Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کیلیے 1.2 ارب ڈالر کی قسط منظور ہونے کا امکان

    پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اہم اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں پاکستان کے لیے قرض کی اگلی قسط کی منظوری کا امکان ہے،اجلاس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری متوقع ہے پاکستان آئی ایم ایف کی تمام شرائط پہلے ہی پوری کر چکا ہےاجلاس میں پاکستان کے لیے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کی منظوری اور موسمیاتی تبدیلی کے آر ایس ایف پروگرام کے دوسرے جائزے کی بھی منظوری متوقع ہے، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ 27 مارچ کو طے پایا تھا۔

    وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق پیٹرولیم لیوی 1468 ارب روپے کے ہدف سے زیادہ وصول ہونے کا امکان ہے جبکہ حکومت لیوی مزید بڑھانے پر غور کر رہی ہے،آئی ایم ایف نے حکومت پر سبسڈی ختم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ حکومت نے معیشت میں بہتری اور مہنگائی میں کمی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ مشرق وسطیٰ کشیدگی کی وجہ سے معاشی خطرات برقرار ہیں، حکومت نے آئی ایم ایف کو مالی نظم و ضبط جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی ہے-

  • آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو  اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پربھاری لیو ی لگانی پڑے گی،علی پرویز ملک

    آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پربھاری لیو ی لگانی پڑے گی،علی پرویز ملک

    وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے شرائط میں نرمی یا رعایت حاصل نہ ہو سکی تو حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی میں 50 سے 55 روپے تک کے اضافے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔

    نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی پاسداری ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر معیشت کو مزید سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہےحکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاہم، انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر عالمی ادارے نے رعایت نہ دی تو اگلے جمعہ تک پیٹرول یا ڈیزل پر 50 سے 55 روپے تک لیو ی لگانے کا مشکل فیصلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے بتایا کہ اس وقت دنیا میں سستا ترین ڈیزل پاکستان میں فراہم کیا جا رہا ہے اور ڈیزل پر لیوی صفر ہونے کی وجہ سے اس کا بوجھ پیٹرول پر منتقل کرنا پڑاہ آئی ایم ایف کے تعاون کے بغیر موجودہ معاشی حالات میں نظام چلانا ممکن نہیں ہے، اس لیے معاہدے کی خلاف ورزی کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو ہمارے پاس اربوں ڈالرز کے اسٹریٹجک ذخائر موجود نہیں تھے، لیکن اس کے باوجود حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر 100 ارب روپے کے فنڈز سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی، وزیراعظم شہباز شریف اور اسحاق ڈار معاشی استحکام کے لیے دن رات کوشاں ہیں-

    علی پرویز ملک نے ناقدین کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب پیٹرول کی قیمتوں میں 80 روپے کی کمی کی گئی تو سیاسی مخالفین نے اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ حکومت نے انتہائی کٹھن حالات میں تیل کی دستیابی کو یقینی بنایا اور عوام کو بڑی تکلیف سے بچایا، وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک رابطہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے تاکہ علاقائی تعاون کے ذریعے توانائی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔

  • پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے-

    ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی معاشی بہتری اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پر تبادلہ خیال کیا، انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ مکمل کر لیا ہے، جلد اس کی ایگزیکٹو بورڈ سے منظوری متوقع ہے، جس کے بعد اگلی قسط جاری ہوگی-

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس ماہ 1.4 ارب ڈالر کا یورو بانڈ کامیابی سے ادا کیا ہےسعودی عرب کے 3 ارب ڈالر کی اضافی مالی معاونت اور 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2028 تک توسیع ہوئی اضافی مالی معاونت اور ڈپازٹ کی مدت میں توسیع سے بیرونی مالی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی جبکہ پاکستان کے بہتر ہوتے معاشی اشاریے اور اصلاحات کی رفتار ملک کی ریٹنگ میں بہتری کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

  • خطے میں کشیدگی: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان  قبل ازوقت ختم

    خطے میں کشیدگی: آئی ایم ایف مشن کا دورہ پاکستان قبل ازوقت ختم

    آئی ایم ایف نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر پاکستان کا دورہ قبل ازوقت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیاہے-

    آئی ایم ایف مشن نے کل صبح وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے پہلی ملاقات کی، جس کے فوراً بعد مشن نے پاکستان چھوڑدیا اس پیش رفت سے ایک روزقبل امریکا نے پاکستان کیلیے لیول تھری سیکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کوسفر پر نظرثانی اور بڑے اجتماعات سے گریزکی ہدایت کی تھی، جبکہ بعض علاقوں کو لیول فورقرار دیکر سفرکیلیے ممنوع قراردیاگیا۔

    آئی ایم ایف ٹیم ستمبر 2024 میں منظور کیے گئے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت جائزہ لینے کے لیے پاکستان پہنچی تھی، یہ کثیر سالہ پروگرام ادائیگیوں کے توازن کے بحران، بلند افراطِ زر اور کم ہوتے زرمبادلہ ذخائر کے بعد معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔

    رواں سال کا پہلا مکمل چاند گرہن آج ہو گا

    آئی ایم ایف کے پاکستان میں نمائندہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مشن توسیعی فنڈ سہولت کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈسسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے پر حکام سے بات چیت کر رہا ہے، مذاکرات اب ورچوئل طریقے سے جاری رہیں گے،اور اب 1.2 ارب ڈالرزکی اگلی قرض قسط کیلیے مذاکرات ترکیہ سے آن لائن جاری رکھے جائیں گے۔

    ذرائع کے مطابق مشن 11مارچ تک پاکستان میں قیام پذیر تھا، تاہم خطے میں کشیدگی اور امریکی سفارتی تنصیبات کے باہرمظاہروں کے باعث سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہوگئی امریکی سفارت خانے نے لاہور اورکراچی میں قونصل خانوں کے باہر مظاہروں اور اسلام آبادو پشاورمیں مزید احتجاج کی کالز کا ذکر کرتے ہوئے عملے کی نقل و حرکت محدود کر دی ہے۔

    حزب اللہ کا اسرائیلی ایئربیس پر ڈرونز سے حملہ

    مشن کی اچانک روانگی کے باعث خودمختار ویلتھ فنڈ میں ترامیم، ای پروکیورمنٹ کے نظام، احتسابی اداروں سے معلومات کے تبادلے اور سرکاری و عسکری ملکیتی کمپنیوں کودی جانیوالی مراعات کے خاتمے سے متعلق اجلاس منسوخ ہوگئے فیڈرل بورڈآف ریونیوکی کارکردگی پر بھی اجلاس ملتوی کر دیا گیا، ادھرگلوبل تھنک ٹینک نیٹ ورک نے بیوروکریٹس کے غیر اعلانیہ اثاثوں کے معاملے پرآئی ایم ایف کے طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

    دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے وفد کو بتایا ہے کہ عالمی توانائی منڈیوں میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال ملک کی معاشی بحالی کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتی ہےوزیرِ خزانہ نے ان خدشات کا اظہار ایسے وقت پر کیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان سےعازمین حج کے لیے فلائٹ شیڈول جاری

    گزشتہ روز یعنی پیر کو امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی خلیجی خطے میں جوابی کارروائیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں نمایاں حد تک بڑھ گئیں،خطے میں ہونے والے حملوں، خصوصاً آبنائے ہرمز سے گزرنے والے 2 جہازوں پر حملوں کے باعث عالمی توانائی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے، جس سے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی صلاحیت محدود ہوئی ہے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں پیٹرول، اشیائے خورو نوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوام پہلے ہی مہنگائی کے اثرات محسوس کر رہے ہیں۔

    وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ نے وفد کو آگاہ کیا کہ حالیہ معاشی اشاریے بتدریج بحالی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں اور ترقی کی شرح سمیت اہم شعبوں میں مثبت رجحانات دیکھنے میں آئے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل ممکنہ خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

    ایرانی پاسداران انقلاب کا نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ، اسرائیل کی حملے کی تصدیق

    محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف مشن کو بتایا کہ حکومت نے صورتحال کی مسلسل نگرانی اور مربوط پالیسی ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معاشی استحکام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت سماجی اثرات سے بھی آگاہ ہے اور کمزور طبقوں کے تحفظ کے لیے سماجی اخراجات میں اضافے کی پالیسی جاری رکھے گی توانائی اور ٹیکس شعبے میں جاری اصلاحات سے بھی آئی ایم ایف وفد کو آگاہ کیا اور اس سال سرکاری اداروں کی نجکاری اور تنظیمِ نو کے اہم اقدامات مکمل کرنے کے عزم کو دہرایا۔

    آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بھی پاکستانی حکام کے ساتھ کراچی میں ہونے والی ملاقاتوں اور قرض پروگرام کے جائزے پر تبادلہ خیال کی تفصیلات شیئر کیں، دونوں فریقین نے آئندہ دنوں میں مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

    نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو بلیک میل کر رہے ہیں،سابق ٕاسرائیلی انٹیلی جنس افسر کا انکشاف

    افتتاحی اجلاس میں آئیوا پیٹرووا نے معاشی استحکام کیلیے پائیدار اصلاحات اور محصولات میں اضافے کی ضرورت پر زوردیا ان کا کہنا تھا کہ معاشی نمو میں حالیہ بہتری خوش آئند ہے، تاہم اسے برقرار رکھنے کیلیے اصلاحات ناگزیر ہیں،انہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سماجی اخراجات بڑھانے کی اہمیت بھی اجاگر کی-

    واضح رہے کہ پاکستان نے عوامی مالیات کو مضبوط بنانے، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ کرنے اور مجموعی معاشی استحکام کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف پروگرام میں شمولیت اختیار کی تھی،حالیہ مہینوں میں حکومت نے آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق اہم شعبوں میں اصلاحات، روایتی اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ تجارتی تعلقات کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے اقدامات کیے ہیں۔

    
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ حملے میں شہید

  • قرض پروگرام کی چوتھی قسط ،  آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

    قرض پروگرام کی چوتھی قسط ، آئی ایم ایف وفد جائزہ مذاکرات کیلئےپاکستان پہنچ گیا

    کراچی: 7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی چوتھی قسط کی ادائیگی کے معاملے پر جائزہ مذاکرات کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان پہنچ گیا۔

    کراچی میں آئی ایم ایف کا وفد اسٹیٹ بینک کے دورے پر پہنچ گیا جہاں ان کی حکام سے ملاقات جاری ہےاسٹیٹ بینک کے ماہرین آئی ایم ایف کو معاشی کارکردگی پر بریفنگ دیں گے، آئی ایم ایف کے ساتھ پہلے مرحلے میں ٹیکنیکل ڈیٹا شیئرنگ ہوگی، مذاکرات میں آئی ایم ایف وفد کو جولائی تا جنوری معاشی کارکردگی سے آگاہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق ڈیٹا شیئرنگ سیشن میں آئی ایم ایف مشن کی اسٹیٹ بینک ماہرین کیساتھ زرمبادلہ ذخائرکی بہتری پر بات چیت ہوگی، ڈیٹا شیئرنگ سیشنز میں مانیٹری پالیسی، افراط زر، بینکنگ ریگولیشنز سمیت دیگر امور پر تکنیکی مذاکرات بھی ہوں گے آئی ایم ایف نے 30 جون تک اسٹیٹ بینک کے زرمباد لہ ذخائر 17.8 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہوا ہے، اسٹیٹ بینک ماہرین آئی ایم ایف کو پالیسی ریٹ، اینٹی ٹیررفنانسنگ، اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔

    لاہورمیں بسنت کے دوران 17 اموات، رپورٹ ہائیکورٹ جمع

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف آئندہ مالی سال اسٹیٹ بینک کے خالص زرمبادلہ ذخائر23 ارب 30کروڑ ڈالرز رہنے کی پیشگوئی کر رہا ہے، ٹیکنیکل سیشنز میں جولائی تا دسمبر رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران متعدد اہداف کا جائزہ لیا جائے گا جولائی سے دسمبر کے دوران پرائمری بیلنس 4 ہزار 105 ارب روپے سرپلس رہا جبکہ رواں مالی سال پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ جی ڈی پی کے منفی0.6 فیصد رہنےکا تخمینہ ہےآئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے 11 مارچ تک پاکستان کا دورہ کرے گا، پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کے تحت تیسرا اقتصادی جائزہ لیا جائے گا۔

    قومی ہاکی ٹیم ورلڈکپ کوالیفائر میں شرکت کیلئے مصر پہنچ گئی

    اس کے علاوہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے تحت دوسرا اقتصادی جائزہ کے مذاکرات ہوں گے، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں تقریباً 20کروڑ ڈالر آر ایس ایف پروگرام کے تحت موصول ہوں گے پاکستان نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف حاصل کرلیے ہیں، نئے مالی سال کے بجٹ سے پہلے پاکستان کواسٹاف لیول معاہدے کی توقع ہے اور 1.2 ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے۔

  • پاکستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، آئی ایم ایف کی انتباہی رپورٹ جاری

    پاکستان میں مہنگائی بڑھ سکتی ہے، آئی ایم ایف کی انتباہی رپورٹ جاری

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے پاکستان میں مہنگائی کے بڑھنے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

    رپورٹ میں ملک میں بڑھتی ہوئی قیمتوں پر گہری تشویش ظاہر کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق موجودہ سالانہ افراط زر 4.5 فیصد سے بڑھ کر 6.3 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ جون 2026 تک یہ شرح ممکنہ طور پر 8.9 فیصد تک جا سکتی ہےآئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کے نئے تخمینے بھی جاری کیے ہیں موجودہ مالی سال میں ملک کی ترقی کی شرح 3.2 فیصد رہنے کی توقع ہے،بیروزگاری میں معمولی کمی متوقع ہے، جو 8 فیصد سے کم ہو کر 7.5 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معمولی بہتری معاشی استحکام کو سہارا دے سکتی ہے۔

    مالیاتی اشارے بھی رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں ٹیکس کے تناسب برائے جی ڈی پی 15.9 فیصد سے بڑھ کر 16.3 فیصد تک جانے کا امکان ہے،مالی خسارہ 5.4 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک محدود رہنے کی پیش گوئی ہے تاہم پاکستان کا قرضہ بوجھ جی ڈی پی کے 69.6 فیصد پر برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹ میں پاکستان کو مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے چیلنج پر زور دیا گیا ہے حکام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کریں جو قیمتوں میں اضافے کو مالیاتی استحکام کے ساتھ متوازن کریں اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کو محتاط نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں مالی خطرات سے بچا جا سکے۔

    اس سے قبل، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت منظور کی تھی، جس میں 37 ماہہ ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلیٹی (EFF) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلیٹی (RSF) شامل ہیں،یہ فنڈز فوری طور پر پاکستان کو منتقل کیے جائیں گے تاکہ ملک کی معاشی بحالی اور ماحولیاتی اقدامات کو فروغ دیا جا سکے۔

  • آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے  ایک ارب 29 کروڑ ڈالر قسط  منظور

    آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے ایک ارب 29 کروڑ ڈالر قسط منظور

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے ایک ارب 29 کروڑ ڈالر قسط کی منظوری دے دی۔

    آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا جائزہ اجلاس واشنگٹن میں ہوا، جس میں پاکستان کو قسط جاری کرنے پر غور کیا گیا، جس کے بعد منظوری دے دی گئی، دونوں قرض پروگرامز کی مجموعی جاری رقم 3.3 ارب ڈالر ہو جائے گی،پاکستان کو ای ایف ایف پروگرام کے تحت 2 اقساط پہلے ہی مل چکی ہیں،آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے موجودہ قرض پروگرام کی تیسری قسط منظور کی ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پروگرام آر ایس ایف کے تحت فنڈ بھی منظور کیا گیا ہے،آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے آر ایس ایف پروگرام کے تحت 20 کروڑ ڈالر منظور کیے، اور یہ اس پروگرام کی پہلی قسط ہے۔

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے جاری قرض پروگرام پر عمل درآمد کو مضبوط قرار دے دیا جبکہ حکومت نے معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی،1 ارب 29 کروڑ ڈالر ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید اضافہ ہوگا۔

    پی ٹی آئی لیڈر شپ پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ دشمنوں کی صف کے ساتھ کھڑی ہے،خواجہ آصف

    واضح رہے کہ موجودہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام میں جانے کا فیصلہ کیا تھا، اور عالمی مالیاتی فنڈ نے سخت شرائط کے تحت پاکستان کے لیے قرض پروگرام منظور کیا،حکومتی وزرا کا مؤقف ہے کہ جب تک ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں تب تک عوام کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ عالمی مالیاتی ادارے کی جانب سے سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

    تحریک انصاف نے رانا ثناءاللہ کی پیشکش قبول کر لی

  • پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب

    پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب کر لیا گیا ہے، جس میں پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی نئی قسط کی منظوری دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت (EFF) پروگرام کے تحت ایک ارب ڈالر جاری کرنے کی منظوری دی جائے گی، جب کہ مزید 20 کروڑ ڈالر ماحولیاتی یا کلائمیٹ فنانسنگ کے منصوبوں کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔یہ رقم پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے اور معاشی استحکام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 14 اکتوبر کو اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد تکنیکی اور مالی جائزے کے مراحل مکمل کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق قسط کی منظوری کے بعد فنڈز رواں ماہ کے آخر تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے

    میں روز صرف دو سے چار گھنٹے سوتی ہوں،جاپانی وزیراعظم کا انکشاف

    پاک افغان کشیدگی: ایرانی وزیرِ خارجہ کے روسی و قطری ہم منصبوں سے رابطے

    پاک بحریہ کے سربراہ کا بنگلادیش کا سرکاری دورہ مکمل

  • قرض پروگرام،آئی ایم ایف وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    قرض پروگرام،آئی ایم ایف وفد اسلام آباد پہنچ گیا

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان کے مشن چیف کی سربراہی میں اسلام آباد پہنچ گیا ہے تاکہ قرض پروگرام کے دوسرے جائزے اور کلائمٹ فنانسنگ کے پہلے جائزے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں۔

    ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وفد پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال اور حالیہ سیلاب کے معیشت اور بجٹ اہداف پر اثرات کا جائزہ لے گا۔ پہلے مرحلے میں پاکستان تکنیکی مذاکرات کے دوران جنوری تا جون 2025 کا معاشی ڈیٹا آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کرے گا۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کے تمام اہم اہداف پورے کر لیے ہیں اور دوسرے مرحلے میں پالیسی سطح کے مذاکرات ہوں گے جن میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بھی شریک ہوں گے۔ مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو اگلی قسط جاری کی جائے گی۔

    آئی ایم ایف وفد موسمیاتی تبدیلی کے اقدامات میں پیش رفت اور سیلاب کے بعد کی صورتحال کا بھی جائزہ لے گا۔

    ایشیا کپ 2025 کا بڑا معرکہ، پاکستان اور بھارت پہلی بار فائنل میں آمنے سامنے

    پیٹرولیم ڈویژن کی قطر سے ایل این جی درآمد موخر کرنےکی تجویز

    برطانیہ، ہر بالغ کے لیے لازمی ڈیجیٹل شناختی کارڈ کا اعلان متوقع

  • آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کوپاکستان،کا دورہ کرے گا

    آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کوپاکستان،کا دورہ کرے گا

    آئی ایم ایف کا وفد 25 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کرے گا، تاکہ 7 ارب ڈالر کے ای ایف ایف معاہدے کے تحت ملک کی کارکردگی کا جائزہ لے، جو 2025 کی پہلی ششماہی کا احاطہ کرتا ہے، اس جائزے میں مارچ تا جون سہ ماہی کے دوران اہم معاشی اہداف پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے آئی ایم ایف کے اہداف پر پورا اترنے کے امکانات روشن ہیں، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر اور سواپ پوزیشنز سے متعلق اہداف بھی شامل ہیں، اسی طرح مالی سال 2025 کے پرائمری بیلنس کے اعداد و شمار بھی آئی ایم ایف کی پیش گوئیوں کے مطابق ہیں۔

    آئی ایم ایف کی اصلاحات پر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ پاکستان خصوصاً آف شور ڈرلنگ، مائننگ اور ویب 3.0 ٹیکنالوجیز جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو متوجہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، اس سمت میں ایک اہم سنگ میل اپریل 2025 میں ہونے والا پاکستان منرل انویسٹمنٹ فورم تھا، جس میں 50 سے زائد ممالک کے 5 ہزار سے زیادہ مندوبین شریک ہوئے تھے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ امریکا نے پاکستان کے آف شور ہائیڈرو کاربن وسائل میں نئی دلچسپی ظاہر کی ہے، جو کہ ملک کے غیر دریافت شدہ قدرتی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں، ریکو ڈیک جو ایک اہم منصوبہ ہے، آئندہ چند ہفتوں میں مالیاتی بندش تک پہنچنے کی توقع ہےپاکستان شدید بارشوں اور سیلاب سے بھی نبردآزما ہے، جو بلوچستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ ملک کے بیشتر حصوں کو متاثر کر رہا ہے۔

    مرکزی بینک کے مطابق حالیہ سیلاب کی شدت ماضی کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ٹاپ لائن نے خبردار کیا کہ یہ سیلاب وقتی طور پر معاشی اصلاحات میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں، پاکستانی معیشت کی لچکدار حیثیت کے باعث معیشت جلد بحالی کی طرف لوٹ آئے گی،سیلاب کی وجہ سے ریلیف اخراجات میں اضافہ اور سرکاری آمدنی پر دباؤ متوقع ہے، جس کے باعث مالی سال 2026 کے لیے بجٹ خسارے کا تخمینہ 4.1 فیصد سے بڑھا کر 4.8 فیصد کردیا گیا ہے۔

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے اب توقع ہے کہ وہ مالی سال 2026 میں 13 کھرب 60 روپے کے ٹیکس جمع کرے گا، جو پہلے 14 کھرب 10 ارب روپے کا ہدف تھا، یہ کمی سست معاشی بحالی اور سیلاب کے جی ڈی پی پر متوقع اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک اب مالی سال 2026 تک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھنے کا امکان رکھتا ہے، جب کہ پہلے شرح سود میں ممکنہ اضافے کا اندازہ لگایا گیا تھا،یہ تبدیلی بنیادی طور پر غذائی افراط زر کے خطرات، سیلاب کے باعث بڑھتے درآمدی بلز، اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے، جن میں اسرائیل اور قطر میں حالیہ کشیدگیاں بھی شامل ہیں جو تیل کی قیمتوں کو متاثر کرسکتی ہیں۔