Baaghi TV

Tag: آئی ایم ایف

  • آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل بیرونی فنانسنگ کی ضروریات لازمی قرار  دی گئی

    آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل بیرونی فنانسنگ کی ضروریات لازمی قرار دی گئی

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کیجانب سے پاکستان کو 7 دسمبر کو شیڈول ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے قبل بیرونی فنانسنگ کو یقینی بنائے جانے کا کہا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 7 دسمبر کو ہو گا جس میں پاکستان کا کیس شامل ہونے کا امکان ہے، نگران حکومت نے معاشی پالیسیوں کے تسلسل کیلئے آئندہ آنے والی نئی حکومت کیلئے اکنامک بلیو پرنٹ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے وزارتِ خزانہ زرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے نئے قرض پروگرام پر بات چیت شروع ہو سکتی ہے آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس سے پہلے بجلی و گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کی تیاریاں کی جارہی ہیں، ڈیجیٹل مارکیٹس، پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔

    بحریہ ٹاؤن کراچی کیس:بینک نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرادیا

    ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ اجلاس سے قبل بیرونی فنانسنگ کی ضروریات لازمی قرار دے دی گئی، رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو 25 ارب ڈالر بیرونی فنانسنگ کی ضرورت ہے جس کیلئے خلیجی دوست ممالک، چین اور کمرشل بینکوں سے25 ارب ڈالر کی مدد لی جائے گی-

    ذرائع کے مطابق پاکستان کو خلیجی دوست ملک سے ایک ارب ڈالر اور ایگزم بینک سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کا یقین ہے، اسی طرح چین نے 2 سال کے لیے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی، پاکستان نے آئی ایم ایف کو مارکیٹ کے مطابق ایکسچینج ریٹ برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی نگران حکومت نے آئی ایم ایف کویقین دہانی کرائی ہے کہ عام انتخابات بروقت ہوں گےجبکہ چین نے دو سال کیلئے مزید قرض رول اوور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    بینکوں کے غیر معمولی منافع پر 40 فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد

    ذرائع نے بتایا کہ70 کروڑ ڈالرکیلئےآئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ اجلاس 7 دسمبرکومتوقع ہے،اور اس اجلاس میں بورڈ پاکستان اورآئی ایم ایف معاہدے کی منظوری دے گا اسٹاف لیول معاہدے کے بعد بورڈ اجلاس کیلئے 6 سے 8 ہفتے درکار ہوں گے، آئی ایم ایف کیساتھ معاہدے سے قبل رواں مالی سال کم ازکم مزید 10 لاکھ نئے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا اس کے علاوہ مہنگائی میں کمی کیلئے آئی ایم ایف کو سخت مانیٹری پالیسی کی یقین دہانی کرادی گئی اورڈالر کی نسبت روپے کو سہارا دینے کیلئے کسی قسم کی انتظامی مداخلت نہیں ہوگی۔

    حکام وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ معاہدے کی منظوری سے 8 دسمبرتک پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں، 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف سے 70 کروڑ ڈالر ملیں گے ایگزیکٹیو بورڈ منظوری کے ساتھ ہی رقم پاکستان کو مل جائے گی۔

    غزہ میں جانی نقصان کے سوگ میں بیت لحم میں کرسمس کی تقریبات …

  • ڈالر کی قدر میں مزید کمی

    ڈالر کی قدر میں مزید کمی

    کراچی :ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی، آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے کے بعد سے ڈالر کی قدر میں کمی جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر53 پیسے سستاہوکر 285روپے 97 پیسے پر بند ہوا گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز انٹر بینک میں ڈالر 286 روپے 50 پیسے پر بند ہوا تھا۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف کی سطح پر معاہدہ طے پاگیا ہےمعاہدے کے مطابق آئی ایم ایف کے ایگزیکٹوبورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 70 کروڑ ڈالر ملیں گےپاکستان نے تمام معاشی اہداف حاصل کر لیے ہیں، آئندہ چند ماہ میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے، مارکیٹ بنیاد پر ایکسچینج ریٹ پر عمل جاری رکھنےکا وعدہ کیا گیا ہے،ایکسچینج مارکیٹ پر دباؤ کم ہو رہا ہے، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اصلاحات کا بھی وعدہ کیا گیا ہے،70 کروڑ ڈالر مزید ملنے سے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کو جاری کردہ رقم 1.9 ارب ڈالر ہو جائےگی۔

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت مستحکم

    محمد خان بھٹی کی تعیناتی کیس، پرویز الہٰی کی درخواست ضمانت خارج

    پی ٹی آئی رہنما ق لیگ اور جے یو آئی رہنما کی ن لیگ میں …

  • آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    آئی ایم ایف کا مینڈیٹ اور مستقبل کی پالیسیوں پر عمل درآمد

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اس وقت مقررہ اقتصادی اہداف کے حصول میں پاکستان کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کررہا ہےیہ کامیابی کی ایک قیمت ہے۔ کیونکہ اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا جس سے افراط زر میں اضافہ ہوا۔ بجلی کے بلوں پر ٹیکس میں اضافے اور یونٹ کی بڑھتی ہوئی لاگت نے نقصان دہ اثر ڈالا ہے۔

    پاکستان کے معاشی دباؤ میں اہم کردار ادا کرنے والا ایک اہم عنصر صنعتوں کی بندش یا محدود کام ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف مذکورہ بالا ٹیکس میں اضافے سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ڈالر کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کی بندش سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ستمبر 2023 تک، ذخائر $1316.80 ملین ڈالر تھے تھے، جو اکتوبر 2023 تک گر کر $12600 ملین رہ گئے۔ نتیجتاً، صارفین کی قوت خرید کم ہو گئی، اور اخراجات کو ضروری ضروریات تک محدود کر دیا گیا۔

    مارچ 2024 کے لیے شیڈول آئی ایم ایف کا آئندہ جائزہ ٹیکس کے ممکنہ اضافے کے لیے تین شعبوں پر روشنی ڈالتا ہے؛ خوردہ مصنوعات ، رئیل اسٹیٹ، اور زرعی مصنوعات۔ یہ اقدامات آئی ایم ایف کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے بہت اہم ہیں لیکن پہلے ہی منفی اثرات سے دوچار معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔

    پاکستانی حکومت کی مالیاتی پالیسیوں کا جائزہ لینے سے رجعت پسند موقف نظرآتا ہے۔ مالیاتی پالیسی، جس کا مرکز اسٹیٹ بینک کی جانب سے معیشت میں فنڈز کی فراہمی ہے، جس میں ٹیکس اور اخراجات شامل ہیں، دونوں کا اثر ہوا ہے۔ معاشی صورتحال کے جواب میں، نگراں حکومت نے حال ہی میں گزشتہ دو سالوں کے دوران غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین سے حاصل ہونے والے بینک منافع پر بیک وقت 40 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے۔ یہ فیصلہ 2021-2022 میں روپے اور ڈالر کی قیاس آرائی پر مبنی تجارت سے 110 بلین روپے کے منافع کے انکشاف کے بعد کیا گیا۔

    پاکستانی ماہر اقتصادیات ہارون شریف، جو سابق وزیر مملکت، اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کے چیئرمین ہیں، نے ایک حالیہ ٹویٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ایشیا میں سب سے زیادہ شرح سود کا سامنا ہے اور وہ مالیاتی بحران سے دوچار ہے، جس میں ضروری شعبوں جیسے کہ نئے منصوبوں، ہاؤسنگ، انفراسٹرکچر، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) اور برآمدات کے لیے سستی طویل مدتی فنانسنگ کی کمی ہے۔

    موجودہ معاشی بدحالی میں اضافی اقدامات سے صورتحال کےمزید خراب کرنے کا خطرہ ہے۔ مزید بندشیں اور روزگار کے مواقع کی کمی نہ صرف معاشی ڈپریشن کو مزید گہرا کرے گی، بلکہ ٹیکس وصولی کی کوششوں میں بھی رکاوٹ ہوگی۔ چونکہ قوم ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے، پالیسی سازوں کو آئی ایم ایف کی ضروریات کو پورا کرنے، اور معیشت اور شہریوں کی فلاح و بہبود کے درمیان احتیاط سے جانا چاہیے۔

  • روپے کی مقابلے امریکی‌ڈالر کی قیمت میں کمی

    روپے کی مقابلے امریکی‌ڈالر کی قیمت میں کمی

    اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) وفد اور پاکستانی معاشی ٹیم نے گزشتہ روز 9 ماہ کے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی اگریمنٹ (ایس بی اے) کے تحت پہلے جائزے پر عملے کی سطح کا معاہدہ کیا ہے جس کے بعد انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے-

    باغی ٹی وی: کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کے دوران ٹریڈنگ ملکی تبادلہ منڈیوں میں ڈالر ایک روپے 68 پیسے کمی کے بعد 286 روپے 46 پیسے پر آگیا ہے جبکہ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 27 پیسے اضافے سے 288 روپے 14 پیسے ریکارڈ کی گئی تھی۔

    دوسری جانب پاکستان ا سٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کا مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے 100 انڈیکس 287 پوائنٹس اضافے کے بعد 56 ہزار 967 پر پہنچ گیا ہے جو کہ گزشتہ روز 56 ہزار 680 پر بند ہوا تھا۔

    آج بھی لاہور دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں سرفہرست

    واضح رہے کہ یہ معاہدہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے، منظوری کے بعد پاکستان کو تقریبا 700 ملین ڈالر کی قسط موصول ہوگی جس سے پروگرام کے تحت پاکستان کو مالیاتی ادارے سے ملنے والی رقم مجموعی طور پر تقریبا 1.9 ارب ڈالر ہوجائے گی۔

    بجلی کمپنیوں کے افسران کیلئے مفت بجلی ختم،وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی

  • پاکستان کا اہم مسئلہ ٹیکس کا ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف

    پاکستان کا اہم مسئلہ ٹیکس کا ہے، ایم ڈی آئی ایم ایف

    اسلام آباد:عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کی ایم ڈی کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ پاکستان کےساتھ ڈیل کے بہت قریب ہیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی جریدے بلوم برگ کو دئیے گئے انٹرویو میں کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ پاکستانی حکام انتہائی مشکل حالات میں پروگرام پر عمل کررہے ہیں تاہم پاکستان کے ساتھ ڈیل کے بہت قریب ہیں، پاکستان کا اہم مسئلہ ٹیکس کا ہے، ملک میں جی ڈی پی کا صرف 12 فیصد ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے جسے ہم نے 15 فیصد تک بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات جاری ہیں، آئی ایم ایف پاکستان کیلئے 9 ہزار 415 ارب کا سالانہ ٹیکس ہدف برقرار رکھنے پر رضامند ہے جس کے تحت منی بجٹ نہیں آئے گا۔

    امریکی صدر جوبائیڈن، انٹونی بلنکن اور لائڈ آسٹن کے خلاف مقدمہ درج

    ذرائع کے مطابق جائزے کی کامیابی پر پاکستان کو تقریباً 71 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملے گی، اگر ملی تو یہ قسط ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے ساتھ دسمبر کے آغاز میں ادا کی جائے گی۔ پاکستان کو پہلی قسط کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر جولائی میں ملے تھے آئی ایم ایف پاکستان کی معاشی پیشرفت سے مطمئن ہوگیا ہے، بیرونی فنانسنگ کے معاملے پر یو اے ای سفیر کی یقین دہانی قبول کرلی گئی ہے۔

    میٹرک اور انٹر میں نیا گریڈ نگ سسٹم متعارف

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے سفیر نے پاکستان کو درپیش ساڑھے 6 ارب ڈالر کے بیرونی فنانسنگ گیپ پر آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرادی،پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات کے اہم مرحلے پاکستان کو درپیش ساڑھے 6 ارب ڈالر کے بیرونی فنانسنگ گیپ کے معاملے پر آئی ایم ایف مشن چیف نے متحدہ عرب امارات کے سفیر سے ملاقات کی۔

    ذرائع کے مطابق یواے ای کے سفیر اور آئی ایم ایف مشن چیف کی ملاقات کے دوران پاکستان کیلئے بیرونی فنانسنگ گیپ پورا کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، یو اے ای کے سفیر نے آئی ایم ایف مشن چیف کو پاکستان کے معاشی استحکام کیلئے کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وکلا کیلئےگاؤن پہننا لازمی قرار دے دیا

  • آئی ایم ایف  کا کاروباری سودوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا مشورہ

    آئی ایم ایف کا کاروباری سودوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا مشورہ

    اسلام آباد: ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام پر عمل درآمد ملک کے مفاد میں ہے اور اب امیروں پر بہتر ٹیکس لگانے کے لیے آئی ایم ایف کے مشورے سے کوئی مشکل نہیں ہے-

    باغی ٹی وی : ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن ڈاکٹر جہانزیب خان نے ماہرین اقتصادیات اور صحافیوں کو بتایا کہ وزٹنگ فنڈ مشن نے پاکستان کو اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت ترجیحی سرمایہ کاروں کا گروپ بنانے یا ملک میں بگاڑ پیدا کرنے کے خلاف اور اپنے کاروباری سودوں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کا مشورہ دیا ہے کہا کہ اس جیسے ایک اور ادارے کے قیام کی ضرورت کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں اور کیا اس سے اثاثوں کی فروخت میں پریشانی ہوگی، وہ چاہتے ہیں کہ ان معاملات میں شفافیت اور احتساب سب سے اوپر ہونا چاہیے۔

    ڈاکٹر جہانزیب خان نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل درآمد ملک کے مفاد میں ہے اور اب امیروں پر بہتر ٹیکس لگانے کے لیے آئی ایم ایف کے مشورے سے کوئی مشکل نہیں ہے کیونکہ عوام پہلے ہی پروگرام کا مکمل بوجھ اور بیکلاگ کو جھنجھوڑ چکے ہیں اور اب صرف قیادت ہی کرنی چاہیے، یہاں سے آسانی کی طرف، ماضی میں مسئلہ درکار ایڈجسٹمنٹ میں تاخیر یا جزوی نفاذ کی وجہ سے تھا۔

    عبدالرزاق کوایشوریا رائے کے بارے میں ریمارکس پر شدید تنقید کا سامنا

    دوسری جانب پاکستان کو آئی ایم ایف سے دوسری قسط ملے گی یا نہیں؟ اس حوالے سے آئی ایم ایف جائزہ مشن کےساتھ پالیسی سطح کےمذاکرات مکمل ہوگئے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان معاہدے کا ڈرافٹ آج تیار کیا جائےگا، پاکستانی حکام کے ساتھ پالیسی سطح کےمذاکرات مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف وفد کل واپس روانہ ہوجائے گا،مذاکرات میں نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر اور آئی ایم ایف کے مشن چیف ناتھن پورٹر نے اپنی اپنی ٹیم کی نمائندگی کی۔

    آئی ایم ایف پاکستان کی معاشی پیشرفت سے مطمئن ہوگیا ہے، بیرونی فنانسنگ کے معاملے پر یو اے ای سفیر کی یقین دہانی قبول کرلی گئی ہے،پاکستان نے آئی ایم ایف کو شرح سود میں مزید اضافہ نہ کرنے پر منا لیا ہے، اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی کمیٹی کو کام کرنے کا بھرپور موقع فراہم کیا جائے گا، ٹیکس ہدف مکمل ہونے کے باعث منی بجٹ پیش نہیں کیا جائے گا۔

    کپل دیو بابر اعظم کی حمایت میں بول پڑے

    ذرائع کے مطابق جائزے کی کامیابی پر پاکستان کو تقریباً 71 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملے گی، اگر ملی تو یہ قسط ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے ساتھ دسمبر کے آغاز میں ادا کی جائے گی۔ پاکستان کو پہلی قسط کی مد میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر جولائی میں ملے تھے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات

    پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پالیسی سطح کے مذاکرات

    پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان پالیسی سطح کے مزاکرات کی پہلی نشست ہوئی

    نگراں وزیرِ خزانہ شمشاد اختر کی سربراہی میں وفد مذاکرات میں شریک ہوا،گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر بھی مذاکرات میں شریک ہوئے،آئی ایم ایف کی جانب سے مشن کے سربراہ ناتھن پورٹر نے وفد کی قیادت کی، آئی ایم ایف وفد نے اپنے مطالبات اور سفارشات سے آگاہ کیا، ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان پہلے جائزے کی کامیابی سے تکمیل کے لیے پُرامید ہے، آج سے پالیسی سطح کے مذاکرات 15 نومبر تک جاری رہیں گے، وزارت خزانہ ذرائع کے مطابق اخراجات میں کمی سمیت دیگر اہداف دیئے جائیں گے،آمدن بڑھانے کے لئے ایف بی آر کے حوالہ سے بھی آنے والے دنوں میں بات چیت ہو گی،

    پاکستان پہلے جائزے کے لیے آئی ایم ایف کی تمام اہم شرائط پوری کر چکا ہے،مشن کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات میں اسٹاف لیول ایگریمنٹ فائنل کیا جائے گا،جائزہ مذاکرات کامیابی سے مکمل ہونے پر پاکستان کو 71 کروڑ ڈالر ملیں گے

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے مرکزی بینک سے براہ راست قرض نہ لینے اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ دینے کی یقین دہانی سمیت اہم اقدامات سے جائزہ مشن وفد کو آگاہ کیا ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات جمعرات تک اسلام آباد میں جاری رہیں گے

    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ

    بجلی کے بل میں ریلیف کے لیے موثر اقدامات کی ضرورت

    بجلی کی قیمتوں میں اضافہ،مرکزی مسلم لیگ کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز

    بجلی بلوں کی کڑک: کن مدوں میں عوام ٹیکس دیتی ہے، ایک تجزیہ!تحریر: ملک شفقت اللہ

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

  • آئی ایم ایف سے  پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے شروع ہونے کا امکان

    آئی ایم ایف سے پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے شروع ہونے کا امکان

    اسلام آباد: آئی ایم ایف قرض پروگرام کا پہلا جائزہ اجلاس، پالیسی سطح کے مذاکرات پیر سے شروع ہونے کا امکان ہے-

    باغی ٹی وی: نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر پالیسی سطح مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی، ذرائع کے مطابق پاکستان نے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں اب تک کی کارکردگی اہداف اور عملدرآمد سےمتعلق آئی ایم ایف کو آگاہ کر دیا ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ دس روزہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے بعد پیر کو تین روزہ پالیسی سطح کے مذاکرات شروع ہونے جارہے ہیں۔

    وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق پالیسی سطح کے مذاکرات میں وزارت توانائی اور وزارت پیٹرولیم سے نئے مطالبات کیے جا سکتے ہیں، شیڈول کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے ساتھ معاشی ٹیم کے مذاکرات 15 نومبر تک مکمل ہوں گے۔

    وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے مرکزی بینک سے براہ راست قرض نہ لینے اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم نہ دینے کی یقین دہانی سمیت اہم اقدامات سے جائزہ مشن وفد کو آگاہ کیا ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات جمعرات تک اسلام آباد میں جاری رہیں گے مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو 71 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط ملے گی۔

  • پاکستان سے ایکسچینج کمپنیز  کیخلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات طلب

    پاکستان سے ایکسچینج کمپنیز کیخلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات طلب

    اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھنے اور ایکسچینج کمپنیز کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائی کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں-

    باغی ٹی وی: وزارت خزانہ نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پر مکمل عمل درآمد کیا ہےاسمگلنگ اور غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ بہتر ہوا، تین ماہ میں ڈالر کا ان فلو بڑھا، جس سے ڈالر کا ریٹ گرا، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی سے روپےکی قدر میں مصنوعی اضافہ نہیں ہوا، اسمگلنگ اور غیرقانونی مقیم افراد کے خلاف کارروائی سے ڈالر ریٹ گرا۔

    باخبر ذرائع کے مطابق تکنیکی مذاکرات میں اسٹیٹ بینک حکام آئی ایم ایف کو مزید تفصیلات بھی فراہم کریں گے۔

    الیکٹرک سکوٹرز کیلئے مینوفیکچرنگ اور بیٹری سوئیپنگ نیٹ ورک کا قیام

    دوسری جانب آئی ایم ایف نے ٹیوب ویل صارفین کیلئے بجٹ سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، آئی ایم ایف مشن سے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں وزارت توانائی اور وزارت خزانہ کے حکام کی میٹنگ ہوئی جس دوران ٹیوب ویل سولرائزیشن سکیم کو رواں مالی سال شروع کرنے پر بات چیت کی گئی۔

    سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ

    آئی ایم ایف نے پاکستان کے زرعی شعبے کے لیے سولرائزیشن کا نظام متعارف کروانے کا کہا ہے اور ٹیوب ویل صارفین کیلئے بجٹ سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 90 ارب روپے میں 30 ارب وفاق، 30 ارب صوبے اور 30 ارب ٹیوب ویل صارفین دیں گےسکیم پر عملدرآمد سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیوب ویلز صارفین کو بجلی کے استعمال کی مد میں سبسڈی نہ دینے کا بھی کہا گیا ہے، کاسٹ ریکورننگ ٹیرف بہتری کیلئے نیپرا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹس بروقت نوٹیفکیشن کررہا ہے،آئی ایم ایف کی جانب سے ڈسکوز، وزارت توانائی اور نیپرا کے درمیان تعاون اور فیصلوں پر جلد عملدرآمد کی ہدایت بھی کی گئی ہیں۔

    منشیات اسمگلنگ معاملہ،گاڑیوں پر محکموں اور پروفیشنلز کی نمبر پلیٹ لگانے پر پابندی عائد

  • آئی ایم ایف کے جائزہ مشن چیف کا پاکستان کے پہلے کوارٹر میں اقدامات پر اطمینان کا اظہار

    آئی ایم ایف کے جائزہ مشن چیف کا پاکستان کے پہلے کوارٹر میں اقدامات پر اطمینان کا اظہار

    اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹینڈ بائی ایگریمنٹ سے متعلق مذاکرات ہوئے، جس میں جائزہ مشن چیف نے پاکستان کے پہلے کوارٹر میں اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی: نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے پاکستان کی معاشی ٹیم کی سربراہی کی، جبکہ آئی ایم ایف وفد کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی، مذاکرات میں آئی ایم ایف کنٹری ڈائریکٹر، گورنر اسٹیٹ بینک اور چئیرمین ایف بی آر بھی شریک ہوئے۔
    https://x.com/FinMinistryPak/status/1720119076658589766?s=20
    وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شمشاد اختر نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو خوش آمدید کہا،وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف وفد کو اسٹینڈ بائے ایگریمنٹ اور بہتری کیلئے حکومتی اقدامات سے متعلق پیشرفت سے آگاہ کیا۔

    پی ٹی آئی جلسے کی اجازت، ضلعی انتظامیہ کو قانون کے مطابق کارروائی کی ہدایت

    https://x.com/FinMinistryPak/status/1720119079258955798?s=20
    مذاکرات میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات اور گردشی قرض سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے، جائزہ مشن چیف نے پاکستان کے پہلے کوارٹر میں اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کو جاری رکھنے پر زور دیا۔
    https://x.com/FinMinistryPak/status/1720119083675660372?s=20
    وزارت خزانہ کے مطابق نگران وزیر خزانہ نے معاشی بہتری کیلئے آئی ایم ایف کے تعاون کو سراہا۔

    جعل سازی کی انتہا کر کے مرتضیٰ وہاب میئر بنے، حافظ نعیم

    https://x.com/FinMinistryPak/status/1720119087878352911?s=20
    وزیر نے مشن کو حکومت کی طرف سے اٹھائے جانے والے مالیاتی اقدامات سے آگاہ کیا معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے۔ اجلاس میں ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی جامع اصلاحات اور اقدامات اور گردشی قرضوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملیوں پر بھی بات چیت کی گئی۔

    آئی ایم ایف کے مشن چیف مسٹر ناتھن پورٹر نے پہلی سہ ماہی کے اہداف کو پورا کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو سراہا، اور کچھ اہم شعبوں میں حکومت کی کوششوں اور اقدامات کی تعریف کی۔

    جی ڈی اے رہنما پیپلز پارٹی میں شامل