Baaghi TV

Category: موسم

  • 142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ    ماہرین

    142 سالہ تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ ماہرین

    ماہرین کے مطابق 142 سال کی تاریخ میں جولائی زمین پر ریکارڈ کیا جانے والا گرم ترین مہینہ تھا۔

    باغی ٹی وی : ماحولیاتی ادارے کی جاری رپورٹ کے مطابق تاریخ میں جولائی 2021 اب تک زمین کا گرم ترین مہینہ رہا ہے زمین اور سمندر کی سطح کا مشترکہ درجہ حرارت 20 ویں صدی کی اوسط سے 1.67 فیرن ہائٹ زیادہ تھا۔

    رپورٹ کے مطابق مشترکہ درجہ حرارت پچھلے ریکارڈ سے 0.02 فیرن ہائٹ زیادہ تھا جو 2016 میں ریکارڈ کیا گیا تھا شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور اوشیانا سب کا جولائی کا درجہ حرارت اپنی اپنی ٹاپ 10 فہرستوں میں تھا۔

    رپورٹ میں کہنا ہے کہ یہ نیا ریکارڈ پریشان کن ہے اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کی خطرے کی گھنٹی ہے۔

    جولائی کے ریکارڈ درجہ حرارت کے بارے میں عالمی ادارے کا تجزیہ اقوام متحدہ کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ کی روشنی میں سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گلوبل وارمنگ پہلے ہی شدید موسم کا باعث بن رہی ہے اور دنیا 2040 تک 2.7F درجہ حرارت میں اضافہ دیکھے گی ۔

    اقوام متحدہ کے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی لہریں ، سیلاب اور خشک سالی شدید سے شدید ہو جائیں گی کوئلے ، تیل اور گیس کو توانائی کے لیے جلا کر انسان پہلے ہی سیارے کو تقریبا 2 ڈگری فارن ہائیٹ سے گرم کرچکا ہے یہ لنک غیر واضح اور ناقابل واپسی ہے لیکن اگر حکومتوں نے تیزی سے کام کیا تو اس کے بدتر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

    انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    حال ہی میں جاری کی گئی اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا –

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا تھ کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہے-

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    جبکہ ماہرین کا کہنا تھا کہ یورپ میں شدید گرمی اس موسم گرما میں شمالی نصف کرہ کا تازہ ترین ریکارڈ ہے۔درجہ حرارت کے ریکارڈ کینیڈا ، امریکہ کے مغرب ، فن لینڈ ، ایسٹونیا ، ترکی اور ماسکو میں توڑے گئے ہیں۔ جرمنی اور چین کے کچھ حصوں میں سیلاب آیا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جنگل سائبیرین تائیگا میں ریکارڈ جنگل کی آگ بھڑک رہی ہے۔

    کوپرنیکس اتموسفیر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنسدان مارک پیرنگٹن کے مطابق ، روس کے سخا ریپبلک جنگل میں آگ نے اس سال 208 میگا ٹن کاربن جاری کیا ہے جو کہ پچھلے سال کا ریکارڈ ہے۔

  • موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق رپورٹ جاری ، اقوام متحدہ نے دنیا کو خبردار کر دیا

    موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ نے رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : اقوام متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں بین الحکومتی پینل کی جانب سے دنیا کو خبردار کیا گیا ہے انٹرگورنمنٹ پینل آن کلائمیٹ چینج نے اپنی جاری کردہ رپورٹ میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گلوبل وارمنگ میں انسان کا کردار حد سے زیادہ اور واضح ہے، عالمی حدت 2030ء تک 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جائے گی جنگلات، مٹی اور سمندر کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت مزید اخراج سے کمزور ہوجائے گی دنیا کو ہیٹ ویو، بارشوں اور خشک سالی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے اپنے بیان میں انسانی سرگرمیوں سے زمین کو پہنچنے والے نقصانات سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمین پر بڑے پیمانے پر موسمیاتی تبدیلیاں ہو رہی ہیں، یہ انسانیت کے لیے بہت بڑے خطرے کی بات ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم اب ہی سر جوڑیں تو ہی ہم بڑے پیمانے پر ماحولیاتی تباہی سے نمٹ سکتے ہیں۔ لیکن جیسے آج کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے اس معاملے میں نہ تاخیر کی گنجائش ہے نہ غلطی کی۔

    بی بی سی کے مطابق پیر کو بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جس حساب سے گیسز کا اخراج جاری ہے، ایک دہائی میں درجہ حرارت کی حد کے تمام ریکارڈ ٹوٹ سکتے ہیں۔

    اس رپورٹ کے مصنفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس صدی کے اختتام تک سمندر کی سطح میں دو میٹر تک اضافے کے خدشے کو ’رد نہیں کیا جا سکتا لیکن ایک نئی امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج پر بڑی حد تک قابو پانے سے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

    سورج کے قریب 60 کروڑ سال پُرانا ایک اور سورج دریافت

    موسمیاتی تبدیلی پر بین الحکومتی پینل (آئی پی سی سی) کی جانب سے جاری کردہ یہ اندازہ 42 صفحات پر مشتمل دستاویز میں شامل ہے جسے پالیسی سازوں کے لیے سمری کا نام دیا گیا ہےیہ رپورٹوں کی اس سیریز کا پہلا حصہ ہے جو آنے والے مہینوں میں شائع کی جائیں گی اور یہ 2013 کے بعد سے اب تک موسمیاتی تبدیلی کی سائنس کا پہلا بڑا جائزہ ہے جسے گلاسگو میں ماحولیاتی اجلاس COP26 سے تین ماہ قبل جاری کیا گیا ہے۔

    آئی پی سی سی رپورٹ کے چند اہم نکات یہ ہیں : زمین کی سطح کا درجہ ہرارت سنہ 1850 سے 1900 تک اتنا گرم نہیں تھا جتنا سنہ 2011 سے 2020 کے درمیان رہا، دونوں ادوار کے درمیان ایک عشاریہ صفر نو سینٹی گریڈ کا فرق ہے ، گذشتہ پانچ برس سنہ 1850 کے بعد تاریخ کے سب سے گرم ترین سال تھے۔

    حالیہ برسوں میں سطح سمندر میں اضافہ سنہ 1901 سے 1971 میں ریکارڈ ہونے والے اضافے سے بھی زیادہ ہے ، دنیا بھر میں گلیشیئر اور قطب شمالی میں موجود برف پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ (90 فیصد) انسانی عوامل ہیں ،یہ بات طے ہے کہ شدید گرمی پڑنا اب اور عام ہوتا جائے گا جبکہ شدید سردی کی لہروں میں کمی آتی جائے گی۔

    ناسا نے ہزاروں کھرب ڈالر کی مالیت کا قیمتی ترین سیارچہ دریافت کر لیا

  • پاکستان میں موسم کی صورتحال

    پاکستان میں موسم کی صورتحال

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک میں موسم جزوی طور پر ابر آلود رہے گا جبکہ کہیں کہیں بارش کا بھی امکان ہے-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف اضلاع لاہور، قصور، اوکاڑہ، گوجرانوالہ سمیت بیشتر علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کی ہے جبکہ سندھ میں کراچی، ٹھٹھہ، بدین میں بھی ہلکی بارش کا امکان ہے، اسلام آباد میں مطلع جزوی ابر آلود رہے گا۔

    بارشیں اورلینڈ سلائیڈنگ:قراقرم ہائی وے ٹریفک کیلئے بحال کردی گئی:شکریہ FWO

    محکمہ موسمیات کے مطابق نارووال، فیصل آباد،سیالکوٹ، میانوالی اور لیہ میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےجبکہ سندھ کے جنوبی اضلاع میں مطلع ابرآلود رہنے کے ساتھ بدین اور تھرپارکر میں ہلکی بارش کی توقع ہے۔

    راولپنڈی: گداگر خاتون نسیم بی بی اور کم سن بچے کے قاتل کا دوران تفتیش حیران کن…

    ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان، سوات، مردان میں تیز ہواو ں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہےجبکہ گلگت بلتستان اور کشمیر میں بھی بارش ہو گی ۔ جبکہ بلوچستان کے بیشتر علاقے گرمی کے زیر اثر رہیں گے

    مون سون بارشوں کا سپیل کب تک جاری رہے گا؟

    ۔

  • مون سون بارشوں کا سپیل کب تک جاری رہے گا؟

    مون سون بارشوں کا سپیل کب تک جاری رہے گا؟

    چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( این ڈی ایم اے )لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز نے کہا ہے کہ مون سون بارشوں کاتیسرا سپیل3 اگست تک جاری رہےگا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کاتیسرا سپیل3 اگست تک جاری رہےگا مختلف سطح پرتسلسل کے ساتھ مانیٹرنگ سسٹم جاری ہے۔

    چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز کا کہنا تھا کہ مون سون وسطی اوربالائی علاقوں میں بارش کاسبب بن رہاہے،گلگت بلتستان میں اس بارمعمول سے زیادہ 60 سے 70 فیصدبارشیں ہوئی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کے اپنے وسائل بہت کم ہیں،ڈیزاسٹر مینجمنٹ صوبوں کے اداروں کے ساتھ مل کرکام کرتا ہے اورقومی سطح پرمون سون پلان ترتیب دیا جاتا ہے۔

    واضح رہے کہ گذشتہ دنوں میں مون سون کی بارشوں کی وجہ سے گلگت بلتستان کے کئی اضلاع اور دریاؤں میں سیلاب کی کیفیت ہے غذر، نگر، دیامر، گھانچھے اور استور کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں سیلاب اور لینڈ سلائنڈنگ کی وجہ سے سڑکوں، زمینوں، پلوں اور واٹر سپلائی کے چینلز کو نقصان پہنچا ہے –

    لینڈ سلائنڈنگ کی وجہ سے شاہرہ قراقرم تتہ پانی کے مقام پر تباہ ہوئی۔ جبکہ بابوسر روڈ بھی متاثر ہوئی۔ گلگت شندور روڑ بریسٹ ضلع غذر کے مقام پر سیلاب کی زد میں آیا۔

    دریائے سندھ میں پانی کے زیادہ بہاؤ کی وجہ سے گلگت سکردو روڈ بھی کٹاؤ کا شکار ہوئی۔ دریائے اشکومن میں سیلاب کی وجہ سے اشکومن ویلی روڈ گشگش کے مقام پر کٹ گیا۔

    ضلع گھانچھے میں چھوربٹ کے مقام پر ایک پل اور آبادی میں نالے بھی سیلاب کی زد میں آئے۔ ضلع نگر کی ویلی روڈز اور دو پل سیلابی پانی میں بہہ گئے۔ ضلع دیامر میں کھنر اور بونر میں سیلاب کے باعث نقصان کی اطلاعات ہیں۔

    شدید بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث شاہراہ قراقرم بند،کھلنے میں 3 سے 4 دن لگ…

     

  • کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟

    کلاؤڈ برسٹ کیا ہے؟

    گزشتہ روز سلام آباد کا ای الیون علاقہ شدید بارشوں کی زد میں آگیا اور وہاں لوگوں نے موسلا دھار برسات کو بادل پھٹنے سے تعبیر کیا ہے یہاں تک کہ گزشتہ روز ٹوئٹر پینل پر بھی ہیش ٹیگ کلاؤڈ برسٹ ٹاپ ٹرینڈ پررہا، لیکن محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں کلاؤڈ برسٹ کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا-لیکن کیا آپ جانتے ہیں کلاؤڈ برسٹ کیا ہے ؟

    باغی ٹی وی : وکی پیڈیا کے مطابق کلاؤڈ برسٹ بادل پھٹنے کا مطلب کسی مخصوص علاقے میں اچانک بہت کم وقت میں گرج چمک کے ساتھ بہت زیادہ اور موسلادھار بارش کا ہونا ہے جس کے باعث سیلابی صورت حال پیدا ہو جائے۔

    بادل پھٹنے کا واقعہ اس وقت پیش آتا ہے جب زمین یا فضا میں موجود بادلوں کے نیچے سے گرم ہوا کی لہر اوپر کی جانب اٹھتی ہے اور بادل میں موجود بارش کے قطروں کو ساتھ لے جاتی ہے۔ اس وجہ سے عام طریقے سے بارش نہیں ہوتی اور نتیجے میں بادلوں میں بخارات کے پانی بننے کا عمل بہت تیز ہو جاتا ہے کیونکہ بارش کے نئے قطرے بنتے ہیں اور پرانے قطرے اپ ڈرافٹ کی وجہ سے واپس بادلوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں، جس کا نتیجہ طوفانی بارش کی شکل میں نکلتا ہے کیونکہ بادل اتنے پانی کا بوجھ برداشت نہیں کرپاتے۔

    محکمہ موسمیات پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق کلاؤڈ برسٹ کو رین گش اور رین گسٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اگرکسی چھوٹے علاقے میں مختصر وقفے میں شدید بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈ برسٹ کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مخصوص علاقے میں ایک گھنٹے میں کم سے کم 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جائے۔

    انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق کلاؤڈ برسٹ مقامی واقعہ ہوتا ہے، جو مختصر وقفے کے لیے رونما ہوتا ہے اور گرج چمک اور شدید برقی یا بجلی کی سرگرمی کی وجہ بنتا ہے۔ اس میں عموماً بادل کے نیچے کی ہوا اوپر اٹھتی ہے اور پانی کے قطروں کو کچھ دیر گرنے سے روکتی ہے۔ اب جیسے ہی ہوا کا دباؤ کم ہوتا ہے پانی کی بڑی مقدار بادل سے گرتی ہے اور یوں بادلوں کا پانی گویا اس طرح بہتا ہے کہ بالٹی الٹ دی گئی ہے۔

    یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کلاؤڈ برسٹ کے زیادہ ترواقعات پہاڑی علاقوں میں رونما ہوتے ہیں۔ جب پانی کی بڑی مقدار نیچے گرتی ہے تو سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور اس کے بہاؤ میں آبادی اور فصلوں کا بہت نقصان ہوسکتا ہے۔ محمکہ موسمیات کے مطابق اگر کسی علاقے میں ایک گھنٹے میں 200 ملی میٹر بارش ہوجائے تو اسے کلاؤڈبرسٹ کہا جاسکتا ہے۔

    محکمہ موسمیات کراچی سے وابستہ چیف میٹیئرولوجسٹ، سردار سرفراز کے مطابق پاکستان اس وقت آب و ہوا میں تبدیلیوں کے شکار ممالک میں سرِ فہرست ہے اور یہاں دو مظاہر نمایاں ہیں، اول اوسط درجہ حرارت بڑھ رہا ہے اور دوم بارشوں کا معمول شدید متاثر ہوا ہے جسے ’ایریٹک پیٹرن‘ کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں بعض موسمیاتی اسٹیشن سوسال سے بھی پرانے ہیں جن سے حاصل شدہ ڈیٹا بتاتا ہے کہ ملک میں اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے۔

  • مرادن :موسلادھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور بچہ زخمی

    مرادن :موسلادھار بارش کے باعث مختلف حادثات میں دو بچے جاں بحق جبکہ ایک خاتون اور بچہ زخمی

    مردان: ریسکیو1122 کے مطابق بارش کے باعث ضلع مردان میں مختلف جگہوں سے حادثات کی کالز کنٹرول روم کو موصول ہوئیں-

    باغی ٹی وی : کاٹلنگ کے علاقے تازہ گرام بجلی گھر قاسمی میں گھر گرنے کے کی اطلاع کی گئی جس پر ریسکیو ڈیزاسٹر ،میڈیکل ٹیمیں پہنچ گئیں اور امدادی کاروائیوں میں مصروف ہیں-

    ریسکیو1122 کے مطابق گھر گرنے کے باعث2 بچے جانبحق جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا-

    راولپنڈی: نالہ لئی میری زندگی کا مشن ہے ، شیخ رشید کا نالہ لئی کا دورہ

    ادھر تخت بھائی کے علاقے ٹکر میں نکاسی آب بند ہونے کے باعث پانی پورے گاؤں میں جمع ہوگیا کبکہ تخت بھائی کے علاقے گنجئی میں گھروں کے اندر پانی داخل ہو گیا ریسکیو ٹیمیں فوراً پہنچ کر امدادی کاروائیوں میں مصروف عمل ہیں-

    دوسری جانب شمسی روڈ پر پانی جمع ہو گیا ہے تخت بھائی کے علاقے جلالہ اتفاق کالونی میں دیوار گرنے سے خاتون شدید زخمی ریسکیو 1122 میڈیکل ٹیم اور ایمبولینس موقع پر پہنچ گئی متاثرہ خاتون کو طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ایم ایم سی منتقل کر دیا۔

    جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش ،ندی نالے بپھر گئے ، ریڈ الرٹ جاری

  • راولپنڈی:  نالہ لئی میری زندگی کا مشن ہے ، شیخ رشید کا نالہ لئی کا دورہ

    راولپنڈی: نالہ لئی میری زندگی کا مشن ہے ، شیخ رشید کا نالہ لئی کا دورہ

    راولپنڈی: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا نالہ لئی کا دورہ

    باغی ٹی وی : وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ نالہ لئی میری زندگی کا مشن ہے 90 دن کے اندر اندر کام شروع ہو جائے گا سکول میں پڑھتے تھے تو نالہ کورنگ تھا اب نالہ لئی ہے-

    شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس پر اردگرد لوگوں نے قبضے کر لئے ہیں ، اسلام آباد کے سارے نالوں پرلوگوں نے قبضے کر لئے ہیں نالہ لئی راولپنڈی کا واحد بڑا مسئلہ ہے ،نالہ لئی منصوبہ جب شروع کیا تھا تو 26 ارب کا تھا اب 90 ارب تک پہنچ گیا ہے –

    انہوں نے کہا واسا سمیت ریسکیو پولیس فوج اور لوکل انتظامیہ نگرانی کیلئے موجود ہے –

    بارش کے بعد راولپنڈی شہرکے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے نالہ لئی میں بھی پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہوگئی۔ کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

    نالہ لئی میں پانی کی سطح 21 فٹ تک پہنچ گئی پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے بعد خطرے کی گھنٹیاں بجادی گئیں طغیانی کے خطرے کے باعث پاک فوج کے دستے اور ضلعی انتظامیہ، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ریڈ الرٹ کرکے سول ڈیفنس اور ریسکیو ون ون ٹوٹو کے اہلکار کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نالہ لئی کے کناروں پر تعینات کر دئیے گئے ہیں اور لوگوں کوندی نالوں سے ملحقہ بستیاں خالی کرنے کی ہدایات کردی گئی ہیں-

    دوسری جانب ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقت نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آگیا ہے ٹیمیں نالوں اور سڑکوں کو صاف کررہی ہیں، امید ہے کہ ہم ایک گھنٹہ میں سب کچھ کلئیر کردیں گے۔

    انہوں نے وہاں کے رہائشیوں سے درخواست کی کہ وہ تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت کو اگلے 2 گھنٹوں تک محدود رکھیں۔

    ڈی دی اسلام آباد کے مطابق انتظامیہ اور دیگر ادارے ای الیون پہنچ گئے، صورتحال بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کچھ ایریا میں صورت حال کافی بہتر کرلی ہے۔

    جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش ،ندی نالے بپھر گئے ، ریڈ الرٹ جاری

  • جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش ،ندی نالے بپھر گئے ، ریڈ الرٹ جاری

    جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش ،ندی نالے بپھر گئے ، ریڈ الرٹ جاری

    جڑواں شہروں میں موسلادھار بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلادھار بارش سے ندی نالے بپھر گئے نالہ لئی میں طغیانی پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا جبکہ کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔

    اسلام آباد کی شاہراہ اسلام آباد، شکر پڑیاں، پشاور موڑ، نائنتھ ایونیو، ایمبیسی روڈ سمیت کئی مقامات پر پانی جمع ہوگیا، جبکہ ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔


    بارش کے بعد اسلام آباد کی سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا جبکہ سری نگر ہائی وے پر پشاور موڑ فلائی اور کے نیچے کار بارش کے پانی میں ڈوب گئی۔ ریسکیو اہل کاروں نےدھکا لگا کر گاڑی کو نکالا۔

    اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد سیکٹر ای الیون اور ڈی 12 میں بارش کے پانی میں گاڑیاں پانی میں بہہ گئیں جن کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں-

    ٹریفک پولیس نے کہا ہے کہ شہری اسلام آباد میں سری نگر ہائی وے پر پشاور موڑ انٹر چینج کا استعمال نہ کریں اور گاڑیوں کا رخ نائنتھ ایونیو کی طرف موڑ دیں۔


    ڈپٹی کمشنراسلام آباد حمزہ شفقت نے سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ اسلام آباد میں بادل پھٹنے کے باعث مختلف علاقوں میں سیلاب آگیا ہے ٹیمیں نالوں اور سڑکوں کو صاف کررہی ہیں، امید ہے کہ ہم ایک گھنٹہ میں سب کچھ کلئیر کردیں گے۔

    انہوں نے وہاں کے رہائشیوں سے درخواست کی کہ وہ تعاون کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت کو اگلے 2 گھنٹوں تک محدود رکھیں۔

    ڈی دی اسلام آباد کے مطابق انتظامیہ اور دیگر ادارے ای الیون پہنچ گئے، صورتحال بہتر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، کچھ ایریا میں صورت حال کافی بہتر کرلی ہے۔

    دوسری جانب بارش کے بعد راولپنڈی شہرکے کئی نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ نالہ لئی میں بھی پانی کی سطح کئی فٹ بلند ہوگئی۔ کئی نشیبی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔

    نالہ لئی میں پانی کی سطح 21 فٹ تک پہنچ گئی پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے بعد خطرے کی گھنٹیاں بجادی گئیں طغیانی کے خطرے کے باعث پاک فوج کے دستے طلب کرلیے گئے ہیں اور لوگوں کوندی نالوں سے ملحقہ بستیاں خالی کرنے کی ہدایات کردی گئی ہیں-


    ضلعی انتظامیہ، واسا اور دیگر متعلقہ اداروں کو ریڈ الرٹ کرکے سول ڈیفنس اور ریسکیو ون ون ٹوٹو کے اہلکار کسی بھی ناگہانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے نالہ لئی کے کناروں پر تعینات کر دئیے گئے ہیں۔

    راولپنڈی میں بارش سے ڈھوک کشمیریاں، شکرالہ، صادق آباد، ندیم کالونی، آریہ محلہ اور کری روڑ سمیت کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ مری روڈ، راول روڈ اور ایکسپریس وے سمیت اہم شاہراوں پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔


    محکمہ موسمیات کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں رات سے اب تک 122 ملی میٹر تک بارش ریکارڈ کی گئی ہےجبکہ محکمہ موسمیات نے راولپنڈی، اسلام آباد اور ملک کے دوسرے حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے-

    دوسری جانب مردان اور شانگلہ سمیت خیبرپختون خوا کے مختلف علاقوں میں بھی بادل برسے محکمہ موسمیات نے آئندہ چوبیس گھنٹے کے دوران پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی ، ٹھٹہ، بدین اور تھر پارکر میں بارش ہو سکتی ہے۔ کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی بارش کی توقع ہے این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، راولپنڈی، پشاور اور گوجرانوالہ میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ بالائی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ بھی ہو سکتی ہے۔

  • آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم کیسا رہے گا؟

    آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم کیسا رہے گا؟

    ملک کے بیشتر اضلاع میں آج گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے جبکہ اسلام آباد میں ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب کے بیشتر اضلاع میں دن کے اوقات میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں بھی موسم گرم اور مرطوب رہے گا البتہ رات میں خضدار اور گردونواح میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    اسلام آباد میں آج تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ وقفے وقفے سے ہلکی بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں بھی تیز ہواؤں اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    خیبر پختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان ہے جبکہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، کوہستان، سوات، مالاکنڈ، دیر، مردان میں بھی بارش کا امکان ہے۔

    کراچی سمیت سندھ کے بیشتر اضلاع ٹھٹھہ اور بدین میں بھی بوندا باندی متوقع ہے۔

  • درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    درخت – زندگی کی ضرروت تحریر : مصعب طارق

    گرمی کے موسم کا آغاز ہوچکا ہے، اور ہم تیز دھوپ کے نیچے کچھ دیر قیام نہیں کرسکتے ہیں۔ درجہ حرارت برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ لیکن آپ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا! آسانی سے سانس لیں اور اے سی کے درجہ حرارت کو 26 میں ایڈجسٹ کریں۔ دیہی علاقوں میں درجہ حرارت شہروں کے مقابلہ میں کم ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شہروں میں موجودہ ٹریفک کا بہاؤ دیہی علاقوں سے مختلف ہے۔ ہمارے ملک میں ٹریفک کے شور اور ٹریفک کے دھواں کسی گنتی میں شمار نہیں کیے جاتے ہیں، اور وہ ہر سال ہزاروں جانوں کے جانے کا باعث بن رہے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم نے نئے رہائشی منصوبوں کے لئے زرعی اراضی پر رہائشی علاقوں کی تعمیر کے کاروبار میں اسے تبدیل کردیا ہے۔ ہمارے ملک میں کوئی قانون یا ضابطہ اخلاق موجود نہیں ہے۔اگر سبز اراضی کو رہائشی علاقے میں تبدیل کردیا جاتا ہے تو اس علاقے میں جیتا سبزہ کاٹا گیا ہے اس کے برابر اتنا ہی سبزہ کسی دوسرے علاقے میں لگایا جاۓ۔
    آپ دوسروں کی بات کیوں کہنا چاہتے ہیں، پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ لیکن اس کی زراعت صرف کاغذی کام تک ہی محدود ہے۔ اگر آپ اس پر یقین نہیں رکھتے ہیں تو، جب آپ اپنے شہر سے کسی دوسرے شہر کا سفر کرتے ہو تو راستے میں سڑک کے کنارے ایک پھل دار درخت یا کوئ سایہ دار درخت نظر آ جاۓ یہ نامکمن ہے۔ ہمارے رہائشی علاقے میں درخت غائب ہوگئے ہیں۔ اور جو موجود بھی ہیں وہ صرف سجاوٹ کے لیے جس کا نہ کوئ سایہ نا کوئ پھل۔ اس صورت میں، کون اب خالی جگہوں پر سبز رنگ کی نمائش کی توقع کرسکتا ہے؟ پاکستان میں درجہ حرارت کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ملک میں جنگلات کی کمی، درخت نہ لگانے کے رجحان اور ذاتی غیر ذمہ داری ہے۔
    حقیقت یہ ہے کہ ہم شدید گرمی کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں۔آئندہ آنے سالوں میں، شدید گرمی سے ہماری نسلیں تشدد کا نشانہ بنیں گی۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا۔آپ زیادہ سے زیادہ ٹاک شوز میں بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم، آپ اور پورے ملک، ہم سب ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بے حسی کے عروج پر فخر ہے۔ کوئی بھی ہمیں پیاس سے مرتے رہنے سے نہیں روک سکتا۔ بھارت نے ہمارے پانیوں میں ڈیم بنا کر ہمارے ملک کو صحرا کی راہ پر گامزن کردیا ہے۔
    آج، ہمیں یہ سمجھنے کے لئے سخت محنت کرنی ہوگی کہ درخت ہمارے اور ماحول کے لئے بہت اہم ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ وزارت زراعت، جنگلات و آبپاشی کی وزارت مشترکہ منصوبہ تجویز کرے گی جسے حکومت اس مسئلے کے حل کے لئے نافذ کرسکتی ہے۔ یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ کوئی بھی حکمران اس مسئلے کے ہل کا سوچھ سکتا ہے، اور صوبائی سطح پر سڑکوں کے کنارے درخت اور پودے لگانے کی کوشش کرے۔ کیونکہ وہ صرف اپنے کمرے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
    لہذا،اب لوگوں کو اپنی مدد آپ اپنے گھر کے چاروں طرف درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ سڑک کے کنارے بسنے والے ہی اس ملک کو جل کر مرنے سے بچانے کے لئے سڑک کے کنارے درخت اور گھاس لگاسکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو زندگی کو بچانے کے لیے سب سے بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔
    @mussab_tariq