Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • پاکستان کی   آئی ایم ایف کو   گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی

    پاکستان کی آئی ایم ایف کو گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی

    اسلام آباد: پاکستان نے آئی ایم ایف کو جولائی میں گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی کرادی۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف اور وزارت خزانہ حکام کے درمیان جاری مذاکرات میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور پرائمری خسارے میں کمی کے لیے بات چیت جاری ہے جب کہ اگلے سال کے بجٹ اہداف پر آئی ایم ایف کو بریفنگ دی جاچکی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف نے گردشی قرض میں اضافے پر تشویش کا اظہار کر دیا ہے، پاور سیکٹر کے گردشی قرضے میں 150 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان نے رواں سال کےآخر تک گردشی قرض 2300 ارب روپے تک محدود رکھنے کا وعدہ کیاہے، پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو جولائی میں گیس اور بجلی کی قیمت بڑھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ آئی ایم ایف کو ایس آئی ایف سی کے آپریشنز میں شفافیت کی یقین دہانی کرائی گئی جب کہ حکام نے بریفنگ میں کہا کہ سرمایہ کاری پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ فریم ورک کے تحت ہوگی، ایس آئی ایف سی کے ذریعے سرمایہ کاری کے غیر مساوی مواقع پیدا نہیں ہوں گے، کسی قسم کی ترغیبات یا گارنٹی شدہ واپسی کا کوئی وعدہ نہیں کیا جائے گا آئی ایم ایف کو ملک میں سرمایہ کاری کے ماحول کو مسخ نہ کرنے کی یقین ہانی بھی کرائی گئی جس میں کہا گیا کہ ایس آئی ایف سی کے لیے شفافیت کا طریقہ کار اپنایا جائے گا،آئی ایم ایف کو سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کی آپریشنل کپیسٹی بہتر بنانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

  • بجلی کی قیمت میں  5 سے 7 روپے فی یونٹ تک اضافے کا امکان

    بجلی کی قیمت میں 5 سے 7 روپے فی یونٹ تک اضافے کا امکان

    اسلام آباد: جولائی میں سالانہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی کے اوسط ٹیرف میں 5 سے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : انگریزی اخبار دی ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ جولائی میں سالانہ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے بجلی کے اوسط ٹیرف میں 5 سے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

    حکومتی ذرائع نے تصدیق کی کہ رواں ہفتے پاور سیکٹر کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے کئی دوروں کے دوران بات چیت ہوئی وزارت توانائی کے حکام نے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی درخواستوں کی بنیاد پر سالانہ بیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کے نرخوں میں 5 سے 7 روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے، یہ موجودہ بنیادی ٹیرف کی بنیاد پر تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کیلئے بنگلہ دیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان

    ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے وزارت سے کہا کہ وہ سالانہ بیس ٹیرف میں اضافے کے لیے استعمال کیے جانے والے مفرو ضو ں کے بارے میں مزید تفصیلات بتائے ان کا کہنا تھا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف اضافے کی مقدار کے بارے میں شکو ک و شبہات کا شکار ہے، جو پاور ڈویژن کی توقع سے کم ہوسکتی ہے 5 سے 7 روپے فی یونٹ متوقع اضافہ آئندہ مالی سال 25-2024 کے لیے 1.2 ٹریلین روپے سے زیادہ کی سالانہ بجٹ سبسڈی کی بنیاد پر تھا سبسڈی کی مقدار میں تبدیلی کی صورت میں اس کا اثر بجلی کی قیمتوں میں متوقع اضافے پر بھی پڑے گا۔

    سیکیورٹی خدشات کےباعث 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت ملتوی

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ نے آئندہ مالی سال کے لیے بجلی کی سبسڈی کی مد میں زیادہ سے زیادہ 920 ارب روپے دینے کا عندیہ دیا ہے تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا وزارت توانائی کی جانب سے تبصرہ کرنے پر گریز کیا گیا گزشتہ دو سالوں سے بجلی کی قیمتوں میں اوسطاً 7 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیا لیکن پھر بھی یہ گردشی قرضہ کم کرنے میں ناکام رہی۔

    سلمان خان کے گھر کے باہر فائرنگ کے کیس میں ملوث چھٹا ملزم بھی گرفتار

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے اس بنیاد پر سفارش کو قبول نہیں کیا کہ وہ صنعتی صارفین کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے گھریلو صارفین پر بوجھ نہیں ڈال سکتا، رواں مالی سال کے لیے براہ راست ٹیرف کے فرق سے متعلق بجلی کی سبسڈی کا تخمینہ 632 ارب روپے تھا لیکن بجٹ سے صرف 158 ارب روپے ادا کیے جا رہے ہیں باقی 474 ارب روپے رہائشی صارفین کے ساتھ ساتھ کمر شل اور صنعتی صارفین بھی برداشت کر رہے ہیں۔

    رواں سال فروری میں آئی ایم ایف نے بجلی کی لاگت کا بوجھ ایک کندھے سے دوسرے کندھے پر منتقل کرنے کی تجویز بھی مسترد کر دی تھی آئی ایم ایف کے پاکستان میں مشن چیف ناتھن پورٹر نے اس سال فروری میں کہا کہ "مجوزہ صنعتی ٹیرف میں کمی کا منصوبہ بنیادی مسائل کو حل نہیں کرتا اور خاص طور پر، ٹیرف ریشنلائزیشن پلان کی گردشی قرض کی غیرجانبداری مشکوک ہے۔

    فحش اداکارہ کیساتھ جنسی اسکینڈل کیس:ٹرمپ کے سابق وکیل نے بیان ریکارڈ کرا دیا

  • آئی ایم ایف کا پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں پر تشویش کا اظہار

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں پر تشویش کا اظہار

    اسلام آباد: آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بڑھانے کے لیے کیے گئے اقدامات اور تاجر دوست اسکیم کے تحت ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ تاجر دوست ایپ اسکیم کے تحت تاجروں کی رجسٹریشن تیز ہوگئی ہے ، اب تک ڈھائی ہزار تاجر رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔

    آئی ایم ایف حکام کو پانچ لاکھ 77 ہزار سے زائد نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں بتایا گیا کہ نان فائلرز کی سمیں بلاک کرنے کے پراسس کو اسٹریم لائن کیا جارہا ہے اس حوالے سے ایف بی آر ،پی ٹی اے اور ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندوں پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دیا جارہا ہے۔

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی …

    علاوہ ازیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو ٹوبیکو،شوگر،سیمنٹ اور بیوریجز سمیت 5 شعبوں میں لاگو کیے گئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ میں خرابیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس پر آئی ایم ایف کو ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں خرابیوں کے ذمے داروں کے خلاف کی جانے والی حالیہ کارروائی کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

    حکومتی ملکیتی اداروں کی نجکاری سے ٹیکس دہندگان کے پیسے کی بچت ہو گی،وزیراعظم

    ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان ٹیکس اسٹرکچر اور ٹیکس ایڈمنسٹریشن پر بھی مذاکرات ہوئے آئی ایم ایف مشن نے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کی ہے علاوہ ازیں وزیراعظم آفس کو دی گئی رپورٹ بھی آئی ایم ایف مشن کو پیش کردی گئی ہے،آئی ایم ایف نے ایف بی آر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کا دائرہ 5 بڑے شعبوں میں مکمل عائد کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے آئندہ مالی سال میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم مکمل نصب کرنے کی تجویز دی ہے۔

    عدت نکاح کیس:وکیل کی عدم پیشی،عمران خان و اہلیہ کی سزا کیخلاف اپیلوں کی سماعت …

    علاوہ ازیں آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر کے درمیان ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس چوری روکنے کے لیے اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جس کے بعد آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر حکام کے درمیان مزید مذاکرات بھی جاری ہیں ریونیو شارٹ فال پُر کرنے کے لیے آئی ایم ایف مشن کو پلان فراہم کیا جائے گا۔

  • آئی ایم ایف  کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی پیشگوئی

    آئی ایم ایف کی 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی کی پیشگوئی

    اسلام آباد: آئی ایم ایف نے 4 سالوں میں پاکستان میں مہنگائی میں مسلسل کمی اور سرکاری ذخائر 20ارب سے زائد کی پیشگوئی کر دی۔

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2028تک مہنگائی شرح 6.5فیصد تک گر جائے گی ،مالی سال 2027میں بھی مہنگائی کی شرح 6.5فیصد تک رہے گی جبکہ مالی سال 2026میں مہنگائی کی شرح 7.6فیصد رہے گی۔

    رپورٹ کے مطابق آئندہ مالی سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 12.7فیصد رہے گی، آئندہ 4سالوں میں جی ڈی پی گروتھ میں بھی مسلسل اضافے کی پیش گوئی کی گئی جس کے مطابق 2028تک پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 5فیصد تک پہنچ جائے گی۔

    دوسری جانب وال اسٹریٹ بینک سٹی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان جولائی کے آخر تک عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 8 ارب ڈالر تک کے نئے چار سالہ پروگرام کے معاہدے پر پہنچ جائے گا،پاکستان نے گزشتہ ماہ 3 ارب ڈالر کے قلیل مدتی اسٹینڈ بائی معاہدے کو مکمل کیا تھا لیکن اسلام آباد نے ایک نئے اور طویل مدتی پروگرام کی ضرورت پر زور دیا ہے سٹی میں نکولا اپوسٹولوف نے کلائنٹس کے نام ایک نوٹ میں لکھا کہ اگرچہ طویل مدتی چیلنجز کا تعلق ہے ، لیکن ہم یورو بانڈز کی حمایت کرنے والے متعدد مثبت محرکات دیکھتے ہیں۔

    بھارت نے 10 سال کے لیے ایران کی چابہار بندرگاہ کا انتظام سنبھال لیا

    حزب اللہ کے شمالی اسرائیل میں میزائل حملے،چار اسرائیلی فوجی زخمی

    پاکستان جولائی کے آخر تک 8 بلین ڈالر کا نیا آئی ایم ایف …

  • پاکستان جولائی کے آخر تک   8 بلین ڈالر کا نیا آئی ایم ایف معاہدہ کر لے گا،وال اسٹریٹ بینک سٹی

    پاکستان جولائی کے آخر تک 8 بلین ڈالر کا نیا آئی ایم ایف معاہدہ کر لے گا،وال اسٹریٹ بینک سٹی

    لندن: وال اسٹریٹ بینک سٹی نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان جولائی کے آخر تک عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 8 ارب ڈالر تک کے نئے چار سالہ پروگرام کے معاہدے پر پہنچ جائے گا-

    باغی ٹی وی : بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گزشتہ ماہ 3 ارب ڈالر کے قلیل مدتی اسٹینڈ بائی معاہدے کو مکمل کیا تھا لیکن اسلام آباد نے ایک نئے اور طویل مدتی پروگرام کی ضرورت پر زور دیا ہے سٹی میں نکولا اپوسٹولوف نے کلائنٹس کے نام ایک نوٹ میں لکھا کہ اگرچہ طویل مدتی چیلنجز کا تعلق ہے ، لیکن ہم یورو بانڈز کی حمایت کرنے والے متعدد مثبت محرکات دیکھتے ہیں۔

    سٹی کی ایک ٹیم کے پاکستان کے دورے اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سمیت پالیسی سازوں سے ملاقات کے بعد اپوسٹولوف نے کہا، “سب سے پہلے، آئی ایم ایف کے ایک بڑے اور طویل ای ایف ایف (توسیعی فنڈ سہولت) پروگرام کو جولائی تک حتمی شکل دی جا سکتی ہے ممکنہ طور پر 7-8 ارب ڈالر کا 4 سالہ پروگرام اور دوسرا سعودی سرمایہ کاری متوقع ہے، آئی ایم ایف کا وفد مالی سال 2025 کے بجٹ، پالیسیوں اور ممکنہ نئے پروگرام کے تحت اصلاحات پر تبادلہ خیال کے لیے پاکستان کا دورہ کرے گا۔

    ایف آئی اے انٹرپول کی کارروائی، قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری ملزم سعودی عرب …

    آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ایتھر پیریز روئز نے ہفتے کے آخر میں میڈیا کو ایک پیغام میں کہا، “اس کا مقصد بہتر گورننس اور مضبوط، زیادہ جامع اور لچکدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنا ہے جس سے تمام پاکستانی مستفید ہوں گے۔

    دریں اثنا سٹی نے کہا کہ اسے توقع ہے کہ پاکستان کا بین الاقوامی 2027 بانڈ سرمایہ کاروں کو کافی لیکویڈیٹی اور بڑے پیمانے پر اضافے کے ساتھ ایک اچھا مقام فراہم کرے گا کیونکہ ڈیفالٹ کے خطرات مزید کم ہوجائیں گےملک کے 2025 اور 2026 کے مختصر تاریخ والے بانڈز 91-96 سینٹ پر ٹریڈ کر رہے ہیں جو پچھلے سال کے آخر سے زبردست تیزی کے بعد ٹریڈ کر رہے ہیں، پاکستان کے بین الاقوامی بانڈز 2022 میں ڈالر کے مقابلے میں 20 سینٹ کے وسط تک گر گئے تھے۔

    پاکستان اور امریکا کے درمیان انسداد دہشتگردی ڈائیلاگ کا مشترکہ اعلامیہ جاری

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان  بجٹ اور نئے قرض پروگرام پرمذاکرات شروع

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اور نئے قرض پروگرام پرمذاکرات شروع

    اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ اور نئے قرض پروگرام پرمذاکرات شروع ہوگئے-

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ نے نئے قرض پروگرام کے حوالے سے پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) کے درمیان مذاکرات کے تعارفی سیشن کا اعلامیہ جاری کر دیا، جس کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے آئی ایم ایف کے وفد نے ملاقات کی جبکہ وفد کی قیادت آئی ایم ایف مشن چیف نیتھن پورٹر کررہے تھے،ملاقات میں گورنر اسٹیٹ بینک، چیئرمین ایف بی آر اور وزارت خزانہ کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔

    اعلامیہ کے مطابق ملاقات کا مقصد عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ مزید بات چیت کا آغاز ہے، دوران ملاقات وزیر خزانہ نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کی کامیاب تکمیل پرآئی ایم ایف وفد کا شکریہ ادا کیا اور اسے میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری سے آگاہ کیا،اصلاحاتی ایجنڈے کو جاری رکھنے اور اس میں توسیع کیلیے حکومت کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

    پی ٹی آئی رہنما یاسمین راشد نے چیف جسٹس کو خط لکھ دیا

    واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات تقریباً 2 ہفتے تک جاری رہیں گے جن میں نئے قرض پروگرام کے علاوہ نئے مالی سال کے بجٹ پر بھی مشاورت کی جائے گی۔

    ملتان:گھر سے شراب کی بوتلیں برآمد،ایک خاتون اور 5 پولیس اہلکار گرفتار

  • وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مابین آئندہ وفاقی بجٹ کیلیے اہداف طے

    وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے مابین آئندہ وفاقی بجٹ کیلیے اہداف طے

    آئی ایم ایف مشن اور وزارت خزانہ حکام کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا ہے جس میں آئندہ بجٹ کے لئے اہداف طے کر لئے گئے ہیں

    آئی ایم ایف حکام وزارت خزانہ پہنچے،جہاں پاکستانی حکام نے انکا استقبال کیا،آئی ایم ایف مشن اور پاکستانی حکام کے مابین وزارت خزانہ میں تعارفی سیشن ہوا جس میں پاکستان کی طرف سے وزیرخزانہ، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اورگورنراسٹیٹ بینک موجود تھے، مذاکرات میں وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم اہداف طے کیے گئے ،فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران حکومت اسٹیٹ بینک سے قرض نہیں لے گی،میڈیا رپورٹس کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف نے بیرونی ادائیگیاں بلا تاخیر اور بروقت ادا کرنے پر اتفاق کیا ،یہ بھی طے کیا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس ریفنڈ ادائیگیاں بروقت کرنے کا پابند ہوگا ، زرمبادلہ ذخائربہتر بنانے اور ادائیگیوں کیلئے انٹرنیشنل مارکیٹ میں بانڈز جاری کیے جائیں گے، درآمدات پرپابندی نہیں ہوگی اورانٹرنیشنل ٹرانزیکشنز کیلئے بھی پابندی عائد نہیں کی جائےگی، اسٹیٹ بینک، وزارت خزانہ اور وزارت توانائی کی معلومات آئی ایم ایف کو بھیجی جائیں گی، آئی ایم ایف، ایف بی آر، شماریات بیورو اور مارکیٹ بیسڈایکسچینج ریٹ کی معلومات لےگا۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے، پاکستان کو آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر سے زائد کا بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کی امید ہے.پاکستان اور ائی ایم ایف کے درمیان یہ 24 واں پروگرام ہے

    پیچیدہ سیاسی صورتحال اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف سے بڑے اور طویل المیعاد پروگرام کے لیے مذاکرات ہوں گے،وزیرِ خزانہ

    طویل مدتی قرض پروگرام،آئی ایم ایف معاون ٹیم پہنچی پاکستان

    وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا مشہود احمد کا کہنا ہےکہ آئی ایم ایف سے پروگرام حاصل کرنا ضروری ہے،معیشت کا ہر شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے،ملکی معیشت اپنے پیروں پر کھڑی ہورہی ہے، سعودی عرب سے بھاری سرمایہ کاری آرہی ہے،چین سے بھی بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں سرمایہ کاری آرہی ہے،

    وزیراعظم شہباز شریف کی ایم ڈی آئی ایم ایف کو دورہ پاکستان کی دعوت

    پاکستان کی معیشت مستحکم ہونے میں وقت لے گا، ایم ڈی آئی ایم ایف

    اپریل 2024 کے آخر تک پاکستان کے کیس پر غور کیا جائے گا،آئی ایم ایف

    آئی ایم ایف کا سی پی پیز کیلئے گیس ٹیرف میں آر ایل این جی کی قیمت کے برابر اضافے کا مطالبہ

    سٹینڈ بائی معاہدے کے تحت پاکستان کو 3بلین ڈالر کی ادائیگی کی جائیگی،آئی ایم ایف

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے کی امید

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سٹاف لیول معاہدہ طے

    معیشت کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے،آئی ایم ایف
    آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر کا کہنا ہے کہ پاکستان سے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے اور پاکستان کی سپورٹ جاری رکھیں گے،سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی میدان میں چیلنجز ہوئے اور معاشی استحکام بھی سیاسی استحکام کے ساتھ جڑا ہوا ہے،معیشت کی بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف جو تجاویز دے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے،

  • پیچیدہ سیاسی صورتحال  اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے،آئی ایم ایف

    پیچیدہ سیاسی صورتحال اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے،آئی ایم ایف

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا کہنا ہے کہ پیچیدہ سیاسی صورتحال، مہنگائی اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : آئی ایم ایف کی سامنے آنے والی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ نئی حکومت نے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کی پالیسیاں جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیا ہے، معاشی پالیسیوں کے عدم نفاذ، کم بیرونی فنانسنگ کے باعث قرضوں اورایکسچینج ریٹ پردباؤ کا خدشہ ہے، بیرونی فنانسنگ میں تاخیر کی صورت میں بینکوں پرحکومت کو قرض دینےکا دباؤ بڑھےگا اور بینکوں پرحکومت کو قرض دینےکے دباؤ سے نجی شعبے کیلئے فنانسنگ کی گنجائش مزید کم ہونےکاخدشہ ہے۔

    دستاویزات میں بتایا گیا کہ پیچیدہ سیاسی صورتحال، مہنگائی اور سماجی تناؤ،پالیسی اصلاحات کا نفاذ متاثرکرسکتا ہے جب کہ اشیاء کی قیمتیں، شپنگ میں رکاوٹیں یاسخت عالمی مالیاتی حالات بیرونی استحکام کو متاثرکریں گے، 8 فروری 2024 کے انتخابات کے بعد دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مخلوط حکومت بنائی مگر پی ٹی آئی سے وابستہ آزاد امیدواروں نے دیگر سیاسی جماعتوں سے زیادہ ووٹ لیے، پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ ارکان نے قومی اسمبلی میں بڑی اپوزیشن قائم کی ہے۔

    خلیجی ریاست میں ہیٹ اسٹروک ، کم عمر اور نومولود بچوں کے متاثر …

    سب سے پہلے پاکستان ایجنڈہ ضروری، تجزیہ : شہزاد قریشی

    وہاڑی میں سینکڑوں لڑکیوں کو بلیک میل کرنے کا بڑا جنسی اسکینڈل

  • آئی ایم ایف سے بڑے اور طویل المیعاد پروگرام کے لیے مذاکرات ہوں گے،وزیرِ خزانہ

    آئی ایم ایف سے بڑے اور طویل المیعاد پروگرام کے لیے مذاکرات ہوں گے،وزیرِ خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگ زیب نے کہا ہے کہ معیشت کے ڈاکیومینٹیڈ نہ ہونے کے باعث ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، ہمیں ٹیکسوں کا نظام مثبت طریقے سے آگے لے جانا ہے۔

    باغی ٹی وی :روزنامہ بزنس ریکارڈر اور وفاق پاکستان ایوان ہائے صنعت و تجارت کے اشتراک سے منعقدہ پری بجٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ ہمیں ٹیکسوں کا نظام مثبت طریقے سے آگے لے جانا ہے، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے، اگر ہمیں مشکل سے نکلنا ہے تو نجی شعبے کو اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کرنا ہوگا، پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے اور نجی شعبے کو اس پر عمل کرنا ہوتا ہے، ہمیں دیکھنا ہے کہ ملک کہاں کھڑا ہے، کاروبار حکومت کا معاملہ نہیں، حکومت صرف یہ دیکھے گی کہ نجی شعبے کی مدد کس طور کی جاسکتی ہے۔

    9 مئی واقعات ایک منظم اور خطرناک حکمت عملی تھی، نگراں حکومت کی رپورٹ

    وفاقی وزیرِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات بھی کریں گے اور سہولتیں بھی دیں گے معیشت کی ڈاکیومینٹیشن کرنی ہے اس معاملے میں حکومت پسپائی اختیار نہیں کرے گی ہمیں کہیں نہ کہیں سے ٹیکس نیٹ میں توسیع کا آغاز کرنا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ کا خسارہ ختم کرنا ہے،ہم تاجروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائیں گے تنخواہ دار طبقے پر بھی تو ٹیکس لگا ہوا ہے۔

    رفح پر حملہ ،امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیل کو خبردار کردیا

    وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی ہےکل مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے، آئی ایم ایف سے بڑے اور طویل المیعاد پروگرام کے لیے مذاکرات ہوں گے، رواں سال ریونیو کا ہدف 9400 ارب روپے ہے پاکستانی معیشت کا ٹرن اوور 300 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    ڈنمارک کے سفیر نے نئی دہلی میں مودی حکومت کی نااہلی کا پول کھول …

  • پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں لچکدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے پر بات ہوگی

    پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں لچکدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے پر بات ہوگی

    اسلام آباد: آئی ایم ایف کی نمائندہ نے پاکستان سے آئندہ پروگرام کے لیے ہونے والے مذاکرات پر جاری بیان میں کہا ہے کہ لچکدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے پر بات ہوگی۔

    عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی نمائندہ ایستھر پیریز نے اپنے بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف وفدناتھن پورٹرکی قیادت میں اگلے ہفتے پاکستانی حکام سے مذاکرات کرےگا، مشن اگلے پروگرام کے لیے مذاکرات کرے گا، مذاکرات کا مقصد بہتر اور مضبوط گورننس کی بنیاد رکھنا ہے اور مذاکرات میں پاکستانیوں کے فائدے کے لیے پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنا ہے، ان مذاکرات میں لچکدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھنے پر بات ہوگی۔

    قبل ازیں آئی ایم ایف) نے نگران حکومت کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئےکہا ہےکہ موجودہ حکومت نگران دور کی معاشی پالیسیوں پر عمل درآمدکرے آئی ایم ایف نے سفارش کی ہےکہ نئی حکومت نگران دور کی معاشی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھے، قرضےکم کرنےکے لیے نگران دور کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے، نگران دور حکومت میں قرضےکم کرنےکے اقدامات کیےگیے، نگران حکومت نے سیاسی نقصان کی پرواہ کیے بغیر معاشی اقدامات کیے، نگران حکومت نے پرائمری سرپلس کا ہدف حاصل کرنے کے لیے سخت کوشش کی، نگران حکومت کی معاشی پالیسیوں کے باعث بیرونی آمدن بحال ہوئی۔

    افغانستان میں شدید بارشویں اور سیلاب، بغلان میں اموات کی تعداد 300 ہوگئی

    آئی ایم ایف کے مطابق نگران حکومت نے ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کے اقدامات شروع کیے، نگران دور میں ایف بی آر کی آٹومیشن کا منصوبہ شروع ہوا، معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبوں سے رابطے مضبوط کیے جائیں، ملکی آمدن بڑھانےکے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں، ملکی اخراجات کو کنٹرول کیا جائے، قومی اسمبلی کی منظوری کے بغیر بجٹ سے انحراف خطرناک ہوسکتا ہے۔

    پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث 4 دہشت گرد ہلاک