Baaghi TV

Tag: افغانستان

  • پاک فوج کے ساتھ ملکر افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے،عوام خیبر پختونخوا

    پاک فوج کے ساتھ ملکر افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے،عوام خیبر پختونخوا

    خیبر پختونخوا کے عوام پاک فوج کے ساتھ – افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے-

    خیبر پختونخوا کی عوام کا کہنا ہے کہ روس کے افغانستان پر حملے کے وقت پاکستان نے افغان عوام کا ساتھ دیا اور ان کا خیال رکھا، پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی قبائلی علاقوں خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں افغانوں کو جگہ دی گئی، پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا، اسے شکست دینا ناممکن ہے، پاک فوج ہر بیرونی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، افغان ہمارے پشتون بھائی ہیں انہیں چاہیے پشتونوں کی روایات کا خیال رکھیں، پاکستان کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ دشمن کو ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا-

    ’آپریشن غضب اللحق‘: افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،عطا اللہ تارڑ

    دوسری جانب میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور آپریشن غضب للحق کی حمایت میں عوامی ریلی کا انعقاد کیا گیا، افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کے خلاف اورکزئی کے عوام مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    پاک فوج سے یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ریلی میں مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندوں سمیت عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی، شرکاء نے قومی پرچم اور بینرز اٹھا رکھے تھے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگائے،ہوئے مقررین نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سرحدی سلامتی اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

    کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ڈرون حملہ، متعدد ملازمین زخمی

    شرکاء نے پاک فوج کے شہداء اور غازیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور پاک فوج کےشانہ بشانہ کھڑے رہنے کےعزم کا اظہار کیا، اس اجتماع کے ذریعے دشمن کو پاکستان کی قومی یکجہتی اور عزم کا واضح پیغام دیا گیا۔

  • افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں، روس کا انتباہ

    روسی وزارت خارجہ نے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں عالمی دہشتگرد نیٹ ورکس کی موجودگی سے خطے کی سیکیورٹی کو لاحق خطرات برقرار ہیں۔

    روسی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ کی رپورٹس نے مشترکہ طور پر طالبان حکومت پر کڑی تنقید کی ہے ان کے مطابق طالبان کے زیرِ حکومت افغانستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کو روکا یا تحلیل نہیں کیا گیا، اور بار بار کیے گئے دعووں کے باوجود عملی اقدامات ناکافی ہیں۔

    روس کے مطابق بین الاقوامی نگرانی رپورٹس بشمول اقوام متحدہ، افغانستان میں القاعدہ اور متعلقہ دہشتگرد گروپس مختلف صوبوں بشمول غزنی، لغمان، کنڑ، ننگرہار، نورستان، پروان اور اورزگا ن میں تربیتی مراکز اور لاجسٹک نیٹ ورک چلا رہے ہیں، افغانستان نے خطے میں القاعدہ کے لیے تربیتی اور ہم آہنگی کا مرکز بن کر ترقی کی ہے، جبکہ داعش نے مشرقی اور شمالی علاقوں میں اپنی پائیدار موجودگی قائم کی ہے اور وسطی ایشیا میں توسیع کے طویل المدتی ارادے رکھتا ہے۔

    ڈچ ائیر لائن کا اسرائیل کیلئے پروازیں بند کرنے کا اعلان

    یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ افغانستان خطے میں مسلسل غیر یقینی صورتحال اور دہشتگردی کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، اور طالبان کے دعوے کہ ملک میں استحکام ہے، بین الاقوامی تشخیص کے مطابق درست نہیں ہیں۔

    رحیم یار خان:ایک کروڑ روپے سر کی قیمت والے کچے کے خطرناک ڈاکو نے سرنڈر کر دیا

  • افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    افغان طالبان کی منافقانہ پالیسی اور دہشتگردوں کی پشت پناہی بے نقاب

    پاکستان نے انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر افغانستان میں دہشتگردوں کے مرکزی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم فضائی کارروائی کے فوری بعد طالبان رجیم نے متا ثر ہ علاقوں تک افغان میڈیا اور شہریوں کی رسائی روک دی-

    دی ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق، افغان ریاستی زیر انتظام میڈیا نے صرف ضلع بہسود کے ایک ملبے کی فوٹیج دکھائی، جبکہ دیگر تباہ شدہ ٹھکانوں کی رپورٹ جاری نہیں کی گئی، پکتیکا، خوست، اور ننگرہار کے مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ طالبان فورسز نے فضائی حملوں کے فوری بعد کئی علاقوں کو گھیر لیا۔

    مقامی شہریوں کے مطابق دہشتگرد کئی برس سے یہاں اپنے خاندانوں کے ساتھ رہائش پذیر ہیں خوگانی، ننگرہار، خوست اور دیگر متاثرہ مقامات پر صحافیوں کی جانے کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کارروائیوں میں ہلاکتوں کی اصل تعداد اور مکمل اثرات کیا ہیں۔

    پی ٹی آئی احتجاج کے باعث راستوں کی بندش کے کیس کا تحریری فیصلہ جاری

    ماہرین کے مطابق آزاد میڈیا کو رسائی نہ دینا اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ طالبان رجیم زمینی حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے مستند شواہد سے واضح ہے کہ افغانستان فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان سمیت عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ ہے میڈیا پر پابندی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی میں دہشتگردوں کے ٹھکانے افغانستان میں قائم ہیں۔

    غیر فعال بینک اکاؤنٹس کی رقم کیسے حاصل کریں؟

  • کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث  سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    کوئٹہ: انسانی اسمگلنگ میں ملوث سب ایجنٹ افغان شہریوں سمیت گرفتار

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کوئٹہ نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے ایک سب ایجنٹ کے ہمراہ افغان شہری بھی گرفتار کرلیے ہیں۔

    ایف آئی اے حکام کے مطابق سب ایجنٹ ڈرائیور عرفان کو گرفتار کیا، جس کے ساتھ 8 افغان باشندے بھی پکڑے گئے ہیں، اس ضمن میں مرکزی ملزمان گل بدین اور غمائی کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے،دونوں مرکزی ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

    گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک موبائل فون برآمد ہوا، جس سے واٹس ایپ چیٹس، تصاویر اور دیگر ریکارڈ حاصل کیے گئے ہیں، جو انسانی اسمگلنگ میں اس کے ملوث ہونے کے واضح شواہد فراہم کرتے ہیں،اس کارروائی میں استعمال ہونے والی گاڑی اور رکشہ کو بھی ایف آئی اے نے تحویل میں لے لیا ہے گرفتار سب ایجنٹ کے براہِ راست افغانستان میں موجود ایجنٹ تاج محمد اور کامل کے ساتھ رابطے ہیں،ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے بےبنیاد الزامات

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان پر شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے ہیں-

    پاکستان نے افغانستان میں جو بڑی سرجیکل سٹرائیکس کی ہے ان میں ٹی ٹی پی کے کئی کمانڈڑوں کی نشانہ بننے کی اطلاعات ہیں افغان طالبان اگرچہ جواب میں وہی روایتی جذباتی حربے استعمال کر رہے ہیں کہ گھروں ، عورتوں بچوں کو نشانہ بنایا، مسجد کو نشانہ بنایا وغیرہ فیک تصاویر بھی پھیلائی جا رہی ہیں۔ یہ گھسے پٹے حربے ہیں افغان طالبان کے پالے ہوئے ٹی ٹی پی دہشت گرد پاکستان میں مساجد پر حملے کریں، عام آدمیوں کو نشانہ بنائیں، خواتین، بچے شہید ہوں، جوان نشانہ بنیں مگر ان دین کے نام نہاد ٹھیکے داروں طالبان کو کوئی پروا نہیں۔ پاکستان نے سٹرائیک کی تو اب واویلا شروع کر دیا۔

    ترجمان طالبان حکومت کی جانب سے یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب افغانستان کے مشرقی علاقوں میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی موجودگی اور کارروائیوں کے بارے میں متعدد مرتبہ دستاویزی شواہد اور بین الاقوامی سطح پر تشویش ظاہر کی جا چکی ہے پاکستان نے بار بار افغان علاقے سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں خبردار کیا اور طالبان حکومت سے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات ختم کرے اور نیٹ ورکس کو ختم کرے، جیسا کہ دوحہ معاہدے میں طے پایا تھا۔ متعدد سرکاری و رسمی انتباہات جاری کیے گئے اور سیکیورٹی تعاون کے مکینزم کی تجاویز دی گئیں اس سے قبل کہ کوئی کارروائی کی جا ئے، سفارتی چینلز، انٹیلی جنس شیئرنگ اور ثالثی کے تمام امکانات استعمال کیے گئے۔

    پاکستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درستگی کے ساتھ کارروائیاں کیں اور اپنی دفاعی حق کو جواز بنانے کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیا۔ بین الاقوامی انسداد دہشت گردی کے اصولوں کے مطابق، جب غیر ریاستی عناصر غیر ملکی علاقے سے حملے کرتے ہیں اور میزبان حکومت کارروائی میں ناکام رہتی ہے تو خود دفاع کا حق تسلیم کیا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹوں میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کے حکمرانی میں ٹی ٹی پی کو زیادہ آزادی اور کارروائی کا موقع ملا ہے، جو ان کی موجودگی کے عوامی انکار کے برعکس ہے دہشت گرد نیٹ ورکس کی مسلسل سرپرستی یا برداشت نے ان کے دوبارہ گروہ بندی اور بیرونی حملوں کو ممکن بنایا ہے۔

    طالبان حکومت نے جان بوجھ کر ٹی ٹی پی کو مقامی آبادی میں آباد کیا جب بھی دہشت گردی کا ڈھانچہ نشانہ بنایا جاتا ہے، طالبان حکومت فوری شہری نقصا نا ت کے دعوے کرتی ہے، بغیر کسی شفاف اور آزاد تصدیق کے اس سلسلے میں ہونے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار طالبان حکومت ہے، جس نے ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو شہری آبادی میں قائم رہنے دیا،پائیدار امن اور کشیدگی میں کمی محض بیانیہ یا بیانات سے نہیں آئے گی، بلکہ یہ ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کی شفاف طور پر تحلیل اور سرحد پار سیکیورٹی تعاون کے منظم اقدامات پر منحصر ہے۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین، عالمی ادارے نےخبردار کر دیا

    افغانستان میں بچوں کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے اور لاکھوں بچے خوراک اور بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں جاری معاشی اور انسانی بحران کے باعث صورتحال دن بدن سنگین ہوتی جا رہی ہے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق افغانستان میں تقریباً 40 لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث ان میں سے بڑی تعداد کو امداد فراہم نہیں کی جا سکی۔

    ادارے نے خبردار کیا ہے کہ وسائل کی کمی کے سبب تقریباً 17.4 ملین افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں رہا دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں اور کئی بیمار بچے علاج کے مراکز تک بھی نہیں پہنچ پا رہے اگر فوری مالی معاونت فراہم نہ کی گئی تو لاکھوں بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق افغانستان کو درپیش معاشی اور انتظامی بحران نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ بین الاقوامی ادارے بھی ملک میں وسائل کی کمی اور بدانتظامی کے باعث عوامی محرومی کی نشاندہی کر چکے ہیں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر امداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ مزید انسانی المیہ جنم نہ لے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔

  • پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلیجنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیاافغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق جنگی طیاروں نے دہشت گرد ی کےجوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ، اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی۔

    پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہےاسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارجاور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے،تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    وزارت اطلاعات و نشریات کی پریس ریلیز کے مطابق، پاکستان نے باضابطہ طور پر افغان سرزمین کے اندر درست فضائی حملے کرنے، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، القاعدہ کے عناصر، اور ISIS-Khorasan Province (ISKP) سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔

    پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک اور آج بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایک اور واقعے کے بعد،پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ خرا سا ن صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کیا تھا۔

    دہشتگردوں کیخلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے،آئی ایس پی آر

    پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی حکومت پر دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکی پراکسیوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے پر زور دینے کی بار بار کوششوں کے باوجود، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اس پس پردہ ردعمل میں، پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درست اور درستگی کے ساتھ پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر منتخب کیا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور خوارج اور دہشت گردوں کی جانب سے پا کستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گا کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت سب سے پہلے ہے پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گا کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی سرزمین کو دوسرے مما لک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے، علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام۔