اوباڑو: لانھگو روڈ پر دن دہاڑے فائرنگ، نوجوان والدہ کے سامنے قتل، علاقے میں خوف و ہراس
گہوٹکی با غی ٹی وی/ نامہ نگار مشتاق علی لغاری
اوباڑو کے نواحی علاقے لانھگو روڈ پر پیش آنے والے دلخراش واقعے نے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک نوجوان کو اس کی والدہ کے سامنے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید بے چینی پھیل گئی جبکہ مقتول کے گھر میں کہرام مچ گیا۔تفصیلات کے مطابق نوجوان اپنی والدہ کے ہمراہ لانھگو روڈ کے قریب موجود تھا کہ اسی دوران مسلح افراد نے انہیں روک کر فائرنگ شروع کردی۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے انتہائی قریب سے متعدد گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں نوجوان شدید زخمی ہوکر موقع پر ہی دم توڑ گیا، جبکہ والدہ چیخ و پکار کرتی رہ گئی۔ افسوسناک منظر دیکھ کر علاقے کے لوگ بھی غمزدہ ہوگئے۔اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے گئے۔ مقتول کی لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے بعد اسپتال منتقل کردیا گیا، جہاں شناخت سوالی مزاری کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق مقتول کا تعلق روجھان سے بتایا جارہا ہے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں واقعہ دیرینہ دشمنی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد مقتول کے ورثا کی جانب سے انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ دن دہاڑے پیش آنے والے اس واقعے نے امن و امان کی صورتحال پر کئی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے تاکہ علاقے میں خوف کی فضا ختم ہوسکے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی واقعے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے اصل حقائق سامنے لائے جائیں گے۔
Category: سندھ
-

کندھ کوٹ سول ہسپتال میں بدترین کرپشن: سرکاری ادویات کی چوری، مریضوں کی جانوں کو خطرہ
کشمور (بیورو چیف) – کندھ کوٹ کے سول ہسپتال میں سرکاری ادویات کی بدترین چوری اور کرپشن مافیا کے بے لگام اقدامات سے غریب مریض خطرے میں ہیں۔ علاقہ مکینوں کے مطابق ہسپتال اب علاج گاہ نہیں بلکہ ظلم و ناانصافی کا مرکز بن چکا ہے، جہاں نہ ڈاکٹرز کی کوئی پرواہ ہے اور نہ ہی مریضوں کی جان کی کوئی قیمت۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سرکاری ادویات کی مبینہ طور پر نجی اسٹورز پر فروخت میں ملوث ہیں، جبکہ ڈی ایچ او اور آفس سپرنٹنڈنٹ کی سرپرستی کے بغیر یہ کرپشن ممکن نہیں۔
گمشدہ اور مبینہ طور پر بازار میں فروخت ہونے والی ادویات میں شامل ہیں:
سیفٹریاکسون،میروپینم،وینکومائسن،انسولین،اینوکساپیرن،اومیپرازول،پیراسیٹامول انفیوژن،ہماکسل،انسولین 70/30،اسپیرٹ،پائیوڈین،وٹامن ڈی انجیکشن،پیناڈول سیرپ،سیفٹو انجیکشن.شہریوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر صحت، ڈپٹی کمشنر کشمور اور متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ڈی ایچ او، آفس سپرنٹنڈنٹ، تعلقہ اسٹور انچارج جی ایم سومرو اور ضلع اسٹور انچارج توحید سومرو سمیت تمام ملوث افراد کو گرفتار کر کے سخت سزا دی جا سکے اور ہسپتال کو لٹیروں کے قبضے سے آزاد کرایا جا سکے۔ -

روجھان کے کچے میں پولیس آپریشن جاری، مزید 2 مطلوب ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے
پنجاب پولیس کی جانب سے روجھان کے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن مسلسل جاری ہے، جہاں مختلف جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق کچہ عمرانی، سکھانی اور اندھڑ گینگ کے خلاف مشترکہ آپریشن کیا جا رہا ہے۔ کارروائی کے دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کیلئے ڈرون کے ذریعے گولہ باری بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اغواء، قتل اور ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں مطلوب مزید دو ڈاکوؤں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں ملزمان کے سروں کی قیمت 60،60 لاکھ روپے مقرر تھی۔
ضلعی پولیس افسر راجن پور کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران سرینڈر کرنے والے ڈاکوؤں کی مجموعی تعداد 357 تک پہنچ چکی ہے، جو آپریشن کی اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائیوں کے دوران اب تک ڈاکوؤں کے 41 ٹھکانوں اور بنکرز کو مکمل طور پر تباہ کیا جا چکا ہے، جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔ -

سندھ کے سرکاری کالجوں میں خواتین کی غیر اجازت شدہ فوٹوگرافی پر مکمل پابندی عائد
محکمۂ کالج ایجوکیشن سندھ نے خواتین اساتذہ، لیکچررز اور طالبات کی غیر مجاز فوٹو گرافی اور سوشل میڈیا پر تشہیر کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے صوبے بھر کے کالجوں میں اس عمل پر مکمل پابندی عائد کر دی۔
ڈائریکٹوریٹ آف کالج ایجوکیشن کراچی ریجن کے ڈائریکٹر پروفیسر قاضی ارشد حسین صدیقی کی جانب سے جاری ہدایت کے مطابق فیس بک، واٹس ایپ اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا قابلِ تعزیر جرم تصور ہوگا۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ خواتین کالجوں میں پیش آنے والے ایسے واقعات ناصرف قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ سماجی اور مذہبی اقدار کے بھی منافی ہیں۔
تمام کالجوں میں بغیر اجازت فوٹوگرافی پر مکمل پابندی ہوگی اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمۂ کالج ایجوکیشن نے پرنسپلز کو ہدایت کی ہے کہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور احکامات کی خلاف ورزی پر متعلقہ پرنسپل اور عملہ ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ -

سالانہ امتحانات کے بعد سندھ میں طلبہ سے مفت درسی کتب واپس لینے کا فیصلہ
سندھ کے محکمہ تعلیم نے سالانہ امتحانات کے بعد طلبہ کو فراہم کی جانے والی مفت درسی کتب واپس لینے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ترجمان صوبائی محکمہ تعلیم کے مطابق طلبہ کے رزلٹ کارڈ پر درسی کتب کی واپسی کا اندراج لازمی ہوگا، جبکہ جاری اور واپس ہونے والی تمام کتابوں کا باقاعدہ ریکارڈ بھی رکھا جائے گا۔
محکمہ تعلیم نے ہدایت کی ہے کہ جمع شدہ تمام کتابیں اسکول بُک بینک میں محفوظ کی جائیں تاکہ آئندہ تعلیمی سیشن میں دوبارہ استعمال ممکن ہو سکے۔
یہ احکامات پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک تمام طلبہ پر لاگو ہوں گے اور ہر سطح پر کتابوں کی واپسی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق ضلعی تعلیمی افسران کتابوں کے اسٹاک سے متعلق مکمل ریکارڈ ریجنل ڈائریکٹرز کو جمع کرانے کے پابند ہوں گے۔ -

سندھ میں امتحانی فیس وصولی پر وزیر تعلیم کا نوٹس، بورڈز کو رقم لینے سے روکنے کی ہدایت
وزیر تعلیم سندھ سردار علی شاہ نے صوبے کے بعض تعلیمی بورڈز کی جانب سے امتحانی فیس اور آئی ٹی چارجز کے نام پر رقم وصول کرنے کی شکایات پر نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں تعلیم ایک بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت کی پالیسی کے مطابق داخلے سے لے کر امتحانات تک تمام مراحل میں تعلیم مکمل طور پر مفت ہے، اس لیے کسی بھی طالب علم سے کسی بھی قسم کی فیس وصول نہیں کی جا سکتی۔
سردار علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پہلے ہی میٹرک اور انٹر کے طلبہ کی امتحانی فیس ادا کر رہی ہے، اس کے باوجود بعض بورڈز کی جانب سے اضافی چارجز کی شکایات تشویشناک ہیں۔ انہوں نے اس عمل کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیس یا آئی ٹی چارجز کے نام پر رقم لینا سرکاری پالیسی کی خلاف ورزی ہے۔
اس معاملے پر وزیر تعلیم نے سیکرٹری کالجز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوری طور پر سیکرٹری یونیورسٹیز اینڈ بورڈ سے رابطہ کریں اور تمام تعلیمی بورڈز کو واضح احکامات جاری کیے جائیں کہ کسی بھی سطح پر طلبہ سے فیس وصول نہ کی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان احکامات پر ہر صورت عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو طلبہ اور والدین پر مالی بوجھ کا سبب بنے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر کسی بورڈ نے ہدایات کے باوجود فیس وصول کی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ -

سانگھڑ میں وڈیرے کے بیٹے کا 14 سالہ لڑکی پر مبینہ تشدد
سندھ کے ضلع سانگھڑ کے ایک گاؤں میں وڈیرے کے بیٹے نے 14 سالہ لڑکی پر مبینہ طور پر تشدد کیا۔ اطلاعات کے مطابق، ملزم نے لڑکی کی زبان کاٹ دی، جبکہ ورثا نے ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے ڈی ایچ کیو اسپتال میں داخل کرانے سے بھی انکار کر دیا۔
ایس ایچ او اعظم بھنگور کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور اگر ورثا نے مقدمہ درج کیا تو قانونی کارروائی کے ذریعے ملزمان کو کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایس ایس پی سانگھڑ عابد بلوچ نے بتایا کہ ورثا لڑکی کو چھپا کر کہیں اور منتقل کر چکے ہیں، اور اگر انہوں نے مقدمہ درج نہ کیا تو ریاست خود مدعی بنے گی۔ -

سندھ میں میٹرک اور انٹر کےلئے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کی منظوری
سندھ حکومت نے صوبے کے تمام تعلیمی بورڈز میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے لیے نمبر سسٹم ختم کرکے گریڈنگ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا اطلاق مرحلہ وار پورے صوبے میں کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے۔ وزیر جامعات سندھ اسماعیل راہو نے بتایا کہ یہ فیصلہ انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (آئی بی سی سی) کی وفاقی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے اور نیا نظام بین الاقوامی تعلیمی معیار سے ہم آہنگ ہوگا۔
ان کے مطابق گریڈنگ سسٹم کا آغاز 2026 میں نویں اور گیارہویں جماعت کے سالانہ امتحانات سے ہوگا، جبکہ 2027 میں دہم اور بارہویں جماعت کے امتحانات میں بھی اس نظام کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
نئے نظام کے تحت طلبہ کی کارکردگی نمبرز کے بجائے گریڈز کی صورت میں ظاہر کی جائے گی۔ گریڈز کی تقسیم اس طرح ہوگی:
A++ گریڈ: 96 سے 100 فیصد A+ گریڈ: 91 سے 95 فیصد A گریڈ: 86 سے 90 فیصد B++ گریڈ: 81 سے 85 فیصد B+ گریڈ: 76 سے 80 فیصد B گریڈ: 71 سے 75 فیصد C+ گریڈ: 61 سے 70 فیصد C گریڈ: 51 سے 60 فیصد D گریڈ: 40 سے 50 فیصد (ابھرتی کارکردگی) U گریڈ: 40 فیصد سے کم (ناکام تصور)
وزیر جامعات نے واضح کیا کہ پاس ہونے کے لیے کم از کم 40 فیصد نمبرز لازمی ہوں گے، اور کسی بھی پرچے میں 40 فیصد سے کم نمبرز حاصل کرنے والے طالب علم کو فیل قرار دیا جائے گا۔
اسماعیل راہو کے مطابق نئے گریڈنگ سسٹم کا مقصد ملک بھر کے تعلیمی بورڈز میں یکسانیت پیدا کرنا ہے، جبکہ تمام بورڈز میں مکمل نفاذ کے بعد مستقبل میں جی پی اے سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا جائے گا۔ -

جسٹس جہانگیری جعلی ڈگری کیس: سندھ ہائیکورٹ نے حکم نامہ جاری کردیا
سندھ ہائیکورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی فوری سماعت کی درخواست پر تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔
بدھ کے روز کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اس کیس میں جاری حکم امتناع کی وجہ سے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کی ساکھ متاثر ہورہی ہے، لہذا درخواست کی فوری سماعت کی جائے۔
عدالت نے 21 نومبر 2024 کو جسٹس عدنان کریم میمن کی جانب سے اس کیس کی سماعت سے معذرت کے بعد جاری کیا گیا اپنا 17 دسمبر 2024 کا انتظامی حکم واپس لے لیا۔ جسٹس عدنان کریم میمن نے پہلے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ ایڈووکیٹ فاروق ایچ نائیک کے کیسز ان کے سامنے پیش نہ کیے جائیں۔ اس حکم کے بعد یہ درخواست آئینی بینچ نمبر 2 کو منتقل کر دی گئی تھی۔
نئی دہلی: طیارے کے لینڈنگ گیئر میں سوار افغان کمسن کو واپس بھیج دیا گیا
تاہم 15 ستمبر 2025 کو فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ وہ اب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نہیں رہے اور اس عہدے پر طاہر نصر اللہ وڑائچ فائز ہیں،عدالت نے تمام درخواست گزاروں اور پاکستان بار کونسل کے نئے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کیے ہیں،چونکہ اس کیس میں ایک سال سے زائد عرصے سے حکم امتناع جاری ہے، اس لیے اسے آئینی بینچ نمبر 1 میں سماعت کے لیے مقرر کیا جائے،کیس کی آئندہ سماعت 25 ستمبر کو جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں آئینی بینچ کے روبرو ہوگی۔

