Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • فرانس کا پاکستان میں توانائی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    فرانس کا پاکستان میں توانائی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار

    فرانس کے ڈپٹی ہیڈ مشن نے وزیر توانائی مصدق ملک سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران توانائی شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    فرانسیسی حکام نے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی،ایل این جی کارگو کی فراہمی سے لیکر تونائی وسائل کی تلاش،توانائی کی تجارت اور ترسیل کو بڑھانے کے منصوبے،لائن لاسز کم کرنے اور تونائی شعبے کی بحالی میں بھی دلچسپی ظاہر کی،فرانسیسی حکام نےمصدق ملک کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی،مصدق ملک نےاہم شعبوں کی بحالی کے لیے وزیر اعظم کے عزم کا اعادہ کیا،وزیر توانائی مصدق ملک کا کہنا تھا کہ زراعت پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وزیر اعظم زرعی شعبے میں جدت کے لیے پرعزم ہیں، فرانسیسی وفد نے لائن لاسز کو کم کرنے اور مجموعی طور پر پاکستان کے توانائی کے شعبے کو بحال کرنے کے اقدامات میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔

    حکومت کے وسیع تر اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے پر روشنی ڈالتے ہوئے، وزیر توانائی مصدق ملک کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ہر وزیر پاکستان کی طویل مدتی ترقی اور خوشحالی کے لیے بڑی تبدیلیاں لانے کے لیے پرعزم ہے۔

    فرانسیسی کمشنر اور وزیر توانائی کے درمیان ہونے والی بات چیت سے ایک امید افزا تعاون کا اشارہ ملتا ہے جو پاکستان اور فرانس کے درمیان باہمی فائدہ مند شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے پاکستان کی توانائی کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    عمران خان جیل میں شاہانہ زندگی گزار رہے ہیں، وفاقی وزیر اطلاعات

    عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کی درخواست، نوٹس جاری

    اب بتا رہا ہوں پاکستان میں سری لنکا والا کام ہونے جا رہا ، کوئی ڈیل کی بات نہیں ہو رہی، عمران خان

  • آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کا تعارفی سیشن

    آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کا تعارفی سیشن

    آئی ایم ایف مشن اور معاشی ٹیم کا تعارفی سیشن ختم ہوگیا

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستانی معاشی ٹیم کی قیادت کی، وزیر خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک نے مشن کو بریفنگ دی،
    چیئرمین ایف بی آر نے بھی آئی ایم ایف مشن کو بریفنگ دی،مشن کے ساتھ دوسرا جائزہ آج سے شروع ہو گیا،آئی ایم ایف مشن کے ساتھ مذاکرات 14 سے 18 مارچ تک شیڈول ہیں ،

    آئی ایم ایف کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کا آغاز کچھ دیر بعد ہوگا، پاکستان نے موجودہ قرض پروگرام کی تمام شرائط پر عملدرآمد کر دیا،وزارت خزانہ نے جائزہ کی تکمیل کیلئے تمام اہداف پورے کرلیے، یہ آئی ایم ایف کے سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کا حتمی جائزہ ہوگا، سٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے بعد سٹاف لیول معاہدہ متوقع ہے،سٹاف لیول معاہدے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ منظوری دے گا، بورڈ کی منظوری سے 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری ہوگی، پاکستان کو پہلے ہی پروگرام کے تحت 1.9 ارب ڈالر مل چکے

    آئی ایم ایف کی ٹیم کا دورہ وزارت خزانہ میں میڈیا کو کوریج سے روک دیا گیا

    دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں اجلاس ہوا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کا جائزہ لیا گیا، آئی ایم ایف جائزہ مشن اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت اگلی قسط جاری کرنے کے لیے مذاکرات کرے گا مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہو گا

  • آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں،وزیر خزانہ

    آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہو سکتی ہے، ماحولیات کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے

    اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے بڑا اور طویل مدت کا پروگرام لینا چاہتے ہیں، پاکستان اپنے کوٹے کے حساب سے بڑا پروگرام لینے کی کوشش کرے گا، آئی ایم ایف پروگرام میں تسلسل رہیں گے تو معاشی نظم و ضبط رہے گا،معیشت کی بہتری آئی ایم ایف سے زیادہ ہماری حکومت کا ہدف ہے، وزیراعظم شہباز شریف معیشت کی بہتری کے لیے کلیئر وژن رکھتے ہیں، وزیراعظم نے معاشی نظم و ضبط قائم رکھنے کی سخت ہدایت کی ہے، آئی ایم ایف سے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آئی ایم ایف نے موجودہ قرض پروگرام کی آخری قسط میں 1.1 ارب ڈالر دینے ہیں، آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام کا ابتدائی خاکہ تیار کر رہے ہیں، معاشی استحکام آئی ایم ایف اور حکومت پاکستان کا مشترکہ ہدف ہے،آئی ایم ایف سے قرض پروگرام کے ساتھ ماحولیات کی فنڈنگ پر بھی بات ہو سکتی ہے، ماحولیات کی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کچھ ممالک کو کوٹے سے زیادہ قرض دیتا رہا ہے

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا معیشت کی بہتری کے لیے نگران حکومت نے توجہ سے کام کیا، نجکاری کے معاملات فواد حسن فواد نے بڑی دلچسپی اور محنت سے چلائے، ٹیکس آمدن کو ڈیجیٹل طریقے سے جمع کرنا چاہتے ہیں،یکس نظام میں شفافیت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، قومی آمدنی میں ٹیکسوں کا حصہ 10 فیصد تک پہنچانا چاہتے ہیں.

  • شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے آئی ایم ایف کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے

    شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے آئی ایم ایف کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے

    نیو یارک: امریکی جریدے نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے سے پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا نیا پیکج ملنے کے امکانات بڑھ گئے۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق جے پی مارگن کے سابق بینکر محمد اورنگ زیب کی پاکستانی وزیر خزانہ کے طور پر تعیناتی مثبت فیصلہ ہے، آئی ایم ایف کے نئے پروگرام سے پہلے محمد اورنگ زیب کی تعیناتی مثبت اقدام ہے، سرمایہ کاروں کی دلچسپی پاکستان کے نئے وزیر خزانہ کی تعیناتی میں تھی۔

    بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنوکریٹ کی بطور وزیر خزانہ تعیناتی پاکستان کو درپیش چیلنجزکو حل کرنے میں مدد گار ہوگی، آئی ایم ایف سے مذاکرات میں وزیر خزانہ کا کردار کلیدی ہوگا، شہباز شریف کو بطور وزیراعظم قرض دینے والے عالمی اداروں سے بات چیت کرنے کا تجربہ ہے، ان کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ اصلا حات کر سکتے ہیں ۔

  • آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    آئی ایم ایف کا مشن اقتصادی جائزہ کے لیے کل رات پاکستان پہنچے گا

    مشن 14 سے 18 مارچ تک معاشی ٹیم سے مزاکرات کرے گا،مشن اور معاشی ٹیم میں 4 روز تک اقتصادی جائزہ پر مزاکرات ہونگے،مشن وزارت خزانہ، توانائی اور ایف بی آر حکام سے مزاکرات کرے گا، مشن اور معاشی ٹیم کے درمیان مزاکرات کا شیڈول تیا ر کر لیا گیا،مشن کے ساتھ نئے قرض پروگرام کے لیے بات چیت کا بھی امکان ہے

    دوسری جانب وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت وزارت خزانہ میں اجلاس ہوا جس میں آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ مذاکرات کا جائزہ لیا گیا، آئی ایم ایف جائزہ مشن اسٹینڈ بائی پروگرام کے تحت اگلی قسط جاری کرنے کے لیے مذاکرات کرے گا مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں 1.1 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کا فیصلہ ہو گا

  • سیاسی معاملات  اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    سیاسی معاملات اندرونی معاملہ ،مداخلت نہیں کرتے، عمران خان کے خط پر آئی ایم ایف کا ردعمل

    پاکستان تحریک انصاف کے خط پر آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا اہم بیان سامنے آیا ہے

    آئی ایم ایف کی نمائندہ ایسٹرپیرز کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط 28 فروری کو موصول ہوا، تحریک انصاف کا خط پاکستان کے قرض پروگرام کے بارے ہے،آئی ایم ایف سیاسی معاملات کو اندرونی معاملہ سمجھتا ہے،ایسے معاملے میں عالمی ادارہ مداخلت نہیں کرتا، آئی ایم ایف بین الاقوامی ادارہ ہے جس کا معاشی مسائل تک مینڈیٹ محدود ہے،ہم ادارہ جاتی معاشی استحکام اور ترقی کیلئے انتخابی تنازعات کے شفاف اور پرامن حل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،پاکستان کیساتھ سینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے دوسرے جائزے پر مذاکرات کے منتظر ہیں،حکومت پاکستان درخواست کرے تو نئے وسط مدتی اقتصادی پروگرام کی حمایت کریں گے،آئی ایم ایف کا مقصد معاشی ترقی کے استحکام کو گہرا کرنا ہے،چیلنجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،ٹیکس بنیاد کو وسیع کرنے کیلئے محصولات کے حصول کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں،توانائی کے شعبے کی عملداری اور ادارہ جاتی نظم ونسق میں اصلاحات پاکستان کیلئے ناگزیر ہیں،ہم نئی پاکستانی حکومت کیساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں اور نئی کابینہ کی تشکیل کے بعد اپنا مشن بھیج رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن

  • بھارت کیجانب سے پاکستان کے آئی ایم ایف قرض کی سخت نگرانی کے مطالبے کا انکشاف

    بھارت کیجانب سے پاکستان کے آئی ایم ایف قرض کی سخت نگرانی کے مطالبے کا انکشاف

    نئی دہلی: بھارت نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف کے قرض میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی: بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق آئی ایم ایف میں پاکستان کے جاری 3 ارب ڈالر کے پروگرام پر عمل درآمد کے لیے جائزہ اجلاس ہوا جس میں بھارت کے مندوب کرشنا مورتی سبرامنیم نے سخت موقف اپنایا انہوں نے کہاکہ پاکستان کو ہنگامی طور پر دیئے جانے والے قرض کی سختی سے مانیٹرنگ کی جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئی ایم ایف کا قرض دفاعی اخراجات کے لیے استعمال نہ ہو پائے، بھارت نے یہ ہرزہ سرائی بھی کی کہ رقم دہشت گردی پر سرمایہ کاری یا دوسرے ممالک (چین، سعودی عرب) کو قرض کی ادائیگی میں بھی استعمال ہو سکتی ہے لہذا اسے روکا جائے۔

    بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ بھارت حالیہ کچھ عرصے سے پاکستان کے لیے قرض کے پروگراموں پر ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا ہے اور جولائی میں بھی اس نے ووٹ نہیں دیا تھا جب پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی پروگرام منظور کیا گیا اس کے بعد جنوری کے وسط میں جب 70 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی گئی تب بھی بھارت نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا-

    صدر مملکت نے تین ججز کی تعیناتیوں کی منظوری دیدی

    تاہم اخبار کے مطابق اس مرتبہ نئی دہلی حکومت نے کرشنامورتی کو ہدایت کی ہے کہ آئی ایم ایف سے ’چیکس اینڈ بیلنس اور سخت نگرانی یقینی بنانے‘ کا مطالبہ کیا جائے۔

    پاکستان سمیت دنیا کے 190 ممالک آئی ایم ایف کے رکن ہیں، تاہم فیصلہ سازی میں ہر ایک کا وزن برابر نہیں، ہر رکن ملک کے پاس اس کی اہمیت کے اعتبار سے مخصوص تعداد میں ڈرائنگ رائٹس (drawing rights) ہیں اور اسی بنا پر اس ملک کے ووٹوں کا تعین ہونا ہے، مجموعی طور پر لاکھوں کی تعداد میں ووٹ ہیں، اس کی بنا پرآئی ایم ایف کے رکن ممالک کو ان کے کوٹے کے حساب سے ووٹ دینے کا اختیار حاصل ہے مثال کے طور پر امریکہ جس کا کوٹا سب سے زیادہ ہے کے پاس 8 لاکھ 31 ہزار 401 ووٹ ہیں۔

    پاکستان بھی آئی ایم ایف کا رکن ہے اور پاکستان کے پاس 21,769 ووٹ ہیں، رکن ممالک کے یہ ووٹ ان کی نمائندگی کرنے والے ڈائریکٹرز ڈالتے ہیں۔ پاکستان الجیریا، گھانا، ایران، لیبیا، مراکش اور تیونس کے ساتھ ایک گروپ میں شامل ہے، اس پورے گروپ کے ووٹ 123,301 ہیں جو مجموعی ووٹوں کا 2.45 فیصد بنتے ہیں۔

    بھارت میں پاکستانی ڈرامے”تیرے بن” کا ریمیک بنانے کا منصوبہ

    بھارت کے ووٹوں کی تعداد 132,603 ہے۔ بھارت جس گروپ میں شامل ہے اس میں بنگلہ دیش، بھوٹان اور سری لنکا بھی ہیں۔ اس گروپ کی نمائندگی بھارت سے تعلق رکھنے والے کرشنامورتھی سبرامنیم کرتے ہیں۔ اور اس گروپ کے ووٹوں کی تعداد 153,638 ہے جو کل ووٹوں کا 3.05 فیصد بنتی ہے،ایسے میں بھارت یکطرفہ طور پر پاکستان کا قرض رکوا نہیں سکتا۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے لیے تین ارب ڈالر کا آئی ایم ایف پروگرام اپریل میں ختم ہوگا جس کے بعد قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو آئی ایم ایف کا ایک اور قرض پروگرام درکار ہے اطلاعات کے مطابق پاکستان 6 سے 8 ارب ڈالر کے حصول کیلئے کوششیں کر رہا ہے اور اس سلسلے میں مذاکرات ایک دو ہفتے میں ہو سکتے ہیں-

    اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی ،خواتین اور اقلیتی مخصوص نشستوں پر حکم امتناع میں توسیع

  • آئی ایم ایف شرائط  ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم   کی تجویز

    آئی ایم ایف شرائط ،سرکاری ملازمین کیلئے نئی پنشن اسکیم کی تجویز

    حکومت کو سرکاری ملازمین کو بھارت کی طرز پر رضاکارانہ پنشن دینے کی تجویز دی گئی ہے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے نئی رضاکارانہ پنشن اسکیم لانے کی تیاری کی جارہی ہے اور نئی اسکیم سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے تیار کی ہے، تمام نئی سرکاری بھرتیاں رضاکارانہ پنشن اسکیم کے تحت کیے جانے کا امکان ہے تاہم پہلے سے بھرتی سرکاری ملازمین کو پنشن بجٹ سے ہی دی جائے گی البتہ وفاقی حکومت موجودہ سرکاری ملازمین کی رضامندی سے ان کو نئی اسکیم میں منتقل کرسکتی ہے

    ایس ای سی پی نے سرکاری اور نجی شعبے میں نئی اسکیم کا اطلاق کرنے کی تجویز دی ہے، نجی شعبہ اس وقت ملازمین کو پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی کی سہولت فراہم کررہا ہے، ایس ای سی پی کی تجویز ہےکہ نجی شعبہ ملازمین کو صرف رضاکارانہ پنشن اسکیم دے کیونکہ پراویڈنٹ فنڈ یا گریجویٹی سےملازمین کو ریٹائرمنٹ پرمستقل آمدن کی سہولت نہیں ملتی، اس اسکیم کے تحت ملازمت کی تبدیلی کی صورت میں بھی پنشن سہولت جاری رہے گی۔

    اس وقت ملک میں 43 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں جن میں 61 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے، خیبر پختوخوا حکومت نے سب سے پہلے 2 سال قبل پنشن فنڈ میں سرمایہ کاری کی جہاں حکومتی ملازمین کے لیے 21 پنشن فنڈ کام کررہے ہیں،پنجاب حکومت بھی ملازمین کے لیے رضاکارانہ پنشن اسکیم شروع کرنے والی ہے

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    پولیس ناکے پر 100روپے کے تنازعے پر دو پولیس اہلکار آپس میں لڑ پڑے

    ‏موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا سن کر دل دہل گیا ، ملوث تمام افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، مریم نواز

  • الیکشن کے بعد بھی عمران خان نے دو غلطیاں کیں، راجہ ریاض

    الیکشن کے بعد بھی عمران خان نے دو غلطیاں کیں، راجہ ریاض

    سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض نے کہا ہے کہ بیماری کی وجہ سے میرے بیٹے نے الیکشن لڑا،

    راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ حامد رضا نے میرے مقابلہ میں 48 سو ووٹ لیے تھے،ان کی فیصل آباد کی تاریخ بچہ بچہ جانتا ہے، اس کی سیاسی حیثیت کا اندازہ لگا لیں, اس نے اپنے گھوڑے کے نشان پر الیکشن نہیں لڑا، آزاد حیثیت میں الیکشن لڑ کر ایسے جیتا میں تفصیل میں نہیں جاتا، کل جو پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خط لکھا ہے، بطور پاکستانی میں شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، اب کہتے واپس لے لیا لیکن اب اس کی گنجائش نہیں رہ گئی، یہ کسی فرد کو قسط نہیں جاری پاکستان کو قسط جانی تھی،

    راجہ ریاض کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے پاس سنہری موقع تھا، الیکشن کے بعد اپنے آپ کو ریویو کر لیتا اس نے دو غلطیاں کیں، الیکشن جیت کر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہاتھ ملاتا،دوسری غلطی خط والی کی، جو بات میں کہہ رہا پوری تحریک انصاف یہ بات کرے گی، موجودہ حکومت کو ریلیف دینا پڑے گا ورنہ ان کے لیے سیاست مشکل ہے، میں مسلم لیگ ن میں ہوں، ن لیگ کا ورکر ہوں پارٹی کے لیے کام کرونگا، انٹرنیشنل فورم سیاست کے وہاں بیشک دس خط لکھیں لیکن مالیاتی اداروں کو لکھنا مناسب نہیں،

    آڈیو کے بعد عمران خان کی جیل سے تصویر بھی” لیک”

    خواب کی تعبیر پر بڑے بڑے وزیر لگائے جاتے تھے،عون چودھری

    بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟

    شیر پر مہر لگانے کا کہنے والی ن لیگی قیادت خود عقاب پر مہر لگائیگی

  • تحریک انصاف کا آئی ایم ایف کو خط،ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل

    تحریک انصاف کا آئی ایم ایف کو خط،ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا معاملہ وزیراعظم آفس دیکھ رہا ہے، مزید معلومات ملتے ہی آگاہ کیا جائے گا،
    ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کابینہ توانائی کمیٹی فیصلہ کر چکی ہے، پاکستان منصوبے کو اہم سمجھتا ہے، اس وقت توانائی کا حصول پاکستان کی ترجیحات میں ہے، توانائی کمیٹی نے پہلے مرحلے میں پاکستان میں 80 کلومیٹر پائپ لائن کی تعمیر کی منظوری دی ہے، کوئی بھی ملک پاکستان کو ہدایات نہیں دے سکتا، پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے،ہم پاکستان کے اندرونی معاملات پر اپنے آزادانہ فیصلے کرنے پر یقین رکھتے ہیں. ابھی تک ایران پائپ لائن میں کسی تیسرے ملک کی شمولیت کا علم نہیں ہے

    ممتاز زہرا بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے خوراک کی فراہمی والے افراد کے قتلِ عام کی مذمت کرتے ہیں، پاکستان مسلم کانفرنس کے فیکشنز پر پابندیوں کو مسترد کرتا ہے، پاکستان 6 مارچ کو یورپی یونین کیساتھ سیاسی مشاورت کرے گا، اسلحہ کی فراہمی کے معاملے پر 4 پاکستانیوں سے متعلق امریکی بیان دیکھا ہے، اس سے متعلق پاکستان میں امریکی سفارتخانے سے رابطے میں ہیں، ہم نے امریکی محکمہ انصاف کی رپورٹس دیکھی ہیں، حوثیوں کو اسلحہ اسمگلنگ میں گرفتار باشندوں کی شہریت کی امریکہ سے تصدیق نہیں ہوئی، ہم نے ان کی شناخت کی تصدیق کیلئے امریکا سے قونصلر رسائی مانگی ہے، قونصلر رسائی ملنے کے بعد ہی گرفتار شدگان کی شہریت کی تصدیق کرسکتے ہیں، ہم اس معاملے پر اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے رابطے میں ہیں

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کی جانب سے آئی ایم ایف کو لکھے گئے خط کا متن سامنے آگیا ہے جس میں عمران خان کی جماعت نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان کو مزید قرض دینے سے پہلے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 30 فیصد نشستوں پر الیکشن کا آڈٹ کرائے،

    بانی پی ٹی آئی کی جانب سے آج آئی ایم ایف کو خط لکھنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، بیر سٹر گوہر

    اڈیالہ جیل،عمران ،بشریٰ ملاقات،190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل ریفرنس کیس،فردجرم کاروائی مؤخر

    نومنتخب حکومت کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں،آئی ایم ایف

    اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عمران خان کے خط کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی

    تحریک انصاف ابھی بھی چاہتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو جائے،شیری رحمان

    آئی ایم ایف کو خط لکھنا حب الوطنی نہیں،شرجیل میمن