Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا

    کراچی: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) ے معاہدے کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھے جا رہے ہیں اور آج کاروبار کے آغاز سے ہی 100 انڈیکس میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : کاروبار کے دوران ایک موقع 100 انڈیکس 658 پوائنٹس اضافے سے 82905 کی نئی ریکارڈ بلندی پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن رہا تھا اور 100 انڈیکس 764 پوائنٹس اضافے سے 82247 پر بند ہوا تھا، مارکیٹ میں 42 کروڑ شیئرز کے سودے 18.38 ارب روپے میں طے ہوئے تھے جب کہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 99 ارب رو پے بڑھ کر 10784 ارب روپے رہی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹا لینا جارجیوا کا کہنا تھا پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارک ہو، پاکستان نے اصلاحات کی ہیں جس سے معیشت بہتر ہوئی، پاکستان کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے، معیشت کی گروتھ اور مہنگائی میں کمی ہورہی ہے۔

  • افراط زر میں کمی کے باوجود پاکستان کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،آئی ایم ایف

    افراط زر میں کمی کے باوجود پاکستان کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،آئی ایم ایف

    اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایگزیکٹو بورڈ کی طرف سےپاکستان کے ایکسٹینڈڈ فنڈ پروگرام کی منظوری کا اعلامیہ جاری کردیا ہے-

    باغی ٹی وی :آئی ایم ایف کی جانب سے جاری  اعلامیے کے مطابق ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت کے تحت7ارب ڈالر قرض کی منظوری دی ہے، پاکستان کے لیے نیاقرض پروگرام 37ماہ پر مشتمل ہے پاکستان میں معاشی شرح نمو2.4فیصد تک پہنچ گئی ہے، افراط زر میں کمی کے باوجود پاکستان کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جس میں مشکل کاروباری ماحول، کمزورحکمرانی اور محدود ٹیکس بیس شامل ہے۔

    آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق پاکستان نے 2023-24 میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت مسلسل پالیسی پر عمل درآمد کیا، اس پالیسی کے ذریعے اقتصادی استحکام کی بحالی کے لیے اہم اقدامات کیے،مالی سال 2024میں شرح نمو 2.4فیصد تک پہنچ گئی ہے، اس کی وجہ زرعی شعبے میں سرگرمیاں ہیں، پاکستان میں مہنگائی میں نمایاں کمی ہوئی ہے جو کہ سنگل ڈیجٹ تک آگئی ہے۔

    آئی ایم ایف کے مطابق مناسب مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کے سبب کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں رکھنے میں مدد ملی، اس عمل سے زرمبادلہ کے ذخائر کو دوبارہ سے بہتر بنانے کا موقع ملا افراط زر میں کمی اندرونی اور بیرونی حالات میں بہتری کی عکاس ہے، اسٹیٹ بینک نے جون سے اب تک پالیسی ریٹ میں 450 بیسز پوائنٹس کی کمی کی ہے جون 2024 میں ایک مضبوط بجٹ پیش کیا گیا، پیشرفت کے باوجود پاکستان کی کمزوریاں اور مسائل بدستور سنگین ہیں۔

    اعلامیے کے مطابق مشکل کاروباری ماحول، کمزور حکمرانی اورریاست کازیادہ عمل دخل سرمایہ کاری میں رکاوٹ بنتے ہیں ٹیکس بیس تنگ ہونے کی وجہ سے مالیاتی پائیداری، سماجی اور ترقیاتی اخراجات پورا کرنا مشکل ہے، غربت سے مستقل نجات کے لیے صحت اور تعلیم پر خرچ ناکافی ہے بنیادی ڈھانچے میں ناکافی سرمایہ کاری نے معاشی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا شکار ہے، اگر مناسب اصلاحاتی ایڈجسٹمنٹ پر زور نہ دیا گیا اور اصلاحات نہ ہوئیں تو پاکستان کے دیگرممالک کے مقابلے میں مزید پیچھے رہنے کا خطرہ ہے، آئی ایم ایف کے نئے قرض پروگرام کا مقصد میکرو اکنامک استحکام کی بحالی ہےسرکاری اداروں کی اصلاحات، عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری بھی پروگرام کامقصد ہے، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں کےاثرات کا مقابلہ کرنےپرتوجہ مرکوز کرنا ہے، اس پروگرام کی کامیابی کے لیے ترقیاتی شرا کت داروں کی مسلسل مالی معاونت بہت اہم ہوگی۔

  • آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    آئی ایم ایف کی شرائط کڑی تھیں،کچھ کا تعلق چین سے تھا،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ کل آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ ہے، ہم نے ان کی تمام شرائط پوری کردی ہیں-

    باغی ٹی وی : وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کی بڑی کڑی شرائط تھیں کچھ شرائط کا تعلق چین سے تھا، چین نے دوبارہ ہاتھ پکڑا اور ماضی کی طرح تعاون کیا، چینی قیادت، سعودی عرب اور یو اے ای کا شکر گزار ہوں ان کے تعاون کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا،اجتماعی کاوشوں سے حکومت اور اداروں نے ملکر معاشی چیلنجز کو قبول کیا، دن رات محنت سے معاشی اشاریوں میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔

    وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیروت میں حالیہ حملہ اس جنگی تھیٹر کو وسعت دینے کی ایک چال کے سوا کچھ نہیں، بیروت پر حملہ امن پسند دنیا کے لیے تباہ کن ہے، ہم سب کو اس کی مذمت کرنی چاہیئے، مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلی تو دنیا کے لیے بہت سنگین نتائج ہوں گے، 2 ریاستی حل اور فوری جنگ بندی بحران کا واحد حل ہے۔

    وزیر اعظم کی مالدیپ کے صدر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون …

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی ، ترکیہ کے صدر کی اقوام متحدہ میں فلسطین پر تقریر دلوں کو چھو لینے والی تھی، جس طرح انہوں نے فلسطین کا مسئلہ بیان کیا، ہال میں موجود سب کے دلوں کو چھوا، میں نے ترک صدر کو مبارک باد دی، ملاقات میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر گفتگو ہوئی، صدر اردوان نے بتایا کہ وہ جلد پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس آج بدھ کو ہو رہا ہے جس میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر قرضے کی منظوری پر غور کیا جائے گاپاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول ایگریمنٹ 12 جولائی کو ہوا تھا لیکن اس کے بعد ایک طویل وقت گزر چکا ہے اور ائی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے اب تک منظوری نہیں دی۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ آج ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے لیے قرض کی منظوری دے دے گا یا نہیں۔

    نریندر مودی کا امریکا کا دورہ: اہم ملاقاتیں اور کواڈ سمٹ میں شرکت

    12 جولائی کے بعد آئی ایم ایف کے متعدد ایگزیکٹو بورڈ اجلاس ہو چکے ہیں لیکن پاکستان کا معاملہ شامل نہیں کیا گیا اس عرصے میں یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کے قرض پر غور کیا جا رہا ہے۔

    روزانہ بزنس ریکارڈر کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پوری کر دی گئی ہیں۔ گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی کو ایک ان کیمرہ بریفنگ میں فائننس ڈویژن نے بتایا تھا کہ ائی ایم ایف کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کے دوست ممالک اپنے قرضے رول اوور کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس یقین دہانی کے بعد ہی آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاملے پر ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا۔

    آئی ایم ایف کو یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ پاکستان بجلی کے شعبے میں اصلاحات کرے گا، پاکستان کو سات ارب ڈالر آئی ایم ایف سے ملنے ہیں۔ لیکن یہ رقم ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں لہذا مزید پانچ ارب ڈالر کمرشل بینکوں اور دیگر قرض دہندگان سے حاصل کیے جائیں گے۔

    ملک بھر میں بارشیں،NDMA کا الرٹ جاری

  • عالمی بینک  بنگلہ دیش کو 2 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ دے گا

    عالمی بینک بنگلہ دیش کو 2 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ دے گا

    ڈھاکہ: عالمی بینک اہم اصلاحات کے لیے بنگلہ دیش کو 2 ارب ڈالر کا اضافی قرضہ دے گا۔

    باغی ٹی وی : عالمی بینک عبوری حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے میں مدد کے لیے رواں مالی سال میں بنگلہ دیش کو اضافی قرضہ دے گا،ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق عالمی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر عبدولائی سیک نے منگل کو ڈھاکہ میں اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس جمنا میں چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے ملاقات کی-

    سیک نے کہا کہ عالمی بینک جاری مالی سال کے دوران اہم اصلاحات، سیلاب کے ردعمل، بہتر ہوا کے معیار اور صحت کے لیے تقریباً 2 بلین ڈالر کی نئی فنانسنگ کو متحرک کر سکتا ہے ہم آپ کی جلد سے جلد اور زیادہ سے زیادہ مدد کرنا چاہیں گے،” انہوں نے مزید کہا کہ بینک ملک کی اہم مالی ضروریات کو پورا کرے گا۔

    انہوں نے کہا کہ نئے وعدوں کے علاوہ، کثیر الجہتی قرض دہندہ بنگلہ دیش کے تمام ترقیاتی شراکت داروں کے چیف ایڈوائزر کی طرف سے حمایت کے مطالبے کے جواب میں حکومت کے ساتھ مشاورت کے ساتھ اپنے موجودہ پروگراموں سے تقریباً ایک بلین ڈالرز کا دوبارہ استعمال کرے گا۔

    پنجاب کابینہ اجلاس،غیر قانونی اسلحہ اورپتنگ بازی پر سزائیں اورجرمانہ بڑھا دیا گیا

    سیک نے کہا کہ اضافی قرضے سے چھوٹے قرضوں اور گرانٹس کی رقم بڑھ جائے گی جو ورلڈ بینک اس مالی سال بنگلہ دیش کو دے گا جو موجودہ منصوبوں کے فنڈز کو دوبارہ استعمال کرنے کے بعد تقریباً 3 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

    ورلڈ بینک کے کنٹری چیف نے کہا کہ اصلاحات کی تکمیل بنگلہ دیش اور اس کے نوجوانوں کے لیے "انتہائی اہم” ہوگی، بشمول 20 لاکھ افراد جو ہر سال ملازمت میں شامل ہو رہے ہیں۔

    چیف ایڈوائزر نے ورلڈ بینک کے کنٹری ہیڈ کو بتایا ہے کہ بینک کو بنگلہ دیش کی اصلاحات کے لیے فنڈز فراہم کرنے اور 15 سال کی "انتہائی غلط حکمرانی” کے بعد نئے سفر کو دوبارہ شروع کرنے میں مدد کے لیے لچک ہونی چاہیے۔

    میلاد النبی رسول ﷺ کے موقع پر پنجاب میں کرایوں میں کمی کی ہے،عظمیٰ بخاری

    پروفیسر یونس نے ورلڈ بینک سے کہا کہ وہ شیخ حسینہ کی 15 سالہ طویل آمریت کے دوران کرپٹ افراد کے ذریعے بنگلہ دیش سے لوٹے گئے اربوں ڈالر کے چوری شدہ اثاثوں کی بازیابی کے لیے اپنی تکنیکی مدد کرے،آپ کے پاس چوری شدہ اثاثے واپس لانے کی ٹیکنالوجی ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کو "صفر بدعنوانی سے پاک بنگلہ دیش” بنانے کے لیے بینک کی مہارت کی بھی ضرورت ہوگی،ورلڈ بینک کے کنٹری چیف نے بنگلہ دیش کو چوری کی رقم واپس لانے میں مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ "ہم آپ کی مدد کرنے میں خوش ہیں، بینک ڈیٹا کی شفافیت، ڈیٹا کی سالمیت، ٹیکس جمع کرنے کی ڈیجیٹلائزیشن، اور مالیاتی شعبے کی اصلاحات میں بنگلہ دیش کی مدد کرنا چاہے گا۔

    پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش اپنے اداروں کو ٹھیک کرنے اور بڑی اصلاحات کرنے کے زندگی میں ایک بار اس موقع کو کھونے کا متحمل نہیں ہو سکتا،سیک نے جولائی اگست طلبہ کی قیادت میں ہونے والی بغاوت کے شہداء کے لیے تعزیت کی۔

    زیر سمندر "آبدوز ٹائٹن ” سے بھیجاگیا آخری پیغام اور ملبے کی تصویر جاری

    انہوں نے کہا کہ وہ ڈھاکہ کی دیواروں پر نوجوانوں کی طرف سے پینٹ کیے گئے گرافٹی اور دیواروں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے 30 سال کے کیریئر میں اسے کہیں نہیں دیکھا،ہمیں انہیں بااختیار بنانے کی ضرورت ہے-

  • دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    دوست ممالک نے قرض پروگرام ممکن بنایا، وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین، سعودی عرب اور یو اے ای اپنا حصہ نہ ڈالتے تو آئی ایم ایف پروگرام ممکن نہ ہوتا.

    ینگ پارلیمنٹیرینز سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کیلئے تنخواہ داروں پر بوجھ ڈالنا پڑا، مسلسل معیشت کی سمت درست ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک کب تک بار بار قرض رول اوور کروانے پر ہی چلتا رہے گا، قوموں کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں جن پر قابو پا کر ہی آگے بڑھا جاتا ہے، 25 ستمبرکو آئی ایم ایف بورڈ کی میٹنگ ہوناہے، میری دعا ہے کہ یہ آئی ایم ایف کا آخری پروگرام ہو، آئی ایم ایف کے اہداف پورے کرنے کیلئے ٹیکس لگائے گئے، تنخواہ دار طبقے پر مزید بوجھ آیا، مہنگائی کم ہوتی رہے گی تو تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم ہوگا، ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ میں ابھی بہت خلا ہے، تاجر برادری ملک کی معیشت میں حصہ ڈالتی ہے، ٹیکس کی ادائیگی میں ملک کے 50 لاکھ تاجروں کو ابھی بہت کچھ کرنا ہے۔

    پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکس کرپشن ختم کرنے کیلئے دن رات کوشش کر رہے ہیں، یہ تب ہی ممکن ہے جب تمام اہداف کو پورا کریں، زبانی کلامی پاؤں پر قیامت تک نہیں کھڑے ہو سکیں گے، کب تک قرضے مانگتے رہیں گے، کب تک رول اوور کرتے رہیں گے، ہمیشہ ٹیم ورک کامیابی سے ہمکنار کرواتا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کےلیے تنخواہ داروں پر بوجھ ڈالنا پڑا، کسی ایک شعبے پر ٹیکس کا بوجھ لادنے والا معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح تیزی سے نیچے گر رہی ہے، مہنگائی کی شرح 32 فیصد سے کم ہو کر 9.6 فیصد ہوگئی ہے، ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہورہا ہے، زرعی اجناس کی ایکسپورٹ میں اضافہ حوصلہ افزا ہے، ان سگنلز سے پتا چلتا ہے کہ معیشت کی سمت درست ہے، یہ بڑا کٹھن راستا ہے، کانٹوں سے بھرا ہے، دن رات محنت کرنی ہے، ہمیں یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے، ایک پاتھ وے بنایا ہے، جس پر چل کر پاکستان مشکلات سے جان چھڑائے گا، زندگی کے ہر شعبہ میں نوجوان نسل کی تیاری نہ کروائی تو یہ سفر ادھورا رہے گا۔شہباز شریف نے کہا کہ بجلی کی قیمت میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔

  • معیشت کا مستحکم ہونے کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہونا خوش آئندہے،مریم نواز

    معیشت کا مستحکم ہونے کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہونا خوش آئندہے،مریم نواز

    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس کیلئے وزیرِاعظم شہباز شریف کی مخلصانہ کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا

    وزیرِاعلیٰ مریم نواز شریف نے آئی ایم ایف کے مثبت ردعمل کو معاشی ترقی کیلئے خوش آئند قرار دے دیا۔اور کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف اور انکی ٹیم نے معاشی بحران سے نمٹنے کیلئے ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔پاکستان کی معیشت بلند پرواز کیلئے ٹیک آف پوزیشن میں آچکی ہے۔آئی ایم ایف کا حالیہ پروگرام آخری ثابت ہوگا۔ وقت دور نہیں جب پاکستان کا معاشی قوت کے طور پر ظہور ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نواز شریف کی قیادت میں عوام کی معاشی مشکلات کے حل کیلئے کوشاں ہے۔معیشت کا مستحکم ہونے کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہونا خوش آئند امر ہے۔مسلم لیگ (ن) ہی پاکستان کے عوام کی امیدوں کا محور ہے۔حکومتی معاشی پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروبار اور معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے، سرمایہ کاروں کا اعتماد دن بدن بڑھ رہا ہے۔ پنجاب میں ضروری اشیاء خوردونوش کے نرخ دیگر صوبوں کی نسبت سب سے کم ہیں، مہنگائی میں کمی آنے سے عوام نے سکھ کا سانس لیا۔

    عظمیٰ بخاری کی جعلی ویڈیو بنانے والے ہر کردار کو بے نقاب کرینگے،شزہ فاطمہ

    وزیر مملکت آئی ٹی شزہ فاطمہ کی سعودی سفیر نواف سے ملاقات

    خواہش ہے پاکستان اور امریکہ کے آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر میں تعلقات مزید مستحکم ہوں۔ شزہ فاطمہ

  • پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    پاکستانی معیشت کیلیے اچھی خبریں،شرح سودمیں کمی،آئی ایم ایف اجلاس طلب

    پاکستانی معیشت کے لئے اچھی خبریں آنا شروع ہو گئی ہیں،دو ارب کی فنڈنگ کا انتظام ہو گیا۔آئی ایم ایف نے پاکستان کو نیا پیکج دینے کے لیے 25 ستمبر کو اجلاس رکھا ہے جس میں آئی ایم ایف سے فائنل معاھدہ ہو جائیگا۔آج پالیسی ریٹ دو فیصد کم کر دیا گیا ہے جس سے معاشی سرگرمیاں تیز ہونگی۔ایک دو دن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی بارہ روپے تک کمی کی خبریں موجود ہیں۔

    معیشت ٹریک پر آ رہی ہے ان شاءاللہ پاکستان آگے بڑھے گا،ترقی کرے گا اور اسکی تباہی کے خواب دیکھنے والوں کا ان شاءاللہ منہ کالا ہو گا

    آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لئے پاکستان کوشاں‌تھا، اب آئی ایم ایف نے 25 ستمبر کو اجلاس بلایا ہے جس میں پاکستان کے لئے حوالہ سے خصوصی قرض پروگرام کی توثیق کیے جانے کا امکان ہے،پاکستان کافی عرصے سے کوشش کر رہا تھا کہ آئی ایم ایف کا اجلاس بلایا جائے، اس ماہ آئی ایم ایف کا یہ تیسرا اجلاس ہونا ہے جس میں پاکستان کے قرض پروگرام بارے فیصلہ ہونا ہے، ڈائریکٹر کمیونیکیشن آئی ایم ایف جولی کوزیک نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ آئی ایم ایف بورڈکی میٹنگ 25 ستمبرکو طے ہوئی ہے۔ آئی ایم ایف 25 ستمبر کو پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظور کرسکتا ہے، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف میں اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ پاکستان نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ گزشتہ برس کامیابی سے مکمل کیا،پاکستان 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کر رہا ہے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہےکہ حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کی تمام مالی یقین دہانیاں حاصل کرلی ہیں، اب آئی ایم ایف پروگرام کے حصول میں مزید کوئی رکاوٹ نہیں ہے، پاکستان ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف اجلاس میں اپنا مقدمہ پیش کرے گا، پاکستان کو رواں مالی سال 26.20 ارب ڈالر ادا کرنے ہیں، مالی سال کی ادائیگیوں میں 16.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے،اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ تک 14.1 ارب ڈالر واجب الادا ہوں گے، مارچ تک 8.3 ارب ڈالر رول اوور ہوں گے، مارچ تک کے بقایا 5.8 ارب ڈالر ماہانہ 80 کروڑ سے 1 ارب ڈالر ادا کریں گے،جولائی سے ستمبر تک 4 ارب ڈالر سیٹل کرچکے ہیں، جولائی سے ستمبر تک 1.7 ارب ڈالر ادا کیے ہیں اور 2.3 ارب ڈالر رول اوور کیے ہیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ گفتگو اچھے طریقے سے آگے بڑھ رہی ہے، آئی ایم ایف پروگرام کےبعد شرح نمو کی گروتھ کے لیے اقدامات کریں گے، دوست ممالک نے ایک بار پھر ہمارا پوری طرح ساتھ دیا ہے، دوست ممالک نے وہ کیا جو بھائی بھائی کے لیےکرتا ہے۔

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ایک بیان میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا ہےکہ آئی ایم ایف کے ساتھ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے پاگئے ہیں، رواں ماہ آئی ایم ایف کےبورڈاجلاس میں ان معاملات کو حتمی شکل دے دی جائےگی،معیشت استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے، شرح سود میں کمی سےسرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیاں بڑھیں گی، معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، مہنگائی میں مسلسل کمی کے رجحان سے عام آدمی کو ریلیف ملنا شروع ہوگیا ہے،وہ وزیراعظم کی ٹیم، آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم اور متعلقہ اداروں کے شکرگزار ہیں۔ وزیراعظم کی ٹیم،آئی ایم ایف کی مذاکراتی ٹیم اور متعلقہ اداروں نے حتمی مراحل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    علاوہ ازیں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود میں 2 فیصد کمی کا اعلان کیا ہے،اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کم کرکے17.5فیصد کردیا ہے، اس سے قبل پالیسی ریٹ 19.5 فیصد تھا،2 ماہ میں مہنگائی میں اضافےکی شرح تیزی سےکم ہوئی ہے،تیل اور غذائی اجناس کی عالمی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی،کاروباری اعتماد میں بہتری آئی ہے، جبکہ کم سرکاری زرمبادلہ آمد اور قرض ادائیگیوں کے باوجود زرمبادلہ ذخائر 9.5 ارب ڈالرز رہے۔

    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نئے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں،اسٹیٹ بینک کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6 ستمبر کو ختم ہوئے ہفتے میں 5.62 کروڑ ڈالربڑھے ہیں، اس اضافے کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6 ستمبر تک 14.79 ارب ڈالر رہے،علاوہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 2.98 کروڑ ڈالر اضافے سے 9.46 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 2.64 کروڑ ڈالر اضافے سے 5.32 ارب ڈالر رہے۔

    اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں دھوکہ دیا،کوئی بات چیت نہیں،عمران خان

    فائنل راؤنڈ،ایک اور نومئی کی تیاری،مبشر لقمان نے خبردار کر دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    14 سال سے خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی سرکار،اربوں بجٹ وصول،کارکردگی زیرو

    عمران پر جیل میں تشدد ہوا،مجھے مرد اہلکار نے…بشریٰ بی بی نے سنگین الزام عائد کر دیا

    ہر نئے ریلیف کے بعد اک نیا کیس،عمران خان کی رہائی ناممکن

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

  • آئی ایم ایف  ایگزیکٹو بورڈ سے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری  مؤخر ہو  نے کا امکان

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری مؤخر ہو نے کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری اکتوبر 2024 تک مؤخر ہو نے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی : "انگریزی موقر ادارے "دی نیوز” کے مطابق پاکستان آباد جاری ہفتے کے اندر دو طرفہ اور تجارتی قرض دہندگان سے 2 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ سے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری اکتوبر 2024 تک مؤخر ہو سکتی ہے۔

    اعلیٰ سرکاری ذرائع نے دی نیوز کو تصدیق کی کہ پاکستان کو اپنا دستخط شدہ لیٹر آف انٹینٹ (ایل او آئی) آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجنا ہوگا جس میں اس تحریری وعدے کے ساتھ 37 ماہ کے ای ایف ایف کے تحت 7 ارب ڈالر کی منظوری پر غور کرنے کی درخواست ہوگی کہ حکومت پاکستان فنڈ پروگرام کی تمام متفقہ شرائط کی تعمیل کرے گی،اب تک پاکستان 18 ستمبر 2024 تک آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے ایجنڈے میں موجود نہیں ہے۔

    حافظ سعد رضوی کو 4 سال، اشرف جلالی کو 14 سال کی سزا

    ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد آئی ایم ایف کی جانب سے نشاندہی کردہ 2 ارب ڈالر کے مالیاتی فرق پر دو طرفہ قرض دہندگان سے یقین دہانیاں حاصل کرنے کے لیے آخری کوششیں کر رہا ہے،اگر یہ جاری ہفتہ بغیر تصدیق کے گزر گیا تو پھر 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پر فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری حاصل کرنے کا امکان کم ہو جائے گا۔

    کراچی : ٹریفک حادثات میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق

  • آئی ایم ایف کا پاکستان کو جھٹکا،اجلاس کی نئی تاریخ،پاکستان شامل نہیں

    آئی ایم ایف کا پاکستان کو جھٹکا،اجلاس کی نئی تاریخ،پاکستان شامل نہیں

    آئی ایم ایف نے ایک بار پھر پاکستان کو جھٹکا دے دیا، آئی ایم ایف کے ایگریکٹو بورڈ اجلاس کا ایک اور کیلینڈر جاری کیا گیا ہے تا ہم پاکستان کا نام شامل نہیں کیا گیا

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 18 ستمبر کو ہوگا جس میں بورڈ سرینام کے 7 ویں جائزے کی منظوری دے گا،آئی ایم ایف کی جانب سے اس سے قبل بھی 9 اور 13 ستمبر کے اجلاس کا کیلنیڈر جاری ہو چکا ہے،آج نو ستمبر کو ہونے والے آئی ایم ایف اجلاس میں بھوٹان ،جبکہ 13 ستمبر کے اجلاس میں ناروے کا کیس ایجنڈے پر ہو گا،میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 12 جولائی کو ہوا تھا مگر ذرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان کو تاحال 2 ارب ڈالر بیرونی فنانسنگ گیپ کو پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بیرونی فنانسگ کی شرط پوری کرنے کے لیے پاکستان 1.75 ارب ڈالر کے کمرشل قرض کے لیے درخواست کر چکا ہے، پاکستان اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن سے 40 کروڑ ڈالر اور اسلامک ڈیولپمنٹ بینک سے 35 کروڑ ڈالر قرض کی درخواست بھی کرچکا ہے،پاکستان سعودی عرب سے بھی 1.2 ارب ڈالر قرض کی درخواست کر چکا ہے جب کہ سعودی عرب کے ساتھ مؤخر ادائیگیوں پر تیل لینے کی سہولت کے لیے بھی کوششں جاری ہے۔

    آئی ایم ایف کا ایف بی آر سے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا مطالبہ

    بجلی بلوں پر سبسڈی، آئی ایم ایف کا اعتراض

    آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر ، بیرونی مالی معاونت سست روی کا شکار

    آئی ایم ایف کے قرض کی حتمی منظوری میں تاخیر کی وجہ سے ملک کی مالی معاونت کی رفتار سست ہو گئی ہے، جو کہ مستقبل میں اقتصادی ترقی اور استحکام کے لیے ایک چیلنج بن سکتا ہے۔اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے پیش نظر حکومت کو فوری طور پر آئی ایم ایف سے قرض کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے اور دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش مالی مشکلات پر قابو پایا جا سکے اور اقتصادی ترقی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔

    آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ستمبر میں ہو جائے گا،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف نے کہا آئی پی پیز سے معاہدے بدلیں،لیکن ہمارے وزیراعظم..؟

    ماہ جولائی میں آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اسٹاف لیول کا معاہدہ طے پاگیا تھا،معاہدے کی مدت 37ماہ اور مالیت7 ارب ڈالرز ہوگی، پاکستان کے ساتھ معاہدہ آئی ایم ایف ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے میں حکومت پر اہم شرائط عائد کی گئی ہیں، آئی ایم ایف اعلامیے کے مطابق حکومت کو ٹیکس ریونیو میں 1 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، ریٹیل ، ایکسپورٹ اور زراعت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا،صوبے اپنےذرائع سے ٹیکس بڑھانے کیلئے اقدامات کریں گے ، صوبوں کو خدمات پر سیلز ٹیکس اور زرعی انکم ٹیکس بڑھانا ہوگا ، اس حوالے سے قانونی پیچیدگیوں کو یکم جنوری 2025 سے پہلےختم کیا جائے گا.وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے میکرو اکنامک استحکام لانے میں مدد ملے گی، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہمیں اسٹرکچرل ریفارمز یقینی بنانے کی ضرورت ہے، پبلک فنانس، توانائی اور حکومتی اداروں کے ایریاز میں خود انحصاری لانے کی ضرورت ہے، آئندہ سالوں میں اسٹرکچرل ریفارمز لائیں گے۔

  • آئی ایم ایف کا ایف بی آر سے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا ایف بی آر سے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف نے رواں ماہ ستمبر میں ایف بی آر سے ریونیو شارٹ فال پورا کرنے کا مطالبہ کر دیا ، ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے لیے 12 ارب ڈالر قرض رول اوور پہلے کرانا ہوگا۔

    وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹرنل فنانسنگ پر ورچوئل مذاکرات ہوئے ہیں لیکن پاکستان کو ایکسٹرنل فنانسنگ کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری کی کوئی ڈیڈ لائن نہیں مل سکی . ایف بی آر حکام نے بھی ورچوئل مذاکرات میں محصولات شارٹ فال پر بات چیت کی جبکہ وزارت خزانہ حکام نے آئی ایم ایف مشن کو ایکسٹرنل فنانسنگ کے اقدامات سے متعلق آگاہ کیا، آئی ایم ایف کو دوست ممالک سے قرض رول اوور اور نئے فنانسنگ اقدامات سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا، آئندہ ہفتے تک دوست ممالک سے قرض رول اوور ہونے کی ٹائم لائن دی ہے،آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے لیے 12 ارب ڈالر قرض رول اوور پہلے کرانا ہوگا، آئی ایم ایف نے رواں ماہ ایف بی آر سے ریونیو شارٹ فال بھی پورا کرنے کا مطالبہ کیا ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریونیو شارٹ فال پورا نہ کیا تو ٹیکس ریونیو کا ہدف پورا کرنے کے لیے ایف بی آر حکام سے پلان طلب کیا جائے گا، اگر 12 ارب ڈالر کا قرضہ نہ دیا جا سکا تو ایف بی آر کو مزید ٹیکس وصول کرنے کے لیے قدم اٹھانا پڑے گا۔

    سینیٹ کمیٹی نے ملک بھر میں بجلی کی چوری کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی

    بجلی کا بل بنا موت کا پیغام،10ہزارکے بل نے قیمتی جان لے لی

    1لاکھ90ہزار سرکاری ملازمین کو 15ارب روپے کی سالانہ بجلی مفت ملتی ہے

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    لاہور میں کئی علاقوں میں بجلی غائب،لیسکو حکام لمبی تان کر سو گئے

    ایک مکان کابجلی بل 10 ہزار،ادائیگی کیلیے بھائی لڑ پڑے،ایک قتل