Baaghi TV

Category: کھیل

  • پاکستان سپرلیگ 2020 کا شیڈول جاری،کون کس سے ٹکرائے گا یہ بھی بتادیا

    پاکستان سپرلیگ 2020 کا شیڈول جاری،کون کس سے ٹکرائے گا یہ بھی بتادیا

    لاہور:پاکستان سپرلیگ 2020 کا شیڈول جاری،کون کس سے ٹکرائے گا یہ بھی بتادیا،اطلاعات کےمطابق پاکستان سپر لیگ 2020 کا شیڈول جاری کردیا گیا، کراچی کنگز اپنا پہلا میچ 21 فروری کو پشاور زلمی کے ساتھ کھیلے گی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے پانچویں سیزن کا شیڈول جاری کردیا گیا، تمام میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔

    پی ایس ایل 2020 کا آغاز 20 فروری سے ہوگا، 4 مقامات پر 34 میچز کھیلے جائیں گے، ایونٹ کے 14 میچز لاہور، 9 کراچی، 8 راولپنڈی اور 3 ملتان میں ہوں گے۔

    دونوں ایلی منیٹر میچز بھی لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے جبکہ پی ایس ایل 5 کا فائنل بھی 22 مارچ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔ ٹکٹوں کی فروخت 20 جنوری سے شروع ہوگی،پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے جاری کردی شیڈول کےمطابق ایونٹ کا افتتاحی میچ کراچی میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان کھیلا جائے گا۔

    پاکستان سپر لیگ کے میچزجوکراچی میں کھیلے جائیں گے ان کا بھی شیڈول بتا دیا گیا ہے،کراچی کنگز اپنا پہلا میچ 21 فروری کو پشاور زلمی کے ساتھ کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں کھیلے گی۔ کراچی کنگز کے 2 میچز لاہور، 2 راولپنڈی اور ایک ملتان میں ہوگا، اپنے ہوم گراؤنڈ پر کراچی کنگز 4 میچز کھیلے گی۔

    کراچی کنگز اپنا دوسرا میچ 23 فروری کو کوئٹہ گلیڈی ایٹرز سے کراچی میں کھیلے گی، تیسرا میچ 28 فروری کو ملتان سلطانز سے ملتان میں ہوگا، جبکہ چوتھا میچ یکم مارچ کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے ساتھ راولپنڈی میں ہوگا۔

    کراچی کنگز کا پانچواں میچ پشاور زلمی سے 2 مارچ کو راولپنڈی میں جبکہ اگلا میچ 6 مارچ کو ملتان سلطانز سے لاہور میں ہوگا۔اسی حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا ہے کہ پورا پی ایس ایل پاکستان میں ہونا پی سی بی کی کامیابی ہے، پانچویں ایڈیشن میں 36 غیر ملکی کھلاڑی شرکت کریں گے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ لیگ پاکستان کی ہے اور اس کے تمام میچز ہوم گراؤنڈز پر ہی کھیلے جانے چاہیئے۔ گزشتہ ایڈیشن کے اختتام پر پاکستانی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ پی ایس ایل 2020 کے تمام میچز پاکستان میں ہوں گے اور آج وہ وعدہ وفا ہو رہا ہے۔

  • 11 سالہ بھارتی طالبہ نے تیراندازی میں ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    11 سالہ بھارتی طالبہ نے تیراندازی میں ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا

    نئی دہلی :11 سالہ بھارتی طالبہ نے تیراندازی میں ورلڈ ریکارڈ قائم کردیا،بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق حیدرآباد کی ایک 11 سالہ طالبہ نے تیر اندازی میں ایسا کارنامہ سرانجام دیا ہےکہ اس سے پہلے اس عمر آج تک کوئی نہ دے سکا

    باغی ٹی وی کے مطابق کلاس ششم کی طالبہ نے اپنی ہم عصر دیگرطالبات سے ایک مقابلہ کیا جس میں دس میٹر دور سے 15 منٹ اور15 سیکنڈز میں 76 تیرنشانے پرلگانے کا فیصلہ کیا .آنجیانی نامی طالبہ نے 8 منٹس میں 136تیزنشانے پرلگا کر ورلڈریکارڈ قائم کیا تو ساتھیوں اورسکول کے دوسرے عملے کویقین نہیں آرہا تھا

    11 سالہ طالبہ آنجیانی نے انڈر14 65 اضلاع کے سکولوں کے کھلاڑیوں کوہراکرسب کوحیران کردیا . یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ ، اس بچی کوتھائی لینڈ میں شروع ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں‌بھی بھیجا جائے گا،بھارتی سپورٹس حکام کا کہنا ہےکہ انہیں‌امید ہےکہ یہ بچی یہ عالمی اعزازات جیت کروطن واپس پہنچے گی

  • قائداعظم ٹرافی کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    قائداعظم ٹرافی کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    قائداعظم ٹرافی کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی رپورٹ : ڈومیسٹک سیزن 20-2019 کے آغاز سے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ نےڈومیسٹک اسٹرکچر کو ازسر نو ترتیب دیا۔ 14 ستمبر سے شروع ہونے والے نئے ڈومیسٹک اسٹرکچر کا آغاز پریمیئر کرکٹ ٹورنامنٹ قائداعظم ٹرافی سے ہوا۔

    ٹورنامنٹ میں چھ کرکٹ ایسوسی ایشنز کی ٹیموں نے شرکت کی، جس سے کھیل کے معیار میں واضح بہتری دیکھی گئی۔

    قائداعظم ٹرافی میں نوٹاس قانون کو پہلی بار متعارف کروایا گیاجہاں ہوم اینڈ اوے کی بنیاد پر کھیلے گئے ایونٹ میں تمام ٹیموں کوقانون کے استعمال کے لیے برابر مواقع فراہم کئے گئے۔

    رواں سیزن قائداعظم ٹرافی میں کوکابورا کا گیند استعمال کیا گیا اور اس کی بڑی وجہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے تمام میچز کوکا بورا کے گیند کا استعمال ہے۔

    اس گیند سے وکٹ حاصل کرنے کے لیے باؤلرز کو زیادہ محنت درکار ہوتی ہے۔ سیم زیادہ ابھری ہونے کی وجہ سے فاسٹ باؤلرزکوکوکابورا کے گیند سے اضافی مدد نہیں ملتی اور اسپنرز کا میچ میں کردار اہم ہوجاتا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق سیزن 13-2012 کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پاکستان کے ڈومیسٹک سیزن میں سب سے زیادہ وکٹیں کسی اسپنر نے حاصل کی ہیں۔ اس سال ناردرن کے اسپنر نعمان علی 10 میچوں میں 54 وکٹیں حاصل کرکے ایونٹ کے بہترین باؤلر قرار پائے۔

    رواں سال قائداعظم ٹرافی میں بلے بازوں کو زیادہ دیر وکٹ پر ٹھہرتے دیکھا گیا جس کی وجہ سے ایونٹ میں پہلی اننگز کا اوسط اسکور 422 رہا جو گذشتہ سال263 تھا۔

    بیٹنگ :

    رواں سال ٹیموں کی تعداد کم ہونے کے باعث کل میچز کی تعداد بھی کم رہی ۔ گذشتہ سال 69 میچوں پر مشتمل ایونٹ میں رواں سال کل 31 میچز کھیلے گئے مگر قائداعظم ٹرافی 20-2019 میں ڈبل سنچریوں کی تعداد گذشتہ سال سے دوگنا زیادہ رہی۔

    گذشتہ سال ایونٹ میں 4 اور رواں سال 8 ڈبل سنچریاں بنیں، جس میں سنٹرل پنجاب، ناردرن اور سندھ کے 2،2 جبکہ سدرن پنجاب اور بلوچستان کی ٹیم میں شامل ایک، ایک کھلاڑی نے ڈبل سنچری اسکور کی۔

    رواں سال ایونٹ میں 77 سنچریاں اسکور ہوئیں جس کی تعداد گذشتہ سال 72 تھی۔ حالیہ ایونٹ میں سنٹرل پنجاب کے بلے بازوں نے 18 سنچریاں اسکور کیں۔

    ایونٹ میں شامل چار بلے بازوں نے سب سے زیادہ ، 4،4 مرتبہ سنچریاں اسکور کیں۔ ان کھلاڑیوں میں بلوچستان کے عمران بٹ، سدرن پنجاب کے سمیع اسلم، خیبرپختونخوا کے اشفاق احمد اور سندھ کے فواد عالم شامل ہیں۔

    ایونٹ کے دوران ایک اننگز میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور سندھ کے عابد علی کے نام رہا۔ انہوں نے بلوچستان کے خلاف 249 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔

    اظہر علی، بابر ا عظم، سلمان بٹ، کامران اکمل ، عمر اکمل اور احمد شہزاد پر مشتمل مضبوط بیٹنگ لائن اپ کی موجودگی میں ایونٹ کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ اسکور سنٹرل پنجاب نے بنایا۔ ٹورنامنٹ کے فائنل میں سنٹرل پنجاب نے ناردرن کے خلاف پہلی اننگز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 675 رنز بناکر اننگز ڈکلیئر کردی۔

    ایونٹ کا سب سے کم اسکور بھی سنٹرل پنجاب نے ہی اسکور کیا۔ ایونٹ کے واحد میچ میں شکست کھانے والی سنٹرل پنجاب کی ٹیم نویں راؤنڈ میں خیبرپختونخوا کے خلاف 113 رنز بناکر آؤٹ ہوئی۔

    سب سے زیادہ اسکور:

    ایونٹ کے 9 میچوں میں 62.27کی اوسط سے 934 رنز بنانے والے بلوچستان کے عمران بٹ ایونٹ کے بہترین بیٹسمین قرار پائے۔ 24سالہ بیٹسمین نے ایونٹ میں چار سنچریاں، تین نصف سنچریاں اور ایک ڈبل سنچری اسکور کی۔

    سنٹرل پنجاب کے کامران اکمل اور سلمان بٹ ایونٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں بالترتیب دوسرسے اور تیسرے نمبر پر موجود رہے۔ کامران اکمل نے ایونٹ کے 11 میچوں میں906 اور سلمان بٹ نے 10 میچوں میں 901 رنز بنائے۔دونوں کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ میں 3،3 سنچریاں اور 3،3 نصف سنچریاں بنائیں۔بائیں ہاتھ کے بلے باز سلمان بٹ نے ایونٹ میں ایک ڈبل سنچری بھی اسکور کی۔

    ٹورنامنٹ کے ٹاپ 10 بہترین کھلاڑیوں میں سب سے بہتر اوسط رکھنے والے بلے باز سمیع اسلم کا فہرست میں چوتھا نمبر ہے۔انہوں نے 78.44کی اوسط سے 864 رنز بنائے۔سدرن پنجاب کے اوپنر نے قائداعظم ٹرافی کے پہلے راؤنڈ میں سنٹرل پنجاب کے خلاف ڈبل سنچری اسکور کی تھی۔

    سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے بازوں کی فہرست میں ناردرن کے فیضان ریاض کا پانچواں نمبر ہے۔ ٹورنامنٹ کے وسط میں سیکنڈ الیون سے فرسٹ الیون میں پروموٹ ہونے والے بیٹسمین نے ایونٹ میں 857 رنز بنائے۔

    اسپنرزکی بالادستی:

    باؤلنگ کے شعبے میں بھی ایونٹ کی فاتح سنٹرل پنجاب کا پلڑا بھاری رہا۔ ایونٹ میں 26مرتبہ کسی باؤلر نے پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دیاجس میں سنٹرل پنجاب کے اسکواڈ میں شامل کھلاڑیوں کے نام سات مرتبہ سامنے آئے۔ بلال آصف اور اعزاز چیمہ نے 2،2 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

    ایونٹ کے بہترین باؤلر کا ایوارڈ حاصل کرنے والے اسپنر نعمان علی نے ایونٹ میں 5 مرتبہ یہ کارنامہ انجام دیا۔ 54وکٹیں حاصل کرنے والے نعمان علی کی ایونٹ میں بہترین باؤلنگ 71 رنز کے عوض 8 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھانا تھا۔

    ٹورنامنٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والوں کی فہرست میں نعمان علی سمیت 5 ابتدائی باؤلرز کا تعلق بھی اسپن ڈیپارٹمنٹ سے ہی ہے۔ فہرست میں دوسرا نام سنٹرل پنجاب کے بلال آصف اور تیسرا ظفر گوہر کا ہے۔ بلال آصف نے ایونٹ میں 43 اور ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ حاصل کرنے والے ظفر گوہر نے 38 وکٹیں حاصل کیں۔

    بلوچستان کے محمد اصغر 27 اور خیبرپختونخوا کے ساجد خان 25 وکٹیں حاصل کرکے اس فہرست میں بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر موجود رہے۔

    ٹورنامنٹ کے دوران ایک میچ میں سب سے بہترین باؤلنگ سنٹرل پنجاب کے ظفر گوہر نے کی۔ انہوں نےناردرن کے خلاف 133 رنز دے کر 11 وکٹیں حاصل کیں۔

    بہترین وکٹ کیپر ز:

    قائداعظم ٹرافی 20-2019 میں سنٹرل پنجاب کی فتح میں کلیدی کردار ادا کرنے والے وکٹ کیپر کامران اکمل نے ایونٹ کے دوران وکٹوں کے پیچھے 41 شکار کیے۔ انہوں نے 11 میچوں میں 38 کیچز تھامنے کے ساتھ ساتھ 3 کھلاڑیوں کو اسٹمپ آؤٹ کرکے بہترین وکٹ کیپر کا ایوارڈ حاصل کیا۔

    اس فہرست میں دوسرا نام کامران اکمل کے بھائی عدنان اکمل کا ہے۔ سدرن پنجاب سے تعلق رکھنے والے عدنان اکمل نے ٹورنامنٹ کے دوران وکٹوں کے پیچھے 33 شکار کیے۔سندھ کے سرفرازا احمد وکٹوں کے پیچھے 26 شکار کرکے تیسرے بہترین وکٹ کیپر رہے۔

    بلوچستان کے عمران بٹ نے بطور فیلڈر سب سے زیادہ کیچز تھامے۔ ٹورنامنٹ کے دوران ان کےکیچز کی کل تعداد 16 رہی۔

    ٹیموں کی کارکردگی :

    سنٹرل پنجاب: 4 فتوحات، ایک شکست اور 6 ڈراز
    ناردرن: 3 فتوحات، 3 شکستیں اور 5ڈراز
    خیبرپختونخوا: 2 فتوحات، 1شکست اور 7ڈراز
    سدرن پنجاب: 1فتح، کوئی شکست نہیں اور 9ڈراز
    سندھ: کوئی فتح نہیں، 2 شکستیں اور 8ڈراز
    بلوچستان: کوئی فتح نہیں، 3 شکستیں اور 7ڈراز

    سب سے زیادہ اسکور:

    سنٹرل پنجاب: فائنل میں ناردرن کے خلاف 8 وکٹوں کے نقصان پر 675 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنا
    سندھ: بلوچستان کے خلاف 515 رنز کا مجموعہ
    بلوچستان:خیبرپختونخوا کے خلاف8 وکٹوں کے نقصان پر 553 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرنا
    سدرن پنجاب :سندھ کے خلاف 546 رنز کا مجموعہ
    ناردرن: سدرن پنجاب کے خلاف 6 وکٹوں کے نقصان پر550پر اننگز ڈکلیئر کرنا
    خیبرپختونخوا: ناردرن کے خلاف9و کٹوں کے نقصان پر 526 پر اننگز ڈکلیئر کرنا

  • نسیم شاہ کا نام قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم سے واپس محمد وسیم کو شامل کردیا گیا

    نسیم شاہ کا نام قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم سے واپس محمد وسیم کو شامل کردیا گیا

    لاہور: نسیم شاہ کا نام قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم سے واپس محمد وسیم کو شامل کردیا گیا ،باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ قومی انڈر 19 اسکواڈ سے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ کا نام واپس لے لیا ہے۔ ایونٹ 17 جنوری سے 9 فروری تک جنوبی افریقہ میں جاری رہے گا۔

    سلیم جعفر کی سربراہی میں کام کرنے والی قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی نے نسیم شاہ کے متبادل کے طور پر محمد وسیم جونیئر کو اسکواڈ میں شامل کرلیا ہے۔ محمد وسیم جونیئر کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے۔

    اس سے قبل محمد وسیم جونیئر اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ اور دورہ جنوبی افریقہ میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ نوجوان فاسٹ باؤلر نے دونوں ایونٹس میں 3،3 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ دورہ سری لنکا پر محمد وسیم جونیئر نے 7 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی تھی۔

    محمد وسیم ایک روزہ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ کا ایک میچ کھیل چکے ہیں، جس میں انہوں نے 3 وکٹیں حاصل کیں جبکہ تین روزہ ٹورنامنٹ کے تین میچوں میں شرکت کرنے والے فاسٹ باؤلر نے ایونٹ میں سات کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا ہےکہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور بین الاقوامی کرکٹ میں جگہ بنانے کا ایک شاندار موقع ہے۔ فاسٹ باؤلر نسیم شاہ اس کی بہترین مثال ہیں۔

    وسیم خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے مثبت حکمت عملی کو اپناتے ہوئے نسیم شاہ کا نام ایونٹ کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ سے واپس لے کر ایک نئے کھلاڑی کو صلاحیتیں دیکھانے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی جونیئر سلیکشن کمیٹی کی جانب سے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ کے لیے بہترین کھلاڑیوں پرمشتمل اسکواڈ کا اعلان کیا گیا تھا لہٰذا اس تبدیلی سے ایونٹ میں پاکستان کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔

    چیف ایگزیکٹو پی سی بی کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ اب قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہیں اور باؤلنگ کوچ وقار یونس کی زیرنگرانی اپنی باؤلنگ میں مزید بہتری کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نسیم شاہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کے لیے قومی ٹیم کو دستیاب ہوں گے۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم اس سے قبل 2004 بنگلہ دیش اور 2006 سری لنکا میں منعقدآئی سی سی انڈر 19 ورلڈکپ کی فاتح رہ چکی ہے۔ پاکستان ایونٹ کے 3 ایڈیشنز میں رنرزاپ بھی رہ چکا ہے۔

    24 روز تک جاری رہنے والے ایونٹ میں 16 ممالک کی ٹیمیں شرکت کریں گی۔آئندہ سال17 جنوری سے شروع ہونے والے ایونٹ کا فائنل بینونی کے جے پی مارک اوول میں کھیلا جائے گا۔ ایونٹ کے فاتح کا فیصلہ9 فروری کو ہوگا۔

    ایونٹ میں پاکستان کا پہلا میچ 19جنوری کوسکاٹ لینڈ کے خلاف پوچیف اسٹروم میں کھیلاجائے گا۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ایونٹ میں ا پنا دوسرا میچ22 جنوری کو زمباوے کے خلاف پوچیف اسٹروم میں کھیلے گی۔

    گروپ مرحلے میں پاکستان کا آخری میچ بنگلہ دیش کے خلاف ہوگا۔ دونوں ٹیمیں 24 جنوری کو پوچیف اسٹروم میں مدمقابل آئیں گی۔

    آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کے لیے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کا تربیتی کیمپ یکم سے نو جنوری 2020 تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جاری رہے گا۔ قومی انڈر 19 اسکواڈ 10 جنوری کوجنوبی افریقہ کے لیے روانہ ہوگا۔لاہورمیں آئندہ چند روز کے لیے میڈیا کوریج کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:

    یکم جنوری بروزبدھ:

    • دوپہراڑھائی بجے: ہیڈ کوچ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم اعجاز احمد نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    3جنوری بروزجمعہ:

    • دوپہراڑھائی بجے: قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے بیٹسمین حیدر علی نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    6جنوری بروزپیر:

    • دوپہراڑھائی بجے: قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کےاسپنرآرش علی خان نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    7جنوری بروزمنگل:

    • دوپہراڑھائی بجے: قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کےآلراؤنڈرمحمد عباس آفریدی نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    8جنوری بروزبدھ:

    • دوپہراڑھائی بجے: قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کےبیٹسمین محمد عرفان خان نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    9جنوری بروزجمعرات:

    • دوپہراڑھائی بجے: قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کےکپتان ر وحیل نذیر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں میڈیا سے گفتگو کریں گے

    10جنوری بروز جمعہ:

    • قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی جنوبی افریقہ روانگی

  • جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پرپاکستان پہنچ گئے، پاکستانی کھلاڑیوں کےساتھ کیا سلوک کریںگے،خبرآگئی

    جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پرپاکستان پہنچ گئے، پاکستانی کھلاڑیوں کےساتھ کیا سلوک کریںگے،خبرآگئی

    اسلام آباد :جاپانی بیس بال کوچ دوروزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے،پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ کیا سلوک کریں گے ،خبر آگئی ،اطلاعات کےمطابق کازویایاگی جاپان میں نوجوان بیس بال کھلاڑیوں کو تربیت دیتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت کے حوالے سے اپنی دلچسپی ظاہر کی جس پر انہیں فیڈریشن کی طرف سے باقاعدہ پاکستان مدعو کیا گیا ہے۔

    جاپانی بیس بال کوچ کازویایاگی اپنے دورہ پاکستان میں پہلے اسلام آباد بیس بال اکیڈمی پہنچے۔ اور کھلاڑیوں کے ٹریننگ سیشن کا جائزہ لیا اور کھلاڑیوں خاص طور پر پچرز کو گیم کے حوالے سے مفید ٹپس بھی دیں۔ انہوں نےیہ بھی امید ظاہر کی کہ پاکستانی کھلاڑی بھی عالمی مقابلوں میں نمایاں کھیل پیش کرسکتے ہیں‌

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جاپانی کوچ کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستان آکر بہت خوشی ہوئی۔ پاکستان میں بیس بال کا قدرتی اور بہترین ٹیلنٹ موجود ہے جس کو باقاعدہ ٹریننگ کی ضرورت ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے حوالے سے ایک محفوظ ملک ہے۔ دوسرے مرحلے ميں جاپانی کوچ بیس بال اکیڈمی صوابی کا دورہ کریں گے۔

  • پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی 2019 کی کارکردگی رپورٹ آگئی

    باغی ٹی وی رپورٹ : قومی انڈر 19 ٹیم نے سری لنکا اور جنوبی افریقہ کو شکست دی. مجموعی طور پر 2019 قومی انڈر 19 ٹیم کے لیے بہتر سال ثابت ہوا، 2020 کا آغاز ورلڈکپ جیت کر کرنا چاہتے ہیں، کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم روحیل نذیر

    سال 2019 درحقیقت قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 کی تیاریوں کا سال تھا۔ رواں سال پاکستان نے دو مختلف ممالک کی انڈر 19 کرکٹ ٹیموں کے خلاف سیریز کھیلنے کے ساتھ ساتھ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں بھی شرکت کی۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے ورلڈکپ 2020 کی تیاریوں کا آغاز سری لنکا کے خلاف پانچ میچوں پر مشتمل سیریز سے کیا۔ 26 مئی سے 5 جون تک جاری رہنے والی سیریز میں پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے 2-3 سے کامیابی حاصل کی۔

    دورہ سری لنکا کے بعد قومی انڈر 19 اسکواڈ جنوبی افریقہ روانہ ہوا جہاں پچاس اوورزپر مشتمل 7 میچوں کی سیریز کا آغاز 22 جون سے ہوا۔ 7 جولائی تک جاری رہنے والی سیریزکے تمام میچز پاکستان نے جیتے۔

    رواں سال ستمبر میں قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں شرکت کی، 5 سے 14 ستمبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں پاکستان نے افغانستان، بھارت اور کویت کی انڈر 19 کرکٹ ٹیموں کے خلاف میچز کھیلے جہاں فتح کی دیوی صرف کویت کے خلاف میچ میں ہی پاکستان پر مہربان ہوئی۔

    اس کے علاوہ قومی انڈر 19 کرکٹرز روحیل نذیر اور حیدر علی نے 14 سے 23 نومبر تک جاری رہنے والے ایونٹ میں قومی ایمرجنگ ٹیم کی نمائندگی کی تھی۔ دونوں کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی کی بدولت پاکستان نے بنگلہ دیش میں منعقدہ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ جیتا ۔

    روحیل نذیر، کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم:

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان روحیل نذیر کا کہنا ہے کہ سال 2019 مجموعی طور پرقومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے بہتر سال ثابت ہوا، رواں سال میگا ایونٹ کی تیاریوں کاآغاز سری لنکا کے خلاف سیریز سے ہوا۔ روحیل نذیر نے کہا کہ سیریز میں کامیابی کے باوجود ٹیم منیجمنٹ کی جانب سے بیٹنگ میں چند خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

    کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریزمیں بلے بازوں نے بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں ٹیم کلین سوئیپ کرنے میں کامیاب رہی۔ روحیل نذیر نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف سیریز میں قومی بلے بازوں کو میچ فنش کرنے میں دشواری کا سامنا تھا تاہم جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں بیٹنگ لائن اپ نے اس خامی پر قابو پالیا۔

    روحیل نذیر نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز انتہائی اہم تھی کیونکہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 بھی ادھر ہی کھیلا جانا ہے لہٰذاقومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کی جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں کنڈیشنز سے ہم آہنگی انتہائی ضروری تھی۔

    قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے کپتان روحیل نذیر نے کہا کہ اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں افغانستان کے خلاف میچ میں شکست سے ٹیم کےمورال میں کمی واقع ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ایونٹ کے پہلے ہی میچ میں ناکامی کے باعث ٹورنامنٹ میں ٹیم کا اعتمادبحال کرنے میں وقت لگا جس کے باعث کویت سے کامیابی کے باوجود قومی انڈر 19 ٹیم ٹورنامنٹ کے اگلے راؤنڈ میں کوالیفائی نہیں کرسکی۔

    روحیل نذیر نے کہاکہ اعجاز احمد کی نگرانی میں قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم بہتری کی جانب گامزن ہے ، حیدر علی کے ہمراہ اے سی سی ایمرجنگ ٹیمز ایشیا کپ میں شمولیت سے بہت فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے فائنل میں سنچری اسکور کرنے کے بعد جو اعتماد ملا ہے اس کا فائدہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ میں ہوگا۔

    روحیل نذیرنے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ رواں سال ان کی انفرادی کارکردگی میں تسلسل رہا ۔ انہوں نے کہا کہ حیدر علی، نسیم شاہ سمیت دیگر کھلاڑیوں نے قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے لیے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    کپتان قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم پرعزم ہیں کہ سال بھر جاری رہنے والی تیاریوں کا فائدہ آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم سرفراز احمد اس ٹیم کو بہترین قرار دے چکے ہیں، انہیں امید ہے کہ اسکواڈ میں شامل ہر کھلاڑی ایونٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    روحیل نذیر نے کہا کہ آئندہ ورلڈکپ قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل بیشتر کھلاڑیوں کا آخری ایونٹ ہوگا، انہیں امید ہے کہ آئندہ سال قومی انڈر 19 کرکٹ ٹیم میں شامل نئے کھلاڑی کامیایبیوں کا تسلسل برقرار رکھیں گے۔

  • کرکٹ کے فخر  بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    کرکٹ کے فخر بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    کرکٹ کے فخر بابر اعظم کی سال 2019 میں نمایاں کارکردگی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دنیائے کرکٹ کے واحد بیٹسمین، تینوں فارمیٹ میں آئی سی سی پلیئرز رینکنگ کے 6 بہترین بلے بازوں میں شامل
    سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹسمین بابراعظم کے لیے بہترین سال رہا۔ رواں سال قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے تینوں فارمیٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے باؤنسی ٹریکس سے لے کر آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں اپنی دھاک بٹھانے والے بیٹسمین نے ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹونٹی کرکٹ، تینوں فارمیٹ میں عمدہ کھیل پیش کرکے شائقین کرکٹ کے ذہنوں پر انمنٹ نقوش قائم کردئیے۔

    مڈل آرڈر بلے باز نے 6 ٹیسٹ میچوں میں 68.44 کی اوسط سے 616 رنز بنائے۔ سال 2019 میں تین سنچریاں اور تین نصف سنچریاں اسکور کرنے والے بابر اعظم نے ٹیسٹ کرکٹ میں 72.30 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز اسکور کیے۔

    بیس ایک روزہ میچوں میں 60.66 کی اوسط سے 1092 رنز بنانے والے بابراعظم نے تین سنچریاں اور چھ نصف سنچریاں اسکور کیں۔ رواں سال ایک روزہ کرکٹ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 93.30 رہا۔

    بابراعظم نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں رواں سال 10 میچز کھیلے جہاں انہوں نے 136.99 کے اسٹرائیک ریٹ سے 374 رنزبنائے۔ رواں سال ٹی ٹونٹی کرکٹ میں چار نصف سنچریاں اسکور کرنے والے بابر اعظم نے 41.55 کی اوسط سے رنز بنائے۔

    رواں سال کے اختتام پر بابراعظم دنیائے کرکٹ کے وہ واحد بیٹسمین ہیں جن کا شمار تینوں فارمیٹ میں آئی سی سی پلیئرز رینکنگ کے 6 بہترین بلے بازوں میں ہوتا ہے۔ بابراعظم ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور ٹیسٹ رینکنگ میں چھٹے نمبر براجمان ہیں۔

    بابر اعظم کا کہنا ہے کہ سال 2019 ان کے لیے ایک شاندار سال رہا، اس دوران انہوں نے تمام کنڈیشنز میں بہترین کارکردگی دکھانے کا ہنر سیکھا۔مڈل آرڈر بلے باز نے کہا کہ اس سے قبل بھی ان کا بلا رنز اگل رہا تھا تاہم وہ میچ وننگ پرفارمنس دینے میں کامیاب نہیں ہورہے تھے لہٰذا رواں سال انہوں نے اس خامی پر قابو پاکر بہترین نتائج دینے کی کوشش کی۔

    بابر اعظم نے کہا کہ رواں سال انہیں پہلی بار ورلڈکپ کھیلنے کا موقع ملا جس پر وہ بہت مسرور ہیں۔ ایونٹ میں 67.71 کی اوسط سے 474 رنز بنانے والے بابر اعظم کا کہنا ہے کہ بچپن میں وہ ورلڈکپ کے میچز دیکھنے کے شوقین تھے۔ مڈل آرڈر بیٹسمین نے کہا کہ میگا ایونٹ کے لیے قومی اسکواڈ میں منتخب ہوتے ہی انہوں نے اعلیٰ کارکردگی دکھانے کا عزم کرلیا تھا۔

    بابراعظم کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم کا بہترین بیٹسمین بننا ان کا ہدف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں متاثر کن کارکردگی کے باعث انہیں پذیرائی ملی۔ بابراعظم نے کہا کہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 101 رنز کی ناقابل شکست اننگز میگا ایونٹ میں ان کی یادگار کارکردگی ہے، جس سے پریشر صورتحال میں انہیں قابل دید نتائج دینے کا موقع ملا۔

    قومی کرکٹر نے کہا کہ رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی اطمینان بخش رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سال سے وہ ٹیسٹ کرکٹ میں خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپائے تاہم رواں سال وہ خامیوں پر قابو پا کر طویل طرز کی کرکٹ میں لمبی اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کہا کہ جوں جوں ایک کھلاڑی طویل فارمیٹ کھیلتا رہتا ہے اس کی کارکردگی میں بہتری کے امکانات روشن ہوتے جاتے ہیں۔

    مڈل آرڈر بیٹسمین نے کہا کہ جنوبی افریقہ کی سرزمین پر ڈیل اسٹین جیسے باؤلر کے خلاف لمبی اننگز کھیلنے پر ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ٹیسٹ کرکٹ میں نصف سنچری کو سنچری میں بدلنے کی صلاحیت بھی رواں سال بہتر ہوئی، آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچز میں کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بابراعظم نے آسٹریلیا کے خلاف سنچری کو رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی بہترین اننگز قرار دیا۔

    پچیس سالہ بلے باز نے کہا کہ ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ میچ کھیلنے کا احساس ہی جداگانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے اور میچ جیتنے پر خدا کے شکرگذار ہیں۔ بابر اعظم نے کہا کہ اسٹیڈیم میں موجود شائقین کرکٹ کے نعروں میں اپنے نام کی گونج سننا ناقابل بیان لمحہ ہوتا ہے، ہوم گراؤنڈ پر ٹیسٹ کھیلنے پر ان پر کوئی اضافی دباؤ نہیں تھا بلکہ اس دوران شائقین کرکٹ کی اسپورٹ کے باعث انہیں اپنی بیٹنگ پر مزید فوکس کرنے کا موقع مل گیا۔

    بابراعظم نے کہا کہ ایک اچھا کھلاڑی اپنے کیرئیر کے دوران بہتر سے بہتر کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال اچھا ثابت ہو تو آئندہ سال اس معیار کو برقرار رکھنے کے لئے مزید بہتری درکار ہوتی ہے۔

    بابر اعظم نے کہا کہ اعلیٰ کارکردگی سے جہاں اعتماد میں بڑھتا ہے تو وہیں کھلاڑی کی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی ٹیم کی کپتانی کرنا ان کے لیے اعزاز ہے، گو کہ آسٹریلیا کے خلاف قومی ٹیم خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی تاہم وہ پرامید ہیں کہ پاکستان آئی سی سی ٹی ٹونٹی کرکٹ ورلڈکپ 2020 میں شاندار نتائج دینے میں کامیاب ہوگی

  • 2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال،گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال،گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ بحالی کا سال.، گرین شرٹس نے کیا کیا کامیابی سمیٹی

    باغی ٹی وی رپورٹ 2019 پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کا سال ثابت ہوا، اس سال پاکستان ٹیسٹ ٹیم کا آغاز تو شکست سے ہوا، لیکن اختتام شاندار کامیابی پر ہوا۔

    پاکستان پورے سال ٹیسٹ میں پہلی کامیابی کی تلاش میں رہا، جنوبی افریقا میں کامیابی ہاتھ آئی، نہ آسٹریلیا میں جیت قریب آئی۔پاکستان ٹیسٹ ٹیم نے جنوبی افریقا کے خلاف اس سال دو ٹیسٹ کھیلے دونوں میں شکست ہوئی۔ آسٹریلیا گئے تو وہاں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔

    لیکن دس سال بعد جب پاکستان میں ٹیسٹ میچز کا آغاز ہوا اور سری لنکا نے دو ٹیسٹ کھیلنے کے لیے پاکستان کا رخ کیا، تو پہلا ٹیسٹ بارش کی نذر ہوگیا، لیکن عابد علی نے راولپنڈی ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنائی، وہ ون ڈے اور ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے بلے باز بن گئے۔

    سال کے اختتام پر سیریز کا دسرا ٹیسٹ نیشنل اسٹیدیم کراچی میں ہوا، جو ریکارڈ ساز ثابت ہوا، جہاں پر عابد علی نے پھر سنچری داغ دی اور ابتدائی دو ٹیسٹ میں سنچریاں بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹسمین بن گئے۔

    شان مسعود اور عابد علی نے سری لنکا کیخلاف 278 رنز کی سب سے بڑی اوپننگ شراکت بنائی۔ اٹھارہ سال بعد پاکستان کے دونوں اوپنرز نے سنچریاں بنائیں۔
    کراچی ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں پاکستان کے ابتدائی چار بیٹسمینوں نے سنچریاں بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔پھر نسیم شاہ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے والے سب سے کم عمر فاسٹ بولر بن گئےیوں پاکستان نے سری لنکا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ جیت کر سال کی پہلی کامیابی حاصل کی۔اس سال پاکستان کے چار فاسٹ بولرز نے ڈیبیو کیا جس میں نسیم شاہ، عثمان شنواری موسیٰ خان اور عابد علی شامل ہیں۔
    بابر اعظم نے تین سنچریوں کی مدد سے سال میں سب سے زیادہ 546 رنز بنائے تو شاہین شاہ آفریدی نے چھ ٹیسٹ میں سب سے زیادہ 17 وکٹیں حاصل کیں

  • سال 2019: قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے جائزے کا سال، حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی

    سال 2019: قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے جائزے کا سال، حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی

    لاہور:سال 2019: قومی خواتین کرکٹ کی ترقی کا سال ، جائزے کا سال ، پہلی مرتبہ حقائق کے پیش کرکےحقیقی تبدیلی ثابت کردی،اطلاعات کے مطابق سال 2019 قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے ایک بہترین سال رہا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے سال بھر خواتین کرکٹ کے فروغ کے لیے اقدامات اٹھائے۔

    رواں سال قومی خواتین کرکٹ ٹیم نےآئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ پاکستان نے سال دوہزار انیس کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلا ف سیریز میں کامیابی سے کیا۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز 1-1 سے برابر رہی۔

    سال 2019 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کی خواتین کرکٹ ٹیموں کی میزبانی ہوم گراؤنڈز پرکی تاہم انگلینڈ کے خلاف قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے ہوم سیریز ملائیشیا میں کھیلی۔ رواں سال سنٹرل کنٹریکٹ میں شامل خواتین کرکٹرز کی آمدن میں اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ پی سی بی کی جانب سے ملک بھر میں گرلز اکیڈمیز کو فعال کرکے خواتین کرکٹ کو فروغ دیا گیا۔

    آئی سی سی انڈر 19 ویمنز کرکٹ ورلڈکپ 2021 کی تیاریوں کے لیے پی سی بی نے لاہور میں اسکلز ٹوشائن انڈر 18 ویمنز ٹی ٹونٹی چیمپئن شپ کا انعقاد کیا۔ ایونٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی 25 کرکٹرز پر مشتمل کیمپ کراچی میں لگایا گیا ہے۔

    کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم بسمہ معروف کاکہنا ہےکہ سال 2019 مجموعی طور پر قومی خواتین کرکٹ کے لیےایک ا چھا سال رہا۔انہوں نے کہا کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے سال کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں کھیلی گئی ٹی ٹونٹی سیریز سے کیا، ہوم گراؤنڈ پر کھیلنے کے باعث ٹیم اضافی دباؤ کا شکار تھی جس کی وجہ سے پہلے ٹی ٹونٹی میچ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

    بسمہ معروف نے کہا کہ پہلے ٹی ٹونٹی کے بعداسکواڈ میں شامل تمام کرکٹرز کے درمیان ایک مثبت ٹیم میٹنگ ہوئی جس میں ہر کھلاڑی نے ملک میں ویمنز کرکٹ کی پذیرائی کےلیے عمدہ کارکردگی دکھانے کےعزم کا اظہار کیا جس کے نتیجے میں شائقین کرکٹ کو آئندہ میچوں میں بہترین کرکٹ دیکھنے کو ملی۔

    کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم کاکہنا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز برابر کرنا قومی ویمنز کرکٹرز کےاعتماد میں اضافہ کا سبب بنا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں بنگلہ دیش کے خلاف سیریز میں بھی قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ بسمہ معروف نےکہا کہ سال کے اختتام پر کھیلی گئی انگلینڈ کے خلاف سیریز میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم خاطر خواہ کھیل پیش نہ کرسکی تاہم سیریز کے اختتام پر پاکستان کے لیے کئی مثبت پہلو سامنے آئے جس میں ایک یہ کہ فی الحال قومی خواتین کرکٹ ٹیم آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں چوتھی پوزیشن پر موجود ہے۔

    بسمہ معروف نےکہا کہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم کو آئندہ سال آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں شرکت کرنا ہے، امید ہے کہ پاکستان ایونٹ کا اختتام ٹاپ فور ٹیموں میں کرے گا۔

    قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کی رکن اسماویہ اقبال کاکہنا ہےکہ یہ سال آن اور آف دا فیلڈ دونوں اعتبار سے قومی خواتین کرکٹ کے لیے سازگار رہا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال پی سی بی نے بہت سے ڈویلمنٹ پروگرامز کا انعقاد کیا جبکہ قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی سال بھر مجموعی طور پر خاطر خواہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    اسماویہ اقبال نے کہا زونل اکیڈمیز کے مستقل بنیادوں پر فعال ہونے سے قومی خواتین کرکٹرز کو روزانہ کی بنیاد پر ٹریننگ کے مواقع میسر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زونل اکیڈمیزمیں خواتین کھلاڑیوں کے لیے علیحدہ سہولیات کی دستیابی اور بہترین کوچز کی زیرنگرانی تربیت سے نئی کھلاڑیوں میں کھیل کا شوق بڑھ رہا ہے۔اسماویہ اقبال نے کہا کہ انہیں اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران یہ سہولیا ت میسر نہیں تھیں۔

    قومی خواتین کرکٹ سلیکشن کمیٹی کی رکن کاکہنا ہےکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے حال ہی میں انڈر 18 ویمنز ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جبکہ قومی ویمنز ایمرجنگ ٹیم نے گذشتہ ماہ ایشیا کپ میں شرکت کی ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے مستقل بنیادوں پر ڈومیسٹک ویمنز ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا جارہا ہے جس سے خواتین کرکٹرز کے کھیل میں نکھار آرہا ہے، یہی وجہ ہےکہ رواں سال کئی خواتین کرکٹرز نے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا ہے۔

  • مصباح الحق کی نظر میں سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کیسا رہا؟

    مصباح الحق کی نظر میں سال 2019 قومی کرکٹ ٹیم کے لیے کیسا رہا؟

    قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے، مصباح الحق نے پریس کانفرنس کرکے سال 2019 میں ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے رکھ دیا ہے،انہوں نے مزید کہا ہےکہ پاکستان نے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی پہلی کامیابی سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں حاصل کی تاہم اس سے قبل قومی ٹیسٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے خلاف متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکی۔

    قومی ٹیم نے آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے گروپ مرحلے میں مسلسل چار میچز جیتے تاہم وہ نیٹ رن ریٹ کی بنیاد پر اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی نہ کرسکی۔ ایک روزہ کرکٹ میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف شکست کھانے والی قومی کرکٹ ٹیم نے سری لنکا کے خلاف ایک روزہ سیریز میں کامیابی حاصل کی۔

    رواں سال پاکستان نے ٹی ٹونٹی کرکٹ میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی تاہم اس دوران پاکستان کو جنوبی افریقہ، انگلینڈ، سری لنکا اور آسٹریلیا سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
    آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019 کے بعد مصباح الحق نے قومی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ کا عہدہ سنبھالا۔ اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم نے 2 ایک روزہ، 5 ٹی ٹونٹی اور 4 ٹیسٹ میچز کھیلے۔

    قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہےکہ سال 2019 قومی ٹیسٹ کرکٹ ٹیم کے لیے ایک مشکل سال تھا، گو کہ پاکستان کرکٹ ٹیم رواں سال کے اختتام پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتنے میں کامیاب رہی مگر اس سے قبل پاکستان کرکٹ ٹیم جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے دوروں پر متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال قومی کرکٹ ٹیم محدود اوورز کی کرکٹ میں بھی زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکی، جس کی ایک بڑی وجہ اہم میچز سے قبل قومی کرکٹرز کا آؤٹ آف فارم ہونا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک روزہ کرکٹ میں فخر زمان قومی کرکٹ ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کا اہم ہتھیار تھے مگر ورلڈکپ سے قبل انگلینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف سیریز میں ان کی کارکردگی میں تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔

    چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے کہا کہ باؤلرز میں حسن علی اور شاداب خان کی فارم خراب ہونے کے باعث قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال آئی سی سی ٹی ٹونٹی ٹیمز رینکنگ میں تو اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی مگر اس فارمیٹ میں بھی ٹیم کی جیت کا تناسب کم رہا۔ پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم رواں سال صرف ایک ٹی ٹونٹی میچ ہی جیت سکی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ سال بھر کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو اس دوران قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کئی باصلاحیت کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی شاندار رہی، جس میں سب سے بڑا نام بابراعظم کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم نے تینوں فارمیٹ میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ٹی ٹونٹی کرکٹ کے صف ِ اول کے بلے باز بابراعظم نے ایک روزہ کرکٹ میں بھی عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھا جس کی ایک مثال آئی سی سی ورلڈکپ 2019 میں ان کی بیٹنگ رہی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ بابراعظم نے رواں سال ٹیسٹ کرکٹ میں بھی جو کارکردگی دکھائی وہ ان کی کلاس کے عین مطابق ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف آسٹریلیا میں سنچری اسکور کرنا اور سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز کے دونوں میچوں میں سنچریاں جڑنا بھی بابراعظم کی صلاحیتوں کا عملی نمونہ رہا۔

    چیف سلیکٹر اور ہیڈ کوچ قومی کرکٹ ٹیم نے نسیم شاہ اور شاہین شاہ آفریدی کو سال 2019 میں قومی کرکٹ ٹیم کے بہترین باؤلرز قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کی آئی سی سی ورلڈکپ 2019 سے لے کر آسٹریلیا کی پچز اور پھر سری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کارکردگی شاندار رہی۔ مصباح الحق نے کہا کہ نسیم شاہ کی آسٹریلیا اور پھر سری لنکا کے خلاف باؤلنگ میں ایک بہتر فاسٹ باؤلر کی جھلک نظر آئی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ قومی کھلاڑیوں کو جتنے زیادہ میچز ملیں گے ان کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ طویل طرز کی کرکٹ میں محمد رضوان کی کارکردگی نمایاں رہی، اسی طرح افتخار احمد کی آسٹریلیا میں کارکردگی متاثر کن رہی۔

    مصباح الحق نے کہا کہ رواں سال ٹیم کے انتخاب اور فائنل الیون کے چناؤ کے حوالے سے جو فیصلے لیے گئے وہ آسان نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان فاسٹ باؤلرز کو آسٹریلیا میں کھیلانا مشکل فیصلہ تھا۔ مصباح الحق نے کہا کہ فخر زمان، حسن علی اور یاسر شاہ کی فارم خراب ہونے کے باعث ٹیم کی کارکردگی پر اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز احمد اور شعیب ملک کی فارم کا نہ ہونا سمیت کئی اہم ایشوز عہدہ سنبھالتے ہی ان کے سامنے کھڑے تھے۔

    مصباح الحق نے کہا کہ مستقبل میں بہترین نتائج کے حصول کے لیے کام جاری ہے جس کے رزلٹ آہستہ آہستہ سب کے سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اصل ہدف قومی کرکٹ ٹیم کو تینوں فارمیٹ میں وننگ ٹریک پر گامزن کرنا ہے۔ مصباح الحق نے کہا کہ قومی ٹیم مستقبل میں بہتر نتائج دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، اسکواڈ میں شامل تمام کھلاڑیوں کا مستقبل روشن ہے۔