Baaghi TV

Category: موسم

  • مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج خیبرپختونخوا، اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار، شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اورگلگت بلتستان میں آندھی، جھکڑ چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےاس دوران بالائی خیبرپختونخوا، خطہ پوٹھوہار، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں چند مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری ہو سکتی ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں موسم خشک اورگرم رہنے کی توقع ہے۔

    اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کا امکان ہے، چند مقامات پر ژالہ باری کی بھی توقع ہے، راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، اٹک اور چکوال میں بھی بارش ہونے کی توقع ہےلاہور، سیالکوٹ، خوشاب، سرگودھا، نارووال، حافظ آباد، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، قصور اور گوجرانوالہ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    برطانیہ میں گرمی کی لہروں سے 1 ہزار 147 افراد ہلاک، تحقیقاتی رپورٹ

    بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کی توقع ہے، سندھ کے ساحلی علاقوں میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے۔ خیبرپختونخوا کے علاقے دیر، چترال، سوات، کوہستان، شانگلہ اور بٹگرام میں بارش ہونے کی توقع ہےمانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، مہمند، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، خیبر، اورکزئی، کرم، پشاور، کوہاٹ، ہنگو، کرک اور وزیرستان میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی توقع ہے۔

    آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے،گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہا تاہم بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر بارش جبکہ کراچی میں بوندا باندی ہوئی۔

    لندن میں صدر ٹرمپ کی آمد کے خلاف مظاہرہ، چار افراد گرفتار

  • مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کا امکان ہے تاہم بالائی خیبرپختونخوا، شمال مشرقی پنجاب، خطہ پوٹھوہار،کشمیر اورگلگت بلتستان میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےاس دوران شمال مشرقی پنجاب، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بعض مقامات پر تیز بارش بھی ہونے کی توقع ہےمحکمہ موسمیات نے اسلام آباد اور گرد و نواح میں چند مقامات پر بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، اٹک، چکوال، لاہور، سرگودھا، خوشاب، سیالکوٹ، نارووال، قصور، حافظ آباد، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات اورگوجرانوالہ میں بارش کا امکان ہےپشاور، سوات، کوہاٹ، مردان، دیر، چترال، بنوں، باجوڑ، ایبٹ آباد، صوابی اور مانسہرہ میں بارش کی توقع ہے۔ بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہےسندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور خشک رہنے کی توقع ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک جبکہ ساحلی علاقوں میں موسم جزوی طور پر ابر آلود رہا تاہم بالائی خیبر پختونخوا، کشمیر اور ملحقہ پہاڑی علاقوں میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی،اس دوران کراچی میں بھی ہلکی بارش ہوئی۔

  • محکمہ موسمیات کی موسلادھار بارشوں  کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات کی موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے موسلادھار بارشیں ہونے کی پیشگوئی کی،ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق آج خیبرپختونخوا، بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر اورگلگت بلتستان میں مطلع جزوی ابر آلود رہنے کے علاوہ چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش ہونے کی توقع ہےاس دوران بعض مقامات پر موسلادھار بارش اور ژالہ باری بھی ہو سکتی ہے، ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے محکمہ موسمیات نے آج سے مون سون بارشوں کے 11 ویں اسپیل کے آغاز کی بھی پیشگوئی کی ہے۔

    اسلام آباد میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، راولپنڈی، مری، گلیات، جہلم، اٹک، چکوال، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، سرگودھا، خوشاب، نورپورتھل، میانوالی، قصور، حافظ آباد، فیصل آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات اورگوجرانوالہ میں بارش کا امکان ہےڈیرہ اسماعیل خان، دیر، شانگلہ، بونیر، مردان، چترال، کوہستان، ہری پور، بنوں، لکی مروت، باجوڑ، پشاور، سوات، کوہاٹ، بٹگرام، ایبٹ آباد، صوابی، مانسہرہ، خیبر، نوشہرہ، اورکزئی، کرم اور وزیرستان میں بارش کی توقع ہے۔

    آسام، خاتون سول سروس افسر بھاری دولت کے ساتھ گرفتار

    بلوچستان کے جنوبی علاقوں میں مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے جبکہ سندھ کے ساحلی علاقوں میں چند مقامات پر بوندا باندی کی توقع ہے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےملک کے مختلف علاقوں میں 19 ستمبر تک بارشیں ہونے کی توقع ہے اس دوران بڑے شہروں کے ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ بھی ہے، 18 اور 19 ستمبر کے دوران راولپنڈی، مری، گلیات کے ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کی توقع ہے۔

    ٹک ٹاک کی ملکیت کا معاملہ:امریکا اور چین نے فریم ورک معاہدہ کر لیا

    محکمہ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس دوران آندھی، جھکڑ چلنے، ژالہ باری اورگرج چمک کے باعث روزمرہ کے معمولات متاثر ہونے، کمزور انفرا سٹرکچر (کچے گھر/دیواریں، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز، گاڑیوں سولر پینل وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہےموسلادھار بارش کے باعث خیبرپختونخوا کے پہاڑی علاقوں، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر میں لینڈ سلائیڈنگ ہونے کا خدشہ ہے مسافر اور سیاح حضرات سفر کے دوران محتاط رہیں اور موسمی حالات کے مطابق اپنے سفر کا انتظام کریں۔

    مودی حکومت کی سرپرستی میں ہندوتوا ایجنڈے کو تقویت

  • مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے گیارویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں کا 11واں اسپیل 16 ستمبر سے شروع ہو گا جو 19 ستمبر تک جاری رہے گا اس دوران دریاؤں کے بالائی علاقوں میں زیادہ بارشوں کا امکان ہے، مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہےڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیر و تفریح سے گریز کریں۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 104 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے راوی، دریائے چناب اور ستلج کے سیلابی ریلوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تباہی مچائی،شدید سیلاب کے باعث پنجاب میں 45 لاکھ 70 ہزار لوگ اور 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے ہیں۔

    ہدف صرف بھارت کے خلاف میچ نہیں بلکہ ایشیا کپ کی ٹرافی جیتنا ہے،صائم ایوب

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید کے مطابق متاثرہ علاقوں سے 25 لاکھ 12 ہزار لوگوں اور 20 لاکھ 19 ہزار سے زائد جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے،جبکہ متاثرہ اضلاع میں 392 ریلیف کیمپس، 493 میڈیکل کیمپس اور 422 ویٹرنری کیمپس بھی قائم کیے ہیں، منگلا ڈیم 93 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد تک بھر چکا ہے۔ جبکہ بھارت میں دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 88 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 89 فیصد تک بھر چکا ہے۔

    گلگت بلتستان اور گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے

  • پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ،سیلاب کی شدت میں اضافے کا خدشہ

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں 5 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے جس کے باعث دریاؤں میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات نے اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ مزید بارش کی پیشگوئی کر دی،محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مشرقی پنجاب اور کشمیر میں بیشتر مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ کہیں کہیں تیز/موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے،خیبر پختونخوا، خطہ پو ٹھو ہار، جنوبی پنجاب اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پرتیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔

    اسلام آباد اور گرد و نواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، مری، گلیات اورگرد و نواح میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے،راولپنڈی، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، گجرات، جہلم، لاہور، منڈی بہاؤ الدین، قصور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، حافظ آباد، اٹک، چکوال، خوشاب، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، میانوالی، بہاولنگر، رحیم یار خان، ساہیوال، تونسہ، کوٹ ادو، راجن پور، بہاولپور، لیہ، ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں چند مقامات پر گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    پشاور، دیر، سوات، چترال، کوہستان، شانگلہ، بٹگرام، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، بونیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، خیبر، مہمند، کرم، باجوڑ، اورکزئی، ٹانک، لکی مروت، کوہاٹ، ہنگو، کرک، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور وزیرستان میں بارش کی توقع ہے،ژوب، موسی ٰخیل، بار کھان اور گرد و نواح میں چند مقامات پر بارش کا امکان ہے، سکھر، گھوٹکی اورکشمور میں گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پر بارش کی توقع ہے،گلگت بلتستا ن میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ آزاد کشمیر میں بیشتر مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح 4 لاکھ 68 ہزار کیوسک تک جا پہنچی جبکہ خانکی ہیڈ ورکس میں پانی 339470 کیوسک اور قادر آباد ہیڈ ورکس میں پانی 232450 کیوسک پہنچ گیااسی طرح، چنیوٹ پل پر پانی کی سطح 108343 کیوسک وار تریموں ہیڈ ورکس میں 355744 کیوسک ہے۔

    دریائے راوی میں جسر کے مقام پر پانی 71010 کیوسک، سائفن پر 54190 کیوسک، شاہدرہ کے مقام پر 53630 کیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر 117655 کیوسک اور سدھنائی ہیڈ ورکس پر 193470 کیوسک تک پہنچ گیا،دریائے ستلج میں جی ایس والا پر پانی 269501 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس پر 122736 کیوسک، اسلام ہیڈ ورکس پر 95727 کیوسک اور پنجند ہیڈ ورکس پر 182107 کیوسک پہنچ گیا۔

    سندھ میں بھی سیلاب سے بچاؤ کے لیے ممکنہ اقدامات کا سلسلہ کیا جا رہا ہےحیدرآباد کے مقام پر دریائےسندھ کے حفاظتی بندکے قریب رہائش پذیر خاندانوں کو ہٹانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔میگا فون سے کیے جانے والے اعلانات میں حفاظتی بندکے قریب رہائشی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنرکی ہدایت پر دریائے سندھ کےقریب آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پرمنتقل کرنےکاعمل جاری ہےترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی نے اس حوالے سے بتایا کہ دریاؤں کے کنارے بسنے والے علاقوں کو خالی کرانے کا عمل جاری ہے، لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، حکومت مقامی افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے۔

    ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سیلابی صورتحال میں عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، مانیٹرنگ سیل کا عملہ الرٹ اور انتظامات پہلے سے زیادہ بہتر ہیں،مرکزی کنٹرول روم میں متعلقہ حکام 24 گھنٹے موجود ہیں، عملہ ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہے، 102 کمزور مقامات کی نشاندہی کی گئی تھی، محکمہِ آبپاشی نے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا، صورتحال بہتر ہے،کمزور مقامات کی مسلسل نگرانی کا عمل جاری ہے،محکمہ صحت کی جانب سے 92 کیمپس قائم کیے گئے، کتے کے کاٹے اور سانپ کے ڈسنے کی ویکسینز بھی وافر مقدار میں موجود ہیں، مویشیوں کی حفاظت کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں، محکمہ لائیوسٹاک کی جانب سے 300 کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد 12 سے 13 لاکھ کیوسک پانی گڈو بیراج تک پہنچے گا، 5 لاکھ 50 ہزار کیوسک پانی سکھر اور کوٹری بیراج سے بغیر کسی نقصان کے گزر چکا ہے۔

    دوسری جانب میئر سکھر و ترجمان سندھ حکومت ارسلان اسلام شیخ نے کشتی پر دریائے سندھ میں سیلاب کا جائزہ لیا، میئر سکھر کا کہنا تھا کہ 4 ستمر کو بڑا ریلا سندھ میں داخل ہوگا جس کی تیاریاں کر رکھی ہے، سندھ کے کسی بیراج کو سیلابی صورت حال سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

  • پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب  ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    پنجاب میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ،2200 دیہات زیر آب ، ڈی جی پی ڈی ایم اے

    ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کے تینوں دریاؤں میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب ہے، سیلابی ریلے کے اطراف سے دیہات سے لوگوں کا انخلا جاری ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ دریائے ستلج میں قصور کے مقام پر پانی کی سطح کم ہوئی ہے، ہیڈسلیمانکی پر پانی بڑھ رہا ہے ،شام تک اس میں مزید اضافہ ہو گا،2 ستمبر کو ستلج اور چناب کا پانی مل جائے گا، تریموں بیراج پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 61 ہزار 633 کیوسک ہو گیا ہے، سیلاب سے اب تک 20 لاکھ آبادی متاثر ہوچکی ہے ، 2200 دیہات زیر آب آئے ہوئے ہیں ، ریسکیوا ٓپریشن میں ساڑھے 7 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے، کل تک راوی اور چناب کا پانی ہیڈ محمد والہ اور ملتان کو ٹچ کرے گا ، ہیڈ محمد والہ اور شیرشاہ بریج پر مشکل آ سکتی ہے، سب سے پہلے آبادیوں اور لوگوں کی جان بچانا ہے ، ملتان میں بھی جو ضروری فیصلے ہوں گے وہ ڈائریکشن آ چکی ہے۔

    دریائے ستلج میں وہاڑی کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں میں مسلسل تباہی کا سلسلہ جاری ہےدریائے ستلج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے کے بعد سیلابی پانی نے مزید مکانات کو زمین بوس کر دیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں افراد ابھی بھی سیلابی علاقوں میں محصور ہیں۔

    ضلعی انتظامیہ نے سیلاب متاثرین کے لیے 13 ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں محکمہ صحت، لائیو سٹاک، ریسکیو 1122، ریونیو اور دیگر محکموں کی جانب سے تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔

    ڈی سی عمرانہ توقیر کے مطابق جن علاقوں میں مزید سیلابی پانی آنے کا خطرہ ہے، وہاں سے لوگوں کا انخلاء جاری ہے۔ مویشیوں کو بھی حفاظتی مقامات تک پہنچایا جا رہا ہے اور ان کی ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ چارے کا انتظام بھی کیا گیا ہےہیڈ سائفن پر پانی کی سطح 48,552 کیوسک تک پہنچ چکی ہے، جب کہ ہیڈ اسلام پر 70,000 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔

    35 ہزار سے زائد ایکڑ رقبہ زیر آب آ چکا ہے، اور 13,159 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ 3,281 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا چکا ہےدریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے سے پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یونین کونسل نمبر 25 داد کمیرا کے 17 دیہات اور بستیاں مکمل طور پر زیر آب آ گئی ہیں۔

    داد کمیرا کی 23,171 نفوس پر مشتمل آبادی شدید متاثر ہو چکی ہے، اور پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ میاں حاکم، لکھا، کھچی، بونگہ اعظم، کوٹ گھلو، گل شاہ، جندا باقر شاہ اور میرو بلوچ سمیت کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

  • سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع،سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ

    ملک میں سیلاب کے بعد بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    چنیوٹ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل بارش کی وجہ سے سیلاب متاثرین کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے چنیوٹ میں مرکزی شاہرائیں،گلیاں اورمحلے زیرآب آ گئے ہیں،ڈپٹی کمشنر آفس،سی او بلدیہ،اسسٹنٹ کمشنرکے دفاتر بھی پانی میں ڈوب گئے، محلہ مشکی شاہ،گڑھا محلہ اورمعظم شاہ میں ہرطرف پانی ہی پانی ہے، فرنیچر مارکیٹ سمیت اندرون شہر کی تمام سڑکیں زیرآب آ چکی ہیں،، بارش کے باعث متعدد فیڈرز بھی ٹرپ کرگئے،شیخوپورہ اور گرد و نواح میں تیز بارش سے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، جہلم اور گرد و نواح میں بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔

    لاہورکے مختلف علاقوں میں بھی بارش ہوئی، راوی روڈ، بند روڈ، شاہدرہ، ملتان روڈ اور چوہنگ کے علاقوں میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ڈسکہ میں بھی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں۔

    محسن نقوی سے سعودی عرب کے سفیر کی ملاقات

    ننکانہ صاحب میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں، متعدد سڑکیں بھی پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں، شادباغ کالونی اورہاؤسنگ کالونی زیر آب ہے، بارش کی وجہ سے متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے جس سے مختلف علاقوں کو بجلی منقطع ہو گئی۔

    مالاکنڈ، بٹ خیلہ اور گرد و نواح میں موسلا دھار بارش ہوئی، جس کے بعد مختلف علاقوں کے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، بٹ خیلہ خوڑ میں طغیانی کے باعث سڑکیں زیرآب آ گئیں، سیلابی صورتحال کے باعث ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہے، ہیروشاہ کے برساتی نالے میں گاڑیاں پھنس گئیں۔

    فیلڈ مارشل کے سکھ کمیونٹی کیساتھ بیٹھنے سے سر فخر سے بلند ہوگیا۔سکھ رہنما

    خیبر، لنڈی کوتل میں موسلادھار بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آ گئی، جمرود میں بارش کے باعث سیلابی ریلے سے آبادی متاثرہونے کا خدشہ ہے، مختلف بازاروں میں سیلابی پانی جمع ہے،ریسکیوآپریشن جاری ہے، بونیر میں بارش سے پیر بابا بازار کی ندی میں پانی کا بہاؤ تیز ہو گیالنڈی کوتل کے مقام پر گاڑیاں سیلابی پانی میں پھنس گئیں۔

  • کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل  کی پیشگوئی

    کل سے پنجاب میں مون سون کا 9 ویں اسپیل کی پیشگوئی

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے کل سے صوبے بھر میں مون سون کا 9 واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی کی ہے-

    پی ڈی ایم اے نے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ مون سون بارشوں کا 9 واں اسپیل کل سے شروع ہوگا، 29 اگست سے 2 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی ہےراولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، گجرانولہ، لاہور، گجرات اور سیالکوٹ میں بارشیں متوقع ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور راجن پور میں بھی بارشوں کا امکان ہے۔

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،نبیل جاوید کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔ مون سون بارشوں سے پنجاب کے دریاؤں اور ان سے ملحقہ ندی نالوں میں شدید سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔ دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافے کا خدشہ

    ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے کہا کہ بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر سکتے ہیں تمام ڈپٹی کمشنر اور دیگر افسران فیلڈ میں موجود رہیں محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات، لوکل گورنمنٹ اور لایئو اسٹاک کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہےشہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔

    علیمہ خان کے بیٹے شیر شاہ کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد ، جیل منتقل

  • 29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے  کی پیشگوئی

    29اگست سے 9ستمبرتک بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے )نے 29اگست سے 9ستمبر بارشوں کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کردی۔

    چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدرنے کہاکہ 29اگست سے 9ستمبر تک بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگا،ملک میں مون سون بارشوں کا 8واں سلسلہ جاری ہے،پنجاب کے شمالی علاقوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوئیں،جموں کے اطراف میں 300ملی میٹر بارشیں ریکارڈ کی گئیں،شدید بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی آئی ہے۔

    ادھربھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے بعد پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال سنگین رخ اختیار کر گئی، اور دریائے ستلج، راوی اور چناب میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو چکی ہے جب کہ کرتارپور کے قریب دریائے راوی کا حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی گرودوارے میں داخل ہوگیا اور علاقے میں 300 لوگ پھنس گئے۔

    بجلی سستی ہونے کا امکان

    رپورٹ کے مطابق گجرات میں دریائے چناب کے کری شریف حفاظتی بند کے اوپر سے پانی گزرنا شروع ہو چکا ہے، سیلابی ریلا بند کو توڑتا ہوا سڑکوں پر آگیا، جہاں ٹریفک معطل اور ملحقہ دیہاتوں کے مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں،ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ساڑھے 9 لاکھ کیوسک سے تجاوز کر چکا ہے، جو کہ 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یاد دلا رہا ہے، جب تقریباً 50 ہزار افراد متاثر ہوئے تھے۔

    شکر گڑھ میں سیلاب کے باعث دریائے راوی کا حفاظتی بند بھیکو چک کے مقام پر ٹوٹ گیا جس کی وجہ سے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں،متاثرہ علاقوں سراخ پور، کری شریف، خلیل پور اور دیگر دیہات میں ضلعی انتظامیہ کی امدادی ٹیمیں تاحال نہ پہنچ سکیں، مقامی افراد نے انتظامیہ کی غفلت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے،بھمبھر نالے میں طغیانی سے نواحی دیہات دادو برسالہ، گوجر کوٹلہ اور پلاوڑی کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے، جہاں پانی کا کٹاؤ جاری ہے اور دیہاتوں کا فاصلہ محض 15 فٹ تک رہ گیا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلی اس وقت ملک کا سب سے بڑا چیلنج ہے،محمد اورنگزیب

    شکرگڑھ کے گاؤں جرمیاں جھنڈا سے لوگوں کو ریسکیو کیا جا رہا ہے اسسٹنٹ کمشنر عدنان عاطف اور ڈپٹی کمشنر نارووال سید حسن رضا امدادی سرگرمیوں کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں،شدید بارش کے باعث ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم اب تک 294 افراد کو دریائے راوی سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے۔

    راولپنڈی، منڈی بہاالدین، سیالکوٹ اور حافظ آباد سے ریسکیو ٹیموں کو نارووال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ گجرات شہر میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔ بیشتر علاقوں میں تاحال نکاسی آب کے مناسب انتظامات نہیں کیے جا سکےدریائے چناب میں ہیڈمرالہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 9 لاکھ 50 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ خانکی کے مقام پر 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    احسن اقبال کا کرتارپور کا ہنگامی دورہ

  • پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    پنجاب اور آزاد کشمیر میں مزید بارشیں متوقع، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    این ڈی ایم اے کے این ای او سی نے پنجاب اور آزاد کشمیر کے مختلف اضلاع میں متوقع شدید بارشوں کا الرٹ جاری کر دیا۔

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں گجرات، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، لاہور اور قصور میں شدید بارشوں کا امکان ہے، اگلے 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران جہلم، چکوال، منڈی بہاالدین، حافظ آباد، ننکانہ صاحب، چنیاں اور پاکپتن میں شدید بارشیں متوقع ہیں، شہری اور نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال سمیت ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، شدید بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلابی صورتحال بھی متوقع ہے۔

    اسی طرح آزاد کشمیر کے اضلاع بشمول نیلم ویلی، باغ، کوٹلی، راولا کوٹ، مظفرآباد اور حویلی میں اگلے 12 تا 24 گھنٹوں کے دوران وقفے وقفے سے بارش متوقع ہیں،بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اورپہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، پہاڑی نالوں میں پانی کا تیز بہاؤ رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کر سکتا ہے، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اضافے اور ممکنہ سیلابی صورتحال پر پہلے ہی این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری ہے۔

    وزیراعظم سے ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی ملاقات

    الرٹ میں کہا گیا ہے کہ،متعلقہ اداروں نے ستلج کے قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر انخلاء کی کاروائیاں شروع کر دیں پی ڈی ایم اے پنجاب، ریسکیو 1122 اور پاک آرمی کے انجینئرز سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں،عوام دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں، عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں۔

    وزیراعظم کی دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال پر ہنگامی ہدایات