لاہور : کرکٹ کا میدان سجنےکوتیار ہے ، پا کستان اور بنگلہ دیش کے مابین سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی آج ہوگی۔تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ کل کھیلا جائے گا ،سیریز کی ٹرافی کی تقریب رونمائی آج ہو گی،جس کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتان پریس کانفرنس کریں گے۔ قومی ٹی 20 ٹیم کے کپتان بابر اعظم ہوم گراؤنڈ پر پہلی بار ٹیم کی قیادت کریں گے۔جبکہ بنگالی ٹائیگرز کی قیادت محمود اللہ بنگش کر رہے ہیں۔
بنگلہ دیشی مہمان ٹیم کل لاہور پہنچی ہے ، بنگلہ دیشی ٹیم آج قذافی اسٹیڈیم میں پریکٹس کرے گی ۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے مابین لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں تین ٹی 20 میچز کھیلے جائیں گے۔ دونوں ٹیموں کے مابین پہلا ٹی 20 میچ 24 جنوری،دوسرا 25 جنوری جبکہ تیسرا اور آخری میچ 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش ٹی 20 کرکٹ ٹیم 12 سال بعد پاکستان آئی ہے ،بنگالی ٹی 20 ٹیم نے 2008میں آخری بار پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ ۔ دونوں ٹیمیں آخری مرتبہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2016 میں ایک دوسرے کے مدمقابل آئیں تھیں جس میں پاکستان نے بنگلہ دیش کو شکست دی تھی۔
لاہور:پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ سیریز کے لیے مہمان ٹیم پاکستان پہنچ گئی ہے، اطلاعات کے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی سیریز کے لئے لاہور پہنچ گئی،ائیرپورٹ پرپاکستانی کرکٹ حکام نے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کا استقبال کیا
باغی ٹی وی کے مطابق ابھی تھوڑی دیر پہلے مہمان ٹیم کا طیارہ لاہور ائیر پورٹ پر لینڈ کرگیا، یہ بھی اطلاعات کے مطابق پی سی بی حکام نے بنگلہ دیش ٹیم کا استقبال کیا ، اس موقع پر پی سی بی حکام نے مہمان کھلاڑیوں کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے
باغی ٹی وی کےمطابق مہمان ٹیم کی آمد کے موقع پر لاہور ائیر پورٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیئے گئے تھے، مہمان ٹیم کو ائیر پورٹ سے پی سی ہوٹل ہہنچایا جائے گا ، اس کے بعد کل بنگلہ دیش ٹیم کل دوپہر قذافی اسٹیڈیم میں پریکٹس کرے گی
باغی ٹی وی کےمطابق مہمان کپتان محمود اللہ ٹرافی کی رونمائی کے بعد پریس کانفرنس کریں گے،بنگلہ دیش ٹیم میں محمود اللہ کپتان ،تمیم اقبال خان ،سومیا سرکار شامل نعیم شیخ، نجم الحسین شانتو، لٹن کمار داس، ایم ڈی مٹھن الامین حسین ، روبیل حسین اور حسن محمود بھی ٹیم میں شامل ہیں جبکہ عفیف حسین ، مہدی حسن ، مستفیض الرحمن ، شفیع الاسلام ٹیم کا حصہ ہیں
لاہور:کھیل کی دنیا سے پاکستان کے لیے ایک اور اچھی خبر،پاکستان انڈر 19 کرکٹ ٹیم زمبابوے انڈر 19 کرکٹ ٹیم کو 38 رنز سے شکست دے کر آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی۔
باغی ٹی وی کےمطابق پاکستان اور زمبابوے کے میچ پوچیف اسٹروم میں آئی سی سی انڈر 19 کرکٹ ورلڈ کپ کے گروپ بی کے میچ میں زمبابوے نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی ۔پاکستان نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں محمد حارث کی جار حانہ اننگز کی بدولت 9 وکٹوں کے نقصان پر 294رنز بنائے۔محمد حارث نے 48 بالز پہ 81 رنز کی اننگز کھیلی۔ ان کے علاوہ قاسم اکرم 54 اور فہد منیر 53 رنز بنا کر نمایاں رہے۔
زمبابوے کی جانب سے ڈی گرانٹ نے 3 جبکہ ایم شمبا،ایس نڈلیلا،ڈی میئرس اور ٹی نینگانی نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔ہدف کے تعاقب میں زمبابوے کی پوری ٹیم 46.3اوور میں 256رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ زمبابوے کی جانب سے ایم شمبا58 اور میڈھیویر53رنز بناکر نمایاں رہے۔ ان کے علاہ کپتان ڈی میئرس39 اور ٹگویٹے23 رنزبناسکے۔پاکستان کی جانب سے طاہر حسین اورعباس آفریدی نے 3،3 جبکہ عامر علی اور قاسم اکرم نے 2،2 وکٹیں حاصل کیں محمد حارث کو جارحانہ اننگز کھیلنے پر مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ انڈر 19ورلڈ کپ میں یہ پاکستان کی مسلسل دوسری کامیابی ہے اور اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے گروپ بی سے کوارٹر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔پاکستان اپنا آخری گروپ میچ 24 جنوری کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گا جو پہلے ہی کوارٹرفائنل کے لیے کوالیفائی کرچکا ہے۔
لاہور:پاکستان:بنگلہ دیش کرکٹ سیریز، کنٹرول روم اورفیلڈ ہسپتال قائم ،اطلاعات کےمطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درميان ٹی ٹوينٹی کرکٹ سیریز کے سلسلے ميں سی سی ٹی وی کنٹرول روم اور عارضی ہسپتال قائم کرديا گيا ۔
نشترپارک سپورٹس کمپلیکس میں نصب ايک سو پچاس سی سی ٹی وی کیمروں کو آپريشنل کرديا گيا ہے جس کی مدد سے ہر شخص کی نگرانی کی جائے گی، نشتر پارک سپورٹس کمپلیکس کا کونہ کونہ سی سی ٹی وی کی نظر میں ہوگا۔
نيشنل ہاکی سٹيڈيم ميں قائم کيے جانے والے بيس بيڈ کے عارضی ہسپتال میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف ۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر طبی امداد فراہم کر سکے گا ہسپتال ميں ای سی جی مشین اور دیگر ٹیسٹ کی مشینیں بھی نصب کی گئی ہیں۔ پاکستان اور بنگلہ ديش کے درميان پہلا ٹی ٹوينٹی ميچ چوبيس جنوری کو کھيلا جاے گا
لاہور: ورلڈ نمبر ون بیٹسمین، بابراعظم، پہلی مرتبہ ہوم گراؤنڈکے سامنے قومی ٹیم کی قیادت کریں گے،باغی ٹی وی کے مطابق دنیائے کرکٹ کے سب سے بہترین بیٹسمین، بابراعظم بنگلہ دیش کے خلاف 24 جنوری بروز جمعہ سے شروع ہونے والی سیریز میں پاکستان کی قیادت کررہے ہیں۔ 25 سالہ کرکٹر 13 سال قبل اسی گراؤنڈ میں بال پکر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھاچکے ہیں، وہ 2007میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ سیریز کےدوسرے ٹیسٹ میچ میں بال پکر رہے۔
بابراعظم نے ستمبر 2016 میں پاکستان کی جانب سے انٹرنیشنل ڈیبیو کیا تھا تاہم 4 سال بعد دائیں ہاتھ کے بیٹسمین آئی سی سی ٹی ٹونٹی رینکنگ میں پہلے، ایک روزہ کرکٹ میں تیسرے اور ٹیسٹ کرکٹ میں ساتویں بہترین بیٹسمین ہیں۔بابراعظم دنیائے کرکٹ میں دوسرے بیٹسمین ہیں جن کی ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں رنز بنانے کی اوسط 50 سے زائد ہے۔ وہ 36 ٹی ٹونٹی میچوں میں50.17 کی اوسط سے1405 رنز بناچکے ہیں۔ بھارت کے کپتان ویرات کوہلی کی ٹی ٹونٹی کرکٹ میں رنز بنانے کی اوسط 52 سے زائد ہے۔
بابراعظم کو ستمبر 2019 میں پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کا کپتان نامزد کیا گیا تھا۔ آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز میں پاکستان کی قیادت کرنے والے بابراعظم پہلی مرتبہ اپنےہوم گراؤنڈ، قذافی اسٹیڈیم لاہور،میں کپتان کی حیثیت سے میدان میں اتریں گے۔
قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم کا کہنا ہےکہ وہ 2007 میں پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان ٹیسٹ میچ کے دوران بال پکر کی حیثیت سے قذافی اسٹیڈیم آتے تھے، 13 سال قبل کا واقعہ آج بھی کل کی بات لگتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیریز میں شامل انضمام الحق، یونس خان، محمد یوسف، مصباح الحق، گریم اسمتھ، جیک کیلس، ہاشم آملااور ڈیل اسٹین جیسے نامور کرکٹرز کو دیکھنے کے لیے روزانہ 3 میل پیدل چل کر گھر سے قذافی اسٹیڈیم پہنچتے تھے۔
بابراعظم نے کہا کہ کرکٹ سے محبت اور اپنے پسندیدہ کرکٹرز کو قریب سے دیکھنے کی لگن نے ہی انہیں آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب تک اپنے کرکٹ کیرئیر میں اسپورٹ کرنے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ بابراعظم نے کہا کہ وہ اپنی کامیابی کا سہرا ، پس پردہ رہنے والے ان تمام ہیروز کے نام کرتے ہیں، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں بھی ان کی توقعات پر پورا اترسکیں۔
بابراعظم اب تک اپنے ہوم گراؤنڈ میں 10 ٹی ٹونٹی میچز کھیل چکے ہیں، جس میں ورلڈالیون کے خلاف سیریز میں 86، 45 اور 48 رنز، 2017 میں سری لنکا کے خلاف ناقابل شکست 34 رنز، ویسٹ انڈیز کے خلاف 17، 97اور ناقابل شکست 51 رنز سمیت سری لنکا کے خلاف 2019 میں 13، 3 اور 27 رنز پر مشتمل اننگز شامل ہیں۔
کپتان قومی ٹی ٹونٹی ٹیم بابراعظم کا کہنا ہےکہ اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے بیٹنگ کے لیے میدان میں جاتے وقت شائقین کرکٹ کا جوش اور ولولہ کسی بھی کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کا سبب بنتا ہے۔ بابراعظم نے کہا کہ ایک طویل عرصہ پاکستان میں کرکٹ کی سرگرمیاں ممکن نہ ہونے کے اثرات بھی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا شمار بھی پاکستان کے ان کرکٹرز میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے کرکٹ کیرئیر کے آغاز کا زیادہ تر حصہ بیرون ملک کرکٹ کھیل کر گزارا۔
بابراعظم نے کہا کہ گذشتہ 10 سالوں میں دیگر ممالک کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے کرکٹرز سے موازنہ کیا جائے تو ہماری مشکلات کا اندازہ ہوگاتاہم اب یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کےخلاف سیریز میں قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کی قیادت کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔
قومی ٹی ٹونٹی ٹیم کےکپتان بابراعظم کاکہنا ہےکہ بنگلہ دیش کے خلاف سیریز کےاعلان سے لے کر اب تک وہ بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیریز کے لیے منتخب کردہ قومی اسکواڈ بہترین سینئر اور باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے ۔ بابراعظم نے کہا کہ ہوم کراؤڈ کے سامنے قومی ٹیم کی قیادت کرنا ان کے بچپن کا خواب تھا جو24 جنوری کو حقیقت کا روپ دھارے گا۔
بابراعظم نےکہا کہ شعیب ملک اور محمد حفیظ کی صورت میں سینئر کھلاڑیوں کی موجودگی اسکواڈ میں شامل نوجوان کھلاڑیوں کے لیے مفید ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بے شک قومی ٹی ٹونٹی ٹیم کو گذشتہ 9 میں سے 8میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا مگر انہیں یقین ہےکہ پاکستان کرکٹ ٹیم ، ٹی ٹونٹی فارمیٹ کی بہترین ٹیم ہے اورہم اس طرز کی کرکٹ میں بہترین نتائج دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
سیریز کے تمام میچز کی ٹکٹیں www.yayvo.com سے آن لائن بک اور ٹی سی ایس کے مراکز سے خریدی جاسکتی ہیں۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کا پہلا میچ 24 جنوری بروز جمعہ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
اسکواڈ:
بابراعظم، کپتان(سنٹرل پنجاب)، احسان علی (سندھ)، عماد بٹ (بلوچستان)، حارث رؤف (ناردرن)، افتخار احمد (خیبرپختونخوا)، عماد وسیم (ناردرن)، خوشدل شاہ (خیبرپختونخوا)، محمد حفیظ (سدرن پنجاب)، محمد حسنین (سندھ)، محمد رضوان، وکٹ کیپر( خیبرپختونخوا)، موسیٰ خان (ناردرن)، شاہین شاہ آفریدی (ناردرن)، شعیب ملک (سدرن پنجاب)اورعثمان قادر (سنٹرل پنجاب)۔
لاہور:قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں واپسی پر محمد حفیظ اور شعیب ملک کے درمیان دلچسپ مکالمہ ، کرکٹ ٹیم کی کارکردگی کا معاملہ،باغی ٹی وی کے مطابق بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے تجربہ کار محمد حفیظ اور شعیب ملک کو قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ 39 سالہ محمد حفیظ اور 37 سالہ شعیب ملک مجموعی طور پر 200 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔
باغی ٹی وی کےمطابق قذافی اسٹیڈیم لاہور میں جاری قومی ٹی ٹونٹی اسکواڈ کے تربیتی کیمپ کے دوران دونوں سینئر کرکٹرز کے درمیان خصوصی مکالمہ ہوا۔ اس موقع پر محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ وہ ہوم گراؤنڈ پر میچ کھیلنے کا شدت سے انتظار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی ٹی ٹونٹی ٹیم میں واپسی "کم بیک” نہیں بلکہ وہ اسےاپنے کیرئیر میں ایک بار پھر "ڈیبیو” کے مترادف سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت کا معیار عمر نہیں بلکہ کارکردگی ہے اور وہ اسی بنیاد پر ٹیم کا حصہ بنے ہیں۔
باغی ٹی وی کےمطابق شعیب ملک نے کہا کہ وہ عمر کو صرف ایک ہندسہ سمجھتے ہیں اور اس تناظر میں ہونے والی تنقید سے فکر مند نہیں ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ 2دہائیوں سے انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کررہےہیں اور اس دوران حاصل ہونے والا تجربہ نوجوان کھلاڑیوں تک پہنچانے کا یہ بہترین وقت ہے۔
اس موقع پر محمد حفیظ کی جانب سے کیے گئے سوال پر شعیب ملک کا کہنا تھا کہ وہ بطور مڈل آرڈر بیٹسمین عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ بیٹنگ کے دوران کپتان بابراعظم پر پریشر کم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بابراعظم پاکستان ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم کے کپتان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک میچ ونرکھلاڑی ہیں۔
شعیب ملک کے جواب کو سراہتے ہوئے محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ کرکٹ میں ٹاپ آرڈر بلے باز کی کارکردگی میچ میں اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محدود طرز کی کرکٹ میں ٹاپ آرڈر بیٹسمین پرپریشر کم ہو تو وہ بہتر انداز سے اننگز کو آگے بڑھاسکتا ہے۔
اس حوالے سے دونوں سینئر کھلاڑیوں نے اتفاق کیا ہےکہ آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2020 میں پاکستان کی ٹیم متاثر کن کارکردگی دکھانے کی اہلیت رکھتی ہے۔انہوں نےکہا کہ قومی ٹی ٹونٹی کرکٹ ٹیم نوجوان اور باصلاحیت کرکٹرز پر مشتمل ہے، بطور سینئر کھلاڑی وہ گراؤنڈ میں ذمہ داری نبھانےکے لیے سب سے آگے ہوں گے۔
دوسری طرف پاکستان اوربنگلہ دیش کے درمیان ہونےوالے میچز سے متعلق کچھ شیڈول سامنے آیا ہے جس کےمطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کا پہلا میچ 24 جنوری بروز جمعہ کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
اسکواڈ:
بابراعظم، کپتان(سنٹرل پنجاب)، احسان علی (سندھ)، عماد بٹ (بلوچستان)، حارث رؤف (ناردرن)، افتخار احمد (خیبرپختونخوا)، عماد وسیم (ناردرن)، خوشدل شاہ (خیبرپختونخوا)، محمد حفیظ (سدرن پنجاب)، محمد حسنین (سندھ)، محمد رضوان، وکٹ کیپر( خیبرپختونخوا)، موسیٰ خان (ناردرن)، شاہین شاہ آفریدی (ناردرن)، شعیب ملک (سدرن پنجاب)اورعثمان قادر (سنٹرل پنجاب)۔
بنگلہ دیش کیسی ٹیم ہے ، شعیب ملک نے کیا اظہار خیال
باغی ٹی وی :سابق کپتان شعیب ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا ہے کہ کوشش ہے جو بھی موقع ملے اس سے فائدہ اٹھاوں ۔ورلڈ ٹی ٹونٹی بہت دور ہے کوشش ہے کہ پرفارم کروں ۔بنگلہ دیش کی متوازن ٹیم آرہی ہے ان کا سسٹم بہت بہتر ہوا ہے ۔بابر اعظم نے خود کو منوایا ہے دنیا بھر میں کرکٹرز ان کی تعریف کرتے ہیں ۔ ورلڈکپ میں میری پرفارمنس اتنی اچھی نہیں رہی مگر کوشش کی ہے اچھا پرفارم کروں ۔ بسمہ معروف ورلڈکپ میں پہلی مرتبہ گرین شرٹس کی قیادت کرنے جا رہیں
سینئر جونیئر کوئی بھی ہوایجنڈا صرف پاکستان کے لئے بہترین پرفارم کرنا ہونا چاہئیے ۔کپتان ہویا عام کھلاڑی کوشش ہونی چاہئیے کہ اچھا پرفارم کروں ۔کبھی مایوس نہیں ہوا ہمیشہ مثبت سوچتاہوں ۔ میرے خیال میں مجھےاور محمد حفیظ کو سیںنٹرل کنٹریکٹ نہ دینے کا پی سی بی کا بہترین فیصلہ تھا۔دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں وہاں کھلاڑیوں کو بتاتے ہیں کہ پاکستان میں حالات بہترین ہیں ۔کیریئر کے اس حصے میں ہوں جہاں مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کروں ۔کافی عرصے سے کہہ رہا تھا کہ 2019 ورلڈکپ کے بعد ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔ ورلڈ ٹی ٹونٹی کے بعد انٹر نیشنل ٹی ٹونٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا کہہ رکھا ہے ۔جب ورلڈ ٹی ٹونٹی قریب آئے گا تو حتمی فیصلہ کروں گا۔میں اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہورہاہوں ۔
بسمہ معروف ورلڈکپ میں پہلی مرتبہ پاکستان ویمنز ٹیم کی قیادت کریں گی
باغی ٹی وی :آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2020 کے لیے اعلان کردہ 15 رکنی قومی خواتین اسکواڈ کی قیادت بسمہ معروف کررہی ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ کسی بھی ورلڈکپ میں بسمہ معروف قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کریں گی۔
اٹھائیس سالہ کرکٹر 21 فروری سے 8 مارچ تک آسٹریلیا میں جاری رہنے والے ایونٹ میں یہ بھاری ذمہ داری ادا کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔بسمہ معروف اب تک 36 ٹی ٹونٹی میچوں میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرچکی ہیں۔
بسمہ معروف ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں 2000 سے زائد رنز بنانے والی واحد پاکستانی خاتون کرکٹر ہیں۔ وہ محدود طرز کے اس فارمیٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ مرتبہ ،11، نصف سنچریاں بھی اسکور کرچکی ہیں۔
میگا ایونٹ میں بسمہ معروف کو جویریہ خان اور ندا ڈار کی صورت میں تجربہ کار خواتین کھلاڑیوں کا ساتھ میسر ہوگا۔ دونوں کرکٹرز محدود فارمیٹ میں پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والی خواتین کھلاڑیوں کی فہرست میں بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔
دو تجربہ کار کرکٹرز سمیت باصلاحیت کرکٹرز منیبہ علی ، عمیمہ سہیل اور عائشہ نسیم کی 15 رکنی اسکواڈ میں شمولیت سے قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا بیٹنگ ڈیپارٹمنٹ مضبوط ہوا ہے جو کپتان کے اعتماد میں اضافے کا سبب بنے گا۔
منیبہ علی نے آخری مرتبہ نومبر 2018 میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ بائیں ہاتھ کی بیٹر نے چند روز قبل کراچی میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹونٹی ویمنز ٹورنامنٹ کی 5 اننگز میں 58 سے زائد کی اوسط کے ساتھ 292 رنزبنائے تھے۔ ایونٹ میں ایک سنچری اور تین نصف سنچریاں اسکور کرنے والی منیبہ علی کو ٹورنامنٹ میں عمدہ کارکردگی کی بنیادپر قومی اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم کے باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ پر نظر ڈالی جائی تو سب سے پہلے انعم امین کا نام سامنے آتا ہے۔ نئی بال کی اسپیشلسٹ باؤلر انعم امین یکم جنوری 2019 سے اب تک قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی سب سے کامیاب باؤلر ہیں۔ وہ گذشتہ 8 میچوں میں 16 کی اوسط اور ساڑھے چھ کے اکانومی ریٹ سے 13 وکٹیں حاصل کرچکی ہیں۔
انعم امین کے علاوہ لیگ اسپنر سیدہ عروب شاہ اور بائیں ہاتھ سے باؤلنگ کرنے والی سعدیہ اقبال سمیت تجربہ کار ندا ڈار، عالیہ ریاض اور ڈیانا بیگ پر مشتمل باؤلنگ اٹیک ایونٹ میں متاثر کن کارکردگی دکھانے کی اہلیت رکھتا ہے۔
بسمہ معروف، کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم:
قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ وہ پہلی مرتبہ ورلڈکپ میں پاکستان کی قیادت کرنے کو اعزاز سمجھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یقیناََ میگا ایونٹ میں قومی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتانی کرنا ایک بڑی ذمہ داری ہے مگر وہ اب تک اس کردار میں کرکٹ کو انجوائے کررہی ہیں۔
بسمہ معروف نے واضح کیا کہ وہ آئی سی سی ویمنز ٹی ٹونٹی ورلڈکپ 2020 میں سینئر اور جونیئر کھلاڑیوں پر مشتمل 15 رکنی اسکواڈ کی قیادت کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکواڈ میں شامل تجربہ کار ویمنز کرکٹرز جویریہ خان اور ندا ڈار اس سے قبل بھی میگا ایونٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں جس کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
کپتان قومی خواتین کرکٹ ٹیم نے کہا کہ دائیں ہاتھ کی بیٹر جویریہ خان کی کارکردگی میں تسلسل اور ندا ڈار کی ویمنز بگ بیش لیگ میں شرکت کا فائدہ پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عمیمہ سہیل کی صورت میں باصلاحیت مڈل آرڈر بیٹر کے ساتھ ساتھ عالیہ ریاض اور ارم جاوید کی صور ت میں جارح مزاج بیٹرز میگا ایونٹ میں عمدہ کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
کپتان کا کہنا ہے کہ چند روز قبل کراچی میں کھیلے گئے ویمنز ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں سنچری اسکور کرنے والی منیبہ علی کی اسکواڈ میں شمولیت بھی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ عائشہ نسیم کی ہارڈ ہٹنگ صلاحیت سمیت مجموعی طور پر قومی خواتین اسکواڈ بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو بیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کی مضبوطی کا سبب ہوگا۔
بسمہ معروف نے کہا کہ ڈیانا بیگ تجربہ کار فاسٹ باؤلر ہیں تاہم ایمن انور بھی نئی گیند سے اچھی باؤلنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند ماہ قبل پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والی فاطمہ ثناء، سیدہ عروب شاہ اور سعدیہ اقبال کی اسکواڈ میں شمولیت باؤلنگ ڈیپارٹمنٹ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔
بسمہ معروف کا کہنا ہے کہ گذشتہ 2 سالوں میں پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی کارکردگی میں واضح بہتری دیکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میگا ایونٹ کے لیے منتخب کردہ اسکواڈ بہتر کھلاڑیوں پر مشتمل ہے جو میگا ایونٹ میں مثبت نتائج دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
15 رکنی اسکواڈ میگا ایونٹ میں شرکت کے لیے 31 جنوری کو آسٹریلیا روانہ ہوگا۔ قومی خواتین کرکٹ ٹیم ایونٹ سے قبل ویسٹ انڈیز ویمنز کرکٹ ٹیم کے خلاف تین وارم اپ میچز 7، 9 اور 11 فروری کو کھیلے گی تاہم روانگی سے قبل قومی خواتین کرکٹ ٹیم کا آٹھ روزہ تربیتی کیمپ 23 سے 30 جنوری تک کراچی میں جاری رہے گا۔
قومی خواتین کرکٹ ٹیم میگا ایونٹ کے گروپ بی کا حصہ ہے۔ گروپ میں شامل دیگر ٹیموں میں انگلینڈ، جنوبی افریقہ، تھائی لینڈ اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں۔
پاکستان ایونٹ میں اپنا پہلا میچ 26فروری کو ویسٹ انڈیز کے خلاف کھیلے گا۔ قومی خواتین کرکٹ ٹیم 28 فروری کو انگلینڈ، یکم مارچ کو جنوبی افریقہ اور 3 مارچ کو تھائی لینڈ کے خلاف میدان میں اترے گی۔
سید اقبال امام (ہیڈ کوچ)، سلیم جعفر (باؤلنگ کوچ)، عامر اقبال (فیلڈنگ کوچ)، جمال حسین ( اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشنگ کوچ)، ڈاکٹر رفعت اصغر گل (فزیو)، عائشہ جلیل (منیجر) اور زبیر احمد (اینالسٹ)۔
باغی ٹی وی : پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی آمد شروع ، ذرائع کے مطابق مہمان ٹیم کے ہمراہ بنگلہ دیش انٹیلیجنس کے افسران بھی موجود ہوں گے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تین میچوں پر مشتمل سیریز کا پہلا میچ 24، دوسرا 25 اور تیسرا 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا جائے گا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیمیں 23 جنوری دوپہر 1 سے شام 4 بجے تک قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ٹریننگ کریں۔ 23 جنوری دوپہر 12:45بجے دونوں ٹیموں کے کپتان قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پری سیریز میڈیا کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
پری سیریز پریس کانفرنس کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتان ٹرافی کی تقریب رونمائی میں شرکت کریں گے۔پی سی بی ترجمان کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والی ٹی20 سیریز میں شامل تمام میچز دوپہر دو بجے شروع ہوں گے۔جبکہ اس سے پہلے میچ آفیشلز کا اعلان ہو گیا ہے .
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز،میچ آفیشلز کا ہوا اعلان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ٹی ٹونٹی سیریز کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان کردیا گیا ہے۔ آئی سی سی میچ ریفریز کے ایلیٹ پینل میں شامل سینئر رکن رنجن مدوگالے سیریز میں شامل تینوں میچز میں ریفری کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔
قومی امپائرز احسن رضا اور شوزب رضا کو آن فیلڈ امپائرز جبکہ احمد شہاب کو تھرڈ امپائر اور طارق رشید کو فورتھ امپائر مقرر کیا گیا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کے تین میچز 24، 25 اور 27 جنوری کو قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جائیں گے۔
رنجن مدوگالے سے قبل ڈیوڈ بون(ویسٹ انڈیز ٹی ٹونٹی سیریز ، سری لنکا ٹی ٹونٹی اور ایک روزہ سیریز)، جیف کرو (سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ میچ)، اینڈی پائی کرافٹ (سری لنکا کے خلاف دوسرا ٹیسٹ میچ) اور رچی رچرڈسن (ورلڈ الیون) نے حالیہ چند ماہ میں آئی سی سی میچ ریفری کی حیثیت سے پاکستان میں فرائض انجام دئیے۔
رنجن مدوگالے اس سے قبل بطور ریفری آخری مرتبہ جنوری 2006 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ذمہ داریاں نبھانے پاکستان آئے تھے۔
102 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دینے والے 60 سالہ رنجن مدوگالے نے بطور ریفری27 سال قبل پاکستان میں ہی ڈیبیو کیا تھا۔ دسمبر 1993 میں پاکستان اور زمباوے کے درمیان ٹیسٹ میچ میں پہلی مرتبہ ریفری کی ذمہ داریاں نبھانے والے رنجن مدوگالے نے ایک روزہ ڈیبیو بھی اسی ماہ کیا تھا۔
مدوگالے نے اس سے قبل پاکستان میں کسی ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچ میں ذمہ داری کے فرائض انجام نہیں دئیے تاہم وہ پاکستان میں کھیلی گئی 5 سیریز کے 15 ٹیسٹ اور آئی سی سی ورلڈکپ 1996 کے 6 میچز سمیت کل 20 ایک روزہ میچوں میں ریفری کی ذمہ داریاں نبھاچکے ہیں۔
میچ ریفری کی حیثیت سے تعیناتی سے قبل رنجن مدوگالے سری لنکا کی جانب سے 21 ٹیسٹ اور 63 ایک روزہ میچوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ اپنے کرکٹ کیرئیر کے دوران رنجن مدوگالے 2 ٹیسٹ اور 13 ایک روزہ میچز میں سری لنکا کرکٹ ٹیم کی کپتانی بھی کرچکے ہیں۔
میچ آفیشلز:
پہلا ٹی ٹونٹی میچ بتاریخ 24 جنوری 2020بمقام قذافی اسٹیڈیم لاہور بوقت دوپہر 2 بجے آغاز: احسن رضا اور شوزب رضا(آن فیلڈ امپائر)، احمد شہاب (تھرڈ امپائر)، طارق رشید(فورتھ امپائر) اور رنجن مدوگالے (میچ ریفری)