Baaghi TV

Category: سندھ

  • سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کا اعلان

    سندھ میں اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کا اعلان

    سندھ کے وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے شدید گرمی کے پیش نظر صوبے کے اسکولوں کے اوقات کار میں ایک گھنٹہ کمی کرنے کا اعلان کردیا۔

    کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سید سردار علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں اب تک اسکولوں کے حوالے سے کوئی یکساں پالیسی بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ انہوں نے شدید گرمی میں بچوں کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 52 ڈگری سینٹی گریڈ کی گرمی میں بھی بعض بچے کھلے آسمان تلے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کئی اسکولوں میں بچوں کے لیے مناسب چھت تک موجود نہیں۔

    وزیر تعلیم سندھ کا کہنا تھا کہ شدید گرمی میں کھلے آسمان تلے بچوں کا تعلیم حاصل کرنا تعلیمی نظام کی زبوں حالی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسے بچوں کی مشکلات فوری طور پر حل کرنے کے ساتھ ساتھ اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔

    سید سردار علی شاہ نے کہا کہ بچوں کو شدید گرمی سے محفوظ رکھنے کے لیے اسکولوں میں مناسب چھت، ٹھنڈے اور محفوظ ماحول سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سالانہ 1200 ارب روپے کے وفاقی پی ایس ڈی پی میں تعلیم کے لیے مزید فنڈز مختص کیے جائیں تاکہ صوبوں میں تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جاسکے۔

    وزیر تعلیم نے بتایا کہ سندھ میں لاکھوں بچوں کو کمیونٹی بیسڈ مراکز کے ذریعے تعلیم فراہم کی جارہی ہے، تاہم گزشتہ تین سال سے بجٹ میں اضافہ نہ ہونے کے باعث ان مراکز کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث تعلیمی مراکز کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں، جس سے موجودہ بجٹ میں ان کا انتظام چلانا مشکل ہورہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ کے 480 ارب روپے کے تعلیمی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات کو الگ کیا جانا چاہیے، جبکہ آپریشنل اور نان آپریشنل اخراجات کی مکمل تفصیلات بھی سامنے لانا ضروری ہیں تاکہ تعلیمی بجٹ کے حقیقی استعمال اور ضروریات کا درست اندازہ لگایا جاسکے۔

    سید سردار علی شاہ نے مزید کہا کہ کمیونٹی آرگنائزیشنز کو براہِ راست فنڈز فراہم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ یہ تعلیمی مراکز کوئی کاروباری ادارے نہیں بلکہ انہیں کمیونٹی آرگنائزیشنز چلا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان اداروں کو بروقت اور مناسب مالی معاونت فراہم کرکے بچوں کے لیے بہتر تعلیمی ماحول یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

  • سندھ اسمبلی میں سرکاری اساتذہ کیلئے جامع گروپ انشورنس اسکیم کی قرارداد پیش

    سندھ اسمبلی میں سرکاری اساتذہ کیلئے جامع گروپ انشورنس اسکیم کی قرارداد پیش

    سندھ اسمبلی میں سرکاری اساتذہ اور دورانِ سروس وفات پانے والے اساتذہ کے خاندانوں کے مالی تحفظ کے لیے جامع گروپ انشورنس اسکیم نافذ کرنے کی قرارداد پیش کردی گئی۔

    پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سجاد علی سومرو کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے کے تمام سرکاری اساتذہ کے لیے فوری طور پر جامع، شفاف اور مؤثر گروپ انشورنس اسکیم کا نفاذ کیا جائے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں ضروری قانون سازی مکمل کرنے کے ساتھ باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے، تاکہ سرکاری اساتذہ کو انشورنس کی سہولت حاصل ہوسکے اور دورانِ سروس کسی استاد کی وفات کی صورت میں اس کے اہلِ خانہ کو مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    قرارداد کے ذریعے حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ دورانِ سروس وفات پانے والے کسی بھی استاد کے لواحقین کو انشورنس کی رقم بروقت، شفاف اور آسان طریقہ کار کے تحت ادا کرنے کو یقینی بنایا جائے، تاکہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد کے حصول کے لیے غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    قرارداد پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اساتذہ قوم کے مستقبل کے معمار ہیں اور نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں ان کا بنیادی کردار ہے۔ ایسے میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں کے مستقبل اور مالی تحفظ کو یقینی بنانا بھی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

    رکن سندھ اسمبلی سجاد علی سومرو نے مطالبہ کیا کہ حکومت اساتذہ کے لیے گروپ انشورنس اسکیم کے نفاذ کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے اور اس کے لیے ضروری قانونی و انتظامی اقدامات جلد کیے جائیں۔

  • سندھ میں پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا دائرہ وسیع، میرپورخاص کی خواتین بھی مستفید ہوں گی

    سندھ میں پنک اسکوٹیز کی تقسیم کا دائرہ وسیع، میرپورخاص کی خواتین بھی مستفید ہوں گی

    سندھ حکومت نے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں محفوظ سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے پنک الیکٹرک اسکوٹی پروگرام کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ آئندہ مرحلے میں میرپورخاص کی خواتین میں بھی مفت الیکٹرک اسکوٹیز تقسیم کی جائیں گی۔

    صوبائی وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کے مطابق پنک اسکوٹی اور تربیتی پروگرام میں خواتین کی غیر معمولی دلچسپی سامنے آئی ہے اور اب تک 50 ہزار سے زائد خواتین اس کے لیے درخواستیں جمع کراچکی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ اسکوٹیز کی فراہمی سے قبل خواتین کو ڈرائیونگ اور اسکوٹی چلانے کی باقاعدہ تربیت دی جارہی ہے۔ اب تک 2 ہزار سے زائد خواتین تربیت مکمل کرچکی ہیں، جبکہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص اور نواب شاہ میں تربیتی پروگرام جاری ہے۔

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد خواتین کو محفوظ اور بااعتماد انداز میں اسکوٹی چلانے کے قابل بنانا ہے تاکہ انہیں روزمرہ آمدورفت میں آسانی کے ساتھ تعلیم، ملازمت اور دیگر معاشی سرگرمیوں تک رسائی کے بہتر مواقع بھی مل سکیں۔

    صوبائی وزیر کے مطابق پروگرام کے پہلے مرحلے میں 925 اور دوسرے مرحلے میں 476 اسکوٹیز مختص کی گئی تھیں، جبکہ مجموعی طور پر اب تک 810 سے زائد پنک الیکٹرک اسکوٹیز خواتین میں مفت تقسیم کی جاچکی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اس منصوبے کو صرف کراچی تک محدود رکھنے کے بجائے صوبے کے مختلف شہروں تک پہنچا رہی ہے۔ میرپورخاص میں آئندہ مرحلے کے دوران اسکوٹیز کی تقسیم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

    شرجیل میمن کے مطابق پنک اسکوٹی پروگرام کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں محفوظ، آسان اور کم خرچ سفری سہولت فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنی پیشہ ورانہ اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ مؤثر انداز میں حصہ لے سکیں۔

  • متروکہ وقف املاک کے تحفظ کیلئے سندھ میں ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات بھی مل گئے

    متروکہ وقف املاک کے تحفظ کیلئے سندھ میں ڈپٹی کمشنرز کو ایڈمنسٹریٹر کے اختیارات بھی مل گئے

    سندھ حکومت نے صوبے بھر میں متروکہ وقف املاک کی حفاظت، دیکھ بھال اور ان کے جائز استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کے اختیارات میں اضافہ کردیا ہے اور انہیں اپنے اپنے اضلاع میں متروکہ وقف املاک کا ایڈمنسٹریٹر مقرر کردیا ہے۔

    اس حوالے سے محکمہ اقلیتی امور سندھ کی جانب سے باقاعدہ خصوصی نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان سے وابستہ تاریخی و مذہبی اثاثوں کو ناجائز قبضوں، غلط استعمال اور ضائع ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔

    نئے احکامات کے تحت تمام ڈپٹی کمشنرز اپنے متعلقہ اضلاع میں موجود متروکہ وقف املاک کے معاملات کی براہِ راست نگرانی کریں گے۔ انہیں ان املاک کے انتظام، دیکھ بھال اور دیگر متعلقہ امور کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

    جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈپٹی کمشنرز اپنے اضلاع میں موجود تجارتی، زرعی اور مذہبی متروکہ وقف املاک کے انتظامی و مالی معاملات کی نگرانی کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ املاک کی مناسب دیکھ بھال اور ان کے جائز استعمال کو یقینی بنانا بھی ان کی ذمہ داری ہوگی۔

    سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنرز کو اضافی اختیارات دینے کا مقصد متروکہ وقف املاک کے انتظامی نظام کو بہتر بنانا، شفافیت کو یقینی بنانا اور قیمتی تاریخی و مذہبی اثاثوں کو کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے یا غلط استعمال سے محفوظ رکھنا ہے۔

  • 6220 سکولوں میں تدریسی عمل روکنے کا حکم

    6220 سکولوں میں تدریسی عمل روکنے کا حکم

    سندھ :مون سون کے دوران طلبہ کو ممکنہ حادثات سے محفوظ رکھنے کیلئے 6 ہزار 220 مخدوش سکولوں میں تدریسی سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

    اطلاعات کے مطابق مون سون کا موسم خستہ حال اور خطرناک عمارتوں کیلئے انتہائی حساس ہے، جس کے باعث صوبے میں ہزاروں سکولوں کی عمارتوں کو مخدوش قرار دے کر وہاں تعلیمی عمل معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    محکمہ تعلیم سندھ کے مطابق متاثرہ سکولوں میں زیر تعلیم بچوں کو قریبی متبادل سکولوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ بارشوں کے دوران کسی بھی ممکنہ حادثے سے انہیں محفوظ رکھا جاسکے۔

    محکمہ تعلیم نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ مخدوش سکولوں کے قریب مناسب متبادل تعلیمی اداروں کی نشاندہی کرکے طلبہ کو وہاں منتقل کرنے کے انتظامات کیے جائیں۔

    رپورٹس کے مطابق مخدوش سکولوں کی تعداد بدین، میرپورخاص اور تھرپارکر اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔

    محکمہ تعلیم کے اس فیصلے کے باعث صوبے بھر میں ہزاروں طلبہ کے اپنی ہی سکول عمارتوں میں تعلیم جاری رکھنے کا سلسلہ متاثر ہوگا۔ تاہم حکام کی جانب سے تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سکولوں کی مرمت کا کام کب شروع ہوگا، اسے مکمل ہونے میں کتنا وقت لگے گا اور طلبہ اپنے اصل سکولوں میں کب واپس جا سکیں گے۔

  • میر رضا قتل کیس:تحقیقات کے حوالے سے سندھ پولیس کی پہلی پریس ریلیز جاری

    میر رضا قتل کیس:تحقیقات کے حوالے سے سندھ پولیس کی پہلی پریس ریلیز جاری

    سندھ پولیس نے کراچی میں قتل ہونے والے نوجوان میر رضا کے کیس میں تحقیقات کے حوالے سے پہلی پریس ریلیز جاری کی گئی ہے-

    سندھ پولیس کی جانب سے جاری میر رضا قتل کیس پر پہلی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ تاجر میر رضا کیس میں سندھ پولیس کی اعلیٰ سطح کی ٹیم کی تحقیقات جاری ہے اور تحقیقاتی ٹیم طبی رپورٹس، ڈیجیٹل شواہد اور سابقہ تحقیقاتی کارروائی کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ مقتول کے اہل خانہ، حلقہ احباب اور دیگر متعلقہ ذرائع سے حاصل معلومات کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تحقیقاتی ٹیم کو اب تک دو پوسٹ مارٹم، ایک حتمی اور تین کیمیائی تجزیاتی رپورٹس موصول ہوچکی ہیں، آخری کیمیائی تجزیاتی رپورٹ 17 اگست کو موصول ہوئی، رپورٹس کا تقابلی اور تنقیدی جائزہ جاری ہے۔

    ترجمان سندھ پولیس نے بتایا کہ رپورٹس کے جائزے میں بعض نکات پر مزید وضاحت اور باہمی مطابقت کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، متعلقہ حکام اور اداروں سے مطلوبہ معلومات اور مزید تصدیق کا عمل جاری ہے موبائل فون اور اسمارٹ واچ کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور ڈیجیٹل کرنسی سے متعلق امور کی تحقیقات کے لیے این سی سی آئی اے سے رابطہ کیا گیا، اسی طرح موبائل فون ان لاک کرنے کے لیے ایپل حکام سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ کیمیائی تجزیاتی رپورٹ کے غیر واضح نکات کی وضاحت سے تحقیقات میں اہم پیش رفت متوقع ہے، تحقیقاتی ٹیم تکنیکی، ڈیجیٹل، فرانزک اور دیگر قابل اعتماد شواہد کی بنیاد پر روزانہ تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے۔

  • ٹنڈوالہ یار میں دو ملزمان کی 12 سالہ بچی کیساتھ جنسی زیادتی

    ٹنڈوالہ یار میں دو ملزمان کی 12 سالہ بچی کیساتھ جنسی زیادتی

    درندہ صفت ملزمان نے ٹنڈوالہ یار میں12 سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنا ڈالا۔

    پولیس کے مطابق ٹنڈو الہ یار میں گزشتہ شب لاپتا ہونے والی 12 سالہ بچی رومی شہباز کالونی کے ایک مکان سے بازیاب کرالی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر نشہ آور چیز کھلا کر زیادتی کا نشانہ بنایا گیا،واقعے میں دو نوجوانوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بچی کو طبی معائنے کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ٹنڈو الہ یار میں 12 سالہ بچی کے لاپتا ہونے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے شہباز کالونی کے ایک مکان سے بازیاب کرلیا،پولیس کے مطابق اہل محلہ نے مکان سے بچی کی چیخ وپکار کی آوازیں سن کر پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بچی کو بازیاب کرلیا۔

    اہل محلہ کا کہنا ہے کہ ملزمان بچی کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کررہے تھے تاہم بچی کے ہوش میں آنے کے بعد چیخ وپکار سے اہل محلہ جمع ہوگئے،پولیس نے مکان میں موجود دو نوجوان ایاز لوند اور عارف زرداری کو گرفتار کرکے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، ایس ایس پی ٹنڈو الہ یار سلیم شاہ کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    وومن تھانے میں بچی کے والد ساجد علی کی مدعیت میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، دو ملزمان عارف زرداری، ایاز لوند اور ایک نامعلوم خاتون کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، ملزمان کے خلاف اغواء، تشدد اور زیادتی کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے،ایس ایس پی ٹنڈوالہیار سید سلیم شاہ کی ہدایت پر واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے JIT تشکیل دے دی گئی۔

  • سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری مل گئی

    سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری مل گئی

    سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں مؤثر، شفاف اور جدید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پی پی پی یونٹ کی تنظیمِ نو کی منظوری دے دی۔

    کابینہ نے پی پی پی یونٹ کو مکمل سرکاری ملکیت کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت، منصوبوں پر عملدرآمد اور مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنانا ہےوزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نئی کمپنی کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت قائم کی جائے گی اور موجودہ پی پی پی یونٹ کی جانشین ہوگی نئی کمپنی پی پی پی پالیسی سازی، گورننس، منصوبوں کی سہولت کاری اور پورٹ فولیو مینجمنٹ کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ تنظیمِ نو کے ذریعے پی پی پی منصوبوں کی نگرانی کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جائے گا۔

    سندھ کابینہ نے نئی پی پی پی کمپنی کے لیے 8 ارب روپے مجاز سرمایہ، 2 ارب روپے ادا شدہ سرمایہ اور کمپنی کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے بطور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی کابینہ نے کمپنی کے قیام سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کا اختیار محکمہ خزانہ کو سونپ دیا، جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ نئی کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہوں گے۔

    کابینہ نے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دے دی وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے پی پی پی نظامِ حکمرانی کو مزید مضبوط قانونی بنیاد ملے گی، صوبے بھر میں پی پی پی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت مزید مؤثر ہوگی، نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوگی،سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر، پائیدار اور سرمایہ کار دوست بنا رہی ہے، جبکہ ان اصلاحات سے انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بھی مدد ملے گی۔

  • سندھ حکومت کی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل  کی ہدایات

    سندھ حکومت کی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل کی ہدایات

    سندھ حکومت نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات جاری کردیں۔

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، یلو لائن بی آر ٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کمال دایو اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کےتعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے پر پیش رفت مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں یلو لائن منصوبے کے حکام نے شرجیل انعام میمن کو مختلف حصوں پر جاری تعمیراتی کام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ تعمیراتی سرگرمیاں منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں منصوبے کے ڈپوز مکمل ہو جائیں گے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی جانب سے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام یوٹیلٹی رکاوٹیں پیشگی بنیادوں پر دور کرنے کے احکامات جاری کیے انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تاخیر سے بچنے کے لیے یوٹیلٹی شفٹنگ، ری لوکیشن اور اس سے متعلق تمام اقدامات فوری اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں، منصوبے کی رفتار ہر صورت برقرار رکھی جائے اور تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں تاکہ تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

    انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل فوری حل کرنے کی بھی ہدایت دی، شرجیل انعام میمن نے عوام کو دشواریوں سے بچانے کے لیے تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کا کام بھی جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے یلو لائن بی آر ٹی کراچی کے عوام کے لیے ایک اہم عوامی منصوبہ ہے اور اس کی بروقت تکمیل سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • دادو میں سکول جانیوالی طالبات سمیت 5 لڑکیاں لاپتا

    دادو میں سکول جانیوالی طالبات سمیت 5 لڑکیاں لاپتا

    دادو: ضلع دادو کے شہر میہڑ میں اسکول جانے والی تین طالبات سمیت مجموعی طور پر پانچ لڑکیاں غائب،ہوگئیں،جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    پولیس ذرائع کے مطابق لاپتا ہونے والی طالبات میں فاطمہ جانوری، روشنی تیونو اور تنزیلہ پنہور شامل ہیں، جو آٹھویں جماعت کی طالبات اور گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کی طالبات ہیں میہڑ سے بروہی برادری کی دو مزید نوجوان لڑکیوں کے بھی لاپتا ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد شہر سے مجموعی طور پر پانچ لڑکیوں کی گمشدگی سامنے آئی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق تمام واقعات کی تحقیقات جاری ہیں اور مختلف پہلوؤں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں،واقعے کا آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سخت نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور خصوصی ٹیمیں بچیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

    دوسری جانب ایس ایس پی دادو نے کہا ہے کہ معصوم بچیوں کی گمشدگی میں ملوث عناصر کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جا رہی ہیں۔