Baaghi TV

Category: سندھ

  • کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل

    سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کی 8 انسداد دہشتگردی کی عدالتیں منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کردیں۔

    ملزم ارمغان کا ریمانڈ نا دینے والے اے ٹی سی کورٹ نمبر ایک کے جج ذاکر حسین کو انسداد منشیات کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔ کراچی کی 6 انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالتیں کافی عرصے سے خالی پڑی تھیں جس میں سے 5 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو انسداد منشیات میں تبدیل کردیا گیا۔

    کراچی کی 3 انسداد دہشتگردی کی عدالتوں کو شہید بے نظیر آباد، میرپورخاص اور لاڑکانہ منتقل کرنے جبکہ حیدرآباد اور سکھر میں موجود خصوصی عدالتوں کو منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کیا گیا ہے رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ نے سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ دیا۔

    سندھ ہائیکورٹ نے انسداد دہشتگردی کراچی کی 12 خصوصی عدالتوں کو ازسرنو منظم کردیاقائم مقام چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وقتی طور پر انسداد دہشتگردی عدالتیں منظم کرنے اور منشیات کی عدالتوں میں تبدیل کرنے کی اجازت دیدی ہے حتمی نوٹیفیکیشن محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔

  • کوٹری، گڈو  اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    کوٹری، گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کے دباؤ میں اضافہ،کچے کے متعدد دیہات زیر آب

    پنجاب کا بڑا حصہ سیلاب میں ڈوب گیا، آبی ریلے اب تیزی سے سندھ کے مختلف علاقوں میں داخل ہورہے ہیں، کوٹری بیراج، گڈو بیراج اور سکھر بیراج پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے، کچے کے متعدد دیہات سیلاب میں ڈوب گئے ہیں-

    سندھ میں بڑے سیلاب کا خطرہ برقرار ہے، سکھر بیراج میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے، کچے کے مختلف علاقے تالاب میں تبدیل ہو رہے ہیں، کوٹری بیراج کے مقام پر بھی دریائے سندھ بپھر رہا ہے، مانجھند، علی آباد سمیت مختلف علاقے زیر آب آگئے ہیں، تیار فصلیں پانی میں ڈوبنے سے لوگوں کے دل بھی ڈوب گئے،مانجھند کے قریب سیلابی پانی میں نہاتے ہوئے نوجوان ڈوب کر جاں بحق ہوگیا۔

    کشمور میں گڈو بیراج پر دریائے سندھ سے آنے والا ریلا حفاظتی بندوں سے ٹکراگیا، گھوٹکی کے کئی علاقوں میں سیلابی صورتحال ہے، قادر پور شینک بند کے بعد سیلاب رونتی بچاؤ بند سے بھی ٹکرانے لگا ہے، علاقہ مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے۔

    سابق وزیراعظم نواز شریف لندن روانہ، دو ہفتے قیام متوقع

    سیہون میں سیلابی ریلے میں متعدد مکانات، فصلیں اور باڑے بھی بہہ گئے، بھینیسں، گائے اور دیگر مویشی پانی میں رہنے پر مجبور ہیں، علاقہ مکین بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی سے گزر کر محفوظ مقامات پر جارہے ہیں، اسکول کے بچے کشتیوں کا کرایہ ادا کرکے اسکول جانے پر مجبور ہیں،ٹھٹھہ میں دریائے سندھ میں طغیانی سے بڑا علاقہ زیر آب آگیا ہے، بچے بڑے سب اپنے مال مویشی کے ساتھ کھلے آسمان تلے آگئے ہیں، کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔

    موساد قطر میں اسرائیلی حملے کی مخالف تھی، امریکی اخبار

  • گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے باعث سندھ کے بیراجوں میں بھی سطح بلند ہو رہی ہے۔

    محکمہ اطلاعات سندھ نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے،تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، اس وقت پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 68ہزار195 کیوسک ریکارڈ کی گئی تریموں پر اس وقت پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 78ہزار932 کیوسک ہے۔

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر ابھی پانی کی آمد 5لاکھ 2ہزار861 کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ اخراج 4لاکھ 75ہزار970 کیوسک ہے،سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4لاکھ 40ہزار985 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 12ہزار735 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ کوٹری بیراج پر آمد 2لاکھ 57ہزار754 کیوسک اور اخراج 2لاکھ 54ہزار354 کیوسک ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    وزارتِ آبی وسائل کے مطابق تربیلا ڈیم 27 اگست سے 100 فیصد بھرا ہوا ہے، تربیلا ڈیم کا موجودہ لیول 1550 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم 92 فیصد سے زیادہ بھرا ہوا ہے، جس کا موجودہ لیول 1234.60 فٹ ہےفیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق اگلے 12 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب، سکھر بیراج پر درمیانے درجے کے سیلاب اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔

    دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور دریائے چناب میں پنجند بیراج پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ہےدریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہت اونچے درجے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس اور اسلام ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

  • سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، مراد علی شاہ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،سیلاب کے علاوہ بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے، وزرا متحرک اور فعال ہیں۔

    سندھ میں متوقع سیلابی صورتحال کے بارے میں فلڈ مانیٹرنگ سیل کے دورے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سکھر، لاڑکانہ کمشنر، وزیر آب پاشی اور سیکرٹری سے اپ ڈیٹ لی ہے،تین بجے کی صورتحال کے مطابق پنجند بیراج پر 6 لاکھ کیوسک پانی آیا ہے، جام خان شورو اس وقت وہاں موجود ہیں، ان کو کہا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں 7 لاکھ کیوسک تک جاسکتا ہے، پنجند کے میژر میں کمی آئی ہے جو بائیس میل دور واقع ہے، کم ہونے کے بعد پنجند میں پانی کا بہاؤ تیز ہوا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ تونسہ سے 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک پانی آرہا ہے، دونوں مقامات کو دیکھتے ہوئے 8 لاکھ کیوسک کی تیاری کررہے ہیں، سیلابی ریلے کی آمد میں تاخیر ہوئی، 9 ستمبر کو گدو بیراج پر پیک متوقع ہے،ہم 8 لاکھ کیوسک پانی کی تیاری کررہے ہیں، ہر ایک گاؤں سے آبادی کا انخلا کیا جارہا ہے، آبادی نے از خود انخلاء کیا ہے لیکن حکومت انہیں آگاہ کررہی ہے، 48 گھنٹوں میں لوگوں کو نکالا جائے گا، متاثرہ آبادی میں گزشتہ سیلاب کے لحاظ سے اونچے گھر تعمیر کیے ہیں، کمشنرز نے انخلاء کے لیے تمام سہولتیں تیار کرلی ہیں۔

    سامعہ حجاب کیس:ملزم حسن زاہد کے جسمانی ریمانڈ میں 3 دن کی توسیع

    مراد علی شاہ نے کہا کہ ریلیف کیمپس، ہیلتھ کی سہولت کے مراکز، مویشیوں کے لیے باڑوں کی جیو ٹیگنگ کی گئی ہے، گدو بیراج سے اوپر کوہ سلیمان کے علاقوں میں کوئی بڑی بارشوں کا امکان نہیں، تھر پارکر، ٹھٹھہ، حیدرآباد، جامشورو اور دادو میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے، بارشوں کے لیے بھی تیاریاں مکمل ہیں، تمام محکمے وزراء متحرک اور فعال ہیں،ناصر شاہ، مکیش چاؤلہ، جام دھاریجو، محمد علی ملکانی، ریاض شاہ سمیت صوبائی اسمبلی کے نمائندے بھی اپنے علاقوں میں موجود ہیں۔

    غزہ کی شہید بچی پرمبنی فلم نے وینس فلم فیسٹیول میں ایوارڈ جیت لیا

  • ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    ملک بھر میں بارشوں اور فلڈ وارننگ جاری

    دریائے ستلج اور فیروزپور بیراج کے قریب بھارتی وارننگ پر ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

    محکمہ موسمیات نے 8 سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کی ہے،وزارتِ آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے حکومت پاکستان کو آگاہ کیا ہے کہ7 ستمبر2025 صبح 8 بجے دریائے ستلج کے علاقے ہریکے اور فیروزپور کے نیچے حصوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

    مشترکہ کمشنر برائے سندھ طاس، محمد خورشید اصغر نے ہنگامی مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ اطلاع باقاعدہ منظوری کے بعد تمام متعلقہ اداروں کو ارسال کر دی گئی ہے،مراسلے کی نقول چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA)، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (IRSA)، فوجی اور کور انجینئرز کے اداروں، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھیجی گئی ہیں۔

    انٹرنیٹ سروسز متاثر ہونے کا خدشہ

    ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی کے اچانک اخراج کے باعث پاکستان کے نشیبی علاقے خصوصاً پنجاب اور جنوبی حصے متاثر ہوسکتے ہیں،متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بروقت آگاہی فراہم کی جائے۔

    محکمہ موسمیات اور فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 8 ستمبر سے 14 ستمبر تک ملک بھر میں شدید بارشوں، شہری و فلیش فلڈنگ اور دریاؤں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی کر دی ہےمراسلے کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بھاری سے انتہائی بھاری بارشیں اور کہیں کہیں انتہائی شدید بارشیں متوقع ہیں،سب سے زیادہ بارشوں کا امکان سکھر، میرپور خاص، شہید بینظیرآباد، کراچی، حیدرآباد، لاڑکانہ اور بہاولپور ڈویژن میں ہے۔

    اسی طرح بالائی دریائی علاقے بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، مردان، گوجرانوالہ، سرگودھا، ساہیوال اور ڈی جی خان میں بھی شدید بارشیں برسنے کا خدشہ ہےدریاؤں کی صورتحال کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے جو آئندہ دنوں میں برقرار رہنے کا امکان ہے.

    جبکہ دریائے راوی بلکیسر کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب اور سدھنائی و جسر کے مقامات پر درمیانے درجے کے سیلاب کا سامنا کر رہا ہےدریائے پنجند میں بھی انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جو آئندہ 24 گھنٹوں تک جاری رہنے کا خدشہ ہے،اسی طرح ڈی جی خان، راجن پور، کوہِ سلیمان اور مشرقی بلوچستان کے علاقوں میں بھی فلیش فلڈنگ کے امکانات ہیں۔

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 9 ستمبر تک جاری رہے گا، پی ڈی ایم اے

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مون سون کا ایک مضبوط سسٹم بھارت کے علاقے راجستھان سے پاکستان میں داخل ہوا ہے جس نے بارشوں کے امکانات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران وسطی اور بالائی سندھ، جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخوا کے کئی اضلاع میں مسلسل بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے،محکمہ موسمیات نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔

  • دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ: گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر آج بڑے سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے جس کے باعث سندھ کے کچے کے علاقے زیرِ آب آنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

    گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ بڑھ کر 3 لاکھ 90 ہزار کیوسک تک پہنچنے کے بعد درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سکھر اور کوٹری بیراج پر بھی نچلے درجے کا سیلاب جاری ہےسیہون میں دریائی پٹی کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں جبکہ محکمہ آبپاشی کے حکام کا کہنا ہے کہ حفاظتی بندوں کی کمزور جگہوں پر کام جاری ہے،صوبائی وزیر مکیش کمار چاولہ کے مطابق سیلابی ریلے سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

    ادھر پنجاب کے مختلف اضلاع بھی شدید متاثر ہیں۔ ملتان میں شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کا دباؤ برقرار ہے جبکہ جھنگ میں دریائے چناب پر اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 88 ہزار کیوسک تک جا پہنچا جس سے کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں،دریائے راوی میں مائی صفوراں کے مقام سے نکلنے والے ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات ڈبو دیے۔ اس سیلاب کے نتیجے میں 80 ہزار سے زائد لوگ بے گھر ہوگئے بہاولنگر میں سیلاب نے 143 دیہات متاثر کیے ہیں اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔

  • سندھ میں آٹے کا بدترین بحران، عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترس گئے

    سندھ میں آٹے کا بدترین بحران، عوام روٹی کے ایک نوالے کو ترس گئے

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری) سندھ بھر میں آٹے کا بدترین بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جس نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ مارکیٹوں میں آٹے کی شدید قلت کے باعث شہری دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔

    ذرائع کے مطابق آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور فی من آٹا 5000 روپے تک جا پہنچا ہے۔ اس ہوشربا مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے، جبکہ حکومت اور انتظامیہ کی خاموشی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف مہنگائی کا طوفان ہے اور دوسری طرف آٹے کی قلت نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ان کے مطابق دو وقت کی روٹی کا حصول بھی اب ایک خواب بن چکا ہے۔ عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس سنگین بحران کا ذمہ دار کون ہے اور کب تک وہ اپنی بنیادی ضرورت سے محروم رہیں گے؟

    ماہرین اور شہری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام سڑکوں پر نکل کر شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

  • ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے،مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ ہمیں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ سندھ میں 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد متوقع ہے، 9 لاکھ کیوسک کا ریلا ہو تو ہم اسے ’سپر فلڈ‘ کے طور پر دیکھتے اور تیاری کرتے ہیں،ہم نے گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج اور بندوں کو محفوظ رکھنا ہے، 2010 کے سیلاب کے بعد ہم نے بندوں پر کافی کام کیا ہے، ساڑھے 5 لاکھ کیوسک پانی ہم ایک ہفتہ قبل گڈو بیراج سے گزار چکے ہیں، اس دوران کوئی ہنگامی صورت حال پیش نہیں آئی، تاہم ہم نے مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھی ہے۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کے حکام پراعتماد ہیں کہ اپ اسٹریم سے آنے والا پانی بیراجوں سے گزار لیں گے، تاہم دریا کے کنارے حفاظتی بندوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جس سے مسائل آسکتے ہیں، محکمہ آبپاشی تعین کرتا ہے کہ کن مقامات پر بندوں کو مسائل درپیش ہیں،ایسے کمزور مقامات پر پتھر اور مٹی ڈال کر اسے مضبوط بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے، گزشتہ روز میں نے گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا، اس دوران کمزور بندوں کا معائنہ کیا، کمزور بند ڈھائی سے 3 لاکھ کیوسک ریلے کے دوران ٹوٹ جاتے تھے، لیکن اس بار 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی گزارنے کے بعد بھی یہ بند سلامت ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان سے پاکستان میں یونیسف کی کنٹری ریپریزنٹیٹو کی ملاقات

    انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے سب سے بڑا چیلنج لوگوں اور مویشیوں کو بچانے کا ہے، ہم نے 9 لاکھ کیوسک ریلے کے حساب سے تیاری کر رکھی ہے، ابھی سے ہم نے لوگوں کو ممکنہ متاثرہ علاقوں سے نکالنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کر دیا ہے، یہی تیاری بطور انسان ہم کر سکتے ہیں، ہماری جانب سے مدد مانگنے پر پاک فوج نے اپنے 2 یونٹس کو تعینات کیا ہے، پاکستان نیوی نے بھی اپنی ٹیمیں بھیج دی ہیں، کل میری واپسی کے بعد ایک چینل نے خبر چلائی کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، حالانکہ وہ کیمپ صرف بریفنگ دینے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں کراچی سے زیادہ صحافی ہیں، جب میں دورہ کرنے کے لیے گیا تو وہاں صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی، اس کی گواہی شرجیل میمن بھی دیں گے، ہم نے ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں کیمپ لگا ہوا ہے، جہاں ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں، دوسری جانب ایک چینل پر خبر چلائی جارہی ہے کہ وزیر اعلیٰ کے جانے کے بعد کیمپ ہٹا دیا گیا، لیکن وہ ویڈیو میں نہیں دکھاؤں گا۔

    صنعا اور الحدیدہ میں اقوام متحدہ کے دفاتر پر چھاپہ،11 یو این اہلکارزیر حراست

    ان کا کہنا تھا کہ آج این ڈی ایم اے کی جانب سے 11 لاکھ کیوسک پانی کی آمد کی اطلاع ملنے کے بعد اب ہم اس حساب سے تیاری کر رہے ہیں، 3 اور 4 ستمبر کو ہم دیکھیں گے پنجند پر پانی کی آمد کے بعد گڈو پر کتنا پانی آئے گا، اس کے بعد 2 دن پانی کو سندھ تک پہنچنے میں لگیں گے6 ستمبر کو یوم دفاع ہے اور 12 ربیع الاول بھی ہے، دیکھیں اس دن کیا صورت حال بنتی ہے، 2014 میں ہم بڑا ریلا سندھ کے بیراجوں سے گزار چکے ہیں، ہم نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ، محکمہ صحت سمیت تمام متعلقہ اداروں کو فعال کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی حقیقت ہے، لیکن اس وقت ہمارا فوکس آئندہ 15 دن کو خیر و عافیت سے گزارنے پر مرکوز ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آفات سے نمٹنے کے لیے مربوط پالیسی بنانے کی ضرورت ہے ہم پنجاب کے لوگوں کے ساتھ ہر طرح سے کھڑے ہیں، انہیں جو بھی امداد درکار ہوگی، ہم کرنے کو تیار ہیں۔

    کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق ایک سوال پر مراد علی شاہ نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب دریائے چناب، راوی اور ستلج میں آیا، یہ پانی کالا باغ تک نہیں لے جایا جاسکتا تھا، وہ الگ مقام ہے، اس وقت یہ بات کرنا فضول ہے کہ کالا باغ ڈیم ہوتا تو یہ نقصان نہ ہوتا۔

  • دریائے سندھ میں  انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان

    دریائے سندھ میں گڈو اور سکھر بیراج کے مقام پر 5 ستمبر کو انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ہے،موجودہ صورتحال کے دوران گڈو، سکھر اور کوٹری بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔

    ےمحکمہ آبپاشی سندھ کے مطابق گڈو بیراج پر اَپ اسٹریم 3لاکھ 18ہزار229 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں 3لاکھ 3ہزار877 کیوسک پانی ریکارڈ کیا گیا،سکھر بیراج پر اَپ اسٹریم 2 لاکھ 85ہزار487 اور ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 34ہزار717 کیوسک رہا کوٹری بیراج پر اَپ اسٹریم 2لاکھ 73ہزار844 جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں اخراج 2لاکھ 44ہزار739 کیوسک نوٹ کیا گیا،تریموں پر پانی میں اضافہ ہو کر اَپ اسٹریم 5لاکھ 50ہزار965 ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    فوکل پرسن زبیر چنہ،کا کہنا تھا کہ بیراجوں پر پانی کی آمد اور اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے، سندھ میں بیراجوں اور دریائی بندوں پر کوئی کمزور مقام موجود نہیں، تمام مقامات کو جدید تقاضوں کے مطابق مضبوط بنا دیا گیا ہے،صوبے میں 102 ایسے پوائنٹس تھے جہاں ماضی کی دہائیوں میں سیلابی صورتحال کے دوران کچھ واقعات پیش آئے تھے، تاہم محکمہ آبپاشی سندھ نے ان 102 پوائنٹس پر بہتری اور مضبوطی کے خصوصی اقدامات مکمل کر لیے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

    پاکستان ہمیشہ کثیر الجہتی، مذاکرات اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے،وزیراعظم

    انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ نے محض احتیاطی اور پیشگی حکمتِ عملی کے تحت ان تمام مقامات پر عملہ تعینات کر دیا ہے، تمام مقامات پر ضروری مشینری و ساز و سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے، تمام مقامات پر ہر وقت نگرانی جاری ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے،عوام کو ہر طرح کے خدشات سے محفوظ رکھا جائے گا، حکومت سندھ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

    کے پی ہیلی کاپٹر حادثہ: روسی کمپنی تحقیقات کرے گی

  • ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے،  افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ،ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں

    گڈو بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس وقت راوی اور تریموں کے مقامات پر پانی کی سطح بلند ہے اگرچہ امید کی جا رہی ہے کہ پانی اتنی شدت کے ساتھ نہیں بڑھے گا، لیکن حکومت نے 9 لاکھ کیوسکس تک کے ممکنہ سپر فلڈ کے لیے پیشگی انتظامات شروع کر دیے ہیں، پانی 9 لاکھ آئے یا 10 لاکھ اس میں کچے کا علاقہ تو ڈوب جائے گا ہمارے پاس تمام متاثرہ آبادیوں کے نقشے، وہاں رہنے والے افراد اور مویشیوں کی تفصیلات موجود ہیں یہ معلومات ضلعی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئی ہیں اور انہیں پی ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہےپاک بحریہ کی جانب سے بہت تعاون کیا جا رہا ہے، کمانڈر کوسٹ بھی میرے ساتھ موجود ہیں، جبکہ پاک فوج اور ڈی جی رینجرز سے بھی مسلسل رابطہ ہے، اگر دریائے سندھ میں سپر فلڈ آیا تو کچے کا سارا علاقہ زیرِ آب آ جائے گا، اس صورتحال کے پیش نظر صوبائی حکومت نے کچے کے علاقے کو خالی کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔

    پہلی ترجیح انسانی جانوں، مویشیوں اور بیراجوں کی حفاظت ہے،شرجیل میمن

    انہوں نے واضح کیا کہ ہماری سب سے بڑی ترجیح انسانی جانوں اور مویشیوں کو نقصان سے بچانا ہے ضلعی انتظامیہ لوگوں کے انخلا کی تیاری کر رہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے، پاک بحریہ اور پاک فوج کی 192 کشتیاں کچے کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دی گئی ہیں، بند کو ٹوٹنے سے بچانا سب سے بڑا چیلنج ہےپنجاب میں شگاف ڈالنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے اور وہاں کی جغرافیائی صورتحال ایسی ہے کہ پانی جلد دوبارہ دریا میں شامل ہو جاتا ہے، لیکن سندھ کی زمین چونکہ دریا سے نیچے ہے اس لیے پانی واپس جانے میں وقت لیتا ہے۔

    پنجاب :مون سون کے نویں اسپیل نے بہت تباہی مچائی،24 گھنٹوں میں مزید خطرہ

    انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے رائٹ بینک پر 6 مقامات نہایت حساس ہیں، ان میں سب سے زیادہ خطرہ کے کے بند کو ہے جبکہ لیفٹ بینک پر شاہین بند کو نازک قرار دیا گیا ہے اگر 8 سے 9 لاکھ کیوسکس پانی آیا تو شاہین بند اپنی کمزور ساخت کے باعث برقرار نہیں رہ پائے گا، لیکن اس بند کو بچانا حکومت کی اولین ترجیح ہوگی ہمارے پاس ابھی وقت ہے، کیونکہ تریموں سے نکلنے والا پانی تقریباً 5 دن بعد سندھ تک پہنچتا ہے انہوں نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی کہ جب وہ وقت آئے تو ضلعی انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا جائے۔

    موریطانیہ کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، 70 ہلاک،30 سے زائد لاپتہ