Baaghi TV

Category: سندھ

  • بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    بلدیاتی ضمنی انتخابات : سندھ کے 14 اضلاع میں بدھ کو عام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 24 ستمبر بدھ کو صوبے کے 14 اضلاع میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

    بلدیاتی ضمنی انتخابات کے موقع پر 14 اضلاع میں تمام سرکاری دفاتر اور ادارے بند رہیں گے ، جن اضلاع میں تعطیل ہو گی ان میں گھوٹکی، سکھر، خیرپور، میرپورخاص، عمرکوٹ اور مٹیاری شامل ہیں،اس کے علاوہ حیدر آباد، جامشورو، دادو، بدین ، ٹھٹھہ ، کراچی ویسٹ، کراچی ایسٹ اور کیماڑی اضلاع میں بھی عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے14 اضلاع میں بلدیاتی ضمنی انتخابات کے لئے ووٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

    سندھ کے مختلف اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کے لیے رینجرزکی خدمات طلب کر لی گئی ہیں، الیکشن کمیشن نے کراچی ڈویژن کے 3 اضلاع اور ضلع عمر کوٹ میں نہایت حساس پولنگ اسٹیشنزپر رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاقی وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے، الیکشن کمیشن نے خط میں درخواست کی ہے کہ کراچی میں ضلع شرقی، غربی، کیماڑی اور عمرکوٹ کے تمام نہایت حساس پولنگ اسٹیشنز پر سندھ رینجرز کو تعینات کیا جائے۔

    جعلی ڈگری کیس:جمشید دستی کو 7 سال قید کی سزا

    سونا مہنگا، قیمت بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    توشہ خانہ ٹو کیس : آخری 2 گواہان کے بیانات ریکارڈ

  • دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب

    سندھ رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے۔

    تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق گڈو بیراج پر پانی میں کمی کا رجحان برقرار رہنے سے آمد 385055 کیوسک اور اخراج 356834 کیوسک ہےسکھر بیراج پر پانی کی آمد 499850 کیوسک اور اخراج 446470 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 326942 کیوسک اور اخراج 306887 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے،صوبائی حکومت دریائے سندھ کے بیراجوں پر پانی کی آمد و اخراج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

    پاک-سعودیہ معاہدہ ایک چھتری ہے،خواجہ آصف

    ڈائریکٹر جنرل پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے آج سے مون سون کا سیزن ختم ہو گیا ہے اور آئندہ ہفتے بارش کا کوئی امکان نہیں ہے مون سون سیزن ختم ہونے کے بعد سیلاب زدہ علاقوں سے پانی نکلنا شروع ہو گیا ہے، پانی کا لیول کم ہونے کی وجہ سے اب کافی اضلاع میں کشتیاں بھی آپریشنل نہیں ہے پنجاب میں مرالہ سے لے کر پنجند تک پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، ابھی پانی کا لیول کم ہو رہا ہے ، بند توڑنا نہیں پڑا ہے۔

    پاک سعودی عرب تعلقات کا ایک نیاموڑ .تحریر:شاہد نسیم چوہدری

    ان کا کہنا تھا سیلاب کی صورتحال میں تمام اداروں نے مل کر کام کیا، پنجاب میں آج تک 28 اضلاع میں 4 ہزار 755 دیہات متاثر ہوئے، سب سے زیادہ علی پور، ملتان اور جلال پور میں لوگ سیلاب سے متاثر ہوئے،24 لاکھ 82 ہزار ایکڑ زرعی رقبہ زیر آب آیا، چاول کی فصل 15 فیصد اور گنے کی فصل 22 فیصد متاثر ہو ئی ہے، محکمہ زراعت نے مویشیوں کو چارہ دینے میں بہت مدد کی اور لائیو اسٹاک کو بچایا، 425 میڈیکل کیمپس میں متاثرین کو طبی امداد فراہم کی گئی، کل سانپ کے کاٹنے کی وجہ سے ایک ہلاکت ہوئی، اب تک پوری سیلابی صورتحال میں 123 افراد جاں بحق ہوئے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز کا چیف جسٹس کے اختیارات اور اقدامات کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب،گھروں میں پانی داخل،فصلیں تباہ

    سندھ میں سکھر بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث کچے کا وسیع علاقہ ڈوب گیا ہے، گھروں میں پانی داخل ہونے کے ساتھ فصلیں تباہ ہوگئی ہیں۔

    سیلابی ریلا آنے کے بعد دیہاتیوں کی کشتیوں کے ذریعے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہےکندھ کوٹ میں سیلابی پانی سے 80 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں آگئے ہیں قادر پور گیس فیلڈ سے گیس کی فراہمی معطل ہوگئی ہےپنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے پانی اُترنا شروع ہو گیا ہے لوگ واپس اپنے گھروں کو جانے لگے جبکہ متاثرین نقصانات کے ازالے کے لیے حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔

    نوشہرو فیروز میں دریائے سندھ میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال ہے۔ منجٹھ کے قریب مزید زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ہے جس کے باعث پانی کا تیز بہاؤ سڑک بہا کرلے گیا ہے،پانی کے تیز بہاؤ سے فصلیں تباہ ہوگئیں جبکہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔

  • کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کردیں۔

    ملزم ارمغان کا ریمانڈ نا دینے والے اے ٹی سی کورٹ نمبر ایک کے جج ذاکر حسین کو انسداد منشیات کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔ کراچی کی 6 انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتیں کافی عرصے سے خالی پڑی تھیں جس میں سے 5 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو انسداد منشیات میں تبدیل کردیا گیا۔

    کراچی کی 3 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو شہید بے نظیر آباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ منتقل کرنے جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں موجود خصوصی عدالتوں کو منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کیا گیا ہے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ دیا۔

    سندھ ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی کراچی کی 12 خصوصی عدالتوں کو ازسرنو منظم کردیاقائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وقتی طور پر انسداد دہشتگردی عدالتیں منظم کرنے اور منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کرنے کی اجازت دیدی ہے حتمی نوٹیفیکیشن محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔

  • کوٹری، گڈو  اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    پنجاب کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوب گیا، آبی ریلے اب تیزی سے سندھ کے مختلف علاقوں میں داخل ہورہے ہیں، کوٹری بیراج، گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، کچے کے متعدد دیہات سیلاب میں ڈوب گئے ہیں-

    سندھ میں بڑے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، سکھر بیراج میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، کچے کے مختلف علاقے تالاب میں تبدیل ہو رہے ہیں، کوٹری بیراج کے مقام پر بھی دریائے سندھ بپھر رہا ہے، مانجھند، علی آباد سمیت مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں، تیار فصلیں پانی میں ڈوبنے سے لوگوں کے دل بھی ڈوب گئے،مانجھند کے قریب سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

    کشمور میں گڈو بیراج پر دریائے سندھ سے آنے والا ریلا حفاظتی بندوں سے ٹکراگیا، گھوٹکی کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے، قادر پور شینک بند کے بعد سیلاب رونتی بچاؤ بند سے بھی ٹکرانے لگا ہے، علاقہ مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن روانہ، دو ہفتے قیام متوقع

    سیہون میں سیلابی ریلے میں متعدد مکانات، فصلیں اور باڑے بھی بہہ گئے، بھینیسں، گائے اور دیگر مویشی پانی میں رہنے پر مجبور ہیں، علاقہ مکین بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی سے گزر کر محفوظ مقامات پر جارہے ہیں، اسکول کے بچے کشتیوں کا کرایہ ادا کرکے اسکول جانے پر مجبور ہیں،ٹھٹھہ میں دریائے سندھ میں طغیانی سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے، بچے بڑے سب اپنے مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے آگئے ہیں، کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے باعث سندھ کے بیراجوں میں بھی سطح بلند ہو رہی ہے۔

    محکمہ اطلاعات سندھ نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے،تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، اس وقت پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 68ہزار195 کیوسک ریکارڈ کی گئی تریموں پر اس وقت پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 78ہزار932 کیوسک ہے۔

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر ابھی پانی کی آمد 5لاکھ 2ہزار861 کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ اخراج 4لاکھ 75ہزار970 کیوسک ہے،سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4لاکھ 40ہزار985 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 12ہزار735 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ کوٹری بیراج پر آمد 2لاکھ 57ہزار754 کیوسک اور اخراج 2لاکھ 54ہزار354 کیوسک ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    وزارتِ آبی وسائل کے مطابق تربیلا ڈیم 27 اگست سے 100 فیصد بھرا ہوا ہے، تربیلا ڈیم کا موجودہ لیول 1550 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم 92 فیصد سے زیادہ بھرا ہوا ہے، جس کا موجودہ لیول 1234.60 فٹ ہےفیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق اگلے 12 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب، سکھر بیراج پر درمیانے درجے کے سیلاب اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔

    دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور دریائے چناب میں پنجند بیراج پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ہےدریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہت اونچے درجے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس اور اسلام ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

  • سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے، وزرا متحرک اور فعال ہیں۔

    سندھ میں متوقع سیلابی صورتحال کے بارے میں فلڈ مانیٹرنگ سیل کے دورے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ کمشنر، وزیر آب پاشی اور سیکرٹری سے اپ ڈیٹ لی ہے،تین بجے کی صورتحال کے مطابق پنجند بیراج پر 6 لاکھ کیوسک پانی آیا ہے، جام خان شورو اس وقت وہاں موجود ہیں، ان کو کہا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں 7 لاکھ کیوسک تک جاسکتا ہے، پنجند کے میژر میں کمی آئی ہے جو بائیس میل دور واقع ہے، کم ہونے کے بعد پنجند میں پانی کا بہاؤ تیز ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تونسہ سے 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، دونوں مقامات کو دیکھتے ہوئے 8 لاکھ کیوسک کی تیاری کررہے ہیں، سیلابی ریلے کی آمد میں تاخیر ہوئی، 9 ستمبر کو گدو بیراج پر پیک متوقع ہے،ہم 8 لاکھ کیوسک پانی کی تیاری کررہے ہیں، ہر ایک گاؤں سے آبادی کا انخلا کیا جارہا ہے، آبادی نے از خود انخلاء کیا ہے لیکن حکومت انہیں آگاہ کررہی ہے، 48 گھنٹوں میں لوگوں کو نکالا جائے گا، متاثرہ آبادی میں گزشتہ سیلاب کے لحاظ سے اونچے گھر تعمیر کیے ہیں، کمشنرز نے انخلاء کے لیے تمام سہولتیں تیار کرلی ہیں۔

    سامعہ حجاب کیس:ملزم حسن زاہد کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دن کی توسیع

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلیف کیمپس، ہیلتھ کی سہولت کے مراکز، مویشیوں کے لیے باڑوں کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے، گدو بیراج سے اوپر کوہ سلیمان کے علاقوں میں کوئی بڑی بارشوں کا امکان نہیں، تھر پارکر، ٹھٹھہ، حیدرآباد، جامشورو اور دادو میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے وزراء متحرک اور فعال ہیں،ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، جام دھاریجو، محمد علی ملکانی، ریاض شاہ سمیت صوبائی اسمبلی کے نمائندے بھی اپنے علاقوں میں موجود ہیں۔

    غزہ کی شہید بچی پرمبنی فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیت لیا

  • ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    دریائے ستلج اور فیروزپور بیراج کے قریب بھارتی وارننگ پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 8 سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی ہے،وزارتِ آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ7 ستمبر2025 صبح 8 بجے دریائے ستلج کے علاقے ہریکے اور فیروزپور کے نیچے حصوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    مشترکہ کمشنر برائے سندھ طاس، محمد خورشید اصغر نے ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاع باقاعدہ منظوری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے،مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)، فوجی اور کور انجینئرز کے اداروں، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھیجی گئی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے اچانک اخراج کے باعث پاکستان کے نشیبی علاقے خصوصاً پنجاب اور جنوبی حصے متاثر ہوسکتے ہیں،متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔

    محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 8 ستمبر سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کر دی ہےمراسلے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بھاری سے انتہائی بھاری بارشیں اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارشیں متوقع ہیں،سب سے زیادہ بارشوں کا امکان سکھر، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بہاولپور ڈویژن میں ہے۔

    اسی طرح بالائی دریائی علاقے بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی شدید بارشیں برسنے کا خدشہ ہےدریاؤں کی صورتحال کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جو آئندہ دنوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے.

    جبکہ دریائے راوی بلکیسر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب اور سدھنائی و جسر کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہےدریائے پنجند میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،اسی طرح ڈی جی خان، راجن پور، کوہِ سلیمان اور مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کے امکانات ہیں۔

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ایک مضبوط سسٹم بھارت کے علاقے راجستھان سے پاکستان میں داخل ہوا ہے جس نے بارشوں کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران وسطی اور بالائی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے جس کے باعث سندھ کے کچے کے علاقے زیرِ آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچنے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب جاری ہےسیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں پر کام جاری ہے،صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کے مطابق سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    ادھر پنجاب کے مختلف اضلاع بھی شدید متاثر ہیں۔ ملتان میں شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کا دباؤ برقرار ہے جبکہ جھنگ میں دریائے چناب پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 88 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جس سے کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں،دریائے راوی میں مائی صفوراں کے مقام سے نکلنے والے ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات ڈبو دیے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے بہاولنگر میں سیلاب نے 143 دیہات متاثر کیے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

  • سندھ میں آٹے کا بدترین بحران، عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترس گئے

    سندھ میں آٹے کا بدترین بحران، عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترس گئے

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سندھ بھر میں آٹے کا بدترین بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ مارکیٹوں میں آٹے کی شدید قلت کے باعث شہری دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور فی من آٹا 5000 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس ہوشربا مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ حکومت اور انتظامیہ کی خاموشی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف آٹے کی قلت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کے مطابق دو وقت کی روٹی کا حصول بھی اب ایک خواب بن چکا ہے۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس سنگین بحران کا ذمہ دار کون ہے اور کب تک وہ اپنی بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے؟

    ماہرین اور شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔