرد پسند ہیں جن کا قد بھی لمبا ہو اور وہ بااخلاق بھی ہوں۔

    مہوش حیات نے وضاحت کی کہ ان کے لیے پسندیدہ مرد میں گوری چٹی رنگت ثانوی ہے تاہم دراز قد اور مردانہ وجاہت اولین ترجیح ہیں۔

    کم معاوضہ ملنے پر سیمی راحیل کا پی ٹی وی پر برہمی کا اظہار

    اداکارہ کے جواب پر میزبان نے انہیں بتایا کہ ان کی نظر میں بلکل ایسا ہی ایک مرد ہے جو بہت مقبول اور اثر و رسوخ والے بھی ہیں اور وہ پہلی بار رکن اسمبلی بھی بنے ہیں۔

    جس پر مہوش حیات نے کہا کہ کہیں میزبان بلاول بھٹو زرداری کی بات تو نہیں کر رہی ہیں؟

    جس پر میزبان نے کہا کہ اگرچہ ان کا اشارہ بلاول کی جانب نہیں تھا لیکن اگر ایسے مرد بلاول بھٹو زرداری ہیں تو اس پر مہوش حیات کو کیا پریشانی ہے؟

    جس پر مہوش حیات نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں بلاول سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ انہوں نے بلاول کو اچھی شخصیت والا بھی قرار دیا۔

    مہوش حیات کے جواب پر میزبان بیگم نوازش نے اداکارہ سے پوچھا کہ اگر وہ ان کی شادی کی بات بلاول بھٹو زرداری سے چلائیں تو انہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا؟

    ارمینا خان کا شادی کی پیشکش کرنے والے ٹوئٹر صارف کو دلچسپ جواب

    جس پر مہوش حیات نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہیں کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟

    ایک اور سوال کے جواب میں مہوش حیات نے کہا کہ اگر انہیں شادی کے لیے کسی مرد کو منتخب کرنے کا کہا جائے گا تو وہ فہد مصطفیٰ کو منتخب کریں گی جب کہ انہیں کسی بوائے فرینڈ کا انتخاب کرنے کا کہا جائے گا تو ہمایوں سعید کو منتخب کریں گی۔

    انٹرویو میں کیریئر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مہوش حیات نے بتایا کہ انہیں بھارتی فلموں میں کام کرنے کی پیش کش ہوئی تھی لیکن کیوںکہ جب سے پاکستان میں سینما کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے انہوں نے دوسرے ملک جاکر کام کرنے کا نہیں سوچا اور انہیں خوشی ہے کہ وہ بھی پاکستان میں سینما کے نئے دور کے آغاز کا حصہ ہیں۔

    ایک اور سوال کے جواب میں مہوش حیات نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ابھی تک 28 بہاریں ہی دیکھی ہیں یعنی ان کی عمر 28 برس ہے۔

    اداکارہ نے انٹرویو میں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور می ٹو مہم پر بھی بات کی اور کہا کہ می ٹو مہم سے مرد حضرات کو ڈر ہوا ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں سارا قصور مرد حضرات کا نہیں ہوتا۔

    مہوش حیات نے واضح کیا کہ انہیں شوبز انڈسٹری میں کبھی ہراسانی کا سامنا نہیں رہا۔

    نکاح نامے کا ہر خانہ پر کرنا کیوں ضروری قرار دے دیا گیا

     

  • پاکستانی  فلم ’زندگی تماشا‘ آسکر ایوراڈز کے لئے نامزد

    پاکستانی فلم ’زندگی تماشا‘ آسکر ایوراڈز کے لئے نامزد

    پاکستانی اداکار و ڈائریکٹر سرمد کھوسٹ کی متنازع فلم ’زندگی تماشا‘ کو 93ویں اکیڈمی ایوارڈ کی بین الاقوامی کیٹیگری کے لیے نامزد کرلیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : فلم ‘زندگی تماشا’ کو پاکستان اکیڈمی سلیکشن کمیٹی کی جانب سے آسکر ایوارڈز کی بین الاقوامی فلم کیٹیگری کے لیے منتخب کیا گیا ہےاس فلم کا ورلڈ پریمیئر 2019 میں بوسان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں بھی پیش کیا گیا تھا جہاں ‘زندگی تماشا’ نے اعلیٰ ترین ’کم جیسوئک‘ ایوارڈ جیتا تھا۔

    خیال رہے کہ فلمی دنیا کے سب سے متعبر اور اعلیٰ فلمی ایوارڈ آسکر کے لیے پاکستانی فلموں کا انتخاب کرنے والی پاکستانی آسکر سلیکشن کمیٹی میں رواں برس ڈائریکٹر اسد الحق، اداکارہ مہوش حیات اور موسیقار فیصل کپاڈیہ، شرمین عبید چنائے اور نامور فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائے) شامل تھے۔

    مہوش حیات اور حسن شہریار یاسین آسکر سیلیکشن کمیٹی 2020 کا حصہ بن گئے

    بین الاقوامی کیٹیگری کی نامزدگی کا فیصلہ اکیڈمی آف موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنس کی جانب سے آئندہ برس کیا جائے گا۔

    سرمد کھوسٹ کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں ایمان سلیمان، عارف حسین اور سامیہ ممتاز نے مرکزی کردار نبھایا فلم اپنے ٹریلر کے جاری ہونے کے بعد ہی تنازع کے شکار ہوئی مذہبی جماعت نے فلم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ملک گیر مظاہروں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد فلم ساز نے ابتدائی طور پر فلم کا ٹریلر یوٹیوب سے ہٹایا تھا جبکہ بعد ازاں حکومت نے فلم کی نمائش بھی روک دی تھی۔

    اگرچہ فلم سینسر بورڈ نے ابتدائی طور پر فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا تاہم مذہبی جماعت کے احتجاج کے بعد وفاقی حکومت نے فلم کی نمائش روکتے ہوئے معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔

    سینٹ نے فلم ’زندگی تماشا‘ کو کورونا بحران کے بعد ریلیز کرنے کی اجازت دے دی

    فلم کو اسلامی نظریاتی کونسل میں بھجوائے جانے کے بعد سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلق ذیلی کمیٹی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے فلم کا جائزہ لیا اور بعد ازاں کمیٹی نے فلم کو ریلیز کے لیے کلیئر قرار دیا تھا۔

    اس کی نمائش روکے جانے اور مذہبی تنظیم کی جانب سے فلم کے خلاف مظاہروں کی دھمکیوں کے بعد فلم ساز سرمد کھوسٹ نے لاہور کی سول کورٹ میں بھی درخواست دائر کی تھی۔

    ’زندگی تماشا‘ پر مذہبی افراد کو غلط انداز میں پیش کرنے کا الزام لگایا جا رہا ہے جب کہ فلم ساز ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فلم کی کہانی ایک اچھے مولوی کے گرد گھومتی ہے اور فلم میں کسی بھی انفرادی شخص، کسی فرقے یا مذہب کی غلط ترجمانی نہیں کی گئی۔

    سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر تا حیات پابندی لگانے کی درخواست دائر

    علاوہ ازیں ‘زندگی تماشا’ پر تاحیات پابندی کے لیے انجمن ماہریہ نصیریہ نامی سماجی تنظیم نے 16 جولائی کو لاہور کی سیشن کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی۔
    فلم سے متعلق سرمد کھوسٹ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط لکھا جس میں انھوں نے کہا کہ میں نے یہ فلم زندگی تماشا کسی کو دکھ پہنچانے یا الزامات لگانے کے لیے نہیں بنائی، یہ ایک اچھے مسلمان کی کہانی ہے۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فلم میں انھوں نے کسی جماعت کو نشانہ نہیں بنایا-

    آسکرز 2020 انتظامیہ نے مدعو افراد کی فہرست جاری کر دی

    خیال رہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث آسکر ایوارڈز کی تقریب اپریل 2021 میں ہوگی 93 ویں ‘آسکر’ ایوارڈز کی تقریب فروری کے آخر میں منعقد ہونا تھی تاہم اب اسے 25 اپریل 2021 کو منعقد کیا جائے گا نامزدگیوں کا اعلان 15 مارچ کو کیا جائے گا جب کہ اکیڈمی 15 اپریل تک نامزد ہونے والی فلموں کی حتمی فہرست جاری کردے گی فلموں کی نامزدگی کی فہرست جاری کرنے کے بعد 25 اپریل کو لاس اینجلس میں 93 ویں ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوگی-

    کورونا وائرس: فلمی دنیا کے سب سے معتبر ایوارڈ کی تقریب 2 ماہ کے لئے موخر

  • حقیقی زندگی پر بنی دلچسپ دستاویزی فلم ’دی ڈونٹ کنگ‘

    حقیقی زندگی پر بنی دلچسپ دستاویزی فلم ’دی ڈونٹ کنگ‘

    فلم ساز ایلس کی دستاویزی فلم ’دی ڈونٹ کنگ‘ ایسے ہی ایک شخص کی حقیقی زندگی پر بنی ہے جو زندگی میں انتھک محنت کرتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سخت محنت کرکے غریب سے امیر بننے کی داستانیں تو بہت ہیں لیکن غریب سے امیر اور دوبارہ غریب اور پھر سے امیر بننے والے لوگ شاز و نادر ہی پیدا ہوتے ہیں فلم ’دی ڈونٹ کنگ‘ ایسے ہی ایک شخص کی حقیقی زندگی پر بنی ہے-

    فلم کی بنیاد ایلس کا یہ تجسس تھا کہ دیگر امریکی ریاستوں کے مقابلے میں کیلیفورنیا میں ڈونٹ کی اتنی زیادہ دکانیں کیوں ہیں؟ اور وہ سب کمبوڈیائی افراد کیوں چلاتے ہیں؟۔

    ایلس کی تلاش انہیں ٹیڈ نگوائے تک لے گئی جو 1975 میں کمبوڈیا کی خانہ جنگی سے جان بچا کر امریکا پہنچےیہاں انہوں نے ڈونٹ شاپ میں کام شروع کیا اور انتھک محنت سے کروڑ پتی بن گئے۔

    انہوں نے تقریباً 100 کمبوڈیائی خاندوں کو اسپانسر کیا اور امریکا پہنچنے پر ہر ایک کو ڈونٹ کی دکان شروع کرنے میں مدد دی اپنے عروج پر ٹیڈ کو جوے کی لت لگ گئی اور وہ کافی دولت کھو بیٹھے اور باقی دولت انہوں نے کمبوڈیائی سیاست میں گنوادی۔

    لیکن ٹیڈ نے ہمت نہیں ہاری اور امریکا میں ریئل اسٹیٹ کا کام شروع کیا جس کے بعد دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھر سے کروڑ پتی ہوگئے۔

  • ارمینا خان کا شادی کی پیشکش کرنے والے ٹوئٹر صارف کو دلچسپ جواب

    ارمینا خان کا شادی کی پیشکش کرنے والے ٹوئٹر صارف کو دلچسپ جواب

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ارمینا خان نے شادی کی پیش کش کرنے والے شخص کو دلچسپ جواب دے کر صارفین کو حیران کر دیا۔

    باغی ٹی وی : اداکارہ ارمینا خان ان دنوں ڈرامہ سیریل ’محبتیں چاہتیں‘ میں منفی کردار ادا کر رہی ہیں سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتی ہیں یہاں تک کہ مداحوں کی جانب سے ان کی پوسٹ پر کیے گئے ہر کمنٹ کا جواب دینے کی کوشش کرتی ہیں تاہم گزشتہ روز ایک صارف نے اداکارہ سے ایسا سوال کرلیا جس پر انہوں نے غصے اور طنز کا اظہار کرنے کی بجائے عاجزی کے ساتھ جواب دے کرمداحو ں کے دل جیت لئے-

    الطاف نامی صارف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ارمینا خان کو شادی کی آفر کرتے ہوئے لکھا کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں جس پر ارمینا خان صارف کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے معذرت کی اور کہا کہ سرسوری ، میری شادی ہو چکی ہے۔


    ارمینا خان کا انداز جواب سوشل میڈیا صارفین کو ایسے بھایا کہ وہ اداکارہ کی عاجزی کی تعریفیں کئے بنا نہیں رہ سکے-

    واضح رہے کہ ارمینا خان پنے فنی کیریئر میں متعدد ڈراموں کے ساتھ ساتھ بن روئے، جانان، یلغار اور شیردل جیسی سپر ہٹ فلموں میں اداکاریہ کر چکی ہیں اوران دنوں ڈرامہ سیریل ’محبتیں چاہتیں‘ میں منفی کردار ادا کر رہی ہیں-

    منفی کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ارمینا خان کا کہنا تھا کہ ’اچھی اور پیاری لڑکی کا کردار تو کوئی بھی کر سکتا ہے۔ میں نے منفی کردار اس لیے چُنا تاکہ لوگوں کی داد سمیٹ سکوں۔ اپنی طرف سے اس کردار میں میں جتنی برائی ڈال سکتی تھی، میں نے ڈالی ہے۔ آگے دیکھنے والوں پر منحصر ہے کہ ان کو میری کارکردگی کیسی لگتی ہے۔

    ارمینا خان کا کہنا تھا کہ ارمینا رانا خان کا کہنا ہے کہ تارا کے کردار میں اداکاری کا جو مارجن ہے وہ انھیں بہت کم کرداروں میں ملا ہے، اس سے انھیں یہ بھی پتا چلا کہ معاشرے میں اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ہر قیمت پر ہر چیز چاہتے ہیں۔

    ’اس کردار کو جب آپ کھولتے ہیں تو اس کی ہر تہہ کے نیچے ایک نئی کہانی، ایک نئی وجہ ملتی ہے جس سے شائقین کو پتہ چلے گا کہ تارا ایسی کیوں ہے۔ کوئی بھی انسان اچھا یا برا پیدا نہیں ہوتا، معاشرہ اسے ایسا بنا دیتا ہے۔ تارا کا کردار منفی ضرور ہے مگر اس کو ایسا بنایا گیا ہے، میں سمیرا فضل کو داد دیتی ہوں کہ انھوں نے اتنا مزے کا کردار میرے لیے لکھا۔

    ارمینا خان اس وقت سنیپ شاٹ‘ نامی فل میں کام کر رہی ہیں ان کی فلم یہ ترکی کے شہر استنبول میں شوٹ ہوئی ہے اس وقت تکمیل کے مراحل میں ہے۔

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ ’سنیپ شاٹ‘ بنانے کی سب سے بڑی وجہ اس کہانی کو سامنے لانا تھا جو پاکستان میں بننا تو چاہیے، لیکن بنتی نہیں۔ اس فلم کے ذریعے وہ اپنے مداحوں کو حیران کر دیں گی۔

    ترک اداکاروں کے ساتھ شارٹ فلم ’سنیپ شاٹ‘ سب کو حیران کر دے گی ارمینہ خان

  • کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا  شوبز فنکار

    کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا شوبز فنکار

    دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی کورونا کی دوسری شدید لہر نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کی تعادا میں مبینہ طور پر دن دہ دن اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤں کا فیصلہ کیا ہے اور تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کی ہدایات دی ہیں اورہرطرف ایک ہی پیغام عام ہے کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد حل احتیاط ہے-

    باغی ٹی وی : پاکستانی خبر رساں ادارے ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے معروف فنکاروں ماہرہ خان، مہوش حیات، عاطف اسلم اورہمایوں سعید کاکہنا تھاکہ جیسے ہی موسم سرما کے بعد بہار کا موسم آتا ہے تو پھر ثقافتی سرگرمیاں جس طرح پاکستان میں عروج پر ہوتی ہیں اسی طرح دنیا بھر میں موسم کی اس بدلتی رت کو خوش آمدید کہتے ہوئے رنگا رنگ پروگرام سجائے جاتے ہیں۔ میوزیکل پروگرام، فیشن شو، ڈانس ایونٹ ، فلموں کے پریمئر اور اس کے ساتھ ساتھ فلم فیسٹیولز، ایوارڈ شو اور دیگر تقاریب کو سجانے کا سلسلہ جاری عروج پررہتا ہے۔

    لیکن اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کورونا پرمکمل قابو پانا تو دور اس کی دوسری لہر نے دنیا کے بیشترممالک کوپھر سے اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔ ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں۔ کورونا کوئی مزاق نہیں بلکہ جان لیوا وبا ہے اس سے بچنے کیلئے ہمیں احتیاطی تدابیرکوسختی سے اپنانا ہوگا۔

    اداکارجاوید شیخ،علی ظفر،عمران عباس اورنئیراعجاز نے کہاکہ کورونا وائرس نے جہاں عالمی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کیے ہیں وہیں اس نے دنیا کی سب سے بڑی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری ہا لی وڈ سمیت پاکستان میں بھی شوبز انڈسٹری کو ویران کردیا ہے۔ اربوں ڈالرکے بجٹ سے بننے والی فلموں کی شوٹنگزجہاں بند ہوگئی ہیں وہیں سینما انڈسٹری کا بزنس بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ جس کی وجہ سے ہالی وڈ سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگارہوچکے ہیں اور اسی طرح کی صورتحال ہمارے ملک میں بھی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں جہاں فنکاروں سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد کواحتیاط کرنے کی ضرورت ہے، وہیں فنون لطیفہ کے فنکاروں کی مالی سپورٹ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    اداکار معمر رانا، مہرین سید، سارا خان اور افتخار ٹھاکر نے کہا کہ رواں برس دنیا کے سب سے بڑے فلمی میلے کانز فلم فیسٹیول کو بھی دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والے مہلک اورجان لیوا کورونا وائرس کے خوف کے باعث ملتوی کردیا گیا تھاہمارے ملک میں بھی سال بھرمیں مختلف پروگراموں کے انعقاد کیا جاتاہے مگرکورونا وائرس کے پیش نظر بہت سے ایونٹ منسوخ ہوئے اورفنکاروں سمیت ایونٹ آرگنائزر کوبھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    انہوں نے کہا کہ بہت سے لوگ مل کرآئندہ برس بڑے پروگرام منعقد کرنے کی کوشش میں لگے تھے مگرموجودہ صورتحال میں ایسا ممکن نہیں لگتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب سے پہلی ترجیح کورونا سے بچاؤ کیلئے دی جانے والی احتیاطی تدابیر ہیں جن کواپنائے بغیرآگے نہیں بڑھا جاسکتا۔ اس لئے ہماری اپیل اپنے ملک کے لوگوں سے ہے کہ وہ احتیاط سے کام لیں اوراس کوسنجیدگی کے ساتھ اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

    ہدایتکار سید نور، پرویزکلیم، ندیم عباس لونے والا اوربہاربیگم نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کورونا سے شدید متاثرہوئے ہیں جبکہ ہمارے پاس توپہلے ہی وسائل کی بے پناہ کمی ہے۔ اس کے باوجود ہمارے ملک کے لوگ اس سے بچے ہیں تویہ اللہ تعالیٰ کی خاص کرم نوازی ہے۔ دوسری جانب ہمارے ملک کی اکثریت نے احتیاطی تدابیر کوبھی اپنایا تھا۔

    انہوںے نے کہا کہ ابھی ہمیں پھر سے احتیاط سے کام لینا ہے ماسک کے استعمال کویقینی بنانا ہے اور سینائٹائزر کے ساتھ صابن سے ہاتھ بھی دھونے ہیں۔ یہی تدابیر ہمیں اپنے فیملی ممبران کوبھی بتانی ہے حکومت کی جانب سے پہلے ہی بہت سا کام کیاجارہا ہے لیکن بطورزمہ دارشہری ہمیں بھی اپنے فرائض سمجھنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستانی نژاد برطانوی اوپیرا سنگر سائرہ پیٹر، سارہ رضاخان،شیبا بٹ اورنسیم وکی نے کہا کہ اگرہم بات کریں پاکستان کی تو یہاں بھی گزشتہ برسوں کی طرح مارچ میں بہت سی شوبز سرگرمیاں ترتیب دی گئی تھیں بلکہ پاکستانی گلوکار سازندے یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والے پروگراموں میں پرفارمنس کیلئے دنیا کے بیشترممالک میں جایا کرتے تھے لیکن سب کچھ ملتوی ہوگیا اورفنکاربرادری گھروں تک رہنے پرمجبورہوگئی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے لاک ڈاؤن کردیا گیا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ سختی سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کیلئے گھرپررہنے میں ہی فائدہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ خبر واقعی ہی پاکستانی فلم، سینما، میوزک، فیشن اور ایونٹ آرگنائزنگ انڈسٹری کیلئے بہت بری ثابت ہوئی تھی ملکی حالات کے پیش نظر پاکستانی گلوکاروں ، سازندوں اور اورگنائزرز کے لیے یہاں کام کرنا مشکل ہوچکا تھا اور ایسے میں اکثریت امریکا ، کینیڈا ، برطانیہ، یورپ اور مڈل ایسٹ سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی مارکیٹ میں منافع بخش کاروبار کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ اس سلسلہ میں ان کے ساتھ جہاں میوزیشنز، ساؤنڈ انجینئرز کی بڑی ٹیم کو بہتر روزگار ملتا تھا ، وہیں ارگنائزرز کی بڑی تعداد بھی اس مد میں منافع بخش کاروبار کرنے میں کامیاب رہتی تھی۔

    اسی طرح اگرہم پاکستانی فلم اورسینما انڈسٹری کی بات کریں تو کورونا وائرس سے جہاں فلموںکی شوٹنگز متاثر ہوگئیں، وہیں سینما گھروں سے وابستہ سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو کر رہ گئے، کیونکہ سینماگھروں سے وابستہ اکثریت دیہاڑی دار افراد پر مشتمل تھی، لیکن موجودہ صورتحال کے پیش نظر سینما منتظمین کی جانب سے انہیں فارغ کردیا گیا اوروہ شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوچکے ہیں۔

    اس صورتحال میں فنکاروں کو اپنی برادری کی سپورٹ کیلئے عملی طور پر اقدامات کرنا ہون گے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ اظہاریکجہتی کرنا ہوگا ہم اسی طرح سے اس قدرتی آفت کے اثرات سے بچ سکتے ہیں۔ حکومت تواس سلسلہ میں کچھ اقدام ضرور کرے گی لیکن ہمیں بھی ایک دوسرے کی مدد کیلئے آگے آنا ہوگا۔

    کرونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پشاور انتظامیہ کے سخت اقدام

    معروف قوال سکندرمیانداد خاں، ہدایتکار شہزاد رفیق، مایا خان اورمیگھا نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران کورونا وائرس نے دنیا کے دو سے زائد ممالک کواپنی لپیٹ میں لیا تھا اور اسی لیے ان ممالک میں ہونے والے یوم پاکستان کے خصوصی پروگراموں کے ساتھ ساتھ دیگر میوزک کنسرٹس بھی منسوخ ہوئے ، منسوخ ہونے والے کنسرٹس میں جہاں پاکستانی گلوکاروں کے پروگرام شامل ہیں ، وہیں بھارت سمیت مغربی ممالک کے معروف گلوکاروں کے پروگرام بھی منسوخ کیے گئے ۔ اس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، یورپ میں ہونے والے فلم ایوارڈز اور دیگر تقریبات کو بھی ملتوی کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ اس سلسلہ میں پاکستانی فنکاروں کو کروڑوں روپوں کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا اور دوسری جانب مغربی ممالک کے فنکاروں کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق احتیاط ہی کورونا وائرس کا واحد حل ہے کیونکہ یہ وائرس پھیلتا ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداددوبارہ سے بڑھ رہی ہے۔

    موجودہ صورتحال کے پیش جہاں دنیا کے بیشترممالک میں لوگوں کی سپورٹ کیلئے سپیشل پیکجز کا اعلان کیا گیا ہے اسی طرح پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ایک امدادی پیکج متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے اس پرتاحال کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔

    قیادت ہوتو ایسی ہو:ڈاکٹرز،حکومت،دنیاکرونا سے بچانےکی کوشش میں: پی ڈی ایم کرونا سے مارنے…

    خاص طور پرفنون لطیفہ کا شعبہ جوکورونا کی وجہ سے بے حد متاثر ہوا ہے اوراس سے وابستہ افراد کی اکثریت دیہاڑی دار ہے، تو اس بارے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ہماری دردمندانہ اپیل ہے کہ جس طرح عوام نے انہیں ووٹ دے کر کامیاب کروایا ہے اسی طرح فنون لطیفہ کی اکثریت نے بھی اپنے ووٹ دینے کے ساتھ ان کی جیت کیلئے بہت کام کیا ہے ویسے بھی وہ تبدیلی کا نعرہ لے کراقتدار میں آئے تھے –

    یہی وہ شعبہ ہے جس سے وابستہ افراد لوگوں کو انٹرٹین کرتے ہیں جس طرح پاکستانی عوام کوفلموں، ڈراموں، میوزک ، فیشن اورڈانس کے ذریعے تفریح کے بہترین مواقع فراہم کئے جاتے ہیں،ا سی طرح پاکستانی فنکاردنیا بھرمیں پرفارم کرتے ہوئے ملک کانام روشن کرتے ہیں۔ اس لئے مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی شوبز انڈسٹری کیلئے خاص ریلیف کااعلان کیا جائے۔ جہاں شوبز انڈسٹری کے دیہاڑی دارطبقے کی مالی امداد کی جائے، وہیں انہیں راشن بھی فراہم کیا جائے، کیونکہ اس وقت ماہانہ تو دورروزانہ کے راشن کی خریداری بھی پہنچ سے باہرہوچکی ہے-

    دوسری جانب سٹورز پر کھانے پینے کی اشیا ء کی قیمتیں معمول سے زیادہ ہوچکی ہیں۔ ایسے میں حکومت ہی ایک واحد سہارا ہے جوشوبز انڈسٹری سے وابستہ غریب اوردیہاڑی دار طبقے کوجانی اورمالی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ اس لئے ہماری وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ پاکستان شوبز انڈسٹری کا خاص خیال رکھیں تاکہ حالات صحیح ہوتے ہی اس شعبے سے وابستہ افراد اپنی صلاحیتوں سے لوگوں کوبہترین تفریح فراہم کرسکیں۔

    عوام نے ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو حکومت یہ کام بھی کرسکتی ہے ،ڈاکٹر یاسمین راشد نے وارننگ دے دی

  • 13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی

    13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی

    ہر سال کی طرح اس سال بھی آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام 13 ویں عالمی اُردو کانفرنس‘ 3 تا 6 دسمبر 2020 آرٹس کونسل کراچی میں منعقد ہوگی تاہم اس برس عالمی اردو کانفرنس ہر سال کی نسبت مختلف ہوگی کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث اسے محدود کردیا گیا جبکہ کانفرنس زیادہ تر ڈیجیٹل ہوگی۔

    باغی ٹی وی : کورونا کی وبا کے پیش نظر’تیرہویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد محدود کردیاگیا ہے کانفرنس زیادہ تر آن لائن ڈیجیٹل ہوگی بیرون ممالک مقیم ادیب وڈیولنک کے ذریعے اردو کانفرنس میں شریک ہوں گے۔

    صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے پریس کانفرنس میں تیرہویں عالمی اردو کانفرنس 3تا 6دسمبر تک جاری رہنے کا اعلان کیا انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث پوری دنیا کا ماحول تبدیل ہوچکا ہے ہم نہیں چاہتے کہ عوام کی صحت متاثر ہو اسی لیے سوچ بچار اور انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کانفرنس کا انعقاد کررہے ہیں۔

    صدر آرٹس کونسل کراچی نے کہا کہ کانفرنس میں پاکستان کی علاقائی زبانوں، سندھی، بلوچی، سرائیکی، پشتو اور پنجابی کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پروگرام میں بیاد آصف فرخی کے علاوہ ممتاز شخصیات کے ساتھ سیشن بھی ہوں گے جس میں انور مقصود اور ضیا محی الدین سمیت اردو ادب کی ممتاز شخصیات اور معروف صحافی شامل ہیں۔

    اردو کانفرنس میں کتابوں کی رونمائی، نوجوانوں کا مشاعرہ، اردو نظم، سو برس کا قصہ،اردو ناول کی ایک صدی، نعتیہ اور رثائی ادب کی ایک صدی، سرائیکی زبان اور ادب، تاریخی جائزہ، بلوچی ز بان و ادب کے 100 برس،پاکستان میں فنون کی صورتحال، ہمایوں سعید سے ملاقات،محفلِ موسیقی،اردو افسانے کی ایک صدی،اردو غزل کا 100سالہ منظر نامہ، یاد رفتگاں، پشتو زبان و ادب کے 100 برس، پنجابی زبان و ادب کے سو سال،ہماری تعلیم کے 100برس،کلیات جوش،اور پھر یوں ہوا (مظہر عباس)، اردو صحافت کے 100 برس،اردو کا شاہکار مزاح(ضیا محی الدین)، عالمی مشاعرہ، اردو تنقید و تحقیق کے 100 برس،اردو میں ایک صدی کا نثری ادب،یارک شائر ادبی فورم،بچوں کا ادب، سندھی زبان و ادب کے سو برس،ہمارے ادب اور سماج میں خواتین کا کردار، کہانی زندگی سے پہلے سہیل احمد سے ملاقات اور انور مقصود پر سیشن منعقد ہوں گے۔

    کانفرنس میں مسعود قمر ( سویڈن)، فرحت پروین (امریکا)، طاہرہ کاظمی (مسقط)، غزل انصاری (یوکے) جبکہ زہرا نگاہ، ریاض مجید، نذیر لغاری،شیما کرمانی، انیس ہارون، غازی صلاح الدین، وسعت اللہ خان، وسیم بادامی، مسلم شمیم، سید مظہرجمیل، امداد حسینی، نورالہدیٰ شاہ، حسن منظر کے علاوہ مشہور و معروف شخصیات شرکت کریں گی۔

    پریس کانفرنس میں سیکریٹری آرٹس کونسل اعجاز احمد فاروقی، خازن قدسیہ اکبر اور منور سعید کے ہمراہ اراکین گورننگ باڈی کی بڑی تعداد موجود تھی-

  • ترک اور پاکستانی  ڈرامہ و فلم ساز کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

    ترک اور پاکستانی ڈرامہ و فلم ساز کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

    پاکستان اور ترکی کی دو ڈراما و فلمساز پروڈکشن کمپنیوں کے درمیان مشترکہ طور پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا۔

    باغی ٹی وی : اداکار عدنان صدیقی نے پروڈیوسر کاشف انصاری کی ایک ویڈیو انسٹاگرام پر شیئر کی جس میں وہ ترکی کے شہر استبول میں وہاں کی پروڈکشن کمپنی تکدن فلمز کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) کمال تکدن کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے دکھائی دیئے۔

    مختصر دوانیے کی ویڈیو میں اس حوالے سے پروڈیوسر کاشف انصاری نے بتایا کہ پاکستان کے انصاری فلمز اور ترکی کے تکدن فلمز پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان مشترکہ منصوبے پر کام کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔

    ویڈیو میں کاشف انصاری کے علاوہ ترک پروڈکشن کمپنی کے سی ای او کمال تکدن نے بھی ترک زبان میں بتایا کہ دونوں ممالک کے پروڈکشن ہاؤسز کے درمیان مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا معاہدہ طے پاگیا۔

    ویڈیو میں انصاری فلمز کے کاشف انصاری نے بتایا کہ مذکورہ معاہدے اور منصوبے میں اور بھی شخصیات شامل ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اداکار عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید بھی مذکورہ مشترکہ منصوبے کا حصہ ہیں تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ دونوں اداکار کس طرح منصوبے کا حصہ ہیں اور ان کا کردار کیا ہوگا؟تاہم اس حوالے سے کچھ بھی تصدیق طور پر نہیں کہا جاسکتا۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں مذکورہ معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آجائیں گی۔

    خیال رہے کہ پاکستانی پروڈکشن ہاؤس نے ترکی کے جس پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کا معاہدہ کیا ہے اس پروڈکشن کمپنی نے معروف ترک ڈرامے ارطغرل غازی کو بھی بنایا ہے۔

    ترک اداکار جلال کے ہاں بچے کی پیدائش

    ارطغرل غازی نے پاکستان میں مقبولیت کا ایک اور ریکارڈ قائم کرلیا

  • کم معاوضہ ملنے پر سیمی راحیل کا پی ٹی وی پر برہمی کا اظہار

    کم معاوضہ ملنے پر سیمی راحیل کا پی ٹی وی پر برہمی کا اظہار

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئراداکارہ سیمی راحیل نے پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک پروگرام میں شرکت کا معاوضہ صرف 1400 روپے ادا کرنے پر شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے.

    باغی ٹی وی : سیمی راحیل نے یوم آزادی کی مناسبت سے پی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کی تھی جس میں ان کے ساتھ سلمان شاہد بھی تھے اور یہ پروگرام پی ٹی وی ورلڈ سے نشر ہوا تھا۔

    سیمی راحیل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر چیک کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ چیک اس چیز کا اعتراف ہے کہ ریاست اپنے فنکاروں کو کس قدر پیار کرتی ہے 4 دہائیوں کے بعد بھی یہ عمل کس قدر خوفناک ہے۔

    اسی سسلسلہ میں سیمی راحیل نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لوگ ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آپ پی ٹی وی پر کام کیوں نہیں کرتے؟ پی ٹی وی پرائیویٹ چینلزکے مقابلے کا دعویٰ تو کرتا ہے لیکن وہاں سینئر فنکاروں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے اس کا اندازہ یہ چیک دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی وی نے اچھا کیا مذاق ہے یہاں کسی فنکار کی کوئی عزت نہیں ہے۔یہ لوگ فنکاروں کو گاجرمولی کی طرح سمجھتے ہیں۔

    سیمی راحیل نے مزید کہا کہ جو ان کے من پسند لوگ ہوتے ہیں انہیں پیسے بھی ملتے ہیں اور ایوارڈ بھی ریما اور میرا کو تو لاکھوں روپے ملتے ہیں لیکن سینئر فنکاروں کے یہ سلوک ہورہا ہے۔