پنجاب پولیس کی جانب سے روجھان کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن مسلسل جاری ہے، جہاں مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق کچہ عمرانی، سکھانی اور اندھڑ گینگ کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون کے ذریعے گولہ باری بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اغواء، قتل اور ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں مطلوب مزید دو ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں ملزمان کے سروں کی قیمت 60،60 لاکھ روپے مقرر تھی۔
ضلعی پولیس افسر راجن پور کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی مجموعی تعداد 357 تک پہنچ چکی ہے، جو آپریشن کی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران اب تک ڈاکوؤں کے 41 ٹھکانوں اور بنکرز کو مکمل طور پر تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔
Category: سندھ

روجھان کے کچے میں پولیس آپریشن جاری، مزید 2 مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے

سندھ کے سرکاری کالجوں میں خواتین کی غیر اجازت شدہ فوٹوگرافی پر مکمل پابندی عائد
محکمۂ کالج ایجوکیشن سندھ نے خواتین اساتذہ، لیکچررز اور طالبات کی غیر مجاز فوٹو گرافی اور سوشل میڈیا پر تشہیر کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر کے کالجوں میں اس عمل پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن کے ڈائریکٹر پروفیسر قاضی ارشد حسین صدیقی کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا قابلِ تعزیر جرم تصور ہوگا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کالجوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات ناصرف قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سماجی اور مذہبی اقدار کے بھی منافی ہیں۔
تمام کالجوں میں بغیر اجازت فوٹوگرافی پر مکمل پابندی ہوگی اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمۂ کالج ایجوکیشن نے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور احکامات کی خلاف ورزی پر متعلقہ پرنسپل اور عملہ ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
سالانہ امتحانات کے بعد سندھ میں طلبہ سے مفت درسی کتب واپس لینے کا فیصلہ
سندھ کے محکمہ تعلیم نے سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ کو فراہم کی جانے والی مفت درسی کتب واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ترجمان صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق طلبہ کے رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا اندراج لازمی ہوگا، جبکہ جاری اور واپس ہونے والی تمام کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔
محکمہ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ جمع شدہ تمام کتابیں اسکول بُک بینک میں محفوظ کی جائیں تاکہ آئندہ تعلیمی سیشن میں دوبارہ استعمال ممکن ہو سکے۔
یہ احکامات پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک تمام طلبہ پر لاگو ہوں گے اور ہر سطح پر کتابوں کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ضلعی تعلیمی افسران کتابوں کے اسٹاک سے متعلق مکمل ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔
سندھ میں امتحانی فیس وصولی پر وزیر تعلیم کا نوٹس، بورڈز کو رقم لینے سے روکنے کی ہدایت
وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے صوبے کے بعض تعلیمی بورڈز کی جانب سے امتحانی فیس اور آئی ٹی چارجز کے نام پر رقم وصول کرنے کی شکایات پر نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق داخلے سے لے کر امتحانات تک تمام مراحل میں تعلیم مکمل طور پر مفت ہے، اس لیے کسی بھی طالب علم سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔
سردار علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی میٹرک اور انٹر کے طلبہ کی امتحانی فیس ادا کر رہی ہے، اس کے باوجود بعض بورڈز کی جانب سے اضافی چارجز کی شکایات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیس یا آئی ٹی چارجز کے نام پر رقم لینا سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
اس معاملے پر وزیر تعلیم نے سیکرٹری کالجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ سے رابطہ کریں اور تمام تعلیمی بورڈز کو واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ کسی بھی سطح پر طلبہ سے فیس وصول نہ کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان احکامات پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو طلبہ اور والدین پر مالی بوجھ کا سبب بنے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر کسی بورڈ نے ہدایات کے باوجود فیس وصول کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
سانگھڑ میں وڈیرے کے بیٹے کا 14 سالہ لڑکی پر مبینہ تشدد
سندھ کے ضلع سانگھڑ کے ایک گاؤں میں وڈیرے کے بیٹے نے 14 سالہ لڑکی پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملزم نے لڑکی کی زبان کاٹ دی، جبکہ ورثا نے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ڈی ایچ کیو اسپتال میں داخل کرانے سے بھی انکار کر دیا۔
ایس ایچ او اعظم بھنگور کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور اگر ورثا نے مقدمہ درج کیا تو قانونی کارروائی کے ذریعے ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ نے بتایا کہ ورثا لڑکی کو چھپا کر کہیں اور منتقل کر چکے ہیں، اور اگر انہوں نے مقدمہ درج نہ کیا تو ریاست خود مدعی بنے گی۔
سندھ میں میٹرک اور انٹر کےلئے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری
سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے لیے نمبر سسٹم ختم کرکے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا اطلاق مرحلہ وار پورے صوبے میں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو نے بتایا کہ یہ فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (آئی بی سی سی) کی وفاقی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے اور نیا نظام بین الاقوامی تعلیمی معیار سے ہم آہنگ ہوگا۔
ان کے مطابق گریڈنگ سسٹم کا آغاز 2026 میں نویں اور گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات سے ہوگا، جبکہ 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی اس نظام کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی نمبرز کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ گریڈز کی تقسیم اس طرح ہوگی:
A++ گریڈ: 96 سے 100 فیصد A+ گریڈ: 91 سے 95 فیصد A گریڈ: 86 سے 90 فیصد B++ گریڈ: 81 سے 85 فیصد B+ گریڈ: 76 سے 80 فیصد B گریڈ: 71 سے 75 فیصد C+ گریڈ: 61 سے 70 فیصد C گریڈ: 51 سے 60 فیصد D گریڈ: 40 سے 50 فیصد (ابھرتی کارکردگی) U گریڈ: 40 فیصد سے کم (ناکام تصور)
وزیر جامعات نے واضح کیا کہ پاس ہونے کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبرز لازمی ہوں گے، اور کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبرز حاصل کرنے والے طالب علم کو فیل قرار دیا جائے گا۔
اسماعیل راہو کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت پیدا کرنا ہے، جبکہ تمام بورڈز میں مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا۔
جسٹس جہانگیری جعلی ڈگری کیس: سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی فوری سماعت کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں جاری حکم امتناع کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ساکھ متاثر ہورہی ہے، لہذا درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔
عدالت نے 21 نومبر 2024 کو جسٹس عدنان کریم میمن کی جانب سے اس کیس کی سماعت سے معذرت کے بعد جاری کیا گیا اپنا 17 دسمبر 2024 کا انتظامی حکم واپس لے لیا۔ جسٹس عدنان کریم میمن نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کے کیسز ان کے سامنے پیش نہ کیے جائیں۔ اس حکم کے بعد یہ درخواست آئینی بینچ نمبر 2 کو منتقل کر دی گئی تھی۔
نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا
تاہم 15 ستمبر 2025 کو فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نہیں رہے اور اس عہدے پر طاہر نصر اللہ وڑائچ فائز ہیں،عدالت نے تمام درخواست گزاروں اور پاکستان بار کونسل کے نئے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کیے ہیں،چونکہ اس کیس میں ایک سال سے زائد عرصے سے حکم امتناع جاری ہے، اس لیے اسے آئینی بینچ نمبر 1 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،کیس کی آئندہ سماعت 25 ستمبر کو جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو ہوگی۔

بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان
سندھ حکومت نے بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 24 ستمبر بدھ کو صوبے کے 14 اضلاع میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔
بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 14 اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر اور ادارے بند رہیں گے ، جن اضلاع میں تعطیل ہو گی ان میں گھوٹکی، سکھر، خیرپور، میرپورخاص، عمرکوٹ اور مٹیاری شامل ہیں،اس کے علاوہ حیدر آباد، جامشورو، دادو، بدین ، ٹھٹھہ ، کراچی ویسٹ، کراچی ایسٹ اور کیماڑی اضلاع میں بھی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے14 اضلاع میں بلدیاتی ضمنی انتخابات کے لئے ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
سندھ کے مختلف اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے رینجرزکی خدمات طلب کر لی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع اور ضلع عمر کوٹ میں نہایت حساس پولنگ اسٹیشنزپر رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے خط میں درخواست کی ہے کہ کراچی میں ضلع شرقی، غربی، کیماڑی اور عمرکوٹ کے تمام نہایت حساس پولنگ اسٹیشنز پر سندھ رینجرز کو تعینات کیا جائے۔
جعلی ڈگری کیس:جمشید دستی کو 7 سال قید کی سزا

دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب
سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی میں کمی کا رجحان برقرار رہنے سے آمد 385055 کیوسک اور اخراج 356834 کیوسک ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 499850 کیوسک اور اخراج 446470 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 326942 کیوسک اور اخراج 306887 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،صوبائی حکومت دریائے سندھ کے بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف
ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے آج سے مون سون کا سیزن ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے، پانی کا لیول کم ہونے کی وجہ سے اب کافی اضلاع میں کشتیاں بھی آپریشنل نہیں ہے پنجاب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، ابھی پانی کا لیول کم ہو رہا ہے ، بند توڑنا نہیں پڑا ہے۔
پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری
ان کا کہنا تھا سیلاب کی صورتحال میں تمام اداروں نے مل کر کام کیا، پنجاب میں آج تک 28 اضلاع میں 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، سب سے زیادہ علی پور، ملتان اور جلال پور میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے،24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آیا، چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد متاثر ہو ئی ہے، محکمہ زراعت نے مویشیوں کو چارہ دینے میں بہت مدد کی اور لائیو اسٹاک کو بچایا، 425 میڈیکل کیمپس میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی، کل سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ایک ہلاکت ہوئی، اب تک پوری سیلابی صورتحال میں 123 افراد جاں بحق ہوئے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ
سندھ میں سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث کچے کا وسیع علاقہ ڈوب گیا ہے، گھروں میں پانی داخل ہونے کے ساتھ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔
سیلابی ریلا آنے کے بعد دیہاتیوں کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےکندھ کوٹ میں سیلابی پانی سے 80 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہےپنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اُترنا شروع ہو گیا ہے لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے لگے جبکہ متاثرین نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔
نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ منجٹھ کے قریب مزید زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی کا تیز بہاؤ سڑک بہا کرلے گیا ہے،پانی کے تیز بہاؤ سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔









